Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 18)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
میں نے پلین سوچ لیا ہے کہ میں میر فارس کا خاص آدمی بن کر اس کے گھر تک کیسے پہنچوں گا،،،،،،،،،،، عمر نے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھے ہوئے کہا اس کے ساتھ دانش بیٹھا تھا اور الائیہ وڈیو کال پر تھی
بتاؤ تو ذرا کیا پلین سوچا ہے تم نے،،،،،،،،،،، الائیہ نے کافی کا مگ منہ کو لگایا
جیسا کہ پچھلے دو دنوں سے میر فارس ہمیں مارکیٹ میں کہیں نا کہیں آتا جاتا دکھائی دے رہا ہے اگر آج بھی وہ مارکیٹ آیا تو ہو سکتا ہے ہمارا کام آج ہی بن جائے،،،،،،،،،،
ارے ڈمب وہ بتاؤ جو ہمیں نہیں پتہ،،،،،،،،،، الائیہ نے اسے گھوری سے نوازہ
صبر رکھو بتا تو رہا ہوں،،،،،،،، اس نے مصنوعی غصے سے تیوری چڑھائی
ہاں ہاں بولو جلدی کرو،،،،،،،،،
اب تو میں بلکل بھی جلدی نہیں بتاؤں گا جو کرنا ہے کر لو،،،،،،،،،، وہ شوخا ہوا
عمر بتاتے ہو یا نہیں،،،،،،،،
یار کیا ہو گیا ہے تم دونوں کو یہ وقت مذاق کا نہیں ہے عمر تم ابھی بتا رہے ہو جو بھی پلین تمہارے مائنڈ میں ہے،،،،،،،، دانش نے کہا
اوکے تو پلین یہ ہے کہ میں ایک جاب لیس لڑکا ہوں جو اپنی ڈگریز ہاتھ میں لیے مارا مارا پھر رہا ہے لیکن کوئی سفارش نہ ہونے کی وجہ سے اسے جاب نہیں مل رہی ،،،،،،،،،،
ہمممم گڈ۔۔۔نیکسٹ،،،،،، الائیہ نے کہا
اور ہماری انفارمیشن کے مطابق میر فارس کے دشمن بھی بہت ہیں اگر آج وہ مارکیٹ میں آئے تو دانش کہیں چھپ کر میر فارس پر شوٹ کرنے لگے گا لیکن میں دانش دیکھ لوں گا اور میر فارس کی مدد کرنے لے لیے آگے بڑھوں گا اسی دوران گولی مجھے لگ جائے گی،،،،،،،،،،
رسکی ہے،،،،،،،،، الائیہ نے آئبرو اچکائے
لیکن دانش نشانہ ایسے لگائے گا کہ گولی میرے بازو کو چھو کر گزرے گولی مجھے نہیں لگنی چاہیے،،،،،،،،،،،
ڈن میرا نشانہ اچھا ہے گولی تمہیں چھو کر ہی گزرے گی،،،،،،،، دانش نے کہا
اس کے آگے کیا ہو گا،،،،،،،، الائیہ نے پوچھا
وہ مجھے ہوسپٹل لے کر جائے گا میری بینڈیج کروانے کے لیے اور مجھ سے میرے بارے میں ضرور پوچھے گا تو تب میں اسے بتاؤں گا میں ایک غریب فیملی سے ہوں مجھے جاب کی تلاش ہے جو مجھے مل نہیں رہی ثبوت کے طور پہ ڈگریز بھی میرے پاس ہوں گی۔۔۔۔ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ مجھے اپنے کام میں شامل کر لے گا،،،،،،،،،
آئیڈیا تو تمہارا اچھا ہے اب بس دعا ہے کہ جیسا کہہ رہے ہو ویسا ہی ہو جائے،،،،،،،،، الائیہ نے کہا
ضرور ہو گا ان شاءاللّٰه،،،،،،،، عمر بولا
تو ایک گھنٹے میں میں تم لوگوں کے پاس آتی ہوں پھر مارکیٹ چلتے ہیں دعا کرو آج میر فارس کہیں دکھ جائے،،،،،،،،،، الائیہ نے کافی کا مگ (جو کہ وہ خالی کر چکی تھی) سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
ڈن وی آر ویٹینگ،،،،،،،، عمر اور دانش ایک ساتھ بولے



کل رات جاگنے کے باعث نیکسٹ ڈے لیزہ دوپہر تک سوئی رہی اس کی آنکھ کھلی تو اسے ابھی تک تھکن کا احساس ہو رہا تھا،،،،،،،،،
اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑے منی کلاک کی طرف دیکھا جو اس وقت دوپہر کے ایک بجے کا ٹائم دکھا رہا تھا،،،،،،،،
خلافِ توقع ٹائم دیکھ کر وہ تیزی سے اٹھی اور واش روم گھس گئی دس منٹ میں فریش ہونے کے بعد وہ کمرے سے نکلتی ہوئی لاؤنج میں داخل ہوئی،،،،،،،،،
ماما آپ نے مجھے جگایا نہیں،،،،،،،، ذائشہ صوفے پر بیٹھی تھی جب لیزہ نے کہا
کل سارے دن کی تمہیں تھکاوٹ تھی اسی لیے میں نے جگانا مناسب نہیں سمجھا،،،،،،،،،،
ہمممم،،،،،،،،، وہ صوفے پر بیٹھی
ایشا کہاں ہے،،،،،،،،
کالج گئی تھی اب تو آنے ہی والی ہے،،،،،،،
آپ نے اسے کل کے واقع کا بتایا،،،،،،،،
ہاں بتا دیا تھا کافی ڈر گئی تھی وہ پھر میں نے سمجھایا اسے،،،،،،،،،
اچھا وہ ماما میں ہوسپٹل جانے لگی ہوں،،،،،،،، وہ ہچکچائی کیوں کہ اس نے مان جو لیا تھا اسے ارحام سے محبت ہے اس لیے وہ نظریں چرانے لگی تھی
لیزہ ہم سے جو ممکن ہے ہم اس کے لیے کر رہے ہیں کل سارا دن تم وہاں رہی ہو تمہارے پاپا کل سے گھر نہیں آئے جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتا ہم ہوسپٹل کے تمام اخراجات پورے کریں گے اب تمہارا بار بار وہاں جانا مناسب نہیں لگتا،،،،،،،،،،
لیزہ کو بلکل بھی توقع نہیں تھی کہ اس کی ماما ایسی بات کریں گی وہ آنکھیں کھولے انہیں دیکھ رہی تھی،،،،،،،،،،
ماما اس نے میری جان بچائی ہے اگر کل وہ نہ آتا تو کیا ہوتا آج اس کی جگہ ہوسپٹل کے بیڈ پر میں ہوتی مجھے کیا آپ ہوسپٹل میں اکیلا چھوڑ دیتے،،،،،،،،،،،،
تم ہماری بیٹی ہو تمہیں ہم کیوں اکیلا چھوڑتے وہ غیر لڑکا ہے تم کل ہوسپٹل رہی ہو اتنا ہی بہت ہے،،،،،،،،،،،
ماما ارحام غیر نہیں ہے،،،،،،،،،
تو کیا ہے،،،،،،،، ذائشہ نے گھورتے ہوئے کہا
لیزہ خاموش ہوئی اور نظریں جھکا گئی،،،،،،،،،،،
اوکے آپ کو اچھا نہیں لگتا تو میں نہیں جاتی ہوسپٹل،،،،،،،،،،، وہ ضبط کرتے ہوئے بولی
گاڑی کے ہارن کی آواز پر واچ مین نے گیٹ کھولا،،،،،،،،
تمہارے پاپا آگئے ہیں جاؤ دیکھو ان کو تھک گئے ہوں گے وہ بھی،،،،،،،،،، ذائشہ کا لہجہ سنجیدہ تھا لیزہ کو ان کے اس لہجے سے کوفت ہونے لگی کیوں کہ ایسا پہلی بار ہوا تھا وہ اٹھی اور گھر کے اندرونی دروازے پر کھڑی ہوئی اس کا موڈ ٹوٹلی خراب ہو چکا تھا
آحِل گاڑی سے نکلا،،،،،،،،،،،
لیزہ ہاتھ مسلتی ہوئی انہیں دیکھ رہی تھی اس کا شدت سے دل چاہ رہا تھا ہوسپٹل جا کر ارحام کو دیکھنے کا،،،،،،،،،،،،
آحِل نے بیک سائیڈ کا دروازہ کھولا اور اسے پکڑتے ہوئے باہر نکالا،،،،،،،،،،،
لیزہ بے یقینی سے دیکھنے آحِل ارحام کو پکڑتا ہوا گاڑی سے نکال رہا تھا اس کے بازو پر بینڈیج لگی تھی،،،،،،،،،،
ارحام کی نظر لیزہ پر پڑی وائٹ سوٹ گیلے بالوں کے ساتھ وہ نکھری نکھری سی دکھائی دے رہی تھی،،،،،،،،،،،،
ذائشہ اس کے پاس کھڑی ہوئی اور مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،،،،،،،،،،،،،
لیزہ حیران ہوئی جب آحل کو گھر لانا تھا تو اس کی ماما نے اس کے ساتھ جھوٹ کیوں بولا،،،،،،،،،،
اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی آحل اور ارحام ان کے پاس پہنچ چکے تھے لیزہ کی نظریں اس سے ملیں وہ کافی کمزور دکھائی دے رہا تھا،،،،،،،،،
السلام علیکم۔۔۔۔ ارحام نے ذائشہ سے کہا
وعلیکم السلام کیسی طبیعت ہے اب،،،،،،،
کافی بہتر ہوں،،،،،،،
اندر آو میں نے تمہارے لیے روم سیٹ کروا لیا ہے،،،،،،،، ذائشہ مسکرائی
لیزہ حیرت سے اپنے ماما پاپا کو دیکھ رہی تھی وہ اسے گھر کیوں لے آئے تھے،،،،،،،،،،،،
آنٹی میں کچھ دیر آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھوں گا،،، ،،،،، ارحام نے لاؤنج میں چلتے ہوئے کہا
نہیں تمہیں اپنے روم میں آرام کرنا ہو گا ہم تمہارے ساتھ رہیں گے کچھ دیر ٹھیک ہے،،،،،،،، ذائشہ نے پیار سے کہا
بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے ذائشہ تمہاری طبیعت ابھی ناساز ہے تمہیں آرام کرنا چاہیے،،،،،،،، آحل نے کہا لیزہ پیچھے کھڑی حیرت سے اپنے سامنے ہونے والا ماجرہ دیکھ رہی تھی
لیزہ ارحام کو روم دکھا دو فورتھ روم ہے،،،،،،،،،، ذائشہ نے کہا
جی ماما،،،،،،،، وہ بالوں کو کندھے سے پیچھے کرتی ہوئی چلنے لگی ارحام بھی پھونک پھونک کر قدم اٹھاتا ہوا اس کے ساتھ چلنے لگا آج پہلی بار لیزہ کو ارحام کی موجودگی گھبرانے پر مجبور کر رہی تھی،،،،،،،،،
وہ فورتھ روم میں داخل ہوئی ارحام نے بھی وہی عمل دوہرایا،،،،،،،،،
وہ آہستہ سے بیڈ پر بیٹھا لیزہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا بات کرے اور کیا نہ کرے اس کی بے چینی دیکھ کر اس نے خود ہی بولنے میں پہل کی،،،،،،،،،
کیس ہو،،،،،،،،،
لیزہ نے کشمش میں گھری نیلی آنکھوں سے اسے دیکھا ،،،،،،،،
میں ٹھیک ہوں تم ٹھیک ہو،،،،،،،،
اب ٹھیک ہوں،،،،،،،،، وہ اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھتا معنی خیز بولا
لیزہ،،،،،،،، ذائشہ نے آواز دی
میں ماما کی بات سن کر آتی ہوں،،،،،،،،،، وہ کمرے سے نکل گئی
ارحام نے بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائی اور آنکھیں موند گیا،،،،،،،،،،
جی ماما،،،،،،،، وہ کچن میں آئی جہاں ذائشہ سوپ ٹرے میں رکھ رہی تھی
یہ ارحام کے لیے سوپ لے جاؤ،،،،،،،،، اس نے لیزہ کی طرف ٹرے بڑھائی جسے وہ دونوں ہاتھوں سے تھام گئی
ماما ابھی کچھ دیر پہلے آپ کیا کہہ رہی تھی اور اب یہ اب۔۔۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا،،،،،،،
سمجھو وہ سب مذاق تھا اور ارحام ہمارے گھر اس لیے ہے کیوں کہ اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں وہ ہوسٹل میں رہتا ہے وہاں کون اس حال میں اس کی دیکھ بھال کرتا اس لیے میں نے اور تمہارے پاپا نے فیصلہ کیا جب تک ارحام ٹھیک نہیں ہو جاتا ہمارے گھر رہے گا آخر وہ اس حال میں بھی ہماری خاطر ہی پہنچا ہے،،،،،،،،،
لیزہ اتنا جانتی تھی اس کے پیرینٹس کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کر سکتے لیکن جتنا کچھ وہ اب کر رہے تھے اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا،،،،،،،،،
ٹھیک ہے،،،،،،،،،، وہ ٹرے پکڑے کچن سے باہر نکل گئی
ذائشہ اس کی پشت کو دیکھ کر مسکرانے لگی اس نے لیزہ سے وہ سب کچھ اس کا ری ایکشن دیکھنے کے لیے کہا تھا شک تو اسے اور آحل کو کل ہی ہو گیا تھا کہ لیزہ ارحام کو چاہتی ہے آج تو ذائشہ کنفرم کرنا چاہتی تھی جو کہ اس نے کر لیا تھا،،،،،،،،،



عمر آر یو ریڈی،،،،،،،،،،، الائیہ کی آواز عمر کو اپنے کان میں لگے ہیڈ فون میں سنائی دی
ییس آئم ریڈی،،،،،،، عمر نے کہا اس کے لمبے بالوں کی وجہ سے جو اس کی گردن اور کانوں کو ڈھانپتے تھے اس کے کان میں لگا ہیڈ فون دکھائی نہیں دے رہا تھا
فارس ریسٹورنٹ میں کسی سے میٹنگ کر رہا تھا اس کے باہر نکلتے ہی انہوں نے اپنا کام دکھانا تھا،،،،،،،،،،
دس منٹ بعد وہ باہر کی جانب آتا دکھائی دیا وہ تینوں چوکنّا ہوئے،،،،،،،،،،،
عمر نے ہاتھ میں جعلی ڈگریز پکڑ رکھی تھیں جس میں اس کا نام ذیشان تھا،،،،،،،،،
فارس جیسے ہی اپنی گاڑی کی طرف بڑھا عمر نے اس کی جانب قدم بڑھائے،،،،،،،،،،
دانش میں جا رہا ہوں گولی چھو کر گزرنی چاہیے یاد رکھنا،،،،،،،،،،،، وہ آہستہ سے بولا
ڈرپوک چھو کر ہی گزرے گی تمہیں دانش پر ٹرسٹ نہیں ہے کیا،،،،،،،،،،، الائیہ نے کہا وہ دانش کے ساتھ ہی ایک بلڈنگ کے روم کی ونڈو میں بیٹھی تھی
اوکے ڈن،،،،،،،، وہ فارس کی طرف بھاگنے لگا فارس گاڑی کا دروازہ کھول رہا تھا جب اس نے انجان لڑکے کو اپنی طرف آتے دیکھا
ہٹ جائیے،،،،،،،،،، عمر چلّایا اور اسے دکھا دیا تبھی گولی اس کے بازو کو چھو کر گزری اور گاڑی کی ونڈو میں جا لگی جس کی کرچیاں سڑک پر پھیل چکی تھیں،،،،،،،،،،
اس کے بازو سے خون بہنے لگا اس نے کراہتے ہوئے فائلز نیچے پھینکیں اور اپنا بازو پکڑا،،،،،،،،،،
فارس نے بلڈنگ کی طرف دیکھا جہاں سے شوٹ کیا گیا تھا الائیہ اور دانش وہاں سے غائب ہو چکے تھے،،،،،،،،،
آہ،،،،،، وہ کراہیا جس ہاتھ سے اس نے بازو پکڑ رکھا تھا وہ خون سے لت پت ہو چکا تھا
تم ٹھیک ہو،،،،،،،، فارس تیزی سے اس کی طرف بڑھا
لوگوں میں بھی شور مچ چکا تھا
جلدی سے میری گاڑی میں بیٹھو،،،،،،،، فارس نے کہا کیوں کہ پولیس آجاتی تو یہ اسی کے لیے برا ہونا تھا
عمر اپنا پلین پورا ہونے پر مسکرایا جو کوئی نہ دیکھ سکا فارس کے گارڈ نے اس کی فائلز اٹھا کر گاڑی کی بیک سیٹ پر رکھیں،،،،،،،،
منٹوں میں ہی وہ گاڑی لیے وہاں سے گم ہو گئے،،،،،،،،،،،
ییس،،،،،،، الائیہ اور دانش نے ہاتھ پہ ہاتھ مارا
وہ اسے ہوسپٹل نہیں لے کر گیا تھا بلکہ اپنی کسی خفیہ جگہ پر لے آیا تھا دکھنے میں تو یہ ایک چھوٹا سا گھر تھا لیکن اس کے پیچھے ضرور کوئی نہ کوئی راز تھا عمر یہ بات جانتا تھا،،،،،،،،،،،
سہیل جلدی اس کا بازو چیک کرو،،،،،،،،، اس نے وہاں موجود اپنے آدمی سے کہا جو بیگ لیے اس کے پاس آیا
اس نے عمر کی شرٹ قینچی کاٹ کر بازو کو برہنا کیا،،،،،،،،،
اسے گولی نہیں لگی بلکہ گولی چھو کر گزری ہے،،،،،،،،،، معائنہ کرنے کے بعد وہ بولا
فارس نے غور سے اس کی طرف دیکھا جو درد سے منہ کے زاویے بگاڑ رہا تھا،،،،،،،،،،،
ہممم بینڈیج کرو،،،،،،،،،، فارس نے کہا اور صوفے پر بیٹھا
کیا نام ہے تمہارا،،،،،،،،،
جی ذیشان،،،،،،،،، وہ گھبرانے کی ایکٹنگ خوب کر رہا تھا
کیا کرتے ہو،،،،،،،،، فارس نے سگریٹ نکال کر ہونٹوں کے درمیان رکھی
پچھلے دنوں سٹڈیز کمپلیٹ کی ہیں جاب کی تلاش ہے،،،،،،،،، وہ تیئس سال کا تھا جس وجہ سے اس کی بات ماننا آسان تھا
ہمممم تو تمہیں کیسے پتہ چلا کہ کوئی مجھے شوٹ کرنے والا ہے،،،،،،،،،، اس نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے پوچھا
میں آج بھی جاب کی تلاش میں گھر سے نکلا تھا جب آپ اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگے تھے تو اچانک میری نظر سامنے والی بلڈنگ پر پڑی جس میں کوئی بندوق سے آپ کا نشانہ باندھ رہا تھا۔۔۔۔ آہ،،،،،، فارس کا آدمی بیڈیج کر رہا تھا جب عمر کراہیا حالانکہ تکلیف اسے اتنی نہیں ہو رہی تھی
جوان خون ہو برداشت کرو ایسی چھوٹی موٹی چوٹیں تو لگتی رہتی ہیں،،،،،،،،،،، فارس نے دھواں منہ سے نکالا
جی بس ایسا پہلی بار ہوا ہے تبھی،،،،،،،،،،
ہمممم تو اب بتاؤ تم نے میری جان بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں کیوں ڈالی،،،،،،،،،،
میں تو آپ کو بچانے کے لیے آگے بڑھا تھا مجھے کیا پتہ تھا میری جان خطرے میں پڑ جائے گی،،،،،،،،،،
ہممممم۔۔۔۔ فارس نے سگریٹ نیچے پھینک کر پاؤں سے مسل دی
ہو گیا،،،،،،،، سہیل کھڑا ہوا
فارس نے اپنے آدمی کو اشارہ کیا جس نے تازہ نوٹوں کا بنڈل عمر کی طرف بڑھایا،،،،،،،،،،،
پیسے دیکھ کر عمر کو اپنا پلین ناکام ہوتا نظر آرہا تھا یہ تو اسے پیسے دے کر رفع دفع کرنے کے چکروں میں تھا،،،،،،،،،،،
مجھے یہ پیسے نہیں چاہیے،،،،،،،،،، عمر کی بات پر فارس نے آئبرو اچکایا
لیکن کیوں یہ تمہارا انعام سمجھ لو،،،،،،،،
آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن میں جاب ڈھونڈوں گا اور اپنی محنت سے پیسے کماؤں گا چاہے اس کے لیے مجھے کتنا ہی وقت کیوں نا لگے،،،،،،،،،
ٹھیک ہے تم نہیں لینا چاہتے تو تمہاری مرضی ہے اسے باہر تک چھوڑ آؤ،،،،،،،،، اس نے اپنے آدمی سے کہا
عمر حیران ہوا اس کا پلین تو اب ٹوٹلی فیل ہو چکا تھا،،،،،،،،،،
وہ کھڑا ہوا اور اد کے آدمی کے ساتھ چلنے لگا،،،،،،،،،
گیٹ سے باہر نکل کر اس کا آدمی واپس مڑ گیا اور وہ سڑک پر چلنے لگا،،،،،،،،،
سالا اتنی تکلیف بھی برداشت کرنی پڑی کام پھر بھی نہ ہوا،،،،،،،،
شٹ۔۔۔۔ اب کوئی اور پلین بنانا پڑے گا،،،،،،،،، الائیہ کی آواز اس کے ہیڈ فون میں سنائی دی اب تک فارس نے جو بھی باتیں عمر سے کی تھیں اور الائیہ اور دانش سن رہے تھے،،،،،،،،،،،،
چلو کوئی بات نہیں نیکسٹ ٹائم کچھ سولِڈ سوچیں گے،،،،،،،،، دانش نے کہا
اوئے چھوٹے،،،،،،،،، ایک آواز عمر کو سنائی دی اس بے پیچھے مڑ کر دیکھا تو یہ وہی آدمی تھا جو اس کو گیٹ تک چھوڑنے آیا تھا
گائیز لگتا ہے کام ہو گیا،،،،،،،،،،
ییس چلو اب جلدی جاؤ اور دیکھو کیا کہتا ہے،،،،،،،، الائیہ ایکسائیٹمنٹ سے بولی
جی،،،،،،،،، عمر گیٹ تک پہنچا
اندر آ جاؤ باس بلا رہا ہے،،،،،،،،،،، وہ اس کے ساتھ اندر داخل ہوا اور اسی کمرے کا رخ کیا جہاں پہلے اسے بیٹھایا گیا تھا
بیٹھو،،،،،،،، فارس نے کہا
وہ اسی کرسی پر بیٹھ گیا جہاں پہلے بیٹھا تھا،،،،،،،،
اگر تمہیں جاب کی ضرورت ہے تو تم میرے پاس کر سکتے ہو،،،،،،،،،
کیا واقع ہی آپ مجھے جاب کے لیے آفر کر رہے ہیں،،،،،،،،، اس نے مصنوعی خوشی کا اظہار کیا
ہاں بلکل تمہاری سیلری اتنی ہو گی کہ تم اپنی ہر ضرورت پوری کرنے کے بعد آسانی سے عیش کر سکتے ہو،،،،،،،،،
جی مجھے منظور ہے لیکن جاب کس کام کی ہے،،،،،،،،،
اب کی ہے پوائنٹ کی بات،،،،،،،، فارس کے لب مسکرائے
بس اتنا بتا دوں ہمارا کام اِلیگل ہے اب تم پہ ڈیپینڈ کرتا ہے تم اس کے لیے ہاں کرتے ہو یا نہیں،،،،،،،،،
میں بہت مہینوں سے جاب کی تلاش میں ہوں اب جو ملا ہے اسے ٹھکراوں گا ہرگز نہیں میں یہ جاب ضرور کروں گا،،،،،،،،،،، وہ خوشی سے بولا
ٹھیک ہے ابھی تم جاؤ کل صبح اسی جگہ آجانا،،،،،،،،
جی بہتر،،،،،،، عمر نے کہا



وہ ٹرے ہاتھ میں پکڑے اندر آئی ارحام نے قدموں کی آہٹ سے آنکھیں کھولیں،،،،،،،،،،
یہ سوپ میں رکھ رہی ہوں پی لینا،،،،،،،،، وہ واپس مڑنے لگی جب ارحام بولا
میں کیسے پیوں گا میرے داہنے بازو پہ بینڈیج لگی ہے،،،،،،،،،
اب پھر،،،،،،،،، وہ سامنے کھڑی ہاتھ مسل رہی تھی
اگر تمہیں اعتراض نہیں ہے تو تم ہی پلا دو،،،،،،،،،
میں،،،،،،،،،، وہ حیران ہوئی
ہاں کیوں تمہیں ٹھیک نہیں لگ رہا تو کسی میڈ کو بھیج دو،،،،،،،،،،، ارحام کی بات سن کر لیزہ نے تیوری چڑھائی جس پر ارحام دل ہی دل میں مسکرایا
وہ چلتی ہوئی بیڈ پر بیٹھی وہ ٹیک لگائے بیٹھا تھا لیزہ نے سوپ کو چمچ میں بھرا اور ارحام کی طرف کیا،،،،،،،،،،،
اس نے سوپ پینے کے لیے منہ کھولا،،،،،،،،
اب وہ اسے سوپ پلا رہی تھی اور وہ لیزہ کو دیکھنے کا شغل فرما رہا تھا،،،،،،،،،
اس کی نظروں کے حصار سے گھبراتے ہوئے لیزہ کا ہاتھ لڑکھڑایا جس سے سوپ اس کی تھوڑی سے گردن تک پھیل گیا،،،،،،،،،،
اوہ آئم سوری،،،،،،،،،
ارحام نے جلن کے احساس سے آنکھیں بند کیں،،،،،،،،،
آئم سوری ارحام مجھے پتہ نہیں چلا،،،،،،،،،
لیزہ یہ بہت گرم ہے مجھے ٹشو دو صاف کرنا ہے،،،،،،،،،،، وہ جلن کو برداشت کرتا ہوا بولا
لیزہ نے ٹشو باکس سے جلدی سے ٹشو نکالا اور اس کی گردن صاف کرنے لگی،،،،،،،،،،
ارحام کو اس سے یہ امید نہیں تھی وہ جان گیا کہ وہ اپنے دل میں چھپی محبت کو ایکسیپٹ کر چکی ہے،،،،،،،،،،
اس کی گردن کو لیزہ کی انگلیاں چھو رہی تھیں وہ تیزی تیزی سے صاف کرتی ہوئی تھوڑی تک آئی اور نیا ٹشو نکالا،،،،،،،،،،،
تھوڑی اور ہونٹوں کو صاف کر کے اس نے ٹشوز باسکٹ میں پھینکے اور کھڑی ہوئی وہ اپنے دھک دھک کرتے دل کو محسوس کر سکتی تھی،،،،،،،،،،،
کہاں جا رہی ہو،،،،،،،،،،،،
و۔۔۔۔وہ میں لاؤنج میں جا رہی ہوں،،،،،،،،،
مجھے سوپ کون پلائے گا یا بھوکا رکھنے کا ارادہ ہے،،،،،،،،، ارحام کی بات پر لیزہ نے سر جھکایا
نہیں ایسی کوئی بات نہیں،،،،،،،،،
پھر بیٹھو،،،،،،،،،،
لیزہ پھر سے بیڈ پر بیٹھی اور سوپ کا باؤل اٹھایا،،،،،،،،،
اب وہ جلدی جلدی سوپ ختم کر کے اس کی نظروں سے بھاگ جانا چاہتی تھی،،،،،،،،،
ہیلو ارحام بھائی،،،،،،،،، پیاری سی آواز پر ارحام نے گردن ایک طرف کیے روم کے دروازے کو دیکھا جہاں ایشا کالج یونیفارم میں ہاتھ باندھے کھڑی تھی
یہ کون ہے،،،،،،،، ارحام اس کے چھوٹے بال اور آنکھوں پہ لگے چشمے کو دیکھ کر مسکرایا
میری چھوٹی بہن ہے،،،،،،،،،
ایشا تم ایسے ہی آگئی چلو یونیفارم چینج کرو فریش ہو کر آؤ،،،،،،،،، لیزہ نے اسے گھوری سے نوازہ
میں تو پہلے ارحام بھائی سے ملوں گی جس نے اپنی جان کی بازی لگا کر میری خڑوس آپی کو بچایا،،،،،،،،، وہ بھاگتی ہوئی بیڈ کی دوسری طرف بیٹھی
ایشا شٹ یور ماؤتھ،،،،،،،،، لیزہ کو لفظ “خڑوس آپی” پر غصہ آیا
ہائے ارحام بھائی آئم ایش،،،،،،،،، اس نے ہاتھ آگے بڑھایا
ایش،،،،،،، ارحام مسکرایا
ایش میں ہینڈ شیک نہیں کر سکتا،،،،،،،، اس نے اپنے بازو کی طرف اشارہ کیا
بلکل کر سکتے ہیں،،،،،،،،،، ایشا نے اپنا لیفٹ ہینڈ آگے کیا جس سے ارحام نے بھی لیفٹ ہینڈ سے ہینڈ شیک کر لیا
واؤ آپ تو ہیرو ہیں کیا کمال کر دیا آپ نے آپ جانتے ہو آپ کی وڈیو بھی ایف بی پر وائرل ہو چکی ہے میں نے آج ہی دیکھی ہے،،،،،،،،،، وہ چشمے کو انگلی سے دھکیلتی ہوئی بولی
کیا واقع ہی،،،،،،،، وہ حیران ہوا
ہاں نا میں آپ کو ابھی دکھاتی ہوں،،،،،،،،، اس نے موبائل آن کیا
ایشا چلو اپنے کمرے میں اور فریش ہو کر آؤ اپنی حالت دیکھی ہے تم نے،،،،،،،،، لیزہ غصے سے بولی
آپی بس ایک بار وڈیو تو دیکھا دوں ارحام بھائی کو،،،،،،،،
میں کیا کہہ رہی ہوں،،،،،،،،،،، لیزہ نے اسے گھوری سے نوازہ
ایشا منہ لٹکاتی ہوئی بیڈ سے اتری اور باہر جانے لگی،،،،،،،،
میں ویٹ کر رہا ہوں،،،،،،،،،، ارحام نے کہا تو اس کی آنکھیں چمکیں
میں بس دس منٹ میں آئی ارحام بھائی،،،،،،، اس نے بھاگتے ہوئے کہا
لیزہ نے ارحام کو بھی گھوری سے نوازہ وہ پہلی ہی ملاقات میں ایشا سے اتنا فری ہو گیا تھا اور باؤل اٹھاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی
اس کے جانے کے بعد وہ مسکرایا تھا،،،،،،،،



عمر واپس الائیہ اور دانش کے پاس آگیا تھا پلین کامیاب ہونے کی خوشی میں وہ لوگ ریسٹورنٹ میں ڈنر کر رہے تھے،،،،،،،،
آریان گاڑی میں بیٹھا تھا جب اس کی نظر الائیہ پر پڑی جو دو لڑکوں کے ساتھ ریسٹورنٹ سے باہر نکل رہی تھی،،،،،،،،،
آریان نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا الائیہ بھی اسے دیکھ چکی تھی اس کے چہرے پہ سجی خوشی ہوا ہوئی وہ سنجیدگی سے آریان کو دیکھنے لگی،،،،،،،،،
گائیز میں اب جا رہی ہوں تم کل ملتے ہیں،،،،،،، وہ انہیں بائے کہتی ہوئی آریان کی طرف بڑھنے لگی
آریان نے اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر گاڑی سٹارٹ کی الائیہ بھی گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی اس کے پیچھے لگائی،،،،،،،
جاری ہے
