Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan (Episode 08)

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

ذوہا یونیورسٹی آئی تو ارحام وہیں سیڑھیوں پر بیٹھا بک ریڈ کرنے میں مصروف تھا،،،

اس کا دل تو کیا وہ اس کے پاس جائے اس سے بات کرے لیکن وہ جانتی تھی ارحام اس سے بات نہیں کرے گا اسی لیے خاموشی سے آگے بڑھ گئی،،،

ارحام نے اچانک اوپر دیکھا تو لیزہ بلیک پینٹ کے ساتھ ریڈ شرٹ پہنے جو اس کے گھٹنوں تک آتی تھی، ساتھ بلیک ہائی ہیل پہنے آرہی تھی، اس کے کھلے بال لہراتے ہوئے اس کے رخساروں کو چوم رہے تھے موٹی نیلی آنکھیں جنہیں دیکھتے ہی ارحام نے فوراً اس سے نظر ہٹائی،،،

اس نے جب ارحام کو دیکھا تو تنزیہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئی،،،

ہما بھی یونی پہنچ چکی تھی وہ تینوں چئیرز پر بیٹھی سٹڈی کے متعلق باتیں کر رہی تھیں لیکن ذوہا بار بار موبائل کی طرف دیکھ رہی تھی،،،

کیا ہوا ذوہا کسی کے میسیج یا کال کا ویٹ کر رہی ہو کیا،،، ہما نے چھیڑتے ہوئے کہا

نہیں یار تمہیں معلوم تو ہے آئم پیور سنگل،،، ذوہا نے کہا تو ہما ہنسنے لگی

تو کیوں دیکھ رہی ہو بار بار موبائل کی طرف کہیں جانا ہے کیا،،، لیزہ بولی

بس ایسے ہی دیکھ رہی ہوں تم دونوں تو پیچھے ہی پڑ گئی ہو،،، ذوہا نے آنکھیں گھمائیں

اچھا بابا نہیں کہتے کچھ اب خوش،،، ہما نے کہا اور ذوہا مسکرانے لگی

فرسٹ لیکچر کا جیسے ہی ٹائم ہوا وہ تینوں اٹھ کر کلاس روم کی طرف بڑھیں جیسے ہی دروازے تک پہنچیں ذوہا الٹے قدموں واپس مڑی،،،

لیزہ اور ہما جب چئیرز پر بیٹھیں تو انہوں نے دیکھا کہ ذوہا ان کے ساتھ نہیں ہے،،،

ہما ذوہا کہاں چلی گئی،،، لیزہ نے حیرت سے پوچھا

پتہ نہیں یار کچھ کھوئی کھوئی لگ رہی ہے وہ آج،،،

چلو اسے دیکھ کر آتے ہیں کہاں گئی ہے وہ،،، لیزہ کھڑی ہوئی

نہیں میم آنے والی ہیں لیکچر کا ٹائم ہو گیا ہے،،، ہما نے کہا

ہما ابھی اٹھو اور ساتھ چلو میرے،،، لیزہ کے اسرار پر ہما کھڑی ہوئی اور وہ دونوں کلاس روم سے باہر نکل گئیں

اب اسے کہاں ڈھونڈیں گے مجھے تو کہیں نظر نہیں آرہی،،، ہما نے دور دور تک نظر گھماتے ہوئے کہا

وہ رہی،،، لیزہ نے ذوہا کی پشت دیکھی وہ کیمسٹری بلاک کی طرف جا رہی تھی

یہ ذوہا کیمسٹری بلاک کی طرف کیوں جا رہی ہے ہما جلدی چلو میرے ساتھ،،، لیزہ کو اتنا معلوم تھا کہ کیمسٹری بلاک میں سوائے ارحام کے ان کے جاننے والا کوئی نہیں ہے

کیمسٹری بلاک میں تو صرف ارحام ہی ہے جسے ہم جانتے ہیں تو کیا ذوہا ارحام سے ملنے جا رہی ہے،،، ہما نے لیزہ کے ساتھ تیز تیز چلتے ہوئے کہا

ابھی بس جلدی چلو مجھے دیکھنا ہے یہ میڈم کیا کرنے والی ہے،،، لیزہ کی چھٹی حس کچھ غلط ہونے کا بتا رہی تھی

جیسے ہی وہ ارحام کے کلاس روم والی گیلری میں داخل ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ ذوہا ارحام کی کلاس میں داخل ہو گئی ہے،،،

یہ کیا کلاس روم میں تو لیکچر ہو رہا ہے اور ذوہا کلاس روم میں کیوں گئی وہ بھی ارحام کے،،، ہما نے حیرت سے کہا

ونڈو کے پاس چلو،،، لیزہ ونڈو کی طرف بڑھی اور ہما بھی اس کے پیچھے چل دی

اب انہیں کلاس کے اندر والا تمام منظر اچھے سے نظر آرہا تھا،،،

سر مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے،،، ذوہا کی آواز سن کر ارحام نے اپنی جھکی نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا

اب کونسا حساب باقی رہ گیا ہے جسے پورا کرنے اب تمہیں بھیجا گیا ہے،،، ارحام نے دل میں کہا

جی کہیے،،، سر اطہر نے کہا

اہم اہم۔۔۔ سر ایک دن پہلے ایک لڑکی آپ کی کلاس میں آئی تھی،،، وہ بات کرتے ہوئے ہچکچا رہی تھی

کون سی لڑکی،،، سر نے کہا

جس نے ارحام پر موبائل چرانے کا الزام لگایا تھا،،،

ذوہا کی بات سن کر حیرت سے لیزہ اور ہما کا منہ کھلا

سر نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا،،،

سر ایکچولی میں آپ کو اور پوری کلاس کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ ارحام بے قصور ہے اور اس دن ارحام کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ میں نے کروایا تھا،،،

وہ ایک ہی بار میں کہہ گئی تھی ارحام کو یقین نہیں آرہا تھا وہ اس کے لیے سارا الزام اپنے سر لے گئی کیوں کہ یہ کوئی چھوٹی بات نہ تھی اس میں رسوائی تھی اور بھی عزت کی اور ذوہا ایک لڑکی تھی،،،

او مائے گاڈ ذوہا یہ کیا کہہ رہی ہے،،، بے ساختہ ہما کے منہ سے نکلا

ادھر لیزہ غصے سے مٹھیاں بھینچ رہی تھی اسے اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہا تھا ذوہا نے ایسا کیسے کر دیا اس کی دوستی کو ٹھکرا کر اس نے اسے چھوڑ کر ارحام کے بارے میں سوچا،،،

نام کیا ہے آپ کا،،، سر اطہر کے چہرے سے غصہ صاف طور پر واضح ہو رہا تھا

ذوہا،،،

پورا نام بتائیں،،،

ذ۔۔۔ذوہا الیاس،،، اب اس کے چہرے پر تھوڑا ڈر تھا جسے ارحام واضح طور پر محسوس کر سکتا تھا

تو ذوہا الیاس آپ جانتی ہیں آپ نے کس قدر گھٹیا حرکت کی ہے آپ نے ایک شریف اور نہایت اچھے انسان پر ایسا الزام لگایا کہ وہ کسی سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہا،،، ان کے لہجے میں غصہ واضح تھا ذوہا نے ارحام کی طرف دیکھا پھر نظریں جھا گئی

میں آپ کو آپ کی اس حرکت کی وجہ سے یونیورسٹی سے نکلوا سکتا ہوں آپ کو اندازہ ہے اس بات کا،،،

آ۔۔آئم سوری سر،،، وہ نظریں جھکائے بولی

سوری مجھ سے نہیں ارحام سے کریں جسے آپ جیسی لڑکی کی گھٹیا حرکت کی وجہ سے اتنا اِمبیرس ہونا پڑا،،،

ذوہا نے ارحام کی طرف دیکھا وہ بھی اسی کی طرف دیکھ رہا تھا اس کی نظروں میں حیرت تھی وہ واقع ہی لیزہ کے ساتھ شامل نہیں تھی اسے اب یقین ہوا تھا لیکن وہ سارا الزام اپنے سر کیوں لے رہی ہے اس بات کی ارحام کو سمجھ نہیں آرہی تھی،،،

آئم سوری ارحام پلیز مجھے معاف کر دو،،،

ذوہا کے یوں کہنے پر لیزہ کا غصے سے چہرہ سرخ ہوا اس کا کامیاب پلین ذوہا نے ناکام کر دیا تھا،،،

آٹس اوکے مجھے آپ سے کوئی شکوہ نہیں،،، ارحام نے کہا اور سبھی سٹوڈنٹس حیرت سے اسے دیکھنے لگے

سر اطہر کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا ارحام نے اتنی آسانی سے اسے معاف کر دیا تھا لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے ارحام کسی کو شرمندہ نہیں کر سکتا،،،

عزت دینا اور عزت لینا سیکھیں اب آپ جا سکتی ہیں،،، سر کی آواز پر ذوہا کلاس روم سے باہر نکل آئی،،،

جیسے ہی اس کی نظر لیزہ پر پڑی وہ تھوڑی پریشان ہوئی،،،

لیزہ پاؤں پٹختی ہوئی وہاں سے نکل گئی اور ہما وہیں کھڑی رہی ذوہا اس کے پاس آئی،،،

ذوہا تم نے یہ کیا کیا سارا الزام اپنے سر لے لیا لیکن کیوں کس کے لیے،،، وہ حیرت سے بولی تھی

ارحام کے لیے،،، ذوہا نے کہا

کیا لیکن کیوں ذوہا آخر وہ کل کا آیا لڑکا جسے تم جانتی بھی نہیں تمہاری بچپن کی دوست لیزہ سے بڑھ کر کیسے ہو گیا،،،

اس کے ساتھ غلط کیا گیا ہما اور یہ تم بھی جانتی ہو، وہ تو اتنا سادہ لڑکا ہے کہ اس کی اس پوری یونیورسٹی میں ایک بھی لڑکی دوست نہیں ہے لیزہ کو اگر اس سے بدلا لینا ہے تھا تو کسی اور طریقے سے لیتی،،،

محض اس پر پانی گرانے کی اتنی بڑی سزا دی لیزہ نے اسے کہ اسے سب کے سامنے رسوا کر دیا اس کے کردار پر کیچڑ اچھالا کیا ہمارے ماں باپ ہمارے ٹیچرز نے آج تک یہی سیکھایا ہے ہمیں،،،

تم اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کا ساتھ دے سکتی ہو لیکن میں نہیں اگر لیزہ نے اب ارحام کے ساتھ کچھ غلط کیا تو میں وہ الزام بھی اپنے سر لوں گی وہ جتنی بار ارحام کے ساتھ جو جو کرے گی سارے الزام میں خود پر لوں گی لیکن ارحام جیسے معصوم لڑکے کو رسوا نہیں ہونے دوں گی،،، وہ بول رہی تھی اور ہما آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہی تھی

ذوہا کو اپنے پیچھے کسی نفس کے ہونے کا احساس ہوا اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ارحام اسی کی طرف دیکھ رہا تھا،،،

وہ ایک دم سے گھبرا گئی یعنی اس کے ساری باتیں وہ سن چکا تھا،،،

فری ہونے کے بعد آنا،،، ہما نے کہا اور وہاں سے چل دی کیوں کہ وہ جانتی تھی ارحام اس سے بات کرنے آیا ہے

🔥
🔥
🔥

الائیہ فریش ہو کر لان میں گھوم رہی تھی آج موسم کافی پیارا تھا دھوپ بھی نہیں نکلی تھی آریان گھر کے اندرونی دروازے سے باہر آیا تو الائیہ کو ٹہلتے ہوئے دیکھا،،،

کیا کر رہی ہو،،، وہ اس کے پاس آکر بولا

کچھ نہیں بس چہل قدمی کر رہی ہوں،،، الائیہ نے رخ اس کی طرف کیا

آریان نے اسے اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا کیوں کہ الائیہ اسی ڈریس اور سینڈل میں ملبوس تھی جو آریان نے اسے گفٹ دیا تھا،،،

لگتا ہے الرجی کا اثر ختم ہو گیا ہے،،، وہ مسکراتے ہوئے بولا تو الائیہ بھی مسکرانے لگی

ہاں دھلوا لیا ہے میں نے،،، الائیہ کی بات پر آریان نے ہنسی دبائی

تمہیں پاکستانی ڈریسنگ پسند آئی ہے تو بتاؤ تمہیں شاپنگ کرنے لے جاتا ہوں،،،

نہیں اس کی ضرورت نہیں،،،

ضرورت کیوں نہیں ہے مجھے نہیں لگتا کہ تم جلدی میری جان چھوڑنے والی ہو اس لیے مان جاؤ کر لو شاپنگ،،، آریان کی بات پر الائیہ نے آنکھیں بڑی کرتے ہوئے اسے دیکھا

کیا مطلب ہے تمہارا جان نہیں چھوڑنے والی،،،

ہاں صحیح تو کہہ رہا ہوں جب سے آئی ہو پورے گھر میں فارغ ٹہلتی ہو پتہ نہیں کونسا ٹارگٹ دیا ہے انکل نے تمہیں جو فارغ رہ کر پورا کرنا ہے،،، آریان نے دانتوں تلے لب دبایا

جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے میں بس صحیح وقت کے انتظار میں ہوں،،،

اور یہ صحیح وقت کب آئے گا،،، آریان نے اس کی طرف گہری نظروں سے دیکھا

تمہیں بہت جلدی ہے نا مجھے یہاں سے نکالنے کی فکر مت کرو چلی جاوں گی جلد ہی،،، وہ منہ بسورتے ہوئے وہاں سے جانے لگی جب آریان نے اس کا ہاتھ پکڑا

کہیں اور کا تو معلوم نہیں لیکن فلحال تم میرے ساتھ شاپنگ پر جا رہی ہو،،،

وہ اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھا،،،

ارے لیکن مجھے نہیں جانا کیا زبردستی ہے،،، اس کا موڈ مکمل طور پر خراب ہو چکا تھا

آریان نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے اندر بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا،،،

انہیں دیکھ کر واچ مین نے گیٹ کھولا اور وہ گاڑی سٹارٹ کر کے باہر نکل گیا،،،

اب آریان ڈرائیو کر رہا تھا اور الائیہ منہ بنائے بیٹھی تھی،،،

کیا ہو گیا ہے مذاق کر رہا تھا،،،

مجھے تم سے کوئی غرض نہیں مجھ سے بات مت کرو،،، وہ شیشے سے باہر دیکھتی ہوئی بولی

مجھ سے غرض نہیں تو اور کس سے ہے،،، آریان کے لہجے میں شوخ پن واضح تھا

آریان مجھ سے بات مت کرو اور تم یہ زبردستی مجھے شاپنگ پر لے جا رہے ہو مجھے نہیں جانا،،،

الائیہ تم میرے ساتھ جا رہی ہو اور اپنا موڈ ٹھیک کرو ورنہ۔۔۔۔

ورنہ کیا کر لو گے نہیں کرتی میں موڈ ٹھیک،،، اس نے آریان کی بات کو کاٹ کر جواب دیا

آریان نے آس پاس دیکھا اور ایک سائیڈ ٹرن لیتے ہوئے جہاں سے گاڑیوں کا گزر نہیں تھا گاڑی کر بریک لگائی،،،

ایک موسم آج بہت پیارا ہو رہا تھا دوسرا گھنے درخت کی چھاؤں تلے اس نے گاڑی روکی تھی،،،

الائیہ نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا،،،

ورنہ بتاؤں میں کیا کر لوں گا،،، آریان بھی اسی کی طرف دیکھ رہا تھا

بتاؤ کیا کر لو گے تم میرے ساتھ زور زبردستی۔۔۔

وہ ابھی بول ہی رہی تھی جب آریان نے اس کے سر میں بالوں میں ہاتھ ڈال کر اسے خود کے قریب کیا،،،

لائیہ کی زبان کو بریک لگی تھی وہ آریان کے بلکل قریب تھی اتنا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی سانسیں خود پر محسوس کر رہے تھے،،،

میرے ساتھ شاپنگ پر چل رہی ہو یا نہیں،،، آریان نے اس کے ہونٹوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

الائیہ کے ہونٹ خشک ہونے لگے جنہیں اس نے زبان پھیر کر تر کیا،،،

بتاو،،، اس نے نرمی سے الائیہ کی تھوڑی کو پکڑ کر اس کے ہونٹوں کو عین نشانے پر کیا،،،

الائیہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا اسے لگا اس کا دل ابھی اچھل کر باہر آجائے گا

چ۔۔چل رہی ہوں،،، اس نے سختی سے آنکھیں میچ کر کہا

گڈ گرل،،، آریان نے اس کے ہونٹوں پر پھونک مار کر کہا

جیسے ہی آریان نے اس کے بالوں سے انگلیاں نکالیں الائیہ فوراً سے کھڑکی کے ساتھ لگی اور تیز تیز سانس لینے لگی،،،

آریان نے کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ رونما ہوئی اس نے سن گلاسز لگاتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی

🔥
🔥
🔥

نمرہ تم نے اس انکل کو دیکھا تھا جس نے مجھے ڈوبنے سے بچایا تھا،،، ایشا کالج کے کلاس روم میں بیٹھی نمرہ سے باتیں کر رہی تھی

ہاں دیکھا تھا خیر انکل تو نہیں تھا وہ،،، نمرہ نے آنکھیں گھمائیں

اچھا مجھے تو انکل ہی لگا تھا وہ میرے گلاسز پانی میں گم ہو گئے تھے شاید اسی وجہ سے میں اسے ٹھیک سے دیکھ نہیں پائی اور وہ مجھے انکل لگا،،، وہ تھوڑی پر انگلی رکھتے ہوئے سوچ کر بولی

اچھا چھوڑو تمہیں اس سے کیا لینا دینا،،،

لیکن اس نے میری ہیلپ کی اور میں اسے تھیکنس بھی نہیں بول پائی اس لیے مجھے بہت گلٹی فیل ہو رہا ہے،،،

تمہیں گلٹی فیل کرنے کی ضرورت نہیں تب سچوایشن ہی کچھ ایسی تھی ویسے بھی وہ تمہیں پانی سے نکالنے کے فوراً بعد چلا گیا تھا،،، نمرہ نے کہا

پھر بھی مجھے اچھا نہیں لگ رہا پاپا کہتے ہیں کہ جب آپ کی کوئی ہیلپ کرے تو اسے تھینکس بولنا چاہیے یا پھر گفٹ دینا چاہیے،،، اس نے انگلی سے چشمے کو دھکیلا

افففو اب تم ایسا کرو اپنے پاپا سے کہو تمہیں کراچی لے جائے پھر اسے تھینکس بھی کہہ دینا اور گفٹ بھی دے دینا،،، نمرہ اس کی باتوں سے تنگ آچکی تھی

ہاں ویسے یہ آئیڈیا برا نہیں ہے،،، ایشا نے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے کہا اور نمرہ نے اپنا ماتھا پیٹا

🔥
🔥
🔥

آپ کو میری وجہ سے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا مجھے بلکل اچھا نہیں لگا،،، ارحام اور ذوہا سیڑھیوں پر بیٹھے تھے جب ارحام نے اسے کہا

لیکن تمہارے ساتھ بہت غلط ہوا مجھے یہ بات چین نہیں لینے دے رہی تھی،،، ذوہا نے اس کی طرف دیکھ کر کہا جو نظریں جھکائے بیٹھا تھا

آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں آپ ایک لڑکی ہیں اور لڑکی کو اپنی عزت کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے آپ نے کلاس میں جو کچھ کہا اس سے سب کی نظروں میں آپ کا امیج خراب ہو چکا ہے،،، ارحام کو واقع ہی اچھا نہیں لگا تھا اس طرح سٹوڈنس ذوہا کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بناتے

ارحام مجھے لوگوں کی پرواہ نہیں ہے مجھے تمہاری پرواہ ہے،،، ذوہا کی بات سن کر ارحام نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا

لیکن ایسا کیوں،،، اس نے پوچھنا لازم سمجھا

کیوں کہ تم بہت اچھے انسان ہو ارحام میں دل سے تمہاری عزت کرتی ہوں،،،

کون کیسا ہے یہاں کسی کو کیا معلوم،،، ارحام نے کہا

لیکن میرا دل کہتا ہے تم جیسے اوپر سے ہو ویسے ہی اندر سے ہو اور یقین مانو میرا دل کبھی غلط نہیں کہتا،،، وہ اس کی طرف دیکھ کر بولی

پاگل ہو،،، ارحام کے ہونٹوں پر ہلکی سی پرکشش مسکراہٹ رونما ہوئی

واؤ اتنی ڈیولِش سمائل ہے تمہاری تم ہنستے کیوں نہیں ہو،،، اس کی بات سن کر ارحام کو معلوم ہوا کہ وہ ابھی ابھی مسکرایا ہے فوراً سمائل اس کے ہونٹوں سے غائب ہوئی

پلیز ارحام ڈونٹ بی سیرئیس تم واقع ہی سمائل کرتے ہوئے بہت اچھے لگتے ہو،،،

تھینکس،،، وہ بس اتنا ہی بولا

ارحام کین وی بی فرینڈز،،، ذوہا نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا

ارحام حیرت سے اس کے ہاتھ کی طرف کبھی اس کی طرف دیکھ رہا تھا،،،

پلیز ارحام انکار مت کرنا میں نے لائف میں پہلی بار کسی کو خاص طور پر لڑلے کو فرینڈشپ کی آفر کی ہے،،، ارحام کے تاثرات دیکھ کر اسے خدشہ ہوا کہ وہ انکار کر دے گا

ارحام نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس کے ہاتھ کو تھام لیا،،،

او مائے گاڈ تھینک یو سو مچ،،، وہ انتہا کی خوش ہوئی تھی اس کی خوشی دیکھ کر ارحام پھر سے مسکرانے لگا

اب آپ آپ کہہ کر نہ بلانا مجھے اوکے اب ہم فرینڈز ہیں،،، ذوہا نے ہنستے ہوئے کہا

دور کھڑی لیزہ اور ہما یہ سارا منظر دیکھ رہی تھیں لیزہ کی نیلی آنکھوں میں لالگی اترنے لگی،،،

🔥
🔥
🔥

آریان نے الائیہ کو خوب شاپنگ کروانے کے بعد ریسٹورنٹ میں ڈنر کروایا شاپنگ کرتے کرتے انہیں ٹائم کا اندازہ ہی نہیں ہوا تھا،،،

وہ رات آٹھ بجے گھر پہنچے ماہاویرا اور بلال لاؤنج میں بیٹھے تھے،،،

کہاں تھے تم دونوں،،، ماہاویرا نے پوچھا

وہ ماما الائیہ کو شاپنگ کروانے کے لیے لے گیا تھا،،، ان دونوں نے سارے شاپنگ بیگز ٹیبل پر رکھے

یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ تم دونوں کی فرینڈشپ ہو گئی ہے ویسے الائیہ تم لکی ہو ورنہ آریان کسی سے جلدی فرینڈشپ نہیں کرتا،،، بلال نے کہا

آریان نے شوخ نظروں سے الائیہ کی طرف دیکھا جنہیں ماہاویرا نے نوٹ کیا،،،

ڈنر لگواؤں تم دونوں کے لیے،،، ماہاویرا نے پوچھا

نہیں موم ہم ڈنر کر آئے ہیں اب بس ریسٹ کرنا ہے بہت تھکاوٹ ہو گئی ہے،،، وہ تھکن کے احساس سے اپنی گردن کو دونوں سائیڈ پر موڑنے لگا

ٹھیک ہے تم دونوں ریسٹ کرو،،،

گڈ نائٹ موم ڈیڈ،،، آریان سیڑھیوں کی طرف چلنے لگا

گڈ نائٹ آنٹ انکل،،، الائیہ بھی بیگز اٹھا کر سیڑھیوں کی طرف چلنے لگی

🔥
🔥
🔥

گڑیا،،،

فارس نے ایرہ کو پکارا جو رات کے وقت لان میں کھڑی چاند کو کھوئی کھوئی سی دیکھ رہی تھی،،،

جی بھائی،،، ایرہ نے رخ اس کی طرف کیا

میری گڑیا کیا کر رہی ہے،،،

کچھ نہیں بھائی بس ایسے ہی چاند کو دیکھ رہی تھی،،،

اچھا اور اس چاند میں ایسی کیا خاص بات ہے جو میری گڑیا اتنے شوق سے دیکھ رہی ہے،،، وہ چئیر پر بیٹھا اور ساتھ ایرہ کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا

چاند خوبصورت ہوتا ہے،،، ایرہ نے کہا

اور،،، فارس نے پوچھا

اور سب کو روشنی دیتا ہے،،،

اور اگر چاند بادلوں میں چھپ جائے تو،،، فارس نے پوچھا

مجھے بادلوں میں چھپا چاند بلکل نہیں پسند چاند ہمیشہ چمکتا ہوا اچھا لگتا ہے،،،

اور اسی چاند کی طرح مجھے میری گڑیا اداسی میں گھری ہوئی نہیں بلکہ ہمیشہ ہنستی مسکراتی ہوئی اچھی لگتی ہے،،، فارس نے مسکراتے ہوئے کہا اس کی بات پر ایرہ بھی مسکرانے لگی

تمہیں ایک ضروری بات بتانی تھی ہم کل صبح اسلام آباد کے لیے نکل رہے ہیں،،،

کیا بھائی اسلام آباد اور وہ بھی یوں اچانک،،، ایرہ حیران ہوئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *