Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
داجی بھوکے شیر کیطرح حیدر کے پیچھے پڑ گئے تھے…. انھوں نے یاور خان کو بھی کہہ دیا تھا اگر حیدر خان… دو تین دن میں حویلی نہ ائے تو… وہ اسے اک کر دیں گے….
سب ملازم اور خاص بندے حیدر کی تلاش میں تھے جبکہ ارمیش کی حالت… پر… سب کا ہی دل کٹ رہا تھا.. وہ بار بار بے ہوش ہو رہی تھی..
حور نے بلاخر اسکے بچے کو مار ہی دیا…
زنان خانے کی خواتین بھی اسکے گم میں برابر کی شریک تھیں…
سب کو ارمیش کو لے کر اپنی اپنی بے حسی… نے بہت تڑپایا.. تھا…
خاص طور پر مورے کو… وہ اسکی ماں تھیں پھر بھی چار ماہ تک وہ.. حویلی نہ ائ.. انکی نظروں کے سامنے نہ ائ… اور انھوں نے بس حیدر پر اکتفا کر لیا.. کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہے تو ٹھیک ہی ہو گی.. جبکہ وہاں سب جانتے تھے کہ ارمیش اور حیدر کے تعلقات کیا ہیں اور حیدر ارمیش کو کس طرح ٹریٹ کرتا… ہے..
پھر بھی وہ سب لوگ حیدر پر بھروسہ کر رہے تھے جبکہ… حیدر نے اسکے ساتھ کیا.. کیا…
اور اگر.. بہرام نہ ملتا تو.. نہ جانے وہ کہاں جاتی…
سب خود کو ارمیش کا قصور وار سمھجہ رہے تھے…
جبکہ ارمیش.. بس اپنے ہی غم میں تھی.. اسکا بچہ جسے بچانے کے لیے.. اسنے ہر حدیں پار کیں.. اس عورت کی حسد نے اسکو.. مار ہی دیا…
اس کا رو رو کر برا حال تھا جبکہ وہ اپنے ساتھ سب کو رلا رہی تھی..
داجی نے بھی اسکے سر پر ہاتھ رکھا .. تھا… اخر کو انکا.. پڑ پوتا… جو ان کی شان میں مزید اضافہ کرتا وہ چلا گیا تھا.. مر گیا تھا انکا بس نہیں چل رہا تھا وہ حیدر کو… اپنے ہاتھوں سے مار دیں… مگر.. ابھی ممکن نہیں تھا…….
جبکہ ان سب میں عابیر… تھی جسے ہر گیز بھی افسوس نہیں ہوا تھا.. انسانیت کے ناطے بھی نہیں…
وہ جس قسم کے لوگ تھے انکی سزائیں اس سے بھی بڑھ کر ہونی چاہیے تھی جبکہ وہ بھول گئ تھی سزا دینے والی وہ کوئ نہیں تھی..
اور رب جس کو.. چاہے سزا دے اور جس کو چاہے اپنی رحمت.. کے زریعے معاف کر دے.. مہربانی اسکی صفت ہے..
اور جب ان لوگوں کا غرور اپنے ہی توڑ رہے تھے.. تو…
وہ انکا مزاق بنانے والی کوئ نہیں تھی….
مگر.. اسکی خصلت بدل رہی تھی جس کا اسے اندازا بھی نہیں ہو رہا تھا…
اس وقت سب ہی ارمیش کے کمرے میں تھے.. سب اسکی دل جوئ میں لگے تھے کہ کسی طرح وہ مسکرا دے ان سب کو معاف کر دے…
مگر ارمیش.. ویران آنکھوں سے.. بس خاموشی اڑھے ہوئ تھی..
چندہ… یہ پی لو اچھا محسوس کرو گی”بی جان نے سوپ کا پیالہ اسکے اگے کیا..
وہ ان سب سے بھی کوئ بحث نہیں کرنا چاہتی تھی..
اسکی قسمت میں محبت اور احساس نام کی کوئ چیز نہیں تھی.. تو وہ.. کس کس.. سے شکوے گلے کرتی.. اسنے خاموشی سے باول تھام کر.. سوپ پینا شروع کر دیا.. مورے منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی…
بی جان اس سے کہیں معاف کر دے اپنی ماں کو… مت تڑپائے… “وہ بولیں تو سب کی آنکھیں نم ہو گئیں جبکہ… ارمیش یوں ہی سپاٹ انداز میں سوپ پیتی رہی…
ایک اور بھی تھا.. جس کو… یہ سب ڈرامے بازی لگ رہا تھا..
رک جاو خانم.. ابھی اسے پریشان نہ کرو….” بی جان نے.. انھیں روکا… تو وہ.. مزید رو دیں. پھوپھو نے انکو سمبھالا… مگر بیٹی.. کو دیکھ کر.. ان کا بس نہیں چل رہا تھا خود کو ختم کر لیں اخر کو وہ ماں تھیں پھر. کیوں نہ اسکے لیے سہی فیصلے کر سکیں.. کیوں نہ دیکھ سکیں کے وہ.. بھی خوشیوں کی منتظر ہے…
ویسے یہ مکافات عمل ہے”ایک طرف کھڑی عابیر.. بولی… تو سب نے پلٹ کر دیکھا.. ارمیش اب بھی سوپ کیطرف متوجہ تھی…
جو جیسا بوتا ہے ویسا کاٹتا.. ہے… ” وہ پھر بولی….
اپ جیسے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے”
دفع ہو جاو یہاں سے” نین کا تو میٹر گھوم گیا…
تمھارے ساتھ جو بھی ہوا.. اس میں میری بیٹی کا کوئ قصور نہیں تھا نہ ہی میری بیٹی نے کچھ کیا جسے تم مکافات عمل کہہ رہی ہو…” مورے بھی بولیں اب وہ بلکل بھی.. ا پنی بیٹی کے ساتھ زیادتی برداشت نہیں کر سکتیں تھیں ہاں زمیر تب جاگا تھا.. جب بیٹی مر گئ تھی…
عابیر یوں ہی مسکراتی رہی…
عابیر خانم”
بی جان بولیں..
میرے نام کے ساتھ اپنی یہ گندی شناخت مت لگانا اج کے بعد…. “وہ دھاڑی .. سب حق و دق… اسکی بی جان کے ساتھ اسقدر بدتمیزی پر اسکو دیکھنے لگے…
ہممم بہت اچھا ہو رہا ہے…. بہت ہی اچھا.. اور ابھی.. ہوگا.. وہ بھی مرے گا تب ہی سکون ملے گا مجھے”وہ چلاتی ہوئ کوئ پاگل لگ رہی تھی… اور بولتی ہوئ یوں ہی نکل گئ…..
بی جان کا چہرہ خفت سے سرخ پڑ گیا…
نین اور انوشے کو عابیر پر بہت ہی غصہ ا رہا تھا…
مگر غصہ دباتیں… وہ ارمیش کیطرف متوجہ ہوئیں اسوقت ارمیش کو انکی سب سے زیادہ ضرورت تھی
……………….
عابیر وہاں سے نکل کر اپنے کمرے کی جانب چلنے لگی یہ لوگ اس لائق تھے ہی نہیں کہ وہ ان کے پاس جاتی…
اپنے کمرے میں جانے سے پہلے وہ داجی کے کمرے کے سامنے سے گزری تو بہرام معاویہ کو وہیں پایا…
داجی انکے ہاتھ میں کوئ چیز تھما رہے تھے…
وہ گھڑی تھی جس پر ہیرے لگے تھے.. جبکہ بہرام اور معاویہ دونوں ہی گھڑی کی تعریف کر رہے تھے…
عابیر کچھ دیر وہاں کھڑی.. ان سب کو دیکھتی رہی… اور پھر… اچانک ہی مسکرا دی حالانکہ.. کچھ وقت پہلے جایا جاتا تو.. وہ لڑکی.. دوسروں کی ٹو میں کبھی نہیں لگی.. مگر اب بہرام اور اسکے خاندان والوں کو زلیل کرنے کے لیے وہ اپنی سطح سے بہت نیچے جا چکی تھی کہ اب تو اسکے گھر والے بھی یہ کہتے کہ.. اسے ہو کیا گیا ہے…
ریہا.. اس مسلسل اسکے بدل جانے کا شکواہ کرتی رہتی.. جبکہ ماما بھی اسکو اب تو غصے سے بدتمیز کہنے لگ گئیں تھیں بابا.. اسکی ان حرکتوں پر اس سے بات نہیں کر رہے تھے جبکہ معاذ جس پر تو اسکا خون کھولتا تھا.. وہ تو اسے پسند کرتا تھا.. پھر اسکی چھوٹی بہن.. سے کیوں شادی کر رہا تھا.. وہ بری طرح جلن حسد.. غصہ اور بدلے ان سب میں پھنس کر خود کو تباہ کر رہی تھی…
عابیر وہاں سے گزر گئ….
اگے نا جانے کیا ہونے والا تھا…
……………..
بہرام.. شاید بھول گیا تھا.. یہ اسی کا کمرہ ہے… اسکی ملکیت جہاں اسکے حکم کے بغیر کوئ نہیں اتا تھا.. مگر اب.. اسے اجازت طلب کرنی پڑتی تھی جبکہ اکثر وہ معاویہ کے کمرے میں ہوتا…
وہ اندر داخل ہوا تو عابیر.. بیڈ پر بیٹھی کوی نیوز دیکھ رہی تھی اسے دیکھتے ہی اٹھی..
تم تم یہاں کیوں اے ہو”وہ غصے سے بولی…
کیونکہ یہ میرا کمرہ ہے… اور میرے سرکار بھی اسی کمرے میں ہیں” وہ مسکرا کر… اسکی طرف بڑھا… کہ عابیر نے گلدان اٹھا لیا..
اپنے غلیظ… وجود اور اس بدصورت چیرے کو مجھ سے دور رکھو”وہ داھاڑی بہرام.. نے دانت بھینچے..
میری محبت نے اور مہلت نے تمھیں زیادہ سر چڑھا لیا ہے “وہ.. انگلی اٹھا کر بولا….
تم صرف یہاں سے دفع ہو جاو اس کے علاوہ کچھ نہیں “وہ بدتمیزی سے آنکھیں نکال کر بولی…
مجھے بلکل امید نہیں تھی… قطرہ قطرہ میرے دل کو اپنی طرف سے پتھر نہ کرو….
جو میں نے کیا وہ میں بھگت چکا ہوں ہاں میں نے غلط کیا.. میرا طریقہ غلط تھا… مگر میں نے.. سب صیحی کرنے کی بھی تو کوشش کی ہے جو لوگ تم پر تھو تھو کر رہے تھے.. اج وہی.. تمھیں خوشقسمت سمھجتے ہیں…
مگر.. مجھے ان سے نہیں صرف تم سے غرض ہے میٹھی.. کیوں کر رہی ہو… ایسا “وہ پھر سے بولا تو عابیر نے اسکی طرف دیکھا..
کیونکہ مجھے تم سے نفرت ہے اور میں تم سے علیحدگی چاہتی ہوں طلاق دو ابھی اور اسی وقت مجھے جو شخص مجھے ایک انکھ نہیں بھاتا چار ماہ سے… میں اس حویلی کو جیل سمھجے ہوئے ہوں اور.. تم یہ کہہ رہے ہو. کہ میں کیوں کر رہی ہوں دو مجھے طلاق. “وہ دھاڑی .. بہرام ساکت رہ گیا…
ہر طرح سے اسکو پورٹیکشن سپورٹ دینے کے بعد بھی وہ ویسی ہی تھی…
اسکا دل جیسے…. ٹوٹ سا گیا…
طلاق تو میں تمھیں نہیں دوں گا یہ سوچ تو اپنے زہن سے نکل دو.. کان کھول کر سنو.. کان صاف کر کے سن لو طلاق تمھیں میں نہیں دوں گا….” وہ بھی چلایا….
اور واشروم میں چلا گیا..
میں بھی دیکھ لوں گی تمھیں” عابیر نے.. واس.. بیڈ پر پھینکا اور کمرے سے ہی نکل گئ اس ادمی پر اسے اتنا سا بھی بھروسہ نہیں تھا”
……………….
ارمیش کی حویلی واپسی کی…. وہ چوتھی شام تھی جب حیدر بڑے تفخر سے حویلی میں داخل ہوا… مردان خانے میں سب موجود تھے…
حیدر کو دیکھ کر ایکدم سب اٹھ گئے….
بہرام بھی وہیں داجی کے پاس بیٹھا تھا…
اسکے پیچھے اتی. موڈرن سی لڑکی کو دیکھ کر داجی کی ایک للکار تھی حویلی میں…
ہماری بندوق لاو”ملازم حرکت میں ائے… سب ہی ان دونوں اور داجی کی جانب دیکھ رہے تھے…
جبکہ داجی حیدر کو چیر پھاڑ کر دینا چاہتے تھے….
تیری جرت بھی کیسے ہوئ سردار ہو کر اس نیچ برادری میں شادی کرے… ہماری خانم میں کیا کمی تھی” وہ اسکا گریبان جھنجھوڑ کر بولے.. دونوں کے اپس میں بندھے ہاتھ بتا رہے تھے کہ وہ کسی مظبوط رشتے میں بندھے ہیں…
داجی یہ میری زندگی ہے اور میں نے فیصلہ کر لیا تھا.. جو کہ اپکے سامنے ہے… ” حیدر نے بنا ڈرے سکون سے کہا….
بے غیرت”داجی خود پر قابو کھوتے ہوئے.. اسکے منہ پر زور دار طماچہ مار گئے.. جس کا احساس.. حیدر کو خفت زدہ کر گیا…
اسکا چہرہ سرخ ہو گیا… مگر ایسا ایکشن… وہ امید رکھتا تھا.. یہیں ہو گا…
چار ماہ سے.. تیری بیوی کہاں ہے کس حالت میں ہے تجھے نہیں پتا تھا اور اس کے ساتھ رنگرلیاں بنا رہا تھا حیدر خان… ہمیں افسوس ہے.. کہ تم ہمارے خون ہو…. “
بس کریں داجی” وہ بھی غصے سے بولا…
بہرام قتل بھی کر ائے اپ اسے معاف کر دیں گے میں اگر اپنی مرضی کر ایا تو… اپ مجھے گالیاں نکال رہے ہیں “وہ شاید اپنی جگہ درست تھا..
مجھے اپنے معملے میں گھسیٹنے کی ضرورت نہیں… میں.. کمزور نہیں ہوں. جو عورت سے بدلا لو. اور بیقوقت دو عورتوں سے تعلق رکھو اور اپنے ہی بچے کو مار دوں ” بہرام کے تو سر پر بھجی تبھی وہ.. انگلی اٹھا کر دانت پیس کر بس چند لفظوں میں اسکی دھجیاں اڑا گیا…
حیدر نے کھا جانے والی نظروں سے اسے.. دیکھا… جبکہ اپنے ہی بچے کو مار دوں… یہ بات اسے سمھجہ نہ ائ.. یہ اگر ا گئ تو یہ سب اسےبکواس ہی لگا..
ہماری مرضی ہم جو مرضی کریں…. سرداری ہمارے سر پر ہے تبھی ہمارے فیصلے کے خلاف کوئ نہیں جا سکتا” وہ اپنی پگ کا فائدہ اٹھاتا… اپنے کمرے میں جانے لگا… کہ ایک منٹ کو روکا…
ارمیش خانم.. کو طلاق دے چکے ہیں ہم…. وہ ہماری طرف سے ازاد ہیں پیپرز کچھ دنوں تک مل جائیں گے” وہ سفاکیت سے بولا..
وہاں سب کے قدموں سے زمین کھسکی تھی…
حویلی میں طلاق کا رواج نہیں تھا. اور اج حویلی سردار نے اس رویات کو توڑ ڈالا تھا…
داجی… صوفے پر گیرے تھے..
ایک غیر لڑکی کے لیے وہ اپنے خاندان اپنے گھر کی لڑکی کے ساتھ کتنی بڑی زیادتی کر گیا تھا…
زنان خانے کی گیرل سے کان لگائے… عورتوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا…
جبکہ… ( مورے ارمیش کی ماں) کے اچانک زمین بوس ہونے پر وہاں چیخوپکار دیکھنے لائق تھی….
……………………
ایک اور ڈرامہ.. عابیر نے نخوت سے سب دیکھا… اور وہاں سے ابھی نکلتی.. کہ داجی کے کمرے کا دروازہ کھلا پایا…
اسے معلوم. نہیں تھا اتنی جلدی اسے یہ موقعہ میسر ائے گا…
وہ ارد گرد دیکھتی اندر چلی گئ…
جبکہ ہال سارا خالی ہو گیا تھا.. داجی کا بی پی ہائ ہو گیا تھا.. جبکہ مورے.. صدمے سے بے ہوش… تبھی وہ سب انھیں ڈاکٹر کے پاس لے گئے تھے زنان خانے میں عورتیں گم منا رہی تھیں تبھی اسکو یہاں کوئ نہ دیکھتا…
وہ اندر داخل ہوئ.. جبکہ وہاں سے گزرتے منیب نے اسے حیرت بھری نظروں سے دیکھا.. اور وہ بھی گزر گیا…
ملکوں کے معملے میں نوکروں کا کیا کام مگر عابیر کا اتنا چھپ کر جانا اسے معیوب ضرور لگا تھا…
عابیر اندر ائ..
اتنا شاندار کمرہ تھا.. مگر بہرام کے کمرے سے کم..
اسنے.. دروازے کی جانب دیکھا اور اپنا کام شروع کیا…
گھڑی تھی کہ مل کر نہیں دے رہی تھی.. وہ مسلسل.. جدوجہد میں تھی.. الماریاں بھی بند تھیں اور پھر ایک الماری کو کھلا پا کر اسنے اندر دیکھا.. تو اس میں… ایک تجوری نما خانہ تھا… جو لاک تھا اسے غصہ ایا.. اور پھر دماغ میں کلک ہوا… اسنے دراز میں کافی چابیاں دیکھیں تھیں… وہ بڑھی.. اور چابیوں.. کا گوچھا اٹھا کر اسنے کوشش شروع کی.. اور.. بلاخر وہ کامیاب ہو ہی گئ…
اسے حیرت ہوئ. وہ کامیاب ہو گئ ہے…
اسنے اندر جھنکا.. کافی سامان تھا مگر ایک لال بکس جس میں اسے یقین تھا.. گھڑی ہو گی.. اسنے وہ دیکھا.. اور اندر گھڑی دیکھ کر.. سب ٹھیک کر کے… وہ.. پلٹتی….
ابھی کہ دروازے پر بہرام کو کھڑا دیکھ.. اسکے ہاتھ سے گھڑی چھوٹ گئ…
جبکہ منہ حونک تھا…
دل کی دھڑکن.. اتنی تیز تھی.. جیسے… کسی بھی چور کے میلے دل نے.. پہلی بار دھڑکنا سیکھا ہو…
………………….
جب وہ گھر ایا تھا… تب ہی.. منیب نے اسے بتایا کہ عابیر داجی کے کمرے میں ہے وہ سمھجا نہ کہ وہ وہاں کیوں ہے وہاں تو اسکے علاوہ ایسے ہی کوئ نہیں جاتا اور عابیر جو سب کو اپنا دشمن سمھجے وہ کس لیے گئ تھی….
وہ داجی کے کمرے کیطرف ایا…
اور سامنے کا منظر دیکھ کر.. ہاں اج بہرام خان کا دل کیا.. وہ اپنے منہ پر تھپیڑوں کی برسات کر دے….
اپنے دل کو کئ ٹکڑوں میں باٹ دے….
خود کو ریزہ ریزہ کر دے کہ.. اسنے اس لڑکی سے محبت کی..
اس لڑکی کے لیے خود کو سر تا پیر بدل لیا…
وہ بہرام.. جو راتوں میں … بدنام.. سڑکوں کا راہی… اسکی ایک جھلک سے.. کسی دوسری لڑکی کو حرام کر گیا خود پر..
اور یہ صلہ تھا اسکی محبت کا…
وہ یوں ہی اسے دیکھ رہا تھا…
آنکھوں میں سرخی.. جبکہ… اس سرخی نے معمولی سی نمی کا لبادہ اڑھا.. اور پھر.. اسنے آنکھیں بند کیں…
اور.. اگے بڑھا..
عابیر کچھ لمحے سمھجہ نہ سکی.. اسکا مقصد چوری نہیں تھا ان لوگوں کے مال میں اسے کیا دلچسپی..
اسکے بقول حرام ہی تھا..
ہاں اتنا ضرور تھا اس گھڑی کو گم کر کے.. وہ.. ایک نئے سرے سے.. بہرام کو تکلیف.. دیتی.. اور.. ایک نیا محاظ اٹھتا..
گھڑی کو بہرام کے کپڑوں میں چھپانا چاہتی تھی.. تبھی وہ نہ چاہتے ہوئے شرمندہ ہو گئ..
بہرام اسکے نزدیک ا گیا..
اتنا مت گیراو خود کو کہ اٹھ نہ سکو”اسنے… ایک ایک لفظ پر زور دیا..
چور نہیں ہوں میں” وہ بھی شرمندگی بھلائے بولی…
ٹھیک ہے.. رکھ لو اسکو… دیکھنا چاہتا ہوں کیا کرو گی اسکا”اسنے.. اس گھڑی کو ایک نظر دیکھ کر کہا…
عابیر.. کو.. دوبارہ شرمندگی نے ا گھیرہ…
زیادہ نہ بنو تم سمھجے…. طلاق تو تم سے لے کر رہو گی… “گھڑی کو وہیں پھینک کر.. وہ… غصے سے کہتی نکل گئ.. جبکہ.. بہرام اس قیمتی گھڑی کو ٹوٹا ہوا.. دیکھ رہا تھا…
داجی کی پسندیدہ گھڑی تھی وہ…
……………………………
ارمیش کو خبر مل گئ تھی…
وہ اٹھی… بی جان.. سمیت باقی سب نین انوشے سب رو رہے تھے… گھر کے گھر میں یہ کیا ہو گیا تھا…
اتنا فساد کیوں ہو گیا تھا حویلی میں….
سب رو رہے تھے جبکہ.. وہ اٹھی.. اور دو نفل شکرانے کی نیت باندھ لی…
مگر وہ عہد کر چکی تھی اپنے بچے کے لیے وہ حور اور حیدر کو کبھی معاف نہیں کرے گی…..
………………….
انوشے روتے ہوئے نیچے.. ا گئ.. یہ سب اس سے برداشت نہ ہو رہا تھا..
اسے اس حویلی پر کوئ بدعا لگی..
اسکا دل کیا بہرام بھائ کو کہہ دے.. اپ ازاد کر دیں عابیر کو شاید وہ ہی ہمیں بدعائیں دیتی ہے…
وہ اپنے رونے کا شغل… لون میں پورا کر رہی تھی.. معاویہ نے… زنان خانے کے ہال میں سسکیوں کی اواز کو پہچان لیا…
اور وہ دوسری طرف نکل ایا..
اتے ساتھ ہی.. اسکا ہاتھ تھاما.. اور دیکھنے لگا. جو عابیر نے جلا دیا تھا.. اب کافی اچھا ہو گیا تھا…
مر گیا ہوں میں.. جو رو رہی ہو”اسنے.. کہا. تو انوشے نے سرخ چہرے سے اسے دیکھا…
اپ سے ہمارا کیا لینا دینا… جو ہم اپکے لیے روے…” اسنے ٹکا سا جواب دیا..
بہت نہیں ہمت ا گئ تم میں “معاویہ نے گھورا..
اپ بھی ہمارے ساتھ وہی کریں گے جو حیدر لالا نے کیا ہے ارمیش کے ساتھ”
وہ خوف ذدہ سی بول گئ
..لو تو تم عابیر جیسی بن جانا” معاویہ نے بھی پکڑا..
وہ بہت بری ہیں “اسنے ناک سکیڑی..
تو اچھا کون ہے”اسنے کسی احساس کے تحت پوچھا..
میں خود” وہ اسکو دھکا دیتی… کہہ کر بھاگی..
ہاں دیکھ لوں گا کتنی اچھی ہو شادی کی بات کروں گا اب میں “وہ پیچھے سے ہانکا.. انوشے کا دل زوروں سے دھڑکا.. مگر وہ بھاگ گئ…
………………….
جاری ہے
