Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
دس از فور یو مائے وائف.. “اسنے ائیرینگ پہنتے ہوئے.. چہرے کا رخ موڑا….
تو وہ ہاتھیلی پر… ایک تیتلی کی شکل کا چمکتا دھمکتا برج لیے کھڑا تھا… جو بے حد حسین تھا.. اتنا حسین.. کے اسے معلوم ہی نہ ہو سکا.. کہ پیچھلے ایک ماہ سے وہ.. اس ادمی سے بات نہی3 کر رہی تھی.. اور اج وہ خود باخود… اسکی ہاتھیلی سے وہ برج اٹھا گئ..
اس برج میں سے نکلتی چمک کو.. وہ.. غور سے دیکھنے لگی….
زندگی ہمیں یوں ہی چمکتی دھمکتی ہی تو لگتی ہے…..
مگر ہم بھول جاتے ہیں…. کہ وہ… درحقیقت بے حد نازک ہوتی ہے.. اور بس… ہلکی سی ٹھوکر سے بھی ٹوٹ جاتی ہے….
وہ سو فیصد اس انسان سے الگ ہونا چاہتی تھی.. کیونکہ… وہ اتنی عرضہ نہیں تھی کہ ایسے شضص کے ساتھ زندگی گزارے جو اسکی عزت کا محافظ ہونے کے بجائے اسی کی عشت کا لوٹیرہ ہو…
اور اپ کیسے رہ سکتے ہیں… اس شخص کے ساتھ جو اپکو صرف تکلیفیں دے….
اپکی انا کو مجروح کر دے…..
اپکے عزت نفس کو توڑ پھوڑ دے….
انسان ہی انسان کے اندر بغاوت پیدا کرتا.. ہے…
اور اسکے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوا تھا کہ. وہ اپنی شخصیت کو بھول کر صرف اس شخص کی وجہ سے باغی ہو گئ.. اس شخص کو ہر پل عزیت دینے کے لیے وہ باغی ہو گئ…
اور یاد کرنے سے بھی اسے کبھی… ایسا محسوس نہیں ہوا کہ اسنے.. غلط کیا ہو….
اسنے ٹھیک کیا تھا… وہ اس تیتلی کو دیکھتی رہی…
تم جانتی ہو یہ کون ہے “معاذ نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالا…
اور اسکو اپنی ساتھ لگایا.. یہ سب اسنے بڑے غیر محسوس انداز میں کیا تھا….
جبکہ جب سے انکی شادی ہوئی تھی عابیر… خاموش رہتی تھی.. ورنہ… اکھڑنے لگتی تھی…
شاید وہ خود.. کو وقت دینا چاہتی تھی…
کون” وہ بولی… تو معاز… نے… اسکے گولڈن براون بالوں کو شانے سے ہٹایا….
اور… جھک کر… پیار کیا.. جبکہ وہ اسکے کان میں کافی مدھم اواز میں… بولا…
تم….. ایک روشنی کی مانند” وہ بولا…
عابیر کی آنکھیں بھیگنے لگیں…
مگر یہ بہت نازک ہے “اسنے.. شاید اس ایک ماہ میں اسکیطرف پہلی بار دیکھا تھا..
معاذ کے دل کو کچھ ہوا…. اور اسنے عابیر کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھر لیا….
تم بھی تو کتنی نازک سی ہو… “وہ بڑی چاہت سے بولا…
نہیں میں کمزور نہیں ہوں”اسنے نفی کی….
میں نے کب کہا تم کمزور ہو” معاذ نے انگوٹھے کی مدد سے اسکے انسو صاف کیے…
تم بہت بہادر ہو….. مگر اسجے ساتھ تم بہت ضدی بھی ہو” وہ بولا تو وہ گھور کر اس سے الگ ہوئ…
برائ نکال رہے ہو مجھ میں “تیتلی کو ہاتھ میں اسنے… کافی سختی سے پکڑ لیا تھا…
برائ سب میں ہوتی ہے… اچھا کون ہے ہم سب میں… نگاہ دوڑو اپنی زندگی میں موجود کرداروں پر…. “
معاذ کی نگاہ اس کی مٹھی میں دبی تیتلی پر تھی….
میری زندگی میں ہمہشہ برا کردار ہی ایا ہے… جو صرفمجھے قابو کرنا چاہتا.. ہے.. کبھی میری زندگی کے کردار نے… مجھے نہیں سمھجا” اسے شدید غصہ ایا.. تبھی وہ چلائ….
جبکہ.. مٹھی میں تیتلی کو بری طرح جکڑ کر شاید وہ توڑ چکی تھی..
مگر.. اسے اندازا نہیں ہوا.. معاذ نے گھیری سانس کھینچی…
اگر کوئی تمھیں نہیں سمھجا تو تم نے.. کس کو سمھجا عابیر…” معاذ کا لہجا نرم تھا مگر چہرے پر خفگی تھی…
اسنے غصے سے وہ تیتلی دور پھینک دی… ” اور بے بسی سے رونے لگی….
وہ جانتا تھا.. وہ فرسٹریٹیڈ ہے.. تبھی اسکے ساتھ بیٹھ گیا…
کیا تمھیں دکھ ہے… کہ بہرام ایک نامی.. گرامی انسان..
اسکا نام تمھارے نام کے ساتھ یٹ کر.. ایک معمولی سے انسان کا نام تمھارے ساتھ جڑ گیا… ” اپنے اندر کے کسی خدشے کے تحت.. وہ بولا تو عابیر نے اسکی جانب دیکھا…
میرے نزدیک پیسے کی.. رتی بھی اہمیت نہیں ہے… ” عابیر نے سختی سے کہا..
مگر مجھے سمھجہ نہیں اتی… کہ وہ طلاق کے کاغزات تمھارے پاس کیسے.. ائے تم لے کر ائے. اور اتے ساتھ ہی شوشہ چھور دیا مجھ سے نکاح کا….
میری بہن.. کے ساتھ ڈارمے کیوں کیے تم نے” وہ غصے سے دھاڑی… جبکہ.. معاذ.. نے.. اسکی جانب دیکھا..
کیونکہ.. اسے طلاق پر میں نے مجبور کیا ہے….” وہ بولا… تو عابیر کو ہنسی ا گئ..
وہ زلیل.. گھٹیا…. انسان… اور کسی کے بات مان لے وہ بھی اتنے ارام سے.. “اسکے لہجے میں صرف نفرت تھی..
معاذ کچھ نہیں بولا….
عابیر بھی خاموش رہی…
ریہا سے شادی.. کی وجہ.. صرف تم تھی… “
اسنے.. کچھ دیر بعد بتایا…
نہ وہ میرے بارے میں ایسے خیالات رکھتی نہ میں.. اور جانتی تھی کہ.. میں صرف تمھاری ضد میں اس سے شادی کر رہا ہوں.. مگر.. مجھ میں تمھاری یا بہرام جیسی اکڑ نہیں ہے کہ میں… توڑ دوں.. سب کو….
میں صرف یہ ہی دعا کرتا رہا کہ تم مجھے مل جاو…. “اسکا ہاتھ ننرمی سے تھام کر… وہ.. اسکی طرف متوجہ ہو گیا..
عابیر اسکیطرف دیکھنے لگی..
جانتی ہو اس سب میں سب سے اچھا کیا ہے” عابیر اسی کیطرف دیکھ رہی تھی جبکہ وہ.. اسکی آنکھوں میں…
کہ تمھیں بہرام خان سے محبت نہیں ہوئ…..
تمھارا دل اج بھی کورا کاغز ہے
. اور اس پر پہلے بھی میرا نام درج ہونا تھا…
اور اج بھی….” سکون سے بولتا… وہ.. اسکو سینے سے لگا گیا….
جبکہ عابیر نے کوئ اعتراض نہیں کیا..
ایساہی ہے نہ” معاز نے تسلی چاہی…
پتہ تم میں برائ کیا ہے… “عابیر کہاں روکنے والی تھی معاذ سب سمھجہ گیا جبکہ اب وہ اپنی ہنسی روک رہا تھا..
پہلے بھی.. تم شکی اور وہمی تھے.. اور اج بھی ہو… “وہ.. تیور بگاڑ کر بولی جبکہ معاذ کا قہقہ نکلا..
نہیں میں تمھارے لیے پوزیسیو ہوں… “وہ
اسکے جھمکوں کو چھیڑتا بولا…
عابیر کچھ نہ بولی…
اسکو گھورتی رہی… تبھی انکے کمرے کا دروازہ بجا…
بھابھی اپ ریڈی ہیں “باہر سے.. کنزہ کی اواز ائ تو… وہ.. جیاے ہوش میں ائ…
اج اسے کنزہ کے ساتھ… اسکی دوست کی برتھڈے میں جانا تھا…
اور یہ بھی وہ کافی مشکلوں سے مانی.. تھی..
جبکہ معاذ نے اسکا ہاتھ تھام لیا…
اور نفی کی.. نہیں کہیں نہیں جانا… اج تم میرے پاس میرے نزدیک رہو تا کہ صبح میں تمھیں سیٹ کر دوں “وہ ہنستے ہوئے بولا جبکہ عابیر اسکی معنی خیز بات سمھجتے ہوئے.. اسے گھورنے لگی..
کنزہ بیٹا.. امی کو لے جاو” اسنے کہا.. تو عابیر کا منہ کھل گیا…
وہ کیا سوچے گی “عابیر نے کہا…
وہی جو.. اسے ابھی سوچنا نہیں چاہیے اسکی عمر کم ہے” وہ ہنسا..
تم زیادہ فری ہو رہے ہو مجھ سے” اسنے… اسکو دور کیا..
تم نے میرا تحفہ… توڑ دیا”معاذ نے تیتلی کی جانب دیکھا…
عابیر نے جھک کر… تیتلی کے ٹکڑے… اٹھا.. لیے…
اور اسکی طرف دیکھا… جو.. اسکے.. بالوں کو ایک طرف کر کہ.. اسکے کان میں جھکا…
ایسے ہی تمھیں سمیٹ لوں گا… ایک موقع دو “اسکی گھمبیر اواز.. سے عابیر ایک پل کو تھمی…
م… مجھے وقت چاہیے” اسنے.. زرا دور ہو کر کہا….
معاز… خاموش ہو گیا…
عابیر.. نے تیتلی کے ٹکڑوں کو.. ساییڈ ٹیبل پر رکھا….
معاذ.. خاموشی سے… جا کر.. بیڈ پر لیٹ گیا…
اور اپنی جانب کا لیمپ اف کر دیا…
عابیر نے نا چاہتے.. ہوے.. بھی.. اس بات کو محسوس کیا…
کپرے تو اسنے پارٹی کی مناسبت کے پہنے ہوئے تھے…
تبھی اسنے.. واشروم میں جا کر… لباس تبدیل کیا… ایک ماہ سے
وہ سامنے صوفے پر سوتی تھی…
اسنے صوفے کی جانب.. اور پھر معاذ کیطرف دیکھا.. جو… بازو آنکھوں پر رکھے.. لیٹا تھا…
اسنے بیڈ کی جانب قدم بڑھائے..
اسوقت اس لڑکی کے دماغ میں بھی صرف سامنے لیٹا شخص تھا…
وہ اسکے پہلو میں لیٹی.. اور اسکی آنکھوں پر سے.. ہاتھ ہٹایا…
اور اس بازو پر.. اپنا سر رکھ کر اسنے آنکھیں بند کر لیں.. معاذ مسکرایا تھا… جلد ہی وہ اس لڑکی کو پا لے گا… .. اسے یقین تھا…
…………………..
بستر… پر پڑی وہ بری طرح کراہ رہی تھی…
حیدر.. میں میں تکلیف میں ہوں “حور کی آنکھوں کے نیچے پڑے ہلکے…
جبکہ.. چہرے کا زرد رنگ.. اور کمزور جسامت دیکھا ہی نہیں رہی تھی کہ یہ وہی حور ہے…
حیدر نہ جانے کہاں تھا….
مگر اسے اتنا پتہ تھا.. وہ شدت کی تکلیف میں ہے…
اسکی آنکھوں کے انسو.. بے بسی.. ہی بے بسی دیکھا رہے تھے… اسکی دونوں ٹانگیں بے جان پڑیں تھیں…
حیدر… اسکے رونے کی اواز پر کمرے میں ایا….
تو حور کو روتا دیکھ کر… وہ اسکیطرف بڑھا…
اسے لگتا تھا… یہ سب اسک اکیا دھررا ہے….
اسکا بھی بس نہیں چلتا تھا.. وہ خوب چیخ چیخ کر روے….
اتنا روے… کہ… سب… بے سکونیاں اس سے دور ہو جائیں
مگر افسوس کہ رونا اسے اتا ہی نہیں تھا.. کیسے روتے ہیں وہ جانتا نہیں تھا…
رفتہ رفتہ وہ ٹوٹ. ٹوٹ کر بس بھربھری ریت رہ گیا تھا..
وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے…
یہ.. اللہ مجھے معاف کر دے “اچانک… سسک کر حور نے کہا… تو.. حیدر نے اپنی آنکھیں میچ لیں…
تبھی… بیل بجی تھی….
وہ دونوں چونک اٹھے.. شاید دو ماہ بعد انکے فلیٹ کے دروازے پر کسی نے دستک. دی تھی…
وہ باہر کیطرف نکلا… جبکہ اسکا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا.. جلدی سے دروازہ کھولا… تو.. معاویہ سفید شلوار سوٹ میں… جبکہ بہرام
اسکے شانے پر.. کھونی ٹکائے.. بلیک گلاسز ناک کی چونچ پر رکھے.. بلکل سفید کر کڑاتے لباس میں کھڑا تھا…
حیدر کو اپنا اپ… بہت… کمزور سا لگا… جبکہ اسکے کپڑوں میں ایسی چمک دھمک ہوتی تھی…
وہ .. ان دونوں کی دیکھ کر کافی حیران تھا…
کیسے ہو.. لالا “معاویہ نے کہا حیدر کو لگا اسنے یہ لفظ برسوں بعد سنیں ہوں…
حیدر کو لگا… اسکا کلیجہ منہ کو ا جائے گا.. اسکی آنکھیں انگارہ ہو رہیں تھیں.. جبکہ معاویہ نے بہرام کی جانب دیکھا…
جو ایک قدم اگے بڑھا.. اور پھر وہ دونوں.. اسکے.. گلے اکھٹے لگ گئے…
حیدر… کو محسوس ہوا اسکا سانس بمشکل . رہا ہے…
وہ رویا نہیں… بلکہ… اسکی جاموشی میں اسکی چیخیں تھیں…
وہ تینوں ایک دوسرے سے الگ ہوئے….
اور… بہرام نے تو دوبارہ سے گلاسز لگا لیے.. جبکہ.. معاویہ… بھی ادھر ادھر دیکھنے لگا..
تبھی ان تینوں کو حور کے کراہانے کی اواز.. ائ…
اور حیدر نے سرد سانس کھینچی…
یہ. “معاویہ اندر کیطرف بڑھا… اور اسکے پیچھے وہ دونوں بھی ایے تو.. معاویہ اور بہرام حور… کی حالت دیکھ کر… شاکڈ رہ گئے…
حور بھی انھیں کیطرف دیکھ رہی تھی….
جبکہ کمرے میں خاموشی کے سوا کچھ باقی نہ رہا.. جبکہ کوئ دل تھا بہت زور سے دھڑکا تھا.. ایک خوف کی لہر.. اٹھی تھی..
……………………
او او کالام کی شہزادے… “داجی اسکو اپنی طرف اتا دیکھ کر مسکرائے…
وہ انکے پاس بیٹھ گیا…
داجی ایک بات تو بتا ہی دیں… اپ یہ مجھے کالام کا شہزادہ کبھی کالام کی جان کیوں کہتے ہیں” اسنے پوچھا تو وہ ہسنے…
کبھی ہم نے تمھیں مراد خان کی جان نہیں کہا.. کیوں”انھوں نے سوالیہ نظروں سے پوچھا تو.. وہ شانے اچکا گیا…
کیونکہ مراد جان کی جان.. ہمرا پر پوتا بنے گا.. “وہ بچوں کیطرح خوشی کا اظہار کرنے لگے…
تو ہنس دیا…
اور نفی میں سر ہلانے لگا…
اپ بہت تیز ہیں… “اسنے کہا.. تو وہ… مزید.. خوش ہوئے.. اور تبھی وہاں… ملازم ایا…
داجی.. اپ سے صفدر صاھب اور انکی.. بیٹی ملنے ائ ہیں “اسنے اطلاع دی تو داجی نے سر ہلایا اور اسکے بالوں کو بکھیر دیے…
یہ صفدر صاحب کی.. اولاد نرینہ اب تک کسی کھوٹے سے نہیں بندھی”وہ بھی اتھتے ہویے پوچھنے لگا..
شرم کرو خان”انھوں نے ٹوکا تو.. وہ.. ہنسنے لگا…
اب ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپکی وجہ سے بیٹھیں ہیں “داجی ہنسے تو اسنے.. ہاتھ جور دیے..
توبہ کریں بھئ” وہ کہتا.. ہوا وہاں سے نکلا جبکہ وہ دوسری طرف چل دیے
بہرام.. میں اپکو ہی ڈھونڈ رہی تھی” وہ ہنپتی ہوئ اسکے سامنے تھی….
اور وہ کیوں..” اسنے.. اسکے گرد بازو بھاندے… تو وہ زرا شرما سی گئ..
وہ وہ میں میں “
کیا بکری کیطرح میں میں کر رہی ہو “وہ زرا اسپر جھکا جبکہ وہ.. تو بلکل ہی سرج وہ گئ.. وہ اپنے کمرے میں نہیں تھے.. مردان جانے اور زنان جانے.. کے بیچ کھرے تھے کوئ بھی ا سکتا تھا…
بہ.. بہرام.. میں بھول گی ہوں “وہ منمنائ.. تو بہرام کو ہنسی ائ….
چڑیا.. اتنی.. جلدی بھول بھی گئ.. چلو بتاو تم کچن سے ای ہو.. ا> تھینک.. کچھ کچن میں ہے” اسنے… اسے چھورا جبکہ اسک اہاتھ تھام لیا.. ارمیش سے نگاہ اٹھانا مشکل ہو گی..
بہرام اسکولیے کچن میں ا گیا جبکہ وہاں… کافی کے کپ پر.. چھپکی بیٹھی تھی.. شاید وہ… اسی سے گھبرای تھی
اور وہ دیوار پر سے… اسپر گیری تھی تبھی.. کافی بھی جگہ جگہ پھیلی تھی..
تم مجھے یہ پیلانے والی تھی جانم… چھپکلی… “بہرام نے حیرانگی ظاہر کی.. جبکہ وہ.. آنکھیں جھپک جھپک کر دیکھنے لگی..
نہیں…. نہیں… یہ گیری ہے.. میں تو وہاں کسی کو بلانے گئ تھی اور..
اور راستے میں تمھارے شوہر نامدار.. نے تمھیں جکڑ لیا رائٹ” اسنےاسکی بات مکمل کی جبکہ ارمیش.. نے.. جلدی جلدی نفی کی…
ایسا تو نہیں ہے….” وہ منمنائ..
پھر کیسا ہے… ہممم چلو تم کمرے میں بتاتا ہوں تمھیں میں.. “اسنے آنکھیں نکالیں…
جبکہ وہ ہنسنے لگی..
تیری” وہ.. اسکو بانہوں میں بھر کر اس سے پہلے اسکے لبوں پر جھکتا.. ارمیش جھٹپتا کر بولی..
ب بی جان” بہرام ایکدم اس سے دور ہوا جبکہ وہ کھلکھلاتی اسکی گرفت سے بھاگ چکی تھی..
بہرام منہ پر ہاتھ پھیرتا اسکے پیچھے لپکا…
جبکہ وہ کھلکھلا رہی تھی اسکی کھلکھلاہٹ پوری حویلی میں گونج رہی تھی
……………….
ہیلو” وہ پیچھے سے بولا جبکہ وہ در کر پلٹی… اس وقت وہ کچن میں کھڑی تھی.. پہلی بار اپنے ہاتھ سے کوئ چیز بنا رہی تھی…
تم ہمیشہ مجھے ڈراتے ہو” عابیر نے.. اسکو… عصے سے دیکھا..
جبکہ معاذ نے ارد گرد دیکھا اور اسکے گال پر اپنے ہونٹ رکھنے ہی لگا تھا کہ…
عابیر نے.. اسکے اور پانے گال کے بیچ اپنا اتے سے بھرا ہاتھ رکھ دیا اور اسکے یونٹوں پر اٹا لگا دیا..
یار.. یہ کیا” معاذ نے منہ بنایا…
یہ ہی تمھاری ایک بہن… ماں اور باپ اس وقت اسی گھر میں ہیں” وہ نارملی بولی جبکہ چہرے پر مسکراہٹ تھی…
ہر رات یہ سپنا دیکھتا تھا کہ تم میرے گھر کا راشن اپنے ان نازک ہاتھوں سے برباد کرو… واو میرا خواب پورا ہو گیا “اسنے سنجیدگی سے کہا.. جبکہ عابیر کا منہ کھل گیا..
تم کتنے بے شرم… ہو معاذ… میں نے اتنی محنت سے گندہ ہے یہ اٹا” اسنے… جل کر کہا
تو تمھیں کس نے کہا ہے.. کچن میں او جب تمھیں اتنی خاص کوکینگ اتی ہے تو سمبھال کر رکھو یار اویں ضایعہ وایعہ نہ ہو جائے… اوکے اب چلو شاباش… ” اسنے… اسے پچکارہ..
رک جاو تم یہیں… “عابیر.. نے اپنی مسکراہٹ دبائ اور بیلن اٹھایا.. جبکہ وہ.. ایک منٹ میں غائب ہوا تھا وہاں سے…
……………….
بہرام یار… ہنی مون کا کوئ پلین نہیں شادی.. کو تین ماہ ہو چکے ہیں.. تیری وجہ سے میں بھی پڑا ہوں “معاویہ… نے.. اسکو گھورا جبکہ وہ موبائل میں.. مگن تھا…
کیسا ہنی مون” اسنے.. انکھ اٹھائ..
ایک شاندار ہنی مون.. لگزری… یو نو”وہ انکھ مار کر ہنسا جبکہ.. بہرام نے اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر کس کر پکڑ… اور دبا دی….
بیٹے.. تو اپنی بیوی کے پلو سے باہر نکل کر آ.. ائ سمھجہ “
اسنے.. اسے جھٹک کر چھوڑا… تو.. معاویہ اپنی گردن سہلانے لگا…
اووو احمر بھائ
… ہنی مون کا کوئ پلین ہے یہ… “معاویہ بھلہ رک سکتا تھا… احمر کو بھی گھسیٹا.. بہرام نے ہنسی روکی جبکہ احمر… کچھ سٹپٹایا ہوا لگ رہا تھا…
اوکے یار… ٹھیک ہے داجی سے کرتا ہوں بات…. کشمیر چلتے ہیں…” بہرام نے… ائڈیا دیا تو… معاویہ تو خوشی سے اچھلا… جبکہ احمر بھی کچھ تردد کے بعد مان گیا…
وہ تینوں ہی بہرام کے کمرے میں تھے…
وہیں.. ارمیش ائ… وہ اپنی ہی جون میں تھی…
اور اچانک بھکلا کر وہ باہر نکل گئ… بہرام سمیت ان تینوں کا قہقہ نکلا… اور احمر وہاں سے… سب سے پہلے نکلا…
اور پیچھے معاویہ… اسکو انکھ مارتا… باہر نکلا…
ارمیش خانم…. سائیں باہر ا جاو…. “وہ بولا.. اور ارام سے بیک کراون سے ٹیک لگا لی…
وہ جھجھکتی ہوئ… باہر. ائ…
اپ مجھے بتا دیتے” اسنے کہا… تو… بہرام نے.. ہاتھ بڑھا کر اسے پاس بیٹھا لیا…
وہ دونوں یہاں بیٹھے تھے… اور میں دوڑتا ہوا اپ کے پاس اتا.. کہ.. اپ جناب.. کمرے میں مت ایے گا.. خانم.. عقل.. کہاں رکھ اتی ہو” وہ اسے.. اپنے ساتھ لیٹاتا ہوا… بولا.. لہجہ
نرم تھا…..
ارمیش.. ایکدم سرخ ہوئ..
اپ…
ششششش”
………………….
جاری ہے
