Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

آریان اٹھ جاؤ کب تک سو گے بیٹا،،،
ماہاویرا کھڑکی سے پردہ ہٹاتی ہوئی آریان کو جگا رہی تھی،،،
موم ابھی مجھے اور سونا ہے،،، دھیمی سی آواز کے ساتھ وہ غنودگی میں بولا تھا
تمہیں پتہ ہے نا آج تم نے بارہ بجے ایئر پورٹ جانا ہے،،، ماہاویرا نے اس کے کمرے سے چیزیں سمیٹتے ہوئے کہا جو آریان اپنی عادت کے مطابق روز بکھیرتا تھا
بھئی میں کہیں نہیں جا رہا ابھی کل ہی تو یونیورسٹی میں لاسٹ ڈے تھا آج میں نے فل ڈے سونا ہے بس،،، وہ ابھی تک کمفرٹر میں چہرہ چھپائے بول رہا تھا
آریان میری جان دیکھو بیٹا کتنی بری بات ہے وہ بچی پہلی بار پاکستان آرہی ہے اسے یہاں کے بارے میں کچھ نہیں معلوم وہ کیسے ہمارا گھر ڈھونڈے گی،،، ماہاویرا نے بیڈ پر بیٹھ کر اسے سمجھانا چاہا
اوہ موم،،، آریان نے تنگ آکر چہرے سے کمفرٹر اتارا
گہری سیاہ آنکھیں، گھنی لمبی پلکیں، سرخی مائل باریک ہونٹ، شفاف سفید رنگت کے ساتھ ماتھے پر بکھرے سیاہ بال، اس حال میں بھی وہ انتہائی پرکشش لگ رہا تھا،،، وہ جب چھوٹا تھا صرف تب ہی ماہاویرا سے ملتا تھا اب تو وہ بلاشبہ وہ بلال کی فوٹو کاپی تھا
موم آپ بھی نا کمال کرتی ہیں ڈیڈ کو بھیج دینا تھا نا،،، آریان اٹھ کر بیٹھا
تم جانتے تو ہو تمہارے ڈیڈ ان دنوں آفس ورک میں ہی اتنے بیزی ہوتے ہیں کہ پورا دن کسی اور کام کے لیے ٹائم نہیں نکال پاتے،،، ماہاویرا ہاتھوں سے اس کے بال درست کرتی ہوئی بولی
اور وہ لڑکی کون ہے اور کیوں آرہی ہے ہمارے گھر اس کو پورے پاکستان میں ایک ہمارا ہی گھر ملا تھا سٹے کے لیے،،، اب آریان اپنا غصہ اس لڑکی پر اتارنا چاہتا تھا اگر وہ اس وقت اس کے سامنے ہوتی تو اس کی خیر نہ ہوتی
میری جان ایک ہم ہی تو ہیں ان کے جاننے والوں میں سے پاکستان میں اور کوئی بھی نہیں ہے تمہیں معلوم تو ہے وہ کن کی بیٹی ہے،،، ماہاویرا وارڈ ڈروب سے اس کے کپڑے نکالنے لگی
آخر وہ تنگ آکر اپنی نیند کی قربانی دیتا ہوا اٹھا،،،
فل ڈے سلیپ کا میرا سارا پلین خراب دیا اس چھپکلی نے ایک بار لے آؤں اسے گھر پھر دیکھنا کیسے بدلا لیتا ہوں،،، دل ہی دل میں سوچتا ہوا وہ ماہاویرا کے ہاتھ سے کپڑے لے کر واش روم گھس گیا

COMPLETE DOWNLOAD LINK AVAILABLE  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *