Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 22)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 22)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
ارحام بہت دنوں سے گھر میں تھا اج لیزہ اسے لانگ ڈرائیو کے لیے باہر لے کر آئی تھی ارحام کے کندھے پر ابھی بھی بینڈیج لگی تھی اس لیے ڈرائیونگ سیٹ پر لیزہ بیٹھی تھی،،،،،،،،،،
وہ سیٹ کے ساتھ ٹیک لگائے لیزہ کی طرف رخ کیے کب سے اسے ہی دیکھے جا رہا تھا بلیو شرٹ میں لیزہ کا رنگت پہلے سے بھی زیادہ نکھری نکھری دکھ رہی تھی اوپر سے شرٹ سے میچ کرتی اس کی آنکھیں ارحام کو مسلسل اپنی طرف متوجہ کر رہی تھیں،،،،،،،،،
میں تمہیں باہر اس لیے لے کر آئی ہوں تا کہ تم انجوائے کرو فریش محسوس کرو اگر مجھے ہی دیکھنا تھا تو یہ کام تم گھر میں بھی کر سکتے تھے،،،،،،،، لیزہ نے اسے گھورتے ہوئے کہا
تمہیں تو معلوم ہے انسان کی فطرت ہے کہ خوبصورتی اسے اپنی طرف مائل کرتی ہے اور میرا نہیں خیال یہاں کچھ ایسا ہے جو میری نظریں تم سے ہٹانے پر مجبور کر دے،،،،،،،،، وہ مسکرایا
دیکھ رہی ہوں جب سے نکاح ہوا ہے اوور فری ہو رہے ہو،،،،،،،، لیزہ نے آنکھیں گھمائیں
کیوں نہیں ہونا چاہیے،،،،،،،، اس نے آئبرو اچکایا
میں نے ایسا بھی نہیں کہا،،،،،،،،،،
چلو ٹھیک ہے پھر تم ہی بتاؤ تمہارے ہزبینڈ کو کیسا ہونا چاہیے،،،،،،،، وہ سیدھا ہو کر بیٹھا
گڈ لکنک ہونا چاہیے،،،،،،،، لیزہ نے سوچتے ہوئے کہا
اووو اچھا تو تمہارا خیال ہے میں کڈ لنکنگ نہیں،،،،،،،،،، ارحام نے آنکھیں بڑی کیں
نہیں تم ہو لیکن 50٪،،،،،،، لیزہ نے دانتوں تلے لب دبایا
اچھا اتنا برا ہوں میں کہ صرف 50٪ دیا،،،،،،،،،
اور نہیں تو کیا آنکھیں دیکھی ہیں اپنی،،،،،،،،، لیزہ مسکرائی
کیسی ہیں میری آنکھیں،،،،،،،،
لیزہ نے اس کی آنکھیں میں دیکھا،،،،،،،،،
ہممم بس ٹھیک ہی ہیں پلکیں تھوڑی زیادہ لمبی ہیں،،،،،،، وہ لا پرواہی سے بولی
اوہ تو تمہارے خیال میں پلکیں لمبی ہونا بیوٹی نہیں ہے،،،،،،،،
ہاں بلکل۔۔۔۔ تمہاری پلکیں چھوٹی ہونی چاہیے تھیں،،،،،،،،
اس کی بات سن کر ارحام ہنسا،،،،،،،،،،
اور میری نوز کیسی ہے،،،،،،،،،
امممممم تھوڑی موٹی ہونی چاہیے تھی،،،،،،،،، اس نے جان بوجھ کر کہا کیوں کہ ارحام کی نوز بلکل پرفیکٹ تھی
اچھاااا،،،،،،، اس نے اچھا کو لمبا کر کے کہا
اور میرے ہونٹ کیسے ہیں،،،،،،، وہ مسکرایا
آں۔ں۔ں،،،،، تھوڑے بڑے ہونے چاہیے تھے،،،،،،،
اچھا تو تمہیں بڑے ہونٹ پسند ہیں،،،،،،،،،، اس نے آئبرو اچکائے
ہاں بلکل،،،،،،،،
اس کا مطلب مجھے اپنے پورے فیس کی پلاسٹک سرجری کروانی پڑے گی اور پلکوں کو تو میں قینچی سے ہی کاٹ کر چھوٹی کر لوں گا،،،،،،،،،،
اس کی بات سن پر لیزہ نے قہقہ لگایا،،،،،،،،
اور نہیں تو کیا میں چاہتا ہوں کہ جیسا میں اپنی بیوی کو پسند آؤں ویسا بن جاوں تو ٹھیک ہے نا پلاسٹک سرجری کروا لیتا ہوں پھر تم چھوٹی پلکوں والے موٹی ناک والے اور بڑے ہونٹوں سے شوہر سے خوب پیار کرنا،،،،،،،،،
لیزہ کا پھر سے قہقہ لگا بات کرتے وقت ارحام کے کیا فیس ایکسپریشن تھے اسے دیکھ دیکھ کر لیزہ سے اپنی ہنسی کنٹرول نہیں ہو رہی تھی،،،،،،،،،،،
اب ہنس کیوں رہی ہو کروا لیتا ہوں میں بس پھر تمہیں ایک کوجے بدھے ارحام کے ساتھ پوری زندگی گزارا کرنا ہو گا،،،،،،،،
ہاہاہا،،،،،، ارحام جسٹ جوک تھا اتنا سیریس نہیں ہو
اچھا تو یہ جوک تھا لیکن مجھے تو ہنسی ہی نہیں آئی،،،،،،،،
لیکن مجھے تو آرہی ہے نا،،،،،،،، لیزہ سے ڈرائیونگ کرنا مشکل ہو گیا تھا اس نے گاڑی کو بریک لگائی وہ مسلسل ہنسے جا رہی تھی
ارحام اسے خاموش کروانا چاہتا تھا اور اس کا صرف ایک ہی حل تھا اس نے تیزی سے اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اپنی طرف کھینچا اور اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے،،،،،،،،،،
لیزہ کے اوسان خطا ہوئے اس نے آنکھیں بند کر کے ارحام کی شرٹ کو مٹھی میں جکڑ لیا،،،،،،،،،،



آریان ایشا کہاں ہے کیا ہوا تھا تم دونوں کے ساتھ،،،،،،،،، آریان کے ہوش میں آتے ہی آحل فوراً سے بولا
وہ چکراتے سر کو پکڑ کر بیٹھا ادھر ادھر دیکھتا وہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ آحل کے گھر میں کیسے موجود ہے،،،،،،،،
بولو آریان ایشا کہاں ہے،،،،،،، ذائشہ جو پریشان کھڑی تھی بولی
ایشا،،،،،،، آریان نے سوچتے ہوئے کہا
ہاں ایشا کہاں ہے وہ،،،،،،، آحل نے کہا
بلال ماہاویرا اور الائیہ بھی وہیں تھے آحل نے انہیں کال کر کے بلایا تھا
میں یہاں کیسے ہوں،،،،،،،، آریان نے سر کو پکڑتے ہوئے کہا
ایک گھنٹے تک جب تم ایشا کو لے کر کالج نہیں پہنچے تو ذائشہ نے مجھے کال کی، تم کال بھی ریسیو نہیں کر رہے تھے میں آفس سے ایشا کے کالج جانے کے لیے نکلا جب راستے میں تمہیں سڑک پر تمہیں بے ہوش پایا،،،،،،،
آحل کی بات سن کر آریان کو سارا ماجرہ یاد آنے لگا،،،،،،،،
ماموں کچھ لوگ آئے تھے اور ایشا کو کڈنیپ کر کے لے گئے،،،،،،،،،
کیا۔۔۔۔ کیا کہہ رہے ہو تم ایشا کو کون کڈنیپ کر سکتا ہے،،،،،،،،، آحل چلّایا ذائشہ کے پیروں تلے سے زمین نکلی
میں سچ کہہ رہا ہوں ماموں وہ چار لوگ تھے تین گاڑی سے باہر نکلے مجھ پہ گن تانی اور ایشا کو بے ہوش کر دیا میں نے اسے بچانے کی پوری کوشس کی لیکن ان میں سے ایک نے میرے منہ پر رومال رکھا جس سے میں بے ہوش ہو گیا اس کے بعد کیا ہوا مجھے کچھ یاد نہیں،،،،،،،،،،
بلال اور ماہاویرا بھی حیرت سے آریان کی طرف دیکھ رہے تھے آخر اتنا بڑا واقع ہو چکا تھا کون ہو سکتا تھا اس کے پیچھے،،،،،،،،
آحل۔۔۔ آحل میری بچی پتہ نہیں کس حال میں ہو گی کون لوگ اسے لے گئے پلیز آ۔۔آپ میری بچی مجھے واپس لا دیں،،،،،،،، ذائشہ آحل کا گریبان پکڑ کر رونے لگی
آحل کے خود کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بند ہو چکی تھی اسے اپنے دماغ میں سیٹیاں بجتی سنائی دے رہی تھیں،،،،،،،،
آحل میری ایشا مجھے واپس لا دیں،،،،،،،،، ذائشہ روتے ہوئے زمین پر گری ماہاویرا اس کی طرف بھاگی،،،،،،،،
ذائشہ سمبھالو خود کو،،،،،،،
ماہا میری بچی نہ جانے کس حال میں ہو گی،،،،،،،، وہ اس کے سینے سے لگی اونچی آواز میں رونے لگی،،،،،،،،
آحل چلو ہمیں پولیس سٹیشن چلنا ہے،،،،،،، بلال کی آواز پر آحل ہوش میں آیا،،،،،،،،،
الائیہ خود پریشان کھڑی یہ سارا ماجرہ دیکھ رہی تھی،،،،،،،،،
آحل چلو ہمیں ابھی رپورٹ لکھوانی ہے،،،،،،،، بلال نے اس کا بازو پکڑا
بلال کون کر سکتا ہے یہ،،،،،،،، آحل ابھی بھی سکتے کی حالت میں تھا ذائشہ کا رونا چلّانا ابھی بھی بند نہیں ہوا تھا،،،،،،،،
میں نہیں جانتا کون ہو سکتا ہے تمہارے ساتھ کسی کی دشمنی ہے کیا،،،،،،،،
نہیں بلال میرا کوئی دشمن نہیں ہے پھر کون میری بچی کو کڈنیپ کر سکتا ہے،،،،،،،، اس کا سر چکرانے لگا
الائیہ جاؤ پانی لے کر آو،،،،،، بلال نے کہا
اس نے ٹیبل پر پڑے جگ سے پانی کا گلاس بھر کر آحل کی طرف بڑھایا،،،،،،،
مجھے پانی کی ضرورت نہیں ہے تم سب ذائشہ کو سمبھالو بلال چلو پولیس سٹیشن،،،،،،، وہ ہمت کرتا کھڑا ہوا
الائیہ نے ذائشہ کو پانی پلانے کی ناکام کوشش کی وہ بس روئے جا رہی تھی،،،،،،،،،
آریان تم ٹھیک ہو،،،،،،، وہ اس کے پاس آکر بیٹھی
میں ٹھیک ہوں لیکن ایشا کی بہت فکر ہو رہی ہے،،،،،،،،
وہ مل جائے گی ان شاءاللّٰه،،،،،، الائیہ نے اسے تسلی دی



کہاں ہے وہ لڑکی،،،،،،،، ایرہ چلّائی
و۔۔وہ،،،،،، وہ آدمی پریشان تھے کہ جواب میں کیا کہیں
کیا وہ وہ لگا رکھی ہے بتاؤ،،،،،، وہ پھر سے چلّائی
وہ اندر ہے،،،،،،، ایک نے جھوٹ بولا
وہ دانت پیستی ہوئی اندر داخل ہوئی ایشا فارس کے پاس کھڑی تھی اس کی پشت ایرہ کی طرف تھی،،،،،،،،،،
فارس نے ایرہ کو دیکھا اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا وہ لمبے لمبے قدم اٹھاتی ایشا کے پاس آئی اسے بازو سے پکڑے ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی طرف کیا،،،،،،،،،،،
ایرہ کی آنکھوں میں اتری وحشت کو دیکھ کر ایشا ڈر گئی اور فارس کے ساتھ چپک کے کھڑی ہو گئی،،،،،،،،،
ی۔۔یہ وہ لڑکی تو نہیں ہے بھائی،،،،،،،،، ایرہ حیران ہوئی
سوپر مین انکل یہ کون ہے سکیئری گرل،،،،،،،، اس نے معصومیت سے فارس کو دیکھتے ہوئے پوچھا
ایشا تم یہیں رہو میں کچھ دیر میں آتا ہوں،،،،،،،
اوکے لیکن جلدی آجائیے گا یہ کمرہ بھی ان کی طرح سکیئری ہے،،،،،، اس نے ایرہ کی طرف اشارہ کیا ایرہ نے اسے گھوری سے نوازہ تو ایشا نے ہونٹوں پہ انگلی رکھی
یہ وہ نہیں ہے میرے آدمی غلط فہمی کی بنا پر اسے اٹھا لائے ہیں،،،،،،،،،، باہر آتے ہی فارس نے کہا
بھائی ان لوگوں کو آج ہی جاب سے فارغ کریں جو لوگ ایک چھوٹا سا کام نہیں کر سکتے انہیں یہاں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں،،،،،،،،، وہ غصے سے بولی
تم فکر نہیں کرو گڑیا ان کو جاب سے بھی نکال دوں گا اور اس لڑکی کو بھی تمہارے سامنے لا کر کھڑا کروں گا،،،،،،،،
بھائی یہ لڑکی کون ہے آپ اس کا نام کیسے جانتے ہیں،،،،،،،،،،، ایرہ نے تجسس سے پوچھا
ہاں وہ کراچی میں بیچ پر ملی تھی،،،،،،،،،، فارس نے نظروں کا رخ بدلا
ملی تھی مطلب،،،،،،،،
سمندر میں ڈوب رہی تھی تب میں نے اس کی ہیلپ کی تھی جب ہم یہاں آئے تو ایک دو بار مارکیٹ میں میرا اس سے سامنا ہو گیا تھا،،،،،،،،
ہممم اوکے،،،،،،
میں اب روم میں جا رہی ہوں اس لڑکی کو سامنے دیکھنے کا انتظار کر رہی ہوں،،،،،،،،
بہت جلد دیکھو گی،،،،،،،،
ایرہ گھر کے اندرونی حصے میں داخل ہو گئی اور فارس واپس سے ایشا کے کمرے کی طرف چل دیا،،،،،،،،،،



لیزہ اور ارحام گھر پہنچے تو انہیں سارا وقع معلوم ہوا وہ بھی پریشان ہوئے کہ نہ جانے ایسا کون کر سکتا ہے ایشا تو ابھی بچی ہے اس کو کسی نے کڈنیپ کیوں کیا،،،،،،،،،،
پاپا،،،،،، آحِل اور بلال جیسے ہی لاؤنج میں داخل ہوئے لیزہ کھڑی ہوئی
پاپا کچھ معلوم ہوا،،،،،،،،،
نہیں بیٹا ابھی تو صرف رپورٹ لکھوا کر آرہے ہیں انہوں نے کہا ہے وہ پوری کوشش کریں گے اس کو جلد از جلد ڈھوڈنے کی،،،،،،،، آحِل نے فکر سے کہا
پاپا ایسا کیسے ہو سکتا ہے ایشا کو کوئی کیوں کڈنیپ کرے گا،،،،،،،، وہ اس کے پاس آکر بیٹھی
اب یہ تو اللہ ہی جانتا ہے بس میرا مالک میری بچی کو ہر قسم کے نقصان سے بچالے،،،،،،،،،
ان شاءاللّٰه سب ٹھیک ہو گا آحِل تم ذیاہ ٹینس نہ ہو،،،،،،، بلال نے اسے تسلی دی
ذائشہ کہاں ہے نظر نہیں آرہی،،،،،،، آحِل نے اسے دیکھنا چاہا
ماما کو پھوپھو نے سلیپنگ پلز کھلا دی ہیں وہ سو رہی ہیں،،،،،،،،،
آریان تمہیں شام کو ہمارے ساتھ چلنا ہو گا پولیس سٹیشن وہ لوگ تم سے سارا معاملہ سننا چاہتے ہیں،،،،،،،،، بلال نے کہا
جی ڈیڈ میں چلوں گا،،،،،،،،
پاپا آپ کچھ کھا لیں طبیعت خراب ہو رہی ہے آپ کی،،،،،،،، لیزہ نے کہا
جب تک میری بچی نہیں مل جاتی بھوک کہاں لگنے والی،،،،،،،،
پاپا جب آپ نے آج تک کسی کے ساتھ غلط نہیں کیا تو اللہ کیسے اپنے بندے کو تکلیف دے سکتا ہے مجھے پورا یقین ہے وہ جہاں بھی ہو گی بلکل ٹھیک ہو گی اور بہت جلد وہ ہمارے ساتھ ہو گی،،،،،،،،
آمین،،،،،،، آحِل کے ساتھ سب نے کہا



سوپر مین انکل بہت بھوک لگی ہے،،،،،،،،،، ایشا نے پیٹ پہ ہاتھ رکھ کر منہ بسورتے ہوئے کہا
اس کے انداز پر فارس کے ہونٹ مسکرائے اس نے پاکٹ سے موبائل نکالا،،،،،،،،،،
کیا کھاؤ گی،،،،،،،،
اممممم۔۔۔۔ وہ تھوڑی پہ انگلی رکھے سوچنے لگی
پیزہ، برگر، چکن تکہ اور اس کے بعد آئس کریم،،،،،،،،، وہ انگلیوں پر گنتی ہوئی اسے بتانے لگی فارس نے ایک بار اسے اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا پھر اس کی بتائی ہوئی چیزوں پر غور کیا یہ سب اس نے اپنے چھوٹے سے پیٹ میں کیسے فٹ کرنی تھیں،،،،،،،،،،
کوک کہنے کی ضرورت تو نہیں ہے نا کیوں کہ سب کو معلوم ہے فاسٹ فوڈ کے ساتھ اسے یوز کرتے ہیں،،،،،،،،،
فارس ایک بار پھر سے حیرت سے اسے دیکھا پھر کال ملا کر وہ ساری چیزیں گنوائیں،،،،،،،،،
تھینک یو آپ کتنے اچھے ہیں،،،،،،، ایشا نے بتیسی نکالی
فارس حیران ہوا اس نے ایک بار بھی نہیں پوچھا تھا اسے یہاں کیوں لایا گیا ہے کیا وہ واقعی پاگل تھی،،،،،،،،،
کچھ دیر تک فارس کا آدمی وہ سب چیزیں لے آیا فارس نے ایک سائیڈ پر پڑا ٹیبل اٹھا کر ایشا کے سامنے رکھا اور تمام چیزیں نکال کر رکھ دیں،،،،،،،،
پورا ٹیبل بھر چکا تھا چیزیں دیکھ کر ایشا کے منہ میں پانی آنے لگا ہونٹوں پر زبان پھیری فارس نے اس کی یہ حرکت بڑے غور سے نوٹ کی،،،،،،،،،
ایشا نے سب سے پہلے پیزا اٹھایا بنا فارس کا خیال کیے وہ تیز تیز کھانے میں مصروف ہو گئی،،،،،،،،،
وہ چیئر سے ٹیک لگائے اسے دیکھنے لگا کیا چیز تھی وہ مانا کہ کم عمر ہے لیکن عقل سے بلکل ہی پیدل ہے،،،،،،،،،،، فارس نے دل میں سوچا
پیزا ختم ہونے کے بعد اس نے برگر اٹھایا بڑا سا بائٹ لیے وہ اب برگر میں مگن تھی فارس کی نظر کبھی اس کی نیلی آنکھوں پہ اور کبھی اس کے حرکت کرتے ہونٹوں پر ہوتی،،،،،،،،،
دو منٹ میں وہ برگر ختم کر چکی تھی فارس کبھی اس کی طرف دیکھتا اور کبھی پلیٹ کی طرف ایشا تو یوں کھا رہی تھی جیسے یہ اس کی زندگی کا آخری کھانا ہو،،،،،،،،،
چکن تکہ نکال کر وہ کبھی کیچپ اور کبھی رائتے ہیں ڈِپ کرتی،،،،،،، فارس نے بازو باندھے نظریں ابھی بھی اسی پر تھیں وہ اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے وہ دنیا کا آٹھوان عجوبہ ہو،،،،،،،،
چکن تکہ ہاف کھانے کے بعد جب ایشا کو لگا اس میں صرف آئس کریم کی گنجائش باقی ہے اس نے پلیٹ کھسکا کر آئس کریم کا باکس اپنی طرف کھینچا،،،،،،،،،
مینگو اور چاکلیٹ مکس آئس کریم دیکھ کر اس کی بتسی نکلی اور سپون اٹھاتی ہوئی مزے سے کھانے لگی،،،،،،،،
یہ تو بہت ہی مزے کی ہے،،،،،،، زمین پر پاؤں چلاتی وہ سپون پہ سپون منہ میں رکھے جا رہی تھی
فارس نے اسے حیرت سے دیکھا اگر صرف آئس کریم مزے کی تھی تو باقی سب جو وہ اپنے پیٹ میں ڈال چکی تھی وہ کیا تھا،،،،،،،،،
آئس کریم کا باکس ختم کر کے اس نے مال گدام نیچے کرنے کے لیے کوک کی بوتل ختم کی،،،،،،،،،
اب وہ اپنے ہیوی پیٹ کو پکرتی ہوئی فارغ ہوئی،،،،،،،،
وہ انگلیوں پر کچھ گننے لگی فارس کو لگا شاید ابھی کچھ کھانے والا رہ گیا ہے،،،،،،،،،،
آپ کو پتہ پورے تین مہینے بعد میں نے یہ سب کچھ کھایا ہے ماما تو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتی اور پاپا کہتے ہیں کہ نہیں میرا بچہ سٹمیک خراب ہو جائے گا،،،،،،،،، وہ بھاری آواز نکالتی ہوئی آحل کی پیروڈی کر گئی
فارس سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا آخر وہ چیز کیا تھی اسے یہی نہیں سمجھ میں آرہا تھا،،،،،،،،
اچھا وہ سوپر مین انکل مولوی انکل نہیں آئے،،،،،،،،
مولوی لیکن کس لیے،،،،،،،، وہ حیران ہوا
میرے اور آپ کے نکاح کے لیے اور کس لیے،،،،،،،،،، اس نے آنکھیں موٹی کرتے ہوئے اسے دیکھا
واٹ یہ کیا کہہ رہی ہو،،،،،،،،، فارس پر حیرت کا زلزلہ نازل ہوا
اور کیا مجھے تو کب سے ویٹ تھا کہ مجھے کوئی کڈنیپ کرے اور پھر میری شادی ہو،،،،،،،،،، اس نے بتیسی نکالی
ایک بات بتاؤ،،،،،،، فارس نے چیئر کی ٹیک چھوڑی
جی جی پوچھیں،،،،،، اس نے انگلی سے چشمہ اوپر کیا
تم ٹھیک ہو یا کوئی پرابلم ہے بچپن سے،،،،،،،، اس نے تجسس سے پوچھا
کیا مطلب کونسی پرابلم،،،،،،،،
کوئی مینٹلی پرابلم،،،،،،،
آپ کو میں میڈ لگتی ہوں،،،،،،، اس نے کمر پہ دونوں ہاتھ رکھے
نہیں بس شک ہوا،،،،،،،
شک بھی کیوں ہوا میں میڈ نہیں ہوں میری ویر پھو ہیں نا مجھے بس ان کے جیسا بننا ہے ویر پھو ایسی ڈریسنگ کرتی تھی اس لیے میں نے بھی کی ویر پھو کو بلال انکل نے کڈنیپ کیا تھا اور ان سے نکاح کر لیا تھا اب آپ نے مجھے کڈنیپ کروایا ہے آپ کو مجھ سے نکاح کرنا ہو گا بس،،،،،،،،، اس نے فارس کو گھورا وہ اس کی اس حرکت پر آنکھیں کھولے رہ گیا
دیکھ کیا رہے ہیں مولوی کو بلوائیں،،،،،،،
اچھااا تو تمہیں مجھ سے نکاح کرنا ہے،،،،،،،، اس نے اچھا کو کھینچا
ارے نہیں آپ کو مجھ سے نکاح کرنا ہے،،،،،،، اس نے ماتھے پہ ہاتھ رکھا
اور میں کیوں کروں،،،،،،،
افففف کیوں کہ آپ نے مجھے کڈنیپ کروایا ہے،،،،،،،،
تو تمہیں کوئی بھی کڈنیپ کر لیتا اور تم اس سے نکاح کر لیتی،،،،،،،، اس نے حیرت سے پوچھا
امممم ہاں،،،،،،، ایشا کی اس تسلی پر فارس کا جی چاہا وہ دیوار میں سر مار دے
ذیادہ سوال جواب نہیں کریں سوپر مین انکل مولوی کو بلوائیں میں نے شام کو گھر بھی جانا ہے جیسے ویر پھو شام کو گھر آگئی تھیں،،،،،،،
یہ ویر پھو کون ہے،،،،،،،، فارس کو تجسس ہوا آخر جس کے نقشِ قدم پر وہ چل رہی تھی اس کے بارے میں کچھ معلوم تو ہو
لو آپ کو ویر پھو کا نہیں پتہ اوکے میں بتاتی ہوں ویر پھو میری پھوپھو ہیں ان کا نام ہے ماہاویرا،،،،،،،،،
فارس کا دل کیا اس کے بس میں کسی کو عقل دینا ہوتا وہ وہ اس عجوبے کو دیتا،،،،،،،،
اچھا ایک تو تم مجھے انکل کہتی ہو اوپر سے نکاح بھی کرنا چاہتی ہو انکل سے کیسے کرو گی،،،،،،،،
ہاں ویسے ہو تو آپ انکل ہی،،،،،،،، ایشا نے منہ بسورتے ہوئے اسے غور سے دیکھا
لیکن ہینڈسم ہو میں کام چلا لوں گی،،،،،،،،
فارس کی آنکھیں پھیلیں وہ میر فارس سے کام چلانے کا کہہ رہی تھی،،،،،،،،
تم جانتی ہو میں کون ہوں،،،،،،،، وہ سنجیدہ ہوا
نہیں،،،،،، ایشا نے کندھے اچکائے
پھر بھی مجھ سے نکاح کرنا چاہتی ہو،،،،،،
ہاں کیوں کہ ویر پھو بھی بلال انکل کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھیں،،،،،،،،
اس ما جواب سن کر فارس کا دل کیا وہ کھلے میدان میں چینخیں مارتا ہوا بھاگے،،،،،،،،،،
اٹھو تمہیں میرا ڈرائیور تمہارے گھر کے پاس چھوڑ آئے گا پھر گھر چلی جانا،،،،،،،،، وہ کھڑا ہوا
میں نہیں جاؤں گی،،،،،،، ایشا کو فکر ہونے لگی کہ اس کا پلین چوپٹ ہونے والا ہے
بےوقوف مت بنو تم مجھے نہیں جانتی میں تمہیں نہیں جانتا نکاح ایسے ہی کر لیں کیا،،،،،،،،
نکاح کرنے کے لیے جاننے کی ضرورت تھوڑی ہوتی ہے وہ جان لیں گے شادی کے بعد،،،،،،،،، اس نے بتیسی نکالی
تمہیں یہ مذاق لگتا ہے،،،،،،،وہ اس کے قریب آیا اس کی کرسی کو کھینچ کر دونوں بازو آس پاس رکھے
ن۔۔۔نہیں،،،،،،،، وہ بلکل اس کے قریب تھا ایشا کی زبان خودبہ خود لڑکھڑا گئی
تم گھر چل رہی ہو ابھی اسی وقت،،،،،،،،، وہ اس کی آنکھیں میں دیکھ رہا تھا جو اسے اپنی طرف مائل کر رہی تھیں
میں نہیں جاوں گی مجھے آپ سے شادی کرنی ہے،،،،،،،، وہ ضدی بنی
فارس کو پہلی بار کوئی لڑکی پرپوز کر رہی تھی وہ بھی بار بار،،،،،،،،،
وہ خود پر کنٹرول کرتا کھڑا ہوا اور اس کا نازک ہاتھ پکڑا،،،،،،،،،
سوپر مین انکل مجھے گھر نہیں جانا ہے مجھے آپ سے شادی کرنی ہے،،،،،،،، وہ دروازے کی طرف چل رہا تھا
تمہارے گھر والے کتنے پریشان ہوں گے اس بات کی تمہیں ذرا بھی پرواہ نہیں ہے،،،،،،،، اس نے تیوری چڑھائی
ہاں نا ہے فکر اسی لیے تو کہہ رہی ہوں مجھ سے نکاح کر لیں شام کو گھر چلی جاوں گی،،،،،،،،، وہ اس سے ذرا سی خوفزدہ ہوئی
شام کو تمہیں شاید معلوم نہیں رات ہو چکی ہے،،،،،،،،،، اس نے دروازہ کھولا باہر اندھیرا دیکھ کر ایشا کے طوطے اڑے
رات ہو بھی گئی،،،،،،، وہ آنکھیں موٹی کرتی ہوئی آسمان کی طرف دیکھنے لگی
جی ہاں اور اب رات یہاں رکنا تمہارے لیے مناسب نہیں چپ چاپ گاڑی میں بیٹھو میں خود تمہیں چھوڑ کر آؤں گا،،،،،،،،
نہیں جب تک مجھ سے شادی نہیں کر لیتے میں نہیں جاؤں گی،،،،،،،، وہ ہاتھ چھڑواتی ہوئی گھر کے اندرونی حصے کی جانب بھاگی
ایشا،،،،،، فارس کی آواز سننے پر بھی وہ نہیں رکی
