Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 02)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 02)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
آریان کی آواز سن کر ہوش آنے پر وہ جی بھر کے شرمندہ ہوئی،،،
Nothing, sorry i didn’t know it was your room.
وہ اپنی نظروں کا زاویہ بدلتی ہوئی بولی،،،
It’s ok.
آریان نے کہا تو وہ فوراً کمرے سے باہر نکلی،،،
بی بی جی کہاں رہ گئی آپ،،، فہمیدہ ساتھ والے کمرے سے باہر نکل کر بولی
کہیں نہیں،،، الائیہ اس کمرے میں داخل ہو گئی



لیزہ،،، ذائشہ نے اس کے کمرے میں داخل ہو کر کہا
ییس موم،،،
کیا ہوا بیٹا آج تو تمہارا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا اچھا نہیں گزرا کیا،،، ذائشہ اس کے اترے ہوئے منہ کو دیکھ کر بولی
ماما میرا دن بلکل بھی اچھا نہیں گزرا،،،
کیوں ایسا کیا ہوا،،،
یونی جاتے ہی ایک بےوقوف لڑکے نے میرے اوپر پانی گرا دیا میرے سارے بال اور کپڑے بھیگ گئے تھے،،،
او ہو ایک تو پتہ نہیں کیوں یہ ریگنگ کیوں کرتے ہیں سینئرز،،،
لیکن ماما میں اس سے بدلا لے کر رہوں گی،،،
ارے چھوڑو لیزہ یہ ریگنگ تو ہوتی رہتی ہے تم خود کو کسی مصیبت میں نہ ڈالو،،،
لیکن ماما،،،
اچھا چھوڑو میں تمہیں بتانے آئی تھی ریڈی ہو جاؤ ہمیں شام کو تمہارے ماموں کی طرف جانا ہے،،، ذائشہ بلال کی طرف سے اپنا رشتہ جوڑتی تھی جس وجہ سے لیزہ اور ایشا ماہاویرا کو پھوپھو اور بلال کو ماموں کہتی تھیں،،،
اچھا پھر تو میرا موڈ خود ہی اچھا ہو جائے گا ماموں اور پھوپھو سے مل کے،،، لیزہ نے مسکراتے ہوئے کہا
آجاؤ فریش ہو کر لنچ کر لو پھر ریڈی بھی ہونا ہے،،، وہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی



ماہاویرا نے الائیہ کو مہمانوں کے آنے کا بتایا تو وہ پینٹ شرٹ پہن کر ریڈی ہو کر نیچے جانے لگی جب آریان سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر آرہا تھا،،،
الائیہ نے اس کی طرف دیکھا وائٹ پینٹ اور بلو شرٹ میں وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا،،،
آپ یہ ڈریس پہن کر ان کے سامنے آؤ گی،،، آریان نے اس کی پینٹ شرٹ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا جس پر الائیہ نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا
وہ میں آپ کے لیے یہ ڈریس لایا ہوں تا کہ آپ ماموں لوگوں کے سامنے اس مشرقی لباس میں جاؤ،،، اس نے الائیہ کی طرف پیک بڑھاتے ہوئے کہا
اس نے حیرت سے آریان کی طرف دیکھا کہ آج ہی تو وہ اس گھر میں آئی ہے اور وہ اس کے لیے خود سوٹ خرید لایا ہے،،، خیر اس نے وہ پیک پکڑ لیا
پندرہ منٹ تک وہ پہنچنے والے ہیں جلدی ریڈی ہو جائیں،،، وہ مسکراتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا،،،
الائیہ اپنے کمرے میں آئی اور سوٹ نکال کر دیکھا،،،
سادہ وائٹ فراک جس کے کناروں پر چھوٹے ریڈ سٹونز بہت خوبصورتی سے سجائے گیے تھے اور ساتھ ریڈ باریک دوپٹہ تھا،،،
وہ آج پہلی بار پاکستانی ڈریس پہننے والی تھی اس نے چمکتی آنکھوں سے ڈریس کی طرف دیکھا جیسا کہ اسے بہت پسند آیا ہو اور ڈریس ہاتھ میں لیے واش روم چلی گئی،،،



ارحام ہوسٹل داخل ہوا تو اپنے روم میں آکر بیڈ پر لیٹا، اس نے یتیم خانے میں ہوش سمبھالا تھا شروع سے ہی سٹڈی پر اس کا فوکس زیادہ تھا یونی میں ایڈمیشن کے بعد وہ کالج کے سٹوڈینٹس کو ان کے گھر جا کر ٹیوشن پڑھاتا تھا،،،
سکالر شپ کی وجہ سے اس کا یونی اور ہاسٹل کا خرچہ معاف تھا ٹیوشن سے حاصل ہونے والے پیسوں سے وہ اپنے باقی کے اخراجات پورے کرتا،،،
اس کی آنکھوں کے گرد آج یونی میں ہونے والا منظر گردش کرنے لگا،،،
لیزہ کی خوبصورت نیلی آنکھیں جن میں اس وقت طیش اترا ہوا تھا،،،
لیزہ۔۔۔۔
ارحام نے زیرِلب کہا جب ذوہا نے لیزہ کو اس کے نام سے پکار کر مخاطب کیا تھا تو ارحام کو اس کا نام معلوم ہوا تھا،،،
اسے کب سے اپنی گردن پر جلن محسوس ہو رہی تھی لیکن غور نہیں کیا اب وہ اٹھ کر واش روم گیا اور شرٹ اتار کر ہینگ کرنے کے بعد بے تاثر چہرے کے ساتھ مرر کے سامنے کھڑا ہوا،،،
اس کی گردن پر زخم کے نشانات تھے جو یقیناً لیزہ کے ناخنوں کی بخشش تھے،،،
اس نے شاور آن کیا اور ٹھنڈے پانی سے سکون حاصل کرنے لگا،،،
اس کے روم میٹس کو ہمیشہ اس سے ایک ہی شکایت تھی کہ وہ کبھی ہنستا نہیں تھا،،،
انہوں نے آج تک ارحام کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا،،،



وائٹ ہاؤس کے باہر گاڑی کا ہارن بجا تو واچ مین نے جلدی سے گیٹ کھولا
آحِل اور ذائشہ گاڑی سے باہر نکلے ساتھ ہی لیزہ اور ایشا بھی باہر آئے،،،
ہائے ویر پھو،،، ایشا بھاگتی ہوئی ماہاویرا سے لپٹی
میری پیاری گڑیا کیسی ہے،،،
پھو میں بلکل ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں،،،
ہٹو پیچھے پہلے بڑوں کو تو مل لینے دو،،، ذائشہ اسے پیچھے دھکیلتی ہوئی ماہاویرا سے ملی
بھئی اسے ماہاویرا کے سامنے مت ڈانٹو تمہیں تو پتہ ہے نا کہ اپنی پھوپھو کی لاڈلی ہے یہ،،، آحِل نے مسکراتے ہوئے ذائشہ کو کہا
اور میں تو جیسے سوتیلی ہوں،،، لیزہ جو کہ ابھی گاڑی کے پاس ہی کھڑی تھی منہ بسورتے ہوئے بولی
ارے ادھر آؤ وہاں کیوں کھڑی ہو تم دونوں تو میری جان ہو،،، ماہاویرا نے بلایا تو لیزہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھی
ہاں بھئی اسی لیے آپ کی پھوپھو اب کبھی مجھے جان جانو کہہ کر نہیں بلایا،،، بلال نے کہا تو ماہاویرا نے اسے کہنی مار کر چپ رہنے کا اشارہ کیا
بلال تم بھی ابھی تک نہیں سدھرے،،، آحِل نے ہنستے ہوئے کہا
ہاں جیسے تم تو سدھر گئے ہو،،، بلال نے کہا تو آحِل کا قہقہ لگا جس پر ماہاویرا اور ذائشہ دونوں کے چہرے شرم سے لال ہوئے
حد ہے کم از کم بچوں کا تو خیال کر لیں،،، ماہاویرا نے لیزہ اور ایشا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو اس وقت اپنی ہنسی دبانے میں مصروف تھیں
کیا اب پورا خاندان یہیں کھڑا ہو کر باتیں کرتا رہے گا یا اندر بھی آئے گا،،، آریان جو کہ ان کے اندر آنے کا انتظار کرتے کرتے اب خود ہی باہر نکل آیا تھا
تم بھی ہمارا استقبال نہیں کرتے اسی لیے آج تمہیں آنے پر مجبور کر دیا،،، آحِل نے بازو پھیلاتے ہوئے کہا تو آریان ان کے گلے لگا
ارے آپ میرے ماموں ہیں بادشاہ اکبر تھوڑی جن کا استقبال کیا جائے،،، آریان نے انہیں چھیڑا اور باقیوں سے ملنے لگا
آریان کتنی بار کہا ہے کہ اپنے ماموں سے اس طرح بات مت کیا کرو،،، ماہاویرا نے ٹوکا
کیا موم ماموں ابھی جوان ہیں اس لیے میں ان کے ساتھ دوستوں جیسا ہی بیحیو کرتا ہوں،،،
بلکل آریان بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے آحل کی تو سبھی ایکٹیویٹیز ابھی تک جوانوں والی ہی ہیں،،، بلال نے ہنستے ہوئے کہا
تم کونسا بوڑھے کو گئے ہو میں نے دیکھا کہ ابھی بھی لڑکیاں تمہیں تاڑتی ہیں،،، آحل نے قہقہ لگایا اور ماہاویرا بلال کو گھورنے لگی
ارے اب کوئی اندر بھی چلے گا کہ نہیں میں کھڑے کھڑے تھک چکی ہوں،،، ایشا منہ بسورتے ہوئے بولی
ارے چھوٹا نمونہ تم بھی ادھر ہو،،، آریان نے اس کے سر پر تھپکی لگائی یہ آریان کا نوازہ کا نام تھا
آریان بھائی آپ کیوں مجھے چھوٹا نمونہ کہہ کر چھیڑتے ہیں میری ہائٹ پوری پانچ فٹ ہے،،،
ایک تو تم ہم سب سے چھوٹی ہو دوسرا ہائٹ سے بھی کم ہے تیسرا تم ہو ایک نمبر کا نمونہ اسی لیے تمہارا نام چھوٹا نمونہ رکھا ہے،،، اس نے پھر سے ایشا کے سر پر تھپکی لگائی
نہیں ہوں میں چھوٹی اب میں خود ہی اندر جا رہی ہوں آپ سب کھڑے رہو پوری رات یہاں،،، اس نے منہ بسورتے ہوئے چشمے کو انگلی سے آگے دھکیلا اور گھر کے اندرونی حصے میں داخل ہو گئی
آریان بھائی کیوں ایشا کو اتنا تنگ کرتے ہیں آپ،،، لیزہ نے کہا
اسے تنگ کرنے میں مزہ ہی بہت آتا ہے،،، آریان نے ہنستے ہوئے کہا تو لیزہ بھی ہنسنے لگی
سب اس چھوٹے نمونے پر ہنستے ہوئے اندر داخل ہوئے،،،



السلام علیکم۔۔۔
سب لاؤنج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب الائیہ آئی،،،
وعلیکم السلام ماشاءاللّٰه شہروز بھائی کی بیٹی تو بہت پیاری ہے،،، ذائشہ نے کہا
آریان نے اس کی طرف دیکھا وہ فراک پہنے اور گردن میں سرخ دوپٹہ لپیٹے بہت خوبصورت لگ رہی تھی،،،
سلام دعا کے بعد الائیہ صوفے پر بیٹھی،،،
تمہارے ماما پاپا کیسے ہیں بیٹا،،، آحِل نے پوچھا
جی وہ بلکل ٹھیک ہیں آپ سب کو بھی یاد کرتے رہتے ہیں،،، وہ انگریزی لہجے میں بولی تو سب کو سننے میں اچھا لگا
کتنا پیارا بولتی ہے یہ بچی،،، ذائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو الائیہ بھی مسکرانے لگی
ہائے آئم لیزہ آریان بھائی کی کزن،،، لیزہ نے اس سے ہینڈ شیک کیا الائیہ کو وہ اچھی لگی
نائس ٹو میٹ یو،،، الائیہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو جوابیہ لیزہ بھی مسکرائی
اپنے ڈیڈ کو بھی ساتھ لے آتی وہ تو یہاں کا راستہ ہی بھول گیا ہے،،، بلال نے کہا کیوں کہ شہروز ان کے ولیمہ والے دن کے بعد سے آج تک پاکستان نہیں آیا تھا ہاں البتہ کبھی کبھار کال ضرور کر لیتا تھا
میں نے ڈیڈ کو کہا تھا لیکن انہوں نے کہا پھر کبھی آئیں گے،،،
ہمم چلو کوئی بات نہیں اور بیٹا آپ کرتی کیا ہو،،، آحل نے پوچھا
میں ایجنسی جوائن کرنا چاہتی ہوں،،، الائیہ کی بات پر سبھی حیران رہ گئے خاص طور پر آریان
اچھا تو یہ جذبہ آپ کو اپنے پاپا کو دیکھ کر ہی آیا ہو گا،،، آحل نے مسکراتے ہوئے کہا
جی بلکل بس پاپا سے ہمیشہ ان کے کام کے قصے سنتی آرہی ہوں اس لیے میرے اندر بھی شوق پیدا ہو گیا،،،
گڈ بہت اچھے ویسے جہاں تک میرا خیال ہے آپ یہاں کسی مقصد کے تحت آئی ہو،،، بلال نے اندازہ لگایا
جی انکل آپ بلکل ٹھیک سمجھے ہیں میں یہاں ایک ٹارگیٹ کے لیے ہی آئی ہوں جو مجھے ڈیڈ نے دیا ہے انہوں نے کہا کہ اگر میں اس میں کامیاب ہو گئی تو مجھے ایجنسی جوائن کرنے کی اجازت دیں گے،،، الائیہ نے جواب دیا تو آریان اور لیزہ اس لڑکی کی ہمت پر حیران ہوئے
تو کون ہے وہ جس کا آپ کو ٹارگیٹ ملا ہے،،، آحل نے پوچھا
میر فارس وہ یہاں کا سب سے بڑا اسمگلر یے جو یہاں کا اسلحہ لنڈن میں اور لنڈن کا اسلحہ یہاں ٹرانسفر کرتا ہے،،،
کیا یہ وہی میر فارس ہے جس کا آج کل ہر نیوز چینل پر چرچہ ہو رہا ہے،،، بلال نے کہا
جہ انکل یہ وہی اسمگلر ہے لیکن ابھی تک وہ کسی کی نظروں میں نہیں آیا اگر وہ ہمارے سامنے آجائے تو ہم اسے پہچان نہیں پائیں گے،،،
دھیان سے بیٹا وہ بہت پہنچی ہوئی چیز ہے،،، آحِل نے اسے وارن کیا
آپ فکر مت کریں انکل میں پورے احتیاط سے کام کروں گی،،،
چلیں اللہ آپ کو کامیاب کرے،،، آحِل نے سے دعا دی جس پر وہ آمین کہہ گئی
واؤ ویر پھو یہ تو فائٹر بھی ہیں اور بہت ہی بیوٹیفل بھی ہیں،،، ایشا نے چشمہ نیچے کرتے ہوئے الائیہ کی طرف دیکھ کر کہا تو سب اس چھوٹے نمونے کی حرکت پر ہنس دیے
تھینک یو آپ بھی بہت پیاری ہو،،،
الائیہ نے جیسے ہی اسے ریسپانس دیا وہ بھاگتی ہوئی اس کے پاس آکر بیٹھی
ہائے مائے نیم از ایش،،، اس نے ہینڈ شیک کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا وہ خود کو ایشا سے ایش کہلوانا اس لیے پسند کرتی تھی تا کہ خود کو لڑکا سمجھ سکے
ایش نائس نیم لیکن لڑکوں والا ہے،،،
تو میں بھی کہیں سے آپ کو لڑکی لگتی ہوں کیا دیکھیں مجھے،،، وہ سینہ اکڑاتی ہوئی بوائیز سٹائل مارنے لگی جس پر الائیہ نے اپنی ہنسی دبائی
اوئے چھوٹے نمونے چپ کر کے بیٹھو،،، آریان نے اسے ٹوکا
آریان بھائی نہیں ہوں میں چھوٹا نمونہ میں بڑی اور سمجھدار ہوں آئی سمجھ آپ کو،،، وہ اسے گھوری سے نوازتی ہوئی بولی جس پر سب ہنسنے لگے
آدھا گھنٹہ باتیں کرنے کے بعد فہمیدہ نے کھانا لگایا تو سب ٹیبل کی طرف بڑھ گئے،،،



کھانے کی ٹیبل پر سب باتیں کر رہے تھے اور ادھر چھوٹا نمونہ الائیہ سے اپنی تعریفوں کے پُل باندھنے کے بعد ماہاویرا کی تعریفوں پر اتر آیا تھا،،،
الائیہ آپی آپ کو پتہ ہے میری ویر پھو فائٹر تھیں اور ان کا گیٹ اپ بھی بلکل میرے جیسا تھا اوہ سوری بلکہ میں نے پھو کو دیکھ کر ہی ایسی لُک بنائی ہے ان کی بہادری کے قصوں سے میں تو بہت ہی انسپائر ہوں،،، وہ بریانی کا چمچ منہ میں رکھتے ہوئے بولی
واؤ آنٹ یہ سچ کہہ رہی ہے،،، الائیہ حیران ہوئی
جی ایک ایک بات سچ ہے آئی سوئیر،،، ایشا نے گلے پر چٹکی کاٹتے ہوئے کہا
ایک بار پھو ڈرائیو کرتے کرتے کہیں دور نکل گئی تھیں اور وہاں پھو کو کچھ غنڈے تنگ کرنے لگے،،، ایشا فل تجسس کے ساتھ قصہ سنا رہی تھی اور الائیہ اتنی ہی توجہ سے سن رہی تھی
پھر کیا ہوا،،، الائیہ نے تجسس سے پوچھا
پھر کیا پھو نے ایک کا دانت توڑ دیا دوسرے کی آنکھ پھوڑ دی اور تیسرے کا سر پھاڑ دیا،،، وہ خوب مرچ مصالحہ لگا کر سنا رہی تھی جس پر بلال نے اپنی ہنسی دبائی
آپ کو ویر پھو کی بہادری کا ایک قصہ میں آج سب کو سناتا ہوں،،، بلال نے چہرے پر شرارت سجائے کہا تو ماہاویرا کے کان کھڑے ہوئے
ہیں سچی ایک اور قصہ واؤ انکل جلدی سنائیں نا،،، ایشا ایکسائیٹڈ ہوئی
جب آپ کی ویر پھو پہلی بار میرے گھر آئی تھیں تو صحن میں شیر کو دیکھ کر۔۔۔۔
اہم اہم اہم۔۔۔ بلال آپ بس ایک پلیٹ بریانی کی لیے بیٹھے ہیں کچھ اور بھی کھائیں نا کوفتے ڈال کر دوں یا کباب کھائیں گے،،، اس سے پہلے بلال اپنی بات مکمل کرتا ماہاویرا جلدی سے بولی
ارے ویر پھو پہلے بات تو سن لینے دیں انکل سنائیں نا اتنا مزہ آرہا ہے،،، ایشا چشمے کو انگلی سے دھکیلتے ہوئے بولی
ایشا چپ کر کے کھانا کھاؤ بیٹا کھانے کی ٹیبل پر باتیں نہیں کرتے،،، اپنی اصل بہادری کا پول کھل جانے کے ڈر سے ماہاویرا نے جلدی سے ایشا کو چپ کروایا
ایشا نے منہ بسورتے ہوئے پلیٹ پر سر جھکایا اور بلال اپنی ہنسی دبانے لگا،،،



کھانا کھانے کے بعد اب وہ سب جانے کی تیاری میں تھے،،،
ٹھیک ہے بھئی بلال اب تم لوگ بھی کسی دن چکر لگا لینا،،، آحِل نے اس سے گلے ملتے ہوئے کہا
ہاں ہاں ضرور،،، بلال مسکراتے ہوئے بولا
باقی سب بھی آپس میں ملے اور گاڑی میں بیٹھ گئے ایشا الائیہ کو بائے بائے کا اشارہ کرنے لگی اور گاڑی گیٹ سے باہر نکل گئی،،،
ماہاویرا اور بلال اندر چلے گئے الائیہ اور آریان ابھی وہیں کھڑے تھے،،،
تھینکس،،، الائیہ نے کہا
کس لیے،،، آریان نے پوچھا
آپ نے مجھے اتنا اچھا ڈریس گفٹ کیا اس لیے،،،
کوئی بات نہیں مجھے جو اچھا لگا میں نے کر دیا،،، آریان مسکرا کر بولا
ویسے بہت خوبصورت لگ رہی ہو اس ڈریس میں،،، آریان نے کہا تو الائیہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی
اوکے پھر گڈ نائٹ،،،
گڈ نائٹ،،، الائیہ نے جواب دیا اور آریان اندر چلا گیا
الائیہ مسکراتی ہوئی روم میں آئی اور خود کو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو کر دیکھنے لگی،،،
پھر وہ نائٹ ڈریس لیے واش روم گھس گئی،،،
چینج کرتے وقت اسے اپنے جسم پر دو تین جگہ ریڈ نشان نظر آئے جنہیں وہ حیرت سے دیکھنے لگی،،،
پھر اس نے فراک کی طرف دیکھا جسے پہننے سے پہلے ایسے کوئی نشان نہ تھے،،،
کچھ دیر وہ پریشانی سے کھڑی نشانوں کو دیکھتی رہی پھر نائٹ ڈریس پہنے واش روم سے باہر نکلی،،،
سونے کے لیے وہ بیڈ پر لیٹی لیکن یہ کیا دس پندرہ منٹ بعد اس کے جسم پر کھجلی ہونا شروع ہو گئی،،،
سٹارٹنگ میں وہ اسے نارمل سمجھ کر لیٹی رہی لیکن جب کام حد سے بڑھا تو وہ اٹھ کر بیٹھی،،،
اچانک یہ الرجی کیسے ہو سکتی ہے،،، وہ اپنی کمر کھجاتے ہوئے بولی
ادھر آریان خوشی خوشی بیڈ پر لیٹا تھا،،،
اب پتہ چلے گا چھپکلی کو کہ جب نیند خراب ہوتی ہے تو کیسا فیل ہوتا ہے،،، وہ نچلا لب دانتوں تلے لیے مزے سے بولا
آہ چل بھئی آریان آرام سے سو جا،،، وہ کمفرٹر اوڑھے سکون سے سونے سے کی تیاری کرنے لگا،،،



فجر کی آذان ہوتے ہی ارحام کے موبائل پر الارم رنگ ہوا اس نے موبائل اٹھا کر الارم آف کیا اور اٹھ کر بیٹھا ایک نظر گھوڑے بیچ کر سوئے ہوئے اپنے روم میٹس علی اور فیصل پر ڈالی پھر وضو کرنے کے لیے واش روم چلا گیا،،،
نماز پڑھنے کے بعد اس نے دو گھنٹے سٹڈی کی پھر فریش ہو کر باہر نکلا ساتھ ہی دروازے پر ہوسٹل کا ملازم ناشتہ لے کر حاضر ہو گیا تھا،،،
ناشتے کی ٹرے پکڑ کر اس نے ٹیبل پر رکھی اپنے حصے کا ناشتہ پلیٹ میں نکال کر کھانے لگا،،،
اس نے علی اور فیصل کو کبھی جگایا نہ تھا کیوں کہ وہ دونوں نہایت ہی سست اور لاپرواہ لڑکے تھے ارحام انہیں جگانے کی لاکھ کوشش کر لے وہ اٹھتے اپنے ٹائم پر ہی تھے،،،
ناشتے سے فارغ ہو کر وہ مرر کر سامنے اپنے سیاہ اور سلکی بالوں کو سیٹ کرنے لگا جب الارم رنگ ہوا جو علی اور فیصل کا لگایا گیا تھا،،،
آنکھیں مسلتے ہوئے وہ دونوں اٹھے اور ارحام کی طرف دیکھنے لگے جو ان کے سامنے فریش کھڑا تھا،،،
یار ارحام کیسے کر لیتے ہو تم ہماری تو نیند ہی پوری نہیں ہوتی،،، علی نے جمائی لیتے ہوئے کہا
اب وہ انہیں کیا کہتا کہ ان دونوں کی طرح اس کے اخراجات اٹھانے والے ماں باپ اس کے پاس نہیں ہیں پھر وہ کیسے گھوڑے بیچ کر سو جائے آخر اسے اپنی سٹڈی کمپلیٹ کرنے کے بعد ایک اچھی پوسٹ کی جاب ڈھونڈنا تھی نا کہ ان دونوں کی طرح باپ کی کمائی پر عیش کرنی تھی،،،
بس شروع سے ہی یہی عادت ہے میری،،، ارحام نے بے تاثر چہرے سے کہا
یار یہ تیری گردن پر کیا ہوا ہے،،، اچانک فیصل کی نظر اس کی گردن پر پڑی اور اس کی بات پر ارحام نے جلدی سے اپنی شرٹ کا کالر ٹھیک کیا
جب اس کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو وہ دونوں شکی نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگے،،،
ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا تم دونوں سوچ رہے ہو میں ایسا ہرگز نہیں کرنے والا،،، ارحام نے ان دونوں کا شک دور کرنے کے لیے کہا
پھر بتا کیا ہوا ہے گردن پر لڑکی کے ناخنوں کے نشان لگ رہے ہیں،،، علی نے تجسس سے پوچھا
کل مجھ سے زبردستی ریگنگ کروائی گئی تھی بس اسی کے نتیجے میں یہ حال ہوا،،، ارحام نے کہا تو علی اور فیصل کا قہقہ کمرے میں گونجا جس پر ارحام نے ان دونوں کو گھوری سے نوازہ
نہیں یار مطلب تم کوئی بچے تھوڑی ہو جو تم سے زبردستی ریگنگ کروائی گئی،،، علی نے ہنسی دباتے ہوئے کہا کیوں کہ وہ جان چکا تھا ارحام کو ان کا ہنسنا اچھا نہیں لگا
میں تمہیں پوری بات بتانا ضروری نہیں سمجھتا اور یونی کا ٹائم ہو گیا ہے میں جا رہا ہوں،،، وہ اپنا بیگ اٹھا کر کندھے پر لٹکائے باہر نکل گیا
اس کے جانے کے بعد علی اور فیصل خوب دل کھول کر ہنسے،،،



لیزہ آج یونی پہلے آگئی تھی وہ گراؤنڈ سے گزر رہی تھی جب اس کی نظر ارحام پر پڑی جو بینچ پر بک کھولے سر جھکائے بیٹھا تھا اسے دیکھتے ہی لیزہ نے مٹھیاں بھینچیں پھر ذہن میں کچھ سوچتے ہوئے اس کی طرف بڑھی،،،
ہائے،،،
ارحام نے نظریں اٹھا کر سامنے کھڑی لیزہ کو دیکھا جو اپنی نیلی آنکھوں کو موٹا کیے اس کی طرف دیکھ رہی تھی،،،
اس نے بنا جواب دیے دوبارہ بک پر سر جھکایا یہ دیکھ کر لیزہ نے اپنے دانت پیسے،،،
کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں،،، اپنی انا کو ایک طرف رکھتے ہوئے وہ پھر سے بولی
ارحام اس کے ری ایکشن پر حیران تھا ابھی کل تو وہ اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہی تھی اور آج اتنے نرم لہجے سے بول رہی تھی، اس نے بینچ سے بک اٹھا کر اس کے لیے جگہ خالی کی اور لیزہ مسکراتے ہوئے وہاں بیٹھ گئی،،،
تمہارا نام کیا ہے،،،
ارحام،،،
آئم لیزہ۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا لیکن ارحام کا چہرہ بے تاثر رہا جس پر لیزہ اپنے غصے پر قابو پانے لگی
ارحام وہ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے،،،
جی کہیے،،، ارحام نے بغیر اس کی طرف دیکھے کہا
آئم سوری کل میں نے کچھ زیادہ روڈ ہو گئی تھی مجھے بعد میں احساس ہوا کہ تم دکھنے میں ایسے لگتے تو نہیں کہ ایسی حرکت کرو ضرور کسی نے تمہیں مجبور کیا ہوگا،،،
اس کی بات پر ارحام خاموش رہا لیکن ایک بار لیزہ کے ساتھ نظریں ملائیں اگلے ہی پل وہ اپنی نظروں کو جھکا گیا،،،
کین وی بی فرینڈز،،، لیزہ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے وہ حیرت سے دیکھنے لگا
میں کسی سے فرینڈشپ نہیں کرتا خاص کر لڑکیوں سے آئم سوری،،، ارحام کے انکار پر لیزہ کو ڈھیروں غصہ آیا لیکن ضبط کر گئی
کوئی بات نہیں ویسے تھوڑی بہت ہیلو ہائے تو ہو سکتی ہے،،،
ارحام بک اٹھائے کھڑا ہوا ساتھ ہی لیزہ بھی کھڑی ہو گئی،،،
آئم سوری،،، وہ کہہ کر جانے لگا جب لیزہ نے اس کا ہاتھ پکڑا
میں نے سوری بھی کہا پھر بھی،،، اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
کل جو میں نے کیا اس کے ری ایکشن میں آپ نے جو بھی کیا مجھے غلط نہیں لگا آپ کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو شاید یہی کرتا آپ کو ریگریٹ کرنے کی ضرورت نہیں،،،
اپنی بات مکمل کر کے اس نے لیزہ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا اور چلنے لگا،،،
ہن۔۔۔۔ سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو تمہیں پوری یونیورسٹی کے سامنے بے عزت نہ کیا تو میرا نام بھی لیزہ خانزادی نہیں،،، وہ پاؤں پٹختی ہوئی وہاں سے چل دی
سامنے ذوہا اور ہما کھڑی یہ ساری کاروائی دیکھ رہی تھیں،،،
لیزہ یہ کیا کر رہی تھی تم،،، ذوہا نے پریشانی سے پوچھا کیوں کہ وہ جانتی تھی لیزہ اپنا بدلا ضرور لے گی
تم دونوں کب آئیں،،، وہ مسکرائی
بس کچھ دیر پہلے ہی آئے ہیں لیکن تم اس لڑکے کے ساتھ کیا کر رہی تھی،،، ہما نے حیرت سے پوچھا
کچھ نہیں میں بس اس سے بدلا لینے کا موقع ڈھونڈ رہی ہوں،،،
لیزہ خدا کا واسطہ ہے نہ کرو مجھے تو وہ نہایت ہی شریف اور اچھا لڑکا لگ رہا ہے،،، ذوہا نے کہا
تو تمہیں کیا ہے تمہارا کونسا رشتہ دار ہے میں بس اس سے بدلا لے کر رہوں گی تم دونوں اگر میری فرینڈز ہو تو میرا ساتھ ضرور دو گی،،،
فرینڈشپ کی بات پر ذوہا نے ہتھیار پھینکے اور اثبات میں سر ہلایا،،،
لیزہ مسکراتی ہوئی کلاس روم کی طرف بڑھی ساتھ ذوہا اور ہما بھی چلنے لگیں،،،



نہیں کروں گی میں یہ شادی ی ی،،،، وہ حلق کے بل چلّاتی ہوئی لاؤنج کی ہر چیز توڑ رہی تھی
نہیں کروں گی سنا تم سب نے،،، اس نے فِش کیبنِٹ کو دھکیلا تو ایک زور دار آواز سے کیبنِٹ زمین پہ گر کر کرچیوں میں تبدیل ہو گیا،،،
پورے فرش پر پانی پھیل چکا تھا رنگ برنگی چھوٹی چھوٹی مچھلیاں پانی کے بغیر تڑپنے لگیں،،،
جو لوگ اس کا رشتہ لینے آئے تھے وہ منہ کھولے کھڑے ہو کر اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ رہے تھے،،،
جاؤؤؤؤؤؤؤؤ،،، وہ حلق کے بل چلّائی تھی
ہیلو صاحب جی،،، جلدی آجائیں بی بی جی نے پورا گھر سر پر اٹھا رکھا ہے اور وہ رشتہ کروانے والے بھی آئے ہوئے ہیں،،، ملازم نے لاؤنج سے باہر نکل کر جلدی سےکال ملائی
واٹ۔۔۔ وہ تو ایک گھنٹہ بعد آنے والے تھے،،، میر فارس چلّایا
میر فارس۔۔۔
پاکستان کے سب سے بڑے اسمگلرز میں سے اس کا نام پہلے نمبر پر آتا تھا، وہ قریب بتیس سال کا تھا، صاف رنگت، گھنی پلکوں کے ساتھ موٹی آنکھیں، درمیانے سائز کے گول شیپ کلیجی مائل ہونٹ جو یقیناً سگریٹس پینے کے سبب تھے، ہلکی بڑھی شیو، تھری پیس سوٹ کے نیچے برانڈڈ بلیک شوز پہننے وہ پرسنالٹی کی دنیا کا شہزادہ تھا،،،
جاری ہے
