Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 30)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 30)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
میں نے تمہیں آج صبح تک کا ٹائم دیا تھا بتاؤ کیا سوچا پھر تم نے،،،،،،،،، فارس کا آدمی موبائل آریان کے کان کو لگائے بیٹھا تھا جس میں سے فارس کی آواز آریان کو سنائی دی
آریان نے آنکھیں بند کیں ایک طرف اس کی معصوم کزن تھی اور دوسری طرف اس کی محبت وہ کس کی قربانی دیتا اس کی سمجھ سے باہر تھا،،،،،،،،،
اگر فیصلہ کرنے میں مشکل ہو رہی ہے تو میں تمہاری یہ مشکل حل کر سکتا ہوں،،،،،،،،، فارس نے دور سے ایشا کے کمرے کے پاس کاکروج پھینکا جو رینگتا ہوا کمرے کے اندر داخل ہو گیا
ایشا نے جیسے ہی کاکروج دیکھا وہ چینخیں مارنے لگی تبھی فارس نے کمرے کے دروازے کے پاس موبائل کیا آریان کو لگا وہ اس پر تشدد کر رہا ہے،،،،،،،،
پلیز رک جاؤ اسے تکلیف مت دو میں تمہاری بات ماننے کو تیار ہوں،،،،،،، وہ تیزی سے بولا جس پر فارس مسکرایا
گڈ وہاں آکے بات ہو گی،،،،،،، فارس نے کال ڈسکنیکٹ کی اور کمرے میں داخل ہوا
کیا ہوا،،،،،، وہ انجان بنا
ف۔۔۔فارو وہ دیکھو ک۔۔۔۔کاکروج،،،،،،،، وہ بیڈ پہ کھڑی اچھل رہی تھی
فارس اپنی ہنسی دباتا کوا کاکروج کے پاس گیا اور اسے ہاتھ سے اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینکا ،،،،،،،
ایشا ہکی بکی فارس کو دیکھنے لگی،،،،،،،
آ۔۔۔آپ نے ہاتھ سے کاکروج اٹھایا،،،،،،، وہ آنکھوں کو موٹا کیے بولی
جب تمہیں اٹھا سکتا ہوں تو کاکروج کیا چیز ہے،،،،،،، وہ مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا
دور رہیں مجھ سے کاکروج والے گندے ہاتھ دھو کر آئیں نہیں بکلہ نہا کر آئیں آپ کاکروج کے سارے جمز آپ کو لگ گئے ہیں،،،،،،،، وہ منہ کے زاویے بگاڑتی ہوئی بولی
ٹھیک ہے تمہارے لیے اتنا تو کر ہی سکتا ہوں،،،،،، وہ وارڈ ڈروب کی طرف بڑھا فریش تو اسے ویسے بھی ہونا تھا اس نے سوچا چلو اسی بہانے بیوی کی نظر میں نمبر بھی بڑھ جائیں گے کہ وہ اس کی کتنی بات مانتا ہے،،،،،،،،،،،
فارس کے واش روم جانے کے بعد ایشا نیچے بیٹھی اسے اپنے پاپا کی یاد آنے لگی تھی جب ایک بات ایسے ہی وہ کاکروج سے ڈرتی ہوئی چینخ رہی تھی تو آحل نے کاکروج کو مارا تھا،،،،،،،،
دس منٹ بعد فارس کمرے سے نکلا تو ایشا رہو رہی تھی اس خلافِ توقع عمل پر حیران ہوا،،،،،،،
کیا ہوا،،،،،، وہ تیزی سے اس کے پاس آیا
پ۔۔پاپا کی یاد آ۔۔آرہی ہے،،،،،،، اس نے ہچکیوں میں روتے ہوئے کہا
فارس پریشان ہوا فلحال تو اس کے لیے نا ممکن تھا اس کے گھر والوں سے ملوانا اور وہ تھی کہ بچوں کی طرح رو رہی تھی،،،،،،،،
ایشا رو مت کسی دن ملوا دوں گا تمہارے پاپا سے آئی پرامس،،،،،،، وہ اس کے رخسار صاف کرتا ہوا بولا
م۔۔۔مجھے آج ہی ملنا ہے پلیز ملوا دیں ب۔۔۔بہت یاد آرہی پاپا کی،،،،،، وہ اس کے سینے سے لگی
دیکھو پچھلی بار میں تمہیں ان سے ملوانے جا رہا تھا انہوں نے کیا کیا تھا تمہیں یاد ہے نا وہ سب تمہیں مجھ سے الگ کرنا چاہتے ہیں کیا تم میرے بغیر رہ لو گی،،،،،،،، اس نے ایشا کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا
ایشا اس کی طرف دیکھنے وہ اس کے بغیر کیسے رہ سکتی تھی،،،،،، اس نے نفی میں سر ہلایا
پھر کچھ دن رک جاو میں ملوا دوں گا تمہیں ان سے آئی پرامس،،،،،،،،
ایشا نے روتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تو فارس نے شکر ادا کیا،،،،،،،،،
میں نے ناشتہ آڈر کر لیا کر تم کر لینا میں باہر جا رہا ہوں لیٹ آوں گا اوکے،،،،،،،
آپ کیوں جا رہے ہیں پلیز مت جائیں،،،،،،، وہ پھر سے اس کے سینے سے لگی
آج ضروری کام ہے کوشش کروں گا جلد آجاؤں تم پریشان نہیں ہونا ٹھیک ہے،،،،،،،،
اوکے،،،،،، ایشا نے کہا
فارس اس کے رخسار کو چومتے ہوئے پیچھے ہٹا،،،،،،،



عمر فارس کی بہن کو لے کر یہاں آریان کے گھر میں آؤ،،،،،،،،، الائیہ نے عمر کو کال کی
کیوں کیا ہوا خیر تو ہے،،،،،،، عمر کو حیرت ہوئی
خیریت نہیں ہے اس میر فارس نے آریان کو کڈنیپ کروا لیا ہے وہ اپنی بہن کے بدلے آریان کو چھوڑے گا میں جانتی ہوں،،،،،،،،
کیا آریان کو کڈنیپ کر لیا،،،،،، عمر حیران ہوا
ہاں اب تم اور دانش جلدی سے اسے یہاں لے کر آؤ مجھے آریان کے آگے کوئی چیز اہم نہیں ہے،،،،،،،،،،
اوکے ہم آرہے ہیں،،،،،، آریان نے کال ڈسکنیکٹ کی
اس نے ایرہ کے کمرے کا رخ کیا،،،،،،،
ڈور ناک ہوا ایرہ کھڑکی کے پاس کھڑی باہر کا ٹھنڈا موسم دیکھ رہی تھی،،،،،،،،،،
تمہیں چلنا ہو گا،،،،،،،،
کہاں،،،،،، ایرہ عمر کی بات پر حیران ہوئی
فلحال بتا نہیں سکتا بس ساتھ چلو،،،،،،،
ایرہ جانے کے لیے اس کی طرف بڑھی،،،،،،،،،،
و۔۔۔وہ مجھے ایک بات پوچھنی تھی،،،،،،،،،
پوچھو،،،،،،، وہ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا
آ۔۔۔آپ کو کیسے پتہ چلا تھا کہ میں کل کہاں تھی،،،،،،،،
اس کی بات سن کر عمر خاموش رہا،،،،،،،،
پھر ملے تو بتاؤں گا،،،،،،،،
ایرہ حیران ہوئی وہ کہاں جا رہی تھی جو وہ پھر ملنے کی بات کر رہا تھا،،،،،،،،
خیر میں تمہارے لیے ایک گفٹ لایا تھا،،،،،،،، اس نے پاکٹ سے ایک بریسلیٹ نکالی
مارکیٹ گیا تھا تو اس پہ نظر پڑ گئی اچھی لگی اسی لیے تمہارے لیے لے لی،،،،،،، اس نے بریسلیٹ اس کی طرف بڑھائی جسے ایرہ پکڑ گئی
باہر آجانا،،،،،، وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا
ایرہ نے بریسلیٹ کو آنکھوں کے سامنے کیا اس میں دو سفید دل چین کے ساتھ لٹک رہے تھے،،،،،
ایرہ کو بریسلیٹ بہت پیاری لگی وہ ہاتھ پہ باندھ کر باہر نکلی،،،،،،،،،



آج یونی سے چھٹی تھی لیزہ نے سوچ لیا تھا کہ وہ ارحام کا سچ جان کر رہے گی، اس نے بیمار ہونے کا ڈرامہ کیا تا کہ ارحام اکیلا باہر جائے اور وہ اس کا پیچھا کر سکے،،،،،،،،
لیزہ،،،،،، ارحام اس کے کمرے میں داخل ہوا
کیا ہوا ہے طبیعت ٹھیک ہے تمہاری،،،،،،، وہ پریشان ہوا
بس تھوڑی سی خراب ہے،،،،،،،، لیزہ نے بیمار ہونے کی ایکٹنگ کی
ایسے کیسے کل تک تو بلکل ٹھیک تھی،،،،،،،
ہاں بس رات میں ہی کچھ ہو گیا زیادہ خراب نہیں ہے تم فکر مت کرو،،،،،،،،
اچھا یار ہولی ڈیز تھے میں نے تو سوچا تھا خوب انجوائے کریں گے،،،،،،،،
سوری ارحام میری وجہ سے تمہارے ہولی ڈیز اچھے نہیں گزریں گے نا،،،،،،،،
ارے کوئی بات نہیں ایسے مت کہو تم سے زیادہ کیا عزیز ہے مجھے،،،،،،، اس نے لیزہ کا ہاتھ چومتے ہوئے کہا
اوکے اب تم ریسٹ کرو مجھے تھوڑا کام ہے باہر جا رہا ہوں ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا،،،،،،، وہ کھڑا ہوا
اوکے تم بھی،،،،،،،، وہ دھیرے سے مسکرائی
ارحام کے کمرے سے باہر نکلتے ہی وہ چوکنّا ہوئی اس نے کھڑکی سے دیکھا کہ وہ گاڑی میں بیٹھ رہا ہے وہ بھاگتی ہوئی نیچے آئی جیسے ہی ارحام کی گاڑی گیٹ سے باہر ہوئی وہ اپنی گاڑی میں بیٹھی،،،،،،،،،
اس نے اپنی گاڑی اس سے کچھ فاصلے پر لگا رکھی تھی تا کہ اسے کسی قسم کا شک نہ ہو،،،،،،،،،
ارحام نے ایک ویران بلڈنگ کے پاس گاڑی کھڑی کی اور خود اندر داخل ہوا،،،،،،،،
لیزہ حیران ہوئی اس ویران اور خالی بلڈنگ میں اس کا کیا کام تھا،،،،،،،،،،
وہ جھاڑیوں کی آڑ میں گاڑی پارک کر کے باہر نکلی اور بلڈنگ کے اندر داخل ہو گئی،،،،،،،،
اتنی خستہ حال جگہ وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی کمروں کے دروازے بلکل ٹوٹ پھوٹ چکے تھے دیواروں پہ مکڑیاں اور ہر طرف جال ہی جال نظر آرہے تھے،،،،،،،،،،
وہ منہ پہ ہاتھ رکھتی گھبراتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف بڑھی کیوں کہ نیچے والے کمرے خالی تھے نہ ہی ان میں سے کوئی آہٹ سنائی دے رہی تھی،،،،،،،،،
میں تم سے آخری بار پوچھ رہا ہوں کہاں ہے وہ،،،،،،، اوپر والے پورشن سے لیزہ کو ارحام کی آواز سنائی دی
آہ ہ ہ،،،،،، کوئی چلّایا تھا لیزہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کمرے کی دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوئی،،،،،،،
میں تجھ سے آخری بار پوچھ رہا ہوں اگر تو نے نہیں بتایا تو سمجھنا یہ دن تیری زندگی کا آخری دن ہے،،،،،،،،،
ارحام یہ کس انداز میں بول رہا تھا لیزہ کو یہ وہ ارحام لگ ہی نہیں رہا تھا اس نے دیواد کے ساتھ چپکتے ہوئے قدم آگے بڑھائے ساتھ ہی ایک ٹوٹی ہوئی کھڑکی تھی لیزہ نے بس اتنا آگے بڑھی جس سے کمرے میں ہونے والا منظر وہ دیکھ سکے،،،،،،،،،
ارحام کے ہاتھ میں گن تھی اور ایک لڑکا اس کے سامنے زمین پر لہو لہان پڑا ارحام کے پیچھے تین آدمی کھڑے تھے لیزہ ان کو پہچان چکی تھی یہ وہی لوگ تھے جو اس دن اس نے ارحام کے ساتھ دیکھے تھے،،،،،،،،،
آخری بار پوچھ رہا ہوں کہاں ہے وہ،،،،،،،، اس نے لڑکے پر گن کھڑی کی
م۔۔میں نہیں جانتا،،،،،،،، وہ لڑکا درد سے آنکھیں بند کیے ہوئے تھا
ارحان نے اس کی ٹانگ پر شوٹ کیا لڑکا کراہ اٹھا لیزہ نے چینخ نکل جانے کے ڈر سے اپنے منہ پہ دونوں ہاتھ رکھے،،،،،،،،،
اس کو سانس لینا مشکل ہو گیا تھا اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ وہی ارحام ہے جس سے اس نے محبت کی ہے،،،،،،،،، وہ بے آواز قدموں سے واپس سیڑھیاں اترنے لگی بلڈنگ سے نکل کر وہ بھاگی اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر لمبے لمبے سانس بھرنے لگی،،،،،،،،
ار۔۔ارحام ت۔۔۔تم غنڈے ہو خ۔۔۔خونی ہو،،،،،،،، اس نے روتے ہوئے کہا
م۔۔۔مجھے پاپا کو بتانا چاہیے،،،،،،، اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور گھر کا رخ کیا



ایشا اکیلی گھر بیٹھی اپنے ماما پاپا کو یاد کرتی ہوئی رو رہی تھی،،،،،،،،
کھانا ٹیبل پر پڑا تھا لیکن اس نے ایک نوالا بھی نہیں کھایا تھا آج اتنے دن ہو گئے تھے اس نے اپنے ماں باپ سے کال پر بھی بات نہیں کی تھی فارس نے اسے نہ جانے کب اس کے گھر والوں سے ملوانا تھا یہ سوچ سوچ کر ایشا کے لیے مزید ان سے دور رہنا ناممکن ہوتا جا رہا تھا،،،،،،،،،،
فارو تو گھر ہے نہیں کیوں نا میں ان کے آنے سے پہلے ماما پاپا کو مل کر آجاؤں،،،،،،،، ایشا نے دل میں سوچا
وہ بھاگتی ہوئی باہر نکلی اور دیوار کا جائزہ لینے لگی دیوار چھوٹی ہی تھی اس نے اندر سے چیئر اٹھا کر دیوار کے پاس رکھی اور اس کے اوپر چڑھ گئی،،،،،،،
باہر چھلانگ لگاتے ہی وہ نیچے گری لیکن اسے کہیں بھی چوٹ نہیں آئی تھی اسے لگا وہ فارس کے آنے سے پہلے واپس آجائے گی،،،،،،،،،
سڑک پہ کھڑے ہو کر اس نے ایک ٹیکسی روکی اور اس میں بیٹھ گئی،،،،،،،،



آریان کی کڈنیپنگ کا سنتے ہی آحل اور ذائشہ ماہاویرا کے گھر پہنچ چکے تھے،،،،،،،،
لیزہ گھر آئی تو ملازم نے اسے بتایا وہ بلال کے گھر گئے ہیں اس نے اپنی گاڑی کا رخ موڑا اب اس کا ارادہ بھی ان کے گھر جانے کا تھا،،،،،،،،،
ان کی گاڑی گھر کے سامنے آکر رکی عمر باہر نکلا ساتھ ایرہ بھی باہر آئی وہ دونوں پہلے گھر میں داخل ہوئے پھر دانش گاڑی لاک کرتا ہوا گھر میں داخل ہوا،،،،،،،،
ماہاویرا صوفے پر بیٹھی آریان کے لیے دعائیں کر رہی تھی اس کے ساتھ ذائشہ جو خود بیمار ہونے کے باوجود اسے تسلیاں دے رہی تھی،،،،،،،،،،
فارس کا ایک آدمی ابھی بھی آریان کے گھر پہ نظر رکھے ہوئے تھا اس نے جیسے ہی ایرہ کو گھر داخل ہوتے دیکھا فارس کو کال کر کے بتایا،،،،،،،،،
وہ تینوں ابھی کھڑے ہی تھے کب الائیہ کا فون رنگ ہوا،،،،،،،
وہاں موجود سبھی لوگ فارس کی طرف سے کال کے منتظر تھے الائیہ نے نمبر دیکھا تو ان نان تھا کال ریسیو کرتے ہوئے اس نے موبائل کا سپیکر آن کیا،،،،،،،،
ہیلو،،،،،، وہ آریان کی آواز تھی جسے سن کر سبھی فون کی طرف بڑھے
آر۔۔آریان تم ٹھیک ہو،،،،،،، الائیہ نے خود پہ قابو پاتے ہوئے پوچھا
میں ٹھیک ہوں تم اور موم ڈید کیسے ہیں،،،،،،،، آریان نے پوچھا اس کی آواز میں چھپا درد ماہاویرا جان سکتی تھی
آریان ان لوگوں نے تمہیں کچھ کیا تو نہیں نا تم ٹھیک ہو نا،،،،،،، ماہاویرا نے موبائل پکڑتے ہوئے کہا
موم میں ٹھیک ہوں،،،،،، وہ ابھی بات کر رہا تھا کب فارس نے اس کے آگے سے موبائل ہٹایا
جو کہا ہے وہ کہو،،،،،،، فارس نے غصے سے کہہ کر پھر سے آگے موبائل کیا
الائیہ ہمارے گھر کے دائیں طرف کچھ فاصلے پر بلیک کلر کی گاڑی کھڑی ہو گی اس میں فارس کی بہن کو بیٹھا دیں اور پلیز کچھ ایسا ویسا مت کرنا،،،،،،،،،،
ل۔۔۔لیکن آریان،،،،،،،
پلیز الائیہ جو کہہ رہا ہوں وہ کرو پلیز تم میں سے کوئی بھی اب اس معاملے میں انوالو نہ ہو گھر سے باہر وہ اکیلی نکلے تم میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ نہ ہو،،،،،،،،،، آریان نے فارس کے لفظ دوہرائے
اوکے ہم اسے بھیج رہے ہیں،،،،،،،،، الائیہ نے کہا تو فارس نے کال بند کی
اب سب کی نظروں کا مرکز ایرہ تھی ایرہ نے پریشانی سے نظریں جھکا لیں،،،،،،،،،،
چلو تمہیں دروازے تک چھوڑ دوں،،،،،،، عمر نے کہا وہ دونوں مڑے
تم نے میرے پرپوزل کا جواب نہیں دیا،،،،،،، گیٹ کے پاس پہنچ کر عمر نے پوچھا
پھر ملیں گے تو بتاوں گی،،،،،،،، وہ کہتی ہوئی گیٹ سے باہر نکل گئی عمر مسکرایا وہ اسی کی بات اسے کہہ گئی تھی
گاڑی کے پاس پہنچ کر وہ گاڑی میں بیٹھی گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ فارس کا ایک اور آدمی بھی تھا،،،،،،،،،
لیزہ جیسے ہی گھر پہنچی سب ہجوم لگائے کھڑے تھے وہ حیران ہوئی،،،،،،،،
اسے نہیں معلوم تھا کہ آریان کڈنیپ ہو چکا ہے اور ایرہ کو واپس بھیج دیا جا چکا ہے،،،،،،،،
وہ آحل کے پاس کھڑی ہوئی،،،،،،،،
پاپا خیر تو ہے کیا ہو رہا ہے یہاں،،،،،،،،
بیٹا آحل کو میر فارس نے کڈنیپ کروا لیا ہے اور بدلے میں اس نے اپنی بہن مانگی تو مجبوراً ہمیں اس کی بات ماننی پڑی،،،،،،،،
کیا،،،،،،، وہ حیران ہوئی پھر ماہاویرا کی طرف دیکھا جو رو رہی وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی اور اسے چپ کروانے لگی
سب ٹھیک ہو جائے گا پھوپھو پلیز مت روئیں،،،،،،،،
ایشا نے ٹیکسی میں لیزہ کو گاڑی میں جاتے دیکھ لیا تھا اس نے اسے بہت آوازیں لگائیں لیکن لیزہ کو سنائی نہ دیں اس کا پیچھا کرتے کرتے وہ بلال کے گھر کے باہر رکی،،،،،،،،
واچ مین انکل ٹیکسی والے کو کرایا دے دو آپی سے لے دوں گی آپ کو،،،،،،،،، وہ کہتے ہوئے اندر کی طرف بھاگی
پاپا۔۔۔ ماما،،،،،،، وہ سب پریشان بیٹھے تھے جب ایک جانی سی آواز ان کی سماعت میں پڑی سب نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہ ایشا تھی وہاں موجود سبھی لوگ حیرت میں مبتلا ہوئے ایشا بچ کیسے نکلی،،،،،،،،
ایشا،،،،،،،، ذائشہ نے بھاگتے ہوئے اسے سینے سے لگایا اور رونے لگی ایشا بھی اتنے دنوں بعد اپنے ماں باپ سے مل رہی تھی اس نے بھی رونا شروع کر دیا جس سے آحل کو لگا ایشا وہاں تکلیف میں رہی ہے،،،،،،،،
ایشا میرا بچہ تم ٹھیک ہو،،،،،،،، ذائشہ کے بعد آحل نے اسے سینے سے لگایا
پاپا میں نے آپ سب کو بہت مس کیا،،،،،،،، اس نے روتے ہوئے کہا
تمہیں ان لوگوں نے کچھ کہا تو نہیں نا،،،،،،،، آحل نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا
نو پاپا مجھے کسی نے نہیں ڈانٹا،،،،،،،،
میں نے آپ کو بھی بہت مس کیا آپی،،،،،،،،،،اس نے لیزہ کو ہگ کیا
تم۔۔۔تم وہاں سے کیسے نکلی،،،،،،، ذائشہ نے پوچھا
دیوار کے ساتھ چیئر رکھ کر اس کے اوپر چڑھی پھر کود گئی،،،،،،،، وہ معصومیت سے بولی
نہیں بیٹا ہمارا مطلب ہے تمہیں ان لوگوں نے دیکھا نہیں،،،،،،،، آحل نے پوچھا
نو پاپا وہاں تو صرف میں ہی تھی،،،،،،،،
کیا مطلب ہے،،،،،،،، آحل حیران ہوا
میں اور فارس الگ گھر میں رہتے ہیں نا وہاں اور کوئی نہیں ہوتا،،،،،،،،،،
اچھا یہ بتاؤ اس نے تمہیں ٹارچر تو نہیں کیا نا،،،،،،،،، ذائشہ اسے دیکھتے ہوئے بولی
لو بھلا وہ کیوں مجھے ٹارچر کریں گے وہ تو مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں،،،،،،،، ایشا جلد بازی میں اپنے منہ سے نکلنے والی بات پر دل ہی دل میں پچھتائی
ذائشہ نے آحل کی طرف دیکھا لیزہ اور وہاں بیٹھے سبھی لوگ حیران ہوئے میر فارس بھلا ایشا سے محبت کیوں کرے گا،،،،،،،،،



ایرہ اندر داخل ہوئی جہاں آریان کرسی سے بندھا بیٹھا تھا اور فارس دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا،،،،،،،،
گڑیا،،،،،،، فارس اس کی طرف بڑھا
بھائی،،،،،، وہ اس کے سینے سے لگی
بتاؤ مجھے ان لوگوں نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا ہے میں ان کی نسلوں کو جڑ سے اکھاڑ دوں گا،،،،،،،،،، فارس نے اسے بازو سے پکڑتے ہوئے کہا
بھائی میں ٹھیک ہوں انہوں نے میرا بہت خیال رکھا ہے،،،،،،،،،، ایرہ کی بات سن کر فارس حیران ہوا آخر ایسے کیسے وہ ایرہ کا خیال رکھ سکتے تھے
ت۔۔۔تم سچ کہہ رہو نا،،،،،،،، فارس نے حیرت سے پوچھا
جی بھائی میں سچ کہہ رہی ہوں لیکن آپ نے،،،،،،،،، اس نے آریان کی طرف دیکھا
آریان تم سے نکاح کرنے کے لیے مان گیا ہے گڑیا تمہاری پانچ سالوں سے جو خواہش تھی وہ آج پوری ہونے جا رہی ہے،،،،،،،،،، فارس نے مسکراتے ہوئے کہا
یہ بات سن کر الائیہ کے پیروں تلے زمین نکلی،،،،،،،،
عمر نے ایرہ کو جو بریسلیٹ پہنایا تھا اس میں دو دل تھے ایک میں جی پی ایس ڈیوائس تھا دوسرے دل میں وائس ڈیوائس تھی اب وہاں جو بھی بات ہو رہی تھی یہاں سب سن سکتے تھے،،،،،،،،،
فارس نے مولوی کو اندر بلوایا ایرہ ابھی بھی کشمکش میں پڑی تھی،،،،،،،،،،،
فارس آج بہت خوش تھا وہ اپنی بہن سے کیا گیا وعدہ آج پورا کر چکا تھا اس نے ایرہ کو چیئر پہ بیٹھایا،،،،،،،،،
عمر خاموش بیٹھا تھا وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ایرہ کا کیا ردِعمل ہوتا ہے،،،،،،،،
الائیہ دبی دبی آواز میں رو رہی تھی ماہاویرا نے اسے سینے سے لگایا،،،،،،،،،
نکاح سے پہلے میری ایک شرط ہے جو فارس کو ماننی ہو گی،،،،،،،، آریان بولا
ایرہ نے آریان کی طرف دیکھا وہ اسے نفرت کی نظروں سے دیکھ رہا تھا،،،،،،،،،
کیا شرط ہے بولو،،،،،،، فارس بولا
تمہیں ایشا کو ڈائورس دینی ہو گی،،،،،،،،،،
آریان کی بات سن کر ایشا نے صوفے کی ٹیک چھوڑی،،،،،،،،
اوکے دے دوں گا،،،،،،،،، فارس نے نہایت آرام سے کہا
ایشا کے رونگٹے کھڑے ہونے لگے وہ اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے کیسے کر سکتا تھا،،،،،،،
آحِل اور ذائشہ نے ایشا کی طرف دیکھا وہ سکتے میں تھی،،،،،،،،،،
ایسے نہیں تمہیں زبان دینی ہو گی مجھ سے وعدہ کرنا ہو گا کہ اس نکاح کے بعد تم ایشا کو ڈائورس دو گے،،،،،،،،،،
ایرہ خاموشی سے بیٹھی ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی،،،،،،،،،،
ٹھیک ہے میں میر فارس تمہیں زبان دیتا ہوں کہ تمہارے اور ایرہ کے نکاح کے بعد میں ایشا کو ڈائورس دوں گا،،،،،،،،،،
فارس کی زبان سے یہ لفظ سنتے ہی ایشا کا دل چاہا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے وہ بھاگتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی اور اندر سے لاک لگایا،،،،،،،،،،
ایشا،،،،،،،، ذائشہ اس کے پیچھے جانے لگی جب آحل نے اسے بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا
وہ زمین پر بیٹھی ہچکیوں سے رونے لگی وہ اس کا شوہر تھا کتنی محبت کرنے لگی تھی وہ اس سے، اسے تو نکاح کا مطلب بھی نہیں معلوم تھا اسی شخص نے ہی تو اسے سیکھایا تھا پھر وہ کیسے اس نکاح کو اتنی آسانی سے توڑ سکتا تھا،،،،،،،،
اس نے دونوں کانوں پہ ہاتھ رکھے اور چینخنے لگی اس کی نظروں کے سامنے وہ سبھی منظر گردش کر رہے تھے جب جب وہ فارس کی قربت میں تھی،،
