Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 20)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 20)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
نہیں بھائی آپ آریان کو کڈنیپ نہیں کریں گے،،،،،،،،، وہ سرخ آنکھوں سے اسے دیکھ کر بولی
تو پھر میں تمہاری خواہش کیسے پوری کروں میری گڑیا،،،،،،،،،،،،
آپ اس لڑکی کو کڈنیپ کریں گے تا کہ وہ آریان سے بہت دور ہو جائے اتنا کہ دوبارہ کبھی اسے دیکھ نہ سکے اور میں آریان کی زندگی میں آؤں گی اس کا ہر دکھ درد بانٹنے میں اس کی محبت بنوں گی بھائی اس پر صرف اور صرف میرا حق ہو گا،،،،،،،،،، اس کی آنکھوں میں عجیب وحشت تھی
جیسے تم کہو گی میں ویسے ہی کروں گا بس کبھی خود کو نقصان مت پہنچانا اپنے بھائی سے دور مت ہو جانا،،،،،،،،،، اس نے ایرہ کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا اس کا لہجہ بھیگا ہوا تھا
ایرہ نے اس کے کندھے پر سر ٹکایا،،،،،،،،،



تو انگیجمنٹ کا پلین کب ہے،،،،،،،،، آریان نے مسکراتے ہوئے پوچھا
انگیجمنٹ نہیں نکاح کرنا ہے،،،،،،،،،، ذائشہ کی بات پر آریان سمیت سب چونک اٹھے
کیا نکاح اتنی جلدی اور اچانک،،،،،،،،،،، ماہاویرا نے حیرت سے کہا
ماہا نکاح ہی تو کر رہے ہیں رخصتی جب بچوں کی مرضی ہو گی تب کر لیں گے،،،،،،،،، آحل نے کہا
ماہاویرا اور بلال بے یقینی سے انہیں دیکھ رہے تھے نہ جانے اس غیر لڑکے پر ذائشہ اور آحِل اتنا بھروسہ کیسے کر رہے تھے
لیزہ کے لیے بھی یہ بات شوک سے کم نہ تھی ارحام کو گھر لے آنا پھر اچانک نکاح کی بات کرنا اسے بہت عجیب لگ رہا تھا ورنہ اس کی ماما تو لیزہ اور ایشا کے معاملے میں شروع سے ہی بہت پوزیسو اور کیئرنگ رہی تھیں،،،،،،،،،،،
آحِل کیا ہم بڑے اکیلے میں بات کر سکتے ہیں،،،،،،،،،،، بلال نے کہا
ہاں کیوں نہیں اچھا بیٹا لیزہ تم آریان کو کمپنی دو اور ارحام تم اپنے کمرے میں ریسٹ کرو،،،،،،،،،،، آحِل نے کہا ارحام اپنے روم میں چلا گیا اور لیزہ آریان کے ساتھ لان میں آئی
آحل یہ تم دونوں کیا کر رہے ہو کون ہے یہ لڑکا اور اسے گھر بھی لے آئے اب اچانک نکاح کی بات اگر بعد میں معلوم ہوا کہ لڑکا ٹھیک نہیں تو،،،،،،،، بلال حیرت سے بولا
بلال پریشان کیوں ہوتے ہو تمہیں کیا لگتا ہے کہ ہم اپنی بیٹی ایسے ہی کسی ایرے غیرے کو دے دیں گے،،،،،،،،، آحل ون سائیڈڈ مسکرایا
تو پھر کھل کے بتائیں بھائی ہماری کیورسٹی بڑھتی جا رہی ہے،،،،،،،، ماہا بولی



یار یہ تو مجھے یہی رکنے کا بول رہے ہیں اور پتہ نہیں فارس مجھے اپنے گھر تک کب لے کر جائے گا،،،،،،،،، عمر نے موبائل کان کو لگائے دانش سے کہا
کچھ دن صبر کرو اور کچھ ایسا کرو کہ اسے تم پہ ٹرسٹ ہو جائے تبھی وہ تمہیں اپنے گھر لے کر جائے گا،،،،،،،،،،
پرسوں سے وہ ایک بار بھی یہاں نہیں آیا اب میں ایسا کیا کروں جب کچھ موقع ہاتھ لگے گا پھر ہی کچھ نا کچھ کروں گا،،،،،،،،،
اور یہاں سب کیسا ہے،،،،،،،،،
یہاں کچھ خاص کام نہیں ہے نہ جانے اس کے کتنے اور ٹھکانے ہیں جہاں کام چل رہا ہے اس کا،،،،،،،،
عمر نے سامنے لگی ونڈو میں دیکھا کہ فارس کا آدمی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا ہے،،،،،،،،،
جی جی ابا جان اس بار آپ کو بہت سارے پیسے فوں گا گھر کا سب خرچ پورا کروں گا آپ فکر ہی نہ کرو،،،،،،،،
دانش کو معلوم ہو چکا تھا کوئی ہے تبھی وہ ایسا بول رہا ہے اس نے کال ڈسکنیکٹ کر دی،،،،،،،،،
اوکے ابا جان اللہ حافظ اماں کی دوائی بھی اس بار لیتا آؤں گا ٹھیک ہے،،،،،،،، اس نے کال بند کی لیکن رخ نہیں موڑا کچھ دیر بعد وہ آدمی دبے قدموں واپس مڑ گیا



الائیہ آج جلد ہی گھر آ گئی تھی، گھر کسی کو نہ پا کر وہ پریشان ہوئی اس نے ماہاویرا کو کال کر کے پوچھا تو اس نے بتایا وہ سب آحل کے گھر ہیں اور کچھ دیر تک واپس آتے ہیں وہ اپنے روم میں جا کر سو گئی،،،،،،،،،،
فارس کا آدمی جو کہ شام کو آریان کے گھر کے پاس آیا اس کا مقصد الائیہ کو کڈنیپ کرنا تھا پچھلے دو گھنٹوں سے پہرہ دینے کے بعد بھی گھر سے کسی پرندے نے بھی پر نہ مارا،،،،،،،،،
رات کے نو بجے ڈنر کر کے وہ سب آحل کے گھر سے نکلے تھے،،،،،،،،،
جیسے ہی ان کی گاڑی گھر کے قریب آئی تو فارس کا آدمی الرٹ ہوا لیکن ان میں سے تو اسے چھوٹے بالوں والی اور گول چشمے والی لڑکی تو دکھی ہی نہیں تھی،،،،،،،،،،،
اس نے صبح پھر سے آنے کا پلین بنایا اور فلحال کے لیے اپنی منزل کو واپس مڑ گیا،،،،،،،،،،



رات بارہ بجے لیزہ کو پیاس لگی تو اس نے سائیڈ ٹیبل پر پانی کا جگ اٹھایا،،،،،،،،،
اففف یہ تو خالی ہے ایک تو آج کل کی میڈز بھی نا جب تک کہو نا کام نہیں کرتیں،،،،،،،، وہ آنکھوں کو مسلتی ہوئی اٹھی اور چپل میں پاؤں گھسائے
لاؤنج میں ملگجا سا اندھیرا تھا وہ دھیان سے چلتی ہوئی کچن میں آئی اور سوئچ بورڈ پر ہاتھ رکھا جب کسی کا لمس اسے جھنجھنا گیا،،،،،،،،،،
آہ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ چلّاتی ایک مظبوط ہاتھ نے اس کے نرم ہونٹوں کو دبا لیا،،،،،،،،،
وہ آنکھیں پھاڑے اس شخص کو دیکھنا چاہتی تھی مگر اندھیرے کی وجہ سے ناکام رہی،،،،،،،،،
شششش۔۔۔۔۔۔ لیزہ کا رکا ہوا سانس وہ محسوس کر سکتا تھا اس نے آہستگی سے اس کے ہونٹوں کو آزاد کیا تو وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی
ار۔۔۔۔ارحام،،،،،،،، اس نے لمبا سانس بھرتے ہوئے اس کا نام پکارا
کچھ مت کہو۔۔۔۔۔ اس نے لیزہ کے ہونٹوں پر شہادت کی انگلی رکھی
میں کب سے تم سے بات کرنے کا موقع ڈھونڈ رہا تھا لیکن نہیں ملا،،،،،،،،، وہ سرگوشی میں بات کر رہا تھا ان دونوں کے علاوہ یہاں صرف اندھیرا تھا
رات کے اس وقت نہیں صبح بات کریں گے،،،،،،،،،
نہیں مجھے ابھی کرنی ہے،،،،،،،،، اس نے اس کے کان میں سرگوشی کی
ک۔۔کیا بات،،،،،،،،، وہ ہچکچائی
تو بات شروع کرتا ہوں پہلے دن سے جب میں نے تمہیں دیکھا تھا، تمہاری مغرور آنکھیں۔۔۔۔ اس نے لیزہ کی آنکھوں پہ ہاتھ رکھا جس سے وہ آنکھیں موند گئی
تمہاری چڑچڑی ناک۔۔۔۔ اس کی ناک کی نوک پہ انگلی رکھے شاید وہ مسکرایا تھا
اس کے لمس سے لیزہ کی سانسیں تیز ہوتی جا رہی تھیں ارحام ایسے تو پہلے کبھی نہ بولا تھا،،،،،،،،،،
تمہارے بال۔۔۔۔۔ اس نے اندھیرے میں اس کے بالوں کو کان کے پیچھے دھکیلا
تمہارے سرخ گال،،،،،، اس نے لیزہ کی رخسار پہ ہاتھ رکھا
تمہارے۔۔۔۔ وہ خاموش ہوا مگر اس کا انگوٹھا لیزہ کے ہونٹوں پر تھا،،،،،،،،،
اس کے لمس نے اس نے شدت سے اپنے ہونٹوں کو بھینچ لیا اس کی اس حرکت پر ارحام کے ہونٹ مسکرائے،،،،،،،،،
وہ اس کے مزید قریب ہوا اتنا کہ لیزہ اب اس کی گرم سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی اور وہ بھی یہی محسوس کر رہا تھا،،،،،،،،،
اس کی قربت کا احساس اس قدر نزدیک ہو چکا تھا کہ لیزہ کو لگا ان دونوں کے ہونٹ آپس میں ٹکرا جائیں گے،،،،،،،،،
اگلے پل ارحام کی پیشانی اس کی پیشانی سے ٹکرائی، لیزہ نے سکون کا سانس چھوڑتے ہوئے آنکھیں بند کیں،،،،،،،،
اس نے لیزہ کے ایک طرف سے بالوں میں انگلیاں گھسائیں اور اسے محسوس کرنے لگا،،،،،،،،
آئی لوّ یو لیزہ۔۔۔۔
آئی لوّ یو سو مچ۔۔۔۔۔۔۔
آئی کانٹ لیو وداؤٹ یو۔۔۔۔
آئی لوّ یو۔۔۔۔
دھک۔۔۔دھک۔۔۔دھک۔۔۔ لیزہ کی دھڑکنوں نے شور مچایا
ارحام اس کے احساس میں اتنا گم تھا کہ شاید اسے خود بھی نہیں معلوم تھا وہ کیا کر رہا ہے کیا کہہ رہا ہے،،،،،،،،،،
ار۔۔۔ارحام،،،،،،، اس نے اچانک دونوں ہاتھوں سے ارحام کو خود سے دور دھکیلا
آہ۔۔۔۔۔ ارحام کی دبی سی سسکی کی گونج لیزہ کی سماعت میں پڑی
اوہ مائے گاڈ۔۔۔۔ آئم سو سوری ارحام،،،،،،،، وہ بھاگتی ہوئی اس کے قریب آئی وہ بھول چکی تھی کہ ارحام کا بازو فیکچرڈ ہے،،،،،،،،،،
ارحام ت۔۔۔تم ٹھیک ہو،،،،،،، وہ بوکھلا اٹھی
نہیں بہت درد ہو رہا ہے،،،،،،،،، وہ یہ کہنے کے بعد مسکرایا تھا لیکن اندھیرے میں لیزہ کو کہاں دکھنے والا تھا اس کا یہ ڈرامہ
آئم سوری ارحام میری وجہ سے تمہیں تکلیف پہنچی،،،،،،،،،
ہاں بہت تکلیف ہو رہی ہے،،،،،،،، اس نے مزید تنگ کیا
م۔۔۔مجھے دھیان کرنا چاہیے تھا آئم سوری،،،،،،،، لیزہ کی آنکھوں میں آنسو آئے اس کا لہجہ رندھا ہوا تھا
ہیے لیزہ تم رو رہی ہو،،،،،،،،،
جواب میں وہ خاموش رہی بس اس کی سسکیاں ہی اس کا جواب تھیں،،،،،،،،،،،،
لیزہ کچھ نہیں ہوا مجھے میں ٹھیک ہوں تھوڑا سا پین ہوا تھا بس،،،،،،،،،
ک۔۔کیا،،،،،،، وہ حیران ہوئی
مجھ سے بات مت کرو تم نے مجھ سے جھوٹ بولا،،،،،،، وہ اس کے دوسرے بازو پہ پنچ مارنے لگی
ارحام نے ہنستے ہوئے اس کے ہاتھ کو گرفت میں لیا،،،،،،،،،
ڈو لوّ می۔۔۔۔۔ وہ سنجیدگی سے بولا لیزہ کے منہ کو بریک لگی
ہاں بولو،،،،،،،، اس کی آواز میں عجب خمار تھا جو وہ محسوس کر سکتی تھی
نو۔۔۔۔ وہ غصے سے کہتی مڑنے لگی جب اس نے پھر سے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچا وہ اس کے سینے سے لگتے لگتے بچی تھی،،،،،،،،،
تم اپنی محبت کا اظہار نہ بھی کرو تو خیر ہے کیوں کہ یہ کام تم بہت پہلے ہی کر چکی ہو،،،،،،،،،، اس نے اس کے کان میں سرگوشی کی
ک۔۔کیا لیکن کب،،،،،،، حیرت سے لیزہ کی آنکھیں پھیلیں
جب تم ڈرنک تھی اس رات تم نے مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا،،،،،،،،، وہ مسکرایا
ک۔۔۔۔کیا کیا تم سچ کہہ رہے ہو ارحام،،،،،،، وہ پریشان ہوئی
ہاں بلکل تمہیں مجھ پر یقین تو ہے نا،،،،،،،،، اس نے لیزہ کو تھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کیا
ہاں یقین ہے ل۔۔لیکن،،،،،،،
لیکن کیا،،،،،،،
میں نے اور کیا کیا کیا تھا،،،،،،،، وہ نہایت پریشانی سے بولی جس پر ارحام اس رات کو یاد کر کے مسکرا کر رہ گیا
بتاؤں کیا کیا تھا،،،،،،،،،
ہ۔۔ہاں،،،،،،،
پکی بات ہے،،،،،،،،، اس نے کان میں سرگوشی کی
ارحام پلیز بتاؤ مجھے تب سے ہی بہت کیورسٹی ہو رہی ہے،،،،،،،،،،
لیزہ کے ہوش اڑے جب ارحام کے ہونٹ اسے اپنی رخسار پر محسوس ہوئے،،،،،،،،،،،
وہ اس کی گال چوم کر پیچھے ہوا،،،،،،،،،،
ی۔۔یہ کیا کیا تم نے،،،،،،،،،،، اس کا پورا وجود لرز کر رہ گیا تھا
وہی جو اس رات تم نے کیا تھا،،،،،،،،، وہ مسکراتا ہوا کچن سے باہر نکل گیا اور وہ ابھی بھی کھڑی دو صدموں میں مبتلا تھی ایک یہ کہ وہ ارحام کو کِس کر چکی تھی دوسرا یہ کہ ارحام اسے کِس کر گیا تھا



الائیہ،،،،،،،، ماہاویرا اس کے کمرے میں داخل ہوئی
خیر تو ہے آج تم اٹھی نہیں اتنا ٹائم ہو گیا ہے،،،،،،،،
م۔۔موم مجھے بہت تیز فیور ہو رہا ہے،،،،،،،،،، وہ کانپتی ہوئی بولی
فیور لیکن کیسے کل تک تو ٹھیک تھی،،،،،،، ماہا نے اس کی پیشانی پر الٹے ہاتھ کی انگلیاں رکھیں
کل رات اے۔سی کا ٹیمریچر زیادہ تھا اور میں سو گئی مجھے ذیادہ ٹھنڈ سے فیور ہو جاتا ہے،،،،،،،،،،
اور میری بچی میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتی ہوں ٹھیک ہے تم ابھی ٹھیک ہو جاؤ گی،،،،،،،، ماہا نے پیار سے اس کے گال تھپتھپائے
کیا ہو ماہا پریشان دکھ رہی ہو،،،،،،،،، ماہا جیسے ہی روم میں آئی تو بلال بولا آج وہ آفس کی فائلز گھر ہی چیک کر رہا تھا
الائیہ کو فیور ہو گیا ہے ڈاکٹر کو کال کر رہی ہوں،،،،،،،،،،
اچانک کیسے،،،،،،،،
اے۔سی کے ٹیمریچر وجہ سے ہو گیا ہے،،،،،،،
اچھا تم زیادہ پریشان مت ہو معمولی بخار ہے جلد ٹھیک ہو جائے گی،،،،،،،،،، اس نے ماہا کو تسلی دی
آمین،،،،،، ماہا نے جیسے ہی کہا ڈاکٹر نے کال ریسیو کی



خان بابا کب ٹھیک ہو گا،،،،،،،، ایشا کالج سے چھٹی پر واپس آرہی تھی جب اس کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا
بیٹیا دکان تو بہت دور ہے ہم صاحب جی کو کال کرتا ہے وہ تم کو آکر لے جائے گا،،،،،،،،، چونکہ ڈرائیور پٹھان تھا اس لیے وہ اپنے لہجے میں بولا
پاپا نے تو آفس کے جھنجھٹ سے نکلنے میں بہت دیر لگا دینی ہے،،،،،،،،، اس نے تنگ آکر اپنا چشمہ اوپر کیا
تو پھر ہم کیا کرے تم ہی ہم کو بتاؤ گاڑی بھی ٹھیک نہیں کروانے دیتا اور بابا کو بھی نہیں بلانے دیتا،،،،،،،،،،،
افففو خان بابا آپ گھر سے گاڑی ٹھیک کر کے لاتے نا تو اب خراب نہ ہوتی،،،،،،،،،،،
ارے بیٹیا جب ہم گھر سے آیا تھا تو گاڑی ٹھیک تھا ابھی خراب ہوا ہے تو ٹھیک بھی اب ہی کروائے گا نا،،،،،،،،، اس کی بات پر ایشا نے سر کھجایا
میں لفٹ لے لیتی ہوں آپ گاڑی ٹھیک کروا کے لے آنا گھر،،،،،،،،،،
نہ نہ ایسا نہیں کرنا صاحب جی ہم کو نوکری سے نکال دے گا،،،،،،،،،،،
پاپا کو نہیں پتہ چلے گا نا،،،،،،،، اس نے ناک چڑائی
بیٹیا کیوں ہم غریب کا نوکری خطرے میں ڈال رہا ہے،،،،،،،،،،، ڈرائیور نے مسکین سا منہ بنایا
ایشا اپنے پاس گزرتی ہوئی گاڑیوں کو دیکھ رہی تھی جب ایک گاڑی اس کے پاس سے گزری اسے لگا اس میں وہی سوپر مین انکل ہے،،،،،،،،،،
سوپر مین انکل،،،،،،،،،،، اس نے لاؤڈلی کہا چونکہ وہ گاڑی ابھی ان کے نزدیک ہی تھی اس میں بیٹھے شخص نے اس کی آواز سنی اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو وہ گاڑی کے پیچھے بھاگ رہی تھی اور اس کے پیچھے خان بابا بھاگ رہے تھے
سوپر مین انکل،،،،،،،،، وہ چلّاتی ہوئی اپنی فل پسیڈ پر تھی
گاڑی روکو،،،،،،،،، فارس نے اپنے ڈرائیور سے کہا چرار کی آواز سے گاڑی کو بریک لگی
وہ ہانپتی ہوئی ونڈو کے پاس گھڑی ہوئی،،،،،،،،،
س۔۔۔سوپر مین انکل،،،،،،،،،
بیٹیا،،،،،،، خان بابا بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے آرہے تھے بوڑھی کمزور ہڈیاں آخر ایشا کے جتنا تیز تو بھاگ نہیں سکتی تھیں
سوپر مین انکل دروازہ کھولیں جلدی جلدی،،،،،،،،،،
لیکن کیوں،،،،،،،، اس نے سادہ سا سوال کیا جس پر ایشا نے انگلی سے چشمہ اوپر کر کے اسے دیکھا
فارس نے اس کی یہ حرکت کافی غور سے دیکھی تھی،،،،،،،،،،،
و۔۔۔وہ انکل مجھے کڈنیپ کر رہے ہیں،،،،،،،،،، اس نے فٹ سے جھوٹ بولا کہ فارس ڈر کر دروازہ کھولے گا اور وہ اندر گھس جائے گی
فارس نے دروازہ تو کھولا لیکن اسے اندر گھسانے کی بجائے خود باہر نکل آیا وہ چھ فٹ کا لمبا چوڑا لڑکا جب اس کے ساتھ کھڑا ہوا تو وہ چار فٹ پانچ انچ کی لڑکی گردن اوپر کو اٹھائے اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی،،،،،،،،،،
ارے آپ کیوں نکل آئے مجھے اندر جانا تھا،،،،،،،،،، وہ ماتھے پہ تیوری چھڑائے بولی فارس تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا
ارے بیٹیا کہاں جا رہا ہے صاحب جی ہم کو نوکری سے نکال دے گا،،،،،،،،،،، خان بابا گھٹنو پر ہاتھ رکھ کر لمبے لمبے سانس لینے لگے
فارس نے ایک آئبرو اچکا کر ایشا کی طرف دیکھا وہ تو اسے کڈنیپر بنا رہی تھی،،،،،،،،،،
و۔۔۔وہ مجھے آپ سے لفٹ لینی ہے پلیز،،،،،،،،،، اس نے بتیسی نکالی
لفٹ لینے کے لیے مجھ سے جھوٹ بولو گی،،،،،،،،،، وہ سنجیدہ تھا
ارے آپ ڈور نہیں کھول رہے تھے نا اور خان بابا جانے نہیں دے رہے تھے اسی لیے کہا،،،،،،،،، اس نے بات ختم کرنے کے بعد ہونٹوں کو گول کیا
کہاں جانا ہے تمہیں،،،،،،،،،،
گھر،،،،،،، وہ منہ بسورے بولی
لیکن صاحب جی ہم اس کو ایسے کسی کے ساتھ جانے نہیں دے سکتا،،،،،،،،،، خان بابا بولے
لیکن مجھے جانا ہے جانا ہے جانا ہے۔۔۔۔۔۔ پلیز سوپر مین انکل،،،،،،،،، وہ التجائیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی نہ جانے کیوں فارس اسے انکار نہ کر پایا
گاڑی میں بیٹھو،،،،،،،،،
یہہہہہ،،،،،، وہ خان بابا کو انگوٹھا دکھاتی ہوئی گاڑی میں بیٹھ گئی
فارس نے گاڑی سے تازہ نوٹوں کی گٹھی نکال کر خان بابا کی طرف اچھالی،،،،،،،، نوکری سے نکال دیا گیا تو کام آئیں گے وہ کہتا،،،،،، ہوا گاڑی میں بیٹھا
تھینک یو سو مچ سوپر مین انکل یو نو یو آر ویری ہینڈسم،،،،،،،،،،، وہ بتیسی نکالتی ہوئی بولی
فارس نے ایک نظر اس کے کیوٹ سے فیس پہ ڈالی پھر بولا،،،،،،،،،
گھر کہاں ہے تمہارا،،،،،،،،،
یہاں سے لیفٹ پر۔۔۔۔ میں ساتھ ساتھ بتاتی جاؤں گی اوکے،،،،،،،،، وہ خوشی سے بولی
ہممممم،،،،،،، وہ کہہ کر ونڈو سے باہر دیکھنے لگا
ایشا نے بیگ سے چاکلیٹ نکالی،،،،،،،،،،
سوپر مین انکل آپ کھائیں گے کیا،،،،،،،،،،،
فارس نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا پھر اس کے ہاتھ میں پکڑی چاکلیٹ کی طرف دیکھا،،،،،،،،،،
اس نے نفی میں سر ہلایا اور پھر سے ونڈو کے پار دیکھنے لگا ایشا نے کندھے اچکائے اور آرام سے چاکلیٹ کھانے لگی،،،،،،،،،،
چاکلیٹ میلٹ تھی اور گاڑی کے شیکنگ کی وجہ سے چاکلیٹ اس کی تھوڑی اور رخساروں پر لگ چکی تھی،،،،،،،،،،
فارس نے رخ سیدھا کیا جب فرنٹ مرر سے ایشا کا چہرہ دیکھا اس نے حیرت سے فوراً ایشا کی طرف گردن موڑی،،،،،،،،،،،
وہ ہونٹوں پر زبان لگاتی مزے سے چاکلیٹ کھا رہی تھی،،،،،،،،،،
فارس کو اپنی طرف متوجہ پا کر ایشا نے اس کی طرف دیکھا اور آنکھوں سے “کیا” کا اشارہ کیا،،،،،،،،،
فارس نے نفی میں سر ہلایا اسے ایشا کا چاکلیٹ سے بھرا منہ دیکھ کر ہنسی آرہی تھی جسے وہ دبا کر رہ گیا،،،،،،،،،،،
سوپر مین انکل کیا میرے چیکس پہ چاکلیٹ لگی ہے،،،،،،،،،، اس نے نہایت معصومیت سے پوچھا فارس نے اثبات میں سر ہلایا
کیا سچی ایک منٹ اس کو ابھی صاف کرتی ہوں،،،،،،،،،، وہ کھڑی ہوئی اور سیٹ کو پکڑتی ہوئی سامنے پڑے ٹشو کے باکس میں سے ٹشو نکالنے لگی،،،،،،،،
فارس اس کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہا تھا ٹشو نکال کر وہ جیسے ہی بیٹھے کے لیے پیچھے ہوئی گاڑی کو ایک زور دار جھٹکا آیا اور وہ فارس کی گود میں جا گری،،،،،،،،،،
فارس ایک دم سے ساکت ہوا ایشا موٹی موٹی آنکھوں کو پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی،،،،،،،،
فارس کی نظر اچانک اس کے چھوٹے خوبصورت ہونٹوں پر پڑی جو چاکلیٹ سے کلیجی مائل ہو چکے تھے،،،،،،،،،،،،
آ۔۔آیم س۔۔۔سو سوری س۔۔۔سوپر مین انکل،،،،،،،،، وہ انگلی سے چشمے کو دھکیلتی واپس اپنی سیٹ پر آئی،،،،،،،،،
اسے کسی قسم کی فیلنگز نہیں آئیں تھیں لیکن وہ ایمبیرسڈ تھی کیوں کہ وہ جانتی تھی جو بھی ہوا اچھا نہیں ہوا،،،،،،،،،،
یہاں پر روک دیں انکل آگے میں خود چلی جاؤں گی،،،،،،،،، ایشا کی آواز پر ڈرائیور نے بریک لگائی
ایشا بیگ اٹھائے باہر نکلنے لگی جب فارس بولا،،،،،،،،،
اسی منہ کے ساتھ باہر جاؤ گی کیا،،،،،،،،
ایشا نے ہونٹ بھینچتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور تیزی تیزی سے اپنا منہ صاف کرنے لگی،،،،،،،،،،
ٹشو باکس پکڑاؤ،،،،،،،، فارس نے ڈرائیور سے کہا
اس نے ایشا کو ایک ٹشو مزید نکال کر دیا اور وہ اسے پکڑے اپنے فیس پہ رگڑنے لگی،،،،،،،،،،
وہ باہر نکلنے لگی جب فارس نے ایک اور ٹشو اس کی طرف بڑھایا کیوں کہ چاکلیٹ ابھی بھی لگی تھی،،،،،،،،،،
میرے پاس کونسا مرر ہے میں تو ایسے ہی کروں گی نا کلین یا تو آپ خود کر دو،،،،،،،، وہ موٹی نیلی آنکھوں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی
فارس نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی پھر خود ہی اس کا فیس صاف کرنے لگا،،،،،،،،
وہ اسے بلکل بچوں کی طرح بیحیو کرتی ہوئی لگ رہی تھی ہونٹوں کو بھینچے آنکھیں بند کیے وہ بڑے آرام سے اس کے سامنے بیٹھی تھی،،،،،،،،،،
ہو گیا چلو جاؤ اب،،،،،،،،، فارس کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولیں
تھینک یو سوپر مین انکل،،،،،،،،،، وہ مسکراتی ہوئی باہر نکلی اور بھاگ گئی
بلکل پاگل ہے،،،،،،،،، وہ زیرِلب کہہ کر مسکرایا
