Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 21)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 21)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
ایک ہفتے سے ارحام اور لیزہ یونیورسٹی نہیں آرہے تھے ذوہا نے کئی بار ارحام کو کال کی لیکن ہر بار اس کا نمبر آف جا رہا تھا اس نے ہاسٹل سے ارحام کی انفارمیشن لی تو معلوم ہوا وہ ہاسٹل چھوڑ گیا ہے وہ شدت سے اس کا ویٹ کر رہی تھی لیکن وہ تھا کہ نہ جانے کہاں چلا گیا تھا،،،،،،،،،،،
ہما سے لیزہ نے کہہ رکھا تھا کہ وہ ذوہا کو ارحام کے بارے میں کچھ نہیں بتائے گی کہ وہ اس وقت ان کے گھر رہ رہا ہے ذوہا نے اس سے جب پوچھا تو اس نے کورا جھوٹ بولا کہ اسے کچھ نہیں معلوم،،،،،،،،،،
کہاں ہو تم ارحام مجھے تمہاری فکر ہو رہی ہے،،،،،،،، وہ یونیورسٹی میں سیڑھیوں پر بیٹھی تھی جہاں وہ اور ارحام اکثر بیٹھا کرتے تھے،،،،،،،،



فارس کا آدمی آریان کے گھر کے چکر کاٹ رہا تھا وہ اسی انتظار میں تھا کب وہ لڑکی باہر نکلے اور وہ اسے کڈنیپ کرے،،،،،،،،،
الائیہ بیٹا آجاؤ دیر ہو رہی ہے،،،،،،،،،
بس آ گئی موم،،،،،،، وہ دروازہ کھولتی ہوئی باہر نکلی
آریان نے جیسے ہی الائیہ کو دیکھا تو رخ بدلا موم ڈیڈ میں گاڑی میں بیٹھنے لگا ہوں جلدی آجائیں،،،،،،،،
اوکے ہم آرہے ہیں،،،،،،،، بلال نے کہا آریان لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا
کچھ دیر بعد وہ تینوں باہر نکلے الائیہ بیک سیٹ پر بیٹھی اور آریان ڈرائیونگ سیٹ پر تھا،،،،،
گاڑی گیٹ سے باہر نکلی فارس کا آدمی الرٹ ہوا الائیہ ونڈو کی طرف بیٹھی تھی لیکن وہ لیڈیز ڈریس اور لمبے کھلے بالوں کے ساتھ موجود تھی فارس کے آدمی کو بتایا گیا تھا کہ وہ لڑکی چھوٹے بالوں والی ہے گول چشمہ لگائے وہ جینٹس ڈریسنگ کرتی ہے،،،،،،،،
گاڑی وہاں سے نکل گئی اور وہ آدمی بھی اپنی جیپ کی طرف بڑھا جہاں اس کے دو ساتھی پہلے سے ہی موجود تھے،،،،،،،



ماشاءاللّٰه بہت پیاری لگ رہی ہے میری بیٹی،،،،،،،، ذائشہ نے لیزہ کی پیشانی کو چوما
وہ ڈریسنگ ٹیبل میں خود کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی سرخ لہنگا پہنے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی،،،،،،،،،،
چلو تمہیں لان میں لے چلوں سب ویٹ کر رہے ہیں،،،،،،،،
واؤ آپی یو آر لکنگ ٹو بیوٹیفل،،،،،،،،، ایشا نے دوسری طرف سے اس کا بازو پکڑا
لان میں ان کے داخل ہوتے ہی ارحام نے اس اپسرا کو دیکھا جو چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسی کی طرف آرہی تھی،،،،،،،،
ذائشہ نے اسے ارحام کے پاس بیٹھایا لیزہ کے دل کی دھڑکن آسمانوں سے باتیں کر رہی تھی،،،،،،،،
بہت خوبصورت،،،،،،، ذائشہ کے جاتے ہی ارحام نے آہستگی سے کہا
لیزہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری جسے دبانے کی اس نے ناکام کوشش کی،،،،،،،،،،،
خاموش رہو سب دیکھ رہے ہیں،،،،،،،،، لیزہ نے سرگوشی میں کہا
تو دیکھنے دو بیوی ہو میری،،،،،،،،،، وہ مسکرایا
ابھی تو مولوی صاحب بھی نہیں آئے ابھی سے بیوی بن گئی،،،،،،،،،
اور نہیں تو کیا من سے تو آج ہی تمہیں بیوی مان لیا ہے اب تو بس کاغذی رسم ہونی باقی ہے،،،،،،،،،
اچھا زیادہ باتیں نہیں بناؤ چپ کرو پھوپھو آرہی ہیں،،،،،،،،،
اللہ تم دونوں کو نظرِ بد سے بچائے ماہاویرا نے لیزہ کے پاس بیٹھ کر اسے دعا دی،،،،،،،،،
لیزہ اور ارحام کو دیکھ کر آریان کا شدت سے دل چاہا کہ وہ الائیہ کو اپنی منکوحہ بنا لے اپنی پناہ میں لے لے لیکن الائیہ کی مرضی کے بغیر وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا اس نے دکھ سے سر جھکایا،،،،،،،،،،
الائیہ ذائشہ سے باتیں کر رہی تھی جب اس نے آریان کا اداس چہرہ دیکھا وہ اسے چھوڑ کر آریان کی طرف بڑھی،،،،،،،،،
آریان،،،،،،،،،
اس کی آواز سنتے ہی وہ وہاں سے چل کر آحل کے پاس آکر کھڑا ہو گیا اور ایسے شو کروایا جیسے اسے آواز سنائی ہی نہ دی ہو وہ کئی دنوں سے اس سے ناراض تھا،،،،،،،،،،
اس کی نظراندازی پر الائیہ کو دکھ ہوا وہ نظریں جھکا کر رہ گئی،،،،،،،،
ایشا پورے گھر میں ناچتی پھر رہی تھی اس کے لیے یہ بہت خوشی کی بات تھی کہ ان کے گھر میں بھی کوئی فنکشن آیا ہے،،،،،،،،،،
نکاح نامہ پر سائن کرنے کے بعد سب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ارحام نے اللہ کا لاکھ شکر ادا کیا آج اس کا نام اس کی محبت کے ساتھ جڑ چکا تھا آج وہ مکمل ہو گیا تھا،،،،،،،،،



آریان میری بات تو سنو،،،،،،،،، الائیہ نے اس کا ہاتھ پکڑا
کیا کر رہی ہو کسی نے دیکھ لیا تو تمہارا ہی امیج خراب ہو گا،،،،،،،،،، اس نے تیوری چڑھائی
فیانسی ہو میرے کوئی کچھ نہیں کہے گا،،،،،،،،
ہاں جیسے تمہیں یاد ہے،،،،،،،،، وہ استہزائیہ ہنسا
آریان میں لان کی بیک سائیڈ پر جا رہی ہوں ابھی اور اسی وقت میرے پیچھے آؤ اور پلیز سٹاپ اگنورنگ می،،،،،،،،
اوکے آرہا ہوں،،،،،،،، اس نے ہونٹ بھینچتے ہوئے کہا
الائیہ اثبات میں سر ہلاتی بیک سائیڈ کی طرف چلنے لگی کچھ دیر بعد آریان بھی وہاں چل دیا،،،،،،،،،،
یہ خالی جگہ تھی جہاں وہ بینچ پہ بیٹھی ہاتھوں کو باندھے اس کا انتظار کر رہی تھی،،،،،،،،،
کیا بات کرنی ہے تمہیں،،،،،،،،، وہ اس کے کھڑا ہوا
آریان،،،،،،،، الائیہ نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا اور کھڑی ہوئی
کیوں ناراض ہو مجھ سے آئی کانٹ بیئر اٹ،،،،،،،،، وہ اس کے قریب آئی
میں کسی سے ناراض نہیں ہوں،،،،،،،،، اس نے رخ بدلا
یو آر آریان،،،،،،، الائیہ نے اس کے چہرے کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنی طرف کیا
کیا چاہتی ہو،،،،،،،،، آریان کا دل نرم پڑ رہا تھا کتنے دن ہو گئے تھے اس نے آنکھ بھر کے اسے دیکھا بھی نہیں تھا
مجھے تم چاہیے آریان،،،،،،،،،، وہ اس کے سینے سے لگی
اس کی قربت پر آریان نے دکھ سے آنکھیں بند کیں،،،،،،،،،
میں نے فیصلہ کر لیا ہے میں یہ جاب نہیں کروں گی مجھے صرف تم چاہیے آریان تم، تمہاری محبت، تمہارا وقت،،،،،،،،،، آریان کو اپنی کانوں پہ یقین نہیں آرہا تھا اسے لگا جیسے اس کی شرٹ بھیگ رہی ہے
الائیہ،،،،،،،اس نے اسے خود سے دور کیا اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا
پلیز ڈونٹ کرائے،،،،،،، اس نے انگلیوں کی پوروں سے اس کے رخسار صاف کیے
میں نے ت۔۔۔تمہارا دل دکھایا ہے نا پلیز آئم سوری،،،،،،،،
نہیں تم نے کچھ نہیں کیا بس رونا بند کرو مجھے تکلیف ہوتی ہے،،،،،،،،،
م۔۔۔میں آج ہی ڈیڈ کو کال کر کے بتانے والی ہوں کہ مجھ۔۔۔مجھے نہیں کرنا یہ مشن پورا،،،،،،،، اس نے ہچکیاں بھرتے ہوئے کہا
الائیہ،،،،،،، آریان نے اسے خود میں بھینچ لیا
پلیز اب کبھی مجھ سے ناراض مت ہونا،،،،،،،،،
کبھی نہیں ایسا سوچنا بھی مت،،،،،،،، آریان نے تکلیف سے آنکھیں بند کیں



بھائی اتنے دن ہو گئے ہیں آپ ابھی تک اس لڑکی کو کڈنیپ نہیں کروا سکے میں اور انتظار نہیں کر سکتی،،،،،،،،، وہ سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی
ایرہ گڑیا میرے آدمی ہر وقت اس کے گھر کے چکر کاٹتے ہیں نہ جانے وہ کیوں نہیں گھر سے باہر نکلتی،،،،،،،،
یہ میرا مسئلہ نہیں ہے بھائی مجھے کل صبح وہ لڑکی ہر حال میں چاہیے،،،،،،،،،، وہ چلّائی
تم غصہ نہیں کرو تمہاری طبیعت خراب ہو جائے گی میں وعدہ کرتا ہوں کل صبح وہ لڑکی تمہارے سامنے ہو گی،،،،،،،،،،
فارس کی بات سن کر ایرہ کچھ حد تک پرسکون ہوئی،،،،،،،،
فارس کا موبائل رنگ ہوا اس نے کال ریسیو کی،،،،،،،
باس جن کو آپ نے لڑکی اٹھوانے بھیجا تھا وہ آج بھی خالی ہاتھ آگئے ہیں،،،،،،،، فارس کا آدمی بولا
ہمم آرہا ہوں،،،،،،،، ارس نے غصے سے مٹھیاں بھینچیں
تم سو جاؤ میں لان میں جا رہا ہوں،،،،،،،،
ایرہ نے تکیے پر سر رکھا فارس نے اس پر کمفرٹر اوڑھا اور باہر نکل آیا،،،،،،،،،
کہاں مر گئے تھے تم پانچ دن ہو گئے ہیں تم سے ایک لڑکی نہیں اٹھائی گئی،،،،،،،،،، لان میں آکر فارس دھاڑا
ب۔۔۔باس مجھے وہاں کوئی لڑکی ایسی نہیں دکھائی دی جیسی آپ بتا رہے ہیں،،،،،،،،،، وہ آدمی ہاتھ باندھے اس کے سامنے کھڑا تھا
بکواس بند کرو کہاں گئی وہ آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی،،،،،،،،
باس آ۔۔۔آپ فکر مت کریں ہم جلد ہی اس لڑکی کو آپ کے سامنے لے آئیں گے،،،،،،،،
جلد ہی نہیں کل صبح کا دن آخری چانس ہے تم سب کے لیے اگر اس لڑکی کو ڈھونڈ نہیں پائے تو پرسوں سے یہاں نظر مت آنا،،،،،،،،،
اس کی بات سن کر تینوں آدمیوں نے ایک دوسرے کا منہ دیکھا،،،،،،،،،
دفع ہو جاؤ یہاں سے،،،،،،،،، وہ دھاڑا وہ تینوں الٹے قدموں بھاگے
فارس چیئر پر بیٹھا ایرہ کے فیوچر کے بارے میں سوچنے لگا پریشانی سے اس کے سر میں درد ہونے لگا تھا



سب مہمانوں کے جانے کے بعد جب گھر والے سونے کی تیاری میں تھے ارحام چوری چھپے لیزہ کے کمرے میں گھسنے کا پلین بنا رہا تھا جیسے ہی گھر کی لائٹس آف ہوئیں اس نے لیزہ کے کمرے کا رخ کیا،،،،،،،،،،،
وہ سادہ سا نائٹ سوٹ پہنے اوندھے منہ بیڈ پہ لیٹی ہوئی تھی کھڑکی سے آتی چاند کی روشنی اس کے چہرے کو جگمگا رہی تھی اس کے چہرے پہ تھکن کے اثرات واضح تھے،،،،،،،،
وہ دبے قدموں اس کے نزدیک آکر کھڑا ہوا اور اس کے حسین سراپے کو ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگا،،،،،،،،،،
وہ اس کی محرم بن چکی تھی آج اسے پورا حق تھا اسے چھونے کا اسے محسوس کرنے کا اس کی سانسوں کو اپنے اندر تک اتارنے کا،،،،،،،،
وہ دھیرے سے بیڈ پر بیٹھا اس کے کندھوں کے درمیان بندھی ڈور کو نرمی سے کھینچا،،،،،،،،
زیبِ تن لباس نے اپنی گرفت ڈھیلی کی ارحام کے لیے اب خود کو روک پانا نا ممکن تھا وہ اس کے کندھے سے شرٹ ہٹاتا ہوا اپنے ہونٹ رکھ گیا،،،،،،،،،
کسی کے لمس کو محسوس کر کے ایک دم سے لیزہ کی آنکھ کھلی وہ ایک جھٹکے سے سیدھی ہوئی،،،،،،،،
لیزہ،،،،،،، اس سے پہلے کہ وہ چینختی ارحام نے اس کا نام پکارا
ار۔۔۔ارحام ت۔۔۔تم یہاں،،،،،،، وہ گھبرائی
تم سے ملے بنا سو جاتا ایسے کیسے ہو سکتا تھا،،،،،،،،،
لیکن آج سے پہلے بھی تو تم ملے بنا ہی سوتے تھے،،،،،،، وہ حیران ہوئی
آج سے پہلے تم میری محرم نہیں تھی،،،،،،، وہ اس پر جھکا
ار۔۔۔ارحام کیا کر رہے ہو،،،،،،،، وہ اس قدر اسے اپنے نزدیک دیکھ پر گھبرائی
تمہیں مجھ سے پوچھنے کا حق نہیں کہ میں کیا کر رہا ہوں کیوں کہ میں اب ہر حق رکھتا ہوں،،،،،،،،، یہ کہتے ہوئے اس نے جھک کر لیزہ کی گردن پر ہونٹ رکھے
لیزہ کی سانس اس کے گلے میں اٹک گئی اس کی دھڑکنیں عروج پر تھیں،،،،،،،،،
ارحام نے اس کے دل کے مقام سے شرٹ کو ہٹایا اس کا ارادہ بھانپتے ہوئے لیزہ نے اس کا ہاتھ پکڑا،،،،،،،،،
وہ ایک پل کے لیے رکا چاند کی روشنی سے لیزہ کو اس کی آنکھیں چمکتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں،،،،،،،،
ارحام نے اس کی شرٹ کو آزاد کیا لیزہ نے سکون کا لمبا سانس لیا لیکن اگلے پل بنا وقت ضائع کیے وہ اس کے ہونٹوں پر جھکا،،،،،،،،،
لیزہ نے اپنی آنکھوں کو سختی سے بھینچ لیا اسے اپنے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی،،،،،،،،،
ارحام بنا اس کی پرواہ کیے اس حسین عمل کو بخوبی سرانجام دینے میں مصروف تھا لیزہ نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا وہ لمبے لمبے سانس بھرنے لگی،،،،،،،،،،
ارحام،،،،،،، اس نے تیزی سے سانس بھرتے ہوئے پکارا
وہ مکمل طور پر اس پہ حاوی ہوا لیزہ آنکھیں کھولے حیرت سے اسے دیکھنے لگی،،،،،،،،
ار۔۔۔ارحام ہماری ر۔۔۔رخصتی نہیں ہوئی ہے،،،،،،،، وہ گھبرائی
فکر مت کرو اس حد تک نہیں جاؤں گا لیکن اس وقت مجھے تمہیں محسوس کرنا ہے تمہاری ان سانسوں کو پینا ہے،،،،،،،،، اس نے لیزہ کے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے کھینچا
آہ،،،،،،، وہ درد سے کراہی شاید وہ زیادہ زور سے بائٹ کر چکا تھا
ارحام پلیز نہیں کرو ی۔۔یہ ٹھیک نہیں،،،،،،،، اس نے جیسے ہی اس کا ہونٹ آزاد کیا وہ فوراً بولی
کچھ غلط نہیں ہے بیوی ہو تم میری میں چاہوں تو آخری حد بھی پار کر سکتا ہوں،،،،،،،، اس کی بات سن پر لیزہ گھبرائی
لیکن کروں گا نہیں فکر نہ کرو جان،،،،،،، وہ مسکرایا
گڈ نائٹ ہیو مائی ڈریمز،،،،،،،،، نرمی سے اس کی تھوڑی کو چومتا ہوا وہ کھڑا ہوا اور کمرے سے نکل گیا
اس کے جانے کے بعد بھی لیزہ کے دل کی دھڑکنیں تھمی نہیں تھیں وہ جو کر گیا تھا اسے اب شاید ہی نیند آنی تھی،،،،،،،



آریان آج تم ایشا کو کالج سے لے آؤ ڈرائیور کی طبیعت خراب ہے اور میں آفس میں بہت بزی ہوں پانچ منٹ تک امپورٹنٹ میٹنگ ہونے والی ہے،،،،،،، آحل فون کان کو لگائے بول رہا تھا
جی جی ماموں کیوں نہیں میں ابھی اسے لے پک کرتا ہوں،،،،،،،،
اوکے تھینکس یار،،،،،،
او ہو ماموں آپ بھی نا تھینکس کی کیا ضرورت ہے ایشا میری چھوٹی بہن ہے،،،،،،،،
یہ تو ہے اوکے میں فون رکھتا ہوں تم لے آؤ پندرہ منٹ تک اسے چھٹی ہونے والی ہے،،،،،،،،
اوکے میں بس ابھی جا رہا ہوں،،،،،، وہ اٹھا اور گاڑی کی کیز اٹھاتا ہوا باہر نکل گیا
جیسے ہی وہ گاڑی لے کر باہر نکلا فارس کے آدمیوں نے اپنی گاڑی اس کے پیچھے لگائی آج انہوں نے ہر طریقہ آزمانا تھا کیوں کہ اگر آج وہ اس لڑکی کو یہاں سے لے کر نہیں گئے تو فارس نے انہیں نوکری سے نکال دینا تھا،،،،،،
پندرہ منٹ تک وہ کالج کے گیٹ پر تھا ایشا باہر نکلی اس نے اپنی گاڑی تلاشی چاہی جب اس کی نظر آریان پر پڑی کالج میں فنکشن ہونے کے باعث وہ آج یونیفارم میں نہیں تھی،،،،،،،
وہ بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی،،، آریان بھائی آج آپ مجھے پک کرنے آئے ہیں،،،،،،،،
ہاں چھوٹے نمونے بیٹھو اب گاڑی میں،،،،،،،، وہ اسے دیکھتے ہی ہنس دیا
موڈ آف کرنا لازمی تھا کیا،،،،،،،، وہ اسے گھوری سے نوازتی ہوئی گاڑی میں بیٹھی
وہ آدمی ایشا کو دیکھتے ہی الرٹ ہوئے،،،،،،،
یہ تو وہی لڑکی ہے،،،،،، ایک آدمی فوراً بولا
ہاں کسی بھی صورت ہاتھ سے جانی نہیں چاہیے آج ہی ہمیں اسے لے کر جانا ہے،،،،،،،،، دوسرے آدمی نے کہا تیسرے آدمی نے گاڑی ان کے پیچھے لگا دی
اب وہ خالی روڈ آنے کے انتظار میں تھے،،،،،،
ویسے آریان بھائی آپ مجھے لینے کیوں آئے خان بابا کیوں نہیں آئے،،،،،،،،،
کیوں کہ ان کی طبیعت خراب ہے اور ماموں نے مجھے کال کر کے کہا کہ یار آج تم چھوٹے نمونے کو پک اپ کر لو،،،،،،،،
جی نہیں پاپا ایسے کبھی نہیں بولتے پاپا نے ضرور میرا نام لیا ہو گا آپ جان بوجھ کر ایسا کہہ رہے ہو،،،،،،،، اس نے منہ بسورا
ارے میں جھوٹ کیوں بولوں گا انہوں نے سچ میں چھوٹا نمونہ کہا،،،،،،،،، وہ اپنی ہنسی دبا رہا تھا
آریان بھائی آپ چپ کرتے ہو یا اتروں میں گاڑی سے،،،،،،،،،
ایشا کی ننھی سے دھمکی سن کر آریان نے قہقہ لگایا،،،،،،،،،
جیسے ہی اس نے ون سائیڈ ٹرن لیا یہاں بڑے روڈ جتنی ٹریفک نہ تھی گاڑیوں کا گزر کم ہی تھا،،،،،،،،
ٹائر کو شوٹ کر جلدی،،،،،،،، ایک آدمی نے گاڑی کے ٹائر کا نشانہ باندھا
ایک جھٹکے سے آریان کی گاڑی ڈولنے لگی،،،،،،،،
آریان بھائی یہ کیا ہو رہا ہے،،،،،،،، ایشا پریشان ہوئی
گاڑی کو بریک لگی آریان نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو گاڑی میں بیٹھے کچھ غنڈے اسے دیکھ رہے تھے،،،،،،،،
انہوں نے پاس آکر گاڑی روکی تینوں نے اپنی گنز باہر نکالیں،،،،،،،،
ایشا انہیں دیکھ کر ڈر گئی وہ آریان کے ساتھ چپک گئی،،،،،،،
ایک آدمی نے آریان کی کنپٹی پر گن رکھی دوسرے نے ایشا کے منہ پر رومال رکھا جس سے وہ ہوش کی دنیا سے بیگانہ ہو گئی،،،،،،،،،
کون ہو تم لوگ اور کیا چاہتے ہو،،،،،،،،، آریان چلّایا
تم سے کچھ نہیں چاہیے بس اس لڑکی کو لے کر جانا ہے اپنی زندگی چاہتے ہو تو بنا ہاتھ چلائے خاموش بیٹھے رہو،،،،،،،،،،
آریان حیران ہوا آخر ایشا کے ساتھ کسی کی کیا دشمنی تھی وہ تو معصوم تھی،،،،،،،،
وہ خاموش بیٹھا رہا وہ آدمی ایشا کو گاڑی سے نکال چکا تھا آریان کی سائیڈ والا آدمی دوسرے آدمی کو دیکھ رہا تھا آریان نے بنا وقت ضائع کیے اس کے ہاتھ سے گن کھینچی،،،،،،،،،،،
آدمی نے شور مچایا دوسرے آدمیوں نے دیکھا تو آریان اس کے سر پر گن رکھے کھڑا تھا،،،،،،،،،
دونوں گاڑی سے نکلو ورنہ اسے جان سے مار دوں گا،،،،،،، وہ چلّایا
اس آدمی نے دوسرے دو آدمیوں کو آریان کی بات ماننے کا اشارہ کیا وہ گاڑی سے باہر نکلے،،،،،،،،،
اپنی گنز گاڑی میں پھینکو،،،،،،،،، انہوں نے گنز گاڑی کے اندر پھینک دیں
ادھر آکر کھڑے ہو جاؤ دونوں،،،،،،، وہ دونوں چلتے ہوئے ایک سائیڈ کھڑے ہوئے
اگر کوئی بھی پاس آیا تو شوٹ کر دوں گا،،،،،،،، وہ ان تینوں کی طرف گن کیے الٹے قدموں گاڑی کی طرف چل رہا تھا،،،،،،،،،،
گاڑی میں بیٹھ کر وہ گاڑی سٹارٹ کرنے لگا جب کسی نے بیک سیٹ سے اس کے منہ پہ رومال رکھا جسے سونگھتے ہی وہ بے ہوش ہو گیا،،،،،،،،،



ایشا نے نیلی آنکھوں کے دروازے بمشکل کھولے یہ کوئی خالی کمرہ تھا جس کے سینٹر میں وہ اکیلی چیئر کے ساتھ بندھی بیٹھی تھی اس نے بولنے کے لیے منہ کھولنے کی کوشش کی لیکن کسی سخت چیز نے اس کے ہونٹ سی دیے شاید وہ سکاچ ٹیپ تھی،،،،،،،،،،،
ایک زور دار آواز سے دروازہ کھلا دو آدمی اس کی طرف بڑھے وہ ان کے قدموں کی چانپ محسوس کر سکتی تھی ایشا کی پشت ان کی طرف تھی،،،،،،،،،،،،
ایک نے اسے چیئر سے کھولا اس کے ہاتھ ابھی بھی بندھے تھے وہ اس کا بازو سختی سے پکڑے چلنے لگے،،،،،،،،،،،
اممممم۔۔۔اممممم۔۔۔۔ وہ مسلسل بولنے کی کوشش کر رہی تھی اس کا چشمہ بھی کہیں گر چکا تھا،،،،،،،،،،
باس،،،،،،،،، یہ رہی وہ لڑکی
وہ کھڑکی کی طرف رخ کیے کھڑا تھا جب اپنے آدمی کی آواز سن کر وہ مڑا،،،،،،،،،
اگلے ہی پل اس کے چہرے کے تاثرات بدلے اس کی آنکھوں میں جو وحشت تھی اب حیرت میں بدل چکی تھی،،،،،،،،،،
ایشا نے دھندلاتی آنکھوں سے اسے بڑے غور سے دیکھا اس نے آدمی سے اپنا بازو چھڑوایا اور بھاگتی ہوئی فارس کے پاس آکر کھڑی ہوئی،،،،،،،،،،،،
فارس ابھی بھی شاکڈ میں تھا وہ لوگ اسے کڈنیپ کیوں کر لائے تھے،،،،،،،،،،،
بلڈی باسٹرڈ تمہیں اس لڑکی کو اٹھانے کا کس نے کہا تھا،،،،،،،،،، وہ چلّایا
ایشا جو آنکھوں میں چمک لیے اس کی طرف بڑھی تھی ایک دم گھبرا گئی اور فارس کے آدمی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے،،،،،،،،،
باس آپ نے ہی تو کہا تھا چھوٹے بالوں والی اور گول چشمے والی لڑکی جو لڑکوں والے کپڑے پہنتی ہو ، جتنی بھی نشانیاں آپ نے بتائی تھی وہ سب اس میں موجود ہیں،،،،،،،،،، ایک آدمی سر جھکائے بولا
فارس نے ایشا کے حلیے پر غور کیا یہ تو واقع ہی اس لڑکی والی لُک تھی جو اس نے آریان کے ساتھ گاڑی میں دیکھی تھی،،،،،،،،،،
دفع ہو جاؤ یہاں سے،،،،،،،،،، وہ پھر سے چلّایا ایشا کو اپنے کان پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے
ان کے جانے کے بعد فارس نے نہایت نرمی سے اس کے منہ سے سکاچ ٹیپ اتاری وہ اس کے لیے چھوٹی بچی کی طرح تھی،،،،،،،،،،،
آؤچ۔۔۔۔۔ درد سے ایشا کے منہ سے کراہ نکلی
س۔۔۔سوپر مین انکل،،،،،،،،، اس کی نرمی دیکھ کر پھر سے ایشا کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں
