Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan (Episode 10)

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

وہ ابھی بھی اس کے چہرے کو سختی سے پکڑے ہوئے تھا الائیہ کی براؤلش آنکھیں پانی سے بھرنے لگیں،،،

آریان اس کے آنسو دیکھ کر ایک دم سے پیچھے ہٹا اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے دکھ کیسے دے بیٹھا ہے،،،

الائیہ آئم سوری،،،، وہ بے یقینی کی کیفیت میں بولا

چلے جاؤ یہاں سے،،،،، اس نے اپنے آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے کہا

آئم سوری مجھے پتہ نہیں اچانک کیا ہو گیا تھا،،،،

آریان پلیز لیو می الون،،،،، وہ چلّائی تھی

وہ خاموشی سے اٹھ کر باہر نکل آیا اپنے روم میں آکر وہ اپنی کی گئی حرکت کے بارے میں سوچنے لگا اسے خود یقین نہیں آرہا تھا وہ اتنا پوزیسِو کب سے ہو گیا،،،،،

🔥
🔥
🔥

ذوہا سیڑھیوں پر بیٹھی تھی جب ارحام اس کے پاس آیا،،،،،

کیسا رہا لیکچر،،،، بولنے میں پہل ذوہا نے کی

اچھا رہا اور تمہارا،،،،، ارحام نے پوچھا

اچھا گزر گیا،،،،، ذوہا مسکرائی

ارحام گھر میں کون کون ہے تمہارے،،،،،

کوئی بھی نہیں اکیلا ہوں،،،،، ارحام کی بات سن کر ذوہا شوکڈ ہوئی

کیا مطلب کوئی نہیں ہے،،،،،،

چیرٹی ہاؤس میں ہی ہوش سمبھالا ہے،،،،، وہ نظریں جھکائے بولا

ک۔۔۔کیا اور تم کبھی اپنے پیرینٹس سے نہیں ملے،،،،،

نہیں مجھے تو معلوم بھی نہیں وہ اس دنیا میں ہیں بھی یا نہیں،،،،، ارحام کے چہرے پہ دکھ واضح تھا اور ذوہا حیرت سے اسے دیکھے جا رہی تھی

میں نے ایسا بلکل نہیں سوچا تھا،،،،، وہ بے یقینی کی کیفیت سے بولی

ارحام نے کوئی جواب نہ دیا،،،،،

اب کہاں رہتے ہو تم،،،،،

ہاسٹل میں،،،،،

تمہاری سٹڈی کے ایکسپینسز کون اٹھا رہا ہے،،،،

سکالر شپ پر ہوں اور باقی اپنی ضروریات پارٹ ٹائم جاب کر کے پوری کرتا ہوں،،،،،

اوہ مائے گاڈ،،،،، ذوہا نے پریشانی سے اپنا سر پکڑا

اتنا اکیلا پن ہے تمہاری زندگی میں ایک فیملی کے بغیر رہنا آئی کانٹ امیجن اور تم یہ کر رہے ہو میں سمجھ نہیں پا رہی اپنی کیفیت تمہیں کس طرح بتاؤں آئی رئیلی فیل ہرٹ فار ہو ارحام،،،، وہ اس کی طرف دیکھتی ہوئی دکھ سے بولی

نہیں میں خوش ہوں،،،،، اس کے چہرے پر اطمنان تھا

تم بہت ہمت والے انسان ہو ارحام اللہ تمہیں مزید ہمت دے اور تمہاری ہر وش پوری کرے،،،،،،

آمین تھینک یو،،،، وہ ہلکا سا مسکرایا

اچھا میں نے تمہیں بتانا تھا ہماری نائٹ پارٹی ہو رہی ہے تھرسڈے کو،،،،،

وہ تو ہماری بھی ہے آج بتایا سر نے،،،،، ارحام نے کہا

واٹ رئیلی اس کا مطلب اس بار کی پارٹی بہت سپیشل ہو گی بےکاز یو وِل بی ود می،،،، وہ خوشی سے بولی

لیکن میں نے کبھی پارٹیز جوائن نہیں کیں،،،،،

لیکن اس بار تمہیں کرنا ہو گا،،،،،

نہیں مجھے اچھا نہیں لگتا ہے پارٹیز پہ جانا،،،،،

ارحام میں کہہ رہی ہوں نا پلیزززز اگر تم نہ آئے تو آئی پرامس میں بھی نہیں جاؤں گی،،،،، وہ ضدی بنی

ارحام کچھ دیر خاموش رہا پھر مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا،،،،،

اوہ رئیلی تھینک یو سو مچ یو آر سو سویٹ،،،، وہ اس کے سوفٹ چیکس دونوں طرف سے کھینچنے لگی

ذوہا کیا کر رہی ہو،،،،، ارحام اتنے سٹوڈنٹس شرمندہ سا ہو گیا

ہاہاہا بلکل بے بی بوائے ہو،،،، وہ قہقہ لگاتی ہوئی بولی

دور اک کلاس روم کی ونڈو میں لیزہ کھڑی سرخ آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی،،،،،

🔥
🔥
🔥

آنٹ،،،،

الائیہ ماہاویرا کے روم میں داخل ہوئی،،،،

آؤ الائیہ بیٹھو،،،، ماہاویرا نے مسکراتے ہوئے کہا

الائیہ اس کے پاس جا کر بیٹھی ماہا کو وہ کچھ پریشان سی لگ رہی تھی،،،،،

کیا ہوا ہے پریشانی ہے کوئی،،،،،

نہیں آنٹ میں ٹینس نہیں ہوں،،،،،، وہ اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہی تھی

پھر کیا بات ہے،،،،،،

آنٹ مجھے یہ کہنا تھا کہ میں ہوٹل میں روم لینے لگی ہوں،،،،،

اس کی بات سن کر الائیہ کو حیرت کا جھٹکا لگا،،،،،

کیوں بیٹا ہم سے کوئی کمی ہو گئی کیا، کیا ہماری مہمان نوازی تمہیں پسند نہیں آئی،،،،،

ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ بہت اچھی ہیں اور انکل بھی بہت اچھے ہیں ایکچولی مجھے کافی دن لگ جائیں گے اپنا ٹارگٹ پورا کرنے میں اس لیے میں نے سوچا کہ آپ کو تکلیف نہ دوں،،،،،،،

الائیہ سچ بتاؤں تو مجھے بہت برا لگا تمہارا یوں کہنا شہروز نے تمہیں ہمارے پاس بھیجا تھا لیکن تم ہوٹل جانے کے لیے تیار ہو وہ کیا سوچے گا کہ شاید اس کی بیٹی کو یہاں کوئی تکلیف ہوئی ہے اسی لیے ہوٹل میں شفٹ ہو گئی،،،،،،

آنٹ آپ ڈیڈ کی فکر مت کریں ان سے بات میں کر لوں گی انہیں بتاؤں گی کہ انکل آنٹ نے مجھے بہت پیار دیا کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی،،،،،،،

الائیہ سوچ لو میں نہیں چاہتی کہ تم یہاں سے جاؤ اس لیے آج رات سوچنے کا کہہ رہی ہوں،،،،،

اوکے آنٹ آپ کہتی ہیں تو لیکن مجھے نہیں لگتا میرا ارادہ بدلے گا،،،،،، وہ کھڑی ہو کر روم سے باہر نکل آئی اور ماہاویرا حیرت سے اس کی پشت کو دیکھنے لگی

🔥
🔥
🔥

یونی سے آکر لیزہ چپ چاپ سی چلتی ہوئی کمرے کی طرف بڑھ گئی،،،،،

لاؤنج میں ذائشہ بیٹھی تھی اسے لیزہ کو یوں خاموشی سے جاتا دیکھ کر حیرت ہوئی وہ کچھ دنوں سے نوٹ کر ریی تھی کہ لیزہ خاموش سی رہنے لگی ہے اور گھر کے کسی معاملے میں دخل اندازی بھی نہیں کرتی ہے،،،،

ورنہ لیزہ تو بچپن سے ہی ہر کام میں ضد کرتی تھی زیادہ بولنا اس کی عادت تھی خوش رہنا فرینڈز کے ساتھ انجوائے کرنا ان سب کے بغیر اس کا گزارا نہیں تھا اور اب وہ یونی سے آتے ہی اپنے کمرے میں بند ہو جاتی تھی صرف کھانے کے وقت وہ بھی ذائشہ کے بلانے کی وجہ سے نکلتی تھی،،،،،

ذائشہ کھڑی ہوئی اور اس کے کمرے کی طرف قدم بڑھائے پہلے پہل اس نے اگنور کیا کہ شاید سٹڈی کا برڈن اور تھکاوٹ کی وجہ سے وہ ایسا بیحیو کر رہی ہے لیکن اب اس سے پوچھنا ذائشہ نے لازم سمجھا،،،،،

وہ جیسے ہی لیزہ کے کمرے میں داخل ہوئی تو بے یقینی سے اس کے قدم رکے لیزہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی رو رہی تھی،،،،،،

لیزہ،،،،، ذائشہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی اسے یاد بھی نہیں تھا کہ لیزہ آخری بار روئی کب تھی اور آج اچانک اسے روتا دیکھ کر ذائشہ کا کیلجہ منہ کو آنے لگا،،،،،،

لیزہ کیا ہوا تمہیں بیٹا،،،،،، ذائشہ نے اسے پلٹایا اس کی آنکھیں سرخ اور چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا

ما۔۔۔۔ماما،،،،، وہ اس کی گود میں رکھ کر شدت سے رونے لگی

لیزہ بتاؤ کیا ہوا ہے میری جان نکل جائے گی،،،،،، پریشانی سے ذائشہ کی حالت خراب ہو رہی تھی

پ۔۔۔پلیز ما۔۔۔۔ماما ابھی ک۔۔۔کچھ نہ کہیں،،،، وہ ہچکیوں سے روتی ہوئی بولی

ذائشہ خاموش ہو گئی اور اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی لیزہ جب چھوٹی ہوتی تھی تب بھی اس کی یہی عادت تھی پہلے وہ ذائشہ کی گود میں سر رکھ کر خوب روتی تھی دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد وہ اسے بات بتاتی تھی،،،،،

کچھ دیر تک دل کا غبار نکالنے کے بعد وہ آنسو صاف کرتی ہوئی بیٹھی اس کی آنکھیں سرخ کپڑے کی طرح ہو چکی تھیں،،،،،،

بتاؤ میری جان کیا ہوا ہے تمہاری ماں کا دل پھٹا جا رہا ہے،،،،، اس نے لیزہ کے چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے کہا

ماما آج ٹیسٹ تھا جو بہت برا ہوا اور میم نے پوری کلاس کے سامنے انسلٹ کی،،،،،، وہ نظریں جھکاتی ہوئی جھوٹ بول گئی

بس اتنی سی بات پہ تم اتنا روئی تم کب سے اتنی کمزور ہو گئی لیزہ تم تو بچپن سے ہی بہت سٹرانگ گرل ہو،،،،،

ماما بس یہی وجہ ہے مجھے بہت برا لگا کلاس کے سامنے مجھے امبیرس ہونا پڑا،،،،

تم مجھے اپنی میم کا نمبر دو میں بات کرتی ہوں اس سے اس لیول پر کون انسلٹ کرتا ہے سٹوڈنٹس کی،،،،،،

ن۔۔۔نہیں ماما غلطی میری ہی تھی مجھے ٹیسٹ پریپیئر کر کے جانا چاہیے تھا،،،،،

لیزہ مجھے تمہاری میم سے بات کرنی ہے،،،،،، ذائشہ کو لیزہ کا آج یوں رونا بہت ہرٹ کر گیا تھا اور جس وجہ سے وہ روئی تھی وہ خاموش کیسے بیٹھتی

ماما چھوڑیں بس ٹھیک ہے سب،،،،،

لیزہ تم شؤر ہو،،،،،

جی ماما آپ رہنے دیں اگر نیکسٹ ٹائم کچھ ہوا تو آپ کو نہیں روکوں گی،،،،

ٹھیک ہے بیٹا اپنا خیال رکھا کرو اور فریش ہو کر نیچے آجانا اوکے،،،،،، وہ اس کی پیشانی کو چومتی ہوئی اٹھی

اوکے ماما میں ابھی آرہی ہوں،،،،،

ذائشہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی روم سے باہر نکل گئی

🔥
🔥
🔥

مجھے ایک بات کرنی تھی بلال،،،،، رات کے وقت ماہاویرا اور بلال اپنے کمرے میں بیٹھے تھے جب ماہا نے کہا

بولو مائے وائف کیا بات ہے،،،،،،، بلال نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا

الائیہ ہوٹل جانے کی بات کر رہی ہے،،،،،،

کیا،،،،،، بلال سیدھا ہو کر بیٹھا

لیکن کیوں اسے یہاں کوئی مسئلہ ہے تو بتائے،،،،،،،

پتہ نہیں بلال وہ خاموش سی تھی کچھ پریشان لگ رہی تھی،،،،،،،،

ہم نے تو کوئی کمی نہیں ہونے پھر بھی اس نے ایسی بات کی شہروز کو ہم کیا جواب دیں گے،،،،،،، بلال نے پریشانی سے کہا

وہی تو سوچ سوچ کر میں پریشان ہو رہی ہوں شہروز کیا کہے گا کہ پہلی بار اپنی بیٹی کو بھیجا اور اس کا خیال بھی نہ رکھ سکے،،،،،،

ویسے الائیہ آج صبح تو کافی خوش تھی میں نے اسے دیکھا تھا آریان سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی لان میں تو اچانک کیا ہو گیا،،،،،،،

بلال کہیں آپ کے لاڈلے نے کوئی کرم تو نہیں کر دیا،،،،،، ماہاویرا کی بات پر بلال نے رخ اس کی طرف کیا

آریان نے کیا کرنا ان دونوں کی تو فرینڈشپ ہو گئی ہے،،،،،،

نہیں بلال ضرور اس کے پیچھے وجہ آریان ہی ہے ہمیں اس سے پوچھنا ہو گا،،،،،،

ہاں ایک بار پوچھنے میں ہرج تو کوئی نہیں ہے،،،،،،،

تو پھر اٹھیں اس کے کمرے میں جاتے ہیں اس سے پوچھتے ہیں کیا کیا ہے تم نے،،،،،،، ماہاویرا کھڑی ہوئی تو بلال بھی کھڑا ہو گیا

آریان کے کمرے میں داخل ہو کر وہ اس کے پاس آکر بیٹھے آریان اچانک ان دونوں کو اپنے روم میں دیکھ کر حیران ہوا،،،،،،

موم ڈیڈ خیر تو ہے،،،،،،

آریان بس تم سے کچھ بات کرنی تھی،،،،،، بلال نے کہا

جی ڈیڈ کریں کیا بات ہے،،،،،،

بلال نے ماہاویرا کی طرف اشارہ کیا،،،،،،

دیکھو آریان جو بات میں کرنے لگی ہوں اس کے پیچھے وجہ اگر تم ہو تو ہمیں لازمی بتا دینا کیوں کہ ہمیں اگر بعد میں معلوم ہوا تو بہت دکھ کی بات ہو گی،،،،،، ماہاویرا بولی

ارے مومو کیا ہوا بتائیں تو صحیح سسپینس کیوں کریٹ کر رہی ہیں،،،،،،

وہ بات یہ ہے کہ الائیہ ہوٹل میں شفٹ ہونے کی بات کر رہی ہے کچھ پریشان بھی لگ رہی تھی،،،،،،

کیا الائیہ ہوٹل میں جا رہی ہے،،،،، آریان نے حیرت سے کہا

ہاں بیٹا اور اگر تم نے اسے کچھ کہا ہے تو بتاؤ،،،،،،، بلال نے کہا

لیکن میں نے تو اسے۔۔۔۔۔ اس کی نظروں کے سامنے آج دوپہر والا منظر گردش کرنے لگا جب وہ اسے سختی سے پکڑے ہوئے تھا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے،،،،،

کیا بتاؤ کیا کہا تم نے اسے بلال میں نہ کہتی تھی آپ کے بیٹے نے ہی کوئی چاند چڑھایا ہے،،،،،،،

ماہا اسے بولنے تو دو،،،،،،،

بتاؤ آریان کیا کہا تم نے اسے،،،،،، بلال نے پوچھا

ڈیڈ میں نے اسے پرپوز کیا تھا،،،،،، آریان نے بات تو بتا دی لیکن ادھوری

کیا،،،،،، ماہاویرا کا حیرت سے منہ کھلا اور بلال اپنی ہنسی دبانے لگا کہ اس کے شیر نے کیا خوب کام کیا ہے

بلال مجھے پہلے ہی شک تھا میں نے اسے کہا تھا کہ مجھ سے بات کرے اگر ایسا کچھ ہوا تو لیکن یہ ڈائریکٹ اس سے بات کر کے بیٹھا ہے شاید وہ دل پہ لے گئی ہے اور اس پہ یقین کرے بھی تو کیسے ابھی ایک ویک بھی نہیں ہوا اسے یہاں آئی اور آپ کا صاحبزادہ اسے پرپوز کر بیٹھا ہے،،،،،،،

آپ ہنس رہے ہیں،،،،،،، بلال اپنی ہنسی دبا رہا تھا جب ماہاویرا نے حیرت سے کہا

بلکل باپ پر گیا ہے بیٹا بلکہ نہیں باپ نے تو جس دن لڑکی دیکھی تھی اسی دن نکاح کر لیا تھا بیٹے نے تو پھر بھی چار پانچ دن صبر کر لیا،،،،،،،،

ماہا کا تانا سنانے پر بلال کا قہقہ کمرے میں گونجا،،،،،، آریان بھی اس کی بات پر ہنسنے لگا،،،،،،،

آپ دونوں باپ بیٹا یہاں بیٹھ کر ہنسو لیکن بلال اس مسئلے کا حل نکال کر کمرے میں آنا نہیں تو لاؤنج میں صوفے پر سونا پڑے گا یا پھر اپنے اس مسٹنڈے بیٹے کے ساتھ ہی سو جانا،،،،،،،، وہ غصے سے کہتی ہوئی کمرے سے نکل رہی تھی

ارے ماہا سنو تو یار،،،،، بلال اسے پکارتا رہ گیا

ڈیڈ اب کیا کرنا ہے،،،،،،،

کچھ نہیں آج رات صوفے پہ سونا ہو گا،،،،،، اس نے لمبی سانس چھوڑتے ہوئے کہا

او ہو ڈیڈ میں الائیہ کی بات کر رہا ہوں،،،،،،

اوہ اچھا تو کرنا کیا ہے تم نے الائیہ سے جواب نہیں مانگا کیا،،،،،،

وہ ڈیڈ ایکچولی میں کچھ زیادہ ہی پوزیسو ہو گیا تھا اسی وجہ سے الائیہ نے جانے کی بات کی ہے وہ میں اسے منا لوں گا آپ بس بتائیں آگے کیا کرنا ہے،،،،،،،

ہمممم تم ایسے کرو الائیہ کی مرضی پوچھو اگر اس کا جواب ہاں میں ہوا تو شہروز سے بات کریں گے مجھے پورا یقین ہے وہ اپنی بیٹی کی خوشی ہی چاہے گا،،،،،،

الائیہ کو کیسے مناؤں کچھ سمجھ نہیں آرہا،،،،،،

کہیں لے جاؤ اسے کوئی ایسی جگہ کہ وہ کبھی بھول نہ سکے اور نہ ہی تمہیں انکار کر سکے،،،،،،

ٹھیک ہے میں سوچوں گا کہ اسے کہاں لے کر جاؤں،،،،،،،

میں اب چلتا ہوں تمہاری ماں کو بھی منانا ہے ابھی،،،،،، وہ کھڑا ہوا

اوکے ڈیڈ گڈ نائٹ،،،،،

بلال کمرے سے باہر نکل گیا،،،،،

🔥
🔥
🔥

ایرہ، فارس اور اس کے کچھ آدمی کراچی سے اسلام آباد کی ائیر پورٹ پر اترے،،،،،

وہ بلیک تھری پیس میں ملبوس نہایت وجیہہ لگ رہا تھا ایرہ وائٹ پینٹ پر پنک شارٹ شرٹ پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی،،،،،،

وہ دونوں آکر گاڑی میں بیٹھے جو اس کے آدمی اس کے انتظار میں لے کر کھڑے تھے،،،،،

فارس کا اسلام آباد میں بھی ایک بنگلہ تھا جہاں اس کے کچھ خاص ملازم گھر کی دیکھ بھال بھی کرتے اور فارس کو اگر وہاں سے کوئی کام ہوتا تو ان کو کہہ کر پورا کروا لیتا،،،،،،

ایرہ گاڑی میں خاموشی سے آنکھیں بند کر کے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی اس کے چہرے پہ تھکن کے اثرات نمایا تھے،،،،،،

گاڑی کو بریک لگنے پر ایرہ نے آنکھیں کھولیں وہ اپنی منزل پر پہنچ چکے تھے،،،،،،

فارس باہر نکلا ایرہ نے بھی اپنی سائیڈ کا ڈور کھولا،،،،،،

گھر میں داخل ہو کر ایرہ نے پورے گھر پر نظر ڈالی آخری بار وہ یہاں بچپن میں آئی تھی،،،،،،

السلام علیکم صاحب جی کھانا تیار ہے،،،،، ملازمہ گھر کے اندرونی دروازے پر ہاتھ باندھے کھڑی تھی

وعلیکم السلام ٹیبل پر لگاؤ،،،،، فارس نے کہا

ایرہ فریش ہو کر ٹیبل پر آجانا،،،،،

بھائی مجھے بھوک نہیں ہے،،،،،، وہ تھکی تھکی سی بولی

گڑیا پلیز ایسے نہ کیا کرو تم نے آج لنچ بھی نہیں کیا تھا چلو شاباش فریش ہو جلدی سے پھر مل کر ڈنر کریں گے،،،،،،

ایرہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی دوسری ملازمہ کے پیچھے چل دی جو اسے ایرہ کے لیے تیار کیے گئے کمرے کی طرف لے گئی،،،،،،

🔥
🔥
🔥

ذوہا کب سے لیزہ کو کال پہ کال کر رہی تھی لیکن وہ اس کی ہر کال ڈسکنیکٹ کر رہی تھی اس بار اس نے تنگ آکر کال ییس کی،،،،،،

کیا مسئلہ ہے تمہارا کیوں میری نیند خراب کر رہی ہو،،،،،، لیزہ چلّائی

لیزہ پلیز مجھ سے ناراض مت رہو یار دیکھو پارٹی آرہی ہے اور میں تمہا۔۔۔۔

میں جانتی ہوں تم یہ پارٹی کس کے ساتھ انجوائے کرنے والی ہو اب میرے سامنے زیادہ اچھا بننے کی ضرورت نہیں ہے ویسے بھی تم تو یہ فرینڈشپ ختم کر چکی ہو تو اب کیوں مجھے تنگ کر رہی ہو،،،،،، اس کا لہجہ تلخ تھا

لیزہ میں نے تمہارے ساتھ فرینڈشپ ختم نہیں کی یار پلیز ایسے مت کرو وہ بہت اچھا لڑکا ہے اس سے ایک بار بات تو کر کے۔۔۔۔۔۔

کسی کی تعریف سننے کا میرا کوئی موڈ نہیں ہے ذوہا بہتر ہے تم اپنی لائف جیو اور مجھے میری لائف جینے دو،،،،،،

لیزہ،،،،، وہ ابھی بولی ہی تھی کہ لیزہ کال ڈسکنیکٹ کر گئی

ذوہا نے پریشانی سے بالوں کو کان کے پیچھے کیا ارحام ایک اچھا لڑکا تھا وہ اس سے فرینڈشپ کر چکی تھی وہ چاہتی تھی کہ لیزہ بھی ارحام کو سمجھے اس طرح وہ لیزہ اور ارحام دونوں کی کمپنی میں رہے،،،،،،

🔥
🔥
🔥

ایشا اٹھ جاؤ آج کالج نہیں جانا کیا،،،،،، ایشا سو رہی تھی جب ذائشہ ونڈو سے کرٹینز ہٹاتے ہوئے بولی

جانا ہے ماما،،،،،، وہ غنودگی بھری آواز میں بولی

تو اٹھو ورنہ لیٹ ہو جائے گی جلدی سے فریش ہو کر نیچے آؤ بریک فاسٹ ریڈی ہے،،،،،،

ذائشہ کمرے سے باہر نکل گئی اور ایشا آدھ کھلی آنکھوں سے واش روم گھس گئی،،،،،،

ایشا آج میں آفس جلدی جا رہا ہوں تمہیں ڈرائیور کالج ڈراپ کر دے گا،،،،،، وہ کھانے کی ٹیبل پر ناشتہ کر رہی تھی جب آحل اس کے پاس آیا وہ آفس کے لیے ریڈی کھڑا تھا

اوکے پاپا،،،،،

آحل نے جھک کر اس کے سر پر بوسہ دیا اور باہر کی طرف چل دیا،،،،،،

ناشتہ کرنے کے بعد ایشا گاڑی میں بیٹھی اور ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کی

فارس کسی کام سے باہر جا رہا تھا اس نے ایرہ کو جگانا مناسب نہ سمجھا اور ملازمہ کو کہا کہ جب وہ جاگ جائے تو اسے انفارم کر دے،،،،،

افففف کالج سے لیٹ ہو رہی ہے،،،،، ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے ایشا کی گاڑی ایک جگہ رکی ہوئی تھی

وہ گاڑی کی بیک سیٹ پر بیٹھا موبائل پر کسی سے ضروری بات کر رہا تھا جب اس کی گاڑی ایشا کی گاڑی کے بلکل پاس رکی،،،،،

ایشا بوریت سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی جب اس کی نظر فارس پر پڑی،،،،،،

ہاں،،،،، اس نے اپنے چشمے کو اتار کر فارس کی طرف دیکھا پھر چشمہ لگا کر اس کی طرف دیکھا

یہ۔۔۔یہ تو وہی سوپر مین انکل ہیں،،،،،،

ہیلو سوپر مین انکل،،،،،،، وہ انگلی سے چشمے کو دھیکلتی ہوئی بولی

فون پر بات کرتے ہوئے فارس کی نظر اپنے ساتھ والی گاڑی پر پڑی تبھی ایشا نے اسے ہاتھ ہلایا،،،،،،

سوپر مین انکل تھینک یو،،،،،

فارس نے اسے اگنور کیا لیکن اگلے ہی پل اس نے دوبارہ اس کی طرف دیکھا اس کی نیلی آنکھیں جو اس دن سمندر پر اس نے دیکھیں تھیں،،،،،

ارے ونڈو تو نیچے کریں نا،،،،،، وہ ساتھ اشارہ کر کے بولی

فارس نے پہلے اگنور کرنا چاہا لیکن پھر کچھ سوچتے ہوئے ونڈو نیچے کی،،،،،

سوپر مین انکل تھینک یو سو مچ،،،،،،، اس نے فارس کی طرف ہینڈ شیک کے لیے ہاتھ بڑھایا

جب کہ فارس اس کے الفاظ “سوپر مین انکل” پر ہی شاکڈ ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگا،،،،،،

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *