Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan (Episode 06)

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

ایرہ پریشان نظروں سے سامنے دیکھ رہی جب ایک خٹارا سی گاڑی اس کے پاس سے گزرنے لگی،،،

گاڑی روکو گاڑی روکو،،، وہ چار لڑکے تھے ان میں سے ایک نے کہا

ایرہ کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہونے لگیں،،،

ارے یہ تو لڑکی ہے وہ بھی اکیلی،،، دوسرے لڑکے کی آواز پر ایرہ کے جسم میں لہریں دوڑنے لگیں

اچانک بادل زوروں شور سے گرجنے لگا اور تیز طوفان کے سناٹے ویرانے میں گونجنے لگے،،،

اب دیکھ کیا رہے ہو سب باہر نکلو موسم خراب ہو رہا ہے،،، تیسرا بولا

جیسے ہی ان کی گاڑی کے دروازے کھولے ایرہ سکتے کی حالت سے باہر نکلی گاڑی کی دونوں ونڈوز اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے جتنی جلدی ہو سکے بند کیں تھیں،،،

وہ تیزی سے گاڑی کے دروازے کی طرف لپکے لیکن اس سے پہلے ایرہ گاڑی لاک کر چکی تھی،،،

ابے دیکھ تو سہی کتنی خوبصورت ہے،،،

خوبصورت کے ساتھ چالاک بھی ہے گاڑی لاک کر لی ہے اس نے اب کیا کرنا ہے،،، دوسرا بولا

ایرہ کا پورا وجود کانپ رہا تھا وہ گھٹنوں میں منہ چھپائے رونے لگی،،،

آس پاس کوئی پتھر ڈھونڈو جس سے گاڑی کا شیشہ ٹوٹ سکے،،، ایک لڑکے کی بات سن کر ایرہ نے سر اٹھایا اب وہ پہلے سے بھی زیادہ ڈر رہی تھی

اپنے اپنے موبائلز کی لائٹ آن کیے تیز ہوا کی وجہ سے وہ چاروں آنکھوں کو سیکڑ کر پاگلوں کی طرح آس پاس کوئی پتھر تلاشنے لگے،،،

ایرہ نے سسکتے ہوئے ان کی طرف دیکھا،،،

آریان پلیز آجاؤ،،، اس نے شدت سے روتے ہوئے آریان کو پکارا کیوں کہ پچھلی بار اس کی جان اور عزت بچانے والا وہی تھا

بادل کے گرجنے کی آواز ایرہ کو مزید خوفزدہ کر رہی تھی،،،

ابے ایک تو آنکھوں میں مٹی اتنی پڑ رہی ہے دوسرا یہاں تو کوئی پتھر ہی نظر نہیں آرہا،،، ایک لڑکے نے کہا

سالا ویسے تو پورے کراچی میں گند ختم نہیں ہوتا ایک یہی جگہ ہونی تھی جہاں سے کوئی چیز نہیں مل رہی شیشہ توڑنے کے لیے،،، وہ غصے سے سر کھجاتا ہوا بولا

اوئے مجھے مل گیا،،، ان میں سے ایک کی آواز آئی تو باقی کے لڑکوں کی آنکھیں چمک اٹھیں

کدھر ہے جلدی کر توڑ گاڑی کا شیشہ،،، ایک لڑکے نے کہا پھر وہ چاروں بھاگتے ہوئے گاڑی کے پاس اکٹھے ہو گئے

ایرہ کانوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے مسلسل چینخنے لگی اسے لگ رہا تھا آج وہ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گی،،،

اس لڑکے نے ایک بار پتھر مارا تو شیشہ نہ ٹوٹا پھر دوسری بار مارا پھر بھی نہ ٹوٹا ادھر ایرہ کی چینخیں طوفان کے ساتھ ویرانے میں گونج رہی تھیں،،،

ابے کیا کر رہا ہے گھر سے کچھ کھا پی کر نہیں نکلا تھا کیا،،، دوسرے لڑکے نے اس کی گدی میں ایک لگاتے ہوئے کہا

ابا نے آج سویر سے گھر سے نکالا ہوا ہے تم سالوں میں سے کسی ایک نے بھی کھانے کا نہیں پوچھا طاقت کہاں سے آئے گی،،، وہ مریل سی آواز میں بولا

ابے یار لا مجھے دے دے تیری مہربانی پہلے ہی موسم اتنا خراب ہو گیا یے اب یہ نہ ہو تب تک لڑکی کی چینخیں سن کر ہی کوئی آجائے،،، اس لڑکے نے اس کے ہاتھوں سے پتھر کھینچ کر پوری قوّت سے شیشے میں مارا

کانچ کی کرچیاں گاڑی کے اندر اور کچھ سڑک پر بکھر گئیں ایرہ کی چینخیں مزید بلند ہوئیں،،،

لڑکے نے گاڑی کے اندر ہاتھ ڈال کر لاک کھولا اور دروازہ کھول کر ایرہ کو پکڑنے لگا،،،

چھوڑو مجھےےےےےے،،، وہ غباد آلود تیز ہوا کی وجہ سے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھتی ہوئی چلائی

چھوڑ بھی دیں گے پہلے ہاتھ تو آجاؤ،،، اس نے سختی سے اسے پکڑتے ہوئے باہر کی طرف کھینچا

چھ۔۔۔چھوڑ دو پلیز،،، وہ چینختے ہوئے بولی

اس نے ایرہ کے منہ پر ہاتھ رکھا اور اسے اپنی گاڑی کی طرف لے جانے لگا،،،

باقی کے لڑکے گاڑی میں بیٹھے اور ایک نے گاڑی سٹارٹ کی،،،

ایرہ کی چینخنے کی آواز فارس کی سماعت میں پڑی تھی وہ فل سپیڈ میں گاڑی چلاتا ہوا اس جگہ پہنچا،،،

ایرہ،،، وہ بھاگ کر گاڑی سے نکلا لیکن ٹوٹا ہوا کانچ اور اندر ایرہ کو نہ دیکھ کر وہ معاملہ بخوبی سمجھ گیا تھا،،،

گڑیا،،، پریشانی سے فارس کی زبان سے اس کا نام نکلا وہ بھاگتا ہوا اپنی گاڑی میں بیٹھا

فل سپیڈ میں وہ گاڑی سڑک پر دوڑانے لگا جیسے ہی اس نے ٹرن لیا اسے اپنے آگے ایک گاڑی دکھائی دی جس میں آن لائٹ کی وجہ سے وہ دیکھ سکتا تھا کہ ایک لڑکی مسلسل اپنے ہاتھ چلاتے ہوئے خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی ہے،،،

ایرہ،،، اس نے چلّاتے ہوئے سپیڈ مزید بڑھائی اور ان کی گاڑی کے آگے اپنی گاڑی کر کے بریک لگائی

وہ ہاتھ میں دو گنز لیے تیزی سے باہر نکلا تھا گنز کو دیکھ کر لڑکوں کے ہوش اڑے،،،

تیز بارش کی بوندیں سڑک کو بھیگونے لگیں پانی کے قطرے فارس کو مکمل طور پر بھیگانے کا ارادہ رکھتے تھے،،،

وہ گاڑی ریورس کرنے لگے جب ہوا میں فائر کی آواز گونجی اور ان کی گاڑی کے ٹائر سے ہوا نکل گئی،،،

ابے یہ کون ہے،،، ایک لڑکا بولا جو خوف کے مارے کپکپا رہا تھا

بھائی،،،، روتے ہوئے ایرہ کے منہ سے نکلا

اب تو ہماری موت پکی،،، دوسرے لڑکے نے ایرہ کی بات سن کر کہا

فارس تیز قدموں سے چلتا ہوا گاڑی کے قریب آیا دروازہ کھول کر اس نے ایک لڑکے کو باہر نکالا،،،

اس کے زور دار دو تین پنچ سے وہ لڑکا زمین پر گرا اور فارس نے اس کے بازو پر پاؤں رکھ کر اس کے ہاتھ پر دو بار شوٹ کیا،،،

باقی تین لڑکے اپنے دوست کی چینخیں سن کر ہی کانپ اٹھے تھے فارس نے دوسرے لڑکے کو باہر نکالا اس کا بھی وہی حال کیا جو پہلے کا کیا تھا،،،

دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا وہ جب لہو لہان ہاتھوں کے ساتھ سڑک پر پڑے چلّا رہے تھے ان کا خون بارش کے پانی کے ساتھ مل کر سڑک کی ڈھلوان میں بہہ رہا تھا ان میں ایک درد کی شدت کے باعث بے ہوش ہو چکا تھا،،،

ایرہ،،، اس نے ایرہ کو گاڑی سے نکالا

بھائی،،، وہ اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو سکی اور اگلے پل فارس کے بازوؤں میں جھول گئی

🔥
🔥
🔥

لیزہ، ذوہا اور ہما یونیورسٹی پہنچ چکی تھیں، ذوہا کب سے ارحام کو دیکھ رہی تھی لیکن ابھی تک وہ اسے کہیں بھی دکھائی نہیں دیا تھا ورنہ وہ ہمیشہ گراؤنڈ کی سیڑھیوں پر بکس پر سر جھکائے نظر آتا تھا،،،

کل رات کتنا طوفان آیا ہے مجھے تو بہت خوف آرہا تھا،،، لیزہ نے ہما سے کہا

ہاں واقع ہی بہت تیز تھا،،، ہما نے جواب دے کر ذوہا کی طرف دیکھا جو ادھر ادھر دیکھنے میں مصروف تھی

تمہیں کیا ہوا ہے کہاں جھانک رہی ہو بار بار،،، ہما نے حیرت سے پوچھا

ارے کہیں نہیں یار ویسے ہی موسم دیکھ رہی ہوں،،، ہما کے اچانک پوچھنے پر وہ حیران ہوئی

پوچھ لو اس سے کہیں اس ارحام کا انتظار نہ کر رہی ہو،،، لیزہ نے طنز کہا

کیا ہو گیا ہے یار کچھ سوچ سمجھ کر بولا کرو،،، ذوہا نے منہ بسورتے ہوئے کہا

ویسے لگتا کے وہ آج نہیں ہوا،،، ہما نے کہا

کل اس کے ساتھ جو ہوا کے اس کے بعد دو تین چھٹیاں تو کرے گا ہی نا،،، لیزہ قہقہ لگاتی ہوئی بولی اور ذوہا نے دل ہی دل میں افسوس کیا

اچھا چلو لیکچر کا ٹائم ہو گیا ہے،،، لیزہ نے کہا تو وہ تینوں اندر کی جانب بڑھ گئیں

ایک گھنٹے کا لیکچر لینے کے بعد وہ تینوں باہر نکلیں ذوہا کو ابھی تک ارحام دکھائی نہیں دیا تھا،،،

لیزہ، ہما میں ابھی آتی ہوں کچھ دیر میں،،، ذوہا بولی

ارے لیکن جا کہاں رہی ہو ہم بھی چلیں گے ساتھ،،، لیزہ نے کہا

نہیں یار میں آتی ہوں بس پانچ منٹ ویٹ کرو پلیز،،، ذوہا ان کا جواب سنے بغیر وہاں سے چل دی لیزہ اور ہما نے کندھے اچکائے

کیمسٹری بلاک جا کر وہ ارحام کی کلاس میں داخل ہوئی اسے وہ کہیں بھی دکھائی نہیں دیا الٹے قدموں وہ واپس نکلی وہ کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتی تھی کیوں کہ ارحام جس طبعیت کا مالک تھا اس کی یقیناً یہاں کسی سے دوستی نہیں تھی،،،

نہ جانے وہ کیسا ہو گا کیا حال ہو گا اس کا کیا کر رہا ہو گا وہ،،،ذوہا دل ہی دل میں افسوس کرتی ہوئی سوچ رہی تھی

🔥
🔥
🔥

شولی پیارے ریڈرز آج کچھ مصروفیت کی وجہ سے فل ایپی نہیں لکھ پائی ریسپونس اچھا دییجے گا پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے آپ سب کو😏

#دیوانہ_پن🔥

#تحریر_مرحا_کنول

#Episode_6 (part 2)

آریان نے اسلام آباد وزٹ کی مشہور ترین جگہ مونومنٹ کے آگے گاڑی روکی،،،

الائیہ گاڑی سے باہر نکلی اور اس وسیع جگہ کو دور دور تک دیکھنے لگی،،،

چلو،،، آریان نے منہ بسورتے ہوئے کہا

مجھے بتاؤ تو سہی کہاں لے کر آئے ہو کیا نام ہے اس جگہ کا،،، الائیہ نے جاننا چاہا

پاکستان مونومنٹ،،، آریان نے بتایا

اچھا اس میں کیا خاص ہے،،، وہ دونوں اندر داخل ہوئے

اگر مجھ سے ہی سب کچھ پوچھنا تھا تو یہاں کیوں آئی،،، اس نے الائیہ کو گھوری سے نوازہ

اوکے اوکے نہیں پوچھتی لیکن اس کی ہسٹری تو بتاؤ،،،

اس کی سنگِ بنیاد 24مارچ 2007 کو جرنل پرویز مشرف نے رکھی تھی،،،

ااوو آئی سی،،، وہ ہونٹوں کو گول کرتے بولی

واؤ وٹ از دس؟،،، الائیہ نے سامنے اشارہ کیا

یہ چار مینار ہیں پہلے میں بادشاہی مسجد کا سکیچ ہے،،،

پھر وہ اسے دوسرے مینار کی طرف لے کر گیا جہاں قائداعظم کا اور مینارِپاکستان کا سکیچ تھا،،، الائیہ یہ سب دیکھتے ہوئے بہت انجوائے کر رہی تھی

پھر آریان نے اسے تیسرا مینار دیکھایا جہاں بلوچستان کا نقشہ کھینچا گیا تھا چوتھا مینار دیکھنے کے بعد الائیہ نے درمیان میں بنے بہت بڑے سٹار کو دیکھا جو اسے بہت اچھا لگا،،،

اٹس بیوٹیفل،،، الائیہ نے سن گلاسز اتار کر سر پہ ٹکائے

یہ رات کو شائن کرتا ہوا بہت خوبصورت لگتا ہے،،، آریان نے اسے بتایا

پھر آریان اسے لیے ایک سائیڑ پر کھڑا ہوا جہاں سے پاکستان دور دور تک نظر آرہا تھا،،،

آریان نے اسے وہاں سے فیصل مسجد مارگلا ہلز اور بہت سے دوسرے مقامات دکھائے،،،

پھر وہ اسے مونومنٹ میں بنے گئے میوزیم میں لے کر گیا جسے لوک ورثہ پاکستان میوزیم کہتے ہیں جس میں کندھارا کے متعلق مختلف چیزیں اور برصغیر کا پورا نقشہ کھینچا گیا ہے،،،

شاہ سوری، محمد بن قاسم اور باقی مشہور جرنیلز کے سٹیچو دکھائی دیتے ہیں،،،

پھر وہ اسے میوزیم کی ایک گیلری میں لے گیا جہاں مغلیہ دور دکھایا گیا تھا درویشوں اور جنگجوؤں کے سٹیچو بادشاہ کا سٹیچو اور ملکہ کا سٹیچو بنایا گیا تھا الائیہ نے ملکہ کے سٹیچو کو پرشوق نظروں سے دیکھا جو باریک رشمی دوپٹے میں اپنا چہرہ چھپائے بیٹھی تھی،،،

پھر وہ اسے ایک تھیٹر میں لے کر گیا جہاں بیٹھ کر سکرین پر پاکستان کی مکمل ہسٹری دیکھ سکتے ہیں،،،

چلو یہاں بیٹھ کر ہسٹری مووی دیکھتے ہیں،،، الائیہ خوشی سے بولی

جی نہیں اتنا فضول وقت نہیں ہے میری پاس کہ میں تمہارے ساتھ یہاں بیٹھ کر دو گھنٹے ویسٹ کروں،،، آریان اسے گھورتے ہوئے بولا جس پر الائیہ نے منہ بسورا

چلو اب تمہیں فیصل مسجد دکھاؤں،،، وہ وہاں سے باہر نکلے اور الائیہ بھی اس کے پیچھے چل دی

گاڑی میں بیٹھ کر الائیہ نے مارگلا ہلز کو شوق سے دیکھا،،،

سبز پہاڑیوں سے گاڑی گزر رہی تھی اور الائیہ اس کی وڈیو بنانے لگی،،،

کچھ دیر بعد اس نے فیصل مسجد کے آگے گاڑی روکی الائیہ نے گردن میں لپیٹے ہوئے سٹولر کو سر پر لیا تو آریان نے اسے حیرت سے دیکھا پھر جلد ہی اپنا رخ دوسری طرف کیا،،،

بہت خوبصورت ہے اس کی ہسٹری بتاؤ،،، الائیہ نے پوچھا

وہ دونوں اندر داخل ہوئے،،،

جنوبی ایشیاء کی سب سے بڑی مسجد یہ ہے اور اس کی تعمیر 1976 میں سٹارٹ ہوئی تھی اس پر 120 میلین ڈولرز کا خرچہ ہوا ہے جو کہ سعودی عرب کے بادشاہ فیصل نے دیا اسی وجہ سے مسجد کا نام بھی ان کی نسبت سے ہے،،، آریان اسے مسجد دکھاتے ہوئے ساتھ ساتھ بتانے لگا

واؤ اس کی ڈیزاننگ کمال ہے،،، الائیہ کو یہ واقع ہی بہت خوبصورت لگی تھی

یہ ڈیزائننگ ایسے ہی نہیں ہو گئی اس کے لیے ڈیزاننگ کا عالمی مقابلہ رکھا گیا تھا جس میں سترہ ممالک کے لوگوں نے پارٹیسپیٹ کیا اور ٹوٹل چونتیس ڈیرائنز پسند کیے گئے تھے جن میں سے ایک ڈیزائن چوز کرنا تھا،،، آریان بتا رہا تھا اور الائیہ شوق سے اس کی باتیں سن رہی تھی

پھر کس نے وِن کیا،،، الائیہ نے پوچھا

یہ مقابلہ ترکی کے ایک آرٹیٹیکٹ نے وِن کیا تھا اس کے بنائے گئے ڈیزائن پر یہ مسجد تعمیر کی گئی،،،

میں تو بہت امپریس ہو رہی ہوں پاکستان سے اٹس بیوٹیفل،،،

چلو اب یہاں سے تمہیں دامن کوہ کی طرف لے جانا ہے،،، آریان جلد از جلد اس اسے وزٹ کروا کے جان چھڑوانا چاہتا تھا

دامنِ کوہ وہ کیا ہے،،، اس نے سوچتے ہوئے پوچھا

جاؤ گی تو خود ہی دیکھ لینا کیا ہے،،، آریان نے تنگ آکر کہا

🔥
🔥
🔥

ایرہ،،، فارس ایرہ کے روم کا ڈور ناک کر کے اندر داخل ہوا

وہ خاموش سی بستر پر لیٹی تھی،،،

کیسی ہے میری گڑیا،،، اس نے پیار سے اس کے بال سہلاتے ہوئے پوچھا

ٹھیک ہوں بھائی،،، وہ بس اتنا بولی تھی

میری جان نکل گئی تھی کل رات اب مجھ سے وعدہ کرو کہ کبھی میرے علاوہ گھر سے باہر نہیں نکلو گی،،،

بھائی نہیں جاؤں گی اب،،، آسانی سے بات مان لینے پر فارس نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا

چلو اب کچھ کھا لو اتنا ٹائم ہو گیا ہے اور تم نے کل سے کچھ نہیں کھایا،،،

مجھے بھوک نہیں ہے،،،

تمہیں معلوم ہے نا میں تمہارے بغیر کھانا نہیں کھاتا،،،

بھائی کیا آپ نے بھی،،، ایرہ نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا

ہاں میں نے بھی کل سے کچھ نہیں کھایا جب میری گڑیا بھوکی ہے تو میں پیٹ کیسے بھر سکتا ہوں،،،

بھائی آپ چلیں میں ابھی آتی ہوں،،،

ٹھیک ہے میں ناشتے کی ٹیبل پر تمہارا ویٹ کر رہا ہوں،،، وہ کہہ کر روم سے باہر نکل گیا اور ایرہ واش روم چلی گئی

🔥
🔥
🔥

ایشا ٹرپ کے ساتھ کراچی پہنچ چکی تھی اپنی دوستوں کے ساتھ اس نے ٹریول بھی بہت انجوائے کیا تھا،،،

بیچ پر اتر کر وہ کھلے آسمان تلے بھاگنے لگی سمندر پر آنے کا اسے بچپن سے ہی شوق تھا،،،

واؤ کتنا مزہ آرہا ہے نا،،، ایشا نے اپنی فرینڈ نمرہ سے کہا

ایشا دھیان سے کہیں تمہیں چوٹ نہ لگ جائے،،، نمرہ نے کہا کیوں کہ ایشا مزے سے بازو پھیلائے گول گول گھوم رہی تھی

ارے بدھو چوٹ کیسے لگے گی یہ سینڈ ہے اور سینڈ پر گرنے سے چوٹ نہیں لگتی،،، اس نے گول گول گھومتے ہوئے انگلی سے چشمہ اوپر کرتے ہوئے کہا

پھر بھی یار تمہیں معلوم ہے نا تمہارے پاپا ٹیچر کو اتنا بڑا لیکچر دے کر گئے ہیں کہ ایشا کا خیال رکھنا ہے یہ کرنا ہے وہ کرنا ہے،،،

ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن ابھی کونسا پاپا دیکھ رہے ہیں،،،

اچھا بس بھی کر دو تمہیں دیکھ دیکھ کر میرا سر چکرانے لگا ہے،،،

ہاہاہا اوکے اب بس،،، وہ رک کر تیز تیز سانس لیتی ہوئی بولی

چلو چلو شوز اتارو پانی میں چلتے ہیں،،، ایشا نے کہا

لیکن ابھی ٹیچرز نے تو کہا نہیں ہے تمہیں کتنی جلدی ہے ایشا،،،

تو ہم یہاں اور کرنے ہی کیا آئے ہیں بیچ پر ہی تو انجوائے کرنے آئے ہیں،،، وہ اپنے شوز اتارتی ہوئی بولی

لیکن یار،،،

لیکن ویکن کچھ نہیں میں تو جا رہی پانی میں چلنے،،، وہ بازو پھیلا کر بھاگتی ہوئی پانی میں پہنچی اور کبھی ادھر کچھی ادھر کو اچھلنے کودنے لگی

پانچ منٹ بعد اس کی باقی کی سبھی کلاس فیلوز بھی شوز اتارے پانی کی طرف آنے لگیں تو ایشا نے نمرہ کو منہ چڑایا،،،

🔥
🔥
🔥

لیزہ، ہما اور ذوہا لیکچز ختم ہونے کے بعد گھر جانے کی تیاری میں تھیں،،،

ویسے آج کا دن کافی بور گزرا،،، ہما نے کہا

ہاں اس میڈم نے جو سیدھے منہ بات نہیں کی،،، لیزہ نے ذوہا کی طرف اشارہ کیا

ہاں ذوہا میں بھی صبح سے نوٹس کر رہی ہوں تم پریشان دکھ رہی ہو کیا بات ہے ہمیں نہیں بتاؤ گی کیا،،، ہما نے کہا

نہیں تو۔۔۔ میں پریشان نہیں ہوں بس آج طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے،،،

کیا ہوا تمہیں،،، لیزہ نے پریشانی سے پوچھا

ہیڈیک ہے یار،،، ذوہا نے بہانہ لگایا

تو پہلے بتاتی ڈسپینسری سے ٹیبلیٹ لے لیتے،،، لیزہ نے حیرت سے کہا

ٹھیک کہہ رہی ہے لیزہ،،، ہما نے کہا

نہیں بس ٹیبلیٹ لینے کا موڈ نہیں تھا،،،

لو ایک تو تم اور تمہارا موڈ،،، لیزہ نے منہ بسورا

اوکے یار ٹیک کیئر سو یو بوتھ ٹومورو،،، ہما ان دونوں سے ہینڈ شیک کرتے ہوئے اپنی گاڑی میں بیٹھی

لیزہ اور ذوہا نے بھی ہینڈ شیک کیا اور اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ گئیں،،،

لیزہ اور ہما تو جا چکی تھیں اب ذوہا اکیلی تھی وہ گاڑی میں بیٹھی سوچ رہی تھی کہ ایسا کیا کرے کہ اسے ارحام کے بارے میں کہیں سے کچھ معلوم ہو جائے،،،

🔥
🔥
🔥

فارس ناشتے کی ٹیبل پر ناشتہ کر رہا تھا جب اس کا سیل رنگ ہوا،،،

اس نے پاکٹ سے سیل نکال کر کان کو لگایا،،،

ہیلو بوس ایک نیو پارٹی آپ سے میٹنگ کرنا چاہتی ہے،،، سلمان کی آواز اس کی سماعت میں پڑی

ان کے بارے میں انفارمیشن لے لی ہے کیا،،، فارس نے کہا

جی تمام انفارمیشن لے لی ہے فراڈ لوگ نہیں ہیں اور نہ ہی پولیس کے ساتھ ان کا کانٹیکٹ ہے کئی سالوں سے یہ کام کرتے آرہے ہیں،،،

اوکے انہیں میٹنگ کے لیے ہاں کر دو،،، فارس نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا

بوس میٹنگ کے لیے انہیں کہاں انوائیٹ کروں،،،

بیچ پر انوائیٹ کر لو شام چھ بجے،،، فارس نے کہا کیوں کہ وہ اکثر نیو پارٹیز سے وہاں کھلے آسمان تلے میٹنگ کرتا تھا

اوکے بوس،،، سلمان نے کہا تو فارس نے کال ڈسکنیکٹ کی

🔥
🔥
🔥

آریان اور الائیہ دامنِ کوہ میں پہنچے یہ پہاڑ کے اوپر بنایا گیا بہت وسیع گارڈن تھا،،،

سر سبز نظارے الائیہ کی آنکھوں کو ٹھنڈک دینے لگے،،،

ہر طرف ہریالی تھی وہ دونوں اندر داخل ہوئے،،،

لائیہ نے موبائل نکال کر ایک بند کی پک لی جو سیب کھاتا ہوا اسی کی طرف دیکھ رہا تھا اسے وہ بہت کیوٹ لگا،،،

آریان اسے کھلے آسمان تلے ہوٹیل میں لے آیا جہاں بہت سے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے پکس اور وڈیوز بنا رہے تھے،،،

کھانے کی خوشبو نے الائیہ کی توجہ کھینچی،،،

وہ دونوں ایک ٹیبل کے ساتھ چئیرز پر بیٹھے آریان نے کھانا آرڈر کیا،،،

یہ کتنا خوبصورت نظارہ ہے،،، الائیہ نے پہاڑ سے نیچے دیکھتے ہوئے کہا

آریان کی نظر اس پر پڑی وہ اپنی براؤن آنکھوں کو مٹکاتے ہوئے سرسبز نظاروں کا لطف لیتی ہوئی بہت خوبصورت لگ رہی تھی،،،

اچانک اس کی نظر ایک چھوٹی سی بچی پر پڑی جو تقریباً پانج سال کی تھی جو گرِل کے اوپر چڑھنے کی کوشش کر رہی تھی،،،

او نو،،، الائیہ فوراً اٹھ کر اس کی طرف بھاگی آریان نے الائیہ کی طرف دیکھا اور پھر اس بچی کی طرف دیکھا تو وہ بھی کھڑا ہوا

بچی گرِل کے دوسرے طرف لٹک رہی تھی الائیہ نے اس کا بازو پکڑا لیکن اتنی گہرائی دیکھ کر اس کا سر چکرانے لگا وہ اپنا بیلینس قائم نہ رکھ سکی اور گرِل کے دوسری طرف گر گئی،،،

بچی کی ماں نے تیزی سے اس کے ہاتھ سے بچی کو پکڑا لیکن الائیہ کو وہ پکڑ نہ سکی،،،

الائیہ۔۔۔ آریان نے زیرِلب اس کا نام لیا تیز قدموں سے بھاگتا ہوا اس پار کود گیا

لوگوں نے شور مچا دیا زمین کی کچھ ڈھلوان ہونے کی وجہ سے وہ دونوں گھومتے ہوئے کھائی کی طرف جا رہے تھے،،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *