Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan (Episode 23)

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

ایشا واپس آؤ،،،،،،، وہ اس کے پیچھے چلتا ہوا بولا

ایشا لاونج میں داخل ہوئی جہاں ایرہ صوفے پہ بیٹھی تھی ایرہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا،،،،،،،،،

ہیلو سکیئری گرل آپ کے بھائی کو مجھ سے پیار ہے اسی لیے انہوں نے مجھے کڈنیپ کیا اور اب مجھ سے شادی کرنے سے اس لیے ڈر رہے ہیں کیوں کہ انہوں نے آپ کو نہیں بتایا،،،،،،،، اس سے پہلے کہ فارس اندر داخل ہوتا اس نے تیزی سے اپنی بات مکمل کی

ایرہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی وہ کیا کہہ رہی تھی فارس کو پیار وہ بھی اس سے جو خود ایرہ سے بھی تین سال چھوٹی تھی اسے دوران فارس اندر داخل ہوا،،،،،،،،،،

چپ چاپ چلو میرے ساتھ تمہیں گھر چھوڑ کہ آوں،،،،،،،، فارس نے اسے انگلی دکھاتے ہوئے کہا

بھائی کیا کہہ رہی ہے یہ لڑکی،،،،،،،، وہ کھڑی ہوئی

کیا مطلب کیا کہا ہے اس نے تم سے،،،،،،، فارس کو فکر ہونے لگی کہیں نکاح والی بات ایرہ سے نہ کر دی ہو

شی سیڈ یو لوّ ہر،،،،،،،،، ایرہ کی بات سن کر فارس کی سیٹی گم ہوئی اسے وہ جتنی بےوقوف لگ رہی تھی اتنی وہ تھی نہیں اس نے جان بوجھ کر ایرہ کو ایسا کہا تا کہ وہ اس سے نکاح کرنے پر مجبور ہو جائے

ن۔۔نہیں گڑیا پاگل ہے یہ پتہ نہیں کیا چاہتی ہے،،،،،،،، اس نے ایرہ کو سمجھانا چاہا

آپ مجھے چاہتے ہو اور میں آپ کو چاہتی ہوں سمپل،،،،،،،، ایشا نے کندھے اچکائے

تمہیں تو میں گھر چھوڑ کے ہی رہوں گا،،،،،،،، وہ لمبے لمبے ڈگ اٹھاتا اس کی طرف بڑھا

ضرور چھوڑیے گا لیکن نکاح کے بعد،،،،،،،، وہ بھاگتی ہوئی ایک کمرے میں گھس گئی اور اندر سے روم لاک کر لیا

ایشا اوپن دی ڈور،،،،،،، وہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہوا بولا

ایرہ حیرت سے یہ تمام معاملہ دیکھ رہی تھی جو اس کے سر کے اوپر سے گزر رہا تھا

بھائی کیا ہو رہا ہے یہ سب وٹس دی میٹر،،،،،،،، ایرہ کی آواز پر فارس نے لمبا سانس چھوڑا

وہ کہہ رہی ہے آپ اسے لائک کرتے ہیں لیکن آپ نے مجھے نہیں بتایا اس لیے اب اس سے نکاح کرنے سے انکار کر رہے ہیں،،،،،،،،

بیٹھو تمہیں سمجھاتا ہوں،،،،،،، وہ دونوں صوفے پر بیٹھے

یہ لڑکی ٹوٹلی پاگل ہے اسے مینٹلسٹ کی ضرورت ہے میں نے اسے کبھی نہیں کہا کہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں یہ زبردستی مجھ سے نکاح کرنا چاہتی ہے،،،،،،،،،

بھائی از شی لوّز یو،،،،،،،، ایرہ کی بات پر وہ کچھ سیکنڈ کے لیے خاموش رہا

نہیں وہ تو مجھے انکل کہتی ہے پتہ نہیں اچانک کونسا بھوت سوار ہو گیا اس کے دماغ پہ نکاح کا،،،،،،،،،

ایرہ نے فارس کو غور سے دیکھا،،،،،،،،،،

کیا،،،،،،،،،،،اسے اپنی طرف متوجہ پا کر فارس بولا

بھائی میں دیکھ رہی ہوں کہ میرے علاوہ آج تک آپ کی زندگی میں کوئی ایسا انسان نہیں آیا جو آپ سے ضد کر سکے،،،،،،،،،،،، وہ اس کی طرف دیکھتی ہوئی بولی

فارس حیران ہوا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا جواب دے جو بات ایرہ نے کی تھی وہ کوئی عام بات نہ تھی،،،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

رات کے گیارہ بج چکے ہیں آحل پولیس نے ابھی تک ایشا کو ڈھونڈا کیوں نہیں،،،،،،،،، ذائشہ نے روتے ہوئے کہا

پولیس پوری کوشش کر رہی ہے لیکن ہمیں صبر سے کام لینا ہو گا ذائشہ،،،،،،،،، آحل نے اسے خود سے لگایا

بلال اور اس کی فیملی کو آحل نے گھر بھیج دیا تھا اب جو بھی ہونا تھا اللہ کی رضا سے ہونا تھا،،،،،،،،،

ذائشہ سمبھالو خود کو مجھے اللہ پہ یقین ہے کہ ایشا ٹھیک ہو گی تم پریشان کیوں ہوتی ہو،،،،،،،،، آحل خود بہت پریشان تھا لیکن ذائشہ کو سنبھالنے والا صرف وہی تھا

آپ نے سنا نہیں آریان کہہ رہا تھا ان لوگوں کے پاس گن بھی تھی،،،،،،،

ذائشہ ہماری ایشا معصوم ہے اسے بھلا کیوں کوئی مارے گا،،،،،،،،

پولیس کب اسے ڈھونڈے گی میرا دل بیٹھا جا رہا ہے،،،،،،،

میری جان بہت جلد ان شاءاللّٰه‎‎ ہماری بیٹی ہمارے پاس ہو گی تم یہ میڈیسن لو تمہاری سٹریس کم ہو گی،،،،،،، آحل نے پانی کا گلاس اور ٹیبلیٹ اس کے سامنے کی

ذائشہ نے روتے ہوئے ٹیبلٹ لی آحل نے اسے بستر پر لیٹا کر کمرفرٹر اوڑھا،،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

لیزہ پریشان سی بیٹھی تھی جب ارحام اس کے کمرے میں داخل ہوا،،،،،،،،

لیزہ آر یو اوکے،،،،،،،، وہ اس کے پاس بیٹھا

ارحام ایشا کی فکر کھائے جا رہی ہے،،،،،،،،،،

سب ٹھیک ہو گا فکر مت کرو،،،،،،،، ارحام نے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا

فکر کیسے نہ کروں میری چھوٹی بہن ہے وہ ماما کے سامنے تو میں کافی سٹرانگ بنی رہی تا کہ وہ زیادہ پریشان نہ ہوں لیکن اب میرا سر درد سے پھٹے جا رہا ہے،،،،،،،،،،،

ہیے لیزہ سب ٹھیک ہو گا جانم اللہ پہ بھروسہ رکھو،،،،،،،،

اللہ پہ تو بھروسہ ہے بس اللہ جلدی سے میری بہن سے مجھے ملوا دے،،،،،،،، اس نے کنپٹیوں کو سہلاتے ہوئے کہا

لیٹو میں تمہارا سر دبا دیتا ہوں،،،،،،،،،

نہیں ارحام مجھے ایسے اچھا نہیں لگے گا،،،،،،،،

لیٹ جاؤ لیزہ میں تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا،،،،،،،،،،

لیزہ نے ٹانگیں پھیلائیں اور تکیے پر سر رکھا ارحام اس کا سر دبانے لگا لیزہ کی آنکھیں بند ہوئیں،،،،،،،،،،

اس کی آنکھ سے نکلنے والا آنسو ارحام نے انگلی کی پور سے چن لیا،،،،،،،،،

وہ نیچے جھکا اور اس کی پیشانی پر لب رکھے،،،،،،،،

ارحام،،،،،،، اس نے سرگوشی کی

کہو ارحام کی جان،،،،،،،

کیا ت۔۔تم میرے ساتھ لیٹ سکتے ہو،،،،،،،

ارحام نے پہلے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا،،،،،،،،،

وہ بنا کچھ کہے اس کے ساتھ لیٹ گیا لیزہ اس کے سینے سے لگی،،،،،،،،،

کیا تم آج رات میرے ساتھ رہ سکتے ہو،،،،،،،،،، وہ آنکھیں موندے بولی

ارحام کو سمجھ نہیں آرہا تھا لیزہ اچانک ایسا کیوں بول رہی ہے لیکن شاید وہ کچھ پل سکون حاصل کرنے کے لیے بول رہی تھی،،،،،،،،

ارحام نے سائیڈ ٹیبل کی طرف ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کی اور پھر سے لیزہ کو ہگ کیا،،،،،،،،،،

لیزہ خاموش تھی مگر اس کے بولتے دل کو وہ بخوبی محسوس کر سکتا تھا،،،،،،

لیزہ کو اس کا ہاتھ اپنی کمر پر رینگتا ہوا محسوس ہوا ،،،،،،،

ا۔۔۔۔ارحام،،،،،،، وہ گھبرائی

ارحام نے اس کی گردن پر ہونٹ رکھے لیزہ نے آنکھوں کو میچا،،،،،،،،،

گردن کو چومتا ہوا وہ اس کے رخساروں پر آیا اور اسے سیدھا لیٹایا،،،،،،،،،،

آج وہ اس کی قربت میں سکون محسوس کر سکتی تھی،،،،،،،،،

تھوڑی کو چومتے ہوئے وہ اس کے ہونٹوں پر جھکا اور اپنی شدتیں نجھاور کرنے لگا۔۔۔۔ بیڈ شیٹ پر لیزہ کی گرفت سخت ہو چکی تھی،،،،،،،،

اس نے ارحام کو روکنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا جسے پکڑ کر وہ اپنی انگلیاں اس کی انگلیوں میں ڈال گیا،،،،،،،،،،

کچھ دیر بعد نرمی سے اس کے ہونٹوں کو چھوڑے وہ کھڑا ہوا،،،،،،،،،،،

ارحام مت جاؤ،،،،،،،، اس نے ارحام کا ہاتھ پکڑا

اگر میں یہاں رہا تو اپنے جذباتوں پر قابو نہیں پا سکوں گا لیزہ،،،،،،،

بٹ ارحام آئی نیڈ یو،،،،،،،، وہ چاہتی تھی وہ اسے چھوڑ کر نہ جائے لیکن پگلی اس کے جذباتوں سے ناواقف تھی

وہ نیچے جھکا اور اس کی پیشانی کو چومتا ہوا مڑا اور کمرے سے نکل گیا،،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

آریان لان میں ٹہل رہا تھا جب الائیہ نے روم کی کھڑکی سے اسے دیکھا،،،،،،،،،

وہ سیڑھیاں اترتی ہوئی لان میں آئی،،،،،،،

آریان تم سوئے نہیں،،،،،،،،

ہاں۔۔۔ نیند نہیں آرہی،،،،،،،، اس کے قدم رکے

پریشان ہو،،،،،،

بہت،،،،،،، وہ چیئر پر بیٹھا الائیہ بھی ساتھ بیٹھ گئی

وہ لوگ میرے سامنے اسے لے گئے اور میں کچھ کر نہیں سکا،،،،،،،،، الائیہ کو لگا جیسے ابھی وہ رو دے گا

آریان تم نے کوشش تو کی تھی نا،،،،،،،،،

کوشش ہی تو کی تھی لیکن کچھ کر ہی نہیں پایا،،،،،،،،

تم پلیز ٹینس مت ہو آریان وہ ٹھیک ہو گی،،،،،،،،،

وہ جہاں بھی ہے اللہ اس کی حفاظت کرے لیکن مجھے یہ ریگریٹ ساری عمر رہے گا،،،،،،،،،

پلیز آریان خود کو قصور وار مت ٹھہراو ایسا ایشا کی قسمت میں لکھا تھا تبھی ہوا ہے،،،،،،،،،

لیکن الائیہ مجھے یہ سوچ کھائے جا رہی ہے وہ نہ جانے اس وقت کہاں ہے کیا کر رہی ہے اس نے کچھ کھایا بھی ہے یا نہیں،،،،،،،، وہ پریشان ہوا

وہ ٹھیک ہو گی اللہ پہ ٹرسٹ رکھو۔۔۔۔۔۔ اٹھو اب کمرے میں چلو آرام کرو،،،،،،،،

جب تک ایشا نہیں مل جاتی آرام کیسے نصیب ہو گا،،،،،،،،

آریان ڈونٹ بی میڈ تمہارے اس طرح پوری رات لان میں بیٹھنے سے وہ مل جائے گی کیا،،،،،،،،

آریان نے نفی میں سر ہلایا،،،،،،،،

تو اٹھو پلیز مجھے بلکل اچھا نہیں لگ رہا ہے چلو آرام کر لو،،،،،،،، اس نے آریان کا ہاتھ پکڑا وہ کھڑا ہوا

اب سو جاؤ صبح شاید پھر سے ہوسپٹل جانا پڑے،،،،،،، وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بولی

آریان اثبات میں سر ہلاتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور الائیہ اپنے کمرے میں چلی گئی،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

وہ فارس کے کمرے میں کھڑی تھی ڈور اندر سے لاک تھا اب وہ بنا کسی پریشانی کے کبھی اس چیز کی تلاشی لیتی اور کبھی اس چیز کی،،،،،،،،،

اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑے فوٹو فریم پر پڑی جس میں فارس ٹانگ پہ ٹانگ رکھے چیئر پر بیٹھا تھا اور ہاتھ میں سن گلاسز لٹکائے تھے،،،،،،،،

ایشا نے وہ فریم اٹھایا اور فارس کو غور سے دیکھنے لگی،،،،،،،

آئیز تو پیاری ہیں سوپر مین انکل کی،،،،،،، وہ غور سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی

اممممم نوز بھی ٹھیک ٹھاک ہے،،،،،،،،، اس نے تھوڑی پہ انگلی رکھے کہا

لپس بھی اچھے ہیں لیکن آپ کو مونچھیں تھوڑی چھوٹی کرنی پڑیں گی،،،،،،،،،،

وہ بھاگتی ہوئی ڈرسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوئی اور فارس کی تصویر کو اپنے فیس کے ساتھ لگایا،،،،،،،

ویسے جوڑی بری نہیں ہے کام چل جائے گا،،،،،،،،،

تبھی ایشا کو روم ان لاک ہونے کی آواز سنائی دی،،،،،،،،،

فارس اندر داخل ہوا وہ کافی سنجیدہ نظر آرہا تھا اس کی بلیک شرٹ کے دو بٹن کھلے تھے جس میں سے اس کا چمکتا ہوا سینہ ایشا بخوبی دیکھ سکتی تھی،،،،،،،،،،

فارس نے اس کی نظروں کا مرکز نوٹ کیا ایشا نے جتنا اس کا دماغ گھما رکھا تھا اس نے کھلا سانس لینے کے لیے شرٹ کا ایک بٹن مزید کھول دیا تھا،،،،،،،،،

تمہیں کیا لگا میں روم ان لاک نہیں کر پاؤں گا،،،،،،،، وہ اس کے بلکل قریب آکر کھڑا ہوا

ایشا نے اتنی نزدیکی سے اس کے تمام نقوش کو بڑے غور سے دیکھا اور بولی ” آپ مونچھیں تھوڑی چھوٹی کروا لیں”،،،،،،،،

وہ ایک دم سے حیران ہوا وہ کتنے رعب سے وہ اندر داخل ہوا تھا اور وہ تھی کہ کسی بات کی پرواہ ہی نہیں تھی،،،،،،،،،

کیوں کیوں چھوٹی کروا لوں میں مونچھیں،،،،،،،،، وہ بھی اب ٹکر پہ آیا

کیوں کہ میں کہہ رہی ہوں نا،،،،،،،، اس نے انگلی سے چشمہ اوپر کیا

اور تمہاری بات ماننا مجھ پر فرض ہے کیا،،،،،،،، اس نے آئبرو اچکائے

دیکھیں اگر آپ کی ہونے والی بیوی کو آپ کی لمبی مونچھیں نہیں پسند تو چھوٹی کروا لیں اس میں کوئی ہرج نہیں ہے،،،،،،،،، وہ آنکھیں مٹکاتی ہوئی بولی

کیوں میری ہونے والی بیوی کو کِس کرنے میں دقت ہو گی کیا،،،،،،،،،، وہ مزید اس کے قریب ہوا اس کی آنکھوں میں شوخ پن تھا

ایشا نے پلکیں جھپکائیں فارس نے جو کہا تھا وہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا،،،،،،،،،

ایشا کے اوسان خطا ہوتے دیکھ کر فارس کے ہونٹ مسکرائے،،،،،،،،،،،

ہممم بولو اگر ایسی بات ہے تو میں ضرور اپنی مونچھیں چھوٹی کروا لوں گا،،،،،،،،،، وہ مسلسل اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا

یہ کیا بات ہوئی میں نے کب کہا کِس کرنے کا مجھے چھوٹی اچھی لگتیں ہیں بس آپ کو کروانی ہوں گی،،،،،،،،، وہ اسے انگلی دکھاتی ہوئی تیزی سے بولی

فارس نے پہلے اس کی طرف دیکھا پھر اس کی نازک انگلی کی طرف دیکھا وہ سوچ میں پڑ گیا کہ اسے ایشا پر غصہ کیوں نہیں آرہا اس کے برعکس وہ اسے انگلی دکھاتی ہوئی کیوٹ لگ رہی تھی،،،،،،،،،

مونچھیں چھوٹی کروانا بڑی بات نہیں ہے لیکن اس طرح نکاح کرنا بہت بڑی بات ہے تم ابھی چھوٹی ہو جب بڑی ہو گی سمجھ جاو گی اب پیار سے کہہ رہا ہوں چلو میرے ساتھ گھر چھوڑ آتا ہوں،،،،،،،،،

میں چھوٹی نہیں ہوں میں پورے اٹھارہ سال کی ہوں اور لڑکی کو شادی کرنے کے لیے اٹھارہ سال کا ہونا ضروری ہوتا ہے،،،،،،،،،، وہ اسے گھورتی ہوئی بولی

اوہ اچھا میرے خیال کے مطابق لڑکی کا عقلمند ہونا بھی ضروری ہوتا ہے،،،،،،،،

ہاں تو اس میں کیا ہے عقلمند تو میں بچپن سے ہی ہوں،،،،،،،،،، وہ بتیسی نکالتی ہوئی بولی جس پر فارس عش عش کر اٹھا

دیکھو ایشا تمہاری عمر نہیں ہے شادی کرنے کی بات کو سمجھو،،،،،،،،،، وہ سنجیدہ ہوا

کیوں کیوں نہیں ہے عمر ابھی تو کہا نا میں نے کہ میں اٹھارہ کی ہوں،،،،،،،،، وہ بھی ضد پر اڑ گئی تھی ایسے کیسے اس کی جان چھوڑنے والی تھی

تو تم واقع ہی مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو،،،،،،،،، اس نے نیلی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھیں

آپ کو کوئی شک،،،،،،، ایشا نے آنکھوں موٹی کیں

پھر تمہیں میری ایک شرط ماننی ہو گی،،،،،،،

شرط وہ کیا،،،،،،،، وہ حیران ہوئی

تمہیں ثابت کرنا ہو گا کہ تم اب بچی نہیں رہی،،،،،،،،

اس کی بات پر ایشا سوچ میں پڑ گئی وہ کیسے ثابت کرے کہ وہ اب بچی نہیں ہے،،،،،،،،

مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں ایسے کرو آپ مجھ سے کچھ کہو پھر میں وہ کروں گی اوکے،،،،،،،،،، اس نے سر کو اثبات میں ہلاتے ہوئے کہا

اوکے کِس می،،،،،،،،

اس کے اچانک ایسی بات کہنے پر ایشا کے اوسان خطا ہوئے وہ موٹی موٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی،،،،،،،،،،

کیا ہوا پروف دو،،،،،،،، فارس نے بھی جان بوجھ کر ایسا کہا

پرامس کریں اس کے بعد مجھ سے نکاح کریں گے،،،،،،،،، وہ گھبرائی ہوئی بولی

اوکے آئی پرامس،،،،،،، فارس کو معلوم تھا وہ کس نہیں کرے گی

وہ ہائٹ میں فارس سے بہت چھوٹی تھی وہ ڈریسنگ ٹیبل سے چپک کر کھڑی تھی اور فارس نے جھک کر اس کے آس پاس بازو پھیلا رکھے تھے ایشا اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی فارس نے پہلی بار اس کو اتنا سیریئس دیکھا تھا،،،،،،،،،،

وہ ابھی اس کے فیس ایکسپریشن ہی دیکھ رہا تھا جب ایشا نے اسے شرٹ کے کالر سے پکڑ کر مزید جھکایا اور اس کے ہونٹوں کو کراس کرتی ہوئی اس کی گال کو چوم گئی،،،،،،،،،،،،،

فارس کا دل دھڑکا پہلی بار اسے کسی لڑکی نے چھوا تھا وہ سکتے کی حالت میں اس پر جھکا رہا اس نے تو سمجھا تھا وہ اسے کس نہیں کرے گی لیکن وہ بہت تیز نکلی تھی اس نے ہونٹ چھوڑ کر گال پر کس دے کر اپنی شرط پوری کر دی،،،،،،،،،،،

اب ہٹ بھی جائیں کہ ایسے ہی کھڑے رہیں گے پھر مولوی انکل کو کون بلائے گا،،،،،،،،،، ایشا کی آواز اس کے کان میں پڑی وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کہے یا کیا کرے

تیز قدموں سے وہ کمرے سے باہر نکلا اپنے دل پر ہاتھ رکھتا ہوا وہ خود کو ریلیکس کرنے لگا،،،،،،،،

جب اس کی نظر سامنے بیٹھی ایرہ پر پڑی جو اسے دیکھتی ہوئی اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کر رہی تھی،،،،،،،،،،

بھائی آئی تھنک اب آپ کو شادی کر لینی چاہیے،،،،،،،،، وہ فارس کا حال دیکھ کر سمجھ چکی تھی

فارس ایرہ کے سامنے شرمندہ سا ہو گیا وہ واپس اپنے روم میں مڑا تا کہ کچھ دیر خود کو نارمل کر سکے لیکن آگے ایشا کو کھڑا دیکھا جس کی وجہ سے اس کا یہ حال ہوا تھا،،،،،،،،،

تم باہر جاؤ مجھے کچھ دیر اکیلا رہنا ہے،،،،،،،،، ایشا چپ چاپ کمرے سے باہر نکل آئی فارس نے دروازہ بند کیا

ادھر آکر بیٹھو،،،،،،،، ایرہ نے مسکراتے ہوئے اسے پاس بلایا

وہ اس کے ساتھ جا کر بیٹھ گئی ایرہ ابھی بھی مسکرا رہی تھی،،،،،،،،،،

آپ سمائل کیوں کر رہی ہیں،،،،،،،، ایشا نے معصومیت سے پوچھا

کچھ نہیں بس ایسے ہی،،،،،،،،

میرا نام ایرہ ہے،،،،،،، ایرہ نے اس لیے کہا کہ وہ اسے پھر سے سکیئری گرل نہ کہہ دے

اووو نائس،،،،،، ایشا مسکرائی

تو مولوی بلوا لیں پھر،،،،،،،، ایرہ نے کہا

سچی آپ بلوائیں گی مولوی انکل کو،،،،،،،، ایشا کی آنکھیں چمکیں

ہاں بھائی کو سرپرائز دیں گے،،،،،،،،

اوکے اوکے جلدی بلوائیں او ییس میری شادی ہو گی یییہہہہ،،،،،،،، اس کی خوشی کی انتہا نہیں تھی ایرہ اس کا ری ایکشن دیکھ کر ہنسنے لگی

فارس اپنے کمرے میں بیٹھا سوچنے لگا اچانک اسے ہو کیا گیا تھا اور ایرہ نہ جانے کیا سمجھ رہی ہو گی اس کے بھائی کا افیئر چل رہا تھا،،،،،،،،،

اس کے ذہن میں وہ سین گردش کرنے لگا جب ایشا نے اس کی گال پر کِس کی،،،،،،،،،،

مجھے یہ لڑکی پاگل کر کے رکھ دے گی،،،،،،، وہ اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کرتا ہوا بولا

اوہ گرمی،،،،،،،، اس نے ریموٹ اٹھا کر اے سی چلایا،،،،،

کالر کو جھٹکتے ہوئے وہ لمبے لمبے سانس چھوڑنے لگا،،،،،،،،،

وارڈروب سے کپڑے نکالتا ہوا وہ فریش ہونے کے لیے واش روم گھس گیا،،،،،،،،،

پندرہ منٹ بعد وہ باہر نکلا اس نے بلیک قمیض شلوار پہنی تھی جس میں وہ پہلے سے بھی ذیادہ پُر وجاہت دکھائی دے رہا تھا،،،،،،،،،

اب وہ پہلے کی طرح نارمل فیل کر رہا تھا اس نے باہر جا کر ایشا کی خبر لینے کا سوچا اور دل میں ٹھان لیا کہ اب اسے ایشا کے ساتھ زبردستی بھی کرنی پڑی تو وہ کرے گا اور اسے گھر چھوڑ کر آئے گا،،،،،،،،،

دروازہ کھول کر جیسے ہی وہ باہر نکلا حیرت سے اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں پورے لاؤنج میں فرس پر گلاب کے پھول بکھرے ہوئے تھے اور ایشا پینٹ شرٹ کے اوپر سرخ دوپٹہ اوڑھے ریڈ لپسٹک لگائے بیٹھی تھی،،،،،،،،،

ایشا کے ساتھ ایرہ تھی جو فارس کو دیکھ کر مسکرائی دوسرے صوفہ سیٹ پر مولوی صاحب بیٹھے تھے اور پیچھے فارس کے کچھ آدمی گواہ کے طور پر کھڑے کیے گئے،،،،،،،،،،

وہ پورا ماحول دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا،،،،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *