Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan (Episode 13)

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

ارحام اپنے دل کی دھڑکن محسوس کر سکتا تھا وہ بلکل اس کے قریب تھی اس کی سانسیں ارحام کو اپنے چہرے پر پڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں،،،،،،،،

ار۔۔۔ارحام،،،،،،،، وہ اس کے قریب اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی

لیزہ باہر نکلو سیٹ ایکسچینج کرنی ہے،،،،،،،،

ک۔۔۔کیوں مجھے ن۔۔۔نہیں کرنی،،،،،،،،، وہ ابھی بھی اس کی طرف دیکھ رہی تھی

لیزہ تمہیں واپس پارٹی میں لے کر جانا ہے تمہاری فرینڈ خود تمہیں گھر ڈراپ کر دے گی ورنہ تمہاری حالت دیکھ کر لگتا نہیں تم خود جا سکتی ہو،،،،،،،،

وہ اس سے دور ہوا

ن۔۔۔نہیں جانا مجھے گھر مجھے ی۔۔۔یہاں ڈانس کرنا ہے،،،،،، اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا

لیزہ کہاں جا رہی ہو،،،،،،،، ارحام نے اسے کندھے سے پکڑا

ت۔۔۔تم چھوڑو مجھے،،،،،،، وہ اس کا ہاتھ جھٹکتی ہوئی باہرنکلی

وہ فوراً گاڑی سے نکلا اس راستے پہ گاڑیوں کا گزر بہت کم تھا،،،،،،،،

اس نے اپنے سینڈل اتارے، ایک سڑک کی ایک طرف اور دوسرا سڑکی کی دوسری طرف پھینکا اب ننگے پاؤں سڑک پہ لکھڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ بھاگنے لگی،،،،،،

ارحام نے سر پر ہاتھ رکھا نشے کی حالت میں وہ نہ جانے اب کون کون سے تماشے لگانے والی تھی،،،،،،

قرباں ہوا،،،،،، وہ لاؤڈلی گنگنا رہی تھی رات کے سناٹے میں اس کی آواز چاروں اور گونج رہی تھی

لیزہ،،،،،، وہ تیز قدموں سے اس کی طرف بڑھا اور اسے پکارتے ہوئے اس کا رخ اپنی طرف کیا

ار۔۔۔ارحام،،،،،،، وہ اس کی گردن میں بازو ڈالتی بچوں کی طرح پیار سے بولی

ارحام بے ساختہ اسے دیکھنے لگا،،،،،،،

ارحام بولو نا،،،،،،،، اب کی بار اس نے ارحام کے سینے پر ہلکا سا پنچ مارا تھا

کہو،،،،،،،

مجھ۔۔۔۔مجھے تمہارے ساتھ ڈانس کرنا ہے،،،،،،،، وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی نہایت پیار سے بولی

ڈانس اور اس وقت اور اس جگہ،،،،،،،، اس نے آئبرو اچکائے

ہاں ہاں ابھی کرنا ہے مجھے،،،،،،،،، اس نے پھر سے اس کے سینے پر پنچ مارا

لیزہ چلو تمہیں واپس چھوڑنا ہے،،،،،،،، وہ اس کا ہاتھ پکڑے چلنے لگا

نہیں جانا مجھ۔۔۔۔مجھے نہیں جانا،،،،،،،، وہ بچوں کی طرح روتے ہوئے مسلسل اس کے سینے پر پنچ مار رہی تھی

کیا کر رہی ہو،،،،،،، وہ بے بس سا اس کی طرف دیکھنے لگا

ڈانس کرنا ہے مجھے،،،،،، وہ منہ پھلائے بولی

ارحام نے لمبا سانس چھوڑتے ہوئے آنکھیں گھمائیں،،،،،،،،

اوکے لیکن ڈانس کرنے کے بعد تم چپ چاپ گاڑی میں بیٹھو گی اور میرے ساتھ واپس چلو گی،،،،،،،،

اس کی ڈانس کرنے والی بات سن کر لیزہ کی آنکھیں چمکیں اور تیز تیز اثبات میں سر ہلانے لگی،،،،،،

اس نے پھرتی سے آگے بڑھ کر اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اپنی کمر پہ رکھا اور خود اس کی گردن کے گرد بازو حائل کیے،،،،،،،،

قرباں ہوا،،،،،،، اب وہ گانا بھی خود ہی گا رہی تھی

ارحام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھمایا

ت۔۔۔تیری تشنگی میں یوں،،،،،، وہ گھومتی ہوئی اس کے سینے سے لگی

اس نے دونوں بازو اس کے گرد حائل کیے اور آنکھیں موند لیں،،،،،،،،،،،

اس کی اتنی قربت سے ارحام کا دل دھک دھک کرنے لگا تھا وہ اس کے سینے سے لگی کھڑی تھی،،،،،،،،،

لیزہ،،،،، اس نے سرگوشی میں پکارا

ار۔۔۔۔ارحام یو نو آ۔۔آئی لوّ یو،،،،،،،،

لیزہ کے منہ سے یہ لفظ نکلنے کی دیر تھی وہ بے یقینی سے خود کو سکتے کی حالت میں محسوس کر رہا تھا،،،،،،،،

آئی لوّ یو ار۔۔۔ارحام،،،،،،،، وہ خود کو مزید اس میں چھپانے لگی

ل۔۔۔۔لیزہ،،،،،،،،، اس نے اسے کندھوں سے پکڑ کر خود سے دور کیا

وہ اس کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے تیزی سے پھر سے اس کے سینے سے جا لگی،،،،،،،

م۔۔۔۔مت کرو خود سے دور،،،،،،،،، وہ خود کو اس کے حصار میں چھپا دینا چاہتی تھی

وہ آنکھیں بند کیے اپنے جذباتوں پر کنٹرول کرنے لگا،،،،،،،،،

ارحام۔۔۔۔۔ لیزہ نے اپنا چہرہ اس کے مقابل کیا

ڈو۔۔۔ یو ل۔۔۔لوّ می،،،،،،،،، وہ خمار بھری نظروں سے اسے دیکھتی ہوئی پوچھ رہی تھی

کچھ دیر اسے دیکھنے کے بعد وہ بولا۔۔۔۔۔۔ ہمیں چلنا چاہیے لیزہ،،،،،،،

بتاو نا ورنہ میں ن۔۔نہیں جاؤں گی،،،،،،،

تم نے کہا تھا ڈانس کرنے کے بعد میرے ساتھ چلو گی،،،،،،،،

پھر مجھے لے چلو ا۔۔۔اپنے گھر،،،،،،، اس کی بات سن کر ارحام حیرت زدہ اسے دیکھنے لگا

تمہارے س۔۔۔ساتھ جانا ہے مجھے،،،،،،، اس نے پھر سے اس کے کندھے پر سر ٹکایا

میرے ساتھ کیسے جا سکتی ہو تم،،،،،،،،،

جا سکتی ہوں نا مجھ۔۔۔مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے ار۔۔۔ارحام و۔۔وہ ذوہا جب تمہارے ساتھ ہوتی ہے مجھ۔۔۔مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا،،،،،،،، وہ بول رہی تھی اور ارحام سکتے کی حالت میں کھڑا اسے سن رہا تھا

پلیز ت۔۔۔تم اسے چھوڑ دو آ۔۔۔آئی نیڈ یو ارحام آئی۔۔۔۔ نیڈ یو،،،،،،،،،،

اب ارحام کے لیے یہاں ایک پل بھی رکنا مشکل ہو گیا تھا اگر وہ کچھ دیر مزید اس کے ساتھ رہا اپنے جذباتوں پہ قابو نہ پاتے ہوئے اپنے دل کی بات کہہ دیتا،،،،،،،

ہمیں چلنا چاہیے،،،،،، اس نے اسے خود سے الگ کیا

مجھے اٹھا کے لے چلو،،،،،،،،، وہ جھولتی ہوئی بازو پھیلا کر اس کے سامنے کھڑی ہوئی

تم چل سکتی ہو،،،،،،،،،

نہیں نا مجھے اٹھا کر لے جاؤ مجھے جھ۔۔۔جھولے لینے ہیں،،،،،،، وہ بچوں کی طرح زمین پر پاؤں چلانے لگی

وہ اس کے نزدیک آیا اور اسے اپنی باہوں میں بھر لیا،،،،،،،،،

وہ اس کی گردن میں بازو ڈالے نہایت پیار سے اسے دیکھ رہی تھی،،،،،،،،،

گاڑی کے نزدیک پہنچ کر اس نے دروازہ کھولا اور اسے اندر بیٹھایا ان دونوں کا چہرہ اس بلکل قریب تھا،،،،،،،،

لیزہ کی نظر اس کی نرم گلابی ہونٹوں پر پڑی ایک سیکنڈضائع کیے بغیر وہ اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھنے لگی جب ارحام نے تیزی سے اپنا رخ ایک طرف کیا اور یوں لیزہ کے ہونٹ اب ارحام کی گال پر تھے،،،،،،،،

ارحام نے اپنی مٹھی کو سختی سے بند کیا وہ کب سے اس کا امتحان لینے پر تلی تھی،،،،،،،،،

لیزہ نے آنکھیں بند کرتے ہوئے سیٹ پر سر ٹکایا ارحام نے سڑک سے اس کے سینڈل اٹھائے اور گاڑی میں بیٹھا،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

اتنی دیر ہو گئی ہے یہ لیزہ اور ارحام کہاں رہ گئے ہیں،،،،،،، گیٹ پہ کھڑی ذوہا ہما سے کہہ رہی تھی

ہممم کم از کم بتا کر تو گئے ہوتے،،،،،،،،، ہما نے اسے دکھانے کے لیے کہا

ذوہا پریشانی سے بار بار ٹائم دیکھ رہی تھی جب لیزہ کی گاڑی گیٹ کے پاس آکر رکی،،،،،،،،،،

ہما نے سوچا لیزہ نے اپنا کام کر لیا ہے لیکن اگلا منظر اس کے لیے ناقابلِ یقین تھا،،،،،،،

گاڑی سے نکلنے والا ارحام تھا اور لیزہ سیٹ سے سر ٹکائے سو رہی تھی،،،،،،،،،

ارحام کہاں چلے گئے تھے تم دونوں،،،،،،،،، ہما تیز قدموں سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی

اور یہ لیزہ کو کیا ہوا ہے یہ بے ہوش ہے کیا،،،،،،،،،،،، ذوہا نے حیرت سے پوچھا

ارحام اس کی بات کا جواب دیے بغیر ہما کی طرف بڑھا،،،،،،،،،،

یہ لیں گاڑی کی کیز اور اپنی فرینڈ کو اس کے گھر پہنچا دیجیے گا کیوں کہ نشے کا اثر اتنا ہے کہ وہ بے ہوش ہو چکی ہے،،،،،،،،،،

کیز پکڑتے ہوئے ہما جی بھر کے شرمندہ ہوئی تھی،،،،،،،،

ارحام ہوا کیا ہے،،،،،،،،، ذوہا نے پھر سے پوچھا

ذوہا مجھے ہاسٹل تک ڈراپ کر دو،،،،،،،

اس نے اثبات میں سر ہلایا اسے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ گاڑی میں سے سب بتا دے گا وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے اور ذوہا نے گاڑی سٹارٹ کی،،،،،،،

ہما حیرت سے گاڑی میں بے ہوش لیزہ کو دیکھ رہی تھی،،،،،،

🔥
🔥
🔥

الائیہ سیڑھیاں اترتی ہوئی لاؤنج میں داخل ہوئی تو صوفے پر ایک شخص کو بیٹھے دیکھا جو اس کی طرف کمر کیے ہوئے تھا وہ تیز قدموں سے چلتی ہوئی اس کے مقابل کھڑی ہوئی،،،،،،،

ڈیڈ،،،،،، اس نے بے یقینی سے پکارا

شہروز جو صوفے پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا تھا وہ آج بھی اس کی پرسنالٹی میں کمی نہ آئی تھی، وہی بیٹھنے کا انداز، وہی بات کرنے کا انداز،،،،،،،،،،

الائیہ،،،،،، وہ بازو کھولتا ہوا اٹھا جن میں الائیہ مسکراتے ہوئے چھپ گئی

ڈیڈ آپ یوں اچانک وٹ دا سرپرائز،،،،،،، وہ ابھی بھی حیران تھی

یہ آئیڈیا میرا نہیں تمہاری ماہاویرا آنٹ کا ہے،،،،،، ماہاویرا جو دوسرے صوفے پر بیٹھی تھی الائیہ کو دیکھ کر مسکرانے لگی،،،،،،،،

تھینک یو سو مچ آنٹ آپ کتنی اچھی ہیں،،،،،،،

اممم ہمممم۔۔۔۔ ماہاویرا نے اسے مصنوعی گھوری سے نوازہ

اوہ سوری موم،،،،،،،، وہ مسکرائی

میں نے سوچا کیوں نا تمہارے ڈیڈ کو بلا کر تمہیں سرپرائز دیا جائے،،،،،،

بہت اچھا سرپرائز ہے اس سے زیادہ اچھا سرپرائز ہو ہی نہیں سکتا،،،،،،، وہ پھر سے شہروز کے گلے لگی

بلال اور آریان لاؤنج میں داخل ہوئے وہ پہلے سے ہی شہروز سے مل چکے تھے،،،،،،،

ڈیڈ آپ کب تک یہاں رکنے والے ہیں پلیز جلدی مت جائیے گا،،،،،،،

الائیہ بیٹا میں زیادہ سے زیادہ دو دن یہاں رک سکتا ہوں میں بس اپنی بچی کی انگیجمنٹ کروانے آیا ہوں،،،،،، منگنی کی بات پر الائیہ اور آریان نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا وہ نظریں جھکا گئی

کیا شہروز اب تمہاری بیٹی ہماری بیٹی ہو گئی ہے تو ایک بار میں ہی شادی کر دیتے ہیں،،،،،،، بلال نے کہا تو آریان کی آنکھیں چمکیں

نہیں بلال شادی کے لیے آپ لوگوں کو لنڈن میں بارات لانی ہو گی ورنہ رخصتی کا کوئی چانس نہیں،،،،،،،

آپ لنڈن کہہ رہے ہیں مجھے اگر بارات لے کر ساتویں آسمان پر بھی جانا ہو تو میں تیار ہوں،،،،،، آریان نے بتیسی نکالتے ہوئے کہا اور سب کا قہقہ لاؤنج میں گونجنے لگا سوائے الائیہ کے کیوں کہ اسے غصہ آرہا تھا وہ اس کے ڈیڈ کے سامنے ایسی بات کر رہا تھا

پہلے منگنی تو کروا لو برخودار،،،،،، شہروز ہنستے ہوئے بولا

انگیجمنٹ کا فنکشن کل رکھ لیتے ہیں پرسوں مجھے واپس جانا ہے،،،،،،،،

کل اتنی جلدی لیکن ساری شاپنگ کیسے ہو گی،،،،،،، ماہاویرا پریشان ہوئی

موم شاپنگ بھی ہو جائے گی آپ بس جلدی سے ہاں کر دیں،،،،،،،،، آریان کی جلد بازی پر الائیہ نے دانت پیسے

بلال نے آریان کو کہنی ماری جس کا مطلب تھا فلحال منہ بند رکھو اس کے ساتھ اس کا باپ بھی تشریف فرما ہے،،،،،،،،

بلال کا اشارہ سمجھتے ہوئے آریان نے منہ کو لاک لگایا،،،،،،۔

ٹھیک ہے پھر آج شام ہی شاپنگ پر چلتے ہیں کل شام انگیجمنٹ کا فنکشن رکھ لیں گے،،،،،،، ماہاویرا نے کہا

ماہا آحل یا ذائشہ کو بھی کال کر کے انفارم کر دو،،،،،،، بلال نے کہا

ہاں آج ہی کرتی ہوں انہوں نے بھی شاپنگ کرنی ہو گی،،،،،،، ماہاویرا نے کہا تو بلال نے اثبات میں سر ہلایا

🔥
🔥
🔥

ارحام لیزہ اس حد تک گر سکتی ہے مجھے بلکل بھی یقین نہیں آرہا،،،،،،، یونی میں موجود ذوہا نے کہا

وہ تو شکر ہے تم نے اس کا ارادہ بھانپ لیا ورنہ نہ جانے کیا ہو جاتا،،،،،،،

تم پریشان نہیں ہو میں نے سب ہینڈل کر تو لیا،،،،،،، ارحام بولا

مجھے بس یقین نہیں کہ یہ وہی لیزہ ہے جس کی کمپنی میں میں نے اتنے سال گزارے،،،،،،،

وہ نہ جانے کس آگ میں جل رہی ہے اب تو اللہ ہی اس کی مدد کرے،،،،،،، اس نے ذوہا کو یہ نہیں بتایا تھا کہ لیزہ نے نشے کی حالت میں کیا کہا اور کیا کیا،،،،،،

آمین چلو لیکچر کا ٹائم ہو گیا ہے،،،،،، وہ دونوں اپنے اپنے بلاکس کی طرف بڑھ گئے

🔥
🔥
🔥

ہیلو ذائشہ کیسی ہو،،،،،،،

میں ٹھیک ہوں ماہا تم کیسی ہو،،،،،،،

میں بھی ٹھیک ہوں ایکچولی میں نے تمہیں ایک گڈ نیوز سنانے کے لیے کال کی ہے،،،،،،،

اچھا اور وہ کونسی ہے،،،،،، ذائشہ کو تجسس ہوا

آریان کی منگنی ہو رہی ہے کل شام،،،،،،

کیا یہ کیا کہہ رہی ہو یوں اچانک اور کس کے ساتھ،،،،،،، وہ خوب حیران ہوئی

شہروز کی بیٹی جو ہمارے ساتھ رکی ہوئی ہے،،،،،،

ہاں ہاں وہ الائیہ،،،،، ذائشہ بولی

ہاں وہی بہت پیاری بچی ہے اور آریان کو بہت پسند ہے،،،،،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *