Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 16)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
وہ لوگ گاڑی میں بیٹھے اور گاڑی سٹارٹ کی لیزہ نے ان کا پیچھا کرنا شروع کیا،،،،،،،،،
وہ حیران تھی کہ ارحام تو ہوسٹل میں رہنے والا ایک عام سا لڑکا ہے جو اپنے اخراجات بھی بمشکل پورے کرتا ہے تو یہ مہنگی گاڑی میں برانڈڈ ڈریس پہنے کیا ارحام ہی بیٹھا تھا،،،،،،،،،،
لیزہ نے اپنی گاڑی کچھ فاصلے پہ رکھی تھی تا کہ اسے ذرا سا بھی شک نہ ہو کچھ دیر بعد گاڑی ایک ہوٹل کے باہر رکی لیزہ نے بھی اپنی گاڑی کو بریک لگائی،،،،،،،،،
ارحام اور وہ آدمی ہوٹل کے اندر داخل ہو گئے لیزہ وہیں بیٹھی اس کے باہر آنے کا ویٹ کرنے لگی،،،،،،،،،،،
دھیرے دھیرے اس کا تجسس بڑھتا جا رہا تھا بالآخر دس منٹ کے بعد ارحام ہوٹل سے باہر نکلا،،،،،،،،
لیزہ حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھنے لگی اب یہ وہی ارحام تھا جو یونیورسٹی میں اس کے سامنے ہوتا تھا نارمل سا ڈریس پہنے بالوں کو ایک سائیڈ پہ بیٹھائے وہ پہلے کی طرح معصوم دکھائی دے رہا تھا،،،،،،،،،
لیزہ نے یاد کیا کہ جب اس نے ارحام کو دس منٹ پہلے دیکھا تھا تب اس کے بال پیچھے کی طرف بیٹھائے گئے تھے جس سے اس کی شخصیت کافی بارعب دکھائی رہی تھی،،،،،،،،،،،
ارحام نے رکشہ پکڑا اور اس میں بیٹھ گیا لیزہ اس کا پیچھا کرتی رہی یہاں تک کہ رکشہ اس کے ہاسٹل کے سامنے رکا اور وہ اندر داخل ہو گیا،،،،،،،،،،،
تو مسٹر ارحام کیا ہے تمہارا اصلی چہرہ،،،،،،،،،،، اس کی نظریں ابھی تک ہاسٹل کے گیٹ پر ٹکی تھیں



شہروز اپنی منزل کو روانہ ہو گیا تھا الائیہ لاؤنج میں سب گھر والوں کی کمپنی انجوائے کر رہی تھی جب اس کا موبائل رنگ ہوا،،،،،،،،،،،
ایسکیوز می،،،،،،، وہ کہتی ہوئی اٹھی اور لان کی طرف چل دی
ہیلو کیا خبر ہے،،،،،،،،،،،
میر فارس کی تصاویر ملی ہیں تمہیں وٹس ایپ کرتا ہوں،،،،،،،،، دانش کی آواز اس کی سماعت میں پڑی
کیا واقع ہی جلدی سینڈ کرو،،،،،،،، وہ ایکسائیٹمینٹ سے بولی
کال کے دوران ہی اس کا موبائل دو تین بار رنگ ہوا الائیہ نے موبائل کان سے ہٹا کر سکرین آن کی بیچ پر بیٹھے میر فارس کی تصویر سکرین پر جگمگائی جہاں سمندر کی کھلی ہواؤں نے اس کے بال بکھیر رکھے تھے،،،،،،،
الائیہ کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے اسے یہ چہرہ جانا پہچانا لگ رہا تھا کہیں تو اس نے یہ چہرہ دیکھا تھا،،،،،،،،،
کیا تمہیں کنفرم ہے کہ یہی میر فارس ہے،،،،،،،،
ہنڈرڈ پرسنٹ کنفرم ہے،،،،،،،، دانش کی آواز میں اطمنان تھا
اس آدمی کو پیسے دے دیے،،،،،،،،، الائیہ نے پوچھا
وہ آدمی جو کراچی بیچ پر فارس کے ساتھ میٹنگ کے لیے آیا تھا اس نے اپنی شرٹ میں کیمرہ فٹ کر رکھا تھا،،،،،،،،
الائیہ کے پلین کے مطابق وہ دانش کا بھیجا گیا آدمی تھا اس نے یہ کام کرنے کے لیے منہ مانگی قیمت لی تھی،،،،،،،،،،،
ہاں اسے فارغ کر دیا ہے اب بتاؤ آگے کا کیا پلین ہے،،،،،،،،،،
کل صبح گیارہ بجے میں ہوٹل آؤں گی پھر ڈیسائیڈ کریں گے آگے کیا کرنا ہے،،،،،،،،،،
اوکے ہم ویٹ کریں گے،،،،،،، دانش نے کہا تو الائیہ نے کال ڈسکنیکٹ کی
تمہارا چیپٹر تو میں کلوز کر کے رہوں گی میر فارس،،،،،،،،،، اس نے اپنا عزم زیرِلب دوہرایا
لیکن میں نے تمہیں کہاں دیکھا ہے،،،،،،،،، وہ دماغ پر زور دینے لگی
او مائے گاڈ یہ تو وہی شخص ہے جسے اس دن میں نے ریسٹورنٹ میں دیکھا تھا،،،،،،، بالآخر الائیہ کو فارس کے بارے میں یاد آ ہی گیا تھا
ایشا،،،،،،، اس نے زیرِلب اس کا نام لیا
کیا پتہ اسے اس کے بارے میں کچھ اور بھی معلوم ہو،،،،،،،، وہ جلدی سے ایشا کا نمبر ڈائل کرنے لگی
کم آن ایشا پک اپ دی کال،،،،،،،
تیسری بیل پر کال ریسیو کر لی گئی،،،،،،،،
ہائے آپی،،،،،،، اس کی ننھی سی آواز الائیہ کی سماعت میں پڑی
ہائے ایشا ہاؤ آر یو،،،،،،،،
آئم فائن اینڈ یو،،،،،،، ایشا نے بک کلوز کرتے ہوئے کہا
آئم گڈ کیا کر رہی ہو،،،،،،،
کچھ نہیں بس سٹڈی کر رہی تھی،،،،،،،
اچھا ایشا مجھے تم کچھ بات کرنی تھی،،،،،،،،
جی جی آپی میں سن رہی ہوں آپ کریئے،،،،،، اس نے انگلی سے چشمے کو دھکیلا
وہ جو تمہارا سوپر مین انکل ہے اس کے بارے میں تم کیا کچھ جانتی ہو،،،،،،،،،
سوپر مین انکل،،،،،،، اس کا نام سنتے ہی ایشا کی آنکھیں چمک اٹھیں
لیکن آپی آپ کیوں پوچھ رہی ہیں،،،،،، آخر اس کے ننھے دماغ نے سوال کیا
ہاں وہ میں اس لیے پوچھ رہی تھی تا کہ اسے ڈھونڈوں اور پھر کہوں کہ ہماری ایشا کو بھی سوپر گرل بنائے،،،،،،، ایشا کافی چھوٹی تھی اور دماغ کی بھی جھلّی سی تھی اس لیے الائیہ نے اسے پوری بات بتانا مناسب نہ سمجھا
اووو سچ الائیہ آپی آپ کتنی اچھی ہو،،،،،،،، وہ بیڈ پر اچھلی
ہاں اب مجھے بتاؤ تمہیں اس کے بارے میں اور کیا کیا معلوم ہے،،،،،،،،،،
امممم پہلے وہ کراچی میں رہتے تھے اور اب اسلام آباد میں،،،،،،،،، وہ تھوڑی پر انگلی رکھتی ہوئی بہت سوچ کر بولی
افففف صحیح کہتا ہے آریان چھوٹا نمونہ۔۔۔۔۔ اس نے دل میں کہا تھا
ارے لیکن یہ تو تم بتا چکی ہو نا اور کیا معلوم ہے وہ بتاؤ،،،،،،،،
لیکن اور تو کچھ بھی نہیں معلوم اب آپ اسے کیسے ڈھونڈیں گی الائیہ آپی،،،،،،، وہ اداس ہوئی
ٹائم ہی ویسٹ کیا۔۔۔۔۔ اس نے پھر سے دل میں کہا
اچھا کوئی بات نہیں میں اسے ڈھونڈ لوں گی تم سٹڈی کرو اب ٹھیک ہے،،،،،،،،،
ٹھیک ہے آپی تھینک یو،،،،،،،، وہ مسکرائی
الائیہ نے منہ بسورتے ہوئے کال بند کی،،،،،،،



ہائے ارحام ہاؤ آر یو،،،،،،،،، لیکچر لینے کے بعد ذوہا نے ارحام کے پاس سیڑھیوں پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
آئم گڈ اینڈ یو،،،،،،،، ارحام نے بک سے سر اٹھا کر اسے جواب دیا
ہولی ڈیز کیسے رہے تمہارے،،،،،،،، ذوہا بولی
سٹڈی میں ہی گزر گئے تم بتاؤ انجوائے کیا یا نہیں،،،،،،،،،،
نہیں میں نے بس پریزینٹیشن ریڈی کی اور ریسٹ کیا،،،،،،،،،،
آج موسم بہت پیارا ہے بادل چھائے ہیں ہوا بھی چل رہی ہے،،،،،،،،، ذوہا نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا
ہمم لگتا ہے بارش ہونے والی ہے،،،،،،،،، ارحام نے بھی اپنی رائے پیش کی
بادل کی گرج۔۔۔۔۔
واؤ چلو کینٹین چلتے ہیں میرا ایسے موسم میں سموسے کھانے کا بہت دل کر رہا ہے،،،،،،،،،،، وہ کھڑی ہوئی
صبر تو کرو آفت کی پڑیا،،،،،،،،،، وہ مسکراتا ہوا کھڑا ہوا اس کی بات سن کر ذوہا نے قہقہ لگایا
لیزہ اور ہما پہلے سے ہی کینٹین میں موجود تھیں،،،،،،،،
ہوا نے پہلے سے بھی ذیادہ تیزی دکھائی ذوہا کے بال اڑ اڑ کر ارحام کو ٹچ کرنے لگے،،،،،،،،
لیزہ کی نظر ان دونوں پر پڑی اس کی برداشت کی حد جواب دینے لگی تھی،،،،،،،،،
اس نے ڈیسپوزیبل گلاس کو اتنی ذور سے پکڑا کہ اس میں سے جوس باہر گرنے لگا،،،،،،،،
لیزہ کیا کر رہی ہو،،،،،،،، ہما نے کہا کیوں کہ ٹیبل پر جوس گر چکا تھا اور لیزہ کا ہاتھ بھی خراب ہو چکا تھا
میں یہاں سے جا رہی ہوں تم میرے پیچھے مت آنا میرا موڈ بہت خراب ہے،،،،،،،،، وہ غصے سے کہتی ہوئی کھڑی ہوئی
لیزہ یار کہاں جا رہی ہو،،،،،،،،، وہ اس کے پیچھے لپکی
لیزہ کینٹین کے دروازے پر آئی تو ارحام اس کے مقابل تھا ارحام نے اس کی سرخ ہوئی نیلی آنکھوں کو دیکھا جو اسے اس وقت دنیا کی سب سے حسین آنکھیں لگ رہی تھیں،،،،،،،،،
آنکھوں کی زبان سے لیزہ نہ جانے اسے کیا کچھ کہہ رہی تھی اس کی آنکھوں میں شعلے بھڑکاتی نفرت سے ارحام کو یہ تو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ اپنے دل کی بات ابھی تک جان نہیں پائی یا شاید وہ جاننا ہی نہیں چاہتی تھی،،،،،،،،،،
ارحام ایک طرف ہوا تو لیزہ وہاں سے گزر گئی،،،،،،،،،
لیزہ میری بات سنو کہاں جا رہی ہو،،،،،،،،،، ہما اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی
یہ لیزہ کو کیا ہوا،،،،،،،، ذوہا نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا
کچھ نہیں اندر آؤ تم،،،،،،،، وہ دونوں اندر داخل ہوئے
ہما میرے پیچھے مت آؤ مجھے کچھ دیر اکیلا رہنے دو پلیز،،،،،،،، وہ چلّائی تھی آس پاس کے سٹوڈنٹس اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگے
ہما نے ان کا لیحاظ کرتے ہوئے قدم روکے اور لیزہ اوپر والے پورشن کی سیڑھیاں چڑھنے لگی،،،،،،،،
سمجھتا کیا ہے یہ خود کو مجھ سے میری ہی دوست کو چھین کے مجھے ہی چڑائے گا،،،،،،،، وہ غصے سے زیرِلب بڑبڑائی
وہ مجھے ابھی جانتا ہی نہیں ہے میں اس کا جینا حرام کر دوں گی،،،،،،،،،، وہ ایک خالی کلاس میں داخل ہوئی اور چیئر کو اٹھا کر دیوار میں پٹخا،،،،،،،،
میں لیزہ ہوں لیزہ خانزادی وہ دو ٹکے کا انسان مجھ سے جیت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فائرنگ کی آواز پر اس کی زبان کو بریک لگی،،،،،،،،
ہر طرف شور برپا ہو چکا تھا سٹوڈنٹس میں افراتفری مچ گئی سب اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے،،،،،،،،،
لیزہ کلاس روم سے باہر نکلی یونیورسٹی کے باہر دہشت گرد اپنی بندوقوں کا رخ یونی کی طرف کیے فائرنگ کر رہے تھے لیزہ کی آنکھوں کے سامنے ایک سٹوڈنٹ کو گولی لگی اور وہ چینختا چلّاتا ہوا زمین پر تڑپنے لگا اس کا خون فرش کو نہلا رہا تھا یہ خوفناک منظر دیکھ کر اس کے قدم وہیں جم گئے،،،،،،،،،



تازہ ترین خبر \*\*\*یونیورسٹی کے باہر دہشت گردوں کا حملہ بہت سے سٹوڈنٹس اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کچھ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں پولیس کو انفارم کر دیا گیا ہے والدین سے گزارش ہے کہ وہ ہمت سے کام لیں اور اپنی بچوں کے لیے دعا کریں،،،،،،،،،
پانی پیتے ہوئے ذائشہ کے ہاتھ سے گلاس چھوٹ کر چھن کی آواز سے زمین پر گرا،،،،،،،،
اس کے اوسان خطا ہو گئے تھے وہ آنکھیں پھاڑے نیوز اینکر کی طرف دیکھ رہی تھی،،،،،،،،
لی۔۔۔لیزہ۔۔۔۔۔ وہ زیرِلب بڑبڑائی اور فون کی طرف بھاگی
اس کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ تھی کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے آحل کا نمبر ملایا جو کہ دوسری بیل پر ریسیو کر لیا گیا،،،،،،،،،
آج کیسے یاد کر لیا میری بیوی نے،،،،،،،،، وہ شوخی سے بولا تھا
آ۔۔۔آحل و۔۔۔وہ ل۔۔۔لیزہ،،،،،،،، ذائشہ کی آنکھوں سے کب آنسو نکلے اسے محسوس بھی نہیں ہوا تھا
کیا ہوا لیزہ کو،،،،،،،،، اس کا موڈ ٹوٹلی چینج ہو چکا تھا
لی۔۔۔لیزہ خطرے میں ہے آ۔۔۔آحل پلیز اسے یونی سے ل۔۔۔۔لے آئیں،،،،،،،،،
ذائشہ مجھے بتاؤ ہوا کیا ہے،،،،،،، وہ پریشانی سے کھڑا ہوا
ی۔۔یونی پر حملہ ہوا ہے،،،،،،،،،
ذائشہ کی بات نے آحل کے رونگٹے کھڑے کر دیے کچھ دیر تک وہ بے یقینی کی کیفیت میں ساکت کھڑا رہا،،،،،،،،
سر \*\*\*یونیوسٹی پر ٹیررسٹس کا حملہ ہوا ہے آئی تھنک آپ کی بیٹی بھی وہیں پڑھتی ہے،،،،،،،،، آحل کا سیکریٹری بھاگا ہوا آفس روم میں داخل ہوا جسے آحل سکتے کی حالت میں کھڑا دیکھ رہا تھا
آحل جلدی جائیں،،،،،،،،، ذائشہ نے رو کر چلّاتے ہوئے کہا تو وہ ہوش میں آیا
م۔۔۔میں ابھی جا رہا ہوں کچھ نہیں ہو گا اسے تم نے پریشان نہیں ہونا،،،،،،،، نہ جانے اس کی زبان نے اس کا ساتھ کیسے دیا تھا وہ تیز قدموں سے آفس سے باہر نکلا اسے لگا اس کے قدم لڑکھڑا جائیں گے اور وہ ابھی زمین بوس ہو جائے گا
گاڑی میں بیٹھ کر اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے گاڑی سٹارٹ کی،،،،،،،،،



الائیہ ریڈی ہو کر کمرے سے باہر نکلی آریان نے اسے دیکھا اس نے بلیو پینٹ اور وائٹ شرٹ پہن رکھی تھی، ہائی ہیلز پہنے اس نے بالوں کو اونچا کر کے ربر باندھی ہوئی تھی آریان کو اسے یوں دیکھ کر اچھا نہیں لگا تھا،،،،،،،،،
الائیہ کہاں جا رہی ہو،،،،،،،،
آج سے مشن سٹارٹ ہو گیا ہے میر فارس کی پکس مل گئی ہیں،،،،،،،، اس کے چہرے پر ایکسائٹمنٹ تھی
تو تم بھی کہاں جا رہی ہو،،،،،،،،،،
دانش اور عمر کے پاس ان کے ساتھ کچھ دیر بیٹھ کر ڈسکس کروں گی پھر مل کر پلین کریں گے کہ آگے کیا کرنا ہے،،،،،،،،،،
یہ دانش اور عمر کون ہے پہلے تو کبھی تم نے ان کا ذکر نہیں کیا،،،،،،،،، وہ حیران ہوا
ہماری ٹیم تین لوگوں کی ہے میں دانش اور عمر ڈیڈ
نے ان کو میرے ساتھ ٹیم کے لیے چوز کیا ہے اور میں نے ان کا تمہیں نہیں بتایا کیوں کہ تب بتانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی،،،،،،،،
نہ جانے کیوں آریان کو اس کا اس فیلڈ میں آنا اچھا نہیں لگ رہا تھا،،،،،،،،،،
کب تک آؤ گی،،،،،،،،،،
کیا ہو گیا ہے آریان ایسے شوہروں والے سوال کیوں کر رہے ہو،،،،،،،، وہ ہنسی تھی لیکن آریان کے چہرے پر ابھی بھی سنجیدگی کے تاثرات تھے
بتایا تو ہے جب پلین کرنے میں کچھ وقت لگے گا فری ہوتے ہی آجاؤں گی،،،،،،،،،،
الائیہ کیا تم آج رک نہیں سکتی میرا بلکل دل نہیں چاہ رہا کہ تم فلحال کہیں جاؤ،،،،،،،،، وہ نرم لہجے سے بولا
نو آریان ہرگز نہیں میں نے بہت ویٹ کیا ہے اس دن کے لیے ابھی مجھے جانے سے مت روکو پلیز،،،،،،،،
آریان خاموش ہوا،،،،،،،،
اوکے بے بی میں جا رہی ہوں تم نے سیڈ نہیں ہونا اوکے،،،،،،، وہ اس کے چیکس کھینچتی ہوئی وہاں سے چل دی اور آریان سوچ میں گم ابھی تک وہیں کھڑا تھا



بیل کی آواز سن کر دانش نے دروازہ کھولا،،،،،،،،
ہائے دانش وٹس اپ،،،،،،، وہ اندر داخل ہوئی
بس تمہارے آنے کا ویٹ تھا،،،،،،،، وہ صوفے پر بیٹھا جہاں عمر پہلے سے بیٹھا ہوا تھا
الائیہ تم سے زیادہ بے مروّت لڑکی نہیں دیکھی مطلب یار حد ہو گئی انگیجمنٹ کروا لی اور انوائیٹ بھی نہیں کیا،،،،،،،،، عمر نے اسے گھوری سے نوازتے ہوئے کہا
اوہ گاڈ اب اور کتنی بار ایمبیرس کرو گے میں نے تمہیں بتایا تو تھا کہ تم دونوں کو یہاں کوئی جانتا نہیں ہے اور پاکستان ہے یہ اب میں کیا کہتی جی ان سے ملیے یہ ہیں میرے ٹیم میمبرز،،،،،،،،
جو بھی تھا تم ہو بہت کوری لڑکی،،،،،،،،، اس نے منہ بسورا
کتنی بار کہا ہے مجھ سے ایسے ورڈز نہ بولا کرو جن کا مطلب مجھے معلوم نہ ہو،،،،،،،،،،، دانش نے اس کے آگے ٹرے کی جس میں سے جوس کا گلاس الائیہ نے اٹھایا
جب تمہیں میرا خیال نہیں ہے تو میں کیوں کروں،،،،،،،،، وہ فٹ سے بولا ان دونوں کی نوک جھوک سن کر دانش مسکرا رہا تھا
عمر ہمارے پاس بات کرنے کے لیے کوئی اور ٹاپک ہے،،،،،،،، اس نے آئبرو اچکائے
بلکل ہے،،،،،،، دانش بولا
تو مشورہ دو میڈم آگے کیا کرنا ہے،،،،،،،،، عمر نے کہا
دیکھو میرے پاس آئیڈیا یہ ہے کہ میں اپنی آئ ڈینٹٹی اور لُک چینج کر کے میر فارس کے آس پاس رہوں گی وہ کہاں جاتا ہے کیا کرتا ہے ہر چیز پر ہمیں نظر رکھنی ہو گی،،،،،،،،،،
اوکے تم آئ ڈینٹٹی کونسی رکھو گی،،،،،،،،، دانش نے پوچھا
آئی تھنک فوٹو گرافر صحیح رہے گا اس طرح میں اس کی پکس لے سکتی ہوں جو کہ ہمارے پاس سولِڈ پروف کے طور پر کام آئیں گی،،،،،،،،،،،
گُڈ اور میں اور عمر کیا کریں گے،،،،،،،،
اگر عمر کسی طریقے سے میر فارس کے خاص آدمیوں میں شامل ہو جائے تو کیسا رہے گا،،،،،،،،،،
زبردست میں اس کے لیے تیار ہوں،،،،،،،،،، عمر نے کہا
اور میں میر فارس سے کانٹیکٹ کروں گا ایک اسمگلر بن کر،،،،،،،،،،
دیٹس گُڈ،،،،،،،، الائیہ نے گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
میں میر فارس سے کانٹریکٹ کروں گا کہ وہ میرا اسلحہ لنڈن پہنچائے چونکہ عمر وہاں اس کے ساتھ ہو گا تو یہ ہمیں کال کر کے بتائے گا کہ کب اور کس وقت جنک (بحری جہاز) وہاں سے روانہ کیا جائے گا،،،،،،،،،
اور جب سمندر پر وہ لوگ جنک میں اسلحہ لوڈ کریں گے تو میں خفیہ طریقے سے ان کی پکس لوں گی ساتھ ہی ہم ڈیڈ کو انفارم کر دیں گے تا کہ وہ پورے اتنظام کے ساتھ بیچ پر کھڑے ہوں اور ادھر ہم میر فارس کو ان سولِڈ پروفس کی وجہ سے رنگے ہاتھوں پکڑیں گے،،،،،،،،،، الائیہ نے چمکتی آنکھوں سے کہا
زبردست یہ پلین ایک دم چھکاس رہے گا،،،،،،،،،، عمر صوفے سے اچھلا
الائیہ نے اسے گھوری سے نوازہ،،،،،،،،
تو کیا کہتے ہیں صبح سے سٹارٹ کر دیا جائے،،،،،،،،، دانش نے کہا
اوکے ڈن اسی خوشی میں آج رات ڈنر ہم اکٹھے کریں گے،،،،،،،،، الائیہ نے خوشی سے کہا



فائرنگ کی آواز سن کر ارحام تیزی سے کھڑا ہوا،،،،،،،،،،
ارحام یہ کیا ہو رہا ہے،،،،،،،،،،، ذوہا پریشان ہونے لگی
ذوہا تم نے یہاں سے باہر نہیں نکلنا اوکے
ل۔۔۔لیکن تم کہاں جا رہے ہو،،،،،،،،،
سب سٹوڈنٹس سن لیں کوئی یہاں سے باہر نہ نکلے جب تم تم سب یہاں ہو محفوظ ہو باہر کسی کی بھی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے،،،،،،،،، وہ کھڑا ہو کر لاؤڈلی بولا
ذوہا میں ابھی آتا ہوں تم نے کہیں نہیں جانا وعدہ کرو،،،،،،،، وہ تیزی سے بولا کینٹین کے پاس ایک سٹوڈنٹ کی ٹانگ میں گولی لگی اور وہ زمین پر بیٹھا چینخنے لگا
ارحام نے اسے دیکھا اور تیزی سے اس کی طرف بھاگا،،،،،،،،،
ارحام پلیز مت جاؤ،،،،،،،،، وہ رونے لگی تھی
ارحام نے سٹوڈنٹ کو اٹھا کر کینٹین میں زمین پر بیٹھایا،،،،،،،،،،،
ارحام پلیز مت جاؤ،،،،،،،،، وہ تیزی سے اس کے پاس آئی
مجھے لیزہ کو بچانا ہے ذوہا اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے،،،،،،،،، وہ کہتا ہوا باہر بھاگا
وہ پاگلوں کی طرح ادھر ادھر لیزہ کو ڈھونڈ رہا تھا،،،،،،،،،
آدھے سے زیادہ سٹوڈنس اپنی جان بچاتے ہوئے کلاس رومز میں گھس چکے تھے ارحام کی نظر اچانک ہما پر پڑی جو خوفزدہ سی کلاس روم کی طرف بھاگ رہی تھی،،،،،،،،،،
ہماااا،،،،،،، وہ چلّاتا ہوا اس کے پیچھے بھاگا لیزہ اس کے ساتھ نہیں تھی تو وہ کہاں تھی ارحام کو اپنی جان جاتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
ایک گولی ارحام کے پاس سے گزر کر دیوار میں دھنس گئی وہ پھر بھی رکا نہیں تھا،،،،،،،،،
ہما،،،،،،،،،،، وہ کلاس روم میں داخل ہوا
ہما لیزہ کہاں ہے،،،،،،،،،،، ارحام کے چلّانے کی آواز ہما کی سماعت میں پڑی تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا
ایسی حالت میں ہما تو لیزہ کے بارے میں بھول ہی گئی تھی وہ سکتے کی حالت میں ارحام کو دیکھنے لگی،،،،،،،،،،،
بولو ہما وقت نہیں ہے ہمارے پاس،،،،،،،،،،
و۔۔۔وہ اوپر والے پورشن میں گئی تھی،،،،،،،،،، اس نے سہمی ہوئی آواز میں کہا
کیا،،،،،،،، ارحام کے ہوش اڑے کیوں کہ زیادہ تر فائرنگ اوپر والے پورشن میں ہو رہی تھی
وہ الٹے قدموں وہاں سے بھاگا تھا اس کے لیے وقت تھم سا گیا تھا اس کی سماعت میں سائے سائے کی آواز پڑ رہی تھی،،،،،،،،،
دو دو سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے وہ اوپر والے پورشن میں پہنچا جہاں لیزہ ڈری سہمی ساکت کھڑی تھی،،،،،،،،،
ارحام نے گیٹ کے پار دیکھا جہاں ان نقاب پوش لوگوں میں سے ایک کی گن کا رخ لیزہ کی طرف تھا،،،،،،،،،،،
لیزہ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھاگتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا تھا جیسے ہی وہ اس کے پاس پہنچا اس نے لیزہ کو اپنے حصار میں لیا
فائر کی آواز۔۔۔۔۔۔۔
