Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan (Last Episode)

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

تازہ ترین خبروں میں ہم آپ کو اطلاع کرتے چلیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا اسمگلر میر فارس پولیس مقابلے میں جاں بحق ڈیڈ باڈی کا پوسٹ ماٹم ہونے کے بعد باقی کی خبر سے آپ کو اطلاع کریں گے تب تک ہم سے جڑیے رہیے،،،،،،،،

ذائشہ نے میوٹ کیا،،،،،،

آحِل،،،،،،، اس نے حیرت سے اپنے ساتھ بیٹھے آحل کا نام لیا

آحل خود یہ خبر سن کر سکتے میں تھا ایشا اس کے نکاح میں تھی تو کیا ان کی بیٹی بیواہ ہو چکی تھی،،،،،،،،،

آحِل کے ماتھے سے پسینے کی بوندیں ٹپکنے لگیں اس کے مرنے نہ مرنے سے اسے فرق نہیں پڑتا تھا لیکن ان کی بیٹی کو اتنی سی عمر میں اتنا بڑا دکھ ملا تھا یہ وہ کیسے برداشت کر سکتے تھے،،،،،،،،

آحِل ایشا کو کال کر کے پوچھیں وہ ٹھیک ہے نا،،،،،،،

آحل نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے پاکٹ سے موبائل نکالا بیل جانے پر کال ریسیو نہیں کی گئی،،،،،،،،

وہ فون نہیں اٹھا رہی،،،،،،، آحل پریشان ہوا

د۔۔دوبارہ کریں مجھے بہت فکر ہو رہی ہے اگر اسے پتہ چل گیا تو کیا حالت ہو گی اس کی،،،،،،،

میں کرتا ہوں،،،،،، آحل نے پھر سے کال ملائی تو دوسری بیل پر ریسیو ہو گئی

ہیلو پاپا،،،،،،،، ایشا کی میٹھی سی آواز آحل کی سماعت میں پڑی

ایشا میرا بچہ کیسی ہو،،،،،،، وہ خوش اخلاقی سے بولا تا کہ اسے کسی قسم کا شک کہ ہو

جی پاپا میں ٹھیک ہوں آپ اور ماما کیسی ہیں،،،،،،،

ہم دونوں ٹھیک ہیں بس تمہاری یاد آرہی تھی اس لیے کال کی،،،،،،،

سو سیٹ پاپا آئی مس یو بوتھ ٹو،،،،،،، وہ مسکرائی

میرے بچے کو پلین میں اکیلی کو ڈر تو نہیں لگا،،،،،،،،

ہیلو سسر جی،،،،،،، مردانہ آواز پر آحل چونکا

اکیلی کہاں تھا آپ کا بچہ میں ساتھ تھا نا اس کے،،،،،،،، فارس مسکرایا جبکہ ایشا نے غصے سے اس کی طرف دیکھا

ک۔۔۔کون ہو تم،،،،،،، فارس کو یقین نہیں ہو رہا تھا کیوں کہ میر فارس کی موت کی خبر تو نیوز چینلز پر سرِعام چل رہی تھی،،،،،،،،

ارے اپنے چہیتے داماد کو نہیں پہچانا آپ نے چلیں میں خود ہی بتا دیتا ہوں میرا نام میر فارس ہے اور آپ کی لاڈلی بیٹی کا اکلوتا شوہر،،،،،،،، وہ شوخ پن سے بولا

ت۔۔۔۔تم زندہ ہو،،،،،،،، آحل کی بات پر ذائشہ ششدر رہ گئی اس نے آحل کو سپیکر لاؤڈ کرنے کا کہا

اتنا حیران کیوں ہو رہے ہیں خدا کا شکر ادا کریں کہ آپ کی بیٹی کا شوہر زندہ ہے،،،،،،، اس نے فخر سے کہا

اگر تم زندہ ہو تو نیوز چینلز پر تمہاری موت کی خبر کیوں چل رہی ہے،،،،،،،،

فارس کی آنکھوں کے گرد وہ منظر گردش کرنے لگا،،،،،،،

فلیش بیک۔۔۔

ایرہ اور عمر کا نکاح ہو چکا تھا اب عمر ایرہ کو ساتھ لے جانے کے لیے تیار تھا،،،،،،،،

فارس بھائی میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں،،،،،،، عمر کے فارس کو بھائی کہنے پر فارس کو اچھا محسوس ہوا

ہاں کہو کیا کہنا ہے،،،،،،،،

میں نے آپ کو بڑا بھائی مانا ہے پلیز میری بات کی لاج رکھیے گا پلیز بھائی آپ یہ کام چھوڑ دیں آپ پر کسی کا حکم نہیں چلتا آپ جب چاہیں اس دنیا سے نکل کر ہماری دنیا میں آسکتے ہیں،،،،،،،،،

پھر ایشا بھی تو ہے آپ کی بیوی اسے آپ کب تک اپنے دشمنوں سے بچائیں گے چلیں آپ اس کی حفاظت کر بھی لیں پھر کل کو آپ کے بچے ہوں گے آپ کیسے سب کی حفاظت کریں گے ہر وقت آپ کے دماغ میں بس یہی چل رہا ہو گا کہ آپ کی بیوی کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے یا آپ کی بیٹی کو یا آپ کے بیٹے کو،،،،،،،

اور اگر آپ ان سب کو پروٹیکٹ کر بھی لیتے ہیں تو آپ کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ کب تک زندہ رہیں گے اور ایرہ کے لیے آپ ہی ماں اور آپ ہی باپ ہو مجھے نہیں لگتا وہ آپ کا سایہ اپنے سر سے اٹھ جانا برداشت کر پائے گی،،،،،،،

پلیز ایک بار ضرور سوچیے گا پولیس آپ کے پیچھے ہے ایجنسیاں آپ کے پیچھے ہیں ہو سکتا ہے کہ آپ پکڑے جائیں ایسی زندگی میں آپ کبھی خوش نہیں رہ پائیں گے اور نہ ہی آپ کی بیوی اور ابھی تک تو شاید ایشا جانتی بھی نہیں آپ کیا کام کرتے ہیں جب اسے معلوم ہو گا اس کا کیا ری ایکشن ہو گا یہ آپ بہتر جان سکتے ہیں،،،،،،،،

اپنا بزنس سٹارٹ کریں حلال کمائیں آپ کی دنیا اور آخرت دونوں کے لیے آسانی ہے میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا بھائی آگے آپ سوچ لیں آپ کو کیا کرنا ہے،،،،،،،، وہ خاموش ہوا

فارس بھی خاموش تھا اس نے پوری توجہ سے اس کی بات سنی تھی،،،،،،،،

عمر بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے بھائی آج تک آپ مجھے اپنے دشمنوں سے بچاتے آئے ہیں آپ کے خیال میں یہی تھا کہ میری شادی کر کے آپ مجھے رخصت کر دیں گے لیکن اب ایشا آپ کی زندگی میں شامل ہو چکی ہے آپ کی شریکِ حیات ہے وہ آپ دونوں کی پوری زندگی پڑی ہے عمر کی بات مان لیں،،،،،،،،

اور میرے دل میں بھی آپ کو کھونے کا ڈر نہیں رہے گا آپ ہی میری ماں اور باپ ہو بھائی پلیز ہماری بات مان لیں پلیز اس کام کو چھوڑ دیں سب چیریٹی ہاؤس کو دے دیں ایک گھر اور کچھ پیسے جن سے آپ اپنا چھوٹا سا بزنس شروع کر سکو اور سکون کی زندگی جی سکو،،،،،،،،،،،،

فارس نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا “جیسا تم دونوں کہو گے ویسا ہی کروں گا”،،،،،،،،،،

سچ بھائی تھینک یو سو مچ،،،،،،، وہ خوشی سے اس کے گلے سے لگی فارس نے عمر کو اشارہ کیا تو وہ دوسری طرف سے فارس کو گلے ملا،،،،،،،،،،

بھائی میرے پاس آپ کی بہت سی پکس ہیں جنہیں میں نے ابھی تک پولیس کو نہیں دیا آپ جانتے ہیں نا ابھی تک آپ کا چہرہ منظرِ عام پر نہیں آیا،،،،،،،،،

چھوٹے میاں اب کیا ان تصویروں سے بلیک میل کرو گے بڑے بھائی کو،،،،،،،،، فارس مسکرایا

ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں میں کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ کیوں نا میں ان پکس کو جلا دوں اور آپ کی موت کی خبر نیوز چینلز پر چلا دی جائے اس طرح سے آپ کے اوپر جتنے بھی کیسز چل رہے ہیں سب ختم ہو جائیں گے،،،،،،،،

بہت دماغ ہے تم میں،،،،،،، فارس نے اس کے سر پہ پیار سے تھپکی لگائی

جیسے تم کہہ رہے ہو ویسے کر دو مجھے اعتراض نہیں،،،،،،، وہ مسکرایا

فلیش ناؤ۔۔۔۔

سسر جی آپ کا داماد اب سدھر گیا ہے سب دھندا چھوڑ دیا ہے اسی لیے میری موت کی خبر نیوز چینلز پر چلائی گئی ہے تا کہ میرے اوپر سے تمام کیسز بند کر دیے جائیں اب آپ فکر کرنا چھوڑ دیں کہ آپ کی بیٹی ایک غنڈے کے چنگل میں ہے کیوں کہ اب میں کوئی غنڈا ونڈا نہیں رہا اب تو ایک سادہ سا شریف سا بزنس مین بن گیا ہوں،،،،،،،،،

میری باتوں سے آپ کو تسلی نہیں ہوئی تو تفصیل جاننے کے لیے عمر کو کال کریں کیوں کہ میں تو کال بند کرنے والا ہوں تھوڑا وقت بیوی کے ساتھ گزار لوں پھر بزنس سٹارٹ کرنا ہے اوکے اللہ حافظ،،،،،،، اس نے کال بند کی

کیسے بات کر رہے تھے میرے پاپا سے شرم نہیں آتی آپ کو آپ سے بڑے ہیں وہ،،،،،،،، وہ غصہ اپنی چھوٹی سی ناک پہ سجائے بولی

میں بھی تم سے بڑا ہوں بیگم مجھ سے بھی تھوڑا پیار سے بات کرو ایسے کون بیوی بات کرتی ہے اپنے شوہر سے،،،،،،،،، اس نے ایشا کو اپنے حصار میں لیا

چھوڑیں مجھے آپ سے بات نہیں کرنی دھوکے باز ہو آپ دھوکہ دیا ہے مجھے اب بھی نہ جانے کب چھوڑ دیں مجھے آپ کا کیا بھروسہ ہے اب تو پوری زندگی یقین نہیں کروں گی آپ پر،،،،،،،، غصے سے بولتے بولتے اس کی آنکھیں بھیگ گئیں

ایسا کبھی سوچنا بھی مت کہ میں تمہیں کبھی چھوڑوں گا آریان سے میں نے یہ صرف اس لیے کہا تا کہ وہ ایرہ سے نکاح کے لیے انکار نہ کرے،،،،،،،،، اس نے ایشا کی رخسار پر ہونٹ رکھے

دور ہٹیں مجھ سے پہلے بھی ایسے ہی آپ نے مجھے چھوا پھر چھوڑنے کی بات کی،،،،،،،، وہ رونے لگی

اب کبھی ایسا کہوں گا بھی نہیں آئی پرامس،،،،،،،، اس نے اس کی پیشانی پر ہونٹ رکھے

پ۔۔۔پکا وعدہ،،،،،،، اس نے فارس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا

پکا وعدہ پوری زندگی کا وعدہ کبھی نا ٹوٹنے والا وعدہ تمہیں کبھی خود سے جدا نہیں کروں گا اس ڈر کو اپنے دل سے نکال دو،،،،،،،،، اس نے ایشا کو خود پر لیٹایا ایشا نے اس کے سینے پہ سر رکھا

ایک بات بتائیں،،،،،،،،

پوچھو،،،،،،،، فارس نے جواب دیا

آپ کو کیسے پتہ چلا میں پاکستان چھوڑ کر جا رہی ہوں،،،،،،، اس کی بات سن کر فارس مسکرایا

میرا آدمی آریان کے گھر پہ نظر رکھے ہوئے تھا جب اس نے تمہیں آریان کے گھر جاتے دیکھا اس نے تب ہی مجھے انفارم کر دیا تھا،،،،،،،،

کیا۔۔۔۔۔ ایشا حیران ہوئی

پھر جیسے ہی اس نے مجھے بتایا کہ تم ایئر پورٹ پہنچ چکی ہو تو۔۔۔۔۔ وہ رکا

فلیش بیک

فارس ایرہ اور عمر کے ساتھ ہی کھڑا تھا جب اس کا موبائل رنگ ہوا،،،،،،،

اپنے آدمی کی بات سنتے ہی وہ شاکڈ ہوا اسے لگا شاید آریان نے گھر جا کر اسے بتایا کہ وہ اسے ڈائورس دینے والا ہے،،،،،،،

کیا ہوا بھائی خیر تو ہے،،،،،، ایرہ نے پوچھا

ایشا شاید آؤٹ آف کنٹری جا رہی ہے مجھے اسے روکنا ہو گا،،،،،،، وہ باہر کی طرف بھاگا

بس منٹ کا راستہ اس نے دس منٹ میں طے کیا تھا بھاگتا ہوا وہ ایئر پورٹ داخل ہوا اس نے اپنے آدمی کا بتایا ہوا پلین چیک کیا تو اس کی جان میں جان آئی،،،،،،،،

اندر داخل ہو کر وہ سب پیسینجرز کو دیکھنے لگا کہیں تو اسے اپنی ایشا نظر آئے،،،،،،،،

اس نے دیکھا کہ ایک لڑکی جس کا سیٹ کے اوپر سے سر بھی نہیں نکل رہا شاید یہ اس کی چھوٹی ہائٹ کی وجہ سے تھا وہ اسے دیکھتا ہوا آگے بڑھا،،،،،،،،

وہ آنکھیں بند کیے ٹشو پہ ناک رکھے رونے میں مصروف تھی اس کے ساتھ والی سیٹ ابھی خالی تھی وہ آرام سے وہاں بیٹھا،،،،،،،،

ایشا ناک صاف کرتی چھوں چھوں کر رہی تھی جب اس نے نوٹ کیا کہ اس کے ساتھ کوئی بیٹھا ہے،،،،،،،،

اس نے آنکھیں صاف کر کے اپنے ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھا،،،،،،،،

اب کیا یہ بھی تمہاری ویر پھو نے کیا تھا،،،،،،،،، آنکھوں میں شوخ پن لیے وہ مسکرایا

آ۔۔۔آپ،،،،،، ایشا کے سر پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹا

ہاں میں کیوں کہ میں میر فارس ہوں تمہاری ویر پھو کا بلال خان نہیں،،،،،،،، پھر یہ کہتے ہوئے اس نے ایشا کو باہوں میں بھر لیا

چھ۔۔۔چھوڑیں مجھے مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ،،،،،،، وہ اسے اٹھائے ہوئے چل رہا تھا اور وہ بچوں کی طرح روتی ہوئی ٹانگیں ہلا رہی تھی

فلیش ناؤ

آئندہ مجھ سے دور جانے کا سوچنا بھی مت،،،،،،،، اس نے ایشا کے ہونٹوں کو چوما

ایشا کے دل کو سکون آیا تھا یہ جان کر کہ وہ اس سے سچی محبت کرتا ہے اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے فارس کی گردن کے گرد بازو پھیلائے،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

ایک ہفتہ بعد۔۔۔

وہ دونوں بلیک شیروانی پہن کر سپیشل صوفے پہ بیٹھے شہزادے دکھائی دے رہے تھے انہیں انتظار تو اپنی شریکِ حیات کا ایک کی ہو چکی ہوئی شریکِ حیات یعنی کہ ارحام کی لیزہ اور ایک کی ہونے والی شریکِ حیات یعنی کہ آریان کی الائیہ،،،،،،،،

ذائشہ اور ماہاویرا ان دونوں کو پکڑے سٹیج کی طرف بڑھیں ان دونوں نے سرخ لہنگے پہن رکھے تھے جو پیچھے سے زمین پہ بکھرتے آرہے تھے،،،،،،،،

لیزہ کو ارحام کے ساتھ بیٹھایا گیا اور الائیہ کو آریان کے ساتھ،،،،،،،،،

لیزہ ذوہا سے معافی مانگ چکی تھی اسے احساس ہو گیا تھا کہ وہ غلط کر رہی ہے اپنی بچپن کی دوست کے ساتھ اس لیے ہما کے ساتھ ذوہا نے بھی ان کی شادی میں شرکت کی تھی،،،،،،،،

ذوہا نے ارحام کو سچا دوست مانا تھا اس لیے وہ اس کی خوشی میں خوش تھی،،،،،،،

پورا ہال مہمانوں سے بھرا تھا سب کی نظریں سٹیج پر بیٹھے جوڑوں کی طرف تھیں جو کہ لوگوں کو اپنی طرف دیکھنے پر مجبور کر رہے تھے،،،،،،،،،

آریان اور الائیہ کا نکاح پڑھوایا گیا ذائشہ اور ماہاویرا نے ان کا منہ میٹھا کیا،،،،،،،،

وہ کن اکھیوں سے اسے بار بار دیکھ رہا تھا جب الائیہ نے اسے ٹوکا،،،،،،،،

کیا کر رہے ہو شرم تو آتی ہی نہیں تمہیں،،،،،،،،

کیا کر رہا ہوں اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں،،،،،،، وہ ڈھیٹ بنا

کمرے میں دیکھ لینا یہاں سب کے سامنے دیکھنا ضروری ہے کیا،،،،،،،،، الائیہ نے دانت پیسے

اوووو مطلب کہ تم مجھے اہم اہم دعوت دے رہی ہو،،،،،،،، اس نے دانتوں تلے لب دبایا

یہ اہم اہم والی کونسی دعوت ہوتی ہے،،،،،،،،، الائیہ سمجھ تو چکی تھی لیکن جان بوجھ کر تنز کیا

وہ تو اب کمرے میں جا کر ہی بتاؤں گا،،،،،،،،، وہ مسکرایا

دانت اندر کرو جانتے ہو نا سب ہمیں ہی دیکھ رہے ہیں،،،،،،،،،

صرف ہمیں ہی نہیں لیزہ اور ارحام کو بھی دیکھ رہے ہیں ہم کونسا انوکھے ہیں،،،،،،،،

اففف مجھے بھی معلوم ہے ابھی چپ کر کے بیٹھو ورنہ،،،،،،،

ورنہ کیا،،،،،، آریان نے کسی کو دور سے سمائل دیتے ہوئے پوچھا

کچھ دھمکی دینے والی تھی بتاؤ نا،،،،،،،، اس نے جان بوجھ کر چھیڑنا چاہا

بولتے رہو میری طرف سے اب کوئی جواب نہیں آنے والا،،،،،،،، اس کی بات سن کر آریان مسکرایا

آخر وہ رات آہی گئی اور میرا انتظار ختم ہوا یا اللہ تیرا شکر ہے،،،،،،،،، ارحام نے سرگوشی میں کہا

میں ابھی بھی تم سے ناراض ہوں ارحام زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے صوفے پر سونا پڑے گا تمہیں،،،،،،،،،

پہلی بات تو یہ کہ اب ارحام کہنا چھوڑ دو احتشام کہہ کر پکارو اور دوسری بات یہ کہ صوفے پر سونا مجھے منظور ہے لیکن یہ وہی صوفہ ہو گا جس پہ میں ایک ہفتہ پہلے سویا تھا ہائے بہت مزہ آیا تھا،،،،،،،، اس نے چھیڑنے کے انداز میں کہا

پہلی بات تو یہ کہ میں تمہیں اب پوری زندگی ارحام کہہ کر ہی بلاؤں گی اور دوسری بات یہ کہ وہ صوفہ اب تمہیں دوبارہ نصیب نہیں ہونے والا اپنے دماغ میں اچھی طرح یہ بات بیٹھا لو،،،،،،، اسی کے انداز میں جواب ملا تھا

ارحام نے منہ پہ ہاتھ رکھا کہ کوئی اسے ہنستا نہ دیکھ لے،،،،،،،،

کمرے میں جانے دو جانم پھر بتاؤں گا کہ کون کس صوفے پہ سوتا ہے،،،،،،،،،

ہاں ہاں دیکھ لوں گی میں بھی،،،،،، اس نے منہ چڑایا جس پر وہ مسکرا کر رہ گیا

ایشا اور فارس ہال میں داخل ہوئے ایشا کو دیکھ کر سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے،،،،،،،،

اس نے گولڈن کلر کا ڈریس پہن رکھا تھا کیپری کے اوپر شارٹ قمیض جو اس کے گھٹنوں تک آتی تھی اس پہ خوبصورت نگینے کا کام کیے ہوئے تھا کندھے پہ بڑا سا دوپٹہ لٹکائے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی،،،،،،،،،

ماشاءاللّٰه‎ کتنی پیاری لگ رہی ہے میری بچی،،،،،،، ذائشہ نے ایشا کو گلے سے لگایا

واہ ایشا آج تو رنگ ڈھنگ ہی بدلے ہوئے ہیں،،،،،،،، ماہاویرا نے کہا

یہ کہاں رنگ بدلنے والی تھی بہت مشکل سے منایا ہے اس کو یہ ڈریس پہننے کے لیے،،،،،،،، فارس نے کہا

دیکھو ماہا میری تو اس نے آج تک نہیں مانی تھی اب اپنے میاں کی کیسے مانتی ہے،،،،،،،، ذائشہ مسکرائی

ماما انہوں نے بہت فورس کیا تبھی پہن لیا یہ سب کچھ،،،،،،، ایشا نے منہ بسورا

بہت زیادہ پیاری لگ رہی ہو اللہ نظرِبد سے بچائے،،،،،،، اس نے ایشا کے گولڈن چوڑیوں سے بھرے ہاتھ پکڑے

آؤ فارس بیٹھو،،،،،،،، ذائشہ نے کہا

وہ سب کرسیوں پر بیٹھے،،،،،،،

بزنس کیسا جا رہا ہے تمہارا،،،،،،،، اس کی اور آحل کی تسلی ہو گئی تھی عمر سے بات کرنے کے بعد انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ وہ اب اچھائی کی طرف بڑھ رہا ہے

بلکل ٹھیک جا رہا ہے آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے،،،،،،، وہ ذائشہ کو آنٹی یا کچھ اور کہنے ہچکچاتا تھا کیوں کہ وہ خود اس سے تقریباً نو دس سال ہی بڑی تھی

بلال اور آحل آکر فارس سے ملے سب بہت خوش تھے وہ اپنی اولاد کا آج فرض ادا کر چکے تھے ماہا اور ذائشہ اپنے بچوں کی جوڑیوں کو جب جب دیکھتی دعائیں دیتیں،،،،،،،،

کچھ دیر تک مہمان بھی کھانا کھا کر جا چکے تھے کپلز کو ان کے کمروں میں لے جایا گیا،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

ایک ہفتے سے ایرہ نے عمر کو خود کے قریب نہیں آنے دیا تھا کیوں کہ اسے وقت چاہیے تھا عمر روز اس کی خوشی کے لیے اپنے جذبات کو قابو میں رکھتا لیکن آج اس کے لیے خود پر قابو پانا بہت مشکل ہو رہا تھا،،،،،،،،،،

وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایرہ ییلو قمیض شلوار پہنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی کھلے بالوں کو کانوں کے پیچھے کیے وہ چھوٹے چھوٹے ٹاپس پہن رہی تھی جب عمر نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا،،،،،،،،،

اس کے ہاتھ اپنے پیٹ پر محسوس کرتے ہی ایرہ کی جان نکلی،،،،،،،،،

عمر نے اس کے کندھے سے بال ہٹا کر اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑا،،،،،،،،،

ایرہ کی آنکھیں بند ہوئیں اس کا دل دھڑکنے لگا،،،،،،،،،

اس ایرہ کو گھما کر اس کا رخ اپنی طرف کیا اور اس کے ہونٹوں پہ ہونٹ رکھنے لگا جب وہ بولی،،،،،،،

پ۔۔پلیز ابھی نہیں،،،،،،،

کیوں خود کو مجھ سے دور رکھا ہوا ہے میں جانتا ہوں تم بھی مجھے چاہنے لگی ہو،،،،،،،،

ب۔۔بس تھوڑا وقت ا۔۔ور چاہیے،،،،،،،، اس نے نظریں جھکائیں

مجھے تمہیں چھونے کا حق ہے ایرہ مجھے ایک بار خود کو چھونے دو اگر تم میں احساس کی ایک لہر بھی نہ اٹھے تو وعدہ کرتا ہوں جب تک تم کہو گی تب تک ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا،،،،،،،،

یہ کہتے ہوئے اس نے ایرہ کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیا ایرہ نے گھبراتے ہوئے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھا اسے اپنا جسم کانپتا ہوا محسوس ہو رہا تھا،،،،،،،،،

عمر نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اسے اوپر اٹھا کر بیڈ پہ لیٹایا،،،،،،،،،،

کچھ دیر بعد وہ پیچھے ہوا ایرہ آنکھیں بند کیے لمبے لمبے سانس لے رہی تھی وہ مسکرایا وہ بھی اس کے لیے جذبات رکھتی تھی،،،،،،،،،

کمفرٹر اوڑھ کر وہ اس پر ہاوی ہوا ایرہ خاموش تھی آخر کب تک خود کو اس سے دور رکھتی وہ اس کا شوہر تھا ایک نا ایک دن تو اسے اپنا آپ اس کے سپرد کرنا ہی تھا،،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

ارحام ڈور لاک کرنے کے بعد بیڈ کی طرف بڑھا جب لیزہ جھٹ سے بولی،،،،،،،،

صوفے پو سو میں تمہیں اپنے ساتھ سونے کی ہرگز اجازت نہیں دوں گی،،،،،،،،،

توبہ توبہ کیسی دلہنیں ہیں آج کل کی شادی والی رات ہی پٹر پٹر زبان چلتی ہے ہائے پرانے زمانے میں دلہنیں خالص ہوتی تھیں جو شادی کی رات شوہر کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے گھونگھٹ اوڑھ کر بیٹھ جایا کرتی تھیں اور جب شوہر کمرے میں داخل ہوتا تھا فوراً سر جھکا لیتی تھیں اور آج کی دلہنیں دیکھو تو اللہ معافی کانوں کو ہاتھ لگتے ہیں،،،،،،، وہ پوری ایکٹنگ سے اسے باتیں سنا رہا تھا

شرم تو تم میں ختم ہو گئی ہے پہلے پہل کتنے معصوم اور شریف لگتے تھے وقت کے ساتھ ہی گرگٹ کی طرح ربگ بدل لیا،،،،،،،، وہ اسے گھورنے لگی

میرا ایک رنگ اور بھی ہے جو تم نے ابھی تک دیکھا نہیں،،،،،،،، ارحام نے اسے آنکھ مارتے ہوئے کہا

پہلے بہت رنگ دیکھ چکی ہوں اب مزید کوئی رنگ نہیں دیکھنا چاہتی چپ چاپ صوفے پہ چلو اور سو جاؤ مجھے بھی نیند آرہی ہے،،،،،،،،

واہ واہ ایسے کیسے سو جاؤں اتنی مشکل سے یہ رات آنے کا انتظار کیا تھا اب تو،،،،،،،، اس نے انگڑائی لی اور لیزہ منہ کھولے اس کی یہ حرکت دیکھنے لگی

سب سے پہلے تمہیں تمہارا گفٹ دے دوں باقی کام بعد میں کروں گا تسلی کے ساتھ،،،،،،،، وہ معنی خیز بولا

اس نے پاکٹ سے ایک ڈبیہ نکالی جس میں ڈائمنڈ کی رنگ تھی،،،،،،،،

ارحام نے ہاتھ آگے کیا لیزہ نے منہ بسورتے ہوئے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا،،،،،،،

رنگ پہنانے کے بعد ارحام نے اس کے ہاتھ پہ اپنے ہونٹ رکھے،،،،،،،

بس اب بہت ہو گیا چلو اپنی جگہ پہ،،،،،،،، لیزہ نے ہاتھ کھینچا

جب بہت ہوا تب تمہیں خود معلوم ہو جائے گا،،،،،،،، اس نے لیزہ کی ٹانگوں کو کھینچا جس سے وہ بستر پر گری

اس سے پہلے کہ وہ چینختی ارحام نے اس کے ہونٹوں کو منہ میں لیا،،،،،،،،

اس کے ہونٹوں کو چھوڑے بغیر ارحام نے ایک ایک کر کے اس کی ساری جیولری اتاری اب وہ اسے مکمل طور پر کمفرٹیبل کر چکا تھا،،،،،،،،

لیزہ کا جسم نڈھال ہونے کے بعد وہ پیچھے ہوا اور اپنی شرٹ اتارنے لگا،،،،،،،،

اس پہ جھک کر اس نے لائٹ آف کی اب کمرے میں اندھیرا تھا اور دو جسم جو نکاح کے پاک بندھن کے بعد ایک ہو چکے تھے،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

آریان کمرے میں داخل ہوا تو الائیہ فریش ہو کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی اسے دیکھ کر آریان کا حیرت سے منہ کھلا،،،،،،،

یہ کیا تم نے ڈریس کیوں چینج کر لیا،،،،،،،، وہ اس کے پاس آیا

آئم سوری آریان بہت ہیوی تھا میں باہر ہی بہت مشکل سے پہن کر بیٹھی تھی یو نو میں آؤٹ آف کنٹری سے ہوں اس لیے مجھ سے وہ ڈریس سمبھالنا بہت مشکل کام تھا،،،،،،،،،

یار میرے آنے کا ویٹ تو کر لیتی خود اتارتا تمہارا ڈریس،،،،،،، اس نے پیچھے سے الائیہ کے کندھے پر تھوڑی ٹکائی

شرم کرو،،،،،،، الائیہ مسکرائی

لو اس میں شرم والی کون سی بات ہے بیوی ہو میری جب چاہوں گا ڈریس اتاروں گا تمہارا کسی کے باپ میں اتنی ہمت نہیں کہ مجھے روک سکے،،،،،،،، اس کے فلمی ڈائلاگ پر الائیہ نے اپنی ہنسی دبائی

حد ہے آریان ایسے ڈائلاگز کہاں سے سیکھے ہیں،،،،،،،

تمہیں ڈائلاگ سے مطلب ہے یا ڈائلاگ مارنے والے سے،،،،،،، اس نے الائیہ کو باہوں میں اٹھایا

ڈائلاگ مارنے والے سے،،،،،،،، وہ ہنسی

آریان نے اسے بیڈ پہ بیٹھا کر اس کے پاؤں کو ہاتھ میں لیا،،،،،،،،

کیا کر رہے ہو،،،،،، اس نے پاوں پیچھے کیا

صبر تو کرو جان،،،،،،،، اس نے الائیہ کے پاؤں میں پائل پہنائی جس میں ایک ڈائمنڈ کا سٹون لٹک رہا تھا،،،،،،،،

واؤ اٹس بیوٹیفل اسے کیا کہتے ہیں،،،،،،،، الائیہ نے وہ پہلی بار دیکھی تھی

اسے پائل کہتے ہیں،،،،،،،،، وہ مسکرایا

بہت خوبصورت ہے،،،،،،، اس نے پائل کی تعریف کی

تم سے زیادہ نہیں،،،،،،،،، اس نے الائیہ کی کمر سے نائٹ ڈریس کی ڈور کو کھینچا

ک۔۔۔کیا کرنے والے ہو،،،،،، وہ گھبرائی

بتانے میں کیا مزہ کر کے ہی دکھاؤں گا،،،،،،،، وہ مکمل طور پر ڈریس کی ڈور کو کھول چکا تھا

ایک ہاتھ اس کے پیٹ پہ رکھے وہ اس پہ جھکا الائیہ نے سختی سے آنکھیں بند کیں،،،،،،،

اسے آریان کا ہاتھ اپنے پیٹ پہ رینگتا ہوا محسوس ہو رہا تھا اس کے ساتھ ساتھ الائیہ کی سانسیں بھی اوپر نیچے ہو رہی تھی،،،،،،،،،،

وہ اس کے ہونٹوں کو چھوڑتا ہوا پیچھے ہوا،،،،،،،،

آر یو ریڈی،،،،،،، اس نے کان میں سرگوشی کی

الائیہ نے شرماتے ہوئے اس کے کندھے پر پنچ مارا جس پر وہ مسکرا کر رہ گیا،،،،،،،،،

لائٹ آف کر کے آریان نے اس کے دل کے مقام کو چوما الائیہ کی تیز سانس پورے گمرے میں گونج اٹھی تھی،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

گھر پہنچتے ہی ایشا فریش ہونے لگی جب فارس نے اس کا ہاتھ کھینچا،،،،،،،،،

کہاں جا رہی ہو،،،،،،،،

اسے اتارنے جا رہی ہوں میرا دم گھٹ رہا ہے پانچ منٹ بھی اور پہنا تو میرا سانس بند ہو جائے گا اور میں مر جاوں گی،،،،،،،، وہ چڑتے ہوئے بولی کیوں کہ فارس نے زبردستی اسے یہ ڈریس پہنایا تھا

اچھا چلو فریش ہو جاؤ،،،،،،،،، وہ آرام سے بیڈ پہ ٹانگیں لٹکا کر لیٹ گیا

ایشا کو حیرت ہوئی وہ اتنی آسانی سے اس کی بات کیسے مان گیا تھا خیر وہ وارڈڈروب کی طرف بڑھی،،،،،،،،،

اگلا منظر دیکھ کر حیرت سے اس کی آنکھیں باہر نکلنے کو تھیں یہاں موجود سبھی ڈریسز لیڈیز تھے قمیض شلوار کچھ فراکس اور کچھ ٹاپ پڑے تھے،،،،،،،

ی۔۔۔۔یہ کیا،،،،،، اس کے حلق سے بمشکل آواز نکلی

سرپرائز اور کیا،،،،،، اس نے اپنی ہنسی دبائی

آپ جانتے ہیں میں یہ نہیں پہنتی،،،،،،، ایشا نے اسے گھوری سے نوازہ

ہاں لیکن اب پہننے پڑیں گے کیوں کہ یہ تمہارے شوہر کا حکم ہے،،،،،،،،،

ہرگز نہیں پہنوں گی ماما نے مجھے آج تک بہت فورس کیا لیکن میں نے نہیں پہنے اب بھی نہیں پہنوں گی بس کہہ دیا میں نے،،،،،،،،،،

نہیں پہنو گی،،،،،،، فارس کھڑا ہوا

ٹھیک ہے نہ پہنو،،،،،، اس کے آرام سے بات ماننے پر وہ پھر سے حیران ہوئی

اگلے لمحے وہ وارڈ ڈروب کی طرف بڑھا اور ایک پنک کلر کا لیڈیز نائٹ ڈریس کندھے پہ رکھ کر ایشا کو اٹھایا،،،،،،،،،

ارے کیا کر رہے ہیں آپ،،،،،،،،، ایشا اس کے کندھوں پر پنچ مارنے لگی کا فارس پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ اسے لیے واش روم میں گھس گیا

فارس کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔۔۔ تم ہی کہہ رہی تھی نہیں پہنوں گی اب مجبوراً مجھے خود ہی تمہیں پہنانا پڑ رہا ہے اس میں میرا کیا قصور۔۔۔۔۔ نہیں پلیز فارس آپ باہر جائیں میں پہن لوں گی پکا پرامس۔۔۔۔۔ اب پہنا رہا ہوں تو چپ کر کے کھڑی رہو،،،،،،،

ان دونوں کی آوازیں واش روم کے اندر سے باہر کمرے میں آرہی تھیں،،،،،،،

ختم شدہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *