Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 24)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
ی۔۔۔یہ سب کیا ہو رہا ہے،،،،،،،،،، وہ حیرت سے سب کو دیکھتا ہوا بولا
بھائی آپ کا نکاح ہونے والا ہے،،،،،،،ایرہ نے مسکراتے ہوئے کہا
لیکن گڑیا ایسے کیسے،،،،،،،، وہ اس کے نزدیک آیا اس کی نظر ایشا بی بی پر پڑی جو بڑے آرام سے سر پر دوپٹہ اوڑھے حاجن بنی بیٹھی تھی اس کو اتنے آرام سے بیٹھے ہوئے فارس پہلی بار ہی دیکھ رہا تھا البتہ وہ دوپٹہ لیے کافی کیوٹ نمونہ لگ رہی تھی یہ فارس کے دل نے کہا تھا
بھائی آج آپ کو نکاح کرنا ہی ہو گا آئی نو یو لائک ہر،،،،،،،،
ایرہ زرا غور سے دیکھو اس کو کہاں یہ اٹھارہ سال کی اور کہاں میں بتیس پلس،،،،،،،،،، فارس اپنے آدمیوں کے سامنے شرمندہ سا ہو کے رہ گیا تھا
اوہ کم آن بھائی نکاح کے لیے ہمارے مذہب میں عمر کی کوئی پابندی عائد نہیں ہے ایسی ٹِپیکل مائنڈڈ باتیں کیوں کر رہے ہیں آپ،،،،،،،،،
لیکن ایرہ یہ فیصلے جلد بازی میں نہیں کیے جاتے اور دیکھو اس کے پیرینٹس کو بھی کچھ معلوم نہیں ہے،،،،،،،،،،،
ہم ایشا پر زور زبردستی نہیں کر رہے ہیں وہ اپنی مرضی سے نکاح کر رہی ہے اس لیے کل کو آپ پر کوئی کیس نہیں کر سکتا،،،،،،،،، ایرہ کی بات سن کر ایشا بی بی نے بتیسی دکھاتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تو فارس نے اسے گھوری سے نوازہ جس پر اس کی بتیسی اندر ہو گئی
اور میں نے جو سوچ رکھا تھا کہ تمہاری شادی کے بعد ہی خود شادی کروں گا اس کا کیا،،،،،،،،،،
کم آن بھائی میری شادی بھی ہو جائے گی فلحال آپ یہاں بیٹھیے دلہن کے ساتھ،،،،،،، ایرہ نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے ایشا کے ساتھ بیٹھایا
بھائی پلیز یہ نکاح کر لیں آپ کی بہن کی یہ خواہش ہے،،،،،،،،،، فارس کا پریشان چہرہ دیکھ کر ایرہ نے کہا فارس نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا آج تک وہ ایرہ کی تمام خواہشیں پوری کرتا آیا تھا آج اپنی گڑیا کو انکار کیسے کر سکتا تھا
فارس نے اثبات میں سر ہلایا ایرہ مسکرائی ایشا کی آنکھیں چمکیں،،،،،،،،،
اوہ ییس ییس سوپر مین انکل مان گئے،،،،،،،،،، یہ سب ایشا نے دل میں کہا تھا اس کا بس چل رہا تھا پورے گھر میں ڈانس کر کے اپنی خوشی کا اظہار کرے لیکن فلحال اس کے خاموش رہنے میں ہی بہتری تھی،،،،،،،،،
ایرہ نے مولوی کو نکاح پڑھوانے کا کہا فارس حیران تھا آج اس کا نکاح ہو جائے اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا،،،،،،،،،
تین تین بار قبول ہے کہنے کے بعد ان دونوں نے نکاح نامے پر دستخط کیے،،،،،،،،،
فارس نے کن اکھیوں سے ایشا کی طرف دیکھا جو ریڈ لپسٹک لگائے بہت پیاری لگ رہی تھی،،،،،،،،
ایشا بی بی تو آج سب کا لیحاظ کیے ہوئے چپ کر کے بیٹھی ایک اچھی دلہن ثابت ہونے کا ایوارڈ لینے پر تلی ہوئی تھی،،،،،،،،،،
ایشا چلو تمہیں کمرے میں چھوڑ آؤں،،،،،،، ایرہ نے اس کا ہاتھ پکڑا وہ کھڑی ہوئی تو فارس نے اس کا حلیہ دیکھا
پاؤں میں جوگر شوز ،جینز کی پینٹ اور ٹی شرٹ کے اوپر سرخ دوپٹہ لیے کھڑی تھی،،،،،،،،
تو یہ تھا میر فارس کا فیوچر جو اس نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا، “اوہ میرے خدایا کس نمونے کو میرے حصے ڈال دیا” ،،،،،،،، یہ فارس نے دل میں کہا
ایرہ اسے فارس کے کمرے کی طرف لے جانے لگی جب حیرت سے فارس کی آنکھیں پھٹیں،،،،،،،،،
مولوی اور اس کے آدمی جا چکے تھے اب وہ کوئی بھی بات بلا جھچک کر سکتا تھا،،،،،،،،،
ایرہ کہاں لے کر جا رہی ہو اسے،،،،،،، وہ کھڑا ہوا
آپ کے روم میں اور کہاں،،،،،،،ایرہ نے کندھے اچکائے
بلکل نہیں چلو ایشا تمہیں چھوڑ کر آؤں،،،،،،،، فارس اس کے پاس آیا
بھائی کیا ہو گیا ہے آپ کی بیوی ہے یہ اب کیا اسے آپ رات کے 1 بجے گھر چھوڑنے جائیں گے،،،،،،،،،،
لیکن اس کے پیرینٹس کو فکر ہو رہی ہو گی نا،،،،،،،، فارس نے کوئی تو بہانہ گھڑنا ہی تھا اس نمونے سے جان چھڑوانے کے لیے
انہیں کال کر کے بتا دیتے ہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ کے ساتھ رہنے میں،،،،،،،،،، ایشا نے پاکٹ سے چشمہ نکال کر لگاتے ہوئے کہا اب وہ پہلے سے بھی زیادہ فنی دکھائی دے رہی تھی
فارس اس کی بات سن کر پانی پانی ہو گیا یہ کیسی لڑکی تھی جو شادی والی رات خود اپنے منہ سے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کا کہہ رہی تھی،،،،،،،،
ہاں یہ بیسٹ آئیڈیا ہے ایشا اپنے پاپا یا ماما کا نمبر دو انہیں کال کرتی ہوں تم بات کر لینا اوکے،،،،،،،،
اوکے،،،،،، ایشا نے نمبر بتایا فارس کبھی ایشا اور کبھی ایرہ کی طرف دیکھتا لیکن غصہ اسے صرف ایشا پر آرہا تھا اس نے پہلے ہی ایک کس سے اس کی بری حالت کر دی تھی اب رات کو ایک بیڈ پہ وہ کیسے اس کے ساتھ سوتا،،،،،،،،،
میں کمرے میں جا رہا ہوں،،،،،،، فارس اپنے کمرے کی طرف چل دیا
آحِل اور ذائشہ کی ابھی ہی آنکھ لگی تھی جب آحل کا فون رنگ ہوا وہ دونوں ہی ہڑبرا کر اٹھے کیوں کہ پولیس نے کڈنیپرز کی کال کا ویٹ کرنے کا کہا تھا شاید وہ تاوان لینا چاہتے ہوں،،،،،،،،،
آحل نے موبائل اٹھا کر دیکھا وہ کوئی ان نان نمبر تھا،،،،،،،،
فارس کس کی کال ہے،،،،،، ذائشہ کا دل دھڑکنے لگا
کوئی ان نان نمبر ہے،،،،،،،،
ریسیو کریں جلدی کیا پتہ ہماری ایشا کے متعلق ہو،،،،،،،
آحل نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کال ریسیو کی،،،،،،،
ہیلو،،،،، آحِل بولا
ہیلو پاپا،،،،،،، ایشا کی آواز پر وہ دونوں ہی تڑپ اٹھے انہیں یقین نہیں آرہا تھا وہ ایشا کی آواز ہے،،،،،،،
ہیلو۔۔۔ پاپا آپ سن رہے ہیں،،،،،،،
ای۔۔۔ایشا میرا بچہ کہاں ہو تم،،،،،،، وہ تیزی سے بولا
ایرہ نے نفی میں سر ہلایا جس کا مطلب تھا کہ انہیں ابھی یہ بات نہیں بتانی کہ وہ کہاں ہے کیوں کہ فارس سے پوچھے بنا وہ یہ بات نہیں بتا سکتی تھی،،،،،،،،،،
پاپا میں بلکل ٹھیک ہوں آپ پریشان تو نہیں ہوئے نا،،،،،،،، ذائشہ نے جلدی سے موبائل پکڑا
ایشا کون لوگ تمہیں کڈنیپ کر کے لے گئے ہیں اور کہاں ہو تم میری جان تمہیں انہوں نے کچھ کہا تو نہیں نا ا۔۔۔اور تم نے کھانا تو کھایا ہے نا،،،،،،،، وہ روتے ہوئے تیزی سے بولنے لگی
ماما مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا یہاں سب بہت اچھے ہیں اور ہاں میں نے کھانا بھی کھا لیا تھا لیکن سوری ماما آج نا آپ مجھے نہیں دیکھ رہی تھیں نا اس لیے میں نے بہت سارا فاسٹ فوڈ کھایا،،،،،،،
آحِل اور ذائشہ حیران ہوئے آخر وہ کہاں تھی جو اسے کسی نے نقصان نہیں پہنچایا تھا اور آواز سے وہ بہت خوش بھی تھی،،،،،،،،،
ایشا تم ابھی گھر آجاؤ وہ لوگ اچھے ہیں نا پھر انہیں کہو تمہیں گھر چھوڑ دیں ابھی اسی وقت،،،،،،،،
ماما سوپر مین انکل تو کہہ رہے تھے تمہیں گھر چھوڑ کر آتا ہوں لیکن میں نے ہی ضد کی کہ مجھے ابھی نہیں جانا ہے،،،،،،،،،، ایرہ کو میڈ نے آواز دی وہ ایشا کے پاس سے اٹھ کر اس کی بات سننے چلی گئی
سوپر مین انکل۔۔۔۔ لیکن یہ کون ہے،،،،،،،، ذائشہ حیران ہوئی
ماما پاپا ان کو جانتے ہیں آپ پاپا کو موبائل دیں،،،،،،،،
ہاں ایشا بچہ جلدی بتاؤ،،،،،،، آحل نے کال لاؤڈ پر لگائی
پاپا میں نے آپ کو بتایا تھا نا کہ کراچی بیچ پر جب میں ڈوبنے والی تھی تو مجھے ایک انکل نے بچایا تھا،،،،،،،،،
ہاں ہاں مجھے یاد ہے آگے بتاؤ،،،،،،،،
تو بس یہ وہی انکل ہیں ایکچولی انہوں نے کسی اور کو کڈنیپ کرنا تھا لیکن غلطی سے مجھے کر لیا،،،،،،،،
کیا اس کا مطلب وہ آدمی ٹھیک نہیں ہے کڈنیپر ہے وہ،،،،،،،، آحِل اور ذائشہ پریشان ہوئے
نو پاپا سوپر مین انکل کے بارے میں آپ بلکل بھی کچھ مت کہنا کیوں کہ اب اس سے میری شادی ہو گئی ہے،،،،،،،،
ایشا کی بات سن کر آحِل اور ذائشہ سکتے کی حالت میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے،،،،،،،،،
کیا ش۔۔۔شادی،،،،،،، آحل کے پیروں تلے زمین نکلی
ایشا نے دانتوں تلے زبان لیتے ہوئے ماتھے پہ ہاتھ رکھا کیوں کہ وہ شادی کا بتا چکی تھی حالانکہ اس کے پلین کے مطابق اسے ماہاویرا کی طرح تین ماہ اپنے نکاح کو چھپانا تھا،،،،،،،،،،
ایرہ پھر سے اس کے پاس آکر بیٹھی،،،،،،،،
اوکے پاپا اوکے ماما لوّ یو اب کال بند کرنے لگی ہوں،،،،،،،،،
ن۔۔نہیں ایشا پلیز ابھی کال بند مت کرنا پہلے بتاؤ تم نے یہ نکاح کیسے کیا تم پر زور زبردستی کی گئی ہے نا،،،،،،، ذائشہ تڑپ کر بولی
نہیں ماما میں بہت خوش ہوں پلیز آپ بھی پریشان مت ہوں میں صبح گھر آؤں گی اوکے،،،،،،،،
ایشا میرا بچہ کال بند مت کرو ابھی تو ہمارے دل کو تسلی بھی نہیں ہوئی کہ تم محفوظ ہو بھی یا نہیں،،،،،،،، آحل نے کہا
اففف پاپا میں نے کہا نا میں ٹھیک ہوں اور ہاں مجھے بتائیں آریان بھائی ٹھیک ہے نا،،،،،،،، ایشا کے منہ سے آریان کا نام سن کر ایرہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی
و۔۔وہ ٹھیک ہے ایشا لیکن تم پلیز کال بند مت کرو اور ہاں تمہارے پاپا پولیس سٹیشن رپورٹ بھی لکھوا کر آئے ہیں ہم ابھی پولیس کے ساتح آرہے ہیں،،،،،،،،
ماما یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں آپ دونوں کو میں بتا رہی ہوں اگر یہاں کوئی بھی آیا تو میں بہت دور چلی جاؤں گی آپ سب سے پھر کبھی نہیں آوں گی یہ بات یاد رکھیے گا،،،،،،،، اس نے جلدی سے کال بند کی تا کہ پولیس والی بات ایرہ کو معلوم نہ ہو
تھینک یو آپی،،،،،، ایشا نے اسے موبائل پکڑایا ایرہ ابھی بھی حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی
ایشا کمرے میں جانے کے لیے کھڑی ہوئی جب ایرہ نے اسے پکارا،،،،،،،
سنو یہ آریان کون ہے،،،،،،،،
آریان بھائی وہ میرے ویر پھو کے بیٹے ہیں،،،،،،،،،
اچھا ایشا ایک اور بات بتاؤ گی،،،،،،،
جی جی پوچھیں،،،،،،،،
تمہاری فیملی میں تمہارے علاوہ بھی کوئی ایسی ڈریسنگ والی لڑکی ہے،،،،،،،،،
نہیں صرف میں ہی ہوں ویر پھو نے تو چھبیس سال پہلے ہی ایسی ڈریسنگ کرنا چھوڑ دی تھی،،،،،،،، وہ منہ پہ ہاتھ رکھتی ہوئی ہنسی
ٹھیک ہے تم جاؤ اب،،،،،،،،
ایشا چپ چاپ وہاں سے مڑی اور فارس کے کمرے کا رخ کیا،،،،،،،،،،،



آج ہاف لکھ پائی ہوں ہاف کل ملے گی تو بتائیں کل والے پارٹ میں ایشا اور فارس کے سین چاہیے کہ نہیں![]()
#دیوانہ_پن ![]()
(مدہوشی سیزن 2)
#Episode_24 (part 2)
Don’t copy paste without my permission ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
ایشا کمرے میں داخل ہوئی موٹی نیلی آنکھیں چشمے کی آڑ سے فارس کو گھور رہی تھیں کیوں کہ وہ بیڈ کے درمیان میں ٹانگیں پھیلا کر لیٹا ہوا تھا،،،،،،،،،،
ایشا کی نظر صوفے پر گئی جہاں ایک تکیہ اور کمفرٹر رکھا ہوا تھا،،،،،،،،،
ایشا کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا یعنی کہ اسے صوفے پر سونا تھا وہ ہونٹوں کو بھینچتی پاؤں پٹختی ہوئی تیز قدموں سے بیڈ کے قریب آکر کھڑی ہوئی ایک جھٹکے سے اس نے فارس کے اوپر سے کمفرٹر ہٹایا،،،،،،،،،،،
میں نے کہاں سونا ہے،،،،،،،، اس نے گھور کر پوچھا
اتنا بڑا چشمہ لگا رکھا ہے ابھی بھی نظر نہیں آرہا کیا،،،،،،،، ردِعمل میں ویسے ہی گھورا گیا
نہیں مجھے نہیں آرہا نظر،،،،،،،،، اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا
اوکے میں ہی بتا دیتا ہوں تم صوفے پر سوؤ گی،،،،،،،،،،
آپ کی خوشفہمی ہے یہ میں تو بیڈ پر سوؤں گی،،،،،،،،، وہ شوز اتارتی ہوئی بیڈ پر چڑھی
ی۔۔۔۔یہ کیا کر رہی ہو میں نے کہا نا تم نے صوفے پہ سونا ہے،،،،،،،،، وہ ایک دم سے گھبرا کر بیٹھا
کیوں میں کوئی چڑیل ہوں کیا جو آپ کو میرے ساتھ سونے سے ڈر لگ رہا ہے،،،،،،،،،، اس نے انگلی سے چشمہ اوپر کیا
دیکھو ایشا مجھے بیڈ شیئر کرنے کی عادت نہیں ہے،،،،،،،،،، اس نے پیار سے سمجھایا
وہ تو مجھے بھی نہیں ہے لیکن کیا کر سکتے ہیں شادی کے بعد کرنا پڑتا ہے،،،،،،،،، اس نے دوپٹہ اتار کر سائیڈ پہ رکھا
فارس کی آنکھیں پھٹیں وہ اس کا امتحان لینے پر تلی ہوئی تھی،،،،،،،،،،
اوکے۔۔۔۔ میں صوفے پر سو جاتا ہوں،،،،،،،،،، وہ اٹھنے لگا جب ایشا نے اس کا ہاتھ پکڑا ایشا کے نرم ہاتھ کے لمس سے فارس کے کی حالت مزید بگڑنے لگی
آپ کیوں صوفے پر سوؤ گے آپ کو یہیں سونا ہے سوپر مین انکل،،،،،،،،،، اس کے لفظ “انکل” سے وہ ایک دم سے ہوش میں آیا
دماغ ٹھیک ہے تمہارا،،،،،،،، اس نے تیوری چڑھائی
ہاں جی ٹھیک ہے کیوں کیا ہوا،،،،،،،، وہ معصومیت سے بولی
اتنی منھی بننے کی بھی ضرورت نہیں ہے تمہارا شوہر ہوں میں اور شوہر کو انکل کون کہتا ہے،،،،،،،،،
اچھااااا،،،،،،، ایشا کی آنکھیں موٹی ہوئیں
پھر میں آپ کو کیا کہہ کر بات کروں،،،،،،،،،
مجھے نہیں معلوم،،،،،،،، اس نے ایشا کے معصوم خوبصورت چہرے سے نظریں چرائیں
اممممممم فارو ٹھیک رہے گا،،،،،،،، وہ انگلی تھوڑی پہ رکھتی ہوئی بولی
فارس کی آنکھیں پھٹیں کہاں وہ میر فارس جس کا نام پورے پاکستان میں مشہور تھا اور کہاں فارو جسے سوچتے ہی ایک پینڈو غریب لڑکے کا سین ذہن میں آتا تھا،،،،،،،،،
فارو؟،،،،،،، فارس نے اسے گھورا
ہاں نا دیکھیں نا آپ کتنے بڑے ہیں مجھ سے اب آپ کا نام تھوڑی لے سکتی ہوں پاپا کہتے ہیں بڑوں کی عزت کرتے ہیں،،،،،،،،،،
اچھااااا تو اب تمہیں یاد آگیا کہ میں تم سے کتنا بڑا ہوں نکاح کے وقت تو ناچ ناچ کہ کہتی تھی مجھے نکاح کرنا ہے مجھے نکاح کرنا ہے،،،،،،،،، وہ اس کی نقل اتار کر بولا
ہاں جی وہ تو میں نے پہلے بھی کہا تھا خیر ہے کام چلا لوں گی اب وہی تو کر رہی ہوں،،،،،،،،،
اس کی بات سن کر فارس نے اسے گھورا،،،،،،،،،
تم اور مجھ سے کام چلاؤ گی،،،،،،، اس نے آئبرہ اچکایا
ہاں تو اور کیا کروں آپ کو سر پہ تھوڑی بٹھا سکتی ہوں کہاں میں پھول جیسی نازک کہاں آپ بھاری ڈرم،،،،،،، اس نے فارس کو اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے کہا
کیا کہا بھاری ڈرم۔۔۔۔ زرا بتاؤ کہاں سے لگتا ہوں میں،،،،،،،،، اس نے اپنے فٹ اور ٹائٹ باڈی کی طرف اشارہ کیا
سنیں آپ میرے شوہر ہیں اور ماما سے سنا تھا کہ شوہروں کے آگے زبان نہیں چلانی چاہیے اس لیے میں تو لگی سونے،،،،،،،،، اس نے کمفرٹر اوڑھا
فارس سکتے کی حالت میں اسے دیکھنے لگا وہ اسے اتنا کچھ سنانے کے بعد کہہ گئی تھی کہ شوہروں کے آگے زبان نہیں چلانی چاہیے،،،،،،،،،
یہ میرا کمفرٹر ہے،،،،،،،،،، اس نے ایشا سے کمفرٹر کھینچا
لیکن اب یہ میرا ہے،،،،،،، ایشا نے اس کے ہاتھ سے کھینچ کر واپس اپنے اوپر لیا
میں نے کہا نا میرا ہے،،،،،،،،،، فارس نے پھر سے کمفرٹر کھینچا
اوہو آپ دوسرا لے لیں مجھے سونے دیں،،،،،،،، ایشا نے پھر سے اس کے ہاتھ سے کھینچ کر اوپر لیا
مجھے اپنے کمفرٹر میں ہی نیند آتی ہے،،،،،،،،،، فارس نے پھر سے اس پر سے کمفرٹر کھینچا
تو پھر نہ سوئیں ایسے ہی بیٹھے رہیں پوری رات،،،،،،،،،،، ایشا نے پھر سے اس کے ہاتھ سے کمفرٹر کھینچ کر اوپر لیا
فارس اس کی دیدہ دلیرہ پر حیران ہوا وہ اس کے آگے چیونٹی برابر تھی لیکن کام شیرنیوں والے کر رہی تھی،،،،،،،،
اس نے ایشا کے اوپر سے کمفرٹر کھینچ کر اپنے اوپر لیا اور جلدی سے لیٹ گیا، ایشا اٹھ کر بیٹھی اور دونوں بازو کمر پہ رکھے،،،،،،،،
آج تو میں اسی کمفرٹر میں سوؤں گی چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہی کیوں نہ ہو جائے،،،،،،،، دل میں عزم کرتی ہوئی وہ کمفرٹر میں گھسنےگی
اس کے لمس سے فارس کا دل اچھلا وہ تیزی سے اٹھ کر بیٹھا،،،،،،،،
کیا مسئلہ ہے تمہارا سونے کیوں نہیں دے رہی،،،،،،،، وہ آنکھیں دکھاتا ہوا بولا
یہی تو میں آپ سے پوچھنے والی تھی کیوں نہیں سونے دے رہے مجھے،،،،،،،، جواب میں وہ بھی اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی
فارس اس کی حرکت پر حیران ہوا وہ اسے آنکھیں دکھا رہی تھی،،،،،،،،،
وہ اٹھ کر بیڈ سے نیچے اترا اور ایشا کو بازوؤں میں بھرا ایشا اس کے اچانک عمل پر حیران ہوئی،،،،،،،،،
وہ صوفے کی طرف بڑھا اور اسے صوفے پر پٹخا دو سے تین بار ایشا کو اوپر نیچے جھولے آئے وہ ابھی بے یقینی کی حالت میں تھی،،،،،،،،،،
فارس جیسے ہی بیڈ پر لیٹا اس کے کمفرٹر اوڑھنے سے پہلے ایشا اٹھی اور بھاگتی ہوئی اس کے اوپر لیٹ گئی،،،،،،،،،،
فارس کا دل آؤٹ آف کنٹرول ہونے لگا وہ اس کے حصار میں تھی وہ جو کب سے اپنے جذبات پر کنٹرول کیے ہوئے تھا ایشا کی اس حرکت پر وہ بے قابو ہوا،،،،،،،،،،،
ایشا ابھی اسی کی طرف دیکھ رہی تھی جب فارس نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ آف کیا اور ایشا کو لیٹائے اس پر ہاوی ہوا،،،،،،،،،
ایشا کے اوسان خطا ہوئے وہ ابھی اسی سکتے میں تھی کہ فارس نے ایسا کیوں کیا جب اسے اپنے ہونٹوں پر فارس کے ہونٹ محسوس ہوئے،،،،،،،،،،
ایشا کی آنکھیں پھٹیں وہ دونوں اطراف اس کی گردن کو پکڑے ہوئے تھا ایشا کو لگا اس کا دل بند ہو جائے گا،،،،،،،،
اس نے فارس کو کندھے سے دھکیلنا چاہا لیکن وہ اپنے کام میں مگن رہا ایشا نے آنکھیں سختی سے بند کیں،،،،،،،،،
وہ مسلسل اسے کندھوں سے دھکیلنے لگی ایشا کو لگا جیسے اس کے ہونٹوں میں سوزش ہو گئی ہو،،،،،،،،،،
ایشا کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑنے پر فارس نے اس کے ہونٹ چھوڑے،،،،،،،،
وہ تیز تیز سانس لینے لگی فارس کو اس کی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھیں،،،،،،،،،
فارس نے اس کی گردن کے نیچے سے ہاتھ ڈال کر گردن کو اونچا کیا اور وہاں اپنے ہونٹ رکھے ایشا کا سانس اس کے گلے میں اٹک گیا،،،،،،،،،
اس نے اس کے کندھے سے ٹی شرٹ کو نیچے کھینچا اور وہاں اپنا لمس چھوڑنے لگا،،،،،،،،،،
ایشا سکتے کی حالت میں تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اچانک کیا ہو رہا ہے،،،،،،،،،،
ف۔۔۔فارس،،،،،،،، اس نے جیسے ہی اس کا نام پکارا فارس نے پھر سے اس کے ہونٹوں کو گرفت میں لیا،،،،،،،،،
اس کے ہاتھ ایشا کی گردن اور کندھوں پر رینگ رہے تھے،،،،،،،،،،
وہ اب کسی قسم کی مزاحمت نہیں کر رہی تھی اس نے فارس کی شرٹ کو مٹھیوں میں بھینچ رکھا تھا،،،،،،،،
کچھ دیر بعد وہ دونوں اس مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں کسی کو کسی کی خبر تک نہیں رہتی،،،،،،،،،،



اگلی بلال اور اس کی فیملی پھر سے آحل کے گھر پہنچ چکے تھے تا کہ ایشا کے بارے میں کچھ معلوم کر سکیں،،،،،،،،
کیا مطلب ہے آحل ایشا ایسے کیسے کسی سے نکاح کر سکتی ہے،،،،،،، بلال نے حیرت سے کہا
ہمیں خود کچھ سمجھ نہیں آرہا بلال اور اس نے کہا ہے کہ اگر ہم نے نمبر ٹریس کروانے کی کوشس کی تو وہ ہم سے بہت دور چلی جائے اور کبھی واپس نہیں آئے گی،،،،،،،، آحل پریشان سا بولا
ایسے کیسے دور چلی جائے گی آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے ایشا اتنی بچی بھی نہیں ہے کہ اسے اتنا بھی معلوم نہ ہو کہ نکاح کوئی چھوٹی بات نہیں ہے،،،،،،،، ماہاویرا نے کہا
آریان خاموشی سے سب کی باتیں سن رہا تھا جب کہ الائیہ کچھ کشمکش میں تھی،،،،،،،،
انکل اس نے کچھ بتایا جس سے وہ نکاح کر رہی ہے اس کے بارے میں،،،،،،،،، الائیہ نے آحل سے پوچھا
نہیں اس نے ہمیں کچھ نہیں بتایا بس اتنا ہی کہا کہ اسے وہاں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا،،،،،،،،،،
ہاں لیکن وہ اس شخص کی بات سوپر مین انکل کہہ کر کر رہی تھی،،،،،،،، ذائشہ نے کہا
کیا،،،،،، حیرت سے الائیہ چلّائی سب اس کا ردِعمل دیکھ کر حیران ہوئے
کیوں کیا ہوا،،،،،،، ذائشہ کی جان کو بنی
ہی از دی اسمگلر میر فارس،،،،،،،،،، الائیہ کے کہنے کی دیر تھی کہ وہاں بیٹھے سبھی لوگوں کے سر پر آسمان گر پڑا
