Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan (Episode 25)

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

صبح کے گیارہ بج چکے تھے رات دیر سے سونے کے باعث وہ دونوں ابھی تک نہیں جاگے تھے،،،،،،،،

نیند پوری ہونے پر فارس کی آنکھیں کھلیں اس نے آنکھیں مسلتے ہوئے اپنے بائیں جانب دیکھا جہاں وہ اس کی طرف کمر کیے ہوئے نیند کی وادی میں گم تھی،،،،،،،،،

وہ اس کے نزدیک ہوا اور پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا اس کے وجود سے اس کی آنکھ کھلی اور وہ اچھل کر بیٹھی، نیند سے بھری اس کی نیلی سرخ آنکھیں فارس کو گھائل کر رہی تھیں،،،،،،،،،،

کیا ہوا،،،،،،،،،، فارس نے بیٹھتے ہوئے پیار سے پوچھا

ایشا نے منہ بسورا شاید وہ اس سے ناراض تھی، پاؤں میں چپل پہنے وہ واش روم کی جانب بڑھ گئی اور فارس اسے دیکھتا رہ گیا،،،،،،،،،

ایشا فریش ہو کر باہر نکلی تو اس نے آس پاس نظر دوڑائی فارس کمرے میں موجود نہیں تھا ڈریسنگ ٹیبل پہ آکر اس نے فارس کا پرفیوم خود پر چھڑکا اور نیچے جانے کے لیے ریڈی ہو گئی،،،،،،،،،،،

ایرہ لاؤنج میں بیٹھی کافی پی رہی تھی جب اس کی نظر ایشا پر پڑی اس کے منہ سے کافی کا فوارہ نکل کر فرش بھیگو گیا کیوں کہ ایشا نے فارس کی پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی،،،،،،،،،،،

شرٹ اس کے گھٹنوں تک آرہی تھی اور اتنی کھلی تھی کہ اس میں ایشا کے جیسی دو لڑکیاں مزید گھس سکتی تھیں اور پینٹ کے تو کیا ہی کہنے تھے نہ جانے ایشا نے اسے قابو میں کیسے کیا ہوا تھا ہاف پینٹ کو تو پونچوں سے ہی فولڈ کیا ہوا تھا،،،،،،،،،،،

تبھی فارس ایک روم سے نکلا فریش ہو کر نکلا اور ایشا کی حالت دیکھ کر وہ جوں کا توں کھڑا ہی رہ گیا ایرہ کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا،،،،،،،،،،

یہ کیا پہن رکھا ہے تم نے،،،،،،،،،، فارس نے اس کے نزدیک آکر پوچھا لاؤنج میں دو ملازمہ اور ایک ملازم بھی موجود تھا جو ایشا کو دیکھ کر اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کے چکروں میں تھے

آپ کے کپڑے،،،،،،،، وہ معصومیت سے بولی

چلو میرے ساتھ،،،،،،،، وہ اس کا نرم ہاتھ پکڑتا ہوا کمرے میں لے گیا

اب خود کو دیکھ کر بتاؤ کیسی لگ رہی ہو تم،،،،،،،،، اس نے اسے کندھوں سے پکڑتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا کیا

اچھی لگ رہی ہوں،،،،،،،،، ایشا کی معصومیت پر فارس کو اس پہ پیار آنے لگا اس نے ایشا کا رخ اپنی طرف کیا

وہ تو تم ہو ہی،،،،،،،، اس نے پھونک سے ایشا کے ماتھے سے بال ہٹائے

لیکن میرے کپڑے پہننے کی کیا ضرورت تھی ایرہ سے لے لیتی،،،،،،،،،،

ان کے پاس تو لیڈیز ہیں اور میں جینٹس پہنتی ہوں،،،،،،،،،

اس کی بات پر فارس کے ہونٹ مسکرائے،،،،،،،،

تبھی روم کا ڈور ناک ہوا اور فارس دروازے کی طرف بڑھا میڈ نے اس کے ہاتھ میں ایشا کا ڈریس دیا اور واپس چل دی،،،،،،،،،،

وہ پھر سے اس کی طرف آنے لگا اس نے فارس کے ہاتھ میں اپنے کپڑے دیکھے،،،،،،،،،

جب تم واش روم تھی تو میں نے انہیں ڈرائے کلین کرنے کے لیے میڈ کو دیا تھا،،،،،،،،،

ایشا نے اس کے ہاتھ سے اپنے کپڑے پکڑنے چاہے لیکن وہ ہاتھ پیچھے کر گیا،،،،،،،،،،

پہلے بتاؤ چپ کیوں ہو ناراض ہو مجھ سے،،،،،،،،،، اس نے دو انگلیوں سے اس کی تھوڑی پکڑتے ہوئے پوچھا

ایشا نے اثبات میں سر ہلایا،،،،،،،،

وجہ جان سکتا ہوں،،،،،،،، فارس کی آنکھوں میں خمار تھا

آپ کو جیسے پتہ ہی نہیں،،،،،،،، ایشا نے منہ بسورا

میں چاہتا ہوں میری چھوٹی سی بیگم مجھے بتائے،،،،،،،،، اس نے ایشا کی ناک کو انگلی سے چھوا

وہ خاموش رہی،،،،،،،،،

اچھااا میری چھوٹی سی بیگم رات کی وجہ سے مجھ سے ناراض ہے آئم سوری میں کنٹرول نہیں کر پایا،،،،،،،،،،، اس نے ایشا کے رخسار کو ہاتھ میں لیا

مجھے آپ سے اس ٹاپک پر بات نہیں کرنی ہے،،،،،،،،، وہ تیزی سے بولی

اچھا ایک بار مجھے میرے نام سے تو پکارو،،،،،،،،، وہ مسکرایا

میں نہیں،،،،،،،، ایشا کی یہ حرکت فارس کو بہت کیوٹ لگی

جیسے رات کو کہا تھا “فارس”،،،،،،،، اس نے ایشا کے کان میں اپنا نام لیا جیسے کل رات ایشا نے اس کا نام لیا تھا

رات والا منظر یاد کر کے ایشا کا دل دھڑکنے لگا،،،،،،،،،،،

پ۔۔۔۔پیچھے ہٹیں مجھے میرے کپڑے دیں چینج کرنا ہے میں نے،،،،،،،،، اس نے فارس کو ہلکا سا دھکیلا

ایک شرط پر ملیں گے،،،،،،،، فارس نے کہا

وہ کیا،،،،،،، ایشا نے پوچھا

تمہیں یہاں کس کرنی ہو گی،،،،،،،،، فارس نے اپنی گال پر انکلی رکھی

نہیں میں نہیں کروں گی،،،،،،،، وہ غصے سے بولی فارس اس کا ننھا سا غصہ دیکھ کر مسکرایا

سوچ لو ورنہ تمہیں انہیں کپڑوں میں پھر سے نیچے جانا پڑے گا اور پہلے کی طرح سب تم پر ہنسیں گے،،،،،،،،،، اس نے اسے ایموشنل بلیک میل کیا

ایشا سوچ میں پڑ گئی ایرہ اس پر کتنا ہنس رہی تھی اسے وہ بات یاد آنے لگی کچھ سوچتے ہوئے اس نے اثبات میں سر ہلایا تو فارس نے اپنی ہنسی کنٹرول کی،،،،،،،،،،

آ۔۔۔آپ نیچے جھکیں،،،،،،،، وہ گھبرائی سی بولی

کیسی بیگم ہو شوہر کو جھکنے کا بولتی ہو شوہر کا مقام معلوم بھی ہے یا نہیں،،،،،،،،، اس نے جان بوجھ کر چھیڑا

اوکے نہیں تو نا صحیح میں جا رہی ہوں،،،،،،،، وہ غصے سے بولتے ہوئے جیسے ہی جانے کے لیے مڑنے لگی فارس نے اسے کمر سے پکڑتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھایا،،،،،،،،،،

ایشا کی ہارٹ بیٹ فاسٹ ہوئی وہ ایشا کے نزدیک ہوا ایشا ہونٹوں کو گول کرتے ہوئے اس کے گال پر رکھنے لگی جب فارس نے رخ بدلا اور اس کے ہونٹوں کو گرفت میں لیا،،،،،،،،

ایشا نے اس کے سینے پر پنچ مارنے شروع کیے لیکن وہ اس کے لمس میں شاید دنیا بھول چکا تھا،،،،،،،،،

ایشا نے محسوس کیا وہ جتنی مزاحمت کر رہی ہے فارس کی گرفت میں اتنی ہی شدت آرہی ہے اس لیے اس نے ہاتھ چلانے بند کیے فارس کی گرفت میں نرمی آئی کچھ دیر بعد اس نے اس کے ہونٹوں کو آزادی بخشی،،،،،،،،،،،،،

اس نے ایشا کی طرف دیکھا ایشا کو اس کی آنکھوں میں عجیب سا نشہ دکھائی دیا،،،،،،،،،،،

وہ اس کے ہاتھ سے کپڑے چھینتے ہوئے واش روم کی طرف بھاگی،،،،،،،،

اس کے جانے کے بعد وہ مسکرایا وہ چھوٹی سی لڑکی اسے اپنا دیوانہ بنا چکی تھی اس کی زندگی یوں رخ بدلے گی فارس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا،،،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

ذوہا یونیورسٹی میں اکیلی سیڑھیوں پر بیٹھی ارحام کو یاد کر رہی تھی جب وہ دونوں یہاں بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کیا کرتے تھے،،،،،،،،،،

دو ہفتوں سے اس نے ارحام کو نہ دیکھا تھا نہ ہی اس سے بات کی تھی،،،،،،،،،،

وہ ابھی انہی سوچوں میں گم تھی جب اس کا فون رنگ ہوا اس نے پرس سے موبائل نکال کر دیکھا تو سکرین پر ایک ان نان نمبر جگمگا رہا تھا،،،،،،،،،

ذوہا نے کال ریسیو کر کے موبائل کان کو لگایا لیکن وہ خاموش رہی ان نان نمبر سے کال آنے پر وہ ہمیشہ ایسا ہی کیا کرتی تھی،،،،،،،،،،،

ارحام نے اس کے بولنے کا انتظار کیا جب اسے آگے سے کوئی درِعمل نہ ملا تو خود ہی بولا،،،،،،،،،،

ذوہا،،،،،،،،، اس نے کل شام نیا موبائل لیا تھا سب سے پہلے اس نے ذوہا کا نمبر ڈائل کیا

ارحام،،،،،،، بے یقینی سے ذوہا کے منہ سے اس کا نام ادا ہوا

ہاں میں ارحام ہوں کیسی ہو تم،،،،،،،،،

دو ہفتوں بعد آگئی تمہیں میری یاد تمہیں معلوم بھی ہے میں کتنی پریشان تھی مجھے تمہاری کوئی خیر خبر نہیں تھی تم ایسا کیسے کر سکتے ہو میرے ساتھ،،،،،،،،، اس کی آواز بھر آئی تھی

آئم سوری ذوہا میرا موبائل تب ٹوٹ گیا تھا آج ہی نیا لیا ہے،،،،،،،،

ارحام کیا کر رہے ہو تم۔۔۔۔ تم مجھے دوست مانتے تھے نا تم نے میرے ساتھ بلکل اچھا نہیں کیا،،،،،،،،،، وہ اب صحیح میں رونے لگی تھی

ذوہا سوری یار بس آخری بار کے لیے معاف کر دو آئندہ ایسا کبھی نہیں کروں گا،،،،،،،،،

دفع ہو جاؤ تم،،،،،،، اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

ارحام کو اب افسوس ہو رہا تھا کہ اسے واقعی بہت پہلے ذوہا سے رابطہ کر لینا چاہیے تھا،،،،،،،،،

کیسے ہو اب تم،،،،،،، کچھ دیر بعد ذوہا بولی

اب تو کافی حد تک ٹھیک ہوں تم بتاؤ کیسی ہو،،،،،،،،

ٹھیک ہوں میں،،،،،،، ذوہا نے تنز سے کہا

تم ہو کہاں میں نے ہاسٹل میں پتہ کیا تھا تو معلوم ہوا وہاں سے جا چکے ہو،،،،،،،،

ہاں میں لیزہ کے گھر ہوں،،،،،،، ارحام کی بات سن کر ذوہا کی حالت سکتے جیسی ہو گئی

ک۔۔کیا کیا مطلب لیزہ کے گھر،،،،،،،، اس نے حیرت سے پوچھا

وہ میرا اور لیزہ کا نکاح ہو گیا ہے ذوہا،،،،،،،،،، اب ذوہا کے پیروں تلے صحیح معنوں میں زمین نکلی تھی

ہیلو ذوہا،،،،،، وہ بے یقینی سے خاموش بیٹھی تھی جب ارحام نے اسے پکارا

ہ۔۔۔ہاں،،،،،،،

سوری میں جانتا ہوں یہ بات چھوٹی نہیں ہے لیکن یہ سب اتنا جلدی ہوا کہ ہم خود حیران تھے،،،،،،،،،

ارحام میرا لیکچر کا ٹائم ہو گیا ہے میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں،،،،،،،،،

ذوہا بات تو سنو،،،،،،،، وہ ابھی بول ہی رہا تھا جب ذوہا نے کال ڈسکنیکٹ کی اور واش روم کی طرف بھاگی کیوں کہ ایک وہی جگہ تھی جہاں اسے کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا اور وہ رو کر اپنے دل کا غبار نکال سکتی تھی

🔥
🔥
🔥

اس نے کہا تھا وہ صبح خود گھر آجائے گی،،،،،،،،، ذائشہ نے کہا

اگر وہ آج یہاں آتی ہے جیسے کہ میر فارس اب اس کا شوہر ہے تو ضرور اسے خود چھوڑنے آئے گا،،،،،،،،،، الائیہ نے کہا

ذائشہ اور آحِل تو یہ سوچ سوچ کر ہی پریشان ہو رہے تھے کہ ان کی بیٹی ایک اسمگلر سے نکاح کر چکی ہے،،،،،،،،

انکل آنٹی آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں کچھ ایسا کروں گی جس سے وہ ایشا کو دوبارہ کبھی نہیں لے جا سکے گا،،،،،،،،،

آریان تم زرا باہر آکر میری بات سننا،،،،،،، الائیہ نے کہا آریان اثبات میں سر ہلاتا ہوا اس کے پیچھے چل دیا

مجھے تم سے اجازت چاہیے،،،،،،، لاؤنج میں آکر وہ بولی

کیسی اجازت،،،،،، وہ حیران ہوا

اگر میں عمر اور دانش سے ہیلپ لوں تو ہم ایشا کو اس اسمگلر سے بچا سکتے ہیں،،،،،،،،، وہ ہچکچائی کیوں کہ وہ وعدہ کر چکی تھی دوبارہ یہ کام نہیں کرے گی

اگر ان کی ہیلپ سے ہم ایشا کو بچا سکتے ہیں تو مجھے اعتراض نہیں ہے،،،،،،،،،

آریان کی بات سن کر الائیہ کے چہرے پہ خوشی کے تاثرات رونما ہوئے،،،،،،

اوہ تھینک یو آریان میں پھر انہیں ابھی کال کرتی ہوں کیا پتہ میر فارس کس وقت آجائے،،،،،،،، اس نے ایکسائیٹمنٹ سے موبائل نکالا

اوکے تم کرو بات میں اندر چلتا ہوں،،،،،،،،

ٹھیک ہے،،،،،،،، الائیہ نے کہا اور وہ اندر کی جانب چل دیا

علی فارس کے آدمیوں کے ساتھ گنز کا حساب کتاب دیکھ رہا تھا جب اس کا موبائل رنگ ہوا،،،،،،،،،

اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا تو الائیہ کی کال تھی اس نے ایک نظر آس پاس کے آدمیوں پر ڈالی پھر کال ڈیکلائن کرتے ہوئے میسیج ٹائپ کیا،،،،،،،،

“آئم آن ڈیوٹی”،،،،

عمر کا میسیج پڑھ کر الائیہ نے دانش کو کال کی پہلی بیل پر ہی کال ریسیو کر لی گئی،،،،،،،،

الائیہ چار دن سے تم نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا آخر تم ہو کہاں،،،،،،،، دانش تیزی سے بولا

وہ سب بعد میں بتاوں گی ابھی مجھے تمہاری اور عمر کی ضرورت ہے،،،،،،،،،

کیوں کیا ہوا ہے،،،،،،، وہ حیران ہوا

آریان کی کزن کو میر فارس نے کڈنیپ کر کے نکاح کر لیا ہے آج وہ اسے چھوڑنے آئے گا ہمیں ہر حال میں اسے پکڑنا ہے تم تو جانتے ہو وہ آسانی سے ہاتھ نہیں آئے گا،،،،،،،،،

کیا آریان کی کزن سے میر فارس نے نکاح کر لیا،،،،،،،، دانش نے حیرت سے کہا

اففف یہ وقت حیران ہونے کا نہیں ہے بس تم جلدی سے آجاؤ اور کچھ بھی کر کے عمر کو وہاں سے بلوا لو کیوں کہ مجھے تم دونوں کی ہی ضرورت ہے،،،،،،،،،

اوکے میں اسے وہاں سے بلواتا ہوں سنو ایسا کرتے ہیں جہاں اس وقت عمر کام کر رہا ہے پولیس کو انفارم کر دیتے ہیں کہ یہاں غیر قانونی کام ہو رہا ہے اور ویسے بھی عمر میر فارس کی کافی پکس لے چکا ہے ثبوت کے طور پر،،،،،،،،،،

یہ ٹھیک رہے گا لیکن پہلے میر فارس کو پکڑیں گے پھر اس کے اڈے کا پولیس کو انفارم کریں گے اوکے میں تم دونوں کا ویٹ کر رہی ہوں اڈریس میں سینڈ کرتی ہوں،،،،،،،،،،

اوکے کر دو میں بھی عمر کو کہتا ہوں کوئی بہانہ لگا کر نکلے وہاں سے،،،،،،،،

اوکے،،،،،،،، الائیہ نے کال ڈسکنیکٹ کی اور میسیج پہ اڈریس ٹائپ کرنے لگی

🔥
🔥
🔥

چلو تمہیں گھر چھوڑ آؤں،،،،،،، ناشتہ کرنے کے بعد فارس نے ایشا سے کہا

بھائی پلیز ایشا کو یہیں رہنے دیں میرا بھی دل لگا ہوا ہے بہت پیاری باتیں کرتی ہے یہ،،،،،،،،، ایرہ ایشا کے جانے پر اداس ہوئی

ایک بار اسے اس کے گھر چھوڑنا ضروری ہے گڑیا بہت جلد واپس لے آؤں گا،،،،،،، فارس نے اسے سمجھایا

آپی آپ بھی چلو نا ہمارے ساتھ تب تک میرے ساتھ ٹائم سپینڈ ہو جائےگا آپ کا،،،،،،،،،، ایشا نے کہا

ٹھیک کہہ رہی ہو چلو آدھا گھنٹہ مزید اس کے ساتھ باتیں کر لو پھر بہت جلد میں اسے واپس لے آوں گا اوکے،،،،،،،،،

ایرہ سوچ میں پڑ گئی پھر کچھ سوچتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور کھڑی ہوئی،،،،،،،،،،

وہ تینوں گاڑی میں بیٹھے فارس نے گارڈز کو دوسری گاڑی میں بیٹھنے کا کہا،،،،،،،،،،

او ہو بھائی پلیز آج کے دن تو ان کو ساتھ نہ لیں،،،،،،،، ایرہ تنگ آکر بولی وہ جب بھی باہر جاتی گارڈز کی گاڑی ساتھ ہوتی،،،،،،

یہ تم دونوں کی سیفٹی کے لیے ہیں،،،،،،،، فارس نے کہا

نہیں پلیز آج کے دن نہیں بھائی،،،،،،،،

ایرہ کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے فارس نے گارڈز کو ساتھ جانے سے روک دیا،،،،،،،،،،

آج ڈرائیونگ سیٹ پر بھی وہ خود ہی تھا،،،،،،،،

کچھ دیر تک گاڑی سڑک کے اوپر چلنے لگی،،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

آریان تمہیں گن چلانا آتی ہے،،،،،،، الائیہ نے پوچھا

اب اتنا بھی بچہ نہیں ہوں میں آتی ہے مجھے،،،،،، آریان نے اس کے ہاتھ سے گن پکڑی تو الائیہ مسکرائی

اوکے دانش تم اپنی جگہ پر جاؤ،،،،،،،،، الائیہ نے کہا

ہاں میں اسی طرف جانے لگا تھا،،،،،،،،، اس نے جواب دیا

اوکے ڈن عمر تم بھی چھپ جاؤ آریان تمہیں میرے ساتھ رہنا ہو گا،،،،،،،،، الائیہ کی بات سن کر آریان نے اسے گھوری سے نوازہ یعنی کے آریان اپنی حفاظت نہیں کر سکتا تھا تبھی وہ ایسا بول رہی تھی

موقع ملنے پر آحل اور بلال نے ایشا کو پکڑنا تھا فارس اور اس کے آدمیوں کو الائیہ اور اس کی ٹیم نے دیکھنا تھا،،،،،،،،،

سب چھپ جائیں ہو سکتا ہے وہ آنے والے ہی ہوں،،،،،،،، الائیہ نے کہا تو سڑک کے دونوں اطراف کسی نہ کسی چیز کی آڑ میں سب چھپ گئے،،،،،،،،،،،

الائیہ نے وہ راستہ بند کروا دیا تھا یعنی وہاں سے کوئی اور نہیں گزر سکتا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ فائرنگ کے دوران کسی معصوم کی جان جائے،،،،،،،،،

وہ سب گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے گاڑی کے آنے کا ویٹ کر رہے تھے فارس کی گاڑی دیکھتے ہی دانش جو کہ ٹریفک پولیس والا بن کر کھڑا تھا اس نے اسے آگے جانے کی اجازت دینی تھی،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

ایشا آج تم پہلے کی طرح باتیں نہیں کر رہی طبیعت ٹھیک ہے نا تمہاری،،،،،،،، ایرہ نے پوچھا

ایرہ کی بات سن کر ایشا نے فوراً مرر میں فارس کی طرف دیکھا جو اسے آنکھ مار گیا،،،،،،،،،

بولو نا کیا ہوا،،،،،،،، ایرہ نے اس کا ہاتھ پکڑا

ج۔۔۔جی ایرہ آپی میں ٹھیک ہوں،،،،،،، وہ گھبرائی اس کی بولتی تو فارس نے کل رات سے ہی بند کر رکھی تھی فارس ایشا کی حالت دیکھ کر لطف اندوز ہونے لگا

اچھا یہ بتاؤ گھر جا کر تم مجھے بھول تو نہیں جاؤ گی،،،،،،،،،،،

ارے ایسے کیسے ہو سکتا ہے بھلا میں کیوں آپ کو بھولوں گی آپ اتنی اچھی ہو،،،،،،،،، وہ فٹ سے بولی

ایرہ مسکرائی،،،،،،،،

اور بھائی کو،،،،،،، ایرہ نے اس کے کان میں کہا

ایشا کے گال دہکنے لگے جنہیں مرر میں دیکھ کر فارس مسکرایا

سوال کا جواب ایشا کی بلشنگ نے ہی دے دیا تھا ایرہ نے اپنی ہنسی دبائی،،،،،،،

جیسے ہی فارس کی گاڑی ایشا کے گھر کے ٹاون میں داخل ہوئی فارس کو کچھ عجیب سا محسوس ہونے لگا،،،،،،،،،،

وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار رہا تھا گاڑی دیکھتے ہی دانش نے گاڑی رکنے کا اشارہ کیا فارس نے گاڑی روکی،،،،،،،،،،،

گاڑی کا پاسپورٹ دکھائیں،،،،،،،، دانش نے کہا اس نے بیک سائیڈ پر دیکھا جہاں ایشا بڑے آرام سے ایرہ سے باتیں کرنے میں مصروف تھی

ٹریفک پولیس اس ایریے میں کب سے آنے لگی،،،،،،،، فارس نے ڈیش بورڈ سے پاسپورٹ نکال کر اسے دیا،،،،،،،،،

کل یہاں بہت بڑی ڈکیتی ہوئی ہے اس لیے کچھ دن ہمیں یہاں ڈیوٹی کرنی پڑے گے،،،،،،،، دانش نے پاسپورٹ دیکھتے ہوئے کہاں جس پر فارس کے متعلق ساری انفارمیشن جعلی تھی

اوکے آپ آگے جا سکتے ہیں،،،،،،، اس نے پاسپورٹ واپس کیا

فارس نے گاڑی آگے بڑھائی اس کی چھٹی حس کچھ غلط ہونے کا اشارہ دینے لگی،،،،،،،،،،

پورا ٹاون سنسان پڑا تھا کسی بھی گھر کے بچہ بھی نظر نہیں آرہا تھا،،،،،،،،،

دانش نے الائیہ کا نمبر ملایا الائیہ کو معلوم ہو گیا کہ فارس پہنچ چکا ہے،،،،،،،،،،،

اس سے پہلے کہ فارس گاڑی مزید آگے بڑھاتا اس نے ٹرن لیا،،،،،،،،،

دانش کو خطرہ لاحق ہوا،،،،،،،،

سب باہر نکل آؤ وہ واپس جا رہا ہے،،،،،،،،، اس نے کال پر کہا

الائیہ، عمر، آریان سب گنز ہاتھوں میں لیے باہر نکلے،،،،،،،،،

ٹائر کو شوٹ کرو،،،،،،،،، الائیہ نے کہا تو عمر نے ٹائر کا نشانہ باندھا لیکن فارس نے گاڑی کو شیکنک شروع کی،،،،،،،،،،

یہ کیا ہو رہا ہے،،،،،،،،، ایشا گھبرا گئی ایرہ نے اس کا ہاتھ پکڑا

کچھ نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا تم پریشان نہیں ہو،،،،،،،،، ایرہ خود تو ان سب کی عادی تھی لیکن ایشا کے لیے یہ پہلی دفع تھا اس لیے اس نے اسے حوصلہ دیا

ایشا کے اصلی چھکے تو تب چھوٹے جب دانش نے پاکٹ سے گن نکال کر فارس کا نشانہ باندھا اور بدلے میں فارس نے اس کے ہاتھ پر شوٹ کیا،،،،،،،،،،،،

وہ فارس کو دیکھ کر چینخنے لگی،،،،،،،،،،،

ایرہ ایشا کو سمبھالو،،،،،،،،، فارس تیزی سے بولا

الائیہ آریان اور عمر گاڑی میں بیٹھے اور گاڑی ان کے پیچھے دوڑائی،،،،،،،،،،

آحل اور بلال دانش کی طرف بھاگے،،،،،،،،،

ایشا نے بیک مرر سے دیکھا تو اسے اپنے پیچھے ایک گاڑی آتی دکھائی دی لیکن وہ گاڑی کے اندر بیٹھے لوگوں کو پہچان نہ سکی،،،،،،،،،،

گاڑی پر مسلسل فائرنگ ہو رہی تھی ان کا مقصد ٹائر پنکچر کرنا تھا گاڑی میں ایشا کے ہونے کے باعث وہ گاڑی پر فائرنگ نہیں کر سکتے تھے،،،،،،،،،

ایرہ ایشا نیچے جھک جاؤ،،،،،،،،، فارس گارڈز کو ساتھ نہ لا کر بہت پچھتا رہا تھا

ایشا ڈر کے مارے رونے لگی ایرہ نے اسے گلے سے لگایا،،،،،،،،،،،

فارس نے گاڑی کی سپیڈ فل کی گاڑی مین روڈ پر اتر آئی جہاں اور بھی ٹریفک تھی،،،،،،،،،

عمر تیز چلاؤ ہاتھ سے نہیں نکلنا چاہیے،،،،،،،، الائیہ نے چلّاتے ہوئے کہا

آگے ٹریفک ہے ایکسڈینٹ ہو سکتا ہے،،،،،،،،، عمر نے بھی گاڑی کی سپیڈ پہلے سے بڑھائی

تو دھیان کرو لیکن وہ ہاتھ سے نہیں نکلنے چاہیے میں بتا رہی ہوں،،،،،،،،

عمر نے سپیڈ فل کی،،،،،،،،،

جیسے ہی ان کی گاڑی فارس کی گاڑی کے قریب ہوئی الائیہ نے شوٹ کیا،،،،،،،،،،

ایشا بے ہوش ہو چکی تھی ایرہ نے اسے سیٹ پر لیٹا دیا،،،،،،،،،،،

فارس نے گاڑی سے ہاتھ باہر نکال کر فائرنگ کی جب اس کی گاڑی کسی کی گاڑی سے ٹکرائی،،،،،،،،،،،

ایرہ کی طرف کا دروازہ کھلا اور ایک جھٹکے کے ساتھ وہ سڑک پر گری سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے اگلے لمحے وہ بے ہوش ہو چکی تھی،،،،،،،،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *