Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 26)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 26)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
فارس کی گاڑی کو بریک لگتے ہی عمر نے ٹائر پر شوٹ کیا لیکن ٹریفک زیادہ ہونے کی وجہ سے نشانہ چوک گیا،،،،،،،،،
ڈونٹ شوٹ کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے،،،،،،،،، الائیہ نے کہا
فارس کو معلوم نہیں تھا کہ ایرہ گاڑی سے باہر گر گئی ہے شوٹ کی آواز سنتے ہی اس نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کی اور سپیڈ فل کی،،،،،،،،،،
فارس کی گاڑی جس گاڑی کے ساتھ ٹکرائی تھی اس میں موجود لوگ زخمی ہو گئے تھے جس وجہ سے سڑک پر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہونے لگا،،،،،،،،،
اوہ شٹ اب ہم اس کے پیچھے نہیں جا سکتے،،،،،،،، عمر نے سٹیرنگ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا
وہ لڑکی اس کی گاڑی سے باہر نکلی ہے اٹھاؤ اس کو،،،،،،، الائیہ نے کہا
وہ تینوں باہر نکلے عمر نے ایرہ کو اٹھا کر گاڑی میں لیٹایا،،،،،،،،،
فارس ابھی کچھ ہی آگے گیا تھا جب وہ ایرہ اور ایشا کو دیکھنے کے لیے مڑا،،،،،،،
ایرہ کو گاڑی میں نہ پا کر اس کے پیروں تلے سے زمین نکلی اس نے دیکھا کہ گاڑی کا دروازہ کھلا ہے،،،،،،،
گڑیاااا،،،،،،، وہ حلق کے بل چلّایا
اس نے فوراً ٹرن بیک لیا وہ اپنی گڑیا کو ان لوگوں کے پاس چھوڑ کر کیسے جا سکتا تھا،،،،،،،،،
دس پنٹ بعد وہ اس جگہ پر پہنچا پر یہاں کوئی نہ تھا نہ ہی ایرہ اور نہ ہی وہ لوگ جو اس کا پیچھا کر رہے تھے،،،،،،،،،
پریشانی سے اس کے ماتھے سے پسینے کی بوندیں ٹپکنے لگیں اس کی بہن کے ساتھ وہ لوگ کیا کریں گے اسے معلوم نہیں تھا،،،،،،،،،،
تبھی اس کا فون رنگ ہوا اس نے پاکٹ سے موبائل نکال کر کان کو لگایا،،،،،،،،،
سر ہمارے اڈے پر پولیس کا چھاپہ پڑ گیا ہے وہاں ہمارے جتنے بھی آدمی تھے سب کو گرفتار کر لیا گیا ہے،،،،،،،،،، فارس کے آدمی کی آواز اس کے کانوں میں پڑی لیکن اسے اس چیز کی فکر کہاں تھی ویسے بھی وہ تو فارس کا ایک چھوٹا سا اڈا تھا لیکن وہ جان گیا تھا کہ یہ سب ان لوگوں کا بچھایا ہوا جال تھا وہ لوگ ضرور پولیس یا کسی ایجنسی سے تعلق رکھتے تھے
وہ ابھی سکتے کی حالت میں بیٹھا تھا جب اسے ایشا کی آواز سنائی دی،،،،،،،،،
سوپر مین انکل،،،،،،، اس نے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے کہا نیم بے ہوشی میں شاید وہ بھول چکی تھی کہ فارس اس کا شوہر ہے
فارس نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا وہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی،،،،،،،،،،
فارس نے اسے بنا جواب دیے موبائل پر نمبر ڈائل کرنا شروع کیا پہلی بیل پر کال ریسیو کر لی گئی،،،،،،،،
میں تمہیں اڈریس سینڈ کرتا ہوں ہر حال میں تمہیں وہاں سے ایرہ کو نکالنا ہو گا،،،،،،،، اس نے اپنے سلمان سے کہا جو ابھی کل ہی اسلام آباد آیا تھا
اگلے لمحے اس نے کال ڈسکنیکٹ کر کے گاڑی سٹارٹ کی،،،،،،،،،
ہم کہاں ہیں،،،،،،، ایشا نے حیرت سے پوچھا شاید بے ہوش ہونے کے باعث وہ کچھ دیر کے لیے اپنے حواس کھو بیٹھی تھی
فارس نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا،،،،،،،،



ایرہ کی آنکھ کھلی تو وہ ایک کمرے میں موجود تھی اسے اپنے سر میں شدید درد محسوس ہو رہا تھا اس نے اپنے سر پر ہاتھ لگایا تو وہاں بینڈیج کی گئی تھی،،،،،،،،،
فوراً کمرے میں الائیہ اور دانش داخل ہوئے دانش کے ہاتھ پہ گولی چھو کے گزری تھی،،،،،،،،،،
میر فارس سے کیا رشتہ ہے تمہارا،،،،،،، الائیہ نے اس کے سامنے والی چیئر پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
ایرہ گھبرا گئی وہ کہاں تھی اور یہ لوگ نہ جانے اب اس کے ساتھ کیا سلوک کرنے والے تھے وہ بستر سے اٹھ کر بیٹھی،،،،،،،،،
میں نے پوچھا میر فارس سے کیا رشتہ ہے تمہارا،،،،،،،، وہ چلّائی
چھ۔۔۔چھوٹی بہن ہوں اس کی،،،،،،،، اس نے پریشانی سے جواب دیا
اوووو پھر تو تمہیں سب معلوم ہو گا تمہارا بھائی کہاں گیا ہے،،،،،،،،
نہیں مجھے کچھ نہیں معلوم،،،،،،،،،
تم بہن ہو اس کی اور تمہیں ہی کچھ نہیں معلوم تو پھر کسے معلوم ہے،،،،،،،،،،، دانش نے دانت پیستے ہوئے کہا
میں کچھ نہیں جانتی،،،،،،،،، وہ چہرہ نیچے کیے رونے لگی
تبھی کمرے میں آریان اور عمر داخل ہوئے،،،،،،،،،
کچھ بتایا اس نے،،،،،،، عمر نے پوچھا
فلحال تو نہیں لیکن بہت جلد بتا دے گی جب اچھی خاطر تواضح ہوئی تو،،،،،،،، الائیہ نے اسے ڈرانا چاہا
ایرہ نے روتے ہوئے چہرہ اوپر کیا جب اسے اپنے سامنے آریان کھڑا دکھائی دیا اسے لگا جیسے صحرا میں اسے پانی مل گیا ہو جیسے خزاں میں ایک تازہ پھول نظر آگیا ہو،،،،،،،،،،
آریان ابھی یہ سوچ کر ہی حیران ہو رہا تھا کہ وہ لڑکی اسے اس طرح کیوں دیکھ رہی ہے جب اگلے لمحے وہ بھاگتی ہوئی اس کے سینے سے لگی،،،،،،،،،،
آریان کے ساتھ ساتھ یہ بات وہاں موجود سبھی لوگوں کو حیران کر گئی تھی،،،،،،،،،
آریان پلیز مجھے یہاں چھوڑ کے مت جانا آریان پلیز ہیلپ می پلیز ہیلپ می،،،،،،،،، وہ شدت سے روتی ہوئی کہہ رہی تھی الائیہ نے حیرت سے آریان کی طرف دیکھا کیا رشتہ تھا اس کا اس لڑکی کے ساتھ
کون ہو تم،،،،،،،،، آریان نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا اس کے چہرے پر صرف حیرت تھی
م۔۔۔میں ایرہ،،،،،،،
کون ایرہ میں تمہیں نہیں جانتا،،،،،،،،،
آریان کے لفظ ایرہ کے لیے تکلیف دہ تھے،،،،،،،،،،
مجھے تم سے اکیلے میں بات کرنی ہے پلیز ایک بار میری بات سن لو،،،،،،،،،، وہ روتی ہوئی بولی
الائیہ نے شکوہ بھری نظروں سے آریان کو دیکھا اور غصے سے کمرے سے باہر نکل گئی،،،،،،،،،
تم اس کی بات سنو ہم بعد میں اس سے بات کریں گے،،،،،،،، دانش نے کہا اس کے ساتھ عمر بھی کمرے سے باہر نکل گیا
کون ہو تم کیوں یہ ڈرامہ کر رہی ہو،،،،،،،،، وہ تلخ لہجے سے بولا
ن۔۔۔نہیں یہ ڈرامہ نہیں ہے آریان پانچ سال پہلے ہم کراچی میں ملے تھے تمہیں میں یاد ہوں نا،،،،،،،،، اس نے امید بھری نظروں سے اسے دیکھا
مجھے کچھ نہیں یاد پلیز یہ ڈرامہ بند کرو،،،،،،،،
مجھے کچھ لوگوں نے کڈنیپ کیا تھا تب تم میری ہیلپ کرنے آئے تھے تم نے مجھے بچایا تھا آریان پلیز یاد کرو،،،،،،،،،،
آریان اب وہ واقع یاد آچکا تھا اور ایرہ وہ لڑکی تھی اس نے اسے پہچان لیا تھا،،،،،،،،،
ہاں مجھے یاد ہے اور تم وہ لڑکی ہو،،،،،،،،، وہ حیرت سے بولا
ایرہ کی خوشی کی حد نہ تھی آریان نے اسے پہچان لیا تھا،،،،،،،،،
م۔۔میں وہ لڑکی ہوں تم کہاں چلے گئے تھے میں نے پانچ سال تمہیں کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا،،،،،،،،،، اس کی آنکھوں سے آنسو متواتر بہہ رہے تھے
لیکن تم نے مجھے کیوں ڈھونڈا،،،،،،،، وہ حیران ہوا
ایرہ نے نظریں جھکائیں وہ اسے کیسے بتاتی کہ پانچ سال سے وہ اس سے کتنی محبت کرتی آرہی ہے،،،،،،،،،
کیوں کہ میں تمہیں چاہنے لگی تھی،،،،،،، وہ نظریں جھکائے بولی
آر یو میڈ،،،،،،،، اس بات پر وہ ششدر رہ گیا تھا
تم ایسے ہی کسی کو بھی چاہنے لگو گی اس انسان کو چاہے تمہارے بارے میں پل کی بھی خبر نہ ہو،،،،،،،،
کسی کو نہیں۔۔۔۔ تمہیں چاہا ہے میں نے اور تمہیں ہی چاہوں گی میری زندگی کے پہلے لڑکے ہو تم میری پہلی محبت ہو،،،،،،،،، وہ روتے ہوئے چلّائی
تم ایک عجیب لڑکی ہو میں نے اللہ کی خاطر تمہاری ہیلپ کی تھی تم ہو کہ اس کا غلط مطلب سمجھ بیٹھی اور میری زندگی میں الائیہ کے سوا کسی اور کی گنجائش بھی نہیں ہے بہت جلد میری اس سے شادی ہونے والی ہے تو بہتر ہے اپنی اس بچگانہ حرکت پر غور کرتے ہوئے خود کو سدھارو،،،،،،،، اس نے دو ٹوک بات کی
ت۔۔۔تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو میں نے پانچ سال تمہارا انتظار کیا،،،،،،،، وہ بے یقینی سے اسے دیکھتے ہوئے بولی
کیا میں نے کہا تھا تمہیں میرا انتظار کرنے کے لیے،،،،،، اس نے تلخی سے کہا
ایرہ کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا وہ جس کے لیے پانچ سال پل پل تڑپی تھی اس نے ایک ہی پل میں اس کی محبت کو پاؤں تلے روند دیا تھا،،،،،،،،،
وہ زمین پر گری آریان اسے عجیب نظروں سے دیکھتا ہوا باہر نکل گیا،،،،،،،،
ایرہ اس کی پشت کو دیکھنے لگی کیا یہی وہ شخص تھا جس کی محبت میں وہ آج تک تڑپی تھی،،،،،،،،،



وہ ایک گھر میں داخل ہوئے جو چھوٹا مگر خوبصورت تھا،،،،،،،،،
ایشا نے آس پاس نظر دوڑائی اسے سب کچھ یاد آچکا تھا وہ فارس سے ڈر بھی رہی تھی کیوں کہ اس نے فارس کو شوٹ کرتے ہوئے دیکھا تھا،،،،،،،،
کمرے میں آکر فارس نے شرٹ کے دو بٹن کھولے اور صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا،،،،،،،،،
ایشا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے میں داخل ہوئی اس نے فارس کی طرف دیکھا تو وہ آنکھیں موندے بیٹھا تھا، وہ بے آواز قدموں سے باہر کھسکنے لگی
رکو،،،،،،، فارس کی آواز پر اس کے قدم جم گئے اس نے ایشا کی طرف دیکھا اور اس کے پاس آکر کھڑا ہوا
اپنے گھر والوں کو تم نے میرے بارے میں بتایا تھا،،،،،،،، اس کی آنکھوں میں وحشت دیکھ کر ایشا اس سے مزید خوفزدہ ہونے لگی
کچھ پوچھ رہا ہوں میں سنائی دے رہا ہے یا بہری ہو گئی ہو،،،،،،،،، وہ دانت پیستے ہوئے بولا
ایشا نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا،،،،،،،،
تو پھر کیسے معلوم ہوا ان لوگوں کو ہاں،،،،،،، اس نے ایشا کے دونوں بازوؤں کو سختی سے پکڑا ایشا کو درد ہونے لگی
بتاؤ عین وقت پر وہ پورے انتظام کے ساتھ بیٹھے تھے تا کہ جیسے ہی میں آؤں مجھ پر حملہ کر سکیں،،،،،،،،، وہ غصے سے بولا
ایشا کی آنکھیں بھرنے لگیں اس پر آج تک کسی نے غصہ نہیں کیا تھا وہ ابھی بھی نفی میں سر ہلا رہی تھی،،،،،،،،
منہ سے بولو زبان کٹ گئی ہے کیا،،،،،،، وہ چلّایا
ایشا نے رونا شروع کیا وہ اس سے بہت خوفزدہ ہو رہی تھی اور دوسرا غلطی بھی اس کی تھی جو اس نے آحل کو فارس کے بارے میں بتا دیا تھا،،،،،،،،
کہیں تم بھی پلین کے تحت میرے پاس تو نہیں آئی،،،،،،،، اس نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا
فارس کی بات ایشا کے رونگٹے کھڑے کر گئی وہ تو معصوم تھی اسے کچھ بھی معلوم نہیں تھا،،،،،،،،،
وہ روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی،،،،،،،
تمہاری وجہ سے میری بہن نہ جانے اب کس حال میں ہو گی اگر اس پر ایک خروش بھی آئی تو اس کا بدلہ تم چکاؤ گی آئی سمجھ،،،،،،،،،
اس نے ایشا کو دھکا دیا وہ زمین پر جا گری خوف سے اس کا جسم کانپ رہا تھا وہ بنا اسے دیکھے کمرے سے باہر نکل گیا،،،،،،،،،،
پ۔۔۔پاپا،،،،،، آحل کو پکارتے ہوئے اس کے رونے میں شدت آئی وہ جب بھی کسی تکلیف میں ہوتی تھی ہمیشہ آحل کو پکارتی تھی
ہچکیوں سے روتے ہوئے اس نے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے فارس گیا تھا وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرے گا ایشا نے کبھی سوچا بھی نہ تھا



وہ ایشا کو چھوڑنے آرہا تھا تم سب کی وجہ سے میری بچی کو وہ پھر سے اپنے ساتھ لے گیا،،،،،،،، ذائشہ نے روتے ہوئے کہا جہاں سب اس کے سامنے کھڑے تھے
اگر فلحال کے لیے وہ ایشا کو چھوڑ بھی جاتا تو اس نے اسے واپس لے جانا تھا کیوں کہ وہ اس کے نکاح میں ہے،،،،،،،، آحل نے اسے سمجھایا
ہم کورٹ سے ڈائورس لے لیتے پھر تو نہیں لے جا سکتا تھا اسے،،،،،،،،
ذائشہ ہم نے پوری کوشش کی جو قسمت میں لکھا تھا وہی ہوا ہے اور تم نا امید کیوں ہوتی ہو ہماری ایشا بلکل ٹھیک ہے دانش بتا رہا تھا وہ گاڑی میں اس لڑکی کے ساتھ بیٹھی ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی،،،،،،،،،
وہ تو ہنس ہنس کر ہی باتیں کرے گی نا اسے کیا معلوم کیا اچھا ہے اور کیا برا اسے کیا معلوم وہ کا انسان سے نکاح کر بیٹھی ہے،،،،،،،،،
ذائشہ سب ٹھیک ہو جائے گا تم بس دعا کرو اور رونا بند کرو،،،،،،، ماہاویرا نے پاس بیٹھ کر اسے سمجھانا چاہا
جب تک میری بچی میرے سامنے نہیں آجاتی نہیں چپ کروں گی میں،،،،،،،،، وہ غصے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چل دی آحِل نے پریشانی سے ماتھے پر ہاتھ رکھا



الائیہ میری بات سنو،،،،،،، آریان نے اسے پکارا رات ہو چکی تھی اور الائیہ اس کی بات سننے کو تیار ہی نہ تھی
کیا کہنا ہے تمہیں آریان یہی کہ تمہیں ایکس گرل فرینڈ ہے وہ،،،،،،، وہ تنز سے بولی
کیا کہہ رہی ہو تم ایسا ہرگز نہیں ہے تم سے پہلے میری زندگی میں کوئی لڑکی نہیں تھی تم میری زندگی کی پہلی اور آخری لڑکی ہو یہ بات مائنڈ میں رکھنا،،،،،،،،،
اوہ بس کرو وہ لڑکی بنا کسی کا لیحاظ کیے تمہارے سینے سے چپک گئی اور تم کہتے ہو میں تمہاری زندگی کی پہلی لڑکی ہوں آخر تمہارا اس کے ساتھ کوئی تو تعلق رہا ہو گا نا،،،،،،،،،،
تمہیں میں جو بتانے جا رہا ہوں پلیز سمجھنے کی کوشش کرنا میں اس لڑکی کو جانتا نہیں ہوں بس پانچ سال پہلے میں موم ڈیڈ کے ساتھ کراچی گیا تھا وہاں میں نے دیکھا کہ ایک لڑکی کو کچھ غنڈے پکڑے ہوئے ہیں،،،،،،،،،
اور تم نے ہیرو بن کر اس کی مدد کی تب سے وہ تمہارے پیار میں پڑ گئی ایسا ہی ہے نا،،،،،،، وہ تنزیہ مسکرائی
نہیں ایسا نہیں ہے میں نے بس پولیس کو کال کی تھی اس لڑکی نے صرف تب دیکھا تھا مجھے اور ہماری کوئی بات نہیں ہوئی تھی بس ایک دوسرے کا نام ہی پوچھا تھا،،،،،،،،،
نہیں نہیں بتا دو نام پوچھنے کے بعد کیا ہوا تھا،،،،،،، اس نے دانت پیسے
اوہ خدایا ایسا کچھ نہیں ہوا بس نام ہی پوچھا تھا پھر میں وہاں سے چلا گیا تھا آج پانچ سال بعد اس نے مجھے دیکھ کر اچانک ایسا بیحیو کیوں کیا میں نہیں جانتا تھا،،،،،،،،
نہیں جانتا تھا کا کیا مطلب ہے،،،،،،،،، اس نے آریان کو گھورا
آریان خاموش رہا،،،،،،،،،،
بتاؤ بولتے کیوں نہیں بند کمرے میں اس نے کیا کہا تم سے،،،،،،،
اس نے کہا کہ وہ مجھے لائک کرتی ہے اور مجھے پانچ سال ڈھونڈا ہے اس نے،،،،،،،،
واؤ آریان تمہاری تو قسمت کھل گئی ایک لڑکی پہلی ملاقات میں تم سے محبت کر بیٹھی پھر پانچ سال تمہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے سڑکوں پر دھکے کھائے،،،،،،،،، وہ تنزیہ ہنسی
الائیہ مذاق اڑانا ہے تو ٹھیک ہے نہیں روکوں گا لیکن مجھے اتنا بتا دو تمہیں کس بات سے فرق پڑتا ہے اگر کوئی مجھے لائک کرے یا میں کسی اور کو لائک کروں،،،،،،،،
وہ خاموش ہوئی آریان کی بات بھی درست تھی لیکن الائیہ کو ایرہ سے عجیب جیلسی فیل ہو رہی تھی،،،،،،،،
ٹھنڈے دماغ سے سوچ کر جواب دینا،،،،،،، وہ وہاں سے مڑنے لگا جب الائیہ نے اس کا ہاتھ پکڑا
آئم سوری،،،،،،، اس نے آریان کے کندھے سے سر ٹکایا
آریان نے اس کے بالوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے سکون کا سانس لیا،،،،،،،،
تم اس لڑکی سے اب نہیں ملو گے،،،،،،،،
نہیں ملوں گا بے فکر رہو،،،،،،،، وہ مسکرایا



رات کے سائے گہرے ہو چکے تھے ایرہ کمرے میں زمین پر بیٹھی رو رہی تھی اسے آریان مل تو گیا تھا لیکن وہ اسے پا نہیں سکتی تھی،،،،،،،،،،
دانش اور عمر ایرہ کو آحل کے گھر سے لے آئے تھے انہوں نے ایک فلیٹ لیا جس میں ایک کمرے میں ایرہ کو رکھا،،،،،،،،،،
انہوں نے ایرہ کو تب تک پاس رکھنا تھا جب تک وہ انہیں فارس کے بارے میں سب کچھ بتا نہیں دیتی تھی،،،،،،،،،،
دروازے کا ہینڈل گھوما عمر اندر داخل ہوا تھا اس کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی،،،،،،،،،
ایرہ نے پاؤں سمیٹ کر گھٹنوں میں چہرہ چھپایا،،،،،،،،
کھانا کھا لو،،،،،،، عمر نے ٹرے ٹیبل پر رکھی
ن۔۔۔نہیں کھانا ہے مجھ۔۔۔مجھے لے جاؤ،،،،،،، وہ روتے ہوئے بولی
الائیہ سے عمر نے آریان کو ہگ کرنے کی وجہ پوچھی تھی اور اس نے عمر کو سب بتا دیا تھا،،،،،،،،،
تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا،،،،،،، اسے نہ جانے کیوں ایرہ کو روتا دیکھ کر اس سے ہمدردی ہو رہی تھی
م۔۔۔میری مرضی میں کچھ کھاؤں یا نہ آپ ک۔۔۔کون ہوتے ہو خیال کرنے والے،،،،،،،، وہ غصے سے بولی لیکن اسے ابھی بھی ہچکی لگی تھی
وہ عمر کی طرف دیکھ رہی تھی اس کی سرخ آنکھوں میں وہ زیادہ دیر تک نہ دیکھ سکا،،،،،،،،،،
اس نے پانی کا گلاس اٹھا کر ایرہ کے آگے کیا اتنے گھنٹوں سے رونے کی وجہ سے ایرہ کا حلق بلکل کڑوا اور خشک ہو چکا تھا اس نے ایک نظر عمر پر ڈالی پھر کانپتے ہاتھوں سے گلاس پکڑا،،،،،،،،،
گلاس ہونٹوں کو لگاتے ہی اس نے پیچھے کیا،،،،،،،،،،
ت۔۔تم نے اس میں کچھ ملایا ہو گا،،،،،،،، وہ پریشان ہوئی وہ جانتی تھی اس وقت وہ دو مردوں کی موجودگی میں اکیلی ہے
عمر نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر خاموشی سے گلاس پکڑا اور ایک گھونٹ اپنے اندر انڈیلی،،،،،،،
ایرہ نے پریشانی سے اسے دیکھا پھر تیزی سے گلاس پکڑ کر منہ سے لگایا ایک ہی سانس میں وہ سارا پانی ختم کر گئی تھی عمر ابھی بھی اسے دیکھ رہا تھا،،،،،،،،،
اور چاہیے،،،،،،، اس نے پوچھا
ایرہ نےاثبات میں سر ہلایا،،،،،،
اس نے جگ سے پانی کا گلاس بھر کر ایرہ کی طرف بڑھایا جسے ایرہ پکڑتے ہی خالی کر گئی،،،،،،،،
بے فکر رہنا تمہیں ہم دونوں کی طرف سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا،،،،،،،، اس کی بات سن کر ایرہ خاموش رہی
ایک بات کہوں،،،،،،، عمر نے کہا ایرہ نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا
تم بہت معصوم ہو۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں کسی کی پرسنل لائف میں انٹرفیئر نہیں کرنا چاہیے لیکن میں نے تمہارے بارے میں سب سن لیا ہے،،،،،،،،،
ایرہ نے اسے گھورا وہ اس کی پرسنل لائف میں انٹر فیئر کر رہا تھا اور یہ بھی کہہ رہا تھا انٹر فیئر نہیں کرنا چاہیے وہ تو جانتی بھی نہیں تھی وہ کون تھا،،،،،،،،،،
اگر اجازت ہو تو ایک سوال پوچھوں،،،،،،،، اس نے کھانے کی ٹرے سامنے کی
ایرہ نے پہلے کھانے کی طرف پھر اس کی طرف دیکھا،،،،،،،،،
کیا تم کچھ دیر کے لیے گونگی بھی ہو جاتی ہو،،،،،،،، وہ مسکرایا
ایرہ نے اسے گھورا،،،،،،،،
چلو میں خود ہی سوال کر لیتا ہوں وہ پوچھنا یہ تھا کہ جب بھوک لگی ہو تب کیا کرنا چاہیے،،،،،،،،،
اس نے نوالا بنا کر اپنے منہ میں رکھا،،،،،،،
ایرہ نے کھانے کی طرف دیکھا چکن نہاری اس کی فیورٹ ڈش تھی،،،،،،،،،
ویسے نہاری میری بھی فیورٹ ڈش ہے،،،،،،، وہ دوسرا نوالا منہ میں رکھتے ہوئے بولا
ایرہ کو حیرت ہوئی اسے کیسے معلوم ہوا کہ وہ دل میں کیا سوچ رہی ہے،،،،،،،،
اپنے ان حسین ہاتھوں سے بنائی ہے میں نے جانتی ہو میں نہاری بنانے میں ایکسپرٹ ہوں،،،،،،،، اب وہ تیسرا نوالا کھا رہا تھا ایرہ ٹکٹکی باندھ کر اسے کھاتا ہوا دیکھ رہی تھی
واہ کیا ذائقہ ہے،،،،،،، چوتھا نوالا چباتے ہوئے اس نے کہا
ایرہ نے غصے سے اس کے ہاتھ سے نان پکڑ کر ٹرے اپنی طرف کھسکائی،،،،،،،،،
بھوک تو اسے بھی بہت لگی تھی اتنے گھنٹوں سے وہ مسلسل روئے جا رہی تھی وہ نوالا منہ میں رکھ کر کھانے لگی،،،،،،،،
اس نے عمر کی طرف دیکھا جو اب اس کے نوالے گننے کو بیٹھا تھا،،،،،،،،
ایرہ نے اسے گھورہ جس کا مطلب تھا وہ اب کمرے سے دفع ہو جائے،،،،،،،،،
وہ مسکراتے ہوئے اٹھا اس کا مقصد ایرہ کو کھانا کھانے پر مجبور کرنا تھا اور وہ کر چکا تھا،،،،،،،،



رات کے بارہ بجے فارس کمرے میں داخل ہوا اس کے خیال کے مطابق ایشا اب تک سو چکی تھی لیکن ایشا کو جاگتا دیکھ کر اسے حیرت ہوئی،،،،،،،،،،،،
اس نے نہ ہی خود کچھ کھایا تھا نہ ہی ایشا سے کچھ کھانے کو پوچھا تھا،،،،،،،،،،
اس کی طرف ایشا کی کمر تھی ایشا نے جیسے ہی محسوس کیا کہ فارس کمرے میں آیا ہے وہ بنا اس کی طرف رخ کیے کمفرٹر اوڑھے لیٹ گئی،،،،،،،،،،،
فارس نے ایک نظر اس پر ڈالی پھر بیڈ کی ایک طرف بیٹھ گیا،،،،،،،،،،
کچھ دیر وہ بیٹھا رہا نہ اس نے ایشا سے کوئی بات کی تھی اور نہ ہی ایشا نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی آج جو کچھ بھی ہوا تھا ایشا کی وجہ سے ہوا تھا فارس کو اس بات کا بہت غصہ تھا،،،،،،،،،،،
وہ لائٹ آف کر کے بستر پر لیٹا اور ایرہ کے بارے میں سوچنے لگا نہ جانے وہ اس وقت کیا کر رہی ہو گی جس بہن کو اس نے ساری عمر سینے سے لگا کر رکھا تھا کہ کہیں اسے کوئی تکلیف نہ پہنچے آج وہ اس سے دور اس کے دشمنوں کے پاس تھی،،،،،،،،،،
کچھ دیر لیٹے رہنے کے بعد فارس کو سسکیوں کی آواز سنائی دی اس نے ایشا کی طرف دیکھا اسے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ رو رہی ہے،،،،،،،،،
اس نے اپنا ہاتھ ایشا کی طرف بڑھایا تا کہ اسے سینے سے لگا کر سکون دے سکے لیکن ایرہ کے خیال نے اس کا ہاتھ روک دیا،،،،،،،،،
اگر رونا ہی ہے تو باہر جا کر سو جاؤ میری نیند خراب مت کرو،،،،،،،، اس کی غصے بھری آواز سے ایشا ڈر گئی
اسے پہلے سے بھی زیادہ رونا آنے لگا تھا فارس نے ایک بار بھی اس سے پیار سے بات نہیں کی تھی،،،،،،،،
وہ بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی لاونج میں بیٹھ کر وہ ہچکیوں سے رونے لگی اس کے لیے سانس لینا بھی محال ہو گیا تھا،،،،،،،،
