Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 19)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
گائیز میں اب جا رہی ہوں تو کل ملتے ہیں،،،،،،، وہ انہیں بائے کہتی ہوئی آریان کی طرف بڑھنے لگی
آریان نے اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر گاڑی سٹارٹ کی الائیہ بھی گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی اس کے پیچھے لگائی،،،،،،،
وہ گاڑی کی سپیڈ بڑھا چکا تھا الائیہ نے موبائل اٹھا کر اسے کال ملائی،،،،،،،،،،
آریان نے موبائل سکرین پر اس کا نام دیکھ کر کال ڈسکنیکٹ کی اور موبائل سوچ آف کر دیا،،،،،،،،،،
آریان پلیز سٹاب دا کار،،،،،،،،،،، اس نے فاسٹ ڈرائیو کرتے ہوئے زیرِلب کہا
آریان کو اس وقت بے حد غصہ آ رہا تھا وہ اس کی محبت اس کی ہونے والی بیوی تھی وہ اسے غیروں کے ساتھ کیسے برداشت کر سکتا تھا،،،،،،،،،،،
اب وہ دونوں خالی سڑک پر آچکے تھے الائیہ نے فل سپیڈ کی اور گاڑی آریان کی گاڑی کے آگے لے آئی،،،،،،،،،
ایک جھٹکے سے آریان کی گاڑی کو بریک لگی سٹیرنگ پر اس کی گرفت سخت ہو چکی تھی،،،،،،،،،
وہ باہر نکل کر تیز قدموں سے اس کی طرف بڑھی،،،،،،،،
آریان آریان پلیز باہر آو مجھے تم سے بات کرنی ہے،،،،،،،، وہ ونڈو کا شیشہ کھٹکھٹا رہی تھی
آریان نے دروازہ کھولا اور باہر نکلا،،،،،،،،،
کیا بات کرنی ہے تمہیں مجھ سے الائیہ،،،،،،،،، وہ ہاتھ باندھتا ہوا اس کے مقابل کھڑ ہوا
آریان تم غلط سمجھ رہے ہو اٹس مائے جاب یہ سب چلتا رہے گا تو کیا تم ایسے ہی مجھ سے خفا رہو گے،،،،،،،،،،
یہ تمہاری جاب نہیں ہے الائیہ یہ مشن پورا ہو جاتا ہے تو پھر تمہیں اس فیلڈ میں آنا ہے ابھی یہ جاب نہیں چوائس ہے تم چاہو تو اسے چوز کر سکتی ہو چاہو تو ریجیکٹ کر سکتی ہو،،،،،،،،،،
آریان میرے لیے میری جاب اس مشن سے ہی سٹارٹ ہو رہی ہے اور تمہیں اب اعتراض کیوں ہے حالانکہ ہماری اس ٹاپک پر پہلے بات ہو چکی ہے اور میں اسے ریجیکٹ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی بہتر ہے تم بھی اپنے مائنڈ سے یہ بات نکال دو،،،،،،،،،
نہیں معلوم تھا کہ مجھے تمہیں غیر مردوں کے ساتھ دیکھنا پڑے گا میں یہ برداشت نہیں کر سکتا الائیہ پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کرو محبت کرتا ہوں تم سے،،،،،،،،،، وہ اسے کندھوں سے پکڑتا ہوا جھنجھوڑ کر بولا
کتنے دن ہو گئے تم نے ایک بار بھی نوٹ نہیں کیا میں اب پہلے کی طرح ہنستا نہیں ہوں پہلے کی طرح بولتا نہیں ہوں کتنا بدلاؤ آ گیا ہے مجھ میں صرف تمہارے اگنورینس کی وجہ سے،،،،،،،،،
الائیہ نے پریشانی سے اپنے ماتھے پہ ہاتھ رکھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اب کیا کرے اور کیا نہ کرے ایک طرف آریان تھا اس کی محبت دوسری طرف اس کا جنون تھا اس کی جاب،،،،،،،،،
آریان صرف تم ہی مجھ سے پیار نہیں کرتے مجھے بھی تم سے محبت ہے اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہاری خوشی کا خیال رکھوں تو میں بھی چاہتی ہوں کہ تم میری خوشی کا خیال رکھو،،،،،،،،، اس نے اسے سمجھانا چاہا
تو کیا ہے تمہاری خوشی الائیہ کیا میں تمہاری خوشی نہیں،،،،،،،،،،، وہ خاموش ہوا
آریان۔۔۔۔۔۔ الائیہ کی سمجھ سے اب سب باہر ہو چکا تھا
کیوں نہیں سمجھتی تم میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ تم غیر لڑکوں کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا بند کرو اس فیلڈ میں اور لڑکیاں بھی تو ہیں انہیں اپنی ٹیم میں شامل کرو،،،،،،،،، اب کی بار اس کا لہجہ نرم تھا
مشن کمپلیٹ کرنے کے لیے مرد عورت دونوں کی ہی ضرورت ہوتی ہے کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جس کے لیے عورت کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جس کے لیے مرد چاہیے تم بھی مجھے سمجھنے کی کوشش کرو آریان،،،،،،،،
اس کا مطلب تمہیں میری تکلیف میرا تڑپنا دکھائی نہیں دیتا تمہیں صرف اور صرف اپنے مشن سے مطلب ہے اپنی جاب سے مطلب ہے مجھے افسوس ہے کہ میں تم سے محبت کرنے سے پہلے تمہیں سمجھ نہ سکا،،،،،،،،،، وہ اس سے دور ہوتا گاڑی میں بیٹھا وہ ساکت کھڑی اسے دیکھ رہی تھی
آریان،،،،،،،،، اس نے زیرِلب اسے پکارا اسے جاتا دیکھ کر ایک آنسو اس کی آنکھ سے نکل کر رخسار پر پھسلا تھا



نیکسٹ ڈے لیزہ کی آنکھ معمول سے پہلے کھل گئی تھی اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑے کلاک پر ٹائم دیکھا تو صبح کے چھ بج رہے تھے،،،،،،،،،،،
وہ جمائی لیتی ہوئی اٹھی اور کھڑکی کے کرٹینز پیچھے کیے،،،،،،،،،،،
ارحام چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا چہل قدمی کر رہا تھا صبح کی ٹھنڈی اور تیز ہوا نے اس کے بال بکھیر رکھے تھے لیزہ کا دل چاہا وہ یوں ہی اسے دیکھتی رہے،،،،،،،،،،
خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرتے ہوئے ارحام نے ادھر ادھر دیکھا جہاں لیزہ اپنے کمرے کی کھڑکی میں موجود اسے تکتی ہوئی دکھائی دی،،،،،،،،،،
نظریں مل جانے پر وہ تیزی سے پیچھے مڑی اور کھڑکی بند کر گئی،،،،،،،،،،
الٹے قدموں سے وہ بیڈ پر بیٹھی یہ احساس اس کے لیے بلکل نیا تھا اس سے پہلے اس نے کسی کے لیے بھی ایسا محسوس نہیں کیا تھا اس نے آنکھیں بند کیں اور اپنے دھڑکتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھا،،،،،،،،،،
ارحام چیئر پر بیٹھا مسکرانے لگا اس کے صبر کا پھل اس کی محبت اسے مل چکی تھی،،،،،،،،،،،
ناشتے کے بعد ذائشہ لیزہ کے روم میں آئی آج سیچرڈے تھا اس وجہ سے یونی سے بھی چھٹی تھی،،،،،،،،،،،
لیزہ کیا کر رہی ہو،،،،،،،،،،، وہ نہایت نرمی سے بولی
کچھ نہیں ماما فری ہی ہوں آپ آئیے،،،،،،،،، اس نے ہاتھ میں پکڑی بک سائیڈ پر رکھی
ذائشہ اس کے قریب آکر بیٹھی لیزہ لی فل توجہ اس پر تھی،،،،،،،،،،
مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے،،،،،،،،،
جی ماما کریے کیا بات ہے،،،،،،،، اس کو تجسس ہوا
بیٹا ماں باپ اپنے بچوں کی بہت سی ایسی باتیں جان جاتے ہیں جو انہوں نے ابھی تک کہی بھی نہیں ہوتیں،،،،،،،،،،
پرسوں جس طرح تم ارحام کے لیے پریشان تھی اس سے مجھے لگا کہ تم ارحام سے۔۔۔۔۔۔ وہ خاموش ہوئیں
تم سمجھ رہی ہو نا لیزہ،،،،،،،،
ج۔۔۔جی ماما،،،،،،، لیزہ کے ہاتھ بھیگنے لگے
دیکھو بیٹا ہم نے تم پر کبھی کوئی بات زبردستی مسلط نہیں کی اور خاص طور پر زندگی کے ہمسفر کے معاملے میں تو کبھی بھی نہیں کریں گے تمہیں پورا پورا حق ہے کہ تم اپنی مرضی کا اظہار کرو اس بات کی اجازت اسلام بھی دیتا ہے،،،،،،،،،،،
م۔۔۔ماما آپ کیا کہہ رہی ہیں زندگی کا ہمسفر،،،،،،،
لیزہ مجھے اور تمہارے پاپا کو لگتا ہے کہ ارحام سے بہتر تمہارے لیے اور کوئی نہیں ہو سکتا سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو،،،،،،،،،،،
لیزہ حیرت سے ان کی باتیں سن رہی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا اس کی ماما اچانک اس ٹاپک پر بات کر رہی ہیں،،،،،،،،
اور دوسرا یہ کہ ارحام بہت اچھا سلجھا ہوا لڑکا ہے،،،،،،،،،
ماما کیا آپ کو معلوم ہے ارحام کا اس دنیا میں کوئی نہیں،،،،،،،،،
لیزہ نے جان بوجھ کر کہا کیوں کہ وہ ایک امیر گھرانے سے تھی اور ارحام کے پاس کچھ نہ تھا،،،،،،،،،
ہم جانتے ہیں بیٹا وہ اچھا پڑھ رہا ہے اسے جاب بھی اچھی ملے گی سب مسئلے حل ہو جائیں گے بس تم مجھے یہ بتاؤ کہ تمہیں ہمسفر کے طور پر وہ قبول ہے،،،،،،،،
لیزہ نے شرم سے نظریں جھکائیں،،،،،،،،،،
تو میں تمہارا جواب ہاں سمجھوں،،،،،،،، ذائشہ مسکرائی
لیکن ماما ارحام سے پوچھا آپ نے،،،،،،،،،
تمہارے پاپا نے پوچھ لیا ہے،،،،،،،،،
کیا کب پوچھا اور کیا کہا اس نے،،،،،،،،
اس نے کیا کہنا وہ تو شکرانے کے نفل پڑھے گا اس کے دل کی مراد جو پوری ہو رہی ہے،،،،،،،،، وہ ہنسی
ماما تھینک یو،،،،،،،،، وہ اس کے گلے لگی
ہمیشہ خوش رہو میری بچی،،،،،،،،، ذائشہ نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا



عمر اسی جگہ پر پہنچ گیا تھا جہاں کل اسے لایا گیا تھا،،،،،،،،،
ایک آدمی اسے اندر لے کر آیا اور فارس کو کال ملائی،،،،،،،
فارس اپنے روم میں بیٹھا تھا جب اس کا فون رنگ ہوا،،،،،،،،
ہیلو باس وہ چھوٹا آگیا ہے،،،،،،،
اس سے گنز صاف کرواؤ اور ہاں اس پر نظر رکھنا تمہارا کام ہے اسے چیک کرنا ہے کہیں اس کے پیچھے کوئی سازش نہ ہو،،،،،،،،،
اوکے باس آپ نے فکر ہو جائیں میں اس پر کڑی نظر رکھوں گا،،،،،،،،،
اوکے،،،،،،، اس نے کال ڈسکنیکٹ کی
بھائی مجھے باہر جانا ہے گھر میں رہ رہ کر تھک چکی ہوں،،،،،،،، ایرہ فارس کے کمرے میں آئی
کیوں نہیں میں تمہیں لے چلتا ہوں بتاؤ کہاں جانا ہے،،،،،،،،،،،
مجھے اکیلے جانا ہے،،،،،،،،،
بلکل نہیں ابھی کل ہی مجھ پر اٹیک ہوا ہے آج تمہیں اکیلا کیسے جانے دوں،،،،،،،،،
کیا بھائی آپ پر اٹیک ہوا آپ ٹھیک تو ہیں نا کس نے کروایا یہ،،،،،،،،،، وہ ایک دم سے پریشان ہوئی
بہت سے لوگ ہیں نہ جانے کس نے کروایا تھا اور میں ٹھیک ہوں تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،،،،،، اس نے ایرہ کے گال تھپتھپائے
تم بتاؤ کہاں جانا ہے تمہیں شاپنگ پر لے چلوں،،،،،،،،،
بھائی کیا کرنا شاپنگ کر کے کس کے لیے تیار ہونا ہے،،،،،،،،، اس نے اداس نظریں جھکائیں
مایوس نہیں ہوتے میری جان تمہیں تمہارے حصے کی خوشیاں ضرور ملیں گی،،،،،،،،،،
وہ خاموش رہی،،،،،،،
چلو تمہیں لے چلوں کچھ کھلاؤں گا پھر پارک چلیں گے،،،،،،،،،، وہ کھڑا ہوا
ایرہ بھی کھڑی ہوئی اور دونوں کمرے سے نکل گئے،،،،،،،



نیسکٹ ڈے بارہ بجے الائیہ اپنے روم سے باہر نکلی تو اس کا حلیہ دیکھ کر بلال اور ماہاویرا شوکڈ رہ گئے،،،،،،،،،،
یہ سب کیا ہے بیٹا،،،،،،،،، بلال نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا
وہ بلیک پینٹ اور وائیٹ شرٹ میں ملبوس تھی گلے میں سکارف پلیٹے آنکھوں پہ گول چشمہ لگائے اس کا بوائز ہیئر کٹ تھا،،،،،،،،،
یہ اتنی بڑی تبدیلی وہ بھی اچانک،،،،،،،، ماہاویرا ہنسی
موم یہ میرے مشن کا حصہ ہے اور میں نے اپنے بال کٹوائے نہیں یہ نکلی بال ہیں،،،،،،،، اس نے مسکراتے ہوئے کہا
اور آپ میرے گلے میں پہنا کارڈ دیکھ سکتی ہیں یہ جعلی کارڈ ہے اس میں میری شناخت ایک فوٹوگرافر کی ہے جس کا نام مایا ہے،،،،،،،،،
اوہ مائے گاڈ اٹس امریسو،،،،،،،،،،، ماہاویرا نے کہا
تھینک یو،،،،،،،، وہ مسکرائی
آریان اپنے روم کے ڈور پہ کھڑا اس کی باتیں سن چکا تھا وہ سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے آیا،،،،،،،،،
موم میں اپنے فرینڈز کے پاس جا رہا ہوں شام کو آجاؤں گا،،،،،،،،،، وہ رکا نہیں تھا
آریان سنو مجھے بھی لے چلو مارکیٹ تک ڈراپ کر دینا،،،،،،،،،،، الائیہ نے کہا
شاید تم نے سنا نہیں میں اپنے فرینڈز کے پاس جا رہا ہوں مارکیٹ نہیں،،،،،،،،،،، وہ تلخ لہجے میں بولا
آریان یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا جب وہ کہہ رہی ہے کہ اسے مارکیٹ تک ڈراپ کر دو تو کر دو،،،،،،،، بلال نے اسے ٹوکا
ڈیڈ گھر میں اور بھی گاڑیاں گھڑی ہیں وہ کوئی بھی لے جا سکتی ہے،،،،،،،،،،
آریان کیا ہو گیا ہے یہ بات الائیہ کو بھی معلوم ہے ہو سکتا ہے کہ وہ تمہارے ساتھ جانا چاہ رہی ہو،،،،،،،،، ماہاویرا نے کہا
آریان نے ضبط کرتے ہوئے لمبا سانس چھوڑا اور الائیہ کو ساتھ چلنے کا اشارہ کیا،،،،،،،،،،
تھینک یو موم،،،،،،،، وہ ماہاویرا کا رخسار چومتے ہوئے باہر کی جانب بھاگ کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھی
آریان پلیز مجھ سے ناراض مت رہو مجھے اچھا نہیں لگ رہا،،،،،،،،،،
تمہیں کیا اچھا لگتا ہے کیا نہیں اس سے بھلا مجھے کیا لینا دینا،،،،،،،،،،
آریان ایسے تو نہیں کرتے دیکھو میں اب تمہیں جتنا ہو سکا اتنا ٹائم دوں گی لیکن تم بھی تھوڑا دل کھلا کرو نا،،،،،،،،،،،،
مجھے نہیں چاہیے تمہارا یہ زبردستی کا ٹائم اپنے پاس ہی رکھو،،،،،،،،،
زبردستی کا نہیں ہے مجھے احساس ہو گیا ہے کہ میں نے تمہیں بلکل ہی اکیلا چھوڑ دیا ہے میں اپنی غلطی مان رہی ہوں،،،،،،،،،
بڑی بات ہے اگر تمہیں اس چیز کا احساس ہو گیا ہے تو،،،،،،،،، اس نے کندھے اچکائے
اب بتاؤ تم بھی میرا احساس کرو گے نا پلیز آریان مجھے یہ جاب کرنے دو میں تمہارے حصے کا وقت جاب پر نہیں لگاؤں گی،،،،،،،، وہ منت کرتی ہوئی بولی
آریان نے گاڑی کو بریک لگائی،،،،،،،،،،
ایرہ بیک سیٹ سے ٹیک لگائے باہر دیکھ رہی تھی جب ان کی گاڑی آریان کی گاڑی کے پاس سے گزری،،،،،،،،،
ایرہ کی نظر آریان پر پڑی اس کی آدھ کھلی اداس آنکھوں کو جیسے ہوش آیا وہ آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی جب اس کی گاڑی نے اسے کراس کیا،،،،،،،،،،
ب۔۔۔۔بھائی بھائی،،،،،،، وہ پوری طرح بوکھلا چکی تھی فارس اس کی یہ حالت دیکھ کر ششدر رہ گیا
کیا ہوا ایرہ،،،،،،
گاڑی بیک کریں گاڑی بیک کریں بھائی،،،،،،،،، وہ تیزی سے سانس لیتی ہوئی چلّائی
گاڑی بیک کرو جلدی،،،،،،،،،، فارس نے ڈرائیور سے کہا ڈرائیور نے تیزی سے گاڑی ریورس کی
سٹاپ دا کار،،،،،،،،،،، وہ چلّائی
اس کی نظریں آریان پر تھیں یہ چہرہ وہ کیسے بھول سکتی تھی آج سے پانچ سال پہلے اس نے یہ چہرہ پہلی بار دیکھا تھا ایرہ کو معلوم ہی نہ ہوا کب اس کی آنکھیں بھر آئیں اور آریان کا چہرہ دھندلا سا گیا،،،،،،،،،،،،
ایرہ کیا یہی آریان،،،،،،،،،،، ایرہ کی حالت دیکھ کر فارس کو شک ہوا
اوکے لیکن میرے حصے کا وقت تم مجھے دو گی اس بات پر قائم رہنا،،،،،،،،،، آریان نے اس کی جاب پر ہامی بھری
اوہ تھینک یو سو مچ آریان اور تم فکر ہی مت کرو تمہارے حصے وقت تمہیں ہی ملے گا،،،،،،،،، اس نے آریان کی رخسار پر کِس کیا
یہ منظر دیکھ کر ایرہ کے سر پر پہاڑ ٹوٹ پڑا،،،،،،،،،،،،
وہ گاڑی سے باہر نکلی اور ہوٹل داخل ہو گئی آریان نے گاڑی سٹارٹ کی جب اس کا موبائل رنگ ہوا،،،،،،،،،،
جی موم،،،،،،،
آریان ابھی گھر آو ہمیں تمہارے ماموں کی طرف جانا ہے،،،،،،،،،
کیا ہوا موم خیر تو ہے،،،،،،،،
ہاں بس خیر ہی سمجھو لیکن ہمارا جانا ضروری ہے،،،،،،،،،
اوکے میں ابھی آرہا ہوں،،،،،،،،، اس نے گاڑی ٹرن بیک کی
اس گاڑی کا پیچھا کرو،،،،،،،،،، فارس نے اپنے آدمی سے کہا
ایرہ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے وہ جس کے لیے پانچ سال تڑپی تھی اسے ڈھونڈتی سڑکوں پہ ماری ماری پھری تھی آج وہ کسی اور کا ہو چکا تھا،،،،،،،،،،
بھائی کہیں آریان نے شادی تو نہیں کر لی،،،،،،،،، اس نے دھندلاتی آنکھوں سے فارس کو دیکھا
گڑیا پلیز رو مت تمہارا بھائی ہے نا سب ٹھیک کر دے گا،،،،،،،،،،، اس نے ایرہ کو پکڑ کے سینے سے لگایا
کچھ دیر کی مسافت کے بعد آریان نے کی گاڑی اس کے گھر کے سامنے رکی اور وہ اندر داخل ہو گیا،،،،،،،،،،،
یہ جگہ یاد رکھنا دوبارہ یہاں آنے کی ضرورت پڑے گی،،،،،،، فارس نے اس جگہ کا اچھی طرح جائزہ لیتے ہوئے ڈرائیور سے کہا
ڈرائیور نے اثبات میں سر ہلایا،،،،،،،،،،،
واپس چلو،،،،،،،، فارس کے کہنے پر گاڑی واپس مڑی
بھائی مجھے گھر لے چلیں مجھے کچھ دیر اکیلے رہنا ہے،،،،،،،،،،، یہ ایرہ ہی جانتی تھی وہ ضبط کی کس انتہا کو پہنچ چکی تھی



بھائی کیسی ہے لیزہ،،،،،،،،، ماہاویرا نے آتے ہی پوچھا
وہ بلکل ٹھیک ہے بس اللہ نے کرم کیا ہے،،،،،،،،،
مجھے تو آج ہی ذائشہ نے کال کر کے بتایا میں بہت پریشان ہو گئی تھی اللہ کا شکر ہے اس نے ہمیں برا دن دیکھنے سے بچا لیا،،،،،،،،،
ذائشہ تمہیں کل ہی ہمیں بتا دینا چاہیے تھا،،،،،،، بلال نے کہا
سوری بھائی بس کل ہم سب پریشان ہی اتنے تھے کہ بتا نہیں سکے،،،،،،،،
ماموں کہاں ہے لیزہ کہیں نظر نہیں آرہی،،،،،،،، آریان نے کہا
میں اسے بلواتی ہوں،،،،،،، ذائشہ نے میڈ کو آواز دی اور لیزہ کو بلانے کا کہا
آج کل آفس ورک میں مصروف ہی اتنا ہوتا ہوں کہ نیوز دیکھنے کا ٹائم ہی نہیں ملتا ورنہ ہمیں خود پتہ چلتا تو اسی دن آجاتے،،،،،،،،،،، بلال نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا
کوئی بات نہیں اللہ نے کرم کر دیا دراصل ان لوگوں کے شوٹ لیزہ پہ کیا تھا لیکن،،،،،،،،
لیکن کیا آحل بھائی بتائیں،،،،،،، ماہاویرا پریشان ہوئی
لیزہ کا فرینڈ ہے ارحام اس نے آگے آکر لیزہ کو بچا لیا اس کے کندھے میں گولی لگی تھی کل اسے ہوسپٹل سے ڈسچارج کر کے گھر لایا ہوں،،،،،،،،،،
یا اللہ رحم آحل بھائی یہ تو بہت بری خبر ہے،،،،،،،، ماہاویرا نے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
لیکن تم اسے یہاں کیوں لے کر آئے وہ اپنے گھر نہیں گیا،،،،،،،،،،
نہیں وہ اس دنیا میں اکیلا ہے ہوسٹل رہتا تھا وہاں کس نے اس حالت میں اس کی کیئر کس نے کرنی تھی وہ ہماری وجہ سے اس حالت میں ہے اس لیے جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتا یہیں رہے گا،،،،،،،،،
اللہ اسے اجرِعظیم عطا کرے مجھے اس سے ملنا ہے جس نے ہماری بچی کے لیے اپنی پرواہ بھی نہیں کی،،،،،،،،،، ماہاویرا نے کہا
اسے بھی بلوایا ہے میں نے،،،،،،،، ذائشہ نے کہا
لیزہ اور ارحام اپنے اپنے کمروں سے نکلے اور لاؤنج میں داخل ہوئے،،،،،،،،،،،
السلام علیکم۔۔۔ ارحام نے کہا
وعلیکم السلام۔۔۔ کیسے ہو بیٹا،،،،،،،، ماہاویرا نے پوچھا
جی آنٹی بہتر ہوں،،،،،،،،،
بیٹھو کھڑے کیوں ہو،،،،،،،،، بلال نے کہا تو وہ صوفے پر بیٹھا
لیزہ کیسی ہو تم،،،،،،،، ماہاویرا نے کھڑے ہو کر اسے سینے سے لگایا
پھوپھو میں ٹھیک ہوں آپ پریشان نہیں ہوں پلیز،،،،،،،،،
تمہارا یہ احسان ہم زندگی بھر نہیں اتار سکتے تم نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ہماری بچی کو بچایا،،،،،،،،، بلال نے ارحام سے کہا
کوئی بات نہیں انکل یہ میرا فرض تھا،،،،،،،،
ماشاءاللّٰه بہت اچھی تربیت کی ہے تمہاری ماں نے تمہاری،،،،،،،، ماہاویرا کی بات پر ارحام مسکرایا
کیسی ہو لیزہ،،،،،،، آریان نے پوچھا جب وہ اس کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھی
ٹھیک ہوں آریان بھائی آپ کیسے ہو،،،،،،،،
میں تو تمہارے سامنے،،،،،،، وہ مسکرایا
ایکچولی آپ سب کو بلانے کی ایک وجہ اور بھی ہے،،،،،،،، آحل بولا
جی بتائیے بھائی،،،،،،، ماہاویرا نے کہا
ہم ارحام کے ٹھیک ہونے کے بعد ان دونوں کی شادی کرنے والے ہیں،،،،،،،،،،، سب کے سامنے یہ بات ہونے پر لیزہ نے شرم سے چہرہ جھکا لیا
کیا سچ میں،،،،،،، ان سب کو ہی حیرت کا جھٹکا لگا تھا
ہاں ارحام نے جس طرح لیزہ کی حفاظت کی شاید ہی کوئی کر سکتا تھا اور یہ ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے ہیں،،،،،،،،،
آریان نے مسکراتے ہوئے لیزہ کی طرف دیکھا جو کن اکھیوں سے سب کو دیکھ رہی تھیز،،،،،،
یہ تو خوش خبری ہے اللہ ان دونوں کو سلامت رکھے،،،،،،،،، بلال نے لیزہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے دعا دی



ہاہاہاہا مطلب تم پانچ گھنٹے وہاں گنز ہی صاف کرتے رہے،،،،،،،،،، کمرے میں الائیہ کے قہقے گونج رہے تھے
تم اپنے دانت اندر کرتی ہو یا ماروں کچھ،،،،،،،،، عمر نے مسکین شکل بنائے اپنے کندھوں کو دباتے ہوئے کہا
آج تو دانش کو بھی عمر کی سٹوری سن کر ہنسی آرہی تھی،،،،،،،،،
کیا کیا کرنا پڑتا ہے اس جاب میں کبھی سوچا نہیں تھا،،،،،،،،، اس نے گردن دائیں بائیں موڑتے ہوئے کہا
تمہارے ساتھ تو بہت ہی بری ہو گئی عمر،،،،،،،، وہ ابھی بھی ہنس رہی تھی
تم دونوں شکر کرو میں نے اپنے ذمے بھاری ذمہ داری لی ہے،،،،،،،،، اس نے جتاتے ہوئے کہا
او ہو تو ہم کونسا ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں تمہیں میری لک نظر نہیں آرہی پورا دن سوچا کونسا گیٹ اپ کروں پھر جا کر یہ مائنڈ میں آیا،،،،،،،،، الائیہ کے مائنڈ میں یہ گیٹ اپ ایشا کی وجہ سے آیا تھا تبھی اس نے چھوٹے بال اور چشمہ لگایا
ہاں بہت بڑا کارنامہ کیا ہے جیسے،،،،،،،،،،
عمر نے ہنسا،،،،،،،،،
اچھا اچھا بس اب دونوں بحث نہ کرنے لگ جانا،،،،،،،،،
عمر تم کچھ ایسا کرو کہ وہ تمہیں اپنے گھر تک لے جائے،،،،،،،، دانش نے کہا
کوشش تو پوری کر رہا ہوں اب دیکھتے ہیں وہ سر پھرا آدمی کیا کرتا ہے،،،،،،،،،
ہممم گڈ بس اس کے گھر جانے کی دیر ہے پھر سب سیٹ ہو جائے گا،،،،،،،،،،



ایرہ اپنے کمرے میں چیزوں کی توڑ پھوڑ کر رہی تھی آج بہت دنوں بعد پھر سے چینخنے چلّانے والا دورہ پڑا تھا،،،،،،،،،،
گڑیا دروازہ کھولو میری جان تمہیں نقصان پینچ جائے گا چیزیں مت توڑو،،،،،،،،، فارس اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا
چلیں جائیں بھائی مجھے اکیلا چھوڑ دیں پلییییییززز،،،،،،،،، وہ چلّائی
کیسے تمہیں اکیلا چھوڑ دوں آج تک کبھی ایسا کیا ہے کیا جو آج کروں گا،،،،،،،،،، وہ بے بس سا باہر کھڑا تھا
آج کر دیں بھائی اکیلا چھوڑ دیں مجھے میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی آپ سے بھی نہیں،،،،،،،،،،، اس نے ڈریسنگ پر پڑے پرفیومز کو ہاتھ دے دھکیلا پورا کمرہ خوشبو سے نہا اٹھا
ایری میری جان میں وعدہ کرتا ہوں آج شام آریان تمہارے سامنے ہو گا،،،،،،،،،
اس کی بات سن کر ایرہ کے ہاتھ رکے،،،،،،،،،،،
