Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan (Episode 17)

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

ارحام نے گیٹ کے پار دیکھا جہاں ان نقاب پوش لوگوں میں سے ایک کی گن کا رخ لیزہ کی طرف تھا،،،،،،،،،،،

لیزہ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھاگتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا تھا جیسے ہی وہ اس کے پاس پہنچا اس نے لیزہ کو اپنے حصار میں لیا

فائر کی آواز۔۔۔۔۔۔۔

آ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔ ارحام کی کراہ لیزہ کے کانوں میں پڑی وہ اسے سینے سے لگائے ہوئے تھا اسے بیک سے گولی لگی تھی،،،،،،،،،،،،،

فضا میں پولیس کی گاڑیوں کی آواز گونجنے لگی اور وہ نقاب پوش لوگ گاڑیوں میں گھسے اور وہاں سے بھاگ نکلے،،،،،،،،،،

لیزہ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی وہ ساکت کھڑی ارحام کی اکھڑتی ہوئی گرم سانسوں کو اپنے کندھے پر محسوس کر رہی تھی،،،،،،،،،

اس کے بازوؤں کی گرفت ڈھیلی پڑی وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گرا اور گرتا ہی چلا گیا شاید وہ بے ہوش ہو چکا تھا،،،،،،،،،،

ارحاااااام،،،،،،، وہ چلّاتے ہوئے زمین پر بیٹھی

آحل کی گاڑی کو بریک لگی وہ تیزی سے باہر نکلا اور یونی میں داخل ہونے لگا جب ایک پولیس والے نے اس کا راستہ روک لیا،،،،،،،،،،

آپ اندر نہیں جا سکتے،،،،،،،،،

پلیز مجھے اندر جانے دیجئے میری بیٹی اندر ہے مجھے اسے دیکھنا ہے،،،،،،،،،، اس کی پیشانی سے پسینے کی بوندیں ٹپک کر اس کی کن پٹیوں پر بہہ رہی تھیں

دیکھیے ہم سمجھ سکتے ہیں لیکن آپ کو صبر کرنا ہو گا اندر اور والدین کی بھی اولاد ہے اب ہم سب کو تو اندر نہیں جانے دے سکتے کچھ دیر میں سٹوڈنٹس کو باہر بھیج دیا جائے گا آپ بس کچھ دیر صبر کریں،،،،،،،،،،،

لیکن سر پلیز جلدی کریں میں اپنی بیٹی کے لیے بہت پریشان ہوں،،،،،،،،،

آپ ہمت رکھیے اللہ خیر کرے گا آپ کی بیٹی ٹھیک ہو گی،،،،،،،، اس نے آحل کو دلاسہ دیا آحل ہاتھ مسلتا ہوا یونی کے اندر جھانکنے کی کوشش کرنے لگا کہ کہیں تو اسے لیزہ نظر آجائے

ارحاااام،،،،،،،،، وہ اس کا چہرہ تھپتھپاتی ہوئی رو رہی تھی ارحام کے خون کے اس کے ہاتھ لال ہو چکے تھے انہی ہاتھوں سے اس نے بے دھیانی میں اپنے آنسو صاف کیے جو اس کے رخساروں کو رنگ چکے تھے،،،،،،،،،،

ارحاااام آنکھیں کھولو پلیز،،،،،،،، اس کے آنسوؤں میں شدت آئی تھی

م۔۔۔مجھ سے وعدہ کرو تم ک۔۔۔کہیں نہیں جاؤ **گے مجھے چھوڑ کر،،،،،،،،** وہ ہچکیوں سے رونے لگی تھی

اس کی سماعت میں کچھ لوگوں کے قدموں کی آوازیں پڑیں وہ آئے اور ارحام کو اٹھانے لگے لیزہ نے ان کی طرف دیکھا وہ ایمبولینس کے کارکن تھے،،،،،،،،،،

ایک ایک کر کے زخمی سٹوڈنٹس کو سٹرکچر پر لیٹائے باہر لایا جا رہا تھا انہیں دیکھ دیکھ کر آحل کا دل بند ہو رہا تھا وہ دل ہی دل میں لیزہ کے ٹھیک ہونے کی اللہ سے فریادیں کر رہا تھا،،،،،،،،،

اس کے سامنے سٹوڈنٹس کو سٹرکچر پر لیٹائے ایمبولینس میں ڈالا جا رہا تھا ان کے لہو لہان کپڑے دیکھ دیکھ کر آحِل کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہو رہیں تھی،،،،،،،،،

یا اللہ میری بچی ٹھیک ہو،،،،،،،، اس نے پریشانی سے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا

ارحام کو اٹھائے وہ لوگ نیچے لے آئے لیزہ بھی روتی ہوئی ان کے ساتھ ہی چل رہی تھی ذوہا کی نظر ارحام پر پڑی جسے اب وہ سٹرکچر پر لیٹا رہے تھے اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا،،،،،،،،،،

ارحام،،،،،،، وہ زیرِلب اس کا نام پکارتی ہوئی اس کی طرف بھاگی ہما بھی کلاس روم سے باہر نکل آئی تھی اس نے بھی ارحام اور لیزہ کو دیکھ لیا تھا

وہ لوگ سے ارحام کو لے جارہے تھے لیزہ رکی نہیں تھی وہ ان کے ساتھ تیز تیز قدموں سے چلتی رہی اس کی نظریں ابھی تک اسی پر ٹکی تھیں،،،،،،،،،،

یونی کا مین گیٹ کھول کر ایک ایک کر کے سٹوڈنٹس کو بھی باہر نکالا جانے لگا تا کہ زیادہ رش نہ پڑے اور نہ ہی سٹوڈنٹس کے والدین کو انتظار کروایا جائے،،،،،،،،،

لیزہ مین گیٹ سے باہر نکلی باہر نکلتے ہی وہ ارحام کی طرف بڑھی آحل نے جیسے ہی لیزہ کو دیکھا اس کے ہوش اڑے کیوں کہ اس کا چہرہ خون آلود تھا،،،،،،،،،،،

لیزہ۔۔۔۔۔۔ وہ بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا

پاپا،،،،،،،، وہ اپنے باپ کے سینے سے لگے بے تحاشہ روئی تھی

میری بچی تم ٹھیک ہو،،،،،،،، آحل اسے کندھوں سے پکڑے اوپر سے نیچے تک دیکھنے لگا

پ۔۔۔پاپا میں ٹھیک ہوں و۔۔۔وہ ارحام،،،،،،،، اس کے رونے میں شدت آئی

لیزہ کیا ہوا ہے ارحام کو ضرور تمہاری وجہ سے وہ اس حالت میں ہے،،،،،،،،،،، ذوہا آتے ہی لیزہ پر چلّائی

لیزہ منہ پہ دونوں ہاتھ رکھے رونے لگی،،،،،،،،،،

کون ہے ارحام،،،،،،،، آحِل نے ذوہا سے پوچھا

آج آپ کی بیٹی کی جان بچانے والا لڑکا ہے ارحام،،،،،،،، ذوہا نے لیزہ کو جتانے والے انداز میں دیکھا

پ۔۔۔۔پاپا پلیز ہوسپٹل چلیں مجھ۔۔۔۔۔مجھے اس کے پاس جانا ہے،،،،،،،، وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے بولی

آحِل حیرت سے اسے دیکھنے لگا ارحام کا ذکر لیزہ نے کبھی بھی گھر میں نہیں کیا تھا،،،،،،،،،

پلیز چلیں پاپا،،،،،،، ایمبولینس جا چکی تھی آحل گاڑی میں بیٹھا لیزہ بھی ساتھ بیٹھی گاڑی سٹارٹ کیے وہ وہاں سے نکل گئے

ذوہا کیا ہوا ارحام کو اسے گولی لگی ہے کیا،،،،،،،،، اپنی باری آنے پر گیٹ سے نکلتے ہی وہ ذوہا کی طرف لپکی تھی،،،،،،،،

ہاں میں ہوسپٹل جا رہی ہوں تمہیں جانا ہے تو چلو میرے ساتھ،،،،،،،

مجھے جانا ہے،،،،،،، ہما نے فوراً کہا وہ دونوں گاڑی میں بیٹھیں اور ہوسپٹل کا رخ کیا

🔥
🔥
🔥

ارحام کو ایمرجنسی روم میں داخل کیا گیا تھا لیزہ اور آحل روم کے باہر کھڑے تھے لیزہ رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی،،،،،،،،،،

آحِل کا فون رنگ ہونے پر اس نے موبائل نکال کر دیکھا،،،،،،،،،

آحِل کیسی ہے لیزہ اسے کچھ ہوا تو نہیں نا پلیز جلدی بتائیں میری جان نکل رہی ہے،،،،،،،،، وہ تیزی سے بولتی چلی گئی

لیزہ ٹھیک ہے ذائشہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے،،،،،،،،،

یا اللہ تیرا شکر ہے۔۔۔۔۔۔۔ ذائشہ نے اپنے آنسو صاف کیے

آحل میری اس سے بات کروائیں ابھی،،،،،،،،،

لیزہ یہ لو اپنی ماما سے بات کرو وہ صبح سے بہت پریشان ہے تمہارے لیے،،،،،،،،،، لیزہ نے موبائل پکڑا

ہیلو ماما،،،،،،،،

لیزہ میری بیٹی کیسی ہو تم تمہیں کچھ ہوا تو نہیں نا،،،،،،،،،،،،

نہیں ماما میں ٹھیک ہوں،،،،،،،،، اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

تم رو رہی ہو کیا بتاؤ کیا ہوا ہے،،،،،،،،،،

و۔۔۔وہ ماما ارحام ایمرجنسی روم میں ہے،،،،،،،،، وہ پھر سے شدت سے روئی

کون ارحام،،،،،،،،، ذائشہ حیران ہوئی

م۔۔۔ماما اگر وہ نہ ہوتا تو آج آپ کی بیٹی آپ سے بہت دور جا چکی ہوتی،،،،،،،،

کیا،،،،،،،، ذائشہ کا جسم ساکت ہوا

اپنے پاپا کو موبائل دو ابھی،،،،،،،،

لیزہ نے آحل کو موبائل دیا،،،،،،،،

آحل مجھے بتائیں کونسا ہوسپٹل ہے مجھے آنا ہے،،،،،،،،

ذائشہ تم کیا کرو گی یہاں آکر میں لیزہ کو گھر بھیج دیتا ہوں،،،،،،،،

نہیں پاپا میں گھر نہیں جاؤں گی،،،،،،،،

آحل مجھے وہاں آنا ہے مجھے دیکھنا ہے آخر وہ کون ہے جس نے میری بیٹی کے لیے اپنی جان کی بھی فکر نہ کی،،،،،،،،،

ٹھیک ہے تم ڈرائیور سے کہو تمہیں \*\*\*ہوسپٹل چھوڑ دے،،،،،،،،

جی میں ابھی آرہی ہوں،،،،،،، کال ڈسکنیکٹ ہوئی

🔥
🔥
🔥

الائیہ نے ڈنر دانش اور عمر کے ساتھ کیا تھا رات نو بجے وہ گھر آئی،،،،،،،،

آریان گھر کے اندرونی دروازے پر کھڑا اسی کا انتظار کر رہا تھا اس کی گاڑی اندر داخل ہوتے ہی وہ سیدھا کھڑا ہوا،،،،،،،،،،،

کہاں تھی تم،،،،،،،،، جیسے ہی وہ گاڑی سے نکلی آریان اس کے مقابل آیا

تمہیں بتایا تو تھا دانش اور عمر کے ساتھ میٹنگ کرنی ہے،،،،،،،،،،،

میٹنگ پہ اتنی دیر لگتی ہے تم صبح سے غائب ہو،،،،،،،،،، اس کا لہجہ سخت ہوا

کیا ہو گیا ہے آریان یہ میری جاب ہے یہاں زیادہ ہو یا کم وقت تو لگتا ہے نا،،،،،،،،، اسے آریان کا یہ لہجہ بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا

الائیہ کیا شادی کے بعد بھی یہی سب کچھ چلے گا کیا ایسے ہی میں روز گھر کے دروازے پہ کھڑا تمہارا انتظار کیا کروں گا،،،،،،،،، وہ آئبرو اچکاتا پوچھنے لگا

آریان تم سے پہلے یہ بات طے ہو چکی ہے میں یہ جاب نہیں چھوڑوں گی چاہے جو بھی ہو جائے،،،،،،،،

تمہیں مجھ سے محبت ہے یا اپنی جاب سے،،،،،،،،،

اوہ کم آن آریان وٹ از دس نونسینس،،،،،،،

الائیہ یہ نونسینس نہیں ہے یہ فکر جو مجھے ہمارے رشتے کے لیے ہو رہی ہے،،،،،،،،،،،

آریان میں بہت تھک چکی ہوں پلیز فلحال میں اس ٹاپک پہ بات نہیں کرنا چاہتی،،،،،،،،،، وہ اندر کو جانے لگی

تم میری بات کا جواب دیے بغیر نہیں جا سکتی،،،،،،،،، آریان نے اس کا بازو تھاما

آریان لیو مائے ہینڈ میں کہہ رہی ہوں نا صبح بات کریں گے،،،،،،،،، اس کا لہجہ تلخ ہوا

آریان حیرت سے اسے دیکھنے لگا کیا اس کی زندگی یوں ہی گزرنے والی تھی اس سوچ نے اسے پریشان کر دیا تھا اس نے الائیہ کا بازو چھوڑا اور وہ اندر کو بڑھ گئی،،،،،،،،،

رات دیر تک وہ لان میں ٹہلتے ہوئے سگریٹس پیتا رہا ماہاویرا روم کی ونڈو اوپن کرنے لگی جب اس کی نظر آریان پر پڑی اسے یوں پہلی بار سگریٹ پیتا دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی،،،،،،،،،،

آریان،،،،،،، لان میں آکر اس نے پکارا

آریان نے اس کی آواز سنتے ہی اگریٹ نیچے پھینک پر پاؤں سے مسلی اور اس کی طرف رخ کیے کھڑا ہوا،،،،،،،،،،

تم ٹھیک ہو کوئی مسئلہ ہے کیا،،،،،،،،،، وہ اس کے پاس آئی

نہیں موم کوئی مسئلہ نہیں ہے،،،،،،،، وہ نڈھال سا بولا

آج پہلی بار تم نے سگریٹ پی ہے کیا میں صحیح سوچ رہی ہوں،،،،،،،،،

آریان نے سر جھکایا،،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

آج کا دن کافی بیزی تھا اس لیے ہاف ایپی دی ہے اچھا سا ریسپانس دے کر دل خوش کر دیں♥️🙈#دیوانہ_پن🔥

#تحریر_مرحا_کنول

#Episode_17 (part 2)

Don’t copy paste without my permission 🚫🚫🚫🚫

ذائشہ نے آتے ہی لیزہ کو گلے سے لگایا ہما اور ذوہا بھی وہاں پہنچ چکی تھیں،،،،،،،،،،،

میری بچی تم ٹھیک ہو نا،،،،،،،،

میں ٹھیک ہوں ماما،،،،،،، وہ ان کے حصار میں سکون محسوس کرنے لگی

آپ کی بیٹی تو ٹھیک ہے لیکن اس کی وجہ سے جو شخص ہوسپٹل کے بستر پر پڑا ہے وہ نہیں ٹھیک،،،،،، ذوہا نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا

لیزہ کی نظروں جھکیں ذائشہ اس کے لہجے پر حیران ہوئی،،،،،،،،

اس نے نیکی کی ہے بیٹا اللہ اس کا اجر ضائع نہیں کرے گا وہ ضرور ٹھیک ہو گا،،،،،،، ذائشہ نے اسے سمجھایا

ٹھیک ہو بھی گیا تو آپ کی بیٹی نے اسے جینے پھر بھی نہیں دینا کیوں کہ اس نے قسم جو کھا رکھی ہے اس کا جینا حرام کرنے کی،،،،، ذائشہ ذوہا سے کئی بار مل چکی تھی لیکن آج اسے وہ ذوہا پہلے والی مہذب اور تمیز دار ذوہا نہیں لگ رہی تھی

ذوہا کیا ہو گیا ہے چپ کرو آنٹی کے سامنے ایسی باتیں کیوں کر رہی ہو،،،،،،، ہما نے اسے ٹوکا

کیوں نہ کروں انہیں بھی تو پتہ چلے ان کی بیٹی کیا کرتی پھرتی ہے،،،،،،، وہ پھر سے منہ ذور ہوئی

لیزہ کے آنسو پھر سے بہنے لگے وہ جو کچھ کہہ رہی تھی سچ ہی تو کہہ رہی تھی اس نے واقع ہی ارحام کے ساتھ بہت کچھ غلط کیا تھا اور نہ جانے کیا کچھ کرنا تھا،،،،،،،،

لیزہ میری بچی مت رو سب ٹھیک ہو جائے گا،،،،،،، ذائشہ نے اسے تسلی دی

رات ہو چکی تھی ڈاکٹر کمرے سے باہر نکلا تو سب سے پہلے لیزہ کھڑی ہوئی پھر باقیوں نے بھی وہی عمل دوہرایا،،،،،،،

اس سے پہلے کی کوئی کچھ بولتا ذوہا ڈاکٹر کی طرف بڑھی جب ڈاکٹر بولا۔۔۔۔۔ آپ میں سے لیزہ کون ہے،،،،،،،

ج۔۔جی میں،،،،،،، اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا

پیشینٹ اب خطرے کی حالت سے باہر ہیں ان کے کندھے پر گولی لگی تھی اور وہ بار بار آپ کا نام لے رہا ہے آپ ان سے مل لیجیے باقی سب ان سے کل صبح مل سکتے ہیں ابھی ان کے لیے زیادہ لوگوں سے ملنا مناسب نہیں،،،،،،،

سب نے اللہ کا شکر ادا کیا اب خطرے کی کوئی بات نہیں تھی لیکن ایک دل جو ابھی تک اتنا ہی پریشان تھا اور وہ تھی ذوہا کیوں کہ ارحام کو ایسی حالت میں پہنچانے والی لیزہ تھی پھر بھی وہ ہوش میں آتے ہی اسے پکار رہا تھا یہ بات نہ جانے کیوں ذوہا کے دل کو بھائی نہ تھی،،،،،،،،،،

جاؤ بیٹا اندر جاؤ اس سے مل لو،،،،،،،، ذائشہ نے کہا

وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اندر بڑھ گئی،،،،،،،،

آحل ریسیپشن سے آیا تو فوراً ارحام کا پوچھا کیوں کہ ریڈ لائٹ اب گرین ہو چکی تھی،،،،،،،،

وہ اب خطرے سے باہر ہے اس نے لیزہ کو بلایا ہے وہ اندر گئی ہے،،،،،،،،، ذائشہ نے بتایا

آحِل تھوڑا پریشان تھا یہ ارحام کون تھا اور لیزہ نے کبھی اس کا ذکر کیوں نہیں کیا آج وہ لیزہ کے لیے اپنی جان پر کھیل گیا تھا اور وہ بھی اس کے لیے رو رو کر ہلکان ہوئی تھی،،،،،،،،

ایشا کو کال کر کے بتا دینا تھا کہیں پریشان نہ ہو رہی ہو،،،،،،،،، ذائشہ نے کہا

کافی دیر پہلے ہی بتا دیا تھا لیکن پوری بات نہیں بتائی ورنہ ضرور پریشان ہوتی،،،،،،،، آحل نے کہہ کر سر جھکایا

🔥
🔥
🔥

آریان سب ٹھیک تو ہے مجھے کچھ غلط ہونے کا احساس ہو رہا ہے،،،،،،، ماہاویرا نے جانچتی نظروں سے دیکھا

موم وہ الائیہ،،،،،،،، وہ خاموش ہوا

کیا ہوا الائیہ کو،،،،،،،، وہ پریشان ہوئی

اسے کچھ نہیں ہوا موم وہ تو اپنی لائف انجوائے کر رہی ہے غیر لڑکوں کے ساتھ،،،،،،،، اس کی بات سن کر ماہاویرا کو حیرت کا جھٹکا لگا

کیا مطلب ہے تمہارا غیر لڑکوں کے ساتھ،،،،،،

تو اور کیا موم اس کے ٹیم پارٹنر یہاں اسلام آباد میں ہی ہوٹل میں رکے ہوئے ہیں اور اس نے آج تک مجھے کیا آپ کو بھی نہیں بتایا تھا،،،،،،،،، وہ تلخ لہجے میں بولا

جب اس نے یہ فیلڈ جوائن کی ہے اس میں ٹیم تو بنے گی چاہے اس میں میلز ہوں یا فی میلز،،،،،،،،

موم آپ اس کی سائیڈ لے رہی ہیں وہ صبح گیارہ بجے گھر سے نکلی تھی اور اب نو بجے گھر آرہی ہے اسے میری فکر تک نہیں ہے،،،،،،،،،،

آریان ٹھیک ہے میں اسے سمجھاؤں گی کہ جتنا ہو سکے وہ کم وقت لگائے باہر لیکن تم بھی کچھ زیادہ پوزیسو ہو رہے ہو،،،،،،،،،،،

کیا میں پوزیسو ہو رہا ہوں۔۔۔؟ موم میں اس کا ہونے والا شوہر ہوں کل کو وہ اسی طرح گھر سے سارا سارا دن غائب رہی تو کیا مجھے اچھا لگے گا،،،،،،،،،

دیکھو آریان تم بھی اپنی جگہ ٹھیک ہو اور وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے تم نے اسے اس کے کام کے ساتھ قبول کیا ہے تو اب ایشو کریٹ مت کرو،،،،،،،،،،

آپ فلحال مجھے اکیلا چھوڑ دیں آپ مجھے نہیں سمجھ پائیں گی،،،،،،،،،،، وہ چیئر پر بیٹھا

ٹھیک ہے میں تمہیں اکیلا چھوڑ دیتی ہوں لیکن یہ جو تم کر رہے ہو آئندہ تمہیں کرتا نہ دیکھوں میں،،،،،،،،،، اس نے غصے سے کہا اور ٹیبل پر پڑے سگریٹ کے پیکٹ اور لیٹر کو اٹھایا

آریان نے سر پکڑتے ہوئے ماہاویرا کی پشت کو دیکھا اب اس کے پاس سگریٹ بھی نہیں تھی جس سے وہ کچھ دیر تک سکون حاصل کرتا،،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

وہ کمرے میں داخل ہوئی ارحام بستر پر آنکھیں موندے لیٹا تھا لیزہ بے آواز قدموں سے اس کے پاس آکر کھڑی ہوئی،،،،،،،،،،

اسے دیکھ کر لیزہ کے آنسو رخساروں پر پھسلنے لگے اس نے اپنی سسکی کو دبانے کی ناکام کوشش کی جب ارحام نے آنکھیں کھولیں،،،،،،،،،،

ل۔۔۔۔لیزہ،،،،،،، وہ سرگوشی میں بولا

لیزہ نے جلدی سے آنکھوں پر انگلیاں رگڑیں اور چہرے پر سنجیدگی کے اثرات واضح کیے،،،،،،،،،،

چھوڑ دو یہ ایکٹنگ،،،،،،،، اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ رونما ہوئی

ک۔۔۔کیا مطلب،،،،،،،،، وہ حیران ہوئی

لیزہ،،،،،،،، اس نے پھر سے پکارا

کہو،،،،،،،،،، وہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی اس کی سرخ آنکھیں اور چہرے پہ جمے آنسوؤں کی وجہ وہ بخوبی جانتا تھا،،،،،،،،،،

ڈو یو لوّ می،،،،،،،،،، وہ آہستگی سے بولا لیزہ کے چہرے کا رنگ فق ہوا وہ یہ کیا کہہ رہا تھا

جواب دو لیزہ،،،،،،،،،

ک۔۔۔کیا پوچھ رہے ہو ارحام ایسا کچھ نہیں ہے،،،،،،،،، وہ خود نہیں جانتی تھی یہ محبت ہے بھی یا نہیں

اپنے دل سے پوچھو جو صبح سے میرے لیے پریشان ہے،،،،،،،،،، اس کے ہونٹ مسکرائے

تم نے مجھے بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی میں اس لیے پریشان تھی،،،،،،،،،،

تمہیں مجھ سے م۔۔۔محبت ہے لیزہ،،،،،،،،،،

مجھے لگتا ہے مجھے جانا چاہیے،،،،،،،،، وہ مڑی

اپنی ان آنکھوں سے پوچھو جو صبح سے میرے لیے رو رہی ہیں،،،،،،،

تمہارا چہرہ بتاتا ہے تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا،،،،،،،،

لیزہ نے واقع ہی صبح سے کچھ نہیں کھایا پیا تھا آحل نے کئی بار اسے کھانا کھانے کا کہا لیکن وہ انکار کر دیتی تھی اسے بس ارحام کی فکر تھی،،،،،،،،،،

وہ قدم اٹھاتی دروازے کی طرف بڑھی جب ارحام کی آواز اس کی سماعت میں پڑی

دیکھنا کہیں دیر نہ ہو جائے،،،،،،،،،،

دروازہ کھولے وہ باہر نکل آئی،،،،،،،

ذوہا جا چکی تھی ہما بھی ارحام کے خطرے سے باہر ہونے کے بعد گھر کا رخ کیا کیوں کہ ڈاکٹر نے ان سب کو فلحال ملنے کی اجازت نہیں دی تھی،،،،،،،

کیسا ہے وہ،،،،،،، ذائشہ نے پوچھا

جی ٹھیک ہے،،،،،،،، وہ خاموش ہوئی

باہر ڈرائیور کھڑا ہے تم دونوں گھر جاؤ ایشا پریشان ہو رہی ہو گی اور میں آج رات یہیں رکوں گا،،،،،،،

ارحام کے گھر والوں کو انفارم نہیں کیا،،،،،،،، ذائشہ نے پوچھا

اس کے گھر میں کوئی نہیں ہے وہ اکیلا ہے،،،،،،،، آحل کو ہما نے بتایا تھا جب آحل نے اس سے ارحام کے گھر والوں کو انفارم کرنے کی بات کی تھی

ذائشہ حیران ہوئی مگر کچھ کہا نہیں،،،،،،،،،

ٹھیک ہے ہم چلتے ہیں آپ اپنا خیال رکھیے گا ،،،،،،،،، ذائشہ نے کہا اور لیزہ کو لیے وہاں سے چل دی

🔥
🔥
🔥

گھر پہنچتے ہی ایشا بھاگتے ہوئے ذائشہ سے لپٹی،،،،،،،،

ماما کہاں تھے آپ سب آپ کو پتہ میں کتنی پریشان ہو رہی تھی،،،،،،،،، اس نے منہ بسورتے ہوئے کہا

لیزہ مردہ قدموں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی ایشا کو اسے یوں دیکھ کر حیرت ہوئی،،،،،،،

ماما آپی کو کیا ہوا،،،،،،،،،، اس کا بگڑا ہوا حلیہ ایشا نے پہلی بار دیکھا تھا

کچھ نہیں ایشا تم نے کھانا کھایا،،،،،،،،،،،

ایشا نے نفی میں سر ہلایا،،،،،،،،،

میں فریش ہو کر آتی ہوں پھر کھانا کھاتے ہیں ٹھیک ہے،،،،،،،،،

ٹھیک ہے ماما،،،،،،،،،

لیزہ فریش ہو کر آجاؤ کھانا کھائے بنا نہیں سونا صبح سے کچھ نہیں کھایا تم نے،،،،،،،،،، لیزہ اپنے روم کے دروازے تک پہنچی جب اسے ذائشہ کی آواز سنائی دی

دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی اور واش روم میں گھس گئی،،،،،،،،،،،

مرر میں اس نے خود کو اس کے رخساروں پر ارحام کے خون کے نشانات اس کے آنسوؤں کی وجہ سے پھیکے دکھائی دے رہے تھے،،،،،،،،

“اپنی ان آنکھوں سے پوچھو جو صبح سے میرے لیے رو رہی ہیں”

اس نے اپنی آنکھوں کو دیکھا جو مسلسل رونے کے باعث سرخ ہو چکی تھیں،،،،،،،،،

اس نے ٹوٹی کھولتے ہوئے پانی کو مٹھی میں بھر کر چہرے پر پھینکا،،،،،،،،،،،

اس نے شاور آن کیا اور اس کے نیچے کھڑی ہوئی اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسو پانی کے ساتھ بہہ رہے تھے،،،،،،،،،،،

“تمہیں مجھ سے محبت سے لیزہ”

ارحام کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی،،،،،،،،،

اس کے رونے میں شدت آئی اس کا پورا جسم پانی سے بھیگ چکا تھا وہ زمین پر بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی آج اسے واقع ہی میں معلوم ہو گیا تھا کہ اسے ارحام سے محبت ہے،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *