Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan (Episode 14)

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

ہاں تم نے بات کرنی ہے کیا،،،،،،،،

جی ماما مجھے دیں موبائل میں نے بھی بات کرنی ہے،،،،،،،،،

ماہا یہ ایشا تم سے بات کرنا چاہتی ہے کر لو،،،،،،،

اوکے اسے موبائل دو،،،،،،،

ہائے ویر پھو ہاؤ آر یو،،،،،،، وہ موبائل پکڑتے ہی خوشی سے بولی

ہائے ایشا میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو،،،،،،،،

میں بلکل ٹھیک ہوں پھو،،،،،،،

ایکچولی میں نے تم سب کو ایک گڈ نیوز سنانے کے لیے کال کی تھی،،،،،،،،

اچھا اور وہ کیا،،،،،،،، وہ انگلی سے چشمے کو دھکیلتی ہوئی بولی

تمہارے آریان بھائی کی انگیجمنٹ ہو رہی ہے،،،،،،،،

کیا پھو سچ کب اور کس سے،،،،،،،، وہ اچھل کر صوفے پہ چڑھی

الائیہ سے ہو رہی ہے،،،،،،،

واؤ الائیہ آپی آئی ویری لائک ہر وہ تو بہت اچھی ہے بھائی اور ان کی جوڑی تو کمال رہے گی،،،،،،،

ہاں بلکل وہ دونوں ہی ماشاءاللّٰه‎ بہت پیارے ہیں،،،،،،،

پھو کب کرنی ہے انگیجمنٹ،،،،،،،،

کل شام تیار رہنا،،،،،،، ماہا بولی

واؤ کل شام بہت مزہ آنے والا ہے یہہہہہ،،،،،،،

لیزہ ایشا کی آواز سن کر کمرے سے نکلی،،،،،،

تمہیں کیا ہو گیا ہے کوئی لاٹری تو نہیں کل آئی،،،،،،،،

ویر پھو میں موبائل رکھ رہی ہوں آپی کو بھی بتانا ہے،،،،،،،،

اوکے میری بچی اللّٰه‎حافظ‎،،،،،،،،

بائے پھو لو یو،،،،،،، اس نے کال ڈسکنیکٹ کی

کیا ہوا ہے کچھ بتاؤ گی،،،،،، لیزہ صوفے پہ بیٹھی

آریان بھائی کی انگیجمنٹ ہو رہی ہے وہ بھی الائیہ آپی سے،،،،،،، وہ صوفے پہ کھڑی اچھلنے لگی

کیا تم سے کس نے کہا ہے اور نیچے اترو گر جاو گی،،،،،،،،

ویر پھو نے خود بتایا ہے کل شام انگیجمنٹ کا فنکشن ہے یہہہہ،،،،،، وہ لمبے لمبے سانس لیتی ہوئی ابھی بھی اچھل رہی تھی

کیا اول فول کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔ ماما،،،،،،، وہ کچن کی طرف بڑھی

ماما یہ ایشا کیا کہہ رہی ہے،،،،،،،، ذائشہ چیئر پہ بیٹھی جوس پی رہی تھی جب لیزہ نے اس کی توجہ لی

سچ کہہ رہی ہے ماہا نے ابھی کال کی ہے پہلے مجھے ہی بتایا تھا،،،،،،، اس نے گلاس سے سپ لیتے ہوئے کہا

لیکن ماما الائیہ کے بارے میں ابھی کوئی نہیں جانا آریان بھائی اتنا بڑا سٹیپ کیسے لے سکتے ہیں،،،،،،،،، وہ ساتھ والی چیئر پہ بیٹھی

وہ شہروز کی بیٹی ہے اس سے زیادہ گارنٹی کس بات کی ہو سکتی ہے،،،،،،،،،

ہمممم چلیں اللہ انہیں خوش رکھے لیکن اتنی ارجنٹ کیا ضرورت تھی،،،،،،،،

یہ تو وہاں جا کر تفصیل سے پوچھوں گی ماہاویرا سے،،،،،،،،،

پھر شاپنگ کب کر رہے ہیں ہم،،،،،،، لیزہ نے پوچھا

ماہاویرا نے آج شام شاپنگ پر جانا ہے وہ کہہ رہی تھی تم لوگ بھی ساتھ کر لو،،،،،،،

آج شام اوکے ٹھیک ہے،،،،،،،،،

یہ ایشا کیا کر رہی ہے،،،،،،، ذائشہ کو ایشا کے اچھلنے کودنے کی آوازیں سنائی دیں

صوفے پہ چڑھ کر اچھل رہی ہے پاپا کی لاڈلی،،،،،،،،،

روکو اس کو گر جائے گی،،،،،،،

ایشا آرام سے بیٹھ جاؤ،،،،،،، لیزہ نے کچن سے ہی اسے آواز لگائی

نہیں نہیں نہیں میں بہت خوش ہوں مجھے آج کوئی نہ روکے،،،،،،،، وہ دونوں بازو پھیلائے اچھل رہی تھی

ایک تو اس لڑکی نے ناک میں دم کر رکھا ہے نہ جانے کب اس کا یہ بچپنہ ختم ہو گا،،،،،،،، ذائشہ نے ماتھا پیٹا

دھڑام کی آواز ذائشہ اور لیزہ کی سماعت میں پڑی وہ دونوں تیزی سے باہر کی جانب بھاگیں،،،،،،،،،

اب منظر یہ تھا کہ ایشا آدھی صوفے پر اور آدھی زمین پر تھی اس کی ٹانگیں صوفے پر تھیں اور اس کا منہ زمین سے لگ رہا تھا،،،،،،،،،

ایشا،،،،،،، ذائشہ اس کی طرف لپکی

کہا بھی تھا مت اچھلو گر جاؤ گی،،،،،،، لیزہ نے کہا

انہوں نے ایشا کو سیدھا کیا تو اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا،،،،،،،،،،

ماما،،،،،،،، وہ روتے روتے بولی

اوہ میرے خدایا اس لڑکی کو تھوڑی عقل دے،،،،،،، ذائشہ نے پیشانی پر ہاتھ رکھا

لیزہ جاؤ فرسٹ ایڈ باکس لے کر آو،،،،،،،، ذائشہ کے کہنے پہ لیزہ مڑی

🔥
🔥
🔥

گڑیا،،،،،،،، فارس اس کے کمرے میں داخل ہوا

جی بھائی،،،،،،، وہ سیدھی ہو کر بیٹھی

جب سے آئے ہیں تم کمرے میں بند رہتی ہو چلو آج رات تمہیں باہر ڈنر کے لیے لے جاتا ہوں،،،،،،،،،

نہیں بھائی میرا دل نہیں کہیں جانے کو،،،،،،،، اس نے رخ دوسری طرف کیا

گڑیا کیا ہوا ہے،،،،،،،، فارس نے اس کی تھڑی سے پکڑا

کچھ نہیں بھائی،،،،،،،،

تم جانتی ہو تمہارا یہ مرجھایا ہوا چہرہ مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگتا پلیز میری جان خوش رہا کرو،،،،،،،،

بھائی کس کے لیے خوش رہوں،،،،،،، اس کی آنکھوں میں پانی اتر آیا تھا

کیا تمہارا بھائی اس قابل نہیں کہ تم اس کے لیے خوش رہنا سیکھو،،،،،،،

پلیز ایسے مت کہیں بھائی آئم سوری میری غلطی ہے،،،،،،،،،

تم میں میری جان اٹکی ہے ایرہ جب تم خوش ہوتی ہو تو میں بھی خوش ہوتا ہوں جب تم اداس ہوتی ہو تو میرا دم گھٹنے لگتا ہے،،،،،،،،

بھائی میں خوش ہوں دیکھیں۔۔۔۔ وہ مسکرائی،،،،،، آخر وہ اپنے بھائی کو بھی اداس نہیں کرنا چاہتی تھی

میری بچی،،،،،،،، فارس نے اس کی پیشانی پر ہونٹ رکھے

آج رات کے لیے پھر تیار ہو نا باہر ڈنر کرنے جانا ہے،،،،،،،،

جی بھائی میں تیار رہوں گی آپ فکر نہیں کریں،،،،،،،، وہ مسکرائی

چلو میں اب فریش ہوتا ہوں تھوڑا ریسٹ کر لوں،،،،،،،

اوکے بھائی،،،،،،

وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

شام کے وقت الائیہ ماہاویرا اور آریان شاپنگ کے لیے مارکیٹ آئے تھے الائیہ نے آریان کی پسند کی فراک لی اور آریان نے اس کی پسند کا تھری پیس،،،،،،،

لیزہ نے اپنی پسند کا ڈریس لیا اور ایشا نے بھی اپنی چیزوں کے لیے سب کو خوب گھمایا تھا،،،،،،،،

ہر چیز میچنگ کے ساتھ لیتے ہوئے چار گھنٹے کی شاپنگ کرنے کے بعد وہ تھک کر ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے،،،،،،،،،

ہاں بھئی چھوٹے نمونے کیا کھاؤ گی تم،،،،،،، آریان نے پوچھا

بہت بھوک لگی ہے آریان بھائی کچھ بھی کھلا دیں،،،،،،،،

مینڈک کی بریانی کھاؤ گی،،،،،،، آریان نے اسے چھیڑا

یخ کتنے گندے ہیں آپ،،،،،،، اس نے منہ بسورا

آریان کھانے کی ٹیبل پر ایسی باتیں کر رہے ہو،،،،،،، ماہاویرا نے اسے ٹوکا

کیا کروں ماما ایک تو اس چھوٹے نمونے سے مذاق کرنے میں مزہ بہت آتا ہے اوپر سے یہ جو اس کے ناک پہ چوٹ لگی ہے اس سے اور بھی فنی لگ رہی ہے یہ،،،،،،،، وہ ہنستا ہوا بولا

پھو سن رہی ہیں آپ،،،،، ایشا نے معصوم چہرہ بنایا

آریان نہیں چھیڑو اسے،،،،،،،، ماہا نے اسے گھوری سے نوازہ

ویٹر آیا اور آریان نے سب سے پوچھتے ہوئے کھانا آرڈر کیا،،،،،،،،

لیزہ تمہاری کوئی چیز رہ تو نہیں گئی نا پھر گھر جا کر نہ کہنا،،،،،،، ذائشہ بولی

نہیں ماما سب لے لیا ہے آپ ایشا سے پوچھ لیں مجھ سے زیادہ واویلا تو اس کا ہوتا ہے،،،،،،،،،،،

میں نے بھی سب کچھ لے لیا ہے،،،،،،،، ایشا نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے کہا

فارس کی گاڑی ریسٹورنٹ کے آگے رکی ایرہ اور وہ گاڑی سے نکلتے ہوئے ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے،،،،،،،،

فارس نے بلیک تھری پیس پہن رکھ تھا اور ایرہ نے بلیک ٹاپ پہنا ہوا تھا،،،،،،،،

وہ دونوں ایک ٹیبل کے کی چیئرز کو کھینچتے ہوئے بیٹھے جو کہ فارس نے پہلے سے ہی بک کروا لیا تھا،،،،،،،،،

کھانا کھاتے ہوئے ایشا کی نظر فارس پر پڑی پہلے تو اچانک اس کے منہ سے سوپر مین انکل نکلنے والا تھا لیکن اگلے ہی پل اس نے اپنے منہ کو لاک لگایا کیوں کہ سمندر میں ڈوبنے والی بات اگر یہاں کسی کو معلوم ہو جاتی تو اس کی خیر نہیں ہونی تھی،،،،،،،،،،

ایرہ کو عجیب بے چینی سی محسوس ہو رہی تھی وہ بار بار ادھر ادھر دیکھ رہی تھی جیسے کچھ تھا جو اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا،،،،،،،،،،

ایرہ تم ٹھیک ہو،،،،،،، فارس نے پوچھا وہ جب سے یہاں آئے تھے ایرہ کو نوٹ کر رہا تھا

ج۔۔۔جی بھائی میں ٹھیک ہوں،،،،،،،،، ایرہ نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا جہاں آریان بیٹھا تھا،،،،،،،،،،

بد قسمتی سے آریان کی پشت اس کی طرف تھی،،،،،،،،،

پھر کسے ڈھونڈ رہی ہو،،،،،،،،،،

کسے نہیں بھائی جلدی کھانا آڈر کریں مجھے گھر جانا ہے،،،،،،،،،،،

ہمم کرتا ہوں تم ریلیکس ہو جاؤ،،،،،،،،،

جی میں ٹھیک ہوں،،،،،،،،،،

اس نے کھانا آڈر کیا،،،،،،،،

سوپر مین انکل ادھر دیکھیں نا،،،،،، ایشا دل ہی دل میں کہہ رہی تھی

ایشا کھانا کھاؤ دھیان کہاں ہے تمہارا،،،،،، ذائشہ نے اسے ٹوکا

کہیں بھی نہیں ماما کھا رہی ہوں کھانا،،،،،،، اس نے پلیٹ پر گردن جھکائی

فارس کا موبائل رنگ ہوا تو اس نے جیکٹ کی پاکٹ سے نکالا،،،،،،،

گڑیا ضروری کال ہے میں سن کر آتا ہوں یہی رہنا اوکے،،،،،،،

اوکے بھائی جلدی آجائیے گا،،،،،،،،

وہ موبائل کان کو لگاتا ہوا اٹھا ادھر ایشا نے اسے ایک سائیڈ پہ جاتے ہوئے دیکھا

اس نے کوک کا گلاس اٹھا کر ہونٹوں کو لگایا اور جان بوجھ کر آدھا گلاس اپنے کپڑوں پر گرا لیا،،،،،،،

اوئے چھوٹے نمونے اٹھارہ سال ہو گئے تمہیں اس دنیا میں آئے اور تم نے ابھی تک کھانا کھانا نہیں سیکھا،،،،،، آریان نے اس کی گردن کے بیک پر ایک تھپکی لگائی

ایشا نے منہ بسورتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ذائشہ بول پڑی،،،،،،،

یہ کیا کیا تم نے سارے کپڑے خراب کر لیے ہیں دھیان کہاں تھا تمہارا،،،،،،،،

ماما دھیان ادھر ہی تھا ہاتھ سے پھسل گیا گلاس،،،،،،،

ہاتھ سے کیسے پھسل گیا ٹھیک سے پکڑنا تھا نا،،،،،،،

چھوڑو ذائشہ بچی ہے وہ ابھی،،،،،، ماہاویرا نے ذائشہ کو چپ کروایا

لیزہ بے زاری سے آنکھیں گھمانے لگی اور الائیہ ایشا کی باتیں انجوائے کر رہی تھی،،،،،،،

جاو ایشا اسے کلین کر کے آؤ،،،،،، ماہاویرا نے جیسے ہی کہا ایشا کی آنکھیں چمک اٹھیں

جی میں ابھی واش روم جاتی ہوں،،،،،، وہ تیزی سے اٹھی

رکو میں جاؤں گی تمہارے ساتھ،،،،،،، ذائشہ نے کہا اور ایشا کو فکر لاحق ہوا

نہیں ماما آپ کیوں تکلیف کر رہی ہیں بس اسے کلین ہی تو کرنا ہے میں ابھی آتی ہوں،،،،،،، وہ بات مکمل کر کے تیزی سے چلنے لگی اسے معلوم تھا دو سیکنڈ بھی یہاں رکتی تو ذائشہ اس کے ساتھ جاتی

ماہا تم دیکھ رہی ہو کتنی تیز ہے یہ کسی کی بات نہیں مانتی،،،،،،، ذائشہ نے دانت پیستے ہوئے کہا

کیوں بچی پہ ہر وقت ناراض رہتی ہو عمر کے ساتھ ساتھ ہو جائے گی سمجھدار،،،،،،،

موم آپ لکھ لیں یہ چھوٹا نمونہ کبھی نہیں سدھرنے والا،،،،،، آریان نے ہنستے ہوئے کہا

آریان،،،،،، ماہا نے اسے گھوری سے نوازہ

وہ چھپ چھپا کر اس سائیڈ پر آئی جہاں فارس کھڑا تھا،،،،،،

سوپر مین انکل،،،،،،،، ایک میٹھی سی آواز فارس کی سماعت میں پڑی تو اس نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا

ہایے،،،،،،، وہ بتیسی نکالے اسے ہاتھ ہلا رہی تھی

فارس نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا ریڈ شرٹ، بلیک پینٹ جو ہاف ہاف کوک سے بھیگے ہوئے تھے، ماتھے پہ بکھرے بال اور ناک پہ لگا بینڈیج جو اسے مزید فنی ظاہر کر رہا تھا،،،،،،،،،،

پہچانا کہ نہیں،،،،،، فارس کو یوں گھورتا دیکھ کر اسے خدشہ ہوا کہ وہ اس نے اسے پہچانا نہیں

ارے میں وہی جسے آپ نے سمندر سے بچایا تھا،،،،،،، وہ چشمے کو انگلی سے دھکیلتی ہوئی اس کے قریب ہوئی

وہ گردن کو اوپر اٹھائے اسے دیکھ رہی تھی کہاں وہ چار فٹ چار انچ کی اور کہاں فارس چھ فٹ کا،،،،،،،،

وہ جب بھی سامنے آتی تھی فارس اسے حیرت سے دیکھنے لگ جاتا یہ بات فارس کو عجیب لگی کہ وہ اس کی توجہ کیسے کھینچ لیتی ہے

فون پر ہیلو کی آواز نے فارس کی توجہ کھینچی،،،،،،،

میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں،،،،،، فارس نے کال ڈسکنیکٹ کی

می ایشا،،،،،،، اس نے فارس کی طرف ہاتھ بڑھایا

فارس نے بنا کچھ سوچے سمجھے اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملایا اسے ایشا کا ہاتھ روئی جیسا نرم لگا تھا،،،،،،،

ایکچولی مجھے آپ سے کلاسز لینی ہیں،،،،،،،،، وہ آنکھوں کو بڑا کر کے بولی

کلاسز کس چیز کی،،،،،،، وہ حیران ہوا

وہ آپ تو سوپر مین ہیں نا لوگوں کو بچاتے ہیں میں بھی کچھ ایسا کرنا چاہتی ہوں پتہ ہے میری ویر پھو بھی بہت فائٹ کیا کرتی تھیں بس مجھے بھی آپ سوپر گرل بنا دیں تا کہ میرا بھی لوگوں میں چرچہ ہو،،،،،،،،،

وہ اس چھوٹے سے نمونے کی بات سن کر حیران ہوا تھا شاید وہ اسے دماغ کی ہلی ہوئی لگی تھی،،،،،،،،

ایکسکیوز می،،،،،،،، وہ آرام سے چلتا ہوا اپنے ٹیبل کی طرف آیا اور ایشا سکتے کی حالت میں وہیں کھری رہی وہ جو اس سے ملنے کے لیے اتنا پلین بنا کر آئی تھی اور وہ اسے اگنور کیے اپنے ٹیبل کی طرف چل دیا

وہ منہ لٹکائے اپنی چیئر پر واپس آ کر بیٹھی،،،،،،،

کیا ہوا کچھ کلین نہیں کیا اتنی دیر کیا کرتی رہی ہو،،،،،،، ذائشہ حیران ہوئی

ٹوٹیوں میں پانی ختم ہو گیا ہے،،،،،، اس نے پلیٹ اپنی طرف کھسکائی

کیا۔۔۔ کیا مطلب،،،،، ذائشہ نے حیرت سے پوچھا

چلو گھر جا کے ڈریس چینج کر لے گی ایشا جلدی کھا لو ہم سب نے فینش کر لیا ہے،،،،،،،، ماہاویرا نے کہا

کچھ دیر بعد وہ ریسٹورنٹ سے باہر نکلے،،،،،،،،

کاؤنٹر پہ بل پے کرنے کے بعد فارس باہر نکلنے لگا جب آریان نے اس کا اے ٹی ایم نیچے گرتے دیکھا،،،،،،،،

ایکسکیوز می،،،،،،،، وہ اس کے پیچھے ریسٹورنٹ سے باہر آگیا تھا

جی،،،،، فارس نے مڑ کر دیکھا

یہ آپ کا کارڈ گر گیا تھا،،،،،،،،

اوہ تھینک یو،،،،،،، وہ مسکرایا

آریان کہاں رہ گئے ہو ہم ویٹ کر رہے ہیں،،،،،،،، الائیہ اسے بلانے کے کے اس کے پاس آئی اس نے سرسری طور پہ فارس کو دیکھا

ہاں کہیں نہیں چلو چلتے ہیں،،،،،،،، وہ اس کا ہاتھ پکڑے گاڑی کی طرف چل دیا

ایرہ کو فارس نے پہلے ہی گاڑی میں بیٹھا دیا تھا،،،،،،،،،

وہ چلتا ہوا گاڑی میں بیٹھا،،،،،،

ایشا نے بیک مرر سے فارس کو منہ بسورتے ہوئے دیکھا،،،،،،،،،

اسے دیکھ کر فارس نے اپنی نظروں کا رخ بدلا،،،،،،،،،،

آریان نے ٹرن لیتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی ایرہ آنکھیں بند کیے بیک سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی،،،،،،،

جیسے ہی آریان کی گاڑی ایرہ کے پاس سے ہوتے ہوئے گزر رہی تھی ایرہ نے آنکھیں کھولیں وہ ایک سائیڈ سے آریان کی ایک جھلک ہی دیکھ پائی تھی اسے ایک عحیب سا احساس ہوا اس کا دل مچلنے لگا،،،،،،،،

اس نے ونڈو سے باہر دیکھا تو وہ گاڑی باقی گاڑیوں کے ساتھ گم ہو چکی تھی،،،،،،،،

ایرہ کیا ہوا،،،،،،، فارس نے اسے یوں باہر جھانکتے دیکھا تو پوچھا

بھ۔۔۔بھائی،،،،،،،

ہاں بتاؤ کیا ہوا،،،،،،

نہیں کچھ نہیں،،،،،،، وہ خاموش ہوئی

نہ جانے اس کا دل کیوں بے چین تھا وہ شخص آخر کون تھا ایرہ کے دل و دماغ میں ادھم سے مچنے لگی،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

اگلے دن انگیجمنٹ فنکشن کی تیاریاں ہونے لگیں گھر کو لائٹنگ اور فلاورز سے سجایا گیا،،،،،،،،

آریان اور الائیہ کے لیے سٹیج تیار کیا گیا،،،،،،،،

شام کے وقت ماہاویرا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تیار ہو رہی تھی اس نے بلیک کلر کی ساڑھی پہن رکھی تھی،،،،،،،،،

وہ کانوں میں ایئر رنگ پہن رہی تھی جب بلال ریڈی ہو کر اس کے پاس آیا،،،،،،،،،

چشمِ بدور آج تو قیامت ڈھانے کا ارادہ ہے،،،،،،،، اس کی بات سن کر ماہاویرا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری،،،،،،،

ہو گئے آپ کے ڈائ لاگز شروع،،،،،،،

یہ ڈائلاگز کب ہیں مائے وائف یہ تو محبت ہے جو دن بہ دن تم سے بڑھتی جا رہی ہے،،،،،،، وہ اس کے قریب ہوا

بلال دور رہو مجھے ریڈی ہو کر نیچے جانا ہے مہمانوں کو ویلکم بھی تو کرنا ہے،،،،،،،،

مہمان ضروری ہیں یا ہزبینڈ،،،،،، اس نے ماہا کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کیا

بیگم صاحبہ الائیہ بی بی آپ کو بلا رہی ہیں،،،،،، دروازے پر دستک دیتے ہوئے فہمیدہ نے کہا

ایک تو یہ فہمیدہ،،،،،، بلال نے دانت پیسے

چلیں میں جا رہی ہوں آپ نیچے پہنچیں،،،،،، وہ ہنستی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی

الائیہ بیٹا مجھے بلایا تم نے،،،،،،،، وہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی

جی آنٹ یہ ڈریس مجھ سے سیٹ نہیں ہو رہا پلیز آپ میری ہیلپ کر دیں،،،،،،،،، وہ وائٹ سٹونز سے بھری گولڈن کلر کی فراک پہنے کھڑی تھی جو اس کے پاؤں تک آتی تھی

ماشاءاللّٰه‎ بہت پیاری لگ رہی ہو،،،،،،،، ماہاویرا نے اس کی نظر اتاری

بالوں کا نہایت خوبصورتی سے سٹائل بنائے گولڈن شیڈ کے میک اپ کے ساتھ لائک ریڈ لپسٹک لگائے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی

تھینک یو،،،،، وہ مسکرائی

الائیہ اس کا ڈریس ٹھیک کرنے لگی جب روم میں آریان داخل ہوا،،،،،،

تم یہاں کیا کر رہے ہو،،،،،،،، ماہاویرا نے کہا

آریان کی نظریں الائیہ پہ ہی جم گئیں وہ دل ہی دل میں شرمندہ سی ہونے لگی کیوں کہ روم میں ماہا جود تھی،،،،،،

آریان چلو نیچے جاؤ مہمان آرہے ہوں گے،،،،،،،،

وہ موم آپ کو شہروز انکل بلا رہے ہیں،،،،،،،،

کیا شہروز مجھے بلا رہا ہے،،،،،،، وہ حیران ہوئی

اوکے الائیہ ڈریس ٹھیک کر دیا ہے تمہارا میں تمہارے پاپا کی بات سن کر آتی ہوں ٹھیک ہے،،،،،،

اوکے آنٹ تھینک یو،،،،، وہ مسکرائی

تم بھی چلو باہر یہاں کیوں کھڑے ہو،،،،،،، باہر نکلتے ہوئے اس نے آریان سے کہا

جی جی میں بس ابھی آیا آپ جائیں آپ کو لیٹ ہو رہی ہے نا،،،،،،، اس کی بات سن کر ماہا نے اسے گھوری سے نوازہ اور باہر نکل گئی

آریان کی نظروں نے پھر سے الائیہ کا رخ کیا اس کے قدم اس کی طرف اٹھنے لگے،،،،،،،،،

وہ نظریں جھکا گئی،،،،،،،،،

یو آر لکنگ سو بیوٹیفل،،،،،، وہ مزید اس کے قریب ہوا

ج۔۔۔جاؤ تم یہاں کیا کر رہے ہو،،،،،،،، اس کا دل دھڑکنے لگا آریان کی نظروں میں خمار ہی ایسا چھایا تھا

آریان۔۔۔۔۔

شششش،،،، اس نے الائیہ کے ہونٹوں پر انگلی رکھی

کاش میں نے اس منگنی کے لیے ہاں نہ کی ہوتی تو آج ہماری ویڈنگ نائٹ ہوتی،،،،،،،،، وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا الائیہ پہلے تو اس کی بات پر شوکڈ ہوئی

بدتمیز انسان،،،،،،،،، اس نے اس کے کندھے پر تھپکی لگائی

کمرے میں آریان کا قہقہ گونجا،،،،،،

چلو نکلو یہاں سے نہیں تو میں آنٹ کو شکایت لگاؤں گی،،،،،،،،، وہ اسے دھکا دینے لگی

اچھا اچھا جا رہا ہوں،،،،،،، وہ دروازے کے پاس پہنچ کر مڑا اور الائیہ کو فلائنک کس کرنے لگا

آریان،،،،،، الائیہ اسے مارنے کے لیے آس پاس کوئی چیز ڈھونڈنے لگی تو وہ جان چھڑواتا ہوا وہاں سے بھاگ نکلا

🔥
🔥
🔥

ماہاویرا نے شہروز کے روم کا ڈور ناک کیا،،،،،،،،

کم ان،،،،،، وہ بیڈ پر بیٹھا ہاتھ پر واچ باندھ رہا تھا اس کی پشت ماہا کی طرف تھی

شہروز،،،،،،،

ماہا کی آواز پر اس نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا ،،،،،،

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *