Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 29)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 29)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
پانچ سال پہلے تم مجھ سے بچ نکلی تھی لیکن آج۔۔۔۔ اس نے قہقہ لگایا۔۔۔۔۔ آج تمہیں مجھ سے کون بچائے گا دیکھو زرا اس جگہ کا تو کسی پرندے کو بھی نہیں پتہ انسان تو دور کی بات ہے،،،،،،،،،، اس نے اس کے کندھے کو برہنا کیا
چھوڑو مجھے میں تمہارا خون پی جاؤں گی،،،،،،،، وہ چلّائی
ہاہاہاہا۔۔۔۔ ہمت تو تم میں وہی پانچ سال پہلے والی ہے لیکن آج تم کچھ نہیں کر سکتی اس بار کوئی فرشتہ نہیں آ سکتا تمہیں بچانے،،،،،،، اس نے اسے بازو سے پکڑ کر گھمایا اب ایرہ کی کمر اس کے سینے سے لگ رہی تھی
دور ہٹو مجھ سے گھٹیا انسان میرے ساتھ میرا رب ہے وہ کرے گا میرے حفاظت وہ بھیجے گا کسی فرشتے کو تم جیسے شیطان کو سبق سیکھانے کے لیے،،،،،،،،، اس کی آنکھ سے آنسو پھسلا لیکن اس کا دل ابھی بھی پر امید تھا کہ اس کا رب ضرور اس کی عزت کی حفاظت کرے گا
اس لڑکے نے اپنا ہاتھ ایرہ کے گلے کی طرف بڑھایا ہی تھا جب ایک زور دار آواز سے دروازہ کھلا،،،،،،،،،
ایرہ نے دھندلاتی نظروں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا جس کی آنکھوں میں اس وقت صرف لالگی ہی دکھائی دے رہی تھی،،،،،،،،
اوئے کون ہو تم،،،،،،،، وہ لڑکا چلّایا
عمر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اس کے قریب آیا اس نے ایرہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک طرف کیا اور ایک زور دار پنچ لڑکے کے منہ پہ رسید کیا،،،،،،،،،
تم جانتے نہیں میں کون ہوں،،،،،،،، وہ لڑکا اس کی طرف بڑھا
عمر نے اس کے بازوؤں کو اس کی کمر کے ساتھ موڑ کر اس کے پیٹ میں تین چار بار گھٹنا مارا،،،،،،،،
وہ لڑکا درد سے کراہنے لگا عمر نے اسے کچھ دیر کے لیے چھوڑا وہ لڑکا آس پاس اپنی گن ڈھونڈنے لگا جب عمر نے ٹیبل پر پڑی مظبوت چین اٹھا کر ہاتھ میں گھماتے ہوئے اس کی کمر کا نشانہ لگایا،،،،،،،،،
ایرہ روتے ہوئے نیچے بیٹھی اس نے دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا لیا،،،،،،،،
وہ بنا کچھ کہے اسے مارے جا رہا تھا اس لڑکے کے کراہنے کی آواز بلند ہوتی جا رہی تھی،،،،،،،،
عمر نے ایرہ کی طرف دیکھا اس کی قمیض کندھے سے پھٹی ہوئی تھی اس بے پھر سے اپنا رخ اس لڑکے کی طرف کیا اور اپنی پاکٹ سے خنجر نکال کر اس کے ہاتھ میں گاڑھ دیا،،،،،،،،،
پورے علاقے میں اس لڑکے کی چینخ گونج اٹھی تبھی دانش اندر آیا،،،،،،،،،
بس کرو ہمیں وہ زندہ چاہیے،،،،،،،،
عمر اور دانش جیسے ہی اندر داخل ہوئے تھے انہوں نے منہ پہ ماسک پہنے ہر طرف بے ہوشی کے چھوٹے چھوٹے سیلینڈر پھینک دیے تھے جس سے وہاں موجود سبھی آدمی بے ہوش ہو گئے پھر عمر ایرہ والے کمرے کی جانب بڑھا اور دانش نے وہاں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ یہ بھی ایک اسمگلنگ کا اڈا ہے،،،،،،،،،
تم اسے لے کر واپس چلو میں نے پولیس کو کال کی ہے وہ آتے ہی ہوں گے،،،،،،،،، دانش نے کہا
عمر اس کی طرف بڑھا اس نے ایرہ کا دوپٹہ زمین سے اٹھا کر اس کے اوپر اوڑھ کر اسے کھڑا کیا،،،،،،،،،
وہ رو رہی تھی عمر نے اس کی رخساروں کو صاف کیا دانش نے اس کی طرف عجیب نظروں سے دیکھا وہ ایک اسمگلر کی بہن تھی اسے شک ہونے لگا کہ عمر اسے چاہنے لگا ہے،،،،،،،،،
اسے گاڑی میں بیٹھا کر اس نے گھر کا رخ کیا،،،،،،،،،
وہ سارے راستے خاموش رہی تھی باہر کا طوفان اس کے اندر اٹھتے طوفان کے آگے کچھ نہ تھا،،،،،،،،
اسے حیرت ہوئی کہ عمر کو کیسے معلوم ہوا وہ کہاں ہے لیکن فلحال اس میں یہ پوچھنے کی ہمت نہ تھی،،،،،،،،
رات ہونے کو تھی خاموشی سے سفر طے ہوا عمر نے فلیٹ کے سامنے گاڑی روکی وہ مرے قدموں سے باہر نکلی عمر نے دروازہ کھولا اور وہ بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں گھس گئی،،،،،،،،،،



آریان،،،،،،، وہ چینختی ہوئی زمین پہ بیٹھی
ایک لڑکا کھیت میں موجود پودوں کی آڑ سے باہر نکلا،،،،،،، اس الائیہ کے بالوں کو ہاتھ میں سختی سے جکڑا
آہ،،،،،، وہ درد سے کراہ اٹھی اس لڑکے نے اسے کھینچ کر کھڑا کیا الائیہ کو اپنے سر میں شدت سے درد محسوس ہو رہا تھا،،،،،،،،
اگر اپنا فیانسی واپس چاہیے تو میر فارس کی بہن کو چھوڑنا ہو گا ہماری کال کا انتظار کرنا،،،،،،،،، یہ کہتے ہوئے اس نے الائیہ کے کندھے میں انجیکشن چبھویا اور وہ وہیں زمین پر گر گئی
اس نے آریان کو کندھوں پہ اٹھایا اور کھیت کے پار کھڑی اپنی گاڑی میں ڈالا،،،،،،،
فارس کرسی پہ بیٹھا تھا اس نے سامنے پڑے کانچ کے ٹیبل پر ٹانگیں پھیلا رکھی تھیں،،،،،،،،
باس،،،،،،، سلمان نے کہا فارس نے آنکھیں کھولیں
یہ رہا وہ لڑکا،،،،،،، اس نے سامنے پڑی کرسی پر آریان کو بیٹھایا وہ ابھی بھی بے ہوش تھا،،،،،،،،
ہاتھ باندھ دو،،،،،،، فارس کے کہنے پہ سلمان نے آریان کے ہاتھ باندھے
ٹھیک ہے تم جاؤ،،،،،،، فارس نے کہا تو سلمان کمرے سے باہر نکل گیا
فارس نے ٹیبل پر پڑا پانی کا گلاس اٹھا کر آریان کے منہ پر پھینکا،،،،،،،
لمبا سانس کھینچتے ہوئے آریان کو ہوش آیا اس نے بمشکل آنکھیں کھولتے ہوئے اپنے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا،،،،،،،،
ہیلو مسٹر آریان،،،،،،،، فارس کے ہونٹ مسکرائے
میٹ وِد میر فارس،،،،،،،،، اس نے ہینڈ شیک کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا
اوپس تمہارے تو ہاتھ ہی بندھے ہیں خیر رہنے دیتے ہیں،،،،،،، وہ مسکرایا
کیوں لائے ہو مجھے یہاں،،،،،،، آریان نے غصے سے اس کی طرف دیکھا
تمہیں کچھ دکھانا تھا،،،،،،،، اس نے ٹیبل پر موجود اپنے پاؤں ہلاتے ہوئے کہا
آریان نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا،،،،،،،
لے آؤ،،،،،،، فارس کے اونچی آواز میں کہنے پر اس کا آدمی ہاتھ میں ایک پیک پکڑے اندر داخل ہوا
رکھو،،،،،،،
آدمی نے پیک ٹیبل پر رکھا،،،،،،،،، فارس نے اسے جانے کا اشارہ کیا وہ باہر نکل گیا
تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے،،،،،، اس نے پیک سے ایشا کے کپڑے (پینٹ شرٹ) باہر نکالے
آریان حیرت سے آنکھیں پھاڑے ان کپڑوں کو دیکھ رہا تھا وہ کپڑے خون سے لت پت تھے،،،،،،،،،
یہ تمہاری کزن کے کپڑے ہیں نا “ایشا کے”،،،،،،، آخری دو لفظ اس نے مسکراتے ہوئے سرگوشی میں کہے تھے
بزدل انسان اس بچی پر تشدد کیا تم نے،،،،،،، آریان چلّایا ایشا کو زخمی حالت میں سوچ کر ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے
اپنے مطلب کے لیے میر فارس کچھ بھی کر سکتا ہے خیر مدعے پر آتے ہیں،،،،،،، وہ کھڑا ہوا
میں تمہاری اس کزن کو چھوڑنے کے لیے تیار ہوں لیکن اس کے لیے تمہیں ایک چھوٹی سی قربانی دینی ہو گی،،،،،،،،، وہ اس کے پیچھے کھڑا ہوا
کیا مطلب ہے تمہارا،،،،،،،، آریان نے کہا
تمہیں اپنے لوگوں سے کہہ کر میری بہن کو آزاد کرنا ہو گا،،،،،،،،،
مجھے منظور ہے،،،،،،،،، آریان جلدی سے بولا
پوری بات تو سن لو یار،،،،،،،، فارس مسکرایا وہ چلتا ہوا واپس اپنی کرسی پر بیٹھا
تمہیں میری بہن سے نکاح کرنا ہو گا،،،،،،،،
فارس نے آریان کے سر پر بمب پھوڑا تھا وہ یہ کیسے کر سکتا تھا اس کی محبت تو کوئی اور تھی اس نے زندگی گزارنے کے خواب تو کسی اور کے ساتھ دیکھ رکھے تھے،،،،،،،،
آرام سے سوچ لو تمہارے پاس آج رات تک کا وقت ہے کل صبح تمہیں فیصلہ کرنا ہو گا،،،،،،،، وہ اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھا
الائیہ کہاں ہے،،،،،،، آریان نے پوچھا کیوں کہ یہاں تو وہ اکیلا تھا
فکر نہیں کرو وہ گھر پہنچ گئی ہو گی،،،،،،،، یہ کہتے ہوئے فارس دروازے کو پار کر گیا
ایشا،،،،،،، آریان نے ٹیبل پر پڑے سرخ کپڑوں کو دیکھا اس کی آنکھیں بھرنے لگیں اس ننھی جان نے اتنا ظلم کیسے برداشت کیا ہو گا یہ سوچ سوچ کر آریان کا دل تکلیف سے بھر اٹھا



ذائشہ بیمار پڑ چکی تھی وہ بستر پر لیٹی تھی اور لیزہ اسے سوپ پلا رہی تھی،،،،،،،،
ماما آپ نے کیا حال کر لیا ہے اپنا کچھ خیال کیا کریں آپ کی ایک بیٹی گئی ہے دوسری تو آپ کے پاس ہے نا،،،،،،، اس نے اسے سوپ پلاتے ہوئے کہا
ذائشہ نے لیزہ کے سر پر ہاتھ رکھا لیکن وہ مسکرائی نہیں تھی جس دن سے ایشا گئی تھی،،،،،،،
لیزہ کے دل میں خیال آیا کہ ذائشہ سے ارحام کے بارے میں بات کرے لیکن اس کی حالت کا سوچتے ہوئے وہ خاموش رہی،،،،،،،،،
اس نے ذائشہ کو میڈیسنز کھلا کر اس پہ کمفرٹر اوڑھا،،،،،،،،
گڈ نائٹ،،،،،،، وہ ذائشہ کی گال کو چومتے ہوئے باہر نکلی
پاپا آپ بھی سو جائیں،،،،،،، اس نے آحل سے کہا جو صوفے پہ بیٹھا لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا
سوتا ہوں بیٹا تم سو جاؤ،،،،،،، آحل نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائیں
اوکے گڈ نائٹ،،،،، وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی،،،،،
بیڈ پہ بیٹھ کر اس نے لیمپ آف کیا بالوں کو ربر بین سے آزاد کر کے وہ بستر پر لیٹی،،،،،،،،
ابھی اسے لیٹے ایک منٹ بھی نہ ہوا تھا جب اسے اپنی کمر پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوا،،،،،،،
وہ اچھلی جب کسی نے اسے اپنے حصار میں لیا،،،،،،،،،،
شششش،،،،،، اس نے لیزہ کے منہ پہ ہاتھ رکھا
ارحام،،،،،،، لیزہ اس کا ہاتھ ہٹا کر بولی
ارحام اسے بستر پر لیٹاتا ہوا اس پہ ہاوی ہوا وہ اس کی گردن کو چوم رہا تھا جب لیزہ کی آنکھوں کے گرد آج دن میں ہونے والا منظر گھومنے لگا جب اس نے ارحام کے ہاتھ پر خون لگا دیکھا تھا،،،،،،،
ار۔۔۔۔۔ارحام،،،،،، اس نے اسے پیچھے ہٹایا
کیا ہوا،،،،،،، ارحام کو حیرت ہوئی
مجھے نیند آئی ہے،،،،،،، اس نے بہانہ گھڑا
تو سو جاؤ کس نے روکا ہے،،،،،،،، اس نے لیزہ کے رخساروں کو چوما
ارحام مجھے سونا ہے پلیز اپنے کمرے میں جاؤ،،،،،،، وہ تنگ آکر بولی
لیزہ کیا ہوا ہے،،،،،،، ارحام کو اس کے لہجے پر حیرت ہوئی
میں تھکی ہوئی ہوں مجھے سونا ہے،،،،،،،
اوکے اپنا خیال رکھنا،،،،،،، وہ بیڈ سے اترا
لیزہ خاموش رہی وہ براہِ راست اس سے کچھ پوچھنا نہیں چاہتی تھی اسے لگا ارحام اسے کبھی سچ نہیں بتائے گا،،،،،،،،
وہ اس کے کمرے سے نکل گیا تھا اور وہ لیٹی اسی کے بارے میں سوچنے لگی



“تمہیں کوئی بھی بچاتا تو کیا تم اسی سے محبت کرنے لگ جاتی” وہ بستر پر لیٹی آریان کی بات کو سوچ رہی تھی،،،،،،،
آج عمر نے اس کی عزت بے مول ہونے سے بچائی تھی تو کیا اسے عمر سے محبت کرنی چاہیے تھی؟ ایک سوال جو ایرہ نے خود سے کیا تھا
عورت کس سے محبت کرتی ہے جو عورت سے محبت کرے یا اس سے جو عورت کو عزت دے؟ ایرہ نے پھر سے سوال کیا
ایرہ کیا تمہیں آریان سے محبت تھی یا وہ تمہارا بچپنا اور ضد تھی؟
ایرہ کو آواز سنائی دی اس نے آس پاس دیکھا وہاں کوئی نہ تھا شاید یہ اس کا ضمیر تھا یہ اسی کی آواز تھی،،،،،،،،،
صحیح کہتا ہے آریان اس نے تو اللہ کے لیے میری مدد کی تھی اس نے کبھی مجھے چاہا ہی نہیں تھا،،،،،،،، ایرہ نے سوچتے ہوئے ایک طرف لیٹتے ہوئے ٹانگیں سکیڑ لیں
وہ مجھے چاہتا بھی کیوں پانچ سال پہلے بھی وہ میری طرح نادان تھوڑی تھا جو ایسے ہی کسی انجان لڑکی سے محبت کرنے لگتا پاگل تو تم تھی ایرہ جو اس کے لیے اپنا چین سکھ سب برباد کر رہی تھی کیا اسے کہتے ہیں محبت،،،،،،،،،
نہیں محبت اسے نہیں کہتے جو یک طرفہ کی جائے وہ محبت نہیں دیوانہ پن ہوتا ہے ہمارے اندر جو طوفان اٹھتا ہے وہ محبت نہیں دیوانہ پن ہوتا ہے جو ہمیں ہماری جڑوں سے کھوکھلا کرنے لگتا ہے پھر آہستہ آہستہ یہی دیوانہ پن ہمیں موت کے منہ میں اترنے پر مجبور کر دیتا ہے اور جس کے لیے ہم مر رہے ہوتے ہیں تڑپ رہے ہوتے ہیں اسے ہمارے ایک پل کی بھی خبر نہیں ہوتی ہاں یہ محبت نہیں ہوتی،،،،،،،،، اس نے اپنی رخسار پر پھسلنے والا آنسو سختی سے مسلا تھا
دروازہ کھٹکھٹنے کی آواز سے وہ اٹھ کر بیٹھی،،،،،،،،
وہ کھانا لیے اندر داخل ہوا،،،،،،،،
کیسی ہو،،،،،،،، وہ کرسی پہ بیٹھا
ٹھیک ہوں،،،،،، وہ ہاتھ مسلتے ہوئے بولی
برا نہ مانو تو تم سے ایک سوال پوچھوں،،،،،،، عمر نے اس کی طرف دیکھا
میرا تو روم روم مجھ سے سوال پوچھ رہا ہے آپ بھی پوچھ لیں کیا فرق پڑتا ہے،،،،،،،،، وہ دھیرے سے بولی عمر ہلکا مسکرایا
عورت کو مرد سے کیا چاہیے؟ عمر نے پوچھا
عزت،،،،،، اس نے فوراً جواب دیا
اگر وہ عزت میں تمہیں دوں تو،،،،،،، وہ خاموش ہوا
ایرہ نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا،،،،،،،
میں بات کو گھما کر نہیں کرنا چاہتا نہ ہی مجھے بات دل میں رکھنے کی عادت ہے۔۔۔۔ کیا تم مجھ سے نکاح کرو گی،،،،،،،،
عمر کی بات پر ایرہ حیران ہوئی اتنا کہ اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا،،،،،،،،



الائیہ کو تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہوش آچکا تھا اسے بہت کم مقدار میں بے ہوشی کا انجیکشن لگایا گیا تھا،،،،،،،،
وہ لڑکھڑاتی ہوئی کھڑی ہوئی آس پاس دیکھا تو کوئی نہ تھا سوائے اندھیرے کے،،،،،،،
آریان،،،،،،، اس نے زیرِلب اس کا نام پکارا اور گرتی سمبھلتی گاڑی میں بیٹھی
ماہاویرا پریشان ہو رہی تھی کب سے وہ دونوں گھر سے نکلے ہوئے تھے کوئی کال بھی ریسیو نہیں کر رہا تھا،،،،،،،،
تبھی گھر میں الائیہ داخل ہوئی اسے لڑکھڑا کر چلتا دیکھ کر ماہاویرا پریشان ہوئی،،،،،،،،
کیا ہوا الائیہ،،،،،،، الائیہ ماہاویرا کے گلے لگ کہ رونے لگی
کیا ہوا بیٹا رو کیوں رہی ہو اور آریان کہاں ہے،،،،،،،، ماہاویرا کی بے چینی برھتی جا رہی تھی
موم وہ لوگ اسے لے گئے،،،،،،،، اس نے روتے ہوئے کہا
کیا مطلب کسے لے گئے،،،،،،،
آر۔۔۔آریان کو،،،،،،،،
کیا آریان کو،،،،،،، ماہاویرا گرتے ہوئے صوفے پہ بیٹھی
اس آدمی نے کہا کہ ہم میر فارس کی بہن چھوڑ دیں تو وہ آریان کو چھوڑ دیں گے،،،،،،،،،
ماہاویرا نے الائیہ کی طرف دیکھا،،،،،،،
ت۔۔تو کال کرو اپنی ٹیم کے لڑکوں کو ا۔۔اور کہو کہ وہ اسے چھوڑ دیں،،،،،،،
اس نے کہا کہ ہم ان کی کال کا ویٹ کریں،،،،،،، الائیہ نے اپنے آنسو صاف کیے
یا اللہ ہم پر رحم فرما،،،،،،، ماہاویرا نے ہاتھ جوڑتے ہوئے دعا کی
تم۔۔۔تمہیں کچھ ہوا تو نہیں تم ٹھیک ہو نا،،،،،،، ماہاویرا نے اسے سینے سے لگایا
میں ٹھیک موم لیکن اگر آریان کو کچھ ہو گیا تو میں بھی زندہ نہیں رہوں گی،،،،،،،،، وہ شدت سے رونے لگی
نہیں ایسی باتیں منہ سے نہیں نکالتے اسے کچھ نہیں ہو گا بس تم دعا کرو،،،،،،، ماہا نے اس کے بالوں کو سہلایا



فارس گھر آیا تو ایشا ابھی تک سو رہی تھی وہ اسے دیکھ کر مسکرایا،،،،،،،،
قدموں کی آہٹ سے ایشا کی آنکھ کھلی،،،،،،،
طبیعت کیسی ہے،،،،،،، وہ شوز اتارتا ہوا بولا
اب بلکل ٹھیک ہے،،،،،،، وہ غنودگی کی آواز میں بولی
اور نیند پوری ہو گئی،،،،،،، وہ وارڈ ڈروب سے کپڑے نکالنے لگا
ہاں جی ہو گئی،،،،،،، ایشا نے جواب دیا
چلو تمہارے لیے اچھا ہے،،،،،،،، وہ کہتا ہوا واش روم گھس گیا لیکن ایشا کو اس کی بات سمجھ میں نہیں آئی کس لیحاظ سے اچھا تھا
وہ لیٹی یہی سوچ رہی تھی جب وہ واش روم سے باہر نکلا،،،،،،،،
ایشا نے اس کی طرف دیکھا اس نے آج پھر کالا کرتا اور شلوار پہن رکھی تھی شاید وہ نائٹ میں اکثر یہی پہنا کرتا تھا،،،،،،،،،
وہ ایشا کو بہت خوبصورت لگ رہا تھا تبھی وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھے جا رہی تھی،،،،،،،،
ٹاول سے بال خشک کر کے وہ انگلیاں پھیرتا ہوا بیڈ کی طرف آیا،،،،،،،،
سب سے پہلے اس نے لائٹ آف کی پھر اپنی جگہ پر لیٹ گیا،،،،،،،،،
وہ خاموشی سے لیٹی رہی،،،،،،،،
کچھ دیر گزرنے کے بعد فارس کا ہاتھ اس کی کمر کے نیچے آیا اس نے ایشا کو اپنے اوپر لیٹایا ایشا اس کے اچانک عمل پر حیران رہ گئی،،،،،،،،
اس کی گردن میں ہاتھ ڈالتے ہوئے فارس نے اس کے ہونٹوں کو گرفت میں لیا ایشا کی آنکھیں سختی سے بند کیں،،،،،،،،،
کچھ دیر گزرنے کے بعد فارس نے اسے بیڈ پہ لیٹایا لمس ابھی بھی جدا نہ ہوا تھا،،،،،،،،،
ایشا کے پورے وجود میں ادھم سی مچ گئی اس نے فارس کو پیچھے ہٹایا،،،،،،،،،
آ۔۔۔آپ کیا ک۔۔۔کرنے والے ہیں،،،،،،،، وہ دھڑکتے دل کے ساتھ بمشکل بولی
وہ تو کر کے ہی دکھاؤں گا نا ایسے کیسے بتاؤں،،،،،،،، اس نے اٹھ کر اپنی شرٹ اتاری
کھڑکی سے آتی چاند کی روشنی میں ایشا اسے دیکھ سکتی تھی اس کے ارادے بھانپ کر ایشا کے چودہ طبق روشن ہونے لگے،،،،،،،،
وہ پھر سے اس پہ ہاوی ہوا،،،،،،،،،
ف۔۔۔فارس،،،،،،، اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کہے یا کیا نہ کہے
کہو میری جان،،،،،،،، فارس نے اس کے نچلے ہونٹ کو گرفت میں لیا
آہ،،،،،،، شدت کی وجہ سے ایشا کے منہ سے آواز نکلی،،،،،،،،
فارس نے اسے اٹھاتے ہوئے اس کی شرٹ کو اوپر کھینچا،،،،،،،،،
کچھ دیر بعد کمرے میں صرف تیز سانسوں کی آواز سرگوشی کر رہی تھی،،،،،،،
ایشا کے ناخن فارس کی کمر میں گڑھ چکے تھے،،،
