Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 07)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 07)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
میڈیسنز کے زیرِاثر ارحام کا بخار کافی حد تک ختم ہو چکا تھا وہ فریش ہو کر ہاسٹل سے باہر نکلا،،،
ذوہا سلو سپیڈ سے گاڑی چلا رہی تھی وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ کہیں سے ارحام اسے دکھائی دے دے تبھی اس کی نظر ارحام پر پڑی جو سڑک کے ایک سائیڈ پر چل رہا تھا،،،
اس نے گاڑی کو ارحام کے پاس روکا اور باہر نکلی اسے دیکھ کر بھی وہ اگنور کر گیا تھا اور اپنے راستے چلتا رہا،،،
لسن ارحام،،،
ذوہا کی آواز پر اس کے قدم رکے ذوہا تیز قدموں سے اس کے پاس آکر کھڑی ہوئی،،،
کیسے ہو تم اور یونیورسٹی کیوں نہیں آئے،،،
ارحام پہلے بھی کسی لڑکی سے بات نہیں کرتا تھا جب سے وہ تینوں یونیورسٹی آئی تھیں کسی نا کسی وجہ سے وہ ارحام کو خود سے بات کرنے پر مجبور کر رہی تھیں،،،
میرا نہیں خیال کہ آپ کو اس سے غرض ہونی چاہیے،،، اس نے دو ٹوک جواب دیا
ذوہا اِمبیریسڈ ہوئی لیکن جلد ہی خود کو سمبھال گئی،،،
ارحام مجھے بہت برا فیل ہوا لیزہ نے تمہارے ساتھ جو بھی کیا لیکن یقین مانو میں اس کے پلین میں شامل نہیں تھی بلکہ میں تو۔۔۔
میں کسی لیزہ کو نہیں جانتا نہ ہی آپ کو جانتا ہوں پلیز مجھے میرے راستے جانے دیں،،، اس نے نظریں جھکا کر کہا
ذوہا ایک پل اس کی طرف دیکھتی رہی اگلے پل وہ اس کے سامنے سے ہٹی اور وہ خاموشی سے چل دیا،،،
ذوہا کو بہت افسوس ہو رہا تھا ارحام جیسے لڑکے کے ساتھ ایسا بلکل نہیں ہونا چاہیے تھا،،،



وہ دونوں اچھلتے ہوئے گہرائی میں گرنے لگے جب آریان نے الائیہ کا ہاتھ پکڑا اور نیچے گرتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے ایک درخت کی شاخ کو مضبوطی سے پکڑ لیا،،،
لوگوں نے شور مچا دیا تھا فوراً ریسکیو 1122 والوں کو کال ملائی گئی،،،
آریان،،، الائیہ نے سہمی ہوئی آواز میں اس کا نام لیا
الائیہ اوپر آؤ مجھے پکڑو میں ایک ہاتھ سے شاخ کو زیادہ دیر تک نہیں پکڑ سکتا،،،
اس نے الائیہ کو اوپر کھینچنا شروع کیا الائیہ نے اسے کندھوں پکڑا اور اس سے لپٹ گئی،،،
آریان نے دونوں ہاتھوں سے شاخ کو پکڑا اس نے آس پاس دیکھا تو اس کے پاؤں کی طرف ایک مظبوط شاخ نظر آئی وہ آہستہ آہستہ شاخ سے ہاتھوں کو اگے کی طرف کھسکانے لگا اور دوسری شاخ پر پاؤں جمائے،،،
الائیہ،،،
الائیہ نے آنکھیں کھولیں اور آریان کی طرف دیکھا،،،
شاخ پر پاؤں رکھو اور اوپر والی شاخ کو پکڑ کے آگے چلو،،،
الائیہ نے نیچے دیکھا آریان شاخ پر کھڑا تھا اس نے سنبھلنے ہوئے شاخ پر پاؤں ایک پہلے ایک ہاتھ سے اوپر والی شاخ کو پکڑا پھر آریان سے الگ ہو کر دوسرا ہاتھ بھی شاخ پر جمایا،،،
اب آگے بڑھو،،، آریان نے شاخ کی چوڑائی کی طرف جانے کا کہا
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی آگے کی طرف بڑھنے لگی اور آریان بھی چلنے لگا،،،
شاخ کی چوڑائی پر پہنچ کر اب انہیں نیچے گرنے کا ڈر نہیں رہا تھا،،،
تم ٹھیک ہو،،، آریان نے پوچھا
ہاں ٹھیک ہوں اور تم،،، اس نے آریان کی طرف دیکھا
میں ٹھیک ہوں،،، آریان مسکرایا تا کہ وہ الائیہ ریلیکس فیل کرے
چلو اب یہاں بیٹھ جاتے ہیں،،،
الائیہ درخت کو پکڑتی ہوئی شاخ پر بیٹھی اور آریان بھی بیٹھ گیا،،،
آریان نے اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا جو ٹوٹ چکا تھا،،،
میرا موبائل تو ٹوٹ گیا تم اپنا موبائل دو کال کر کے دیکھتے ہیں،،،
میرا موبائل تو پرس میں ہے اور وہ ٹیبل پر رہ گیا،،،
شِٹ موبائل ہوتا تو آسانی سے یہاں سے نکل سکتے تھے،،،
لیکن مجھے نہیں لگتا یہاں سگنلز ہوں گے،،،
ہممم یہ بھی ہے،،، آریان نے جواب دیا
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد الائیہ بولی۔۔۔
یہ وزٹ نہیں بھولے گا،،، الائیہ کا چہرہ شوکڈ تھا اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا اچانک ان کے ساتھ یہ کیا ہو گیا
اگر تم آج وزٹ کا نہ کہتی تو میں اس وقت فرینڈز کے ساتھ پارٹی انجوائے کر رہا ہوتا،،، آریان نے خیالی پلاؤ بنایا
اور میں آنٹ کے ساتھ بیٹھی گپیں لگا رہی ہوتی،،، الائیہ کھوئی کھوئی بولی
اس کی بات سن کر آریان کا قہقہ لگا تو الائیہ بھی ہنسنے لگی،،،
کوئی یقین کر سکتا ہے کہ ہم ایسی سچوایشن میں ہنس رہے ہیں،،، آریان نے ہنستے ہنستے کہا
بلکل نہیں وی آر کریزی،،، الائیہ ہنستے ہوئے بولی
الائیہ کے بال بکھر کر پنچھیوں کا گھونسلہ بن چکے تھے آریان انگلیوں سے اس کے بال سیٹ کرنے لگا،،،
الائیہ کی ہنسی کو بریک لگی اور آریان کی طرف دیکھنے لگی آریان نے بھی اس سے نظریں ملائیں،،،
اس کا ہاتھ بالوں سے کھسکتا ہوا اس کی نرم رخسار پر آیا الائیہ کی سانسیں تیز ہونے لگیں،،،



فارس شام چھ بجے بیچ پر پہنچا نیو پارٹی کے لوگ وہاں بیٹھے اس کا انتظار کر رہے تھے،،،
فارس چئیر پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا، بلیک تھری پیس میں وہ بہت ہینڈسم دکھ رہا تھا،،،
میر فارس کافی نام سنا ہے آپ کا،،، سامنے والا آدمی بولا
کام کی بات کریں،،، فارس نے کہا
ابھی کر لیتے ہیں وہی تو کرنے آئے ہیں،،، آدمی بولا
میں نے سنا ہے کہ آپ کا مال یہاں سے لنڈن جاتا ہے اور آج تک پولیس کے ہاتھ بھی نہیں لگا،،،
صحیح سنا ہے،،، فارس نے قیمتی سگریٹ منہ میں رکھی اور اس کے پاس کھڑے سلمان نے لیٹر آگے کر کے سگریٹ سلگھائی
ایشا لڑکیاں بیچ پر نہاتی ہوئی اچھی نہیں لگتی ہیں باہر آجاؤ،،،
ایشا مزے سے پانی میں ڈبکیاں لگا رہی تھی جب نمرہ نے اسے کہا
ہاں تو لڑکیاں اچھی نہیں لگتیں لیکن میں تو لڑکا ہوں،،، اس نے بتیسی دکھاتے ہوئے کہا
ایک تو تم اور تمہاری خوش فہمیاں،،، نمرہ نے آنکھیں گھمائیں
نمرہ پانی بہت مزے کا ہے تم بھی آجاؤ،،، وہ اس پر پانی اچھالنے لگی
جی نہیں مجھے نہیں کرنی یہ پاگلوں والی حرکتیں،،،
تو ٹھیک ہے پھر مجھے تو کرنے دو دیکھو میں تیر رہی ہوں،،، وہ پانی میں پاؤں چلانے لگی
ایشا نہیں کرو اور ٹیچر نے تمہیں دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہو گا،،،
وہ خود بیچ انجوائے کر رہی ہیں اچھا ہی ہے وہ اپنے مزے کریں اور میں اپنے،،،
اچھا یار تم نہیں آرہی نا باہر،،، نمرہ کو اس کا یوں نہانا بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا
پہلی بار تو بیچ پر آئی ہوں بعد میں پتہ نہیں کبھی آوں گی بھی کہ نہیں اس لیے سارے شوق ابھی پورے کر لوں،،،
تم کرو شوق پورے،،، نمرہ نے منہ بسورا
اچھا بس پانچ منٹ اور پھر آتی ہوں اوکے،،، ایشا نے کہا پورے پانچ منٹ اوکے میں ٹائم نوٹ کر رہی ہوں،،، نمرہ نے ہاتھ پر بندھی واچ پر ٹائم نوٹ کرنا شروع کیا
تھینکس ہمارے ساتھ ڈیل ڈن کرنے کے لیے،،، وہ آدمی کھڑا ہوا
میرا آدمی آپ کو ایڈریس بتا دے گا کل صبح وہاں مال پہنچ جانا چاہیے،،، فارس نے کہا
اوکے ڈن،،، وہ آدمی فارس سے ہاتھ ملاتا ہوا اپنے آدمیوں کو لیے وہاں سے چل دیا
بوس چلیں،،، سلمان فارس کی چئیر کے پیچھے کھڑا تھا
تم چلو میں آتا ہوں،،، فارس نے سگریٹ کا کش بھرتے ہوئے کہا
سلمان خاموشی سے گاڑی کی طرف چلنے لگا اور فارس سمندر کی ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اٹھانے لگا،،،
سگریٹ ختم ہونے کے بعد وہ اٹھا جب اس کی سماعت میں چلّانے کی آوازیں پڑیں،،،
سم بڈی ہیلپ پلیز،،، نمرہ چلّاتی ہوئی آوازیں لگا رہی تھی کیوں کہ ایشا تیرنے کے چکروں میں گہرے پانی میں چلی گئی تھی
ٹیچرز اور باقی سٹوڈنٹس بھاگتے ہوئے وہاں آئے فارس نے سمجھا کہ ایک کم عمر لڑکا پانی میں ڈوب رہا ہے اس نے ایشا کے صرف بال ہی دیکھے تھے،،،
وہ بھاگتا ہوا پانی میں گم ہو گیا،،،
پاپا۔۔۔پاپا
ایشا غوطے کھاتے ہوئے آحِل کو پکار رہی تھی جب نیچے اسے اسے کسی نے اپنے حصار میں لیا،،،
وہ تیرتا ہوا کم گہرے پانی کی طرف آیا اس نے کھڑے ہو کر ایشا کو بازوؤں میں اٹھایا جب ایشا کا چہرہ پانی سے باہر نکلا تو وہ ایک دم سے حیران ہوا تھا،،،
وہ لمبے لمبے سانس لیتی ہوئی مضبوطی سے اسے جکڑے ہوئے تھی،،،
اس کی بھیگی نیلی آنکھیں فارس کو بہت خوبصورت لگیں لیکن جلد ہی وہ ان سے نظریں ہٹا گیا،،،
پانی سے نکل کر جب اس نے ایشا کو خشکی پر کھڑا کیا تو دیکھا کہ وہ ٹوٹلی بوائز لُک میں تھی،،،
سب ایشا کا حال پوچھنے لگے لیکن وہ سہم چکی تھی،،،
اس کی ٹیچر نے فارس کا شکریہ ادا کیا اور وہ فوراً وہاں سے نکل کر گاڑی میں آکر بیٹھا وہ مکمل طور پر بھیگ چکا تھا،،،
سلمان گاڑی سے یہ تمام منظر دیکھ چکا تھا اس لیے فارس کی ایسی حالت پر وہ حیران نہیں ہوا،،،
کچھ دیر بعد جب ایشا کے حواس بحال ہوئے اس نے اپنے آس پاس دیکھا لیکن اسے بچانے والا شخص اسے کہیں بھی دکھائی نہ دیا،،،



آریان نے اس کے نرم و نازک ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرا تو الائیہ کے ہوش اڑے،،،
آ۔۔آریان،،، اس نے دھیمی سی آواز میں کہا
آریان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تبھی اسے سپیکر میں ایک آدمی کے بولنے کی آواز سنائی دی،،،
کیا آپ دونوں ہمیں سن سکتے ہیں،،،
کیا آپ دونوں ٹھیک ہیں،،،
اگر آپ ہمیں سن رہے ہیں تو کوئی اشارہ دیں تا کہ ہم آپ کو یہاں سے نکال سکیں،،، اوپر ہیلی کیپٹر چل رہا تھا جس میں بیٹھا ایک آدمی سپیکر لیے بول رہا تھا
آریان اب ہم کیسے انہیں بتائیں گے،،،
ہمیں کچھ کرنا ہو گا ایسے یہاں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہ سکتے،،، آریان نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
تم اب کیا کرنے والے ہو آریان،،،
الائیہ مجھے اپنا سٹولر دو میں درخت کہ چوٹی پر جاؤں گا،،،
لیکن تم گر کئے تو نہیں تم ایسا ہرگز نہیں کرو گے،،، وہ بھی سنبھلتی ہوئی کھڑی ہوئی
کیا کر رہی ہو الائیہ اندھیرا چھا رہا ہے ہمیں جلد از جلد یہاں سے نکلنا ہے یہ جگہ ہمارے لیے سیف نہیں ہے تم بھی جانتی ہو،،،
لیکن آریان تمہیں کچھ ہونے سے بہتر ہے کہ ہم یہی بیٹھے رہیں،،،
اگر تم پوری زندگی میرے ساتھ یہاں گزرانے کا سوچ رہی ہو تو مجھے بلکل قبول نہیں،،، اس نے آنکھ مارتے ہوئے کہا تو الائیہ نے نظریں جھکائیں
اچھا اچھا اب مشرقی لڑکیوں کی طرح ایکٹنگ کی ضرورت نہیں مجھے اپنا سٹولر دو،،،
کیا میں ایکٹنگ کر رہی ہوں،،، اس نے آریان کے بازو پر تھپکی لگائی
یہ سب گھر جا کے کر لینا،،، وہ خود ہی اس کی گردن سے سٹولر کے بل اتارنے لگا اور الائیہ اسے دیکھنے لگی
چلتا ہوں زندگی رہی تو پھر ملاقات ہو گی،،، آریان سٹولر اپنی گردن میں لپیٹ کر اوپر چڑھنے کی تیاری کرنے لگا
تم ایسے کیوں کہہ رہے ہو،،، الائیہ نے پریشانی سے کہا وہ اس کی بات کو سیرئس کے گئی
مذاق کر رہا تھا تم بس دعا کرو کہ میں سلامتی سے چوٹی پر پہنچ جاؤں اور وہ مجھے دیکھ لیں،،، وہ اوپر والی شاخوں پر چڑھتا ہوا بولا
الائیہ نے پریشانی سے ہاتھ جوڑے اور دعا کرنے لگی،،،
آریان پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا تھا اگر وہ یہاں سے گرتا تو خود کو سنبھال نہ پاتا،،،
شاخیں زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے چڑھنے میں آسانی ہو رہی تھی پندرہ منٹ بعد وہ چوٹی پر پہنچا اور گردن سے سٹولر نکال کر ہوا میں لہرانے لگا،،،
ہیلی کیپٹر میں بیٹھے آدمی نے لہراتا ہوا کپڑا دیکھا،،،



ذائشہ ایشا کی ٹیچر کو کب سے کال کر رہی تھی لیکن وہ ریسیو نہیں کر رہی تھی پریشانی میں اس نے آحل کو کال ملائی،،،
آحل آفس میں بیٹھا تھا جب اس کا فون رنگ ہوا،،،
آحل ایشا کی ٹیچر میری کال پک نہیں کر رہی ہے مجھے بہت ٹینشن لگی ہوئی ہے،،، ذائشہ پریشانی سے بولی
فکر کیوں کر رہی ہو میری بات ہوئی تھی اس کی ٹیچر سے وہ بلکل ٹھیک ہے،،،
لیکن وہ ابھی میری کال پک کیوں نہیں کر رہی پلیز آپ اسے کال کریں،،،
اچھا تم پریشان نہیں ہو میں کرتا ہوں کال اوکے،،،
ابھی کرنا،،،
اوکے بابا ابھی کروں گا چلو اب رکھو فون،،،
ذائشہ نے کام ڈسکنیکٹ کی تو آحل نے ایشا کی ٹیچر کا نمبر ڈائل کیا،،،
دوسرے بیل پر کال ریسیو کی گئی،،،
میری مسز آپ کو کئی بار کال کر چکی ہیں آپ نے ریسیو نہیں کی،،،
جی میں کچھ مصروف تھی اسی لیے کال ریسیو نہیں کر سکی،،، اس نے بہانا لگایا
اوکے میری ایشا سے بات کروا دیں،،،
ٹیچر نے ایشا کو موبائل دیا جو اب خشک کپڑے پہن کر بیٹھی تھی،،،
ہائے پاپا،،،
کیسا ہے میرا بچہ،،،
پاپا میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں،،،
تمہارے پاپا بھی ٹھیک ہیں اچھا یہ بتاؤ سب ٹھیک ہے نا کوئی پرابلم تو نہیں،،،
نہیں پاپا سب ٹھیک ہے کوئی پرابلم نہیں ہوئی،،، ایشا نے اپنے پاپا سے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا لیکن وہ یہ بات اسے بتا کر پریشان بھی نہیں کرنا چاہتی تھی
پتہ تمہاری ماما کتنی پریشان ہیں،،،
لیکن کیوں پاپا ماما کو کیا ہوا،،،
تمہاری وجہ سے پریشان ہیں،،،
تو پاپا آپ انہیں بتا دینا میں ٹھیک ہوں،،،
ابھی بتاؤں گا تب ہی اسے سکون ملے گا،،،
اوکے پاپا اب ہم کھانا کھانے لگے ہیں پھر اسلام آباد کے لیے نکلیں گے،،،
اوکے اپنا خیال رکھنا ہے ٹھیک ہے،،،
اوکے پاپا مس یو،،،
مس یو ٹو میرا بچہ،،،
ایشا نے کال ڈسکنیکٹ کی،،،



ذوہا گھر بیٹھی ارحام کے بارے میں سوچ رہی تھی وہ کسی نہ کسی طرح اسے اس بدنامی سے نکالنا چاہتی تھی،،،
کب سے وہ مختلف پلین سوچ چکی تھی جس سے ارحام بے قصور ثابت ہو جائے لیکن ایک بھی پلین اسے درست نہ لگا،،،



رات کے وقت آریان اور الائیہ گھر پہنچے ان کی بگڑی حالت دیکھ کر ماہاویرا کے ہوش اڑے،،،
ی۔۔یہ کیا ہوا تم دونوں کو،،، ماہاویرا پریشانی سے ان کے قریب آئی
وہ آنٹ،،، الائیہ سے انہیں بتایا نہ گیا
ہاں بولو کیا ہوا ہے اور تمہارے بازؤوں پر یہ زخم کیسے،،، ماہاویرا نے الائیہ نے بازؤوں پر زخم دیکھے جو نیچے گرتے ہوئے لگے تھے
کچھ نہیں ہوا موم سب ٹھیک ہے،،، آریان نے کہا
ایسے کیسے ٹھیک ہے تمہاری تو شرٹ بھی پھٹی ہوئی ہے تمہیں بھی زخم آئے ہوئے ہیں مجھے بتاؤ آریان کیا ہوا ہے تم دونوں کو،،،
آنٹ وہ ہم کھائی میں گرنے والے تھے لیکن اللہ نے بچا لیا،،،
کیا یہ کیا کہہ رہی ہو الائیہ بیٹا،،، ماہاویرا کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ان دونوں کے ساتھ اتنا بڑا حادثہ ہو گیا
ماہاویرا کا سر چکرانے لگا آریان نے اسے پکڑ کر صوفے پر بیٹھایا،،،
موم کیا ہوا آپ ٹھیک ہیں،،،
الائیہ نے جلدی سے ٹیبل پر پڑا پانی کا گلاس آریان کو دیا اور آریان اسے پانی پلانے لگا،،،
میرا بیٹا،،، وہ آریان کے سینے سے لگی رونے لگی
موم میں ٹھیک ہوں آپ کے سامنے ہوں کیا ہو گیا آپ کو،،، وہ انہیں تسلی دینے لگا
تمہیں کچھ ہو جاتا تو تمہاری ماں کا کیا ہوتا،،، وہ آنکھیں صاف کرتے ہوئے بولی
میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں موم پلیز مت روئیں مجھے اچھا نہیں لگ رہا،،،
ماہاویرا نے الائیہ کی طرف بازو پھیلائے تو ان کے گلے لگ گئی،،،
آنٹ پلیز مت روئیں نہیں تو میں بھی رو دوں گی،،، اس نے ماہاویرا کے رخسار صاف کیے
تم دونوں جلدی سے فریش ہو کر نیو کپڑے پہنو میں شکرانے کے نفل ادا کر کے آتی ہوں اور آج ہی بلال کو کہتی ہوں کہ تم دونوں کا صدقہ دے،،،
اوکے موم میں جا رہا ہوں روم میں پلیز اب پریشان نہیں ہونا،،،
ہاں ٹھیک ہے نہیں ہوتی الائیہ تم بھی فریش ہو لو پھر مل کے ڈنر کریں گے،،،
اوکے آنٹ،،، الائیہ اور آریان اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے



آحل ایشا کو پک کرنے کے لیے سٹاپ پر کھڑا تھا جیسے ہی بس رکی ایشا بھاگتی ہوئی باہر نکلی،،،
پاپا،،، وہ ہنستی ہوئی اس سے لپٹ گئی
چلو اب جلدی سے گاڑی میں بیٹھو پھر بہت سی باتیں سنانا،،، وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے
کیسا ٹرپ گزرا،،، آحل ڈرائیو کرتا ہوا بولا
بہت اچھا تھا پاپا بہت مزہ آیا اففف میں آپ کو کیا بتاؤں بیچ پر نہانے میں کتنا مزہ آتا ہے،،، وہ باتوں باتوں میں بھول ہی گئی کہ یہ بات آحل کو نہیں بتانی تھی
کیا ایشا تم بیچ پر نہائی تھی مجھے پہلے ہی شک تھا اسی لیے تمہاری ٹیچر کو بھی کہا تھا تمہیں روکے،،،
اووو پاپا،،، ایشا کی زبان کو بریک لگی
اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو،،،
پاپا کچھ بھی نہیں ہوا میں ٹھیک ہوں،،، اس نے ڈوبنے والی بات منہ سے نکالنے سے پرہیز کیا
باپ ہوں تمہارا فکر کیسے نہیں ہو گی اب یہ بات اپنی ماما کو نہ بتانا نہیں تو پورا گھر سر پر اٹھا لے گی،،،
اوکے پاپا میں نہیں بتاؤں گی ویسے بھی مجھے پتہ ہے اگر ماما کو معلوم ہو گیا تو مجھے آئندہ کبھی بھی ٹرپ پر نہیں جانے دیں گی،،،
ٹرپ پر تو تم اب بھی کبھی نہیں جاؤ گی،،،
کیا،،، آحل کی بات سن کر ایشا کا منہ کھلا
پاپا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں مطلب اب مزے ختم،،،، اسے جان کے لالے پڑے
مزے کیوں ختم ہوں گے تمہیں جہاں بھی جانا ہوا مجھے بتانا میں خود اپنے بچے کو لے کر جاؤں گا،،،
رئیلی تھینک یو پاپا،،، اس کی بات سن کر ان ایشا کی سانسیں بحال ہوئی تھیں



فارس گھر پہنچا تو ایرہ لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی اسے مصروف دیکھ کر فارس نے سکھ کا سانس لیا،،،
ایرہ نے ٹی وی سے نظر ہٹا کر فارس کی طرف دیکھا تو حیران ہوئی،،،
بھائی میرا نہیں خیال کہ آج بارش ہوئی تھی،،، وہ اس کے آدھ بھیگے کپڑوں کی وجہ سے بولی تھی
بیچ پر ایک بچی ڈوب رہی تھی بس اسے بچانے پانی میں گیا تھا،،، وہ ٹیبل پر بیٹھا
کیا واقع ہی اور وہ بچی اب ٹھیک ہے،،، ایرہ پریشان ہوئی
ٹھیک ہی ہو گی میں تو اسے نکال کر آگیا تھا،،، وہ لاپرواہی سے بولا
بھائی آپ اپنا بھی خیال رکھا کریں،،،،
کیوں مجھے کیا ہوا ہے ٹھیک تو ہوں میں،،، فارس حیران ہوا
کہاں بھائی عمر نکلتی جا رہی ہے آپ کی آور شادی کروانے کا نام نہیں لیتے مجھے بھی شوق ہے کہ آپ کے چھوٹے چھوٹے بچے مجھے پھوپھو کہہ کر بلائیں،،،
اریرہ کی بات سن کر لاؤنج میں فارس کا قہقہ لگا،،،
کیوں ہنس رہے ہیں آپ ہمیشہ اپنی شادی کی بات ٹال دیتے ہیں،،، اس نے منہ بسورا
ارے میری گڑیا کروا لوں گا شادی بھی پریشان کیوں ہوتی ہو،،، اس نے ایرہ کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا
کب کروائیں گے آپ پورے بتیس سال تین ماہ کے ہو چکے ہیں،،،
تم کیا سارا دن میری عمر کا ہی حساب لگاتی رہتی ہو،،، فارس کو حیرت ہوئی کیوں کہ مصروفیت میں وہ خود بھی بھول گیا تھا اس کی کتنی عمر ہے
آپ بات نہیں بدلیں مجھ سے پرامس کریں کہ آپ جلد شادی کریں گے،،،
اچھا نا کر لوں گا،،،
ایسے نہیں بھائی آپ پرامس کریں کہ اگر آپ کی لائف میں اس وقت کوئی لڑکی ہے تو آپ ایک ماہ کے اندر اندر اس سے شادی کریں گے،،،
گڑیا ایسی کوئی لڑکی نہیں ہے میری لائف میں،،،
اچھا پھر آپ پرامس کریں جس دن آپ کو کسی لڑکی سے پیار ہوا تو آپ اس سے ایک ماہ کے اندر اندر شادی کر لو گے،،،
ایرہ کی بات سن کر فارس نے سر تھاما کیوں کہ اسے نہیں لگتا تھا کہ اسے کبھی پیار ہو گا،،،
اوکے پرامس،،،
سچ بھائی،،، اس کی آنکھیں چمک اٹھیں
میں نے پہلے کبھی اپنی گڑیا سے جھوٹ بولا ہے،،،فارس نے کہا تو ایرہ مکسرانے لگی
جاری ہے
