Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan (Episode 28)

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

صبح فارس کی آنکھ کھلی اس نے اپنے ساتھ ایشا کو ڈھونڈنا چاہا پھر اس کی آنکھوں کے گرد کل رات والا منظر گردش کرنے لگا جب اس نے ایشا کو کمرے سے باہر جانے کا کہا تھا،،،،،،،،

وہ اٹھ کر لاؤنج میں آیا ایشا بنا کمفرٹر کے صوفے پر سو رہی تھی اس نے اپنی ٹانگیں اور بازو سکیڑ رکھے تھے،،،،،،،،،

اسے اس حال میں دیکھ کر فارس کو اپنے دل میں تکلیف محسوس ہوئی وہ اس کے پاس آکر گھٹنوں کے بل بیٹھا،،،،،،،،،

کتنی معصوم تھی وہ جیسے ہر گناہ سے پاک ہر عیب سے عاری،،،،،،،،

اس نے ایشا کی آنکھوں کو دیکھا جس کے پپوٹوں پر سوزش ہو چکی تھی شاید یہ پوری رات رونے کے باعث تھا،،،،،،،،،

وہ کھڑا ہوا اور باہر لان میں آکر بیٹھا اس کی سمجھ سے باہر ہو رہا تھا وہ اس سچوایشن کو کیسے ہینڈل کرے،،،،،،،،

تبھی اس کا فون رنگ ہوا،،،،،،،

ہاں بولو،،،،،

باس مجھے لگتا ہے وہ لوگ آپ کی بہن کو کہیں اور لے گئے ہیں،،،،،، سلمان نے کہا

کیا مطلب کہاں لے گئے ہیں،،،،،،،، فارس پریشان ہوا

معلوم نہیں لیکن جو آپ نے اڈریس دیا تھا وہ وہاں نہیں ہے یہ مجھے کنفرم ہے،،،،،،،،،

وہ جہاں بھی ہے اسے ڈھونڈنا تمہارا کام ہے مجھے ہر حال میں اپنی بہن واپس چاہیے،،،،،،،،، وہ غصے سے بولا

اوکے باس میں پوری کوشش کروں گا،،،،،،،،

کوشش نہیں تمہیں ہر حال میں کرنا ہو گا،،،،،،،

اوکے باس،،،،، سلمان پریشان ہوا

فارس نے کال ڈسکنیکٹ کی اور اندر چلا گیا،،،،،،،،،

ایشا ابھی تک سو رہی تھی فارس اس کے قریب آکر کھڑا ہوا،،،،،،،،

ایشا،،،،، اس کی ایک پکار پر وہ نہ اٹھی

ایشا،،،،،، فارس نے دوسری بار پکارا

اس نے جھک کر ایشا کا بازو ہلا کر اسے اٹھانا چاہا جب اسے احساس ہوا ایشا کا بازو بہت گرم ہے،،،،،،،،،

وہ پریشانی سے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور ایشا کی پیشانی پر ہاتھ رکھا اس کا جسم تپ رہا تھا،،،،،،،،

اوہ نو اسے تو بہت تیز بخار ہے،،،،،،،، اس نے زیرِلب کہا

🔥
🔥
🔥

لیزہ اور ارحام آج یونیورسٹی آئے تھے ان کی سٹڈی پر پہلے ہی بہت اثر پڑ چکا تھا اس لیے آحل نے ان دونوں کو یونی جانے کا کہا،،،،،،،،،،،

ایک گاڑی سے وہ دونوں اتر کر یونی میں داخل ہوئے لیزہ نے ارحام کے بازو میں ہاتھ ڈالا ہوا تھا وہ اس کے ساتھ بہت خوش تھی،،،،،،،،،،

ارحام نے دیکھا کہ ذوہا انہی سیڑھیوں پر بیٹھی ہے جہاں وہ دونوں بیٹھا کرتے تھے تبھی ذوہا کی بھی نظریں ارحام سے ٹکرائیں وہ اچانک اسے یونی دیکھ کر حیران ہوئی،،،،،،،،،،

لیزہ نے فاتحانہ نظروں سے ذوہا کی طرف دیکھا اس نے ارحام کے بازو پر گرفت سخت کی شاید وہ ذوہا کو جلانا چاہ رہی تھی،،،،،،،،،

ہائے لیزہ کیسی ہو،،،،،،،، ہما نے لیزہ کو ہگ کیا

میں بلکل ٹھیک ہوں تم سناو بہت فریش دکھائی دے رہی ہو کیا وجہ ہے،،،،،،،، لیزہ نے مسکراتے ہوئے کہا

کیا یار تم بھی نا بعد میں بتاوں گی پہلے میں اپنے جیجو ارحام سے تو پوچھ لوں کیا حال ہے ان کا،،،،،،،،، ہما نے چھیڑنے کے انداز میں کہا

ہاں ہاں پوچھ لو،،،،،،،

تو بتائیں جیجو صاحب کیسے مزاج ہیں آپ کے،،،،،،،،

اللہ کا کرم ہے تم بتاؤ کیسی ہو،،،،،،، ارحام نے کہا

میں تو فٹ ہوں آپ کے سامنے ہوں،،،،،،، وہ ہنسی

لیزہ ہماری کلاس فیلوز نے تم سے ٹریٹ لینی ہے،،،،،،،، ہما نے کہا

وہ کس لیے،،،،،،، لیزہ حیران ہوئی

تمہارا نکاح جو ہو گیا ہے اس خوشی میں،،،،،،،

اچھا دے دوں گی تم سب کو ٹریٹ بھی بہت بھوکی ہو سب،،،،،،،،، لیزہ نے ہما کے کندھے پر تھپکی لگائی

لیزہ تم ہما سے بات کرو میں ابھی آتا ہوں،،،،،،،،

لیکن کہاں جا رہے ہو ارحام،،،،،،، لیزہ نے پوچھا

بس دو منٹ میں آیا،،،،،، وہ اس کا ہاتھ چھوڑتا ہوا ذوہا کی طرف بڑھا،،،،،،،،

کیا حال ہے ذوہا،،،،،،، وہ اس کے پاس بیٹھا لیزہ کو بلکل بھی اچھا نہیں لگا وہ اسے چھوڑ کر ذوہا کے پاس چلا گیا تھا

ٹھیک ہوں تم کیسے ہو،،،،،،، وہ مسکرائی مگر اس کے مسکراہٹ میں چھپی اداسی کو وہ بخوبی نوٹ کر سکتا تھا

میں ٹھیک ہوں،،،، وہ خاموش ہوا

نکاح مبارک ہو،،،،،،،، وہ کچھ دیر بعد بولی

تم خوش ہو،،،،،، ارحام نے گہرا دیکھا

تمہیں میری خوشی سے فرق پڑتا ہے،،،،،،،، اس نے ارحام کو دیکھتے ہوئے پوچھا

بلکل پڑتا ہے تم دوست ہو میری،،،،،،،،

شاید اب نہیں رہوں گی،،،،،،،، وہ ہنسی

ایسا کیوں کہہ رہی ہو ذوہا،،،،،،،،

اپنی بیوی کو دیکھو ذرا،،،،،، اس نے لیزہ کی طرف اشارہ کیا ارحام نے دیکھا تو لیزہ کا چہرہ لال ہو رہا تھا جس کا صاف مطلب تھا کہ اسے ارحام کا ذوہا کے پاس جانا اچھا نہیں لگا،،،،،،،،

میں چاہتا ہوں تم دونوں پہلے کی طرح دوست ہو جاؤ،،،،،،،، ارحام نے پھر سے ذوہا کو دیکھا

میں نے بھی بہت چاہا تھا تمہیں معلوم ہے لیکن وہ کبھی نہیں مانے گی میں اسے بچپن سے جانتی ہوں اپنی انا کو وہ کبھی نہیں چھوڑے گی،،،،،،،،، اسے افسوس ہوا

لیزہ کو منانا میرا کام ہے،،،،،،، ارحام بولا

چلو دیکھ لیتی ہوں اسے اپنی انا زیادہ عزیز ہے یا تم،،،،،،،،،

ارحام خاموش رہا،،،،،،،،،

تمہیں کس چیز نے ہرٹ کیا ہے،،،،،،، کچھ دیر بعد وہ بولا

تمہاری اگنورینس نے،،،،،،، کچھ دیر بعد اس نے جواب دیا

میں نے تمہیں اگنور نہیں کیا،،،،،،،،

تم نے کیا ارحام،،،،،،

آئم سوری لیکن میں پہلے بھی بتا چکا ہوں میرے پاس موبائل نہیں تھا اور نکاح بھی اچانک ہوا کچھ سمجھ میں نہیں آیا،،،،،،،،

ہممم کوئی بات نہیں مجھے خوشی ہوئی کہ تمہیں ابھی بھی میں یاد ہوں،،،،،،،، وہ مسکرائی

خدا کے لیے بس کرو ایسا کچھ نہیں ہے تم کل بھی میری دوست تھی اور آج بھی ہو،،،،،،،،

دوست۔۔۔۔ وہ ہنسی۔۔۔۔ شاید تم پچھلے کچھ دنوں میں دوستی کا مطلب بھول گیے تھے،،،،،،،

ارحام خاموش رہا،،،،،،،،

میں نے تمہارے لیے اپنی بچپن کی دوستیں چھوڑیں تھیں شاید اسے کا نتیجہ آج میرے سامنے ہے،،،،،،،،،

ذوہا تم نے انہیں نہیں چھوڑا انہوں نے تمہیں چھوڑا تھا،،،،،،،،،

بات تو ایک ہی ہے میں نے اس شخص کی مدد کی تھی جن کے وہ شدید خلاف تھیں اس کا نتیجہ بھی میں جانتی تھی،،،،،،،،

پرانی باتوں کا فائدہ نہیں،،،،، ارحام نے کہا

صحیح کہہ رہے ہو اس لیے جاؤ اپنی بیوی کو سمبھالو،،،،،،،،

ارحام نے لیزہ کی طرف دیکھا جو غصے سے پاؤں پٹختی کلاس روم کی طرف جا رہی تھی،،،،،،

اوکے میرے بھی لیکچر کا ٹائم ہو گیا ہے زندگی رہی تو پھر ملیں گے،،،،،،،، وہ مسکرائی اور اندر کی جانب بڑھ گئی

🔥
🔥
🔥

عمر ڈور ان لاک کر کے اندر داخل ہوا ایرہ بیڈ پر پاؤں پھیلائے بیٹھی تھی اسے دیکھ کر وہ سیدھی ہو کر بیٹھی،،،،،،،،

یہ کچھ کپڑے ہیں تمہارے لیے،،،،،،،، اس نے بیڈ پر شاپنگ بیگ رکھا اور واپس مڑنے لگا

سنیں،،،،،، ایرہ کی آواز پر وہ رکا

میں کب یہاں سے جاؤں گی،،،،،،،

جب تک تم اپنے بھائی کے بارے میں وہ تمام انفارمیشن نہیں دے دیتی جو تمہیں معلوم ہے،،،،،،،،

لیکن میں کچھ نہیں جانتی بھائی نے مجھے ڈیٹیل سے کبھی اپنے کام کے متعلق نہیں بتایا،،،،،،،،

اوکے فلحال تم چینج کر لو،،،،،،، وہ جانتا تھا اپنے بھائی کو بچانے کے لیے وہ جھوٹ بول رہی ہے

ایرہ خاموش رہی اور وہ کمرے سے باہر نکل گیا،،،،،،،،

ایرہ نے شاپنگ بیگ سے کپڑے نکالے تو کچھ سادہ سے سوٹ تھے جس میں قمیض شلوار اور دوپٹہ تھا اس نے تو کبھی دوپٹہ لیا ہی نہیں تھا،،،،،،،

لائٹ براؤن کا سوٹ نکالے اور واش روم گھس گئی،،،،،،،

دس منٹ بعد وہ باہر نکل کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوئی اس نے خود کو مرر میں دیکھا وائٹ شلوار کے اوپر براؤن قمیض اس پر کافی جچ رہی تھی،،،،،،،،،،،

وہ ابھی خود کو دیکھ ہی رہی تھی جب دروازہ کھلا اندر عمر داخل ہوا تھا،،،،،،،،،،

گیلے بالوں میں وہ کافی نکھری نکھری دکھائی دے رہی تھی اسے سوٹ میں ایرہ پہلے سے زیادہ خوبصورت لگی،،،،،،،،

یہ دوپٹہ اوڑھنے کے لیے ہے،،،،،،، اس نے بیڈ سے دوپٹہ اٹھا کر اسے پکڑیا جسے ایرہ نے پکڑ کر کندھوں کے آس پاس اوڑھ لیا

چلو تمہیں دوسرے کمرے میں جانا ہے،،،،،،،،

دوسرا کمرہ ل۔۔لیکن کیوں میں یہاں ٹھیک ہوں،،،،،،، وہ پریشان ہوئی

فکر مت کرو کچھ غلط نہیں ہو گا،،،،،،،،، اس کی بات سن کر وہ خاموش رہی اور اس کے پیچھے چلنے لگی

عمر اسے دوسرے کمرے میں لے آیا تھا جہاں دانش چیئر پر بیٹھا اسی کا انتظار کر رہا تھا،،،،،،،،،

وہ کمرہ خالی تھا اور وہاں صرف تین کرسیاں تھیں دو ایک طرف اور تیسی کرسی ایک طرف،،،،،،،،،

ایرہ پریشان ہونے لگی وہ اب کیا کرنے والے تھے،،،،،،،،

تبھی عمر کا فون رنگ ہوا اور وہ کال سننے کے لیے باہر چلا گیا

ایرہ دانش سے خوفزدہ ہو رہی تھی وہ اسے کافی سنجیدہ لگا تھا،،،،،،،،،،

بیٹھو،،،،،،،، ایرہ ہاتھ مسلتی ہوئی کھڑی تھی جب دانش نے کہا

وہ ہچکچاتے ہوئے کرسی پر بیٹھی اس نے نوٹ کیا کہ یہ کرسی باقی دو کرسیوں سے مختلف ہے،،،،،،،،،

تمہارا بھائی کیا کام کرتا ہے،،،،،،،، اس نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا

اس۔۔۔اسمگلر ہے،،،،،، وہ ڈرتے ڈرتے بولی

گڈ اور کراچی میں تمہارے بھائی کے کتنے اڈے میں جہاں وہ اپنا مال چھپا کر رکھتا ہے کیوں کہ اسلام آباد والا تو تقریباً خالی تھا،،،،،،،،،

میں نہیں جانتی،،،،،،، اس نے اپنا خشک حلق تر کیا

اوکے چلو یہ بتاؤ اس وقت تمہارا بھائی کہاں ہے،،،،،،،،

م۔۔مجھے نہیں معلوم،،،،،،،، وہ پہلے سے بھی زیادہ ڈرنے لگی

کیسے نہیں معلوم تمہیں تم اس کی بہن ہو تمہیں سب کچھ معلوم ہو گا،،،،،،، وہ چلّایا

ن۔۔۔نہیں مجھے کچھ نہیں پتہ پلیز مجھے چھوڑ دیں،،،،،،،،

بہت شرافت دکھا لی تم ایسے نہیں مانو گی،،،،،،، وہ کھڑا ہو کر اس کی طرف بڑھا

اس نے چیئر کے ساتھ ایرہ کے ہاتھ باندھنے شروع کیے،،،،،،،،

ی۔۔۔یہ آپ کیا کر رہے ہیں چھوڑیں مجھے،،،،،،،،

کرسی کے ساتھ بندھی چین سے وہ اب اس کا دوسرا ہاتھ بھی باندھ چکا تھا،،،،،،،،

سچ اگلوانے کے لیے میرے پاس بہت سے طریقے ہیں،،،،،،،،، وہ سامنے والی کرسی پر بیٹھا

میں کچھ نہیں جانتی پلیز مجھے چھوڑ دیں،،،،،،، وہ رونے لگی

بتاؤ تمہارے بھائی کے اور کتنے ٹھکانے ہیں اور تمہارے اندازے کے مطابق وہ اس وقت کہاں ہے،،،،،،،،

میں کچھ نہیں جانتی پلیز مجھے چھوڑ دو،،،،،،،، اس نے اپنے ہاتھ چھڑوانے چاہے

دانش نے اپنے پاوں کے پاس پڑے بورڈ پر زور دیا جس سے ایرہ کو کرنٹ کا جھٹکا لگا،،،،،،،،،،

اب بھی بتا رہی ہو یا نہیں،،،،،،،،، اس نے بورڈ سے پاؤں اٹھاتے ہوئے پوچھا

ایرہ نے اب اونچی آواز میں رونا شروع کیا عمر جو باہر کھڑا کال سن رہا تھا اندر کی طرف بھاگا،،،،،،،،

دانش،،،،،،، وہ ایرہ کو کرسی پر بندھا دیکھ کر چلّایا

میں نے تمہیں روکا تھا اسے کرنٹ نہیں دینا ہے،،،،،،، وہ غصے سے دھاڑا

عمر کو دیکھ کر ایرہ نے سکھ کا سانس لیا وہ جانتی تھی وہ اس کا خیال رکھتا ہے،،،،،،،،

میں نے اسے لو واٹ کا صرف ایک ہی بار جھٹکا دیا ہے،،،،،،، دانش نے کہا

تم اس کی حالت تو دیکھو تمہیں لگتا ہے وہ کرنٹ برداشت کر پائے گی،،،،،،،،، عمر نے ایرہ کے ہاتھ سے چین کھولنی شروع کی

تو کیا پھر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں کچھ نہ کریں اپنا مشن پورا کرنے کے لیے،،،،،،، دانش کو بھی غصہ آگیا تھا

پہلے جا کر الائیہ سے پوچھو جسے یہ مشن دیا گیا تھا وہ یہ مشن پورا کرنے سے انکار کر چکی ہے،،،،،،،، وہ اس کے مقابل کھڑا ہوا

تم کمرے میں جاو،،،،،، عمر نے ایرہ سے کہا ایرہ چپ چاپ کمرے سے نکل گئی

کیا۔۔۔۔ کیا مطلب ہے وہ انکار کر چکی ہے یہ تو اس کا پیشن تھا،،،،،،،، دانش کے لیے یہ بات صدمے سے کم نہ تھی

اس نے آریان کے لیے اپنا پیشن چھوڑ دیا ہے،،،،،،، عمر نے کہا

ایرہ اپنے کمرے میں جانے لگی جب اس کے دماغ میں ایک خیال آیا یہاں سے بھاگنے کا خیال کیوں کہ دانش اور عمر تو بات کرنے میں مصروف تھے،،،،،،،،،

وہ دبے قدموں باہری دروازے کی طرف بڑھی اس کی خوش قسمتی سے دروازہ کھلا تھا اس نے ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور بھاگتی چلی گئی،،،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

ڈاکٹر ایشا کا چیک اپ کر گیا تھا اسے ایک سو تین پر بخار تھا میڈیسن لینے کے بعد وہ اب سو رہی تھی،،،،،،،،

فارس اس کے پاس بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا اس نے ایشا کا نرم ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں لیا شہادت کی اگلی کو چومتے ہوئے اس نے باری باری سب انگلیوں پر ہونٹ رکھے،،،،،،،،،

ٹیبلیٹ کے زیرِاثر وہ نیند کی وادیوں میں گم تھی،،،،،،،،،،

فارس نے اس کے بال سہلانے شروع کیے اپنا رات والا رویہ یاد کر کے اسے شدید تکلیف ہو رہی تھی،،،،،،،،

اس نے جھک کر اس کی پیشانی کو چوما اور ساتھ لیٹ کر اسے اپنے حصار میں لیا،،،،،،،،،

اس کی قربت محسوس کرتے ہی ایشا کی آنکھیں کھلیں اس نے دیکھا کہ وہ اسے سینے سے لگائے ہوئے ہے،،،،،،،،،

ایشا کے دل کو اک سکون ملا اس نے فارس کے گرد اپنا بازو حائل کیا،،،،،،،،،

ایشا کے جاگنے پر وہ حیران ہوا اس نے اسے خود سے الگ کیا اور اس کے چہرے کو دیکھنے لگا،،،،،،،،،

ایشا نے بھی اس سے نظریں نہ ہٹائیں وہ بھی اسے دیکھنے کو ترس گئی تھی،،،،،،،،،،

مجھے ضروری کام ہے،،،،،،،، وہ بہانے سے اٹھا

وہ سکون جو ایشا کو ابھی ملنا شروع ہی ہوا تھا تکلیف میں بدل گیا اس کی آنسوؤں سے بھری آنکھوں کا وہ زیادہ دیر تک سامنا نہ کر پایا اور کمرے سے باہر نکل گیا،،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

فری پریڈ میں ارحام نے لیزہ سے بات کرنا چاہی لیکن وہ جہاں جاتا لیزہ وہاں سے اٹھ جاتی اس لیے اس نے ہما سے کے ساتھ مل کر پلین بنایا،،،،،،،،،

لیزہ بینچ پر بیٹھی تھی جب ایک لڑکی اس کے پاس آئی،،،،،،،،

لیزہ تمہیں پچھلے گراؤنڈ میں ہما بلا رہی ہے،،،،،،،، اس لڑکی سے ہما نے ہی کہا تھا

اچھا،،،،، لیزہ حیران ہوئی کیوں کہ وہ پچھلے گراؤنڈ میں کبھی نہیں گئی تھی

بیگ کندھے پہ لٹکاتے ہوئے وہ پچھلے گراؤنڈ کی طرف چلنے لگی گراونڈ میں پہنچنے کے بعد اس کا فون رنگ ہوا ہما کی کال تھی،،،،،،،،

ہیلو کہاں رہ گئی ہو لیزہ کب سے بلوایا ہے تمہیں،،،،،،،،، ہما تیزی سے بولی

یار تم یہاں کیا کر رہی ہو اتنے ویران سے گراؤنڈ میں نہ ڈھنگ سے بیٹھنے کی جگہ ہے نہ کچھ اور،،،،،،،، لیزہ نے منہ بسورا

یار میرا دل کر رہا تھا بھیڑ سے نکلنے کو میں آخری دو دیواروں کے درمیان میں بیٹھی ہوں جلدی آجاؤ،،،،،،،،

کیا دماغ ٹھیک ہے تمہارا اتنی ہارر پلیس ہی ملی تھی تمہیں بیٹھنے کے لیے پوری یونی میں آگ لگ گئی تھی کیا،،،،،،، اس نے حیرت سے کہا

اچھا اب زیادہ باتیں نہیں کرو تیز تیز چلو میں فون رکھ رہی ہوں،،،،،،،،

لیکن ہما،،،،،، اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ہما کال بند کر چکی تھی

پانچ منٹ بعد لیزہ دو دیواروں کے پاس پہنچی یہاں سے اسے صرف کوّوں کی آوازیں ہی آرہی تھیں اسے اس ویران سی جگہ پر خوف بھی آرہا تھا،،،،،،،،،

تبھی کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا لیزہ کے منہ سے چینخ نکلی،،،،،،،،،،

ارحام نے اسے دیوار کے ساتھ لگا کر اس کے ہونٹ سی دیے لیزہ کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا وہ بہت ڈر چکی تھی،،،،،،،،

اس نے ارحام کو سینے سے دھکیل کر پیچھے کرنا چاہا لیکن اسے لیزہ کی مداخلت کچھ پسند نہ آئی،،،،،،،،،

اس نے لیزہ کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ایک ہاتھ کی گرفت میں لے کر اوپر دیوار کے ساتھ لگایا اور دوسرا ہاتھ اس کی کمر میں ڈالا،،،،،،،،،

لیزہ نے آنکھیں بند کیں اس کے دل میں احساس کی لہر اٹھنے لگی،،،،،،،،،

پانچ منٹ بعد ارحام پیچھے ہوا لیزہ کی لپسٹک اس کے ہونٹوں پر لگ چکی تھی،،،،،،،،

لیزہ کی ساری شکائتیں وہ دور کر چکا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی اب وہ ارحام سے کیا شکایت کرے،،،،،،،

آئندہ مجھ سے دور ہوئی تو اسی طرح بدلا لیا کروں گا،،،،،،،، اس نے دونوں ہاتھ لیزہ کی کمر میں ڈال کر اسے اپنی طرف دھکیلا

ت۔۔۔تم نے مجھے موقع دیا،،،،،،، آخر وہ شکوہ کر بیٹھی تھی جس پر وہ مسکرایا

کب دیا،،،،، ارحام اس کے ہونٹ چوم کر بولا لیزہ کی آنکھوں میں شرم اتر آئی

ت۔۔۔تم کیوں اس سے ملنے گئے،،،،،،،،، وہ آنکھیں جھپکتی ہوئی بولی

کس سے ملنے،،،،،،،، ارحام نے پھر اس کے ہونٹوں پہ ہونٹ رکھے

ذ۔۔۔ذوہا سے اور کس سے،،،،،،،، لیزہ نے نظریں جھکائیں

اچھااا تو تمہیں جیلسی فیل ہوئی،،،،،،، وہ مسکرایا

ہاں ہوئی ہے اور کیا نہ ہو شوہر ہو میرے،،،،،،،، وہ اسے گھورتے ہوئے بولی

ہائے صدقے جاؤں اپنی بیوی کے اس انداز پہ،،،،،،،، وہ اسے پھر سے کِس کرنے لگا جب لیزہ نے اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھا ارحام نے اس کے ہاتھ کو چوم لیا لیزہ نے شرم سے ہاتھ ہٹایا،،،،،،،،،

تمہارا یہ لاسٹ سمیسٹر ہے نا،،،،،،، لیزہ نے پوچھا

ہاں کیوں،،،،،،

ویسے ہی پوچھ رہی تھی کیوں کہ تمہاری آزادی کے دن بہت کم رہ گئے ہیں،،،،،،،، لیزہ کی بات پر وہ مسکرایا

اووو اچھا یعنی کہ بابندی لگنے والی ہے مجھ معصوم پر،،،،،،،،

معصوم اور تم کہیں ہو ہی نا جاؤ،،،،،، لیزہ نے تنز کیا جس پر وہ مسکرایا

اور نہیں تو کیا معصوم ہی ہوں کوئی اور ہوتا تو اب تک ویڈنگ نائٹ بھی کر چکا ہوتا،،،،،،،، اس نے لیزہ کی گال کو چومتے ہوئے کہا

بس بس اب اتنے بھی شریف نہیں ہو ایک بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جب نظر آجاؤں پکڑ لیتے ہو،،،،،،،،،

تو اور کیا نہ پکڑوں بیوی ہو میری پوری دنیا کے سامنے بھی پکڑوں تو کوئی روک نہیں سکتا،،،،،،،،

زیادہ شوخے نہیں بنو یونی میں تو چھپ چھپ کر پکڑ رہے ہو اور باتیں کرتے ہو پوری دنیا کے سامنے پکڑنے کی،،،،،،،، اس نے آنکھیں گھمائیں

تو کیا کہتی ہو آج پھر پوری یونی کے سامنے پکڑوں،،،،،،،، اس نے پیچھے ہو کر اس کا ہاتھ پکڑا

اب زیادہ اناپرست بننے کی بھی ضرورت نہیں،،،،،،،، لیزہ کی بات سن کر ارحام نے ہنستے ہوئے اپنے حصار میں لیا

🔥
🔥
🔥

عمر باہر نکلا اس نے دیکھا کہ ایرہ کے کمرے کا دروازہ کھلا ہے وہ بھاگتا ہوا کمرے کی طرف آیا ایک زور دار آواز سے کمرے کا درواۂ کھلا تھا عمر کے پیروں تلے سے زمیں نکلی،،،،،،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *