Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 04)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 04)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
ت۔۔تم نے کہا تھا رات کو مجھے بتاؤ گے کہ تم نے میرے ساتھ اتنا برا مذاق کیوں کیا،،، وہ بول رہی تھی اور آریان اس کی سانسیں اپنی گردن پر پڑتی محسوس کر رہا تھا
تو اس لیے تم بنا ناک کیے اندر آگئی ایک جوان لڑکے کے روم میں جس سے ملے تمہیں ابھی صرف دو ہی دن ہوئے ہیں،،، وہ اس کے مزید قریب ہوا اور الائیہ اپنے قدم پیچھے کی جانب اٹھانے لگی
ک۔۔کیا مطلب ہے تمہارا تم اس گھر میں اکیلے نہیں ہو آنٹ انکل میڈز سب ہیں،،، وہ اچانک دیوار کے ساتھ لگی اور آریان نے اس کے آس پاس دیوار پر بازو رکھے
لیکن اس وقت تم میرے کمرے میں اکیلی ہو اور اس بات کا باہر کسی کو نہیں معلوم اور یقیناً سب اپنے اپنے روم میں سو چکے ہوں گے،،، اس نے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد اس کے چہرے پر پھونکا جس سے الائیہ نے اپنی آنکھیں بند کیں
یہ تم اتنا ڈر کیوں رہی ہو الائیہ سب گھر میں موجود ہیں اور ویسے بھی تم اتنی ڈرپوک کب سے ہو گئی تمہیں تو سیکرٹ ایجینسی جوائن کرنی ہے تم بہادر ہو،،، الائیہ نے حیرت سے دل ہی دل میں اپنے آپ سے کہا
او مسٹر یہ روعب اور دبدبہ کسی اور کو دکھانا میرا نام الائیہ ہمدانی ہے اور میں تم سے ڈرنے والی نہیں مجھے سیدھی طرح بتاؤ کس بات کا بدلہ لیا ہے تم نے مجھ سے،،، وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولی
آریان اچانک اس کے روپ بدلنے پر حیران ہوا پھر جلد ہی خود کو نارمل کیا،،،
بات بدلے پر آہی گئی ہے تو سنو پھر یونی سے لاسٹ ڈے کے بعد نیکسٹ ڈے میرا فل ڈے سونے کا پلین صرف اور صرف تمہاری وجہ سے چوپٹ ہو گیا،،، اس نے الائیہ کی طرف انگلی کی
وہ کیسے ذرا ایکسپلین کرو گے،،، اس نے اس کی انگلی کو جھٹکتے ہوئے کہا
ہاں ہاں کیوں نہیں کیوں کہ اس دن تمہیں بارہ بجے ائیر پورٹ سے لینے جانا تھا اس لیے میری نیند خراب ہونے کی وجہ تم تھی،،، اس نے پھر سے اس کی طرف انگلی اٹھائی
اوہ مائے گاڈ تو تم نے اس بات کا بدلا لیا مجھ سے میرے کپڑوں میں الرجی پرفیوم لگا کر،،، اس نے آریان کی انگلی کو پھر سے جھٹکا
ہاں بلکل،،، وہ فاتحانہ مسکرایا
میں نے نہیں کہا تھا کہ تم مجھے لینے آؤ اس سے اچھا تھا کہ آنٹ مجھے لینے کسی میڈ کو بھیج دیتیں،،، وہ دانت پیستے بولی
کاش کہ ایسا ہوتا اور فل ڈے سونے کا میرا پلین بھی خراب نہ ہوتا اچھا اب وجہ جان لی تم نے چلو اب اپنے کمرے میں جاؤ شاباش،،،
جا رہی ہوں،،، وہ دل ہی دل میں اس سے بدلا لینے کا سوچتے ہوئے کمرے سے باہر نکلی
تمہیں تو میں چھوڑوں گی نہیں آریان خانزادہ تمہیں مزہ چکھا کر رہوں گی،،، وہ اپنے کمرے میں آئی اور زور سے دروازہ بند کیا
اس کے جانے کے بعد آریان نے مسکراتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور روم لاک کیے واپس سے بیڈ پر لیپ ٹاپ اٹھائے بیٹھ گیا،،،



آریان کہاں ہو تم پلیز آجاؤ مجھے تمہاری ضرورت ہے میں تم سے محبت کرتی ہوں شدید محبت دیوانگی کی حد تک تمہارے بغیر میں مر جاؤں گی کہاں ہو پلیز آجاؤ،،،
ایرہ اپنے روم میں لیٹی درد بھرے دل میں آریان سے باتیں کر رہی تھی وہ اکثر اسی طرح اسے دل میں مخاطب کیا کرتی تھی
اتنے سالوں سے وہ اسے ڈھونڈ رہی تھی لیکن ایک بار بھی ہمت نہیں ہاری اس کا دل کہتا تھا ایک دن آریان اسے ضرور ملے گا،،،
ایرہ میری گڑیا،،،
فارس کی آواز پر ایرہ نے جلدی سے اپنی نم آنکھیں صاف کیں،،،
آپ آگئے بھائی،،،
ہاں آج کام جلدی ختم ہو گیا تھا اس لیے،،، وہ اس کے پاس آکر بیٹھا
ایرہ تم رو رہی ہو،،، فارس نے اس کی سرخ آنکھوں کو نوٹ کیا
نہیں تو بھائی،،،
کیوں جھوٹ بول رہی ہو تم جانتی ہو تم ذرا سی بھی تکلیف میں ہوتی ہو تو مجھے فوراً پتہ چل جاتا ہے،،،
فارس کی بات پر ایرہ خاموش رہی،،،
اتنی محبت کیوں کرتی ہو اس شخص سے جو تمہیں جانتا تک نہیں ہے،،،
ایرہ کی طرف سے ابھی بھی خاموشی تھی،،،
پانچ سال پہلے تک اس سے ملی تھی اور ہو سکتا ہے اب تک وہ کسی اور سے محبت۔۔۔
اس سے پہلے کہ فارس اپنی بات مکمل کرتا ایرہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا،،،
نہیں۔۔۔ نہیں بھائی ایسا سوچیے گا بھی مت وہ صرف میرا ہے اس پر اس کی محبت پر صرف میرا حق ہے میں اسے کسی اور کا ہرگز نہیں ہونے دوں گی،،، وہ آنکھوں میں جنونیت لیے بولی جس سے فارس کو خوف آنے لگا ایرہ کی یہ جنونیت کسی دن اسے نقصان پہنچا سکتی تھی
اچھا ٹھیک ہے جو تم کہہ رہی ہو ایسا ہی ہو گا،،، اس نے اسے ریلیکس کرنے کے لیے کہا
فارس کی بات سن کر ایرہ نے سکون کا سانس لیا کیوں کہ وہ اپنے بھائی کی بات پر ہمیشہ سے ہی بھروسہ رکھتی تھی اور اسے معلوم تھا اس کا بھائی اس کی خوشی کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے،،،
نیچے آجاؤ مل کے ڈنر کرتے ہیں ٹھیک ہے،،، وہ اس کی گال تھپتھپاتا ہوا پیار سے بولا تو ایرہ نے اثبات میں سر ہلایا



ہما آج میں اس لڑکے سے بدلا لینے کا پلین سوچ آئی ہوں،،، نیکسٹ ڈے یونی آ کر لیزہ نے ہما سے کہا
اچھا اور کیا پلین ہے،،، ہما نے تجسس سے پوچھا
یہ لڑکیوں سے چالو ہے نا لڑکیوں سے فرینڈشپ بھی نہیں کرتا،،،
ہاں تو پھر،،، ہما بولی
بس پھر اب میں اسے ایسا مزہ چکھاؤں گی کہ ساری عمر نہیں بھولے گا،،،
اوکے لیکن پلین تو بتاؤ،،،
لیزہ نے ہما کو سارا پلین بتایا،،،
نہیں یار یہ بہت زیادہ ہو جائے گا،،، ہما پریشانی سے بولی
کیا مطلب اب تم میں بھی ذوہا کی روح گھس گئی ہے،،،
نہیں لیزہ ایسی بات نہیں ہے لیکن ایک بار پھر سے سوچ لو کہیں تمہیں بعد میں گلٹی فیل نہ ہو،،، ہما نے اسے سمجھانا چاہا
ارے کچھ نہیں ہوتا تم فکر نہ کرو مجھے اپنا بدلا لینے کے بعد گلٹی نہیں بلکہ پرسکون فیل ہو گا،،،
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی،،، ہما نے ہتھیار پھینکے
اوکے تو اب میں اسے باتوم میں لگاؤن گی اور تمہیں وہ کام کرنا ہو گا،،، لیزہ بولی
کیا م۔۔میں،،،
ہاں تم کیوں کوئی مسئلہ ہے کیا،،،
نہیں مسئلہ تو کوئی نہیں ہے،،،
چلو پھر میرے ساتھ،،، لیزہ اس کا ہاتھ پکڑے چلنے لگی
آج ذوہا ابھی تک یونی نہیں آئی تھی جو لیزہ کو روکتی،،،
ارحام سیڑھیوں پر بک کھولے بیٹھا تھا،،،
ہیلو ارحام،،، وہ مسکراتے ہوئے بولی
ارحام نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور پھر سے بک کی طرف دیکھنے لگا
اہم اہم۔۔۔ارحام مجھے تم سے ایک بات کرنی تھی،،،
جی کہیں،،، اب وہ لیزہ کی طرف دیکھ رہا تھا
کیا تم میرے ساتھ چلو گے،،،
لیکن کہاں،،،
بس یہیں ساتھ چل پھر لیں گے اور بات بھی کر لیں گے،،،
اوکے،،، ارحام اپنا بیگ اٹھانے لگا جب فوراً لیزہ بولی
سب یہیں رہنے دو ہما ہے یہاں میرا بیگ بھی ہما کے پاس ہے،،،
لیکن مجھے اپنا بیگ اٹھانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے،،، ارحام نے کہا
اوکے اگر تمہیں ہم پر ٹرسٹ نہیں ہے تو اٹھا لو اپنا بیگ،،، ہما نے کہا تو ارحام نے اس کی طرف دیکھا
اس نے اپنی بک بیگ سائیڈ پر رکھی اور بنا بیگ اٹھائے کھڑا ہوا جس پر لیزہ کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ رونما ہوئی،،،
وہ اسے سائیڈ پر لے کر آئی اور آہستہ قدموں سے چلنے لگی،،،
لیزہ اپنا رخ ایک سائیڈ کیے سٹوڈنٹس کو دیکھ رہی تھی جب ارحام نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا، براؤن بالوں کی لٹیں ہوا سے اڑتی ہوئی اس کے بے داغ چہرے کو چوم رہی تھیں،،،
وہ جیسے ہی اپنا رخ سیدھا کرنے لگی ارحام نے تیزی سے اس سے نظریں ہٹائیں،،،
کیا کہنا ہے آپ کو کہیں میرے لیکچر کا ٹائم ہونے والا ہے،،،
وہ میں تمہارے بارے میں جاننا چاہتی ہوں کیوں کہ تم بہت خاموش طبعیت ہو یہاں تو سبھی بہت مستی اور انجوائے کرتے ہیں لیکن میں نے تمہیں کبھی ایسے نہیں دیکھا،،، یہ سب پوچھنا تو صرف ایک بہانہ تھا وہ تو صرف اسے دور لا کر اپنا پلین پورا کرنا چاہتی تھی
مجھے اکیلا رہنا پسند ہے،،، وہ مختصر بولا
اوہ لیکن ایسا کیوں،،، وہ اپنی نیلی آنکھوں کو موٹا کر کے بولی تو ارحام اس کی خوبصورت آنکھوں کو غور سے دیکھنے لگا
میرے لیکچر کا ٹائم ہو گیا ہے مجھے چلنا چاہیے،،، وہ بنا کچھ بولے وہاں سے چلنے لگا اگر وہ کچھ دیر مزید اس کی آنکھوں میں دیکھتا تو اس کا دل اس کی طرف مزید کھینچا چلا جاتا
واپس آکر اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور یونی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گیا،،،
لیزہ تیز قدموں سے ہما کی طرف آئی،،،
کام ہو گیا کیا،،،
ہاں ہو گیا ہے،،،
ییس اب آئے گا مزہ،،، لیزہ خوشی سے بولی



آریان پھر کب سے آفس جوائن کر رہے ہو،،، ناشتے کی ٹیبل پر ناشتہ کرتے ہوئے بلال نے آریان سے پوچھا
ڈیڈ آپ ابھی سے آفس جوائن کرنے کا کہہ رہے ہیں بھئی میں ابھی نہیں کروں گا،،، اس نے ٹوز کا نوالہ میں میں رکھتے ہوئے کہا
تو کب کرنا ہے چھبیس سال کے تو ہو گئے ہو،،،
او ہو بلال کیا ہو گیا ہے آپ کو ابھی اس کے انجوائے کرنے کے دن ہیں میرے مرحوم ڈیڈ نے آحل بھائی کو کبھی پوچھا تک نہیں تھا شادی کے بعد اس نے بزنیس سمبھالا تھا،،، ماہاویرا بولی تو آریان نے سکون کا سانس لیا
اچھا بھئی نہیں کہتا کچھ،،، بلال ناشتے میں مصروف ہوا تو آریان بھی مسکراتا ہوا ناشتہ کرنے لگا
آریان دو دن ہو گئے ہیں تم الائیہ کو کہیں لے کر نہیں گئے بچی پاکستان میں پہلی بار آئی ہے اسے باہر لے کر جاو گھماؤ پھراؤ،،، بلال کی بات سن کر آریان کا نوالہ حلق میں اٹکا
اس کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمودار ہوئے کیوں کہ اس کا بلکل بھی موڈ نہیں تھا باہر دھکے کھانے کا،،،
لیکن ڈیڈ۔۔۔
جی انکل آپ بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں میں بھی پاکستان دیکھنا چاہتی ہوں،،، اس سے پہلے کے آریان اپنی بات مکمل کرتا الائیہ بولی کیوں کہ وہ آریان کے فیس ایکسپریشن نوٹ کر چکی تھی،،،
آریان نے الائیہ کو گھوری سے نوازہ،،،
ہاں ہاں کیوں نہیں آریان تمہیں ضرور لے کر جائے گا،،، رہی سہی کثر ماہاویرا نے نکال دی اب آریان کے پاس انکار کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی تھی
تھینک سو مچ انکل اینڈ آنٹ آپ دونوں کتنے اچھے ہیں،،، الائیہ مسکرا کر بولی جس سے آریان کو مزید تپ چڑھی
الائیہ نے اس کا سرخ چہرہ دیکھا تو دانتوں تلے لب دبایا اب بدلا لینے کی باری الائیہ کی تھی،،،



آحل آفس میں بیٹھا کام کر رہا تھا جب اس کا موبائل رنگ ہوا،،،
ہیلو،،، اس نے موبائل کان کو لگایا
مسٹر آحل میں ایشا کے کالج کی پرنسپل بات کر رہی ہوں آج ایشا نے ایک سٹوڈنٹ کے ساتھ بہت جھگڑا کیا ہے اور اس کے ساتھ فائٹ بھی کی ہے جس کے نتیجے میں وہ سٹوڈنٹ ذخمی بھی ہو چکی ہے،،،
کیا ایشا نے کیا یہ سب،،، آحِل کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا
جی اور یہ میری آخری وارننگ ہے نیسکٹ ٹائم اس کی ایک بھی کمپلین آگئی تو میں اسے فائر کر دوں گی،،،
میں اس کی طرف سے سوری کہتا ہوں اور آپ کو نیسکٹ ٹائم اس کی کمپلین نہیں ملے گی اس بات کی گارنٹی میں دیتا ہوں،،،
اوکے آپ اب اسے آکر لے جائیں کیوں کہ وہ کسی کی بات نہیں مان رہی،،،
اوکے میں ابھی آتا ہوں،،، آحل نے کال ڈسکنیکٹ کر کے گاڑی کی کیز اٹھائیں اور پریشان سا آفس سے باہر نکلا
کچھ دیر تک وہ ایشا کے کالج کے باہر تھا،،،
ایشا کالج سے باہر نکلی اس کا حلیہ بگڑا ہوا تھا جیکٹ پھٹ چکی تھی اور سر کے چھوٹے بال بکھرے ہوئے تھے،،،
وہ آکر گاڑی میں بیٹھ گئی وہ دل ہی دل میں ڈر بھی رہی تھی کیوں کہ آحل کے چہرے پر اتنے سرد تاثرات اس نے پہلے کبھی نہ دیکھے تھے،،،
کچھ دیر گاڑی میں خاموشی رہی پھر ایشا نے اس خاموشی کو توڑنے کی کوشش کی،،،
پاپا غلطی اس کی تھی میری نہیں،،،
وہ خاموشی سے گاڑی چلاتا رہا جس سے ایشا مزید ڈرنے لگی،،،
پاپا اس نے بھی مجھے مارا ہے یہ دیکھیں،،، اس نے اپنا بازو آگے کر کے دکھایا جہاں اس کی کہنی سے خون بہہ رہا تھا لیکن آحل نے ایک نظر بھی اس کے ذخم کی طرف نہ دیکھا،،،
ایشا کو شدید تکلیف ہوئی کیوں کہ وہ زخمی تھی اور اس کے پاپا کو پرواہ بھی نہیں تھی ایسا پہلی بار ہوا تھا،،،
کچھ دیر وہ آحل کے جواب کا انتظار کرتی رہی اور پھر رونا شروع کر دیا،،،
آحل نے اسے روتا دیکھ کر گاڑی کو ایک سائیڈ پہ لا کر کھڑا کیا،،،
اس نے ٹشو کے پیک سے ایک ٹشو پیپر نکالا اور اس کا بازو پکڑ کر بلڈ صاف کرنے لگا،،،
پ۔۔پاپا آپ مجھ سے ن۔۔ناراض ہیں،،، وہ ہچکیوں سے روتی ہوئی بولی
آحل نے فرسٹ ایڈ باکس کھولا اور اس کے بازو پر بینڈیج لگایا،،،
ایشا میری جان میں نے آج تک ہر بات میں تمہارا ساتھ دیا ہے تمہاری ماما نے جس جس بات سے تمہیں روکنا چاہا میں نے اسے جیسے بھی منایا اور تمہاری وہ ضد بھی پوری کی لیکن تم میری ایک بات نہیں مان سکتی،،،
تمہیں میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ فائٹ کرنا چھوڑ دو اس سے کسی دن تمہیں نقصان اٹھانا پڑے گا لیکن تم نے میری بات نہیں مانی آج پرنسپل نے مجھے اتنا شرمندہ کیا وہ تمہیں سکول سے نکالنے کی بات کر رہی تھی لیکن میں نے معاملے کو ہینڈل کر لیا،،، ایشا سر جھکائے اس کی باتیں سن رہی تھی
آئم سوری پاپا آئندہ آپ کو کالج سے میری کوئی کمپلین نہیں ملے گی بس آپ مجھ سے ناراض مت ہونا،،،
آحل نے اس کی نرم رخساروں کو صاف کیا اور پیشانی کو چوم لیا وہ جانتا تھا ایشا کو اس کی ناراضگی ہرٹ کرے گی لیکن اپنی بات منوانے کا اس کے پاس کوئی اور طریقہ نہ تھا
پاپا ماما کو مت بتائیے گا،،، وہ پریشانی سے بولی کیوں کہ وہ جانتی تھی ذائشہ کو معلوم ہو گیا تو اس کے لیے مسئلہ کھڑا ہو جائے گا
نہیں بتاؤں گا تم بے فکر رہو اور گھر جانے سے پہلے پہلے اپنی یہ پیاری سی شکل ٹھیک کر لو بہت بری لگ رہی ہو روتی ہوئی،،، اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو ایشا مسکرانے لگی



فارس کی گاڑی ایک پرانے گھر کے باہر آکر رکی، واچ مین نے گیٹ کھولا تو دو گاڑیاں اندر داخل ہوئیں،،،
وہ گاڑی سے نکلا اور اس سے پچھلی گاڑی سے اس کے کچھ خاص آدمی نکل کر اس کے ساتھ چلنے لگے،،،
چلتے ہوئے وہ گھر کے پچھلے حصے میں پہنچے جہاں ایک بڑا سا دروازہ تھا ایک آدمی نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو فارس اندر داخل ہوا اس کے پیچھے کھڑے آدمی بھی اندر داخل ہوئے،،،
اندر بہت بڑا ہال تھا جس میں بہت سے لوگ گوشت کے بڑے بڑے حصوں کو لمبائی میں کاٹتے ہوئے اس میں اسلحہ چھپا رہے تھے،،،
ایک لڑکا تیز قدموں سے فارس کی طرف بڑھا اس کا نام سلمان تھا فارس نے اسے یہاں کا انچارج بنا رکھا تھا،،،
سلمان کوئی مسئلہ تو نہیں ہے،،، فارس نے کام کرتے ہوئے آدمیوں کی طرف دیکھ کر پوچھا
نہیں باس کوئی مسئلہ نہیں ہے کل صبح تک سب ریڈی ہو جائے گا،،،
ہممم بحری جہاز تیار ہیں،،،
ییس باس وہ بھی تیار ہیں کسی قسم کا کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے،،،
اوکے کل رات سامان بحری جہازوں میں شفٹ ہو جانا چاہیے ٹائم سے سامان لنڈن پہنچ جانا چاہیے،،،
اوکے باس آپ فکر مت کریں،،، سلمان نے سر جھکائے کہا
فارس نے اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے باہر نکل کر گاڑی میں آکر بیٹھا



ذوہا تیز قدموں سے ان کے پاس آئی تھی،،،
سوری گائیز آج میں لیٹ ہو گئی اور لیکچر سٹارٹ نہیں ہوا کیا دس منٹ اوپر ہو گئے ہیں،،، وہ لیزہ اور ہما کو باہر آرام سے بیٹھا دیکھ کر بولی
آج ہم نے لیکچر سکپ کیا ہے،،، لیزہ نے کہا کیوں کہ یہ پلین کے مطابق تھا
کیا لیکن کیوں یار،،، ذوہا حیران ہوئی
بس میرا دل کر رہا تھا اس لیے چھوڑ دیا،،، لیزہ آرام سے بولی تو ذوہا کی آنکھیں پھیلیں
لیزہ تم نے آج تک کالج میں کبھی لیکچر سکپ نہیں کیا تھا اور آج یونی میں کر رہی ہو،،،
اچھا تم یہ میرا موبائل پکڑو،،، لیزہ نے ذوہا کو اپنا موبائل پکڑایا جسے ذوہا حیرت سے پکڑ گئی
ہما تم چلو میرے ساتھ،،، لیزہ نے کہا تو ہما کھڑی ہوئی
کیا تم دونوں ٹھیک ہو اور لیزہ تم اتنا عجیب بیحیو کیوں کر رہی ہو یار،،،
ارے ذوہا تم پریشان مت ہو میں بلکل ٹھیک ہوں اور کوئی عجیب بیحیو نہیں کر رہی بس میں اور ہما ایک کلاس میں جا رہے ہیں تم نے دور کھڑی ہو کر وہاں کا نظارہ کرنا ہے،،، وہ ایکسائیٹمینٹ کے ساتھ بولی
کیا مطلب ہے نظارہ کرنا ہے،،، ذوہا الجھی ہوئی نظروں سے ان دونوں کو دیکھنے لگی جس پر ہما کندھے اچکا گئی
وہ دونوں چلنے لگیں تو ذوہا ان کے پیچھے چل دی وہ کیمسٹری بلاک میں داخل ہوئیں تھی جبکہ ان کا اپنا سبجیکٹ فزکس تھا،،،
اچھا تم اب یہیں رکو یہاں سے کھڑی ہو کر تمہیں کلاس کے اندر کا ماحول نظر آئے گا،،، اس نے ذوہا کو ونڈو کے ساتھ کھڑا کیا
ہم دونوں اندر جا رہی ہیں اوکے،،، لیزہ نے کہا
ذوہا کی نظر ونڈو سے اندر کلاس میں بیٹھے ارحام پر پڑی تو خطرے کی گھنٹیاں اس کے دماغ میں بجنے لگیں اس سے پہلے کہ وہ انہیں روکتی وہ دونوں کلاس میں داخل ہو چکی تھیں،،،
سر مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے،،، لیزہ نے کلاس میں داخل ہو کر کہا ارحام اسے اپنی کلاس میں دیکھ کر شوکڈ ہوا
جی کہیے،،، سر نے کہا
میرا موبائل چوری ہو گیا ہے،،، لیزہ کی بات پر سر نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا
میں نے اپنا بیگ گراونڈ کی سیڑھیوں پر رکھا تھا اور وہاں ارحام بیٹھا تھا،،،
لیزہ کے منہ سے یہ بات سن کر ارحام حیرت سے اسے دیکھنے لگا وہ اس پر چوری کا الزام لگا رہی تھی،،،
ارحام لیکن وہ ایسا بلکل بھی نہیں کر سکتا ارحام تو نہایت ہی شریف اور اچھا لڑکا ہے،،،سر نے حیرت سے کہا
لیکن میں ایک بار اس کا بیگ چیک کرنا چاہوں گی تبھی مجھے تسلی ہو گی کہ اس نے میرا موبائل نہیں چرایا،،،
ارحام پریشان نظروں سے لیزہ کو دیکھ رہا تھا اس کی چھٹی حِس کچھ غلط ہونے کا بتانے لگی،،،
ٹھیک ہے اگر آپ اپنی تسلی کے لیے اس کا بیگ چیک کرنا چاہتی ہیں تو میں کر دیتا ہوں،،، سر نے کہا تو لیزہ نے اثبات میں سر ہلایا
سر ارحام کے پاس آئے اور اس کے بیگ کی زِپ کھولی بکس کو باہر نکالنے کے بعد ان کے ہاتھ ایک چیز آئی جسے دیکھتے ہی سر اور وہاں بیٹھے سبھی سٹوڈنٹس شوکڈ ہو گئے اور ارحام کو اپنے سر پر آسمان گرتا ہوا محسوس ہو رہا تھا،،،
جاری ہے
