Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 03)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 03)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
میر فارس کی گاڑی میر ہاؤس کے سامنے رکی تو واچ مین نے بھاگتے ہوئے گیٹ کھولا،،،
ڈرائیو گاڑی کو گھر کے اندر لے کر آیا، اس گاڑی کے پیچھے دو گاڑیاں جو سکیورٹی کے طور پر ہر وقت اس کے ساتھ رہتی تھیں وہ بھی اندر داخل ہوئیں،،،
فارس گاڑی سے نکلتا ہوا تیز قدموں سے گھر کے اندرونی حصے میں داخل ہوا، آگے کا منظر اس کے لیے ناقابلِ یقین تھا،،،
لاؤنج کی ہر وہ چیز زمین بوس ہوئی پڑی تھی جو وہ توڑ سکتی تھی، وہ لمبے لمبے سانس لیتی ایک پاگل لڑکی لگ رہی تھی،،،
جو لوگ اس کا رشتہ دیکھنے آئے تھے وہ جا چکے تھے فارس کانچ سے ہٹ کر چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا،،،
ایرہ میری جان کیا تم ٹھیک ہو،،، اس نے ایرہ کو سینے سے لگایا
ایرہ میر فارس کی چھوٹی بہن جو اکیس سال کی تھی دکھنے میں وہ نازک اور خوبصورت لڑکی تھی لیکن اس کے غصے سے گھر کا ایک ایک نوکر کانوں کو ہاتھ لگاتا تھا،،،
فارس کے ایرہ کو گلے لگانے پر وہاں کھڑے دس ملازموں نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا ان کے مطابق فارس نے ایرہ کو زیادہ ہی چھوٹ دے رکھی تھی اس کا جو جی چاہتا تھا وہ کرتی تھی فارس اسے ایک دو بار پیار سے سمجھتا کبھی کبھار وہ اس کی بات مان لیتی اور جب وہ اپنی ضد پر اڑ جاتی تو وہ کام کر کے رہتی اس کی ضد سے تو میر فاس بھی ہتھیار ڈال دیتا تھا،،،
وہ ایرہ کو لیے اس کے کمرے میں داخل ہوا،،،
ایرہ میری بچی کیوں کر رہی ہو ایسے ایک نہ ایک دن شادی تو تمہیں کرنی ہی ہے نا،،، فارس اس کی شادی میں جلدی اس لیے کر رہا تھا کیوں کہ اس کا کام ایسا تھا جس میں اسے دشمنوں اور پولیس کا خدشہ رہتا تھا اس لیے وہ زیادہ عرصے تک ایرہ کو اپنے ساتھ رکھ کر اسے کسی قسم کا نقصان پہنچنے سے ڈرتا تھا
بھائی اگر آپ کو میری شادی کی اتنی ہی جلدی ہے تو ڈھونڈیں آریان کو مجھے نہیں کرنی کسی اور سے شادی،،، وہ آنکھوں سے آنسو نکالتی ہوئی بولی جنہیں فارس کی انگلیوں نے چن لیا
میری جان وہ نہ جانے کون تھا نہ تمہارے پاس اس کی تصویر ہے نہ اس کا اتہ پتہ یہاں تک کہ تمہیں تو اس کا پورا نام بھی نہیں معلوم اب تم ہی بتاو میں اسے کیسے ڈھونڈوں،،، اس نے ایرہ کو پیار سے سمجھایا
بھائی آپ اور کوشش کریں میرا دل کہتا ہے وہ مل جائے گا میں اس کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کروں گی،،،
فارس اپنی بہن کو روتا دیکھ کر دل برداشتہ ہوا کیوں کہ ایرہ کو آج سے پانچ سال پہلے فارس کے کچھ دشمن اغواہ کر کے لے گئے تھے اس کی زندگی اور عزت بچانے والا لڑکا آریان تھا جس کے بارے میں ایرہ اس کے نام کے سوا کچھ نہیں جانتی تھی، پہلے دو سال تک ایرہ نے آریان کو ڈھونڈنے کے لیے پورا کراچی چھان مارا تھا لیکن وہ اسے کہیں نہ ملا،،،
فارس دن بہ دن اپنی بہن کی بے چینی کو بڑھتا ہوا دیکھ رہا تھا اس نے ایرہ سے اس کی وجہ پوچھی، کچھ دن تک ایرہ نے کچھ نہ بتایا پھر فارس کے اسرار پر ایرہ نے اسے آریان کے بارے میں بتا دیا،،،
فارس نے اپنی پہنچ کے ذریعے پورے کراچی میں آریان نام کے ہر لڑکے کی تصاویر نکلوا کر ایرہ کو دکھائیں لیکن ان میں سے ایک بھی آریان وہ نہ تھا جو اس دن ایرہ سے ملا تھا،،،
میں کیسے کوشش کروں اب تم ہی بتاؤ کیا کچھ نہیں کیا میں نے اسے ڈھونڈنے کے لیے لیکن وہ کہیں نہیں ملا میرے بچے بھول جاؤ اسے،،،
نہیںںںںںں۔۔۔ نہیں بھول سکتی میں اسے بھائی،،، وہ پھر سے روتے ہوئے چلّائی
فارس میر کے سامنے اگر کوئی اونچی آواز میں بات کر سکتا تھا تو وہ واحد ایرہ تھی،،،
اچھا تم پریشان مت ہو میں کچھ کرتا ہوں اوکے،،، فارس نے اسے نارمل کرنے کے لیے جلدی سے ہامی بھری
وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی اس نے اسے کندھوں سے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھایا
لیٹ جاؤ کچھ دیر ریسٹ کر لو،،، اس نے ایرہ کو لیٹا کر اس کے اوپر کمفرٹر ڈالا
اپنے روم میں آکر وہ بیڈ پر بیٹھا اور دو انگلیوں سے اپنی پیشانی مسلنے لگا، ایرہ کی وجہ سے وہ اکثر پریشان رہتا تھا،،،
اس نے اپنی بہن کی وجہ سے آج تک شادی نہ کروائی تھی اسے ڈر تھا شادی کے بعد ایرہ کے لیے اس کے پیار میں کمی نہ آجائے اور دوسرا یہ کہ جتنا وہ ایرہ سے پیار کرتا ہے اس کا خیال رکھتا ہے اس کی زندگی میں آنے والی لڑکی ایرہ سے حسد نہ کرنے لگ جائے،،،
آج اس نے شریف گھرانے کے لوگ بلوائے تا کہ ایرہ سکون کی زندگی گزار سکے کیوں کہ جیسا اس کا کام تھا اس کی دنیا میں سکون نہ تھا اب وہ اپنی بہن کی جلد از جلد شادی کر دینا چاہتا تھا،،،



فری پریڈ میں لیزہ ذوہا اور ہما کے ساتھ کینٹین میں آئی،،،
آج کیا کھانا ہے،،، ذوہا نے پوچھا
میرا تو پیزہ کھانے کا موڈ ہو رہا ہے،،، ہما فٹ سے بولی
چلو پھر لے کے آؤ،،، لیزہ نے ہما سے کہا
میرے ساتھ کون آئے گا لیزہ تم ہی آجاؤ،،، ہما چئیر سے کھڑی ہوئی
نہیں میرا موڈ نہیں ہے ذوہا تم چلی جاؤ ہما کے ساتھ،،،
کیا یار لیزہ تم بھی نا،،، ذوہا ابھی اٹھی ہی تھی جب لیزہ کی نظر کیبن کے پاس کھڑے ارحام پر پڑی
رکو رکو میں جاوں گی،،، لیزہ تیزی سے بولی تو ذوہا اور ہما شوکڈ ہوئیں
کیا ہو گیا ابھی تو کہہ رہی تھی نہیں جانا اب کیا دیکھ لیا جو فٹ سے ریڈی ہو گئی،،، ذوہا نے گھوری سے نوازتے ہوئے کہا
ہاں دیکھ تو لیا ہے،،، لیزہ چہرے پہ مسکراہٹ سجائے اٹھی
کیا،،، ذوہا اور ہما ایک ساتھ بولیں
وہ دیکھو،،، لیزہ نے ارحام کی طرف اشارہ کیا جسے دیکھ کر ذوہا نے نفی میں سر ہلایا
نہ کرو یار لیزہ بخش دو بیچارے کو مجھے تو بہت ہی معصوم لگتا ہے وہ،،، ذوہا التجائیہ بولی
کیا تم ہر وقت اس کی طرف داری کرتی رہتی ہو میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ تم میری دوست ہو اور تمہیں صرف میرا ساتھ دینا ہو گا،،،
لیزہ اسے گھورتے ہوئے بولی جس پر ذوہا خاموش ہو گئی پھر وہ اکیلی کیبن کی طرف بڑھ گئی،،،
ہما تم کیوں کچھ نہیں بولتی،،، ذوہا نے کہا
میں کیا بولوں یار تمہیں معلوم تو ہے کہ لیزہ ایک بار جو ٹھان لے وہ کر کے رہتی ہے،،، وہ کندھے اچکاتے ہوئے چئیر پر بیٹھی
مجھے ایک پیک پیزہ چاہیے،،، وہ کیبن کے پاس جا کر بولی
ارحام اس کی آواز کو پہچان گیا تھا لیکن جان بوجھ کر اس کی طرف نہیں دیکھا یہ بات لیزہ کو کھٹکنے لگی کہ وہ اسے اگنور کر رہا ہے،،،
ارحام،،، آخر اس نے خود ہی اسے مخاطب کر لیا
ارحام نے خاموش نظروں سے اس کی طرف دیکھا،،،
ہماری کمپنی جوائن کرو گے،،، لیزہ نے اپنے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا
ارحام نے وہاں دیکھے بغیر نفی میں سر ہلایا۔۔۔” سوری”،،،
لیزہ دانت پیسنے لگی اسے وہ کچھ زیادہ مغرور لگ رہا تھا،،،
ارحام نے کافی کا کپ اٹھایا اور ایک چئیر پر جا کر بیٹھا اس نے ٹیبل پر بک رکھ کر کھولی،،،
لیزہ پیزے کا پیک پکڑ کر پاؤں پٹختی ہوئی اپنے ٹیبل پر آئی وہ کھا جانے والی نظروں سے ارحام کو دیکھ رہی تھی،،،
کیا ہوا اتنی تپی ہوئی کیوں ہو،،، ہما نے پوچھا
یار یہ لڑکا اپنے آپ کو پتہ نہیں کیا سمجھتا ہے کوئی شہزادہ نہیں ہے یہ اور اس کا ایٹیٹیوڈ تو دیکھو ذرا،،، وہ چبا چبا کر بولی
شہزادہ تو نہیں ہے لیکن شہزادے سے کم بھی نہیں ہے،،، ذوہا دانتوں تلے لب لیتی ہوئی بولی
اچھا جی اتنا ہی ہینڈسم لگتا ہے تو پرپوز کیوں نہیں کر دیتی اسے،،، لیزہ اسے گھورتے ہوئے بولی
کر تو دوں لیکن وہ مانے گا نہیں خاصہ شریف لڑکا لگتا ہے،،، ذوہا نے ہنستے ہوئے کہا
ذوہا تم چپ کر رہی ہو یا میں ماروں تمہارے سر میں کچھ،،، لیزہ چلّائی
اففف کیا ہو گیا تم دونوں کو سب ہمیں دیکھ رہے ہیں چپ کر جاؤ میری بہنوں،،، ہما نے دونوں کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا
کیا مطلب ہے کیوں یہ اس کی اتنی تعریف کرتی ہے،،، لیزہ دانت پیستے ہوئے بولی
ذوہا تمہیں پتہ تو یے لیزہ کا یار ایک طرف ہو جاو پلیز،،، ہما نے تنگ آکر کہا
اوکے اوکے آئم رئیلی سوری میری جانو اب میں تمہاری سائیڈ پر ہوں اوکے،،، ذوہا نے لیزہ کے چیکس کھینچے جس پر لیزہ مسکرانے لگی



رات پانچ بار شاور لینے کے بعد الائیہ کو کچھ سکون ہوا وہ فجر کے وقت سوئی تھی،،،
گیارہ بجے اس کی آنکھ کھلی تو وہ اٹھ کر بیٹھی اسے کافی تھکاوٹ کا احساس ہو رہا تھا،،،
وہ فریش ہو کر نیچے آئی تو ماہاویرا لاونج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی،،،
گڈ مارننگ کیسی رہی پاکستان کی پہلی رات،،، ماہاویرا نے مسکراتے ہوئے پوچھا
اس سے پہلے الائیہ کوئی جواب دیتی آریان باہر سے لاؤنج میں داخل ہوا اس کی نظریں الائیہ سے ٹکرائیں،،،
الائیہ کے چہرے پر صاف صاف لکھا تھا کہ اس نے رات کیسے گزاری کے اس کے فیس ایکسپریشن سے آریان نے دانتوں تلے لب دبایا،،،
آریان کو دیکھ کر الائیہ کو یوں لگا جیسے دال میں کچھ کالا ہے،،،
کیا ہوا الائیہ بیٹا،،، ماہاویرا نے سکتے میں کھڑی الائیہ سے پوچھا
جی کچھ نہیں آنٹ رات اچھی گزر گئی،،، اس نے کہا تو آریان نے اپنی ہسنی دبائی
تمہیں کس خوشی میں ہنسی آرہی ہے،،، ماہاویرا نے آریان کو گھوری سے نوازتے ہوئے پوچھا
کچھ نہیں موم موبائل پر فنی وڈیوز دیکھ رہا ہوں،،، اس نے فٹ سے جھوٹ بولا
الائیہ تم سو رہی تھی تو میں نے تمہیں جگانا مناسب نہیں سمجھا ہم سب نے ناشتہ کر لیا ہے اور تمہارا ناشتہ میں لگوا دیتی ہوں،،،
اچھا کیا آپ نے نہیں جگایا ابھی ہی تو سوئی تھی الائیہ،،، آریان شرارت بھرے لہجے سے بولا
کیا مطلب ہے تمہارا،،، ماہاویرا نے کو حیرت ہوئی
پوری رات ان کے کمرے کی لائٹ آن رہی ہے اس کا مطلب یہی ہے نا کہ یہ رات بھر سو نہ سکی،،، اس نے دانتوں تلے لب دباتے ہوئے الائیہ کو دیکھتے ہوئے کہا
کیا کہہ رہا ہے یہ کیا تم واقع ہی پوری رات نہیں سوئی،،، ماہاویرا نے اس سے پوچھا
نہیں آنٹ میں لیپ ٹاپ کر کام کر رہی تھی تو ویسے ہی نیند آگئی اس لیے لائٹ آن رہ گئی،،، اس نے آخری الفاظ آریاں کو دیکھ کر چباتے ہوئے بولے تھے
اوہ اچھا آریان تم نے تو مجھے پریشان ہی کر دیا تھا،،، ماہاویرا نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا جس پر وہ اپنی ہنسی دبانے لگا
الائیہ کو دل ہی دل میں آریان پر غصہ آرہا تھا وہ اسے کیا سمجھ رہی تھی اور وہ کیا نکلا تھا نہ جانے کس بات کا بدلا لے رہا تھا



ارحام سو رہا تھا جب اس کے خواب میں لیزہ کی نیلی آنکھوں کا منظر گردش کرنے لگا، بڑی بڑی نیلی آنکھیں جن کے اوپر سیاہ پلکوں کی گھنی جھالر تھی،،،
وہ ایک دم سے اٹھا اور لائٹ آن کی اس کا دل زورو سے دھڑک رہا تھا اسے اپنی یہ کیفیت سمجھ نہیں آرہی تھی،،،
ارحام تم ٹھیک تو ہو،،، لائٹ آن ہونے کی وجہ سے فیصل کی آنکھ کھلی اس نے پریشان بیٹھے ارحام کی طرف دیکھ کر پوچھا
ہ۔۔ہاں۔۔۔ ہاں میں ٹھیک ہوں،،، ارحام نے اس کی طرف دیکھ کر کہا
اچھا لائٹ آف کر دینا پھر،،، فیصل نے کہا تو ارحام نے اثبات میں سر ہلایا
لائٹ آف کر کے اس نے تکیے پر سر رکھا اور لیزہ کے بارے میں سوچنے لگا
وہ کیوں پہلے میرے خیالوں میں اور اب خوابوں میں بھی آنے لگی ہے،،، اس نے خود کلامی کی
کچھ کہا،،، فیصل نے اس کی دھیمی سی آواز سن کر کہا
نہیں،،، ارحام کہہ کر فیصل کی طرف کمر کیے لیٹ گیا
کچھ دیر تک وہ لیزہ کے بارے میں سوچتا رہا پھر اپنے ذہن کو جھٹک کر سونے کے لیے آنکھیں موند گیا،،،



رات کے وقت ماہاویرا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہاتھوں پر لوشن لگا رہی تھی جب بلال دیوار کے ساتھ ٹھیک لگائے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگا،،،
ایسے کیا دیکھ رہے ہو،،، ماہاویرا نے مسکراتے ہوئے پوچھا
دیکھ رہا ہوں تمہارے اس خوبصورت چہرے میں چھبیس سالوں میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی،،، وہ اس کے پاس آکر بولا
اب ایسی بھی کوئی بات نہیں میں بہت بدل چکی ہوں،،، ظاہری بات ہے عمر کا تو ہر انسان پر فرق پڑتا ہے
میری نظر سے دیکھو گی تو تمہیں کچھ بھی بدلا ہوا دکھائی نہیں دے گا،،، اس نے ماہاویرا کو اپنے حصار میں لیا
اچھا زیادہ شاعر بننے کی ضرورت نہیں ہے مجھے بہت نیند آرہی ہے،،، وہ اس کے حصار سے نکلتی ہوئی بیڈ کی طرف بڑھنے لگی،،،
لیکن مجھے نیند نہیں آرہی ماہا،،، بلال نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیتے ہوئے اس کے کندھے پر ہونٹ رکھے
بلال،،،
بولو مائے وائف،،،
اب تو ہمارے بچوں کی بھی شادی کی عمر ہو گئی ہے لیکن تم ہو کہ ابھی تک خود کو جوان ہی سمجھتے ہو،،، ماہاویرا نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا
تو پھر کیا ہوا ان کی شادی کی عمر ہو گئی ہے تو ہم کونسا بوڑھے ہو گئے ہیں،،، اس نے ماہاویرا کو بازوؤں میں اٹھایا
اففف خدایا پتہ نہیں کب سمجھے گا یہ آدمی،،، ماہاویرا نے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
آدمی نہیں مائے وائف لڑکا بولو، ابھی تو میں جوان ہوں،،، بلال اونچی آواز میں گانا گانے لگا اور کمرے میں ماہاویرا کے قہقے گونجنے لگے،،،



آریان گنگناتا ہوا گاڑی سے باہر نکل کر گھر کے اندرونی حصے میں داخل ہونے لگا جب اس کے راستے میں الائیہ کھڑی ہوئی،،،
کیا تھا وہ سب،،، وہ اسے گھوری سے نوازتی ہوئی پوچھنے لگی
کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں،،، وہ انجان بنا
زیادہ ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں کل جو تم نے مجھے ڈریس دیا تھا اس پہ الرجی والا پرفیوم لگایا تھا کیا،،،
کیا کل میں نے آپ کو کوئی ڈریس بھی دیا تھا،،، آریان نے پھر سے ایکٹنگ کی جو کہ الائیہ کو غصہ دلا گئی
بتاؤ مجھے کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا میں پوری رات سو نہیں پائی صرف اور صرف تمہاری وجہ سے،،، وہ قریب آکر اس کے سینے پر انگلی رکھتے ہوئے غصے سے بولی
اس کے اتنا قریب آنے پر آریان اس کے چہرے کے ہر نقش کو غور سے دیکھنے لگا،،،
بولو بولتے کیوں نہیں،،، وہ غصے سے غرائی تو اس نے ہوش کی دنیا میں قدم رکھا
و۔۔وہ تو مذاق تھا،،، وہ ہنستا ہوا بولا
واٹ؟ آر یو سیرئس کیا میرا اور تمہارا کوئی مذاق ہے،،،
آریان اس کی بات کا جواب دہے بغیر وہاں سے جانے لگا تو الائیہ نے اسے بازو سے پکڑا
میری بات کا جواب دو،،، وہ ایک دن پہلے اس گھر میں آئی تھی اور آریان جس سے اس کی پہلی ملاقات تھی وہ اس سے ایسا کیسے کر سکتا تھا الائیہ کو یہ بات پریشان کر رہی تھی
آریان،،، گھر کے اندر سے ماہاویرا کی آواز آئی
اس کا جواب میں تمہیں رات کو دوں گا،،، وہ اس کے قریب ہو کر بولتا ہوا واپس مڑا اور الائیہ حیرت سے اس کی پشت کو دیکھنے لگی



ایشا سٹڈی کر رہی تھی جب ذائشہ اس کے پاس آئی،،،
ایشا تم آج فریش نہیں ہوئی،،،
ماما صبح میرا ٹیسٹ ہے وہی پریپئر کر رہی ہوں،،، وہ بک پر سر جھکائے بولی
اچھا میں نے تمہارے لیے کچھ شاپنگ کی ہے،،، ذائشہ کی بات سن کر ایشا کی آنکھیں چمک اٹھیں
سچ ماما کب،،،
آج دن ٹائم مارکیٹ گئی ہے اپنے لیے شاپنگ کرنے تو سوچا تمہارے لیے بھی کر لوں،،، وہ مسکراتے ہوئے بولی
اوہ ماما تھینک یو سو مچ اب جلدی سے دکھائیں آئی کانٹ ویٹ،،،
دکھاتی ہوں ذرا بیٹھنے تو دو،،، ذائشہ بیڈ پر پیکس رکھ کر بیٹھی
اب وہ ڈریس باہر نکال رہی تھی اور ایشا ایکسائیٹڈ ہو کر دیکھ کر رہی تھی اگلے ہی پل میں اس کی ایکسائیٹمینٹ حیرت میں بدل گئی،،،
یہ دیکھو کیسے ہیں،،، ذائشہ دو تین سوٹ شلوار قمیض اور دو تین فراکس بیڈ پر پھیلائیں
ماما یہ کیا ہے،،، ایشا برا سا منہ بناکر بولی
بیٹا تمہارے لیے شاپنگ کی ہے ابھی بتایا تو تھا،،، ذائشہ بھی جانتی تھی وہ ایسی ڈریسنگ کو ناپسند کرتی ہے لیکن جان بوجھ کر لے کر آئی کیوں کہ وہ چاہتی تھی ایشا اب بوائز لُک چھوڑ دے
کیا ہوا تمہیں پسند نہیں آئے کیا،،،
ماما میں ایسی ڈریسنگ بلکل بھی نہیں کروں گی آپ جان بوجھ کر لے کے آئی ہیں،،، اس نے منہ بسورا
ایشا میری جان تمہیں ایک نہ ایک دن یہی کپڑے پہننے ہیں اپنی پھوپھو کو ہی دیکھ لو آخر اس نے بھی تو اپنی لُک بدل دی نا،،،
لیکن ماما میں نہیں بدلوں گی میں آل لائف ایسی ہی لُک رکھوں گی بس مجھے نہیں پسند یہ گرلز لُک،،، اس نے منہ بسورا
تو تم بھی لڑکی ہی ہو ایک دن تمہاری شادی کرنی ہے تب کیا کرو گی،،، ذائشہ کے لہجے میں تلخی آئی
ماما میں ابھی اٹھارہ کی ہوں اور آپ ابھی سے میری شادی کی بات کر رہی ہیں،،، وہ چشمے کو انگلی سے دھکیلتے ہوئے گھبرا کر بولی
تو کتنے سال رہتے ہیں تمہاری شادی کو یہی زیادہ سے زیادہ تین چار چال،،،
ماما،،، ایشا کا حیرت سے منہ کھلا
بھئی کس کی شادی کی بات ہو رہی ہو،،، آحل کمرے میں داخل ہوا
پاپا،،، ایشا رونی صورت بنائے بھاگ کر آحِل کے گلے لگی
ارے کیا ہوا میری بچی کو،،،
پاپا ماما کہہ رہی ہیں کہ تین چار سال میں تمہاری شادی کر دینی ہے،،،
ہیں کیوں بھئی بیگم تمہیں کس بات کی جلدی ہے ایک یہی تو رونق ہے ہمارے گھر کی یہ چلی گئی تو ہمیں ہنسائے گا کون،،، آحِل اسے لیے صوفے پر بیٹھا
بس آپ بھی ہو گئے بیٹی کی طرف داری میں شروع میں یہ سب صرف اس لیے کہہ رہی تھی تا کہ اسے ان کپڑوں کو پہننے کی عادت ہو جو یہاں ہر لڑکی پہنتی ہے،،، ذائشہ نے بیڈ پر پڑے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
ارے پہن لے گی وہ بھی ابھی اس کے انجوائے کرنے کے دن ہیں کرنے دو انجوائے،،، آحِل کی بات سن کر ایشا نے تسلی کا سانس لیا
بس باپ بیٹی ایک ہی زبان بولتے ہیں میری کون سنتا ہے یہاں جا رہی ہوں میں،،، وہ پاؤں پٹختی ہوئی اٹھی
ارے رکو تو صحیح،،، آحِل نے اسے آواز دی لیکن وہ کمرے سے باہر نکل گئی
پاپا ماما تو ناراض ہو گئیں،،، ایشا نے پریشانی سے کہا
میرا بچہ تم فکر مت کرو ماما کو پاپا منا لیں گے تم چلو سٹڈی کرو،،، اس نے ایشا کی پیشانی کو چوما اور کمرے باہر نکل آیا
ایشا نے بیڈ پر پڑے کپڑوں کو گھوری سے نوازتے ہوئے دیکھا پھر انہیں اٹھا کر صوفے پر پھینک دیا،،،
آحِل کمرے میں داخل ہوا تو ذائشہ منہ بنائے بیٹھی تھی،،، وہ مسکراتا ہوا اس کے پاس بیٹھا
میری بیوی مجھ سے ناراض ہے،،،
میں اس وقت بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں،،، وہ تلخ لہجے میں بولی
ہائے یہ تو سراسر زیادتی ہے شوہر کے ساتھ،،، وہ اس کے قریب ہوا
آحل پلیز آپ ابھی یہاں سے چلیں جائیں نہیں تو میں اپنا سارا غصہ آپ پر اتار دوں گی،،،
میں تو تیار ہوں میری بیوی مجھ پر غصہ کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالے،،، وہ ذائشہ کا رخ اپنی طرف کرتا ہوا بولا
آپ نے یہ اچھا نہیں کیا،،، ذائشہ کا لہجہ نرم ہوا
میری جان پریشان کیوں ہوتی ہو شادی کے بعد وہ اپنی ڈریسنگ چینج کر دے گی،،،
اگر اس نے تب بھی نہ کی تو،،،
شادی زندگی میں ہونے والی کوئی معلولی تبدیلی نہیں ہے ہر انسان پر اس کا اثر پڑتا ہے تم فکر نہیں کرو سب ٹھیک ہو گا ویسے بھی ابھی وہ بہت چھوٹی ہے اور تم ہو کہ ابھی سے اس کی شادی کی فکر کرنے لگی ہو،،،
ماں ہوں اس کی فکر تو ہو گی نا،،،
جب ٹائم آیا تب فکر کر لینا ابھی تمہارے سامنے تمہارا شوہر ہے جو تمہاری فکر کے لیے کافی ہے تم نے مجھے پوچھا بھی نہیں کہ کچھ چاہیے کہ نہیں،،، اس نے منہ بسورا
اوہ سوری آحل آپ کو کچھ چاہیے کیا،،،
ہاں چاہیے ایک عدد کِس،،، وہ شرارت سے بولا تو ذائشہ نے اسے کندھے پر پنچ مارا
یہ عادتیں آپ کی کب بدلیں گی،،،
ہاہاہا میں نہیں بدلنے والا میری جان،،، وہ اسے لیٹا کر اس پر ہاوی ہوا



الائیہ کب سے آریان کا روم سے باہر آنے کا انتظار کر رہی تھی لیکن وہ باہر آنے کا نام نہیں لے رہا تھا،،،
اسے آریان پر شدید غصہ آرہا تھا کیوں کہ اس نے رات کو اس مذاق کی وجہ بتانے کا کہا تھا اور خود اب کمرے میں بند تھا اور وہ کب سے لان میں چکر کاٹتی اس کے نکلنے کا انتظار کر رہی تھی،،،
آریان،،، اس نے دانت پیستے ہوئے کہا اور غصے سے گھر کے اندرونی حصے میں داخل ہوئی اس نے تیز قدموں سے سیڑھیاں عبور کیں اور بنا ناک کیے اس کے کمرے میں گھس گئی،،،
کمرے میں لیمپ کی مدھم روشنی تھی آریان شرٹ لیس بستر پر بیٹھا لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا،،،
اچانک دروازہ کھلنے پر اس نے سامنے دیکھا اور الائیہ اسے دواری بار اس حالت میں دیکھ کر بنا ناک کیے اندر گھسنے پر پچھتا رہی تھی،،،
اس نے لیپ ٹاپ کا شرٹ ڈاؤن کیا اور چلتا ہوا اس کے قریب آیا،،،
رات کے اس وقت کوئی بنا ناک کیے اندر آتا ہے کیا،،، وہ اس کے بلکل قریب کھڑا ہو کر بولا
جاری ہے
