Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 09)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 09)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
ہاں اسلام آباد میں کام کے سلسلے میں جانا ہے اس لیے ایک ماہ تک وہیں رہنا ہو گا،،،
ٹھیک ہے بھائی کل کتنے بجے ہم نکل رہے ہیں،،، ایرہ نے پوچھا
شام چھ بجے نکلیں گے،،، فارس نے بتایا
میں تیار رہوں گی،،، ایرہ نے سمائل پاس کی
خوش رہو،،، فارس نے کھڑے ہو کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا
جلدی اندر آجانا،،، وہ جاتا ہوا بولا
جی بھائی آرہی ہوں،،، ایرہ جواب دے کر پھر سے چاند کو دیکھنے لگی



الارم کی آواز سے ماہاویرا کی آنکھ کھلی الارم آف کر کے وہ اٹھنے لگی جب بلال نے پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا اور ماہاویرا کا سر اس کے سینے پر ٹکا،،،
بلال،،، ماہاویرا نے حیرت سے اسے پکارا
ہممممم،،، وہ نیند سے چور آواز میں بولا
چھوڑو مجھے،،،
کہاں جارہی ہو،،، بلال کی آنکھیں ابھی تک بند تھیں
آٹھ بج گئے ہیں فریش ہو کر نیچے جانا ہے ناشتہ ٹیبل پر لگوانا ہے آپ کو تو معلوم ہی ہے آج کل کی ملازماؤں سے کہہ کر ٹھیک سے کام کروانا پڑتا ہے،،،
فلحال تم کہیں نہیں جا رہی،،، بلال نے اسے سیدھا کر کے اس کی گردن میں چہرہ چھپایا
اففف بلال کبھی تو میری بھی مان کیا کرو ایک تو رات کو بھی آپ کی من مانی اور اب دن کو بھی،،، اس نے شکوہ کیا
میں کون ہوتا ہوں من مانی کرنے والا مائے وائف،،،
تو پھر چھوڑیں مجھے جانے دیں،،،
اچھا پہلے ایک مارننگ کس دو،،،
بلکل نہیں جب ہم دونوں فریش ہو جائیں گے تب دے دوں گی کس بھی ابھی چھوڑیں مجھے میں لیٹ ہو گئی تو بچے کیا سوچیں گے،،،
سوچنا کیا یہی کہ رات کو ہسبینڈ نے سونے نہیں دیا،،، بلال کی بے باکی پر ماہاویرا نے ماتھا پیٹا
آپ سے تو اس ٹاپک پر بات کرنا ہی فضول ہے ایسے ایسے جواب گھڑ کر رکھے ہوتے ہیں کہ میں لا جواب ہو جاتی ہوں،،،
اچھا بابا جاؤ میں تو سو رہا ہوں،،، وہ اسے آزاد کر کے کمفرٹر اوڑھ گیا
ماہاویرا شکر ادا کرتی ہوئی اٹھی اور واش روم گھس گئی،،،



ہما مجھے یقین نہیں آرہا ذوہا نے مجھے دھوکہ دیا مجھے ٹھکرا کے اس نے اس ارحام کے ساتھ فرینڈشپ کر لی،،، نیسکٹ ڈے یونی آکر لیزہ ہما سے کہہ رہی تھی
یقین تو مجھے بھی نہیں آرہا وہ تو ارحام کے آگے ایسے ڈھال بن رہی ہے جیسے بچپن سے اسے جانتی ہو،،، ہما نے افسوس سے کہا
وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے اسے میری اتنے سالوں کی فرینڈشپ یاد نہیں آئی اس نے ایک بار نہیں سوچا کہ میرے دل پہ کیا گزرے گی،،، لیزہ کا گلا رندھ چکا تھا
لیزہ تم پلیز ٹینس مت لو کرنے دو اسے جو کرتی ہے،،، ہما نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
ذوہا نے بہت غلط کیا ہے اب اگر وہ ایسا چاہتی ہے تو ایسا ہی صحیح اب نہ میں اسے جانتی ہوں اور نہ ہی تم،،، لیزہ سرخ آنکھوں سے بولی
ہما کو بھی ذوہا کا لیزہ کو پیچھے کر کے ارحام کو آگے رکھنا بہت برا لگا تھا جو بھی تھا لیزہ اس کی بچپن کی دوست تھی،،،
ذوہا گاڑی ڈرائیو کرتی ہوئی یونیورسٹی آرہی تھی جب ارحام اسے راستے میں دکھائی دیا اس نے گاڑی اس کے پاس کی،،،
ارحام۔۔۔
ذوہا کی آواز پر ارحام نے اس کی طرف دیکھا،،،
یونیورسٹی ہی جارے ہو نا چلو میرے ساتھ،،، وہ ارحام کے کندھے پر بیگ دیکھ کر بولی
نہیں پاس ہی تو یونیورسٹی ہے میں چل کر ہی جاتا ہوں،،،
او ہو بیٹھ بھی جاؤ اب کیا مجھے تمہیں یاد کروانا پڑے گا کیا کہ ہم فرینڈز ہیں،،، ذوہا کی بات پر ارحام نے سر جھکایا اور دوسری طرف سے آتا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا
ذوہا نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی وائٹ پینٹ اور سکائے بلو شرٹ پہنے اس کے ہلکے گیلے بال ایک سائیڈ پر ہوتے ہوئے اس کی کن پٹی پر آرہے تھے، بڑی خوبصورت آنکھیں نکھرا ہوا رنگ وہ بہت دلکش لگ رہا تھا،،،
بڑے ڈیولِش لگ رہے ہو آج لڑکیوں کی جان لینے کا ارادہ ہے کیا،،، ذوہا نے ہنستے ہوئے کہا
نہیں ایسی کوئی بات نہیں،،، ارحام کے سرخی مائل ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری ذوہا پہلی لڑکی تھی جس کی بات پر ارحام مسکرانے لگا تھا
ویسے ایک بات کہوں ارحام،،، ذوہا کے فیس پر ابھی بھی سمائل تھی
کہو،،، ارحام نے کہا
میں نے اب دیکھے تمہارے گُلہری جیسے دانت تو بہت کیوٹ ہیں،،، ذوہا یہ بات کہہ کر ہنس دی کیوں کہ ارحام کے دانت واقع ہی بہت کیوٹ شیپ کے تھے
اس کی بات سن کر ارحام نفی میں سر ہلاتا ہوا ہنسنے لگا،،،
یونیورسٹی میں داخل ہو کر ذوہا نے گاڑی روکی وہ دونوں ہنستے ہوئے گاڑی سے باہر نکلے،،،
لیزہ اور ہما گراؤنڈ میں کھڑی تھیں جب ان کی نظر ان دونوں پر پڑی،،،
ان دونوں کو ایک ساتھ ہنستا دیکھ کر لیزہ کے دل میں آگ بھڑکی تھی،،،
ہما بھی حیرت سے ان دونوں کو دیکھنے لگی،،،
یہ تو کہتا تھا میں لڑکیوں سے فرینڈشپ نہیں کرتا اور اب دیکھو کیسے ہنس رہا ہے اسے دیکھ کر،،، ہما نے حیرت سے کہا
اس کی بات سن کر لیزہ کو مزید غصہ آیا وہ پوری قوّت کے ساتھ اپنی مٹھیوں کو بھینچنے لگی،،،
ارحام۔۔۔
وہ اپنے بلاک کی طرف مڑنے لگا جب ذوہا نے اسے پکارا،،،
ہاں کہو،،، ارحام نے اس کی طرف رخ کیا
مجھے اپنا فون نمبر تو دو کبھی میں یونی نہ آ سکوں یا کبھی تم نہ آ سکو تو ہم ایک دوسرے کی خیریت معلوم کر سکتے ہیں،،،
اوکے ڈائل کرو،،،
ارحام اسے فون نمبر بتا رہا تھا اور ذوہا ڈیجیٹس ڈائل کرنے لگی،،،
یہ کیا نمبر ایکسچینج کر رہے ہیں،،، ہما نے کہا
کرنے دو ان کو جو کرتے ہیں چلو تم یہاں سے،،، لیزہ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بلاک میں داخل ہو گئی
میں کلاس روم میں جا کر تمہیں میسیج کرتی ہوں تم میرا نمبر سیو کر لینا اوکے،،،
ٹھیک ہے،،، ارحام نے کہا اور وہ دونوں اپنے اپنے بلاک کی طرف چل دیے



آنٹ آپ کیا کر رہی ہیں،،، الائیہ کچن میں داخل ہوئی جہاں ماہاویرا کچھ بنانے کے لیے کام کر رہی تھی
بریانی بنا رہی ہوں تمہیں پسند ہے کیا،،، اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا
بہت پسند ہے،،، وہ مسکراتی ہوئی بولی
لیکن آپ خود کیوں بنا رہی ہیں میڈ سے کیوں نہیں کہا،،،
جب بھی اس گھر میں بریانی بنتی ہے تو ہمیشہ میں ہی بناتی ہوں،،، ماہاویرا نے آئل میں پیاز ڈالتے ہوئے کہا
لیکن ایسا کیوں،،، وہ حیران ہوئی
تمہارے انکل میرے سوا کسی کے ہاتھ کی بنی بریانی نہیں کھاتے،،، ماہاویرا نے مسکراتے ہوئے بتایا
ہاؤ کیوٹ آنٹ آپ دونوں کتنے پیارے ہیں اللہ ہمیشہ آپ دونوں کو ایسے ہی خوش رکھے،،،
آمین،،، ماہا نے کہا
پتہ ہے آنٹ ڈیڈ بھی ہمیشہ موم کے ہاتھ کا کھانا کھاتے تھے اور جب موم کی ڈیتھ ہوئی تو ڈیڈ نے کھانا کھانا تو بلکل ہی چھوڑ دیا تھا بہت کمزور ہو گئے تھے وہ پھر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا تو وہ اپنی روٹین میں واپس آگئے لیکن وہ موم سے آج بھی اتنا ہی پیار کرتے ہیں اور انہیں بہت مِس کرتے ہیں،،، الائیہ کے لہجے میں دکھ تھا
اوہ سو سیڈ اللہ تم باپ بیٹی کو بھی ہمیشہ خوش رکھے،،، الائیہ کی بات سن کر ماہاویرا کو بہت دکھ ہوا
تھینک یو آنٹ،،، الائیہ مسکرائی
اچھا یہ بتاو تمہارے پاپا کی ارینج میریج تھی یا لوّ میریج،،،
گرینڈ پا بتاتے ہیں کہ ڈیڈ تو شادی ہی نہیں کروانا چاہتے تھے انہیں بہت فورس کیا گیا تھا پھر کا کر انہوں نے ہاں کی تھی اور ڈیڈ کی طرف سے ارینج میریج تھی لیکن موم کی طرف سے لوّ میریج تھی،،،
آریان فریش ہونے کے بعد نیچے آیا اسے کچن سے الائیہ اور ماہاویرا کی آوازیں سنائی دیں،،،
کیا باتیں ہو رہی ہیں،،، وہ فروٹ والی باسکٹ سے ایپل اٹھا کر شیلف کر بیٹھا
یہ ہماری آپس کی باتیں ہیں ہم کسی اور کو نہیں بتائیں گے،،، ماہاویرا نے مسکراتے ہوئے کہا
اچھا کوئی لوّ میریج کی بات ہو رہی تھی جہاں تک مجھے معلوم ہے،،،
الائیہ آریان کی طرف دیکھ رہی تھی تو آریان نے ایپل کا بائٹ لیتے ہوئے اسے آنکھ ماری الائیہ نے فوراً اپنی نظروں کا رخ بدلا،،،
آج کل بہت دھیان دینے لگ گئے ہو پہلے تو اپنے سوا تمہیں کسی کی خبر نہیں ہوتی تھی،،، ماہاویرا نے کہا
انسان میں تبدیلیاں تو آتی ہی رہتی ہیں جب نئے لوگ زندگی میں آتے ہیں کیوں الائیہ،،، اس نے الائیہ کو مخاطب کیا تو وہ اسے آنکھیں دکھانے لگی
اور یہ تبدیلیاں کس کس قسم کی ہیں،،، ماہاویرا نے بات کو کریدا
ارے مومو آپ بھی نا چھوڑیں سب یہ واؤ آج بریانی بن رہی ہے مطلب ابھی میں کچھ نہ کھاؤں ورنہ بھوک ختم ہو جائے گی،،، اس نے فوراً سے ایپل ایک سائیڈ پر رکھا
بیگم صاحبہ بڑے صاحب کا فون آیا ہے آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں،،، کچن میں ملازمہ نے داخل ہو کر کہا
اچھا میں آتی ہوں الائیہ تم دھیان رکھنا بیٹا کہیں چکن جل نہ جائے،،،
اوکے آنٹ میں یہیں ہوں،،، الائیہ نے کہا تو ماہاویرا ٹشو سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی کچن سے باہر نکل گئی
بڑا خیال رکھ رہی ہو ہونے والی ساس کا ہونے والے شوہر کو تو پوچھتی بھی نہیں،،، اس نے چھیڑتے ہوئے کہا
آریان چپ کرو کوئی سن نہ لے،،، الائیہ نے اسے آنکھیں دکھائیں
آریان شیلف سے اتر کر اس کے قریب کھڑا ہوا،،،
جو بھی سنتا ہے سنے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ میں ہی تمہارا فیوچر ہسبینڈ ہوں،،، وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا
ہٹو ادھر سے،،، الائیہ نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے دھکیلا
کب تک بھاگو گی چھمیا،،، وہ ہنسا
تمہارے چکروں میں چکن جل جائے گا،،، الائیہ کڑاہی میں چمچ ہلانے لگی
ہائے کتنی حسین لگ رہی ہو کھانا بناتی ہوئی سنو شادی کے بعد بھی ایسے ہی میرے لیے کھانا بنانا،،، وہ پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈال کر کھڑا ہوا
آریان چپ کرو جاؤ یہاں سے،،، وہ کب سے اسے چھیڑ رہا تھا
اگر نہ جاؤں تو،،، وہ اس کے قریب آیا
ماہاویرا کچن میں داخل ہوئی تو الائیہ فوراً اس سے دور ہوئی،،،
ماہاویرا نے اگنور کیا اور اپنے کام میں مصروف ہو گئی،،،
اوکے آنٹ میں روم میں جا رہی ہوں،،، وہ جلدی سے وہاں سے نکلی
آریان بھی چپ کر کے وہاں سے کھسنے لگا جب ماہاویرا نے اسے روکا،،،
کیا چل رہا ہے یہ آج کل،،،
کیا موم کس کی بات کر رہی ہیں،،، اس نے منہ اتنا بھولا بنایا کہ ماہاویرا دل ہی دل میں اسے داد دینے لگی
ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں کچھ دنوں سے نوٹ کر رہی ہوں تم الائیہ کے کافی نزدیک ہوتے جا رہے ہو،،،
آریان نظریں جھکائے سر کھجانے لگا،،،
کچھ نہیں وہ تو بس ایسے ہی،،، اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس طرح انہیں بتائے
دل میں کوئی بھی بات ہو تو چھپانا نہیں ہے ماں ہوں تمہاری تم نہ بھی کہو گے تو سمجھ جاوں گی لیکن تمہارا اپنی زبان سے اقرار کرنا بھی ضروری ہے،،، وہ کڑاہی میں چمچ ہلاتے ہوئے بول رہی تھی
آریان نے سوچا کہ ابھی بات کر لے کہ وہ الائیہ کو پسند کرتا ہے ویسے بھی ماہاویرا کو شک تو ہو ہی گیا تھا لیکن کچھ سوچتے ہوئے خاموش ہو گیا،،،
اوکے موم ضرور،،، وہ کہہ کر کچن سے باہر نکل آیا



ہائے ہما لیزہ ہاؤ آر یو گائز،،، ذوہا کلاس روم میں داخل ہو کر ان سے مخاطب ہوئی
آئم سوری میں نے آپ کو پہچانا نہیں،،، لیزہ تنزیہ بولی
لیزہ یار کیا ہو گیا ہے پلیز ایسے تو مت کہو ہم بچپن کے۔۔۔
تمہیں اگر ہماری بچپن کی دوستی کا اتنا ہی خیال ہوتا تو تم وہ سب نہ کر رہی ہوتی جو آج کل کر رہی ہو،،، لیزہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی
لیزہ میں نے کو کیا وہ غلط نہیں تھا پلیز میری بات سمجھو،،،
مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سمجھنی بہتر ہے کہ تم بھی اپنا سر مت کھپاؤ،،، اس نے تلخ لہجے میں بولا
وہ ہما کے ساتھ والی چئیر پر بیٹھنے لگی جب لیزہ نے کہا۔۔۔
تمہیں یہاں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے کہیں اور جا کر بیٹھو،،، لیزہ کی بات سن کر ذوہا کو بہت دکھ ہوا وہ غلط تھی لیکن یہ بات سمجھنے کو تیار نہ تھی
اس نے التجائیہ نظروں سے ہما کی طرف دیکھا تو ہما بھی نظریں جھکا گئی،،،
وہ خاموشی سے دوسری جگہ چئیر پر جا کر بیٹھ گئی،،،
لیکچر سٹارٹ ہو چکا تھا ذوہا کو یاد آیا کہ اس نے ارحام کو کلاس روم جانے کے بعد ٹیکسٹ کرنے کا کہا تھا لیزہ کی باتوں نے اسے اتنا ٹینس کر دیا تھا کہ وہ بھول ہی گئی تھی،،،
وہ دوسری رو میں بیٹھی تھی اس نے موبائل نکال کر ارحام کو ٹیکسٹ کرنا شروع کیا،،،
“ہائے![]()
می ذوہا”
ارحام کا بھی لیکچر چل رہا تھا اس کا موبائل وائبریٹ ہوا تو اسے معلوم ہو چکا تھا ذوہا کا ٹیکسٹ آگیا ہے اس نے موبائل بک نیچے چھپا کر ان کیا،،،
“ڈن
“
ذوہا نے اس کا ریپلائے دیکھا،،،
“وٹ ڈن
“
ارحام کا موبائل پھر سے وائبریٹ ہوا میسیج پڑ کر اس نے ٹائپنگ سٹارٹ کی،،،
“نمبر سیو ڈن
“
“اہاں۔۔۔۔ لیکچر ہو رہا ہے کیا؟”
لیزہ نے پوچھا
ییس،،، ارحام نے ریپلائے کیا
“پڑھاکو بچے بھی لیکچر کے دوران موبائل یوز کرتے ہیں
“
ذوہا نے مسکراتے ہوئے کہا
اس کا میسیج پڑھ کر ارحام بھی اپنی سمائل پر کنٹرول کرنے لگا،،،
“ایک پڑھاکو بچی کا اثر ہو رہا ہے
“
اس کا میسیج پڑھ کر ذوہا پھر سے اپنی ہنسی کنٹرول کرنے لگی،،،
لیزہ کی نظر اس پر پڑی اسے معلوم ہو چکا تھا وہ موبائل پر لگی ہے اور یہ بھی کہ وہ ارحام ہی ہے،،،
“ابھی تو شروعات ہے آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا
“
ذوہا نے ریپلائے کیا،،،
اس کا میسیج پڑھ کر ارحام کے لیے اب اپنی سمائل کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا اس نے ٹائپنگ سٹارٹ کی،،،
“لیکچر سے فری ہو کر بات کرتے ہیں”۔۔۔
“اوکے میں سیڑھیوں پر ویٹ کروں گی”۔۔۔ آخری ٹیکسٹ ذوہا نے کیا اور دونوں نے موبائل رکھ دیا



دوپہر کے وقت آریان پورے گھر میں ادھر ادھر نظر گھماتا ہوا دیکھ رہا تھا کہ کوئی ہے یا نہیں، جب اسے یقین ہو گیا کہ کوئی نہیں ہے تو تیز قدموں سے الائیہ کے روم میں داخل ہو گیا
الائیہ پرپل سوٹ پہنے بیڈ پر لیپ ٹاپ میں بیزی بیٹھی دکھائی دے رہی تھی جب اس نے نظر اٹھا کر اوپر دیکھا،،،
تم یہاں کیا کر رہے ہو،،، وہ حیرت سے بولی
ہائے یہ کمبخت دل تمہیں دیکھے بغیر کہاں چین سے رہنے دے گا،،، وہ اس کے بیڈ پر بیٹھ کر پیچھے کی طرف لیٹ گیا،،،
الائیہ منہ کھولے اس کی اس حرکت کو دیکھ رہی تھی،،،
اٹھو یہاں سے اور چلو اپنے کمرے میں تم تو ایسے ری ایکٹ کر رہے ہو جیسے میں تمہاری۔۔۔۔ وہ رکی
ہاں بتاؤ تم میری کیا،،، آریان اس کی طرف دیکھ کر بولا کیوں کہ وہ جان گیا تھا کہ وہ جلد بازی میں کیا بولنے والی تھی
جیسے میں تمہاری رشتہ دار ہوں،،،
ہاہاہاہا،،،، الائیہ کی بات پر آریان کا قہقہ کمرے کیں گونجا
کیا ہے ہنس کیوں رہے ہو جاؤ مجھے کام کرنے دو،،، الائیہ نے پھر سے لیپ ٹاپ پر نظریں ٹکائیں
کونسا کام ہے مجھے بھی تو بتاؤ،،،
زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے،،، وہ آنکھیں سکیڑتی ہوئی بولی
آج نہیں تو کل تمہیں میری کسی بات سے انکار کرنے کا حق نہیں ہو گا،،،
اچھا جی تو کل ایسا کون سا معجزہ ہو جائے گا مجھے مسٹر آریان خانزادہ کی کسی بات سے انکار کرنے کا حق نہیں ہو گا،،، وہ تنزیہ مسکرائی
بہت جلد موم ڈیڈ سے بات کرنے والا ہوں تم سے شادی کی،،،
کیا،،، اس کی بات سن کر الائیہ نے آنکھیں پھیلائیں
تب مجھے انکار کر کے دیکھانا پھر اس کی سزا بھی ملے گی،،، وہ خمار بھری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا
الائیہ دل ہی دل میں شرم و حیا سے لال گلابی ہو رہی تھی لیکن اس کے سامنے خود کو نارمل ظاہر کرنے لگی،،،
تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں تم سے شادی کے لیے تیار بیٹھی ہوں،،،
اور نہیں تو کیا،،، وہ مسکرایا
بہت بڑی غلط فہمی ہے مسٹر مجھے تم سے شادی کا کوئی شوق نہیں جب مجھے میرے ٹائپ کا لڑکا مل جائے گا تو میں اس سے شادی کر لوں گی اب جاؤ اب مجھے کام کرنے دو،،، وہ پھر سے لیپ ٹاپ کی طرف دیکھنے لگی آریان کے چہرے کے تاثرات سرد ہوئے وہ تیزی سے اٹھا اور الائیہ کی بیڈ کی بیک کے ساتھ ٹیک لگائی،،،
آئندہ ایسی بات اپنے منہ سے نکالنے سے پہلے دس بار سوچ لینا ایسی بات روز روز نظرانداز کرنے کی برداشت مجھ میں نہیں،،، وہ اس کی تھوڑی کو سختی سے پکڑے اس کے بلکل قریب ہو کر بولا
آر۔۔۔آریان،،، اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کے سامنے وہ ہنستا مسکراتا آریان ہے جسے وہ کچھ دنوں سے دیکھتی آرہی تھی،،،
وہ ابھی بھی اس کے چہرے کو سختی سے پکڑے ہوئے تھا الائیہ کی براؤلش آنکھیں پانی سے بھرنے لگیں،،،
آریان اس کے آنسو دیکھ کر ایک دم سے پیچھے ہٹا اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے دکھ کیسے دے بیٹھا ہے،،،
جاری ہے
