Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan (Episode 15)

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

ماہاویرا نے شہروز کے روم کا ڈور ناک کیا،،،،،،،،

کم ان،،،،،، وہ بیڈ پر بیٹھا ہاتھ پر واچ باندھ رہا تھا اس کی پشت ماہا کی طرف تھی

شہروز،،،،،،،

ماہا کی آواز پر اس نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا ،،،،،،

ویرا،،،،،،،، وہ اسے دیکھتا ہوا کھڑا ہوا

ہاں میں تم نے مجھے بلایا تھا نا،،،،،،،،

میں نے،،،،،،، وہ حیران ہوا

کیوں تم نے ہی تو کہا آریان سے کہ تم مجھے بلا رہے ہو کوئی بات کرنی ہے،،،،،،،،

شہروز سوچ میں پڑ گیا کہ اس نے تو آریان کو ایسا کچھ کہا ہی نہیں پھر آریان نے ماہاویرا کو کیوں کہا،،،،،،،

کیا ہوا شہروز،،،،،،، ماہا نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا

ہاں کچھ نہیں،،،،،،،

پھر بات کیا کرنی تھی جلدی کرو نیچے مہمان آرہے ہیں مجھے جانا ہے،،،،،،،،

بات تو کچھ نہیں کرنی لیکن تمہیں کچھ دینا ضرور ہے،،،،،،،،،

وہ کیا،،،،،،،

شہروز نے نیچے جھک کر سائیڈ ٹیبل سے ایک پیک اٹھایا،،،،،،،،

یہ تمہارے لیے گفٹ ہے،،،،،،،،

ماہا نے پیک پکڑا اور اسے کھولنے لگی،،،،،،،

اسے یہاں مت کھولو،،،،،،

لیکن کیوں،،،،، ماہا نے فوراً پوچھا

فلحال اسے اپنے روم میں رکھو سمبھال کر اور نیچے جاؤ گیسٹس کا ویلکم کرو،،،،،،،،

اوکے شہروز تم بھی آ جاؤ نیچے اور تھینک یو فار دس،،،،،، ماہا نے مسکراتے ہوئے گفٹ کی طرف اشارہ کیا

یو ویلکم ویرا،،،،،،، وہ مسکرایا

ماہاویرا روم سے باہر نکل آئی

🔥
🔥
🔥

واؤ الائیہ آپی یو آر لکنگ ویری بیوٹیفل،،،،،،،،، وہ روم میں داخل ہوتے ہوئے چشمے کو انگلی سے دھکیلتے ہوئے بولی

ایشا تم کب آئی،،،،،،،،

ہم بس ابھی آئے ہیں ماما پاپا اور آپی لان میں ہیں،،،،،،،،،

تم نے آج کے دن بھی جینٹس ڈریس ہی پہنا ہے،،،،،،،، الائیہ نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا جہاں وہ وائٹ پینٹ کے ساتھ سٹائلش بلیو شرٹ پہنے کھڑی تھی،،،،،،،

میں تو کبھی بھی لیڈیز ڈریس نہیں پہنوں گی،،،،،، وہ صوفے پر بیٹھی

اپنی شادی پر بھی نہیں پہنو گی کیا،،،،،،،، الائیہ نے حیرت سے پوچھا

افففف آپی چپ کر جائیں کہیں ماما نے سن لیا نا تو آپ کی انگیجمنٹ کے ساتھ ہی میری شادی کروا دیں گی ان کا تو بس نہیں چلتا وہ تو پاپا میری سائید پر ہیں اس لیے میں آرام سے گھر بیٹھی ہوں،،،،،،،،،،

پگلی شادی نہیں کروانی کیا ایک نا ایک دن تو کروانی ہی پڑے گی،،،،،،،،،،

مجھے نہیں کروانی یہ شادی وادی،،،،،،،، اس نے منہ بسورا

ہاں ہاں یہ ابھی کی باتیں ہیں جب تمہیں کسی سے پیار ہوا نا تب میں پوچھوں گی شادی کرنے کو دل کرتا ہے کہ نہیں،،،،،،،،،، وہ قہقہ لگاتی ہوئی بولی

پیار اور وہ بھی مجھے ہو ہی نہیں سکتا،،،،،،،،، وہ شوخی سے بولی

یہ تو وقت بتائے گا ایشا،،،،،،،،

آپی مجھے ایشا نہیں ایش بولا کرو چلو اور کوئی نہیں بولتا تو آپ ہی بول لو،،،،،،،، اس نے منہ بسورا

اوکے اوکے تو مسٹر ایش ایک بات پوچھوں،،،،،،،، الائیہ کے مسٹر ایش کہنے پر ایشا کی آنکھیں چمک اٹھیں

پوچھیں پوچھیں،،،،،،، وہ ایکسائیٹمنٹ سے سیدھی ہو کر بیٹھی

تمہیں آج تک کوئی لڑکا اچھا نہیں لگا کیا،،،،،،،،،

امممممممم،،،،،، وہ تھوڑی پہ ہاتھ رکھے سوچنے لگی

آپی لڑکا تو نہیں لیکن ہاں ایک انکل اچھے لگے ہیں،،،،،،،،

کیا انکل،،،،،، وہ لاؤڈلی بولی

ششش سلو بولیں کہیں کوئی سن نہ لے،،،،،،،،،

الائیہ کو اس چھوٹے نمونے کی کمپنی اچھی لگ رہی تھی،،،،،،،،

بتاؤ کونسا انکل،،،،،،، وہ آہستگی سے بولی

آپ کو پتہ ہے ایک بہت بڑی بات جو میں نے آج تک کسی کو نہیں بتائی چھپا کر رکھی ہے،،،،،،،، ایشا اس کے بلکل قریب ہو کر بیٹھی اور سرگوشی میں بولے لگی

کونسی بات،،،،،،،، وہ بھی سرگوشی میں بولی

جب میں کراچی گئی تھی نا ٹرپ پر وہاں میں سمندر میں نہائی افففف بہت مزہ آیا تھا،،،،،،،،، وہ آنکھیں بند کر کے مزے سے بتا رہی تھی

بس یہی بات ہے کیا،،،،،،،،،، الائیہ نے منہ بسورا

ارے نہیں نہیں اس سے آگے بھی ہے،،،،،،،،

تو بتاؤ بھی،،،،،،،،

سمندر میں نہاتے نہاتے میں گہرائی میں چلی گئی اور ڈوبنے والی تھی،،،،،،،،،

پھر کیا ہوا،،،،،،،،،

پھر وہاں وہ انکل آئے آپ کو پتہ ہے وہ سوپر مین انکل ہیں انہوں نے اتنے گہرے پانی میں بھی مجھے ڈھونڈ کر بچا لیا،،،،،،،،

ایشا کیا یہ سچ ہے،،،،،،، وہ حیران ہوئی

جی جی بلکل سچ ہے لیکن آپ ہم فرینڈز ہیں نا اس لیے آپ پرامس کرو کسی کو نہیں بتاؤ گی،،،،،،،،،،

اوکے اوکے پرامس نہیں بتاؤں گی،،،،،،،

اور مزے کی بات بتاؤں کل رات ریسٹورنٹ میں مجھے وہ سوپر مین انکل ملے،،،،،،،،، وہ خوشی سے اچھلی

اچھا کب مجھے بھی دکھاتی،،،،،،،

آپ نے دیکھا تھا ان کو وہ آریان بھائی جب ان کے پاس کھڑے تھے تو آپ بھی تو گئی تھی نا،،،،،،،،

وہ۔۔۔۔ وہ جن کی گاڑی ہماری گاڑی کے پیچھے کھڑی تھی،،،،،،،،،

ہاں ہاں وہی،،،،،،،،

وہ انکل کب تھا اتنا ینگ اور ہینڈسم بوائے تھا،،،،،،،،، الائیہ نے اسے گھورتے ہوئے کہا

ہینڈسم تو تھا لیکن ینگ بھی تھا کیا،،،،،،، ایشا سر کھجانے لگی

اور کیا اس ایج میں کون انکل لگنا شروع ہو جاتا ہے،،،،،،،،،

نہیں آپ مجھ سے بڑی ہیں نا اس لیے آپ کے لیے وہ بوائے ہوا اور میں چھوٹی ہوں میرے لیے انکل ہوا،،،،،،،، اس نے بتسی نکالی

الائیہ نے اپنی ہنسی دبائی آریان صحیح اسے چھوٹا نمونہ کہتا ہے اس نے دل ہی دل میں سوچا،،،،،،،،

الائیہ بیٹا چلو تمہیں نیچے لے چلوں،،،،،،، ماہاویرا روم میں داخل ہوئی

وہ الائیہ کو باہر لان میں لے کر آئی جہاں سب چاروں اور سجاوٹ کی گئی تھی،،،،،،

سب مہمان آچکے تھے الائیہ اور آریان کو سٹیج پر بیٹھایا گیا،،،،،،،،،

لیزہ کے ساتھ جو آج کل ہو رہا تھا اس کا موڈ ٹوٹلی خراب تھا وہ صرف فارمیلٹی پوری کرنے کے لیے مجبوراً یہاں آئی تھی،،،،،،،،

الائیہ اور آریان نے ایک دوسرے کو رنگز پہنائیں وہ دونوں ہی بہت خوش تھے،،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

ماما اب گھر چلیں میں بہت تھک گئی ہوں،،،،،،،،، لیزہ نے ذائشہ سے کہا

کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری،،،،،،،، وہ پریشان ہوئی

طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے گھبراہٹ سی ہو رہی ہے،،،،،،،،

اچھا میں ماہاویرا سے بات کرتی ہوں،،،،،،، اس نے ماہا کو ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ ان کے پاس آئی

ماہا لیزہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے فنکشن بھی ختم ہو چکا ہے لیزہ گھر جانا چاہتی ہے،،،،،،،،،

آج رات یہی رک جاؤ تم سب کونسا مہمان ہو،،،،،،،،

یہیں،،،،،،، ذائشہ نے سوچتے ہوئے کہا

ہاں نا بلال کا بھی دل ہے کہ تم یہاں رکو،،،،،،،،

ٹھیک ہے لیزہ تم جاؤ روم میں آرام کر لو،،،،،،،،، ذائشہ نے کہا

آؤ تمہیں روم دکھا دوں،،،،،، ماہاویرا نے کہا تو لیزہ کھڑی ہوئی

گھر کے اندرونی حصے میں داخل ہونے کے بعد ماہا نے لیزہ کو روم دکھایا،،،،،،،،،،

کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بتانا اوکے،،،،،،،، ماہا مسکرائی

اوکے پھوپھو تھینک یو،،،،،،، ماہا دروازہ بند کرتے ہوئے چلی گئی

لیزہ بازو پھیلائے بیڈ پر لیٹی اس نے تھکاوٹ سے آنکھیں بند کیں،،،،،،،،

“مت کرو خود سے دور” ۔۔۔۔۔ لیزہ کے سماعت میں اس کی اپنی ہی آواز ٹکرائی

یہ۔۔۔ یہ میں نے کب کہا،،،،،،،، وہ سوچنے لگی

ارحام،،،،، نہ جانے کیوں اس نے زیرِلب اس کا نام لیا

کافی دیر تک وہ یاد کرنے کی کوشش کرتی رہی کہ اس نے یہ فکرہ کب اور کسے کہا لیکن اسے کچھ یاد نہ آیا،،،،،،،،،

آنکھیں موندے وہ اوندھے منہ لیٹی اور نیند کی وادیوں میں کھو گئی،،،،،،،،

یہ لفظ اس نے اس رات ارحام کو کہے تھے جب وہ نشے کی حالت میں تھی اب نہ جانے اسے کبھی وہ رات حقیقت میں یاد بھی آنی تھی یا نہیں،،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

ایرہ بہت دیر سے سونے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اسے نیند نہیں آرہی تھی،،،،،،،،،،

وہ اٹھ کر باہر لان میں آئی جہاں فارس چیئر پر لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا تھا،،،،،،،،

ایرہ کیا ہوا نیند نہیں آرہی،،،،،،،

ایرہ اس کے سامنے چیئر پر بیٹھی اس کے چہرے پہ پریشانی واضح تھی،،،،،،،،

کیا ہوا گڑیا بتاؤ مجھے،،،،،،، وہ لیپ ٹاپ ٹیبل پہ رکھتا ہوا اس کی طرف متوجہ ہوا

بھائی میرا دل بہت پریشان ہے،،،،،،،، وہ ہاتھوں کو سختی سے مسل رہی تھی

کوئی پریشانی ہے تو بتاؤ مجھے،،،،،،،،

بھائی مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ آریان کہیں میرے آس پاس تھا میرے بہت قریب،،،،،،،،،

کیا تم نے کہیں دیکھا اس کو،،،،،،،،، اس نے حیرت سے پوچھا

نہیں بھائی میں نے اسے نہیں دیکھا لیکن یقین کریں میں نے اسے محسوس کیا ہے وہ میرے پاس ہی تھا،،،،،،،،

گڑیا تمہیں ایسا کیسے محسوس ہو سکتا ہے کراچی میں بھی تو تمہیں آریان کے ملنے کی امید رہتی تھی،،،،،،،،،

بھائی وہ صرف امید تھی میں وہاں اسے محسوس نہیں کر سکتی تھی اگر میری محبت سچی ہے تو وہ واقع ہی میرے آس پاس ہے،،،،،،،

اگر وہ واقع ہی یہاں ہے تو میرا وعدہ ہے تم سے میں اسے ضرور تمہارے سامنے لے کر آؤں گا،،،،،،،،،

فارس کی بات سن کر ایرہ کے دل کو تسلّی ہوئی وہ نظریں جھکائے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی،،،،،،،

جاؤ شاباش اب سو جاؤ جب تک تمہارا بھائی زندہ ہے فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں،،،،،،،،

ایرہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی واپس کمرے کی طرف چل دی اور فارس نے پھر سے لیپ ٹاپ اٹھا کر سامنے رکھا،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

ماہاویرا فریش ہو کر بیڈ پر بیٹھی سائیڈ ٹیبل پر اسے وہ پیک دکھا جو شہروز نے اسے گفٹ دیا تھا اس نے بالوں کو سمیٹتے ہوئے وہ پیک اٹھایا اور اسے کھولنے لگی،،،،،،،،،

وہ تصاویر تھیں کچھ پرانی یادیں جنہیں دیکھ کر الائیہ کی آنکھوں میں چمک ابھرنے لگی،،،،،،،

پہلی تصویر جہاں ماہاویرا چوڑی دار پاجامے کے نیچے جوگر شوز پہنے کھڑی تھی شہروز نے کب اس کی پک لی اسے معلوم ہی نہیں تھا خود کو اس حلیے میں دیکھ کر ماہاویرا کا قہقہ لگا،،،،،،،،

دوسری تصویر جب وہ ان کے گھر گئی تھی اور شہروز کی دادو کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی وہ واقع ہی بہت پرکشش اور خوبصورت لگ رہی تھی،،،،،،،

تیسری تصویر جہاں وہ شہروز کے گھر اس کے ساتھ لان میں باتیں کر رہی تھی ماہاویرا حیران تھی کہ وہ کب اس کی پکس لیتا رہا اسے خبر ہی نہ تھی،،،،،،،،

وہ بہت سی تصاویر تھیں جنہیں دیکھ کر ماہاویرا کی پرانی یادیں تازہ ہوئیں اس نے مسکراتے ہوئے سب پکس پیک میں رکھیں اور دراز کھول کر اس میں پیک رکھا

🔥
🔥
🔥

الائیہ سو رہی تھی جب اسے اپنے بستر پر کسی لمس کا احساس ہوا اس نے آنکھیں کھولیں تو کسی کو اپنے پاس پایا وہ خوف کے مارے چلّانے ہی والی تھی جب اس نے الائیہ کے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھا،،،،،،،،،،

ششششش میں ہوں۔۔۔۔۔ آریان اس کے قریب ہوا

تم اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو،،،،،،، الائیہ نے منہ سے اس کا ہاتھ ہٹایا

مجھے نیند نہیں آرہی تھی،،،،،،،،، اس نے لیمپ آن کیا جس کی مدھم روشنی پورے کمرے کو نہلا گئی

آریان تم پاگل ہو کیا تم رات کے بارہ بجے میرے کمرے میں موجود ہو کسی نے دیکھ لیا تو کیا ہو گا،،،،،،،،،،

کوئی نہیں دیکھے گا بس تم آہستہ بولو ورنہ کوئی سن ضرور لے گا،،،،،،،،، وہ مسکرایا

آریان آئم سیریئس اور تم ہنس رہے ہو،،،،،،،،

میں بھی سیریٔس ہوں یار،،،،،،،،،

تو جاؤ اپنے کمرے میں سو جاؤ،،،،،،،،

مجھے اپنے کمرے میں نہیں سونا،،،،،،،، وہ معنی خیز بولا

کیا مطلب ہے تمہارا اور کہاں سونا ہے تمہیں،،،،،،، اس نے گھورتے ہوئے پوچھا

مجھے تمہاری گود میں سر رکھنا ہے،،،،،،،، وہ کہتے ہوئے فوراً لیٹا اور اس کی گود میں سر رکھا

آریان،،،،،،،، الائیہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا وہ رات کے اس پہر اس کے اتنا قریب تھا

آریان نہیں کرو پلیز چلے جاؤ،،،،،،،

چلا جاؤں گا پہلے میرے بالوں میں انگلیاں چلاؤ تا کہ مجھے سکون ملے،،،،،،،، اس نے آنکھیں موندیں

اوہ گاڈ تم یہاں سکون لینے آئے ہو،،،،،،،،،،

تو میرا جو سکون تم نے چرایا ہے وہ تم سے ہی لوں گا نا اب ہمسائی سے تو لینے سے رہا،،،،،،،، اس نے آنکھیں کھول کر الائیہ کو دیکھتے ہوئے کہا

کیا۔۔۔۔خبردار جو میرے علاوہ کسی کا نام بھی لیا تو،،،،،،،، اس نے آریان کے کندھے پر تھپکی لگائی

تو میری جان جو میں نے کہا ہے وہ چپ چاپ کرو،،،،،،،،،

الائیہ نے اس کے سلکی بالوں پر ہاتھ رکھا اور انگلیاں چلانے لگی،،،،،،،،،

آہ،،،،، آریان نے سکون سے لمبا سانس چھوڑا

کچھ دیر وہ یہی عمل دوہراتی رہی جب آریان بولا

ہم شادی کب کریں گے،،،،،،،،

دو تین سال تک کر لیں گے،،،،،،،،، وہ منہ بسورتی ہوئی بولی وہ جو بلا وجہ اس کا سکون خراب کر کے خود سکون حاصل کر رہا تھا

دماغ ٹھیک ہے تمہارا دو تین سال میں انتظار کر کر کے میرے بال سفید ہو جائیں گے،،،،،،،،،

تو اور کیا جلدی تھوڑی کرنی ہے شادی،،،،،،،،

الائیہ میں بتا رہا ہوں چھ ماہ تک تم میری بیوی بن کر میرے کمرے میں موجود ہو گی،،،،،،،

کیا۔۔۔۔کیا کہا چھ ماہ تم ہوش میں ہو،،،،،،، حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹیں

میں ہوش میں ہی ہوں اور تمہارے ہوش میں آنے کے دن ہیں چھ ماہ تک تم مجھے ایز آ وائف چاہیے بس،،،،،،،

آریان مجھے اتنی جلدی شادی نہیں کرنی ہے ابھی میں نے بہت کچھ کرنا ہے،،،،،،،،،

تم بس یہ ٹارگٹ پورا کرو پھر مجھ سے شادی کرو گی،،،،،،،

آریان آر یو سیریئس،،،،،،،،

ییس آئم سیریئس مائے لوّ،،،،،،،،،،

لیکن آریان،،،،،،، اس کی بات ابھی مکمل نہ ہوئی تھی جب آریان نے اٹھ کر اس کی طرف رخ کیا

میں مزید تمہاری دوری برداشت نہیں کر سکتا الائیہ،،،،،،، اس کا لہجہ سنجیدہ تھا

لیکن میں تمہارے پاس ہوں،،،،،،،

نہیں ہو تم میرے پاس میں تمہیں اس طرح چھو نہیں سکتا جس طرح تمہیں چھونے کو میرا دل چاہتا ہے میں تمہیں سینے سے نہیں لگا سکتا تمہاری سانسوں کو محسوس نہیں کر سکتا تمہارے دھڑکتے دل پر ہاتھ نہیں رکھ سکتا تمہاری روح میں اتر نہیں سکتا۔۔۔۔ تم کیسے کہہ سکتی ہو تم میرے پاس ہو،،،،،،،،،،

الائیہ آنکھیں کھولے اس کی طرف دیکھ رہی تھی،،،،،،،

تمہارا میرے پاس ہونا معنی نہیں رکھتا تمہارا میرے قریب ہونا معنی رکھتا ہے الائیہ،،،،،،،،

آریان،،،،،،، وہ اس کی آنکھوں میں اس کے جذباتوں کو محسوس کر سکتی تھی

میں اب چلتا ہوں کھڑکی بند کر لینا،،،،،،،،،، وہ اٹھا اور کھڑکی کی طرف چلنے لگا

آریان،،،،،،، الائیہ نے اسے پکارا لیکن وہ رکا نہیں تھا

اس کے جانے کے بعد الائیہ کو سچ میں اس کی دوری کا احساس ہوا تھا،،،،

🔥
🔥
🔥

الارم کی آواز سے لیزہ کی آنکھ کھلی آج سنڈے تھا اس نے شکر ادا کیا ورنہ جلدی میں اسے گھر جا کر یونی کے لیے ریڈی ہونا پڑتا،،،،،،،،

وہ فریش ہو کر نیچے آئی ناشتہ ٹیبل پر لگ رہا تھا سب بڑے لاؤنج میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے ماہاویرا کھانے کی ٹیبل کے پاس کھڑی تھی،،،،،،،،

گڈمارننگ پھوپھو،،،،،،،، لیزہ اس کے پاس آکر کھڑی ہوئی

گڈ مارننگ طبیعت کیسی ہے اب تمہاری،،،،،،،

ٹھیک ہوں بس تھکاوٹ کی وجہ سے طبیعت بوجھل سی ہو گئی تھی،،،،،، وہ صوفے پر بیٹھی

نیند تو اچھی آئی ہے نا،،،،،

جی جی نیند تو بہت اچھی آئی،،،،،،،،

اچھا تم ایسے کرو لاؤنج میں بیٹھو تھوڑی دیر سب کی کمپنی انجوائے کرو،،،،،،،،

اوکے پھوپھو،،،،،،، وہ لاؤنج کی طرف بڑھی

شہروز ابھی نہ جاؤ ابھی پرسوں ہی تو تم آئے تھے،،،،،، آحل شہروز سے کہہ رہا تھا

لیکن مجھے بہت ضروری کام ہے یہ تین دن بھی بہت مشکل سے نکالے ہیں میں نے،،،،،،،،،

دیکھو تم میرے گھر تو آئے ہی نہیں اب ایسے کیسے جانے دوں میں تمہیں،،،،،،،،

بھائی صاحب آحل بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ہم نے تو آپ کو منگنی کا معاملہ طے ہونے کے بعد گھر دعوت دینی تھی لیکن آپ ہو کہ جانے کی تیاری میں ہو،،،،،، ذائشہ بولی

صحیح کہہ رہے ہیں دونوں تم ایک دن رک کیوں نہیں جاتے،،،،،، بلال نے کہا

نیکسٹ ٹائم جب آیا تو ان شاءاللّٰه‎‎ آپ کو مایوس نہیں کروں گا،،،،،،،

اپنی منوا کر رہو گے تم،،،،،،، آحل نے منہ بسورا تو شہروز کا قہقہ لگا

آریان، الائیہ اور ایشا بھی اٹھ چکے تھے ان سب نے مل کر خوشگپیوں کے ساتھ ناشتہ کیا یہ وقت ان سب کے لیے بہت اچھا گزرا،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

مجھے تم سے بات کرنی ہے،،،،،،،، آریان لان میں بیٹھا تھا جب الائیہ اس کے پاس آئی

ہاں بولو کیا ہوا،،،،،،،

آریان میں یہ ٹارگٹ پورا کرنے کے بعد تم سے شادی کے لیے ہاں کرتی ہوں،،،،،،،،

کیا الائیہ سچ میں تم دل سے راضی ہو نا،،،،،،، وہ بے حد خوش تھا

میں دل سے کہہ رہی ہوں آریان،،،،،،،،

تھینک یو سو مچ الائیہ پتہ کل رات میں نے سوچ لیا تھا کہ میں تمہیں شادی کے لیے فورس نہیں کروں گا یہ بندھن زبردستی نہیں باندھا جاتا،،،،،،،

نہیں آریان اب ہم یہ بندھن بہت جلد باندھیں گے اور وہ بھی دل سے،،،،،،،،،

تھینک یو الائیہ مجھے یقین ہے تمہارا ساتھ میرے لیے بہت خوبصورت ہونے والا ہے،،،،،،،

میرا بھی یہی خیال ہے،،،،،، وہ مسکرائی

آج تو دل کر رہا ہے خوشی سے ایک کِس کر لوں،،،،،،

آریاااان،،،،،، الائیہ نے اسے گھوری سے نوازہ

آریان نے قہقہ لگایا اور الائیہ بھی ہنسنے لگی،،،،،،،،،

شہروز کمرے کی ونڈو میں کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا اس کے دل کو سکون محسوس ہوا جو خلش اس کے دل میں رہ گئی تھی اس کی بیٹی کے دل میں نہیں رہنے والی تھی اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے ان دونوں کو ہمیشہ ساتھ خوش رہنے کی دعا دی،،،،،،،،

🔥
🔥
🔥

شام کے وقت لیزہ گاڑی لیے لانک ڈرائیو پر نکلی اسے وہی بے چینی کھائے جا رہی تھی ایک تو اس کا پلین پورا نہ ہو سکا تھا دوسرا وہ نشے کی حالت میں ارحام کے ساتھ تھی،،،،،،،،،

اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ایسی حالت میں اس نے ارحام سے یا ارحام نے اسے کچھ کہا نہ ہو یا چھوا نہ ہو وہ پیشانی کو مسلتی ہوئی سٹیرنگ گھما رہی تھی،،،،،،،،

اچانک اس کی نظر ایک سائیڈ پر گئی جہاں کچھ آدمی گاڑی کے پاس کھڑے ڈسکس کرنے میں مصروف تھے وہ سبھی بلیک تھری پیس پہنے ہوئے اچھے گھرانے کے لگ رہے تھے،،،،،،،،،

دکھنے میں یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی خفیہ بات کر رہے ہوں جس چیز نے لیزہ کی توجہ کھینچی وہ یہ تھا کہ ان آدمیوں میں ایک شخص ارحام بحی تھا،،،،،،،،،،

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *