Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan (Episode 05)

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

اس کے بیگ سے گرلز کا پرسنل سٹف نکلا تھا ارحام سکتے کی حالت میں انہیں دیکھ رہا تھا اسے اپنے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس ہو رہے تھے،،،

ونڈو میں کھڑی ذوہا کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا لیزہ اس کے ساتھ ایسی گھٹیا حرکت کیسے کر سکتی تھی،،،

ارحام،،، سر کے چلّانے کی آواز سے وہ ہوش میں آیا

ج۔۔جی سر،،،

کیا ہے یہ سب،،، اس نے جلدی سے انہیں واپس بیگ میں رکھ کر پوچھا

سر میں کچھ نہیں جانتا،،، ارحام نے کہنے کے بعد لیزہ کی طرف دیکھا جو فاتحانہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی

تو کون انہیں تمہارے بیگ میں رکھ گیا،،، وہ غصے سے بولے جس پر ارحام نظریں جھکا گیا

کلاس کے سبھی سٹوڈنٹس اب ارحام پر ہنس رہے تھے اور طرح طرح کی باتیں بنا رہے تھے،،،

دیکھو تو ہم سب اسے کتنا شریف سمجھتے تھے اور یہ کیا نکلا،،، ایک سٹوڈنٹ نے کہا

ہاں کتنا شریف ہے یہ تو اب دکھ ہی رہا ہے،،، دوسرے سٹوڈنٹ نے کہا تو ارحام میں ان سے مظریں ملانے کی ہمت نہ رہی

خاموش ہو جائیں سب اور ارحام تم کلاس سے باہر جاؤ لیکچر ختم ہونے کے بعد مجھ سے ملنا،،، سر نے کہا اور ارحام اپنا بیگ اٹھائے کھڑا ہوا

باہر کی جانب چلتے ہوئے وہ ایک پل کے لیے رکا اور لیزہ کی طرف دیکھنے لگا،،،

کچھ تو تھا اس کی آنکھوں میں کہ ایک پل کے لیے لیزہ کے ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہو گئی،،،

ارحام کلاس سے باہر نکلا تو سر لیزہ سے مخاطب ہوئے،،،

آپ کہیں اور اپنا موبائل دیکھیں اس کے پاس نہیں ہے،،،

اوکے سر،،، لیزہ کہتی ہوئی باہر نکلی ساتھ ہی ہما بھی نکل آئی

تم دونوں نے یہ بہت غلط کیا بدلا لینے کے لیے یہی گھٹیا پلین ہی ملا تھا کیا،،، ذوہا نے افسوس کے ساتھ کہا

اچھا تم نہ سمجھاؤ مجھے میں تو اپنا بدلا لے کر خوش ہوں اس کی شکل دیکھنے والی تھی،،، وہ قہقہ لگاتی ہوئی بولی

اس کی طرف دیکھ کر ذوہا نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا،،،

اور ہما تم سے مجھے یہ امید نہیں تھی،،، ذوہا نے کہا تو ہما نظریں جھکا گئی کیوں کہ دل ہی دل میں وہ بھی لیزہ کا ساتھ دے کر پچھتا رہی تھی لیکن کیا کرتی وہ اس کی دوست تھی اس نے جیسا کہا اس نے کر دیا،،،

🔥
🔥
🔥

مے آئی کم ان سر،،،

ارہان نے سٹاف روم کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا،،،

کم ان،،، سر اطہر نے کہا

ارحام اندر داخل ہوا،،،

بیٹھو،،،

ان کے کہنے پر وہ چئیر پر بیٹھا،،،

ارحام تمہیں میں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں تم نے جب سے یونیورسٹی جوائن کی ہے میں نے نہیں سنا کہ کبھی کوئی تمہاری کمپلین لے کر پرنسپل کے آفس گیا ہو لیکن آج جو کچھ ہوا وہ میری سمجھ سے باہر ہے لیکن میرا دل نہیں مطمئن کہ تم اس طرح کے لڑکے ہو سکتے ہو،،،

وہ خاموش ہوئے اور ارحام نظریں جھکائے ان کی بات سن رہا تھا،،،

مجھے جاننا ہے کہ یہ کیا معاملہ ہے،،،

ارحام کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولا۔۔۔ “سر میں نہیں جانتا یہ کس نے کیا بس اتنا کہوں گا یہ کسی کی سازش تھی” ،،،

لیکن کس کی آخر ایسا کیا ہوا کوئی تمہارے خلاف سازش کیوں کرے گا کہیں وہی لڑکی تو نہیں شاید موبائل کا بہانہ ہو،،،

بلکل نہیں سر اسے تو میں جانتا بھی نہیں،،، وہ فوراً بولا

تو پھر کون ہو سکتا ہے،،،

سر میں نہیں جانتا لیکن میرا کردار غلط نہیں،،،

مجھے تم پر پورا ٹرسٹ ہے ارحام اور مجھے امید ہے یہ ٹرسٹ تم توڑو گے نہیں،،،

میں آپ کی امید پر پورا اتروں گا سر،،،

اور ہاں اس حرکت کے پیچھے کون تھا اگر تمہیں معلوم ہو تو مجھے ضرور بتانا اوکے اب تم جا سکتے ہو،،،

ارحام کھڑا ہوا اور روم سے باہر نکل آیا،،،

🔥
🔥
🔥

ایرہ اپنے کمرے میں بیٹھی آریان کو یاد کر کے رو رہی تھی اس کی آنکھوں کا کاجل آنسوؤں کے ساتھ مل کر اس کی رخساروں پر بہہ رہا تھا،،،

کچھ خیال آنے پر اچانک وہ اٹھی اور گاڑی کی کیز لیے کمرے سے باہر نکل گئی،،،

گاڑی میں بیٹھ کر وہ گیٹ کے پاس آئی لیکن واچ مین نے گیٹ نہ کھولا اور سر جھکائے کھڑا رہا،،،

گیٹ کھولو،،، ایرہ نے واچ مین سے کہا تو اس نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا

چھوٹی بی بی آپ اس وقت باہر نہیں جا سکتیں،،، وہ نظریں جھکائے بولا

کیوں باہر جانے کے لیے مجھے تمہاری پرمیشن چاہیے کیا،،، اس نے سوالیہ نظروں سے واچ مین کی طرف دیکھا

صاحب جی نے سختی سے کہا ہے آپ کو شام کے بعد گھر سے نہیں نکلنے دینا،،،

میں نے کہا گیٹ کھولو،،، وہ تلخ لہجے میں بولی

واچ مین پھر سے سر جھکائے کھڑا ہو گیا اور ایرہ غصے سے گاڑی سے باہر نکل کر اس کے پاس آئی اس نے واچ مین کے ہاتھ میں موجود گن پکڑ کر اس کے سر پر رکھی،،،

تمہیں اپنی جان کتنی پیاری ہے،،، وہ آنکھوں میں وحشت لیے بولی

چھوٹی بی بی آ۔۔۔آپ یہ کیا کر رہی ہیں،،،

تمہیں ایک فیصلہ کرنا ہو گا یا میرے لیے گیٹ کھولو گے یا پھر آج اپنی زندگی سے ہاتھ دھو گے،،،

واچ مین نے اکڑی ہوئی گردن کے ساتھ نظریں گھما کر اپنے پاس کھڑے تین گارڈز کو دیکھا لیکن وہ خاموش رہے ایرہ کے غصے کو یہاں سب جانتے تھے،،،

ج۔۔جی میں کھولتا ہوں،،، اس نے کہا تو ایرہ نے گن زمین پر پھینکی اور واپس گاڑی میں بیٹھ گئی

گیٹ کھلنے پر وہ باہر نکلی اور فاسٹ سپیڈ سے گاڑی ڈرائیو کرنے لگی،،،

کچھ دیر بعد اس نے سپیڈ سلو کی اور آس پاس دیکھنے لگی،،،

آریان کہاں ہو تم۔۔۔ اور کتنا تلاشوں تمہیں پلیز آجاؤ،،،

خود کلامی کرتے ہوئے وہ سٹیرنگ کو گھما رہی تھی،،،

دو گھنٹے سڑکوں پر گاڑی دوڑانے کے بعد بھی اسے آریان کہیں دکھائی نہیں دیا تھا،،،

فارس گھر آیا تو سب سے پہلے ایرہ کے کمرے کا رخ کیا،،،

گڑیا،،، کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اس نے ایرہ کو پکارا لیکن آگے سے کوئی آواز نہ آئی

اس نے سوچا ایرہ سو چکی ہے لیکن روم کی لائٹ آن تھی وہ دروازہ کھولے اندر داخل ہوا لیکن ایرہ اسے کہیں دکھائی نہ دی،،،

اس نے واش روم چیک کیا وہ وہاں بھی نہیں تھی تیز قدموں سے وہ باہر نکلا اس نے ہاتھ پر بندھی واچ پر ٹائم دیکھا جو اس وقت رات کے گیارہ بجے کا ٹائم دکھا رہی تھی،،،

ایرہ کہاں ہے،،، اس نے لاؤنج میں کھڑے ملازم سے پوچھا

صاحب جی میں نے چھوٹی بی بی کو لان میں جاتے دیکھا تھا،،،

فارس تیز چلتا ہوا باہر آیا لان کافی حد تک کھلا تھا اس نے دور دور نظر دوڑا کر دیکھا لیکن وہ اسے نہیں دکھی،،،

اچانک فارس کی نظر اس جگہ پڑی جہاں ایرہ کی گاڑی کھڑی ہوتی ہے لیکن آج نہیں تھی،،،

واچ مین ایرہ کہاں ہے،،، وہ چلایا

صاحب جی چھوٹی بی بی بہت ضد کر رہی تھی کہ انہوں نے باہر جانا ہے،،،

میں نے جب تمہیں روکا تھا کہ شام کے بعد وہ باہر نہیں نکل سکتی پھر کیوں جانے دیا اسے،،، اس نے واچ مین کو گریبان سے پکڑا

صاحب جی انہوں نے مجھ پر گن تان لی تھی،،، اس نے کانپتے ہوئے کہا

بزدل انسان جب میں واپس آؤں تو یہاں دکھائی مت دینا،،، فارس نے ایک زور دار پنچ اس کے منہ پر مارا اور اپنی گاڑی میں بیٹھا

ایرہ ڈرائیو کر رہی تھی جب اس کی گاڑی کا فیول ختم ہو گیا اس نے پوری سڑک پر نظر دوڑائی تو سڑک سنسان تھی،،،

اس نے اپنا موبائل اٹھانا چاہا لیکن موبائل تو وہ لے کر ہی نہیں آئی تھی،،،

وہ وہیں بیٹھی رونے لگی ایک آریان کو ڈھونڈنے کی کوشش اس بار پھر سے ناکام رہی تھی دوسرا رات کے بارہ بجنے والے تھے اور وہ یہاں بے آسرا تھی،،،

وہ ہاتھوں میں چہرہ لیے رو رہی تھی جب اس کی سماعت میں کچھ لڑکوں کی آوازیں پڑیں،،،

🔥
🔥
🔥

صبح کے چھ بجے تھے الائیہ نے ایکسرسائز کے لیے لائٹ گرین کلر کی ٹائٹس اور شرٹ پہنی بالوں کو باندھے وہ لان کی پچھلی جانب جہاں اس وقت کوئی نہیں آتا تھا چلنے لگی،،،

آریان کی آنکھ آج جلدی کھل گئی تھی کچھ دیر لیٹے رہنے کے بعد وہ اٹھا اور واش روم گھس گیا،،،

واش روم سے آکر وہ اپنے سلکی لائٹ براؤن بالوں میں انگلیاں چلاتا ہوا ونڈو کے پاس آیا اور کرٹین سائیڈ پہ کیا،،،

اس کی نظر لان میں ایکسرسائیز کرتی ہوئی الائیہ پر پڑی جو اس وقت اپنے کام میں شدت سے مصروف تھی آریان ہاتھ باندھے اسے دیکھنے لگا،،،

شاید اس چھپکلی کو موم نے اس ڈریسنگ میں نہیں دیکھا،،، وہ اس کے تنگ ٹائٹس اور شرٹ کو دیکھ کر خود کلام ہوا

الائیہ کبھی کمر کی ایکسرسائیز کرتی اور کبھی ٹانگوں کی، آریان یہ منظر نہایت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ساتھ اپنی تھوڑی پر ہلکی بڑھی شیو کو دو انگلیوں سے سہلا رہا تھا کہ کندھوں کی ایکسرسائیز کرتے ہوئے الائیہ نے اپنا رخ اوپر کی جانب کیا اور اس کی نظریں آریان کی نظروں سے ٹکرائیں،،،

آریان نے فوراً سے کرٹین آگے کیا اور واپس بیڈ پر آکر بیٹھا وہ اس کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا جب اس کے روم کا ڈور ناک ہوا،،،

اس نے ڈور کھولا تو الائیہ ہاتھ باندھے اسے تیکھی نظروں سے دیکھنے میں مصروف تھی،،،

آریان نےآئیبرو اچکائے جس کا مطلب تھا “کیا” ،،،

تمہیں شرم نہیں آتی یہاں ونڈو میں کھڑے ہو کر مجھے گھور رہے تھے،،، وہ اپنی نظریں آریان ہر گاڑھتی ہوئی بولی

میں اور تمہیں دیکھ رہا تھا ہوں۔۔۔ خوش فہمی ہے تمہاری،،،

تو کیا تمہارا جن اس گھر میں رہتا ہے اوہ مائے گاڈ آنٹ اور انکل کو تو آج تک پتہ ہی نہیں چلا کہ آریان خانزادہ کا ایک عدد جن بھی یہاں رہتا ہے،،، وہ طنز سے بولی اور اسے دیکھ کر آریان نے دانتوں تلے لب دبایا

آریان کی نظر ماہاویرا پر پڑی جو کمرے سے نکل کر لاؤنج کی طرف آرہی تھی وہاں سے اوپر کا منظر صاف دکھائی دیتا تھا،،،

موم آرہی ہیں اور تم اس ڈریسنگ میں میرے کمرے کے دروازے پر کھڑی ہو،،، اس نے سرگوشی نما کہہ کر الائیہ کو کمر سے پکڑ کر روم کے اندر کھینچا،،،

اس کے اچانک عمل پر الائیہ کی چینخ نکلنے لگی جسے آریان نے ہاتھ سے دبا دیا،،،

زور سے دروازہ بند ہونے کی آواز ماہاویرا کی سماعت میں پڑی اور وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھی،،،

کیا ہے کیوں دروازہ بند کیا ہے جانے دو مجھے،،، الائیہ دروازہ کھولنے لگی جب آریان نے اسے پکڑا

پاگل ہو گئی ہو موم آرہی ہیں،،،

تو میں کیا کروں،،، الائیہ بول رہی تھی کہ آریان اس کا ہاتھ پکڑے واش روم میں گھس گیا

چھوڑو مج۔۔۔۔ وہ بول رہی تھی جب آریان نے ہاتھ رکھ کے پھر سے اس کی بولتی بند کر دی،،،

ماہاویرا روم میں داخل ہوئی دروازہ کھلنے کی آواز سے آریان کو معلوم ہو چکا تھا،،،

اممممم۔۔۔ الائیہ اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولنے کی کوشش کر رہی تھی

ششششش،،، آریان نے اسے دیوار کے ساتھ لگایا اور الائیہ اس کی گہری کالی آنکھوں میں دیکھنے لگی

ماہاویرا نے جب دیکھا کہ آریان واش روم میں ہے تو بنا کچھ کہے روم سے باہر نکل گئی،،،

الائیہ ابھی تک اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی دروازہ بند ہونے کی آواز سن کر آریان نے اس کی براؤن آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی تو وہ ہوش میں آئی،،،

موم چلی گئی ہیں اب تم جا سکتی ہو،،، وہ واش روم کا دروازہ کھول کر بولا تو الائیہ بنا کچھ کہے باہر نکل گئی

🔥
🔥
🔥

پاپا ماما ہمارے کالج کا ٹرپ جا رہا ہے کراچی بیچ پر مجھے بھی ساتھ جانا ہے،،، ایشا رات کے وقت ڈنر کرتے ہوئے آحل اور ذائشہ سے کہہ رہی تھی

کراچی بھی بھلا کوئی گھومنے کی جگہ ہے لوگ کراچی سے اسلام آباد آتے ہیں اور تم اسلام آباد سے کراچی جا رہی ہو،،، لیزہ نے اسے گھورتے ہوئے کہا

ماما میں آپ دونوں سے بات کر رہی ہوں لیزہ آپی کیوں بول رہی ہیں درمیان میں،،، وہ چشمے کو انگلی سے دھکیلتی ہوئی بولی

ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے وہ کراچی میں ہے ہی کیا کہ وزٹ کیا جائے،،، ذائشہ نے کہا

ماما آپ بھی آپی کے ساتھ مل گئی ہیں،،،، ایشا نے رونے والا منہ بنا کر آحل کی طرف دیکھا

ارے بھئی وہ کہہ تو رہی ہے ٹرپ بیچ پر جانا ہے تو مسئلہ کیا ہے سب بچے جا رہے ہیں،،،

بس ہو گئے بیٹی کی طرف داری میں شروع،،، ذائشہ نے کہا

ویسے پاپا کبھی آپ نے میری سائیڈ بھی لی ہے اس طرح ہمیشہ ایشا کی طرف داری ہی کرتے ہیں،،، لیزہ نے منہ بسورا

ارے تم دونوں میں میری جان ہے تم بڑی ہو سمجھدار ہو اور یہ ابھی چھوٹی ہے نا سمجھ ہے،،، آحل نے لیزہ کو سمجھایا

اتنی چھوٹی نہیں ہے یہ جتنی یہ کم عقل ہے،،، ذائشہ نے کہا تو ایشا نے منہ بسورا

پاپا مجھے ٹرپ پر جانا ہے،،،

میرا بچہ ضرور جائے گا پریشان نہیں ہونا اوکے،،، آحل نے کہا تو ایشا کی بتیسی کھلی

ارے آپ کو معلوم بھی یے کراچی کتنا دور ہے یہ کیسے سکول ٹیچرز ہیں جو کراچی جا رہے ہیں ٹرپ کے لیے،،، ذائشہ نوالا پلیٹ میں رکھ کر بولی

ماما بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں کراچی واقع ہی بہت دور ہے،،، لیزہ نے کہا

آپی آپ چپ رہو میں کبھی آپ کے معاملے میں بولی ہوں کیا،،، ایشا نے کہا تو لیزہ نے اسے گھوری سے نوازہ

بھئی ایشا ٹرپ پر جا رہی ہے بس فائنل ہو گیا،،،

اوو تھینک یو سو مچ پاپا،،، ایشا نے چئیر سے اٹھ کر آحل کی رخسار پر کس کیا

میرا بچہ تھینک یو کی ضرورت نہیں بس وہاں ہر پندرہ منٹ بعد پاپا کو کال کر کے خیریت بتانی ہے اوکے،،،

اوکے پاپا جیسے آپ کہو،،، وہ خوشی سے اپنے روم کی طرف بھاگ گئی اور ذائشہ حیرت سے باپ بیٹی کی طرف دیکھتی رہ گئی

کبھی میری بھی سن لیا کریں،،، ذائشہ نے ناراضگی سے کہا اور آحل واپس کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا

🔥
🔥
🔥

طوفان اپنے زور پر تھا، تیز ہواؤں نے شور مچا رکھا تھا، تیز بارش کی بوندیں زمین بھیگو رہی تھیں، ارحام ونڈو میں کھڑا کسی غیر مرعی نقطے کو دیکھ رہا تھا جس بدنامی کے ڈر سے اس نے لیزہ پر پانی گرانے والا کام کیا تھا آج اسی بدنامی کا اسے سامنا کرنا پڑا، پوری کلاس کے سامنے وہ ایک بد کردار لڑکا ثابت ہو چکا تھا،،،

اس نے تکلیف سے اپنی آنکھیں موند لیں وہ جو بھی کر لیتا اب سب کچھ پہلے کی طرح نہیں ہو سکتا تھا، کس طرح سٹوڈنٹس اس کے کردار کے بارے میں غلط بیانی کر رہے تھے وہ روز روز یہ سب کیسے برداشت کر پائے گا،،،

لیزہ نے اعتبار کی بات کر کے اس کا اعتبار توڑا تھا وہ سمجھ چکا تھا جب لیزہ اسے ایک سائید پر لے کر گئی تھی تو ہما نے اس کے بیگ میں وہ سٹف رکھا تھا،،،

اس نے ونڈو کھول کر تیز ٹھنڈی ہوا کو سینے سے لگایا، کچھ حد تک اس نے خود کو پرسکون محسوس کیا تھا،،،

بارش کی بوندیں اندر تک آرہی تھیں اور اس کے جسم کو چھو کر اس میں جذب ہونے کا ارداہ رکھتی تھیں،،،

کچھ دیر تک یوں ہی کھڑے رہنے کے بعد بغیر ونڈو بند کیے اپنے بستر پر آیا اور کھلی آنکھوں سے دن میں ہونے والا واقع یاد کرنے لگا،،،

🔥
🔥
🔥

آحل آپ نے یہ بلکل بھی اچھا نہیں کیا،،،

اب کیا کر دیا میں نے بیگم،،، آحل ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا آفس کے لیے تیار ہو رہا تھا

آپ ذائشہ کو وہاں کیسے بھیج سکتے ہیں وہاں سمندر پر اگر اسے کچھ ہو گیا تو،،،

ذائشہ کیسی باتیں کر رہی ہو اللہ خیر کرے گا ایسا نہیں سوچتے،،، آحل نے اسے ٹوکا

لیکن آحل وہ ابھی چھوٹی ہے اسے وہاں اکیلے نہیں بھیجنا چاہیے،،،

اچھا جی اب وہ چھوٹی ہو گئی اور روز جو تم اسے لیکچر دیتی ہو کہ اب بچی نہیں رہی اس کا کیا،،، آحل مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا

میں جو کہتی ہوں اس کی بھلائی کے لیے ہی کہتی ہوں ماں ہوں اس کی،،،

اچھا تم پریشان تو مت ہو ویسے بھی وہ اکیلی کہاں ہے باقی سٹوڈنٹس اور ٹیچرز اس کے ساتھ ہوں گے،،،

لیکن آحل،،،

اچھا بس اب مجھے پیاری سی سمائل دو تا کہ میں آفس جا سکوں،،،

وہ ہلکا سا مسکرائی تو آحل نے اس کی پیشانی پر لب رکھے،،،

پریشان نہیں ہونا اوکے اور میں ایشا کو کالج چھوڑنے جا رہا ہوں اس کی ٹیچرز سے بھی بات کر لوں گا کہ دھیان رکھے،،،

ٹھیک ہے،،، ذائشہ نے کہا اور آحل موبائل اٹھائے روم سے باہر نکل گیا

🔥
🔥
🔥

ارحام۔۔۔

ارحام۔۔۔

علی اس کے سر پر کھڑا اسے جگانے کی کوشش کر رہا تھا ارحام نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں جو پوری رات جاگ کر گزارنے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھیں،،،

کیا ہوا طبعیت تو ٹھیک ہے تمہاری آٹھ بج چکے ہیں اور تم اٹھے ہی نہیں،،، علی نے حیرت سے پوچھا

ارحام نے ٹائم کا سن کر اٹھنا چاہا لیکن اپنے جسم میں شدید درد محسوس کر کے واپس بستر پر لیٹ گیا،،،

علی نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر ٹیمریچر چیک کیا،،،

تمہیں تو بہت تیز بخار ہے،،، پوری رات وہ سویا نہیں تھا ایک طرف پریشانی اور دوسرا ٹھنڈی ہوا اور بارش کی وجہ سے اسے بخار ہو چکا تھا،،،

اور یہ کمرے میں اتنا پانی اکٹھا ہو گیا ہے تم نے ونڈو کیوں کھولی شاید اسی وجہ سے تمہیں بخار ہو گیا ہے،،،

علی نے ونڈو بند کی اور اس کے لیے ناشتے کی ٹرے اٹھائی

اٹھو یہ ناشتہ کرو میرے پاس بخار کی ٹیبلیٹس پڑی ہیں وہ تمہیں دیتا ہوں،،،

جسم میں شدید درد کے باعث اس سے اٹھا نہیں جا رہا تھا علی نے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور سامنے ٹیبل پر ناشتہ رکھا،،،

میرا کچھ کھانے کو دل نہیں کر رہا،،، وہ آہستگی سے بولا

لیکن کھانا تو پڑے گا نا ورنہ بخار کیسے اترے گا اور اگر بخار نہ اترا تو یونیورسٹی کیسے جاؤ گے،،،

یونیورسٹی کا نام سن کر اس کے ذہن میں کل والا تمام واقع پھر سے گردش کرنے لگا،،،

نہیں جانا مجھے یونیورسٹی،،،

کیا یہ تم کہہ رہے ہو جہاں تک مجھے یاد ہے تم نے آج تک چھٹی تو کیا ایک لیکچر بھی مس نہیں کیا،،، علی حیرت سے بولا

نہیں بس طبعیت ٹھیک نہیں ہے،،،

میرے بھائی جلدی سے ناشتہ کر ٹیبلیٹس تو میں تمہیں کھلا کر ہی رہوں گا،،، علی کی ضد پر ارحام نے کانپتا ہوا ہاتھ آگے بڑھایا اور نوالہ توڑ کر منہ میں رکھا

علی نے ٹیبل پر ٹیبلیٹس رکھیں اور یونی جانے کے لیے ریڈی ہو گیا،،،

اچھا میں جا رہا ہوں یونیورسٹی تمہیں اگر کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو مجھے کال کر دینا میں لیتا آوں گا،،،

کچھ نہیں چاہیے مجھے،،، اس نے آہستہ سے کہا اور علی اثبات میں سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا

ٹیبلیٹس لے کر وہ واپس سے بستر پر گرا اس کا دماغ ابھی بھی کل والی باتوں کو یاد کر کر کے پھٹ رہا تھا،،،

🔥
🔥
🔥

الائیہ ریڈی ہے لے جاؤ اسے اسلام آباد وزٹ کروانے،،، آریان فریش ہو کر سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے آرہا تھا جب ماہاویرا نے کہا

کیا لیکن میں نے تو آج فرینڈز کے ساتھ انجوائے کرنا تھا،،،

تمہیں کل بتایا تو تھا کہ صبح الائیہ کو وزٹ کروانے کے لیے لے جانا اب پھر جاتے رہنا دوستوں کے ساتھ بھی بچی پہلی بار پاکستان آئی ہے اسے دکھاؤ تو صحیح کیسا ہے ہمارا ملک بھی،،،

الائیہ نے تنزیہ مسکراتے ہوئے آریان کی طرف دیکھا تو اسے غصہ آنے لگا،،،

لیکن موم ہم پورا پلین کر چکے ہیں اسے میں کل لے جاؤں گا،،،

آریان بری بات ہے بیٹا وہ کب سے تمہارا ویٹ کر رہی ہے چلو لے کر جاؤ اسے،،، ماہاویرا نے اسے ڈانٹا

آریان نے الائیہ کو گھورا آج پھر وہ اس کا پلین چوپٹ کر چکی تھی،،،

چلو،،، وہ منہ بسورتے ہوئے بولا اور الائیہ اپنی ہنسی دباتے ہوئے اس کے پیچھے چلنے لگی

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *