Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan (Episode 31)

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

بھائی میں اس سے نکاح نہیں کروں گی،،،،،،،، ایرہ کی بات پر فارس چونکا

ادھر عمر دھیرے سے مسکرایا،،،،،،،

کیا گڑیا لیکن تم نے پانچ سال اسے ڈھونڈا ہے اب اچانک انکار۔۔۔۔۔ وہ خاموش ہوا

بھائی مجھے احساس ہو گیا ہے میں نے اپنی زندگی کے پانچ سال ایک نا معلوم شخص کے پیچھے ضائع کر دیے،،،،،،،، اس نے آریان کی طرف دیکھا

جس کے ملنے کی امید میں سالوں سے لگائے بیٹھی تھی اس نے ملتے ہی میری ساری امیدیں توڑ دیں کیا یہ محبت تھی،،،،،،،،،

وہ شخص تو اپنی دنیا میں خوش تھا میں ہی پاگل تھی جو اس کے لیے پل پل تڑپی یہ سوچا تک نہیں کہ وہ مجھے تو کیا میرے نام کو بھی بھول گیا ہو گا،،،،،،،،

یہ مجھ سے نکاح کے لیے رضامند تو ہو گیا ہے لیکن اس کے دل میں میرے لیے جو نفرت ہے وہ اس کی آنکھوں میں میں دیکھ سکتی ہوں پھر میں تو پیار کی بھوکی ہوں نا نفرت کے سہارے میں کیسے جیوں گی بھائی ایسے تو میں مر جاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔ فارس نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھا

ایسی بات آئندہ منہ سے بھی نہیں نکالنا تم میں تمہارے بھائی کی جان بسی ہے تم ہو تو میں ہوں جس میں تمہاری خوشی ہے اسی میں میری خوشی ہے،،،،،،،،،

میری خوشی چاہتے ہیں نا آپ،،،،،،

فارس نے اثبات میں سر ہلایا،،،،،،

پھر اسے چھوڑ دیں اللہ نے اسے میرے حصے میں نہیں لکھا یہ کسی اور کے نام کا ہے،،،،،،،،،

فارس حیران تھا اس نے آریان کے ہاتھ کھولے وہ اپنے ہاتھوں کو مسلتا ہوا کھڑا ہوا،،،،،،،،

میری دعا ہے تمہیں کبھی دھتکارا نہ جائے اور تم کبھی جان نہ پاؤ کہ دھتکارے جانے پر کتنی تکلیف ہوتی ہے،،،،،،، وہ آریان کے مقابل کھڑی تھی

آریان کو دکھ محسوس ہوا اس کی آنکھوں میں واقعی اس کے لیے چاہت تھی لیکن وہ کیا کرتا کسی اور کی خاطر اپنی محبت کیسے چھوڑ سکتا تھا اگر اس کی زندگی میں پہلے الائیہ نہ آتی تو اس نے ایرہ کے لیے خود کو خوش قسمت سمجھنا تھا،،،،،،،،

تم اب جا سکتے ہو،،،،،،،، ایرہ نے نظروں کا رخ بدلا

فارس حیران تھا لیکن اس بات پہ خوش بھی ہوا کہ اس کی نا سمجھ گڑیا اب سمجھدار ہو گئی ہے،،،،،،،،،

وہ کمرے سے باہر نکل گیا اور ایرہ نڈھال سی کرسی پر بیٹھی،،،،،،،،،

آریان کے وہاں سے نکلنے کا سن کر سب نے شکر ادا کیا الائیہ کی تو جان میں جان آئی تھی ماہاویرا نے اسے گلے سے لگایا،،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

ایشا بچہ دروازہ کھولو،،،،،،، چینخنے کی آواز سن کر ذائشہ اور آحل کمرے کی طرف بھاگے تھے

ایشا مسلسل روئے جا رہی تھی وہ اسے استعمال کر رہا تھا اور اسے اس بات کی خبر بھی نہ تھی اس نے الٹے ہاتھ سے اپنا نم چہرہ صاف کیا ہچکیاں تھیں کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں،،،،،،،،،،،

آ۔۔۔آپ نے مجھے دھوکہ دیا مج۔۔۔مجھے یوز کیا میں آپ گندے ہو اب ک۔۔۔کبھی آپ کے پاس نہیں جاوں گی،،،،،،،،،، اس نے روتے ہوئے اپنا چہرہ گھٹنوں میں چھپایا

ایشا دروازہ کھولو بیٹا ہم بہت پریشان ہو رہے ہیں،،،،،،، ذائشہ نے دروازہ کھٹکھٹایا

وہ ہمت کرتی اٹھی دروازے کا لاک کھولا ذائشہ نے اندر داخل ہوتے ہی اسے خود سے لگایا،،،،،،،

ماں کے حصار میں آتے ہی وہ پھر سے رونے لگی آحِل بھی پریشان کھڑا اپنی بیٹی کو دیکھ رہا تھا جس کی وجہ سے گھر میں رونق ہوا کرتی تھی آج اس کا کیا حال تھا،،،،،،،،،

م۔۔۔ماما ایک بات کرنی ہے آپ سے،،،،،،،، وہ ذائشہ سے الگ ہوئی

بولو کیا بات کرنی ہے،،،،،،،، ذائشہ نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا

م۔۔۔مجھے آؤٹ آف کنٹری جانا ہے،،،،،،،، یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھ سے آنسو نکل کر رخسار پر پھسلا تھا

اس کی بات پر ذائشہ اور آحل چونک اٹھے،،،،،،،

پ۔۔۔۔پلیز ماما انکار نہیں کرنا اگر آ۔۔۔آپ چاہتے ہو کہ میں خوش رہ سکوں تو پلیز مجھے جانے دیں،،،،،،،،،، اس نے ان دونوں کی طرف دیکھا

لیکن ایشا ہم تمہیں خود سے دور کیسے کریں میرا بچہ ہماری ساری رونق تو تم ہی ہو،،،،،،، آحل نے اس کی رخسار کو سہلایا

پاپا کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں یہاں مر جاؤں،،،،،،، وہ رونے لگی

نہیں کیسی باتیں کر رہی ہو تم میں ہماری جان بسی ہے،،،،،،،، آحل نے اسے سینے سے لگایا

تو پلیز مجھے جانے دیں میں اپنی سٹڈی وہیں کمپلیٹ کر لوں گی پلیز پاپا مان جائیں مجھے آج ہی جانا ہے،،،،،،،،

آحل نے ذائشہ کی طرف دیکھا وہ دونوں جان چکے تھے اس کا دل ٹوٹ چکا ہے اس لیے وہ کچھ عرصے کے لیے یہاں سے دور جانا چاہتی ہے،،،،،،،،

ذائشہ نے اثبات میں سر ہلایا وہ جانتی تھی جو وہ کہہ رہی ہے اسی میں اس کی بہتری ہے،،،،،،،،،

ٹھیک ہے جیسے تم کہو گی ہم ویسے ہی کریں گے،،،،،،، آحل نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا

دو گھنٹوں کے اندر اندر میری فلائٹ بک کروا دیں اس سے پہلے کہ وہ گھر جائے اور اسے معلوم ہو کہ میں وہاں نہیں ہوں میں یہاں سے چلے جانا چاہتی ہوں میں اسے دیکھنا بھی نہیں چاہتی وہ مجھے ڈھونڈتا ہوا ضرور یہاں تک آئے گا،،،،،،،،،، آنسو پھر سے اس کی رخساروں پہ بہنے لگے

سب سے پہلے تم رونا بند کرو پھر میں جا کر تمہاری فلائٹ بک کرواتا ہوں،،،،،،، اس نے ایشا کی رخساروں کو صاف کیا

م۔۔میں اب نہیں روؤں گی،،،،،،،

اس کا خیال رکھنا میں آتا ہوں،،،،،،،، اس نے ذائشہ سے کہا اور باہر نکل گیا

🔥
🔥
🔥

آریان کے جانے کی بات سنتے ہی عمر موبائل لیے لاؤنج سے باہر نکلا اسے انتظار تھا ایرہ کی باتوں میں کب اس کا ذکر آئے گا ،،،،،،،،،،

فارس نے ایرہ کو پانی کا گلاس پکڑایا جسے ایرہ نے منہ سے لگایا،،،،،،،،

تم ٹھیک ہو گڑیا،،،،،،، وہ کرسی پکڑے اس کے ساتھ بیٹھا

جی بھائی،،،،،،، اس نے نظریں جھکائیں

فارس کو وہ آج بدلی بدلی سی لگ رہی تھی،،،،،،،،

کوئی بات ہے تو کہو،،،،،،،، اس نے ایرہ کو ہاتھ مسلتے دیکھ کر پوچھا

و۔۔۔وہ بھائی ہاں مجھے آپ سے بات کرنی ہے،،،،،،،،، وہ ہچکچائی

عمر اس کی آواز پورے غور سے سن رہا تھا وہ بے تاب ہو رہا تھا اس کے منہ سے اپنا نام سننے کے لیے،،،،،،،،

کہو گڑیا کیا بات ہے،،،،،،،، اس نے تھوڑی سے اس کا چہرہ اوپر کیا

بھائی اگر ایک شخص مجھے عزت اور تحفظ دینا چاہتا ہے تو مجھے کیا کرنا چاہیے،،،،،،،،،

فارس حیران ہوا لیکن اس نے اپنے چہرے کے تاثرات نہیں بدلے اس کی گڑیا کے بدل جانے کے پیچھے کیا وجہ تھی وہ اب جان چکا تھا،،،،،،،،،

عمر کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی یعنی کہ وہ مان چکی تھی،،،،،،،،،،

تمہیں اسے قبول کر لینا چاہیے کیوں کہ جو عزت دے سکتا ہے وہ محبت بھی دے سکتا ہے،،،،،،،،، فارس نے کہا

بھ۔۔۔بھائی مجھے اس شخص نے اپنی عزت بنانے کا فیصلہ کیا ہے جسے آپ اپنا دشمن سمجھتے ہیں،،،،،،،،

کیا مطلب،،،،،،،، فارس چونکا

یہ ان ہی میں سے ایک ہے جن لوگوں کے پاس میں تین دن رہی ہوں شاید اس کا تعلق پولیس یا کسی ایجینسی سے ہے میں کنفرم نہیں،،،،،،،،،

کیا۔۔۔۔ تمہیں یقین ہے کہ وہ سچا ہے کہیں وہ تمہارا استعمال کر کے مجھ تک نہ رسائی حاصل نہ کرنا چاہتا ہو،،،،،،،، وہ پریشان ہوا

فارس کی بات سن کر عمر نے دانت پیسے وہ اس کی سچائی پر شک کر رہا تھا،،،،،،،،

نہیں بھائی ایسا کچھ نہیں ہے وہ سچا ہے میں نے اس کی آنکھوں میں سچائی دیکھی ہے،،،،،،،،،

میں بس یہی چاہتا ہوں کہ میری گڑیا آج تک جتنا روئی ہے اب باقی کی ساری عمر صرف ہنسے تمہیں کبھی کوئی دکھ نہ ملے تم بس خوش رہو تمہاری خوشی میں ہی تمہارا بھائی خوش ہے،،،،،،،، اس نے ایرہ کو سینے سے لگایا

🔥
🔥
🔥

آریان کے گھر پہنچتے ہی ماہاویرا اس سے لپٹ گئی انہوں نے شکر ادا کیا کہ ان کا بیٹا اور بیٹی دونوں ہی فارس کے چنگل سے نکل آئے تھے،،،،،،،،

آحل ایشا کی فلائٹ بک کروا آیا تھا وہ سب لاؤنج میں بیٹھے تھے جب ایشا وہاں سے رخصت ہونے کے لیے تیار کھڑی تھی،،،،،،،

ذائشہ نے ایشا کو سینے سے لگایا اس کا منہ ماتھا چوما پھر لیزہ نے اسے ہگ کیا اسے بہت دکھ ہو رہا تھا اس کی چھوٹی بہن جو پورے گھر میں شور مچاتی پھرتی تھی آج وہ اس حال میں تھی اور ان سب سے بہت دور جا رہی تھی،،،،،،،،،

ایشا نے نرم ہاتھوں سے لیزہ کے آنسو صاف کیے تو لیزہ نے مسکراتے ہوئے اس کی رخسار کو چوم لیا،،،،،،،،

اپنا بہت سارا خیال رکھنا اور روز کال پہ بات کیا کرنی ہے ٹھیک ہے،،،،،،،،،

ٹھیک ہے آپی آپ بھی اپنا بہت سارا خیال رکھنا،،،،،،،، ایشا نے روتے ہوئے کہا

باقی سب گھر والوں کو ملنے کے بعد وہ آحل کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی،،،،،،،،،

آحِل خاموش تھا اس کا ایشا میں بہت پیار تھا اگر حالات ایسے نہ ہوتے تو وہ کبھی اسے خود سے اتنا دور نہ جانے دیتا،،،،،،،،

ایئر پورٹ پہنچنے کے بعد وہ آحل کے سینے سے لگی،،،،،،،،،

اپنا بہت سا خیال رکھنا میرا بچہ تم میں میری جان بسی ہے،،،،،،، اس نے ایشا کی پیشانی پر بوسہ دیا

آپ بھی اپنا خیال رکھنا پاپا،،،،،،، وہ پھر سے رونے لگی تھی آحل نے اس کے آنسو صاف کیے

جاؤ ورنہ لیٹ ہو جائے گی،،،،،،، آحِل نے دکھ سے کہا

بائے پاپا،،،،،،،، وہ روتی ہوئی وہاں سے چل دی

آحل تب تک وہاں کھڑا رہا جب تک وہ اس کی نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی تھی اپنی لاڈلی بیٹی کو اس حالت میں دیکھ کر اس کا دل پھٹا جا رہا تھا،،،،،،،،،

ایشا اپنی سیٹ پر آکر بیٹھی اس نے دکھ سے آنکھیں بند کیں وہ کب اور کیسے اسے اتنا چاہنے لگی تھی یہ تو اسے اب معلوم ہو رہا تھا اس کا چھوٹا سا دل چینخ رہا تھا،،،،،،،،

کیوں فارس کیوں دھوکہ دیا آپ نے مجھے کیا آپ نے ایک پل کے لیے بھی مجھ سے محبت نہیں کی،،،،،،،،، اس نے سوچتے ہوئے آنکھ سے نکلنے والے آنسو کو شہادت کی انگلی سے صاف کیا

میری بدعا ہے کہ آپ بھی میرے لیے پل پل تڑپو میری ایک جھلک دیکھنے کے لیے آپ کا دل ایسے ہی پھوٹ پھوٹ کر روئے جیسے میرا دل رو رہا ہے،،،،،،،، اس نے درد کی شدت سے آنکھیں بند کیں

🔥
🔥
🔥

ایرہ کے ہاتھ میں بندھی بریسلیٹ میں جی پی ایس ڈیوائس سے عمر اس جگہ پہنچا جہاں فارس اور ایرہ موجود تھے،،،،،،،،،

عمر کو دیکھ کر فارس نے آدمی نے فوراً اسے مظبوتی سے جکڑا،،،،،،،،

تم نے ہی ہمارے باس کے اڈے کی مخبری کی تھی نا اسی لیے دوبارہ کبھی نظر نہیں آئے چلو اب تمہیں باس کے پاس لے کر چلتا ہوں تمہارا کیا انجام ہو گا یہ تمہیں خود معلوم ہو جائے گا،،،،،،،،،، وہ اسے پکڑے اس کمرے کی طرف بڑھا جہاں فارس اور ایرہ بیٹھے تھے

آجاؤ،،،،،،،، دروازہ کھکھٹنے کی آواز پر فارس نے کہا

وہ آدمی عمر کو لیے اندر داخل ہوا ایرہ اسے دیکھ کر حیران ہوئی جب کہ عمر اسے دیکھ کر مسکرانے لگا

باس مجھے پورا یقین ہے یہی وہ لڑکا ہے جس نے آپ کے اڈے کی پولیس کو مخبری کی تھی،،،،،،،،،

فارس کھڑا ہو کر اس کی طرف بڑھا،،،،،،،،

کیا میرا آدمی سچ کہہ رہا ہے،،،،،،،، اس نے عمر کو گریبان سے پکڑا

بھائی اسے کچھ مت کہیے گا،،،،،،،، ایرہ فوراً کھڑی ہوئی

فارس نے گردن موڑ کر ایرہ کو دیکھا پھر عمر کو دیکھا اسے معاملہ سمجھ آچکا تھا،،،،،،،،

اس نے اپنے آدمی کو جانے کا اشارہ کیا تو وہ کمرے سے باہر نکل گیا،،،،،،،،،

بھ۔۔۔بھائی یہ عمر ہے،،،،،،،، ایرہ نے نظریں جھکائیں

پولیس سے ہو یا،،،،،،، فارس نے آئبرو اچکایا

معذرت لیکن میں اپنا پروفیشن آپ کو بتا نہیں سکتا،،،،،،،، عمر نے کہا

کیا چاہتے ہو،،،،،،،،

آپ کی بہن کو عزت سے بیاہ کر لنڈن لے جانا چاہتا ہوں،،،،،،، وہ کانفڈینس سے بولا

میں کیسے یقین کر لوں تم دھوکہ نہیں دو گے،،،،،،،،

دھوکہ میری فطرت میں نہیں لیکن اگر آپ کوئی پروف چاہتے ہیں تو لائیں کاپی پین اپنی بات سائن کے ساتھ لکھ کر دوں گا میرے خون میں منافقت نہیں،،،،،،،

فارس نے ایک بار اسے غور سے دیکھا اس کی آنکھوں میں واقعی سچائی تھی،،،،،،،،

تمہارے ساتھیوں کو اگر معلوم ہوا کہ تم نے ایک اسمگلر کی بہن سے نکاح کر لیا ہے تو تمہارا کیا امیج رہ جائے گا ان کی نظر میں،،،،،،،،

مجھے اس چیز کی پرواہ نہیں عزت اور ذلت دینے والی ذات صرف رب کی ہے اور اگر مجھے کسی ٹوٹے ہوئے انسان کو سمیٹنے کا موقع ملتا ہے تو میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا یہاں تو بات پھر محبت کی ہے،،،،،،،،،، اس نے ایرہ کی طرف دیکھا

میں نے ایرہ کو بہت لاڈلہ رکھا ہے اسے کبھی کسی بات پر انکار نہیں کیا نہ ہی کبھی ڈانٹ ڈپٹ کی ہے،،،،،،،،،

آپ فکر مت کریں زندگی میں کبھی آپ ایرہ کے منہ سے میری شکایت نہیں سنیں گے،،،،،،،،،

فارس کے دل کو سکون ملا عمر ہر لیحاظ سے ایرہ کے لیے پرفیکٹ تھا اس نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،،،،،،،،،

تو میں آپ کی طرف سے ہاں سمجھوں،،،،،،،، عمر نے پوچھا

فارس نے اثبات میں سر ہلایا تو عمر نے لمبا سانس لیا،،،،،،،

اگر آپ کو مناسب لگے تو میں ایرہ کو اسی وقت نکاح کر کے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں،،،،،،،، عمر کی بات پر فارس کے ساتھ ساتھ ایرہ نے بھی چونک کر اس کی طرف دیکھا

لیکن اسی وقت کیوں اتنی جلدی کس لیے،،،،،،،، فارس نے پوچھا

بات دراصل یہ ہے کہ میں ایرہ کو لے کر جلد از جلد لنڈن جانا چاہتا ہوں اگر یہاں رہا تو مجھ پر میری جاب کا دباؤ ہو گا جس سے ظاہر ہے مجھے آپ کو اریسٹ کرنا ہو گا،،،،،،،،

اوووو تو چھوٹے میاں میں اتنا دم ہے کہ میر فارس کے در پہ کھڑے ہو کر اسے ہی اریسٹ کرنے کی بات کرے،،،،،،، فارس مسکرایا

دم تو بہت ہے لیکن آپ پر یہ دم آزمانہ نہیں چاہتا،،،،،،،،

ہاہاہا،،،،،، عمر کی بات پر فارس کا قہقہ لگا

دس سال چھوٹے ہو مجھ سے مجھے ہلکا کبھی مت لینا،،،،،،،،، فارس نے مسکراتے ہوئے کہا

عمر نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا چھوٹا تو وہ اس سے تھا ہی،،،،،،،،،

تو پھر کیا خیال ہے گڑیا مولوی کو بلا لیا جائے،،،،،،،، فارس نے ایرہ سے کہا تو وہ گھبراتے ہوئے نظریں جھکا گئی

فارس اس کا جواب سمجھتے ہوئے مسکرایا،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

رات ہو چکی تھی آحِل ذائشہ اور لیزہ اپنے گھر پینچے تو ارحام لاؤنج میں بیٹھا ان کا انتظار کر رہا تھا،،،،،،،،

لیزہ ارحام کو دیکھ کر گھبرا گئی کیا چیز تھا وہ کیسے بھیس بدل لیتا تھا پل میں اچھا پل میں برا اس نے آحل اور ذائشہ کو بتانے کی ٹھان لی،،،،،،،،،

انکل کہاں چلے گئے تھے آپ سب ایک گھنٹے سے آپ کا انتظار کر رہا ہوں،،،،،،،، آحل ارحام کے ساتھ والے صوفے پہ بیٹھا

بیٹا وہ میر فارس نے آریان کو کڈنیپ کروا لیا تھا اس کا سنتے ہی وہاں پہنچ گئے لیکن اللہ نے ہم پر کرم کیا جو آریان بھی واپس آگیا اور ہماری بیٹی ایشا بھی،،،،،،،،

کیا ایشا واپس آگئی لیکن کیسے،،،،،، وہ حیران ہوا

بس اللہ کی مہربانی ہے اس نے اسے راستہ دکھایا اور وہ وہاں سے بھاگ نکلی اب اسے لنڈن کی فلائٹ پہ بیٹھا کر آرہا ہوں یہاں رہتی تو وہ میر فارس اس کا پیچھا نہ چھوڑتا،،،،،،،،،

یہ تو بہت اچھا کیا اللہ اس کے لیے آسانیا پیدا کرے،،،،،،،

آمین،،،،، آحل نے کہا

لیزہ کب سے گھور گھور کر ارحام کو دیکھ رہی تھی،،،،،،،،

پاپا مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے،،،،،،،

کہو بیٹا کیا کہنا ہے،،،،،،،

پاپا ارحام ایک غنڈا ہے،،،،،،، لیزہ کی بات سن کر ارحام کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

کیا ہوش میں تو ہو تم،،،،،،، ذائشہ نے لیزہ کو ڈانٹا

جی ماما میں ہوش میں ہی ہوں ارحام کو آج میں نے اپنی آنکھوں سے ایک معصوم لڑکے پر شوٹ کرتے دیکھا ہے،،،،،،،،،

اس کی بات سن کر آحل اور ذائشہ ششدر رہ گئے،،،،،،،

ارحام یہ کیا کہہ رہی ہے لیزہ تم نے ایک معصوم لڑکے کو شوٹ کیا،،،،،،،، آحل نے پریشانی سے کہا

ن۔۔۔نہیں انکل اس کو غلط فہمی ہوئی ہے ایسا بلکل نہیں ہے،،،،،،، وہ بھی پریشان ہونے لگا

ارحام سچ سچ بتاؤ کیا لیزہ صحیح کہہ رہی ہے،،،،،،،، ذائشہ غصے سے بولی

ماما آپ کو مجھ پر یقین نہیں میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا ہے ارحام کو یہ تب ایک غنڈا دکھائی دے رہا تھا اور جب ہمارے ساتھ ہوتا ہے تو ایسا منہ بنا لیتا ہے جیسے پوری دنیا میں اس سے زیادہ شریف اور معصوم کوئی نہ ہو،،،،،،،،،،

لیزہ کی بات سن کر آحل اور ذائشہ کا قہقہ لگا اور ارحام اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کرنے لگا،،،،،،،،،

ماما۔۔۔پاپا،،،،،،، وہ حیرت سے آنکھیں کھولے انہیں ہنستا دیکھ رہی تھی

چلو بھئی ذائشہ مجھے بہت نیند آرہی ہے میں تو سونے لگا ہوں تمہیں سونا ہے تو آجاؤ،،،،،،، آحل صوفے سے اٹھا

پاپا،،،،،،، لیزہ نے حیرت سے اسے پکارا

ہاں مجھے بھی بہت نیند آرہی ہے تھک گئی ہوں میں بھی سونے لگی ہوں،،،،،،،، وہ بھی صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی

ماما،،،،،،، لیزہ نے اسے بھی حیرت سے پکارا

ارحام جو اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کر رہا تھا آحل اور ذائشہ کے جانے کے بعد خوب دل کھول کر ہنسا،،،،،،،،

ہنس کیوں رہے ہو تم غنڈے ہو خونی ہو ایک معصوم لڑکے کو تم نے شوٹ کیا،،،،،،،،، وہ بول رہی تھی جب ارحام نے ٹی وی آن کیا

\*\* یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ جو کہ خود ڈرگز تیار کرتا تھا اور یونی کے کچھ سٹوڈنٹس کو بھاری مقدار پر ڈرگز سیل کرتا تھا وہ اور اس کے ساتھی آج پکڑے جا چکے ہیں ان کی ڈرگز پاکستان سے لنڈن بھی اسمگل کی جاتی تھی۔۔۔۔۔۔

لیزہ نے دیکھا کہ ان لڑکوں میں سے ایک لڑکا وہی تھا جس پر ارحام نے شوٹ کیا تھا وہ منہ کھولے ٹی وی کی طرف دیکھ رہی تھی جب ارحام نے ٹی وی آف کیا،،،،،،،،،

لیزہ نے گردن موڑ کر ارحام کی طرف دیکھا تو اس نے ایک کارڈ لیزہ کے سامنے کیا،،،،،،،،

یہ لیزہ کے لیے دوسرا بڑا شاکڈ تھا سیکریٹ ایجینٹ احتشام ہمدانی،،،،،،،، اس نے کارڈ اس کے ہاتھ سے جھپٹا اور آنکھیں پھاڑے کارڈ کی طرف دیکھنے لگی

ارحام بیٹھا اس کی طرف دیکھتا مسکرا رہا تھا،،،،،،،،

ت۔۔۔تمہارا نام ا۔۔۔احتشام ہے،،،،،،،، لیزہ کے منہ سے بمشکل لفظ ادا ہوئے

جی ہاں اور میں کوئی غنڈا نہیں سیکریٹ ایجنٹ ہوں،،،،،،،، وہ مسکراتا ہوا بولا

یونیورسٹی میں ایسے ہی نہیں دو سال گزار دیے ان لڑکوں کا گینگ ڈھونڈنے میں دو سال لگے ہیں،،،،،،،،

ک۔۔۔کیا،،،،،،، وہ آنکھیں جھپکتی اسے دیکھنے لگی ارحام کو وہ اس وقت بہت کیوٹ لگ رہی تھی

شہروز ہمدانی الائیہ ہمدانی اور اب ا۔۔۔احتشام ہمدانی ت۔۔۔تم الائیہ کے بھائی ہو کیا،،،،،،،، اس نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا

امممم بھائی ہی سمجھ لو ویسے میں شہروز انکل کے کزن کا بیٹا ہوں،،،،،،،

ت۔۔۔۔تم آج تک مجھے بے وقف بناتے آئے ہو،،،،،،،،، اس نے کشن اٹھا کر اس کی طرف پھینکا

ارے یونی میں ریئل آئیڈینٹٹی سے تو جا نہیں سکتا تھا اس لیے سب بدلنا پڑا اور مجھے کیا معلوم تھا تم سے پیار ہو جائے گا،،،،،،،، وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی اور وہ اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا

مجھے تمہاری شکل نہیں دیکھنی ارحام۔۔۔۔۔ اوہ سوری تمہارا نام تو احتشام ہے نا تو دفع ہو جاؤ یہاں سے،،،،،،،، وہ دروازہ بند کرنے لگی جب ارحام نے دروازے میں پاؤں اٹکایا

وہ دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا اور لاک لگایا،،،،،،،،،

کیوں آئے ہو اندر چلے جاؤ یہاں سے مجھے تم سے بات نہیں کرنی تمہاری شکل۔۔۔۔۔۔ اس کے باقی کے لفظ ارحام نے پی لیے

وہ اس کے سینے پہ مکے برسانے لگی ارحام نے اس کے ہاتھوں کو قابو کرتے ہوئے اسے بیڈ پہ گرایا،،،،،،،،

اپنی پوری طاقت لگانے کے بعد جب وہ اسے خود سے الگ کرنے پر ناکام ہوئی تو ہمت ہارتی نے ہاتھوں کو ڈھیلا چھوڑا،،،،،،،،،

کچھ دیر بعد وہ اس سے الگ ہوا اور مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا،،،،،،،،

تمہاری یہ اکڑ مجھے نکالنی پڑے گی میرا مشن کمپلیٹ ہو گیا ہے کل یا پرسوں تمہیں رخصت کر کے اپنے ساتھ لنڈن لے جا رہا ہوں،،،،،،،،،

اس کی بات پر لیزہ چونکی،،،،،،،

ک۔۔۔کیا مجھے نہیں جانا لنڈن ونڈن مجھے یہیں رہنا ہے پاکستان میں،،،،،،،، اس نے دانت پیسے

جانا تو تمہیں پڑے گا ہی انکار کی گنجائش نہیں ہے میں پوری بات کر چکا ہوں انکل آنٹی سے،،،،،،،،

نکلو میرے کمرے سے،،،،،،،، اس کی بات سن کر لیزہ کا غصہ مزید بڑھا

میں تو آج رات یہیں سونے والا ہوں تمہیں جو کرنا ہے کر لو،،،،،،،، وہ اس کے اوپر ہاوی ہوا

ارحام اٹھو میرے اوپر سے،،،،،،،، اس نے اسے ہٹانا چاہا لیکن ارحام کے سامنے اس کی طاقت چڑیا جتنی تھی

وہ خاموشی سے آنکھیں بند کیے لیٹا رہا نہ جانے وہ سچ میں سو گیا تھا یا سونے کی ایکٹنگ کر رہا تھا لیزہ نے اکتے ہارتے ہوئے اپنی تمام کوششوں کو ترک کیا،،،،،،،،،

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *