Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 12)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
وہ اس کی نیلی آنکھوں میں گہرا سا دیکھ رہا تھا وہ مسکراتی ہوئی اس سے الگ ہوئی،،،،،،،،
سب ان کے ڈانس کی تعریف کر رہے تھے ذوہا خوشی سے پاگل ہو رہی تھی جو وہ چاہتی تھی شاید وہ پورا ہو رہا تھا،،،،،،،،
ذوہا بھاگتی ہوئی لیزہ کے گلے لگی،،،،،،،
تھینک یو سو مچ یار،،،،،،،،
لیزہ نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھوں کے گرد بازو حائل کیے،،،،،،،،،
مجھے یقین نہیں آرہا تم نے ہم سے ناراضگی ختم کر دی،،،،،،، وہ سختی سے اسے گلے سے لگائے ہوئے تھی
ارحام یہ سب دیکھ کر حیران تھا آخر ایسا کیا ہوا جو لیزہ نے اپنی ضد چھوڑ دی،،،،،،،
واؤ کمال کر دیا تم دونوں نے،،،،،،،، ہما ان کے پاس آئی ذوہا نے اسے بھی ہگ کیا
تم تو بڑے چھپے رستم نکلے ارحام ویسے تمہیں دیکھ کر لگتا نہیں تم اتنا اچھا ڈانس بھی کر لیتے ہو،،،،،،،، ہما نے اسے چھیڑا
ریئلی ارحام یو آر امیزنگ کمال کر دیا،،،،،،،، ذوہا نے کہا
ایکسکیوز می ارحام کو ڈانس کروانے والی میں تھی شاید تم دونوں یہ بات بھول رہیں ہو،،،،،،،، لیزہ نے ذوہا اور ہما کو گھوری سے نوازہ
او ہو تم تو کوئین ہو تمہاری جتنی تعریف کریں کم ہے،،،،،،،، ہما نے کہا تو لیزہ کی آنکھوں میں غرور رونما ہوا
کیوں نا بیٹھ کر باتیں کریں،،،،،،،، ذوہا بولی
چلو،،،،،،، لیزہ نے کہا
وہ چاروں ایک ٹیبل کے پاس چیئرز کھینچتے ہوئے بیٹھے،،،،،،،
آج کی رات میرے لیے لکی ہے،،،،،،، ذوہا کا خوشی کے مارے برا حال ہو رہا تھا
آئی مسڈ یو سو مچ مائے سویٹ ہارٹ،،،،،،، اس نے لیزہ کا ہاتھ پکڑا
مسڈ یو ٹو مائے بے بی،،،،،،، لیزہ مسکرائی
بس بس ہمارے دمیان ایک موسٹ ہینڈسم بوائے بھی موجود ہے،،،،،،،، ہما نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے کہا
ارحام کو یہ معاملہ کچھ ہضم نہیں ہو رہا تھا لیزہ اور ہما کا اچانک بدل جانا دال میں کچھ تو کالا تھا،،،،،،،،
تبھی ویٹر جوس کی ٹرے ہاتھ میں لیے ان کے پاس آیا سب سے پہلا گلاس ہما نے اٹھایا، ذوہا نے اپنی سائیڈ کا گلاس اٹھایا ارحام ایک گلاس اٹھانے لگا تو لیزہ نے ایک گلاس اٹھا کر اس کے آگے کیا،،،،،،،
ارحام نے لیزہ کی کاجل سے بھری نیلی آنکھوں میں دیکھا وہ حیسن فریبی آنکھیں جو اس وقت مسکرا رہی تھیں،،،،،،،،
ارحام نے اس کے ہاتھ سے گلاس پکڑا اور منہ کو لگایا لیزہ نے مسکراتے ہوئے آخری گلاس اٹھایا،،،،،،،
اچانک ہما کے ہاتھ سے گلاس پھسلا اور ذوہا کے کپڑوں پر جا گرا،،،،،،،،
اوہ۔۔۔۔۔۔ ذوہا آئم سو سوری مجھے پتہ ہی نہیں چلا کب ہاتھ سے پھسل گیا،،،،،،
اٹس اوکے یار،،،،،،، ذوہا آج ویسے ہی بہت خوش تھی اس کی دوستیں اسے واپس جو مل گئیں تھیں اس لیے اسے بلکل برا نہیں لگا تھا
خیال کرنا تھا ہما دھیان سے پکڑتی گلاس،،،،،، لیزہ نے اپنا گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
یار پتہ نہیں کیسے ہو گیا دیکھو ذوہا تمہارا سارا ڈریس خراب ہو گیا ہے،،،،،،،، ہما پریشان ہوئی
کوئی بات نہیں یار تم کیوں پریشان ہوتی ہو،،،،،،،،
اچھا چلو واش روم چلتے ہیں اسے کلین کرتے ہیں،،،،،، ہما کھڑی ہوئی
ذوہا بھی کھڑی ہوئی اور اس کے ساتھ چل دی،،،،،،،
لیزہ نے گردن موڑ کر ارحام کی طرف دیکھا فریبی آنکھیں ابھی بھی مسکرا رہی تھیں،،،،،،،
وہ لڑکی آپ کو جانتی ہے،،،،،،، ارحام نے کہا
کونسی لڑکی،،،،،، لیزہ نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا
وہ وائٹ ڈریس والی،،،،،،
نہیں تو،،،،،، لیزہ نے واپس رخ اس کی طرف کیا
اچھا مجھے لگا کہ وہ آپ کو بلا رہی ہے،،،،،،،
نہیں وہ کسی اور کو بلا رہی ہو گی،،،،،،،،
تم نے ابھی تک جوس نہیں پیا،،،،،،، لیزہ نے اس کے گلاس کی طرف دیکھا
وہ تو آپ نے بھی نہیں پیا،،،،،،، ارحام نے اس کے بھرے ہوئے گلاس کی طرف اشارہ کیا جو ٹیبل پر پڑا تھا
چلو ایک ساتھ پیتے ہیں،،،،،،، وہ مسکرائی
اگلے پل دونوں نے ایک ہی سانس میں گلاس ختم کر دیا،،،،،،، لیزہ مسکرانے لگی
ارحام،،،،،،
جی،،،،،،،
مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے،،،،،،،
کیا بات،،،،،،
یہاں نہیں،،،،،،
تو کہاں،،،،،،،
باہر چلتے ہیں،،،،،،
وہ کھڑی ہوئی تو ارحام بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوا ہال سے باہر نکل کر وہ گیٹ تک آئی،،،،،،،،
ہم کہاں جا رہے ہیں،،،،،،،، ارحام نے پوچھا
تمہارے لیے میں نے سرپرائیز رکھا ہے،،،،،،، وہ گیٹ سے باہر نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھی ساتھ ارحام کو بھی گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا
ارحام جیسے ہی گاڑی میں بیٹھا لیزہ کی فریبی آنکھیں مسکرانے لگیں،،،،،،
فلیش بیک
وہ دیکھو ذوہا اس کے ساتھ ڈانس کرنے لگی ہے،،،،،،، ہما نے حیرت سے کہا
لیزہ نے سرخ آنکھوں سے ان دونوں کی طرف دیکھا جہاں ذوہا اسے ڈانس کرنے پر مجبور کر رہی تھی اور وہ کر نہیں رہا تھا،،،،،،
پلین پورا کرنے کا وقت آگیا ہے ہما،،،،،،،، اس کی نظریں ارحام سے ہٹی نہ تھیں
کونسا پلین،،،،، ہما نے تجسس سے پوچھا
یہ لو ویٹر کو یہ پیسے اور یہ ٹیبلیٹس دو اور اسے اچھے سے سمجھا دینا کہ جب ہم ٹیبل کے پاس بیٹھیں تو یہ ٹیبلیٹ والا گلاس ارحام کی طرف ہونا چاہیے،،،،،،،،
لیکن یہ ٹیبلٹ ہے کس چیز کی،،،،،،
نشے کی،،،،،
ذوہا کی بات سن کر ہما کا منہ کھلا
ارحام کو یہ پلا کر کرنا کیا ہے،،،،،،،
اسے بدنام۔۔۔۔۔ اور اس بار میں کچھ ایسا کرنے والی ہوں کہ ذوہا بھی بے بس ہو جائے گی وہ چاہ کر بھی کچھ کر نہیں سکے گی،،،،،،، وہ سرخ آنکھوں سے بولی
تم کیا کرو گی لیزہ،،،،،،،
یہ ٹیبلیٹس اگر اسے پلا دیں تو اسے اتنا نشہ طاری ہو گا کہ اس نے کب کیا کیا کچھ بھی یاد نہیں رہے گا،،،،،،
اب پلین کیا ہے،،،،، ہما کا فل فوکس اسی پر تھا
میں اس کی وڈیو وائرل کروں گی،،،،،،،،،
کیا مطلب کیسی وڈیو،،،،،،،،
اپنے ساتھ اس کی وڈیو بناؤں گی لیکن کوئی بھی مجھے پہچان نہیں سکے گا میں اپنا فیس بلر کروں گی،،،،،،،،
لیزہ آر یو کریزی تم کیا کہہ رہی ہو اپنی عزت۔۔۔۔۔
فکر نہیں کرو اس حد تک نہیں جاؤں گی جسٹ اس کی شرٹ کھول کر اس کے ساتھ کچھ پکس لوں گی،،،،،،،
آر یو کریزی تمہیں پتہ بھی ہے تم کیا کرنے والی ہو،،،،،،،،،
ہما تم میری فرینڈ ہو نا پھر تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے،،،،،،،، وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی
ہما نے ایک لمبا سانس لیا پھر اثبات میں سر ہلایا،،،،،،،
فلیش ناؤ
لیزہ فاتحانہ نظروں سے اپنے ساتھ بیٹھے ارحام کو دیکھ رہی تھی بس اگلے کچھ ہی پلوں میں اس پر ٹیبلٹس کا اثر شروع ہو جانا تھا،،،،،،،



آریان نے اس کی تھوڑی کو دو انگلیوں سے ایک سائیڈ پر کیا اور اس کے رخسار کو چوم لیا اس کے لمس سے الائیہ کو جیسے کرنٹ لگا تھا،،،،،،
آر۔۔۔۔۔۔
شششش،،،،، آریان نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی
آریان نے اس کی دوسری رخسار کو اپنے مقابل کیا اور وہاں اپنے لب رکھے،،،،،،
الائیہ اس کے سینے کو دونوں ہاتھوں سے دھکیلتی ہوئی الگ ہوئی اس کے چہرے پہ بکھریں شرم و حیا کی سرخیاں وہ اچھے سے دیکھ سکتا تھا،،،،،،،
بیٹھو،،،،،، آریان نے کہا الائیہ اپنی چیئر پر بیٹھی اور اس نے بھی اپنی سیٹ سمبھالی
آریان نے پلیٹ اس کے سامنے رکھی اور اس میں بریانی دالنے لگا،،،،،،،
الائیہ پر شوق نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اس وقت وہ اسے دنیا کا سب سے ہینڈسم لڑکا لگ رہا تھا،،،،،
نظر نہ لگا دینا،،،،،،،، وہ اسے آنکھ مارتا ہوا بولا
ک۔۔کیا میں،،،،، اپنی چوری پکڑی جانے پر وہ ہڑبڑا گئی
نہیں تو اور کون،،،،،، وہ مسکرایا
اس اپنی چیئر اٹھا کر الائیہ کے ساتھ رکھی وہ اس کے ہر عمل کو دیکھ رہی تھی،،،،،،،،
آریان نے چمچ بھر کر اس کی طرف کیا،،،،،،
میں خود کھا لوں گی بچی تھوڑی ہوں،،،،،، وہ شرمائی
نہیں میں کھلاؤں گا منہ کھولو،،،،،،،
اس نے منہ کھولا تو آریان نے چمچ اس کے منہ میں دیا،،،،،،
اس کے ہونٹ پہ لگا چاول کا دانہ آریان نے اپنے انگوٹھے سے صاف کیا ساتھ اس کے نچلے ہونٹ کی لِپ سٹک صاف کر دی،،،،،،،
ی۔۔یہ کیا کر رہے ہو،،،،،،، الائیہ کی دھڑکنوں نے شور مچایا
تم آئندہ زرا سا بھی میک اپ نہیں کرو گی،،،،،،،، وہ دوسرا چمچ بھرتا ہوا بولا
لیکن کیو۔۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ بولتی آریان نے اس کے منہ میں چمچ رکھا
کیوں کہ یہ مجھ سے تمہارا پردہ کیے رکھتے ہیں،،،،،،، وہ تیسرا چمچ بھرنے لگا
الائیہ تیز تیز چبانے لگی کیوں کہ وہ آریان کو چمچ بھرتے دیکھ رہی تھی،،،،،
پردہ رکھتے میں سمجھی نہیں،،،،،،، آریان کے کام سے پہلے اس نے پھرتی سے اپنی بات مکمل کی
تمہارے ہونٹوں پہ لپ سٹک لگی ہو گی تو تمہارے ہونٹ کیسے دیکھ سکوں گا میں،،،،،،، اس نے ایک اور نوالا بھر کر اس کے منہ میں دیا
وہ تیز تیز چباتی ہوئی آریان کو بہت پیاری لگ رہی تھی،،،،،،،،
اب کیا ۔۔۔میں لپ سٹک لگانا ۔۔۔ ہی چھوڑ دوں،،،،،، وہ چاول چباتے ہوئے بولی
ہاں،،،،، آریان نے ایک نوالا مزید اس کے منہ میں دیا
الائیہ دو باتوں سے حیران ہو رہی تھی ایک یہ کہ وہ اسے لپ سٹک لگانے سے روک رہا تھا دوسری یہ کہ وہ اسے اتنی تیز تیز کیوں کھلا رہا تھا،،،،،،،
آریان نے ایک اور چمچ اس کے منہ میں رکھنا چاہا جب الائیہ نے اس کا ہاتھ پکڑا،،،،،،
کیا ہو گیا ہے اتنی جلدی جلدی کیوں کھلا رہے ہو،،،،،،
کیوں کہ مجھے تمہارے یہ ہونٹ تیز تیز گردش کرتے ہوئے اچھے لگ رہے ہیں،،،،، اس نے اس کے ہونٹوں پر انگلی پھیری
آج تو تم میری سمجھ سے باہر ہو رہے ہو،،،،،، وہ مسکرائی



ارے یہ لیزہ اور ارحام کہاں گئے،،،،،،، ذوہا اور ہما واش روم سے واپس آئیں
ہم تو انہیں یہیں چھوڑ کر گئے تھے نہ جانے کہاں چلے گئے،،،،،،، ہما نے ایکٹنگ کی
لیکن پارٹی چھوڑ کر وہ کہاں جائیں گے،،،،،،،، وہ پریشان ہوئی
تم فکر نہیں کرو ہو سکتا ہے کوئی پرسنل بات کرنی ہو ان دونوں نے،،،،،،،
لیکن ان کے درمیان پرسنل ہے ہی کیا،،،،،،،، ذوہا نے حیرت سے کہا
ذوہا تم سے ایک بات پوچھوں،،،،،
ہاں پوچھو،،،،،،
ڈو یو لوّ ود ارحام،،،،،،،
ہما کے سوال پر ذوہا کی آنکھیں پھیلیں،،،،،،
پاگل ہو کیا وی آر جسٹ فرینڈز ایسا کچھ بھی نہیں ہے،،،،،،،،
لیکن جتنی تم اس جی کیئر کرتی ہو ایسے ہی لگتا ہے تم اس سے پیار کرنے لگی ہو،،،،،،،
چپ کرو یار ہما ہماری فرینڈشپ ریلیشن کو کوئی اور نام مت دو میں اور ارحام جسٹ فرینڈز ہیں اسی لیے میں اس کی کیئر کرتی ہوں،،،،،،،
اچھا اب نہیں کہوں گی وہ بس مجھے لگا تھا سوچا کنفرم کر لوں،،،،،،،
ہمم ٹھیک،،،،، وہ لاپرواہی سے جواب دے کر ارحام کو دیکھنے کے لیے پھر سے آس پاس نظریں دوڑانے لگی



ذائشہ لیزہ کہاں ہے میں نے پورا گھر دیکھ لیا وہ کہیں نظر نہیں آئی،،،،،، آحل پریشان سا پوچھ رہا تھا
اس کی آج یونی سے نائٹ پارٹی ہے وہیں گئی ہے،،،،،، ذائشہ نائٹ ڈریس پہن کر بالوں کو کھلا چھوڑ رہی تھی
رات کے وقت نہ جانے دیا کرو کہیں چاہے کتنا ہی ضروری کام کیوں نہ ہو،،،،،، وہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا
ہماری بیٹی سمجھدار ہے آحل اپنی حفاظت کرنا جانتی ہے آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں،،،،،، اس نے رخ آحل کی طرف کیا
پریشان ہونا بنتا ہے مجھے اچھا نہیں لگتا کہ لیزہ نائٹ فنکشز میں جائے،،،،،،
اچھا اب آئے گی تو اسے کہہ دوں گی کہ نیکسٹ ٹائم نہ جائے ٹھیک ہے،،،،،،، وہ مسکرائی تو آحل بھی مسکرا دیا
بڑی نکھری نکھری لگ رہی ہو ادھر آؤ ذرا،،،،،،
بلکل نہیں چلیں سوئیں آپ آج کل آفس جلدی جا رہے ہیں اس لیے نیند پوری کرنا لازمی ہے،،،،،،،
نیند آئے تو تب ہی نا،،،،،، وہ ذائشہ کو کھینچتا ہوا بیڈ پر لیٹا
آحل چھوڑیں مجھے آج آپ کو سونا ہی ہو گا،،،،،،،، وہ اس کے اوپر لیٹی اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی
پلیز مان جاؤ نا،،،،،، اس نے معصوم چہرہ بنایا
نہیں بلکل بھی نہیں، آپ کو آفس جلدی جانا ہے صبح،،،،،،
اچھا پھر مجھے کِس کرو پھر میں آرام سے سو جاؤں گا،،،،،،،
ذائشہ نے اس کی گال پر ہونٹ رکھے،،،،،،
بہت اچھے بیگم آج تک تمہیں کِس نہ کرنا آیا شوہر ہو،،،،،، وہ منہ بسورتے ہوئے بولا تو ذائشہ کا قہقہ لگا
اب کرتی ہو یا میں کچھ اور کروں،،،،،،
نہیں کروں گی،،،،،،
وہ ایک جھٹکے کے ساتھ اس پر ہاوی ہوا،،،،،،،
ایک منٹ ایک منٹ،،،،، وہ ہنستی ہوئی بولی
یہ آخری چانس ہے تمہارے پاس سوچ لو،،،،،،
ذائشہ نے آنکھیں بند کیں اور اپنے ہونٹوں کو اس کے ہونٹوں سے ملایا،،،،،،،،
آحل نے اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر آنکھیں موند لیں،،،،،



آپ کے لاڈلے بیٹے کی وجہ سے الائیہ یہ گھر چھوڑ کر چلی گئی میں آپ دونوں کو کبھی معاف نہیں کروں گی بلال،،،،،،، ماہاویرا لاؤنج میں صوفے پر بیٹھی افسوس کر رہی تھی
لو بھئی اب اس میں میرا کیا قصور ہے،،،،،،، بلال نے کندھے اچکائے
آپ اپنے لاڈلے کے کان کھینچتے تو وہ اس سے معافی مانگتا اور وہ نہ جاتی لیکن نہیں آپ باپ بیٹے کی ایک بات ہوتی ہے،،،،،،،
اچھا نا اب غصہ کیوں کر رہی ہو بی پی ہائی ہو جائے گا،،،،، وہ اس کے پاس آکر بیٹھا
ہو جانے دو بی پی ہائی آپ کو کیا فرق پڑتا ہے،،،،،،
ارے ایسے کیسے ہو سکتا ہے تمہیں معلوم تو ہے کتنا پیار کرتا ہوں تم سے،،،،،، اس نے ماہا کو کندھوں سے پکڑا
معلوم ہے مجھے کتنا پیار کرتے ہیں اور کتنی بات مانتے ہیں میں نے کل رات آپ سے کہا بھی تھا کہ اس مسئلے کا حل نکال کر ہی کمرے میں آنا ہے،،،،،،،
ماہا میری جان پلیز پریشان مت ہو،،،،،،، بلال کو بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا اس کا یوں پریشان ہونا
مت بات کریں مجھ سے نہ ہی مجھے آپ سے بات کرنی ہے،،،،،،،
موم،،،،،، آریان لاؤنج میں داخل ہوا
تم بھی مجھ سے بات کرنے کی کوشش مت کرنا آریا۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ کچھ بولتی الائیہ بھی لاؤنج میں داخل ہوئی،،،،،،
ماہاویرا نے بلال کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا،،،،،،،،
میں سرپرائز خراب نہیں کرنا چاہتا تھا ماہا ورنہ تم کسی بات پر پریشان ہو اور میں حل نہ نکالوں ایسا کیسے ہو سکتا ہے،،،،،،
بلال،،،،، اس نے فخریہ نظروں سے کہا پھر اٹھ کھڑی ہوئی
آنٹ،،،،، وہ دونوں گلے ملیں
گلے تو ایسے ملا جا رہا ہے جیسے صدیوں سے بچھڑی ہوئی ہوں،،،،،، آریان نے چھیڑا ماہاویرا نے اس کے سر پر تھپکی لگائی
اب یہ صرف انکل شہروز کی بیٹی نہیں بلکہ آپ کی ہونے والی بہو بھی ہے،،،،،، وہ الائیہ کی طرف دیکھ کر مسکرا کر بولا
ماہاویرا نے الائیہ کی طرف دیکھا تو وہ شرما گئی،،،،،،،
سچ الائیہ تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں،،،،، ماہاویرا کو یقین نہیں آرہا تھا
اس نے نفی میں سر ہلایا تو ماہاویرا نے مسکراتے ہوئے اسے پھر سے گلے لگایا،،،،،،،
موم جلدی سے انکل شہروز سے بات کریں مجھے جلد از جلد شادی کرنی ہے،،،،،،، آریان کی بات سن کر بلال کی بتیسی باہر نکلی
اور الائیہ شرم سے لال ہونے لگی،،،،،،
بے شرم سب کے سامنے ہی بول رہا یے،،،،، ماہا نے اسے گھوری سے نوازہ
بھئی کیا غلط بات کی ہے اپنی شادی کی بات ہی تو کر رہا ہوں کیوں الائیہ،،،،،،، آریان نے جان بوجھ کر اسے مخاطب کیا
بلکل اپنے باپ پہ گئے ہو،،،،،، ماہاویرا نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی
بلال ہنسنے لگا،،،،،
ڈیڈ شہروز انکل سے بات کریں،،،،،، وہ اس کے ساتھ صوفے پہ بیٹھا
اچھا صبح کروں گا بات،،،،،،
اس کے جواب سے آریان نے سکھ کا سانس لیا،،،،،،
ماہاویرا نے فہمیدہ کو آواز لگا کر الائیہ کا سامان واپس کمرے میں شفٹ کروایا،،،،،،
الائیہ بیٹا کھانا لگواؤں تمہارے لیے،،،،
نہیں آنٹ ہم کھانا کھا کر آئے ہیں،،،،، وہ شرماتی ہوئی بولی
کیسا رہا پھر،،،،،،، بلال نے سرگوشی نما کہا
نتیجہ تو آپ کو دکھ ہی رہا ہے،،،،،، اس نے الائیہ کی طرف اشارہ کیا جو بہت خوش اور شرماتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی
واہ میرے شیر ہمیشہ ایسے ہی کمال دکھاتے رہنا،،،،،، بلال ہنستا ہوا بولا
یہ باپ بیٹا کیا کھسر کھسر کر رہے ہو،،،، ماہاویرا نے نوٹ کیا
کچھ نہیں پوچھ رہا ہوں کیا کھلایا ہے ہماری بیٹی کو،،،،،، بلال نے فوراً سے بات بدلی جس پر آریان اپنی ہنسی دبانے لگا
تم دونوں جاؤ اپنے اپنے کمرے میں مجھے الائیہ سے کچھ بات کرنی ہے،،،،،،،
اوکے بوس،،،، بلال کہتا ہوا اٹھا ساتھ آریان بھی اٹھ گیا ان دونوں کو ہی معلوم تھا ماہاویرا اس سے کیا بات کرنے والی ہے
الائیہ بیٹا تم دل سے راضی ہو نا،،،،، ان کے جانے کے بعد ماہا بولی
جی آنٹ میں دل سے راضی ہوں،،،،،،
میں صدقے جاؤں،،،،، ماہاویرا نے اس کی پیشانی پر لب رکھے
پتہ ہے تم جب سے آئی ہو میرا دل لگ گیا ہے تم میں ویسے بھی میری کوئی بیٹی تو ہے نہیں تو دل ہی دل میں ایک خواہش پیدا ہوئی تھی کہ تم ہمیشہ کے لیے میرے پاس رہ جاؤ اور اللہ نے بنا کہے میری خواہش پوری کر دی،،،،،، وہ اس کی تھوڑی کو پکڑتے ہوئے پیار سے بول رہی تھی
آنٹ میری بھی موم نہیں ہیں مجھے بھی آپ بہت اچھی لگی ہیں جب سے میں آئی آپ نے میرا بہت خیال رکھا مجھے ایسے لگا جیسے میری موم مجھے واپس مل گئی ہوں،،،،، وہ دکھی ہوئی
پھر آج کے بعد مجھے کبھی بھی آنٹ نہیں بولنا آج سے تم میری بیٹی ہو،،،،،،،،
جی موم،،،،، ماہا کے اتنے پیار پر الائیہ کی آنکھیں بھیگنے لگیں،،،،،
ارے رونا نہیں ہے پگلی،،،،، الائیہ نے اسے گلے سے لگایا



گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اچانک لیزہ کا سر چکرانے لگا اس نے آنکھیں بند کر کے اپنا سر پکڑا،،،،،،
یہ مجھے ک۔۔۔کیا ہو رہا ہے،،،،،،، وہ زیرِلب بڑبڑائی
پاس بیٹھا ارحام اس کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہا تھا،،،،،،
فلیش بیک
وہ لڑکی آپ کو جانتی ہے،،،،،،، ارحام نے کہا
کونسی لڑکی،،،،،، لیزہ نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا
ارحام نے فوراً ٹیبل پر پڑے اس کے گلاس کو اٹھایا اور اپنا گلاس وہاں رکھا اس نے پہلے بھی گلاس صرف ہونٹوں سے لگایا تھا اس میں سے سِپ نہیں لیا تھا،،،،،،،،
وہ وائٹ ڈریس والی،،،،،،
نہیں تو،،،،،، لیزہ نے واپس رخ اس کی طرف کیا
اب ارحام ویسے ہی گلاس پکڑے بیٹھا تھا جیسے پہلے تھا
اچھا مجھے لگا کہ وہ آپ کو بلا رہی ہے،،،،،،،
نہیں وہ کسی اور کو بلا رہی ہو گی،،،،،،،،
فلیش ناؤ
لیزہ پہ ٹیبلٹس کا اثر ہو چکا تھا وہ نشے سے جھولنے لگی ارحام نے تیزی سے ہاتھ بڑھا کر گاڑی کو بریک لگائی کیوں کہ ڈرائیونگ سیٹ پر لیزہ تھی،،،،،،،،،
ار۔۔۔ارحام،،،،،،، اس نے ارحام کو شرٹ سے پکڑ کر اپنے قریب کیا
ارحام اپنے دل کی دھڑکن محسوس کر سکتا تھا وہ بلکل اس کے قریب تھی اس کی سانسیں ارحام کو اپنے چہرے پر پڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں،،،،،،،،
