Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewanapan (Episode 01)

Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal

بھائی ی ی ی۔۔۔ بھائی ی ی ی۔۔۔ سکول یونیفارم میں وہ تقریباً سولا سالہ لڑکی جو مسلسل چلّاتے ہوئے اپنے بھائی کو پکار رہی تھی،،،

چلّانا بند کر تیرا بھائی تو کیا اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں کہ تو کہاں ہے،،، ادھیڑ عمر کے آدمی نے اسے حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا

میرے بھائی کو اگر پتہ چل گیا کہ تم لوگوں نے مجھے اغواہ کیا ہے تو بہت پچھتاؤ گے،،، وہ چھوٹی سی لڑکی شیرنی بنے دھاڑی

ہاہاہا واہ کتنی ہمت ہے اس چیونٹی میں،،، آدمی نے قہقہ لگایا

آخر بہن کس کی ہے،،، اس آدمی کا بیٹا جو بائیس سال کا دکھتا تھا اس نے خباثت بھری نظروں سے اس لڑکی کو دیکھ کر بولا

ایک شرط پہ تمہیں چھوڑ دیں گے بولو مانو گی،،، لڑکے نے کہا تو

کیا،،، وہ سرخ آنکھوں سے بولی

تمہیں مجھے خوش کرنا ہو گا اس کے بدلے میں میں تمہیں چھوڑ دوں گا،،، لڑکے نے کہا تو اس کے باپ نے قہقہ لگایا

خوب یعنی میرا بیٹا جوان ہو گیا ہے،،، آدمی نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا

وہ جو وحشت بھری نظروں سے اس لڑکے کو دیکھ رہی تھی اگلے ہی پل اس نے لڑکے کے منہ پر تھوک دیا،،،

تمہاری یہ جرأت لڑکے نے اس کے نرم رخسار پر بھاری تھپڑ رسید کیا اور اس کے بالوں کو جکڑ لیا،،،

آہ چھوڑو مجھے،،، وہ مسلسل چلّانے لگی

گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے ایک لڑکا جو تقریباً اکیس سال کا تھا اس نے پرانی خالی عمارت سے چینخنے کی آوازیں سنی تو رکا،،،

وہ تجسس سے گاڑی سے باہر نکلا اور عمارت کے اندر داخل ہو گیا چلّانے کی آواز قریب تر ہوتی جا رہی تھی،،،

دیوار کے پیچھے چھپ کر اس نے ایک کمرے میں سارا منظر دیکھا جہاں ایک لڑکا کم عمر لڑکی کو بے دردی سے مار رہا تھا،،،

وہ بے آواز قدموں سے عمارت سے باہر نکلا اور پولیس کو کال ملائی،،،

ہیلو انسپکٹر یہاں کچھ غنڈے ایک لڑکی کو بے دردی سے پیٹ رہے ہیں آپ جلدی آجائیں،،،

اوکے ایڈریس بتاؤ،،، انسپکٹر نے کہا تو وہ ایڈریس بتانے لگا

کچھ دیر تک پولیس وہاں پہنچ چکی تھی انہوں نے غنڈوں کو پکڑ لیا اور لڑکا اس لڑکی کے ہاتھ کھولنے لگا،،،

تم ٹھیک ہو،،، لڑکے نے پوچھا

ہاں میں ٹھیک ہوں لیکن تم کون ہو،،، اس نے حیرت سے اس لڑکے کے خوبصورت چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا

میرا نام آریان ہے میں بس یہاں سے گزر رہا تھا تو تمہاری چینخنے کی آواز سنائی دی پھر میں نے پولیس کو کال کی،،،

تم پلیز میرا ایک کام کر دو پولیس سے کہو کہ میں تمہاری کزن ہوں اور یہ لڑکے کچھ دنوں سے مجھے تنگ کر رہے تھے اور ہم اس واقع کے بارے میں گھر والوں کو نہیں بتانا چاہتے،،،

لیکن کیوں تمہیں اپنے گھر والوں کو بتانا چاہیے یہ کوئی عقلمندی نہیں،،، وہ حیران ہوا

پلیز میری بات مان لو تم کچھ نہیں جانتے اگر تفشیش ہوئی تو اس میں میرا ہی نقصان ہو گا،،،

ہاں بیٹا کون ہو تم اور اپنے پاپا کا نام بتاؤ،،، انسپکٹر نے کہا

انسپکٹر انکل یہ میری کزن ہے اور ہم اس بارے میں گھر والوں کو نہیں بتانا چاہتے یہ غنڈے روز اسے راستے میں تنگ کرتے تھے اور آج اسے اغواہ کر لیا لیکن اب آپ نے ان کو اریسٹ کر لیا ہے اس لیے ہمیں اب کوئی مسئلہ نہیں ہو گا،،،

لیکن بیٹا گھر والوں کو نہ بتانا غلط بات ہے،،،

پلیز انکل مان جائیں نہیں تو انہوں نے میری سٹڈی روک دینی ہے پلیز،،، لڑکی ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی

ٹھیک ہے بیٹا یہ بات ہے تو بات آگے نہیں بڑھاتے لیکن آئندہ خیال کرنا ہے کبھی بھی اکیلے سکول نہیں جانا اوکے،،،

اوکے انکل تھینک یو،،، ان دونوں نے کہا تو وہ اسے لیے اپنی گاڑی میں بیٹھا

تھینک یو میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی،،، وہ مسکراتے ہوئے بولی

کوئی بات نہیں میں نے وہی کیا جو مجھے کرنا چاہیے تھا،،،

بس مجھے یہی اتار دو،،،

لیکن کیوں تم اکیلی ہو گھر کیسے جاؤ گی مجھے بتاو میں چھوڑ آتا ہوں،،،

نہیں میں چلی جاؤں گی میرا گھر زیادہ دور نہیں ہے بس گاڑی روک دو،،، آریان حیران ہوا سڑک کے آس پاس تو کوئی گھر نہ تھا لیکن اس کے کہنے پر گاڑی روک دی

تھینکس اگین،،، وہ کہتی ہوئی گاڑی سے باہر نکلی

سنو تم نے میرا نام تو پوچھا ہی نہیں،،، وہ گاڑی کی ونڈو میں جھکی

اوہ سوری اب بتاؤ کیا نام ہے،،، آریان شرمندگی سے بولا

آئم ایرہ نائس ٹو میٹ یو امید ہے کہ ہماری پھر ملاقات ہو گی اس نے ونڈو سے ہاتھ اندر کیا جیسے آریان تھام گیا

🔥
🔥
🔥

آریان اٹھ جاؤ کب تک سو گے بیٹا،،،

ماہاویرا کھڑکی سے پردہ ہٹاتی ہوئی آریان کو جگا رہی تھی،،،

موم ابھی مجھے اور سونا ہے،،، دھیمی سی آواز کے ساتھ وہ غنودگی میں بولا تھا

تمہیں پتہ ہے نا آج تم نے بارہ بجے ایئر پورٹ جانا ہے،،، ماہاویرا نے اس کے کمرے سے چیزیں سمیٹتے ہوئے کہا جو آریان اپنی عادت کے مطابق روز بکھیرتا تھا

بھئی میں کہیں نہیں جا رہا ابھی کل ہی تو یونیورسٹی میں لاسٹ ڈے تھا آج میں نے فل ڈے سونا ہے بس،،، وہ ابھی تک کمفرٹر میں چہرہ چھپائے بول رہا تھا

آریان میری جان دیکھو بیٹا کتنی بری بات ہے وہ بچی پہلی بار پاکستان آرہی ہے اسے یہاں کے بارے میں کچھ نہیں معلوم وہ کیسے ہمارا گھر ڈھونڈے گی،،، ماہاویرا نے بیڈ پر بیٹھ کر اسے سمجھانا چاہا

اوہ موم،،، آریان نے تنگ آکر چہرے سے کمفرٹر اتارا

گہری سیاہ آنکھیں، گھنی لمبی پلکیں، سرخی مائل باریک ہونٹ، شفاف سفید رنگت کے ساتھ ماتھے پر بکھرے سیاہ بال، اس حال میں بھی وہ انتہائی پرکشش لگ رہا تھا،،، وہ جب چھوٹا تھا صرف تب ہی ماہاویرا سے ملتا تھا اب تو وہ بلاشبہ وہ بلال کی فوٹو کاپی تھا

موم آپ بھی نا کمال کرتی ہیں ڈیڈ کو بھیج دینا تھا نا،،، آریان اٹھ کر بیٹھا

تم جانتے تو ہو تمہارے ڈیڈ ان دنوں آفس ورک میں ہی اتنے بیزی ہوتے ہیں کہ پورا دن کسی اور کام کے لیے ٹائم نہیں نکال پاتے،،، ماہاویرا ہاتھوں سے اس کے بال درست کرتی ہوئی بولی

اور وہ لڑکی کون ہے اور کیوں آرہی ہے ہمارے گھر اس کو پورے پاکستان میں ایک ہمارا ہی گھر ملا تھا سٹے کے لیے،،، اب آریان اپنا غصہ اس لڑکی پر اتارنا چاہتا تھا اگر وہ اس وقت اس کے سامنے ہوتی تو اس کی خیر نہ ہوتی

میری جان ایک ہم ہی تو ہیں ان کے جاننے والوں میں سے پاکستان میں اور کوئی بھی نہیں ہے تمہیں معلوم تو ہے وہ کن کی بیٹی ہے،،، ماہاویرا وارڈ ڈروب سے اس کے کپڑے نکالنے لگی

آخر وہ تنگ آکر اپنی نیند کی قربانی دیتا ہوا اٹھا،،،

فل ڈے سلیپ کا میرا سارا پلین خراب دیا اس چھپکلی نے ایک بار لے آؤں اسے گھر پھر دیکھنا کیسے بدلا لیتا ہوں،،، دل ہی دل میں سوچتا ہوا وہ ماہاویرا کے ہاتھ سے کپڑے لے کر واش روم گھس گیا،،،

🔥
🔥
🔥

ماہاویرا روم میں آئی تو بلال ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا آفس کے لیے ریڈی ہو رہا تھا،،،

جگا دیا ہمارے لاڈلے کو،،، وہ ماہاویرا کے قریب آکر بولا

وہ آج بھی ویسا ہی تھا بس تھوڑا سا بدلا تھا، چہرہ تھوڑا جھریوں ذدہ ہو گیا تھا اور سفید رنگت میں قدرے فرق آگیا تھا، کام کی وجہ سے آنکھوں کے گرد مدھم سے ہلکے پڑ گئے تھے اور ہونٹ خشک اور سیاہی مائل ہو چکے تھے البتہ وہ اب بھی کافی حد تک ہینڈسم دکھتا تھا،،،

جی جگا دیا ہے بہت مشکل سے اٹھا ہے آپ کا لاڈلا اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا،،،

ضدی تو ہو گا ہی آخر بیٹا کس کا ہے،،، اس نے ماہاویرا کو چھیڑا

جی بلکل آپ کا،،، ماہاویرا نے بلال کی بات اسی پر ڈال دی

بلال مسکراتے ہوئے اسے باہوں میں بھر لیا

آریان کے پیدا ہونے کے چار سال تک ماہاویرا بلال سے قطع تعلق رہی تھی پھر جب ننھا آریان ماحول کو سمجھنے لگا تو وہ ماہاویرا سے اپنے پاپا کے ساتھ ناراضگی کی وجہ پوچھنے لگا،،،

تب ماہاویرا کو لگا کہ اب اسے بلال سے رشتہ نارمل کر لینا چاہیے تا کہ اس کے بیٹے کی زندگی اس سے متاثر نہ ہو،،،

وقت کے ساتھ ساتھ ماہاویرا نے سب بھلا دیا بلکہ یوں کہنا مناسب رہے گا کہ بلال نے اسے اتنی محبت دی کہ وہ اس کے دیے زخموں کو بھول چکی تھی اور پھر سے بلال کے ساتھ ایک نارمل لائف گزارنے لگی جس میں صرف محبت اور خلوص تھا،،،

چھوڑیں مجھے یہ کیا کر رہے ہیں آپ کوئی آجائے گا،،،

کس نے آنا ہمارا روم ہے جو مرضی کریں،،، وہ ماہاویرا کی رخسار کے ساتھ اپنی بڑھی ہوئی شیو رگڑنے لگا

اففف بلال کیا کر رہے ہیں آپ آپ کو پتہ ہے یہ مجھے چبھتی ہے پھر بھی،،، وہ منہ بسورتے ہوئے بولی تو بلال کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری

اوکے ناشتہ لگاؤ آج آفس جلدی آفس جانا ہے ،،، اس نے ماہاویرا کی پیشانی پر لب رکھتے ہوئے اسے نیچے اتار

ناشتہ لگا ہوا ہے آپ کو بلانے کے لیے ہی آئی تھی،،، وہ دونوں کمرے سے باہر نکل گئے

🔥
🔥
🔥

یونی کے گیٹ پر بلیک کلر کی گاڑی نے بریک لگائی تو دروازہ کھول کر اس نے بلیک ہائی ہیل والا پاؤں زمین پر رکھا،،،

لیزہ آحِل خانزادی۔۔۔۔

وہ گاڑی سے باہر نکل کر کھڑی ہوئی بلیک پینٹ کے اوپر بلو شرٹ پہنے جو اس کے گھٹنوں تک آتی تھی، اس نے بلیک گلاسز ہٹائے تو نیلی مغرور آنکھیں منظرِعام پر آئیں، اس کی دودھیا رنگت سورج کی روشنی میں چمک اٹھی تھی،،،

ہائے لیزہ،،، اس کی دو دوستیں بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئیں تو لیزہ کے گول شیپ کے پتلے سرخ ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری

ہائے تم دونوں تو مجھ سے پہلے ہی پہنچ چکیں،،، لیزہ نے حیرانگی کے تاثرات لیے مسکراتے ہوئے ان دونوں سے کہا

بس دیکھ لو میں نے اور ذوہا نے تو پہلے سے ہی پلین بنا رکھا تھا کہ تم سے پہلے یونی پہنچیں گے،،، ہما نے ہنستے ہوئے کہا

یار تم دونوں تو بڑی نے وفا نکلی یہ اچھا نہیں کیا ویسے،،، لیزہ نے منہ بسورا

دیکھو ہم دونوں نے تمہارا ویلکم بھی تو کیا ہے نا اب آؤ نا آج ہمارا یونی میں فرسٹ ڈے ہے او مائے گاڈ آئم سو ایکسائیٹڈ،،، ذوہا نے ایکسائیٹمینٹ سے کہا

چلو تم دونوں کہتی ہو تو نہیں ناراض ہوتی،،، لیزہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور ان دونوں کے ساتھ چلنے لگی

وہ تینوں یونی کا اچھے سے جائزہ لیتے ہوئے اندرونی ہال میں پہنچیں،،،

سیڑھیوں پر لڑکے اور لڑکیوں کا ایک گروپ جمع تھا جو ان سے قدرے دور تھا انہوں نے جب نیو کمرز کو آتے دیکھا تو ریگنگ کا پلین بنایا،،،

اوئے سن،،، ان میں سے ایک لڑکے نے آواز لگائی

وہ ایک سائیڈ پر بیٹھا کتاب پہ سر جھکائے تھا جب اس کی سماعت میں آواز پڑی تو اس نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا،،،

شفاف رنگت موٹی آنکھیں جن کے پپوٹے ہلکے سے ابھرے ہوئے تھے شاید یہ رات دیر تک سٹڈی کرنے کے باعث تھا، نرم گلابی ہونٹ اور ہلکی سی تیکھی ٹھوڑی،،،

جی،،، اس نے سوالیہ نظروں سے کہا

ہاں تم ادھر آؤ،،،

اس نے کتاب بند کی اور اس لڑکے کی جانب قدم بڑھائے،،،

جی،،،

کیا نام ہے تمہارا،،،

ارحام،،،

ارحام مڈل کلاس کا ایک خاموش، سادہ طبعیت اور نرم مزاج لڑکا تھا جس نے نہ کسی سے فرینڈشپ کی تھی اور نہ ہی اسے انجوائمینٹ کا شوق تھا وہ ہمیشہ اپنی سٹڈی پر فوکس کرتا تھا اس یونی میں اس کا ایڈمیشن سکالر شپ کے ذریعے ہوا تھا،،،

اچھا وہ سامنے تین لڑکیاں دکھ رہی ہیں،،، اس نے لیزہ، ذوہا اور ہما کی طرف اشارہ کیا

ہاں دکھ رہی ہیں،،، ارحام نے ان کی طرف دیکھا

ان میں سے جو بلو شرٹ والی لڑکی ہے اس پر یہ پانی پھینک کر آؤ،،،

ارحام اس لڑکے کی بات پر ہکہ بکہ اسے دیکھنے لگا جس پر اس لڑکے نے اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی،،،

لیکن میں کیوں جاؤں آپ میں سے کوئی بھی چلا جائے،،، ارحام نے کہا تو ان میں سے ایک لڑکی اٹھ کر اس کے سامنے آئی

اگر تم نہیں گئے تو اس کا انجام بہت برا ہو گا میں پرنسل کو شکایت کروں گی کہ تم مجھے روز چھیڑتے ہو،،، اس کی بات سن کر وہ پریشان ہوا کیوں کہ اس نے آج تک ایسی کوئی حرکت نہیں کی تھی اگر پرنسپل کے پاس اس کی شکایت جاتی تو یہ اس کے لیے نہایت شرمندگی کا باعث تھی،،،

اب سوچ کیا رہے ہو جاو اور یہ پوری بوٹل اس کے سر پر خالی کر کے آؤ،،، اس نے زبردستی ارحام کے ہاتھ میں بوٹل تھمائی

کچھ دیر خاموش کھڑے رہنے کے بعد ارحام نے مجبوراً اس کی طرف قدم بڑھائے،،،

🔥
🔥
🔥

آریان بلیک تھری پیس پہنے آنکھوں پہ بلیک سن گلاسز لگائے گاڑی سے اترتا ہوا ائیر پورٹ میں داخل ہوا،،،

آس پاس دیکھتا ہوا وہ اس لڑکی کا بہت غصے میں انتظار کر رہا تھا جس کی وجہ سے اس کا فل ڈے سلیپ کا پلین چوپٹ ہوا،،،

کہاں رہ گئی یہ چھپکلی،،، اس نے غصے سے خود کلامی کی

تبھی اس کی نظر ایک لڑکی پر آکر ٹھہر گئی،،،

وائٹ پینٹ، ییلو ٹی شرٹ، ییلو لانگ شوز، سنہری بالوں کی اونچی پونی کیے، وہ ہائی ہیلز سے ٹک ٹوک کرتی ہوئی آریان کے پاس آئی،،،

اب آریان نے اسے نزدیک سے دیکھا تھا،،،

گول فیس، خوبصورت آنکھیں، تیکھی ناک، گول شیپ کے ہونٹ، ہلکی تیکھی ٹھوڑی، بلا شبہ وہ آریان کا دل دھڑکنے پر مجبور کر رہی تھی،،،

مگر وہ حیران ہوا کہ وہ اس کے پاس آکر کیوں کھڑی ہے،،،

جی،،، آریان نے سوالیہ نظروں کے ساتھ کہا

Are you Aryan khanzada?

اس لڑکی نے انگلش میں پوچھا جیسے کہ وہ اردو بولنا بہت کم جانتی تھی،،،

Yes I’m but who are you?

اب پوچھنے کی باری آریان کی تھی،

I’m Alaya hamdani.

مائے گاڈ۔۔ یہ چھپکلی اتنی بیوٹیفل ہو گی میں تو سوچا بھی نہ تھا،،، آریان زیرِلب بڑبڑایا

کچھ کہا آپ نے،،، الائیہ انگریزی لہجے میں بولی

ہاں کچھ نہیں گاڑی میں بیٹھیں،،، آریان دانت پیستا ہوا گاڑی کی طرف بڑھا

الائیہ اس کے رویے پر حیران ہوئی مگر خاموشی سے اس کے پیچھے چل دی

وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے آریان نے گاڑی سٹارٹ کی اور الائیہ ونڈو سے اسلام آباد کی ہوائیں لینے لگی

🔥
🔥
🔥

لیزہ ذوہا اور ہما سے باتوں میں مصروف تھی جب ارحام نے اسے پکارا،،،

ایکسکیوزمی،،،

جی،،، لیزہ نے اپنا رخ اس کی طرف کیا

اگلے ہی پل وہ بنا کچھ کہے لیزہ کے سر پر پانی کی بوٹل خالی کرنے لگا اور لیزہ سکتے کی حالت میں اپنے اور گرتے پانی کو دیکھ رہی تھی، ذوہا اور ہما کا بھی یہی ہال تھا

اپنا کام مکمل کرنے کے بعد ارحام مڑنے لگا جب لیزہ نے اسے کندھے سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا،،،

چٹاخ۔۔۔۔ ایک زور دار تھپڑ کی گونج نے آس پاس کے سٹوڈنٹس کی توجہ کھینچی

یو ایڈیئٹ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ساتھ ایسا کرنے کی،،،

اس نے ارحام کی گردن کو نوچ لیا یہ منظر دیکھ کر ذوہا اور ہما نے جلدی سے لیزہ کو اس سے دور کیا،،،

لیزہ ریلیکس ہو جاؤ،،، ہما نے پریشانی سے کہا

کیسے ریلیکس ہو جاؤں دیکھو اس ایڈئیٹ نے میرے ساتھ کیا کیا،،، وہ غصے سے چینختی ہوئی بولی

ارحام شرمندگی سے نظریں جھکائے کھڑا تھا لیزہ کا یہ ری ایکشن غلط نہ تھا اس بات کو وہ جانتا تھا،،،

وہ دونوں اسے پکڑے واش روم کی طرف لے گئیں اور ارحام ہال سے باہر نکل گیا،،،

ادھر لڑکے اور لڑکیوں کا گروپ ہنس ہنس کر پاگل ہو رہا تھا،،،

میں بتا رہی ہوں ہما میں اس لڑکے کو چھوڑوں گی نہیں،،، لیزہ ٹشو سے اپنے کپڑے صاف کرتی ہوئی بولی

لیزہ مجھے نہیں لگتا کہ وہ لڑکا اپنی مرضی سے آیا تھا،،، ذوہا نے کہا

کیا مطلب ہے تمہارا،،، ہما نے پوچھا

یار تم نے دیکھا نہیں تھا اس کے چہرے پر پریشانی تھی جیسے وہ ڈر رہا تھا اسے ضرور کسی اور نے بھیجا ہو گا اور وہ گرلز بوائز کا گروپ کیسے ہنس رہا تھا ہو سکتا ہے ان کا کام ہو یہ،،،

تو میں کیا کروں میں بدلہ اسی سے لوں گی جس نے میرا یہ حال کیا ہے،،، لیزہ غصے سے بولی

اچھا یار پلیز تم فلحال کے لیے ریلیکس ہو جاؤ،،، ذوہا نے پریشانی سے کہا

🔥
🔥
🔥

ذائشہ کچن میں کھڑی گاجر کا حلوہ بنا رہی تھی جب آحِل نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا،،،

وہ گھبرائی نہیں تھی آحِل کی بے باکیوں کو برداشت کرنے کی اسے عادت ہو گئی تھی وہ نہ آؤ دیکھتا تھا نہ تاؤ جب اس کا دل کرتا یوں ہی ذائشہ کو اپنے حصار میں لے لیتا، آحِل کے پیار میں ذرہ برابر بھی کمی نہ آئی تھی ہر دن ذائشہ کو آحِل کا پیار بڑھتا ہوا محسوس ہوتا،،

آج آپ جلدی آگئے آفس سے،،، ذائشہ نے حلوے میں چمچ ہلاتے ہوئے کہا

ہاں تمہاری یاد بہت ستا رہی تھی بس پھر سب چھوڑ چھاڑ کر چلا آیا،،، اس نے ذائشہ کا رخ اپنی طرف کر کے اس کی پیشانی پر لب رکھے

آپ کی شہزادیاں آنے والی ہیں،،، وہ آحِل کی نظروں میں بھرا خمار دیکھ کر بولی

ابھی آئیں تو نہیں نا تب کے لیے،،، وہ آگے بڑھنے ہی لگا تھا جب گیٹ پر ہارن سنائی دیا

لو آگئی آپ کی لاڈلی اولاد ہمیشہ عین وقت پر ہی ٹپکتے ہیں،،،آحِل نے منہ بسورتے ہوئے کہا تو ذائشہ نے اپنی ہنسی دبائی

ماما،،، وہ بھاگتی ہوئی ذائشہ کے پاس آئی اور اس کے دونوں رخساروں کو پیار سے باری باری چومنے لگی

وہ اٹھارہ سال کی تھی،،،

نیلی آنکھوں (جو اسے وراثت میں ملیں تھیں) پر آئی سائٹ بڑے اور گول شیپ گلاسز لگائے، چھوٹی سی ناک، چھوٹا سا فیس، بوائیز ہئیر کٹ جو کہ اس نے ماہاویرا کی پرانی تصاویر دیکھ کر اور اس کی بہادری کے قصوں سے متاثر ہو کر رکھا تھا،،،

نازک جسم اور کمر عمری کے باوجود وہ ماہاویرا جیسی بہادر اور فائٹر بننا چاہتی تھی لیکن وہ فائٹر کم اور نمونہ زیادہ لگتی تھی،،،

اب بس کرو مسکے لگانے تمہاری ماما نے پھر بھی تمہارے اس حلیے پر ٹوکنا ہی ہے،،، آحِل نے مسکراتے ہوئے کہا کیوں کہ بقول سب گھر والوں کے ایشا ذائشہ کو صرف اس لیے مسکے لگاتی تھی تا کہ وہ اس کی بوائز لُک پر تنقید نہ کرے

او ہو پاپا آپ بھی نہ میرے تو مائنڈ میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا،،، وہ چشمے کو انگلی سے آگے دھکیلتے ہوئے پکے منہ سے جھوٹ بول گئی

آج کالج میں دن کیسا رہا،،، ذائشہ نے ایشا سے پوچھا

بہت ہی اچھا تھا ماما بس جلدی سے ایگزامز ہو جائیں مجھے یونی جانے کا بہت شوق ہے،،،

پہلے ایف۔ایس۔سی تو کمپلیٹ کر لو پھر چلی جانا یونی بھی،،، ذائشہ نے کہا

وہ بھی ہو جائے گی ماما اور آپ گاجر کا حلوہ بنا رہی ہیں واؤ بہت اچھی خوشبو آرہی ہے،،،

اچھا اب باتیں کم کرو تیاری پکڑو آج ہمیں تمہاری پھوپھو کے گھر جانا ہے،،، آحِل کی بات سنتے ہی ایشا کی بتیسی باہر نکلی

کیا سچ میں آج ہم پھو کے گھر جا رہے ہیں،،، وہ خوشی سے اچھلنے لگی

بری بات ایشا کتنی بار کہا ہے پھوپھو بولا کرو یہ تم نے پھو نہ جانے کہاں سے سن لیا ہے،،، ذائشہ نے اسے ٹوکا

او ہو ماما یہ شارٹ کٹ کا زمانہ ہے اب دیکھیں اگر میں پھوپھو بولوں گی تو میرے دو سیکنڈ ضائع ہوں گے اگر میں ایک سیکنڈ میں پھو بولوں گی تو دوسرے سیکنڈ میں میں سانس لوں گی، وقت کی قدر کرنا سیکھیں ماما گیا وقت ہاتھ نہیں آتا،،، وہ موٹی موٹی نیلی آنکھوں کو پھیلاتی ہوئی ذائشہ کو سمجھا رہی تھی جس پر ذائشہ نے اپنا ماتھا پیٹا

ویسے جتنا مرضی بول لے یہ لڑکی لیکن ایک پھوپھو پہ آکر تمہیں وقت کی قدر یاد آجاتی ہے جاؤ جلدی اب تیاری کرو،،، اوکے ماما میں ابھی آئی وہ بھاگتی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی

🔥
🔥
🔥

گاڑی وائٹ ہاؤس کے باہر آکر رکی، آریان نے ہارن بجایا تو ڈرائیور نے جلدی سے گیٹ کھولا اور گاڑی اندر داخل ہوئی،،،

ماہاویرا گھر کے اندرونی حصے پر کھڑی تھی جب الائیہ گاڑی سے نکل کر ان کی طرف بڑھی،،،

ہائے آنٹ،،،

الائیہ ماشاءاللّٰه‎ تم تو ریئل میں وڈیو کال سے بھی زیادہ خوبصورت ہو،،، ماہاویرا نے اسے گلے سے لگایا

Aunt and have you ever looked in the mirror? You are more beautiful than me.

اوہ اب کہاں میری جوانی کے دن گزر گئے اب تو تم لوگوں کے دن ہیں،،، ماہاویرا نے ہنستے ہوئے کہا

آریان دو عورتوں کی باتوں سے بچنے کے لیے چپ کر کے وہاں سے کھسک کر اپنے روم کی جانب چل دیا،،،

آؤ اندر آو،،، ماہاویرا اسے پکڑتے ہوئے اندر لے آئی

فہمیدہ اوپر والے کمرے میں الائیہ کا سامان رکھ دو،،،

جی بیگم صاحبہ ابھی رکھتی ہوں،،، فہمیدہ نے جواب دیا

اور تمہارے پیرینٹس کیسے ہیں،،، وہ دونوں صوفے پر بیٹھیں

اللہ کا کرم ہے آنٹ آپ بتائیں انکل کیسے ہیں،،، اس کی انگریزی لہجے میں میٹھی سی اردو ماہاویرا کو بہت اچھی لگ رہی تھی

وہ بھی بلکل ٹھیک ہیں آج کل آفس میں کام تھوڑا زیادہ ہوتا ہے اس لیے شام کو لیٹ آتے ہیں لیکن آج کہہ رہے تھے کہ جلدی آجائیں گے تم جو آنے والی تھی،،، فہمیدہ نے ٹرے ٹیبل پر رکھی تو ماہاویرا نے جوس کا گلاس اٹھا کر اسے پکڑایا

فہمیدہ کھانا ٹیبل پر لگاؤ،،،

Aunt I’m not hungry yet.

لنچ کا ٹائم تو ہو گیا ہے کھا لیتی تو اچھا ہوتا،،، ماہاویرا نے کہا

نو آنٹ میں بس ڈنر کروں گی ٹریول کی وجہ سے ابھی تو کچھ کھانے کو دل نہیں کر رہا،،،

ٹھیک ہے تم ابھی ریسٹ کرو،،،

فہمیدہ الائیہ کو کمرے میں لے جاؤ،،،

فہمیدہ پاس آکر کھڑی ہوئی تو الائیہ اس کے ساتھ چل دی

اوپر والے فلور میں پہلا کمرہ جو سب سے بڑا اور اچھا تھا وہ آریان کا تھا،،،

الائیہ آس پاس گھر کو دیکھ رہی تھی جب اسے معلوم ہی نہ ہوا کہ فہمیدہ کون سے کمرے میں داخل ہو گئی،،،

اب وہ اس کشمکش میں تھی کہ کیا کرے، وہ اندازے سے سامنے والے کمرے کی جانب چل دی،،،

دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی لیکن یہاں فہمیدہ تو نہ تھی،،،

وہ واپس مڑنے ہی لگی تھی جب واش روم کا دروازہ کھلا اور آریان فریش ہو کو شرٹ لیس باہر نکلا،،،

بے داغ سفید جسم، چوڑا سینہ، سِکس پیک بنائے ہوئے اس کے جسم سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے،،،

اچانک یہ سب ہو جانے پر الائیہ حیرت سے اس کی باڈی کی طرف دیکھ رہی تھی جب وہ بولا،،،

Do you need something?

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *