Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal NovelR50585 Deewanapan (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Deewanapan (Episode 11)
Deewanapan Madhoshi Season 2 by Mirha Kanwal
سوپر مین انکل تھینک یو سو مچ،،،،،،، اس نے فارس کی طرف ہینڈ شیک کے لیے ہاتھ بڑھایا
جب کہ فارس اس کے الفاظ “سوپر مین انکل” پر ہی شاکڈ ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگا،،،،،،
ارے کیا ہوا پہچانا نہیں میں وہی جسے آپ نے سوپر مین بن کر سمندر میں بچایا تھا،،،،،، اب وہ ونڈو سے اپنا سر باہر نکال چکی تھی
فارس نے اس چھوٹے سے پیکٹ کو غور سے دیکھا اس کے چھوٹے چھوٹے بال چھوٹی سی پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے، نرم ابھرے ہوئے رخسار جو ہلکے سے سرخی مائل تھے، چھوٹے گول شیپ کے ہونٹ، آنکھوں کو موٹا کر کے دیکھتے ہوئے وہ بلکل اس کے نزدیک تھی،،،،،،
سوپر مین انکل کیا ہوا،،،،،،، وہ ابھی تک اس کے آگے ہاتھ کیے ہوئے تھی
فارس نے سامنے کی طرف دیکھا اور اسے اگنور کرنے لگا ویسے بھی وہ گاڑی میں اکیلا نہ تھا ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر گارڈ بیٹھا تھا وہ دونوں یہ سب دیکھنے کے باوجود اگنور کر رہے تھے،،،،،،،
ایشا نے واپس سر گاڑی کے اندر کیا اور جلدی سے بیگ کی زِپ کھول کر ڈیری ملک چاکلیٹ نکالی اور پین نکال کر اس پہ کچھ لکھنے لگی،،،،،،،
پاپا کہتے ہیں کہ جب کوئی آپ کی ہیلپ کرے تو اس کو تھینکس بولنا چاہیے،،،،،، اس نے فارس کی طرف چاکلیٹ بڑھائی
اس نے پھر سے ایشا کو خاموش نظروں سے دیکھا پھر اس کے ہاتھ میں پکڑی چاکلیٹ کی طرف دیکھا،،،،،،
پلیز لے لیں نا یہ میری طرف سے تھینک یو گفٹ ہے پلیز پلیز پلیز،،،،،،،، وہ موٹی موٹی آنکھوں کو سکیڑتی ہوئی اس کی منتیں کر رہی تھی
نہ جانے کیوں فارس کے ہاتھ اس کی طرف بڑھے اور اس نے ایشا کے ہاتھ سے وہ چاکلیٹ پکڑی اور ادھر ٹریفک ختم ہوتے ہی ایشا کی گاڑی آگے بڑھ گئی،،،،،،،
فارس نے دیکھا کہ وہ ونڈو سے باہر دیکھتے ہوئے اسے بائے بائے کا اشارہ کر رہی تھی،،،،،،،



ارحام آج شام پارٹی کے لیے ریڈی ہو نا،،،،،،،، ذوہا نے پوچھا
جب ٹائم ہوا ریڈی بھی ہو جاؤں گا،،،،،،،
اففف میرا مطلب ڈریسنگ وغیرہ ریڈی ہے،،،،،،
وہ تو ریڈی ہے،،،،،
اچھا کیا کلر پہننے والے ہو،،،،،،،
بلیو اینڈ بلیک،،،،،،
اوکے نائس،،،،، وہ مسکرائی
پارٹی پر لیزہ بھی آرہی ہے،،،،،، ارحام نے نظریں چراتے ہوئے کہا
ہاں آرہی ہے تم کیوں پوچھ رہے ہو،،،،،،
کچھ نہیں بس ویسے ہی،،،،،،
میں نے کل رات ذوہا کو کال کر کے منانا چاہا لیکن وہ بہت ضدی ہے،،،،،،
تمہیں میری وجہ سے اپنی فرینڈشپ خراب نہیں کرنی چاہیے تھی،،،،،،،
اوہ کم آن کیسی باتیں کر رہے ہو،،،،،،، ذوہا نے آنکھیں گھمائیں
لیزہ اس بار کی پارٹی کتنی ادھوری سے لگ رہی ہے ہمارے ساتھ ذوہا نہیں ہو گی،،،،،،، دوسری سائیڈ سیڑھیوں پر بیٹھی ہما نے کہا
تم فکر نہ کرو ہما پارٹی تو میں ان کو بھی انجوائے نہیں کرنے دوں گی،،،،،،،
کیا وہ کیسے،،،،،،، ہما حیران ہوئی
بس تم وقت آنے دو،،،،،،، لیزہ نے دانت پیستے ہوئے کہا



الائیہ آئم سوری پلیز مان جاؤ یار دیکھو میں کان پکڑ کر سوری کر رہا ہوں،،،،،،، آریان صبح سے اسے منانے پر لگا تھا لیکن وہ اس کی کسی بات کا ریسپانس نہیں دے رہی تھی
الائیہ کچھ بولو ایسے خاموش تو مت رہو،،،،،،
الائیہ لان کی طرف چلنے لگی تو آریان بھی اس کے پیچھے چلنے لگا،،،،،،،
غلطی ہو گئی ہے اور کتنی بار سوری کہوں،،،،،،،
وہ اس کی ہر بات سن کر بھی ان سنی کر رہی تھی،،،،،،،
ایسے نہیں کرو یار اور کتنی منتیں کرواؤ گی،،،،،،
وہ سفید پھولوں کے پاس آکر کھڑی ہوئی اور ان میں سے ایک پھول کو نرم ہاتھوں سے چھونے لگی،،،،،،،
آریان نے اس پھول کی طرف دیکھا جو اسے منہ چِڑا رہا تھا،،،،،،
مجھ سے اچھی قسمت تو اس دو ٹکے کے پھول کی ہے جسے تم دیکھ رہی ہو اسے چھو رہی ہو،،،،،،
الائیہ نے ابھی بھی کوئی ریسپانس نہ دیا تو آریان نے کہنی سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا،،،،،،
میری بات کا جواب دو میں صبح سے فضول میں نہیں بول رہا،،،،، وہ تلخ لہجے میں بولا
بس اتنی ہی برداشت کی حد تھی تمہاری،،،،،، وہ سرد آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
تم جو چاہے مرضی کرو اور میں کروں تو تمہیں برا لگتا ہے،،،،،،،
الائیہ میری۔۔۔۔۔۔
میں ایک نارمل لائف جینا چاہتی ہوں آریان اور تمہاری کل والی حرکت بتا رہی ہے کہ تم ایک پوزیسو انسان ہو،،،،،، وہ رکی
اس طرح تو تم مجھے بعد میں بھی تنگ کرو گے ہرٹ کرو گے تم ہمیشہ اپنی منوانا چاہتے ہو میں کل کو اپنی مرضی سے کچھ کر ہی نہیں سکوں گی،،،،،،
الائیہ ایسا نہیں ہے،،،،، وہ شرمندہ ہوا
جیسا بھی ہے مجھے تمہارے ساتھ کوئی ریلیشن نہیں رکھنا ہے،،،،،،،
میں آج شام جا رہی ہوں ہوٹل میں اور تم مجھے نہیں روکو گے،،،،،،، وہ اسے انگلی سے وارن کرتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئی اور آریان دو انگلیوں سے پیشانی کو مسلنے لگا



فارس نے کمرے میں آکر کوٹ اتار کے بیڈ پہ رکھا اور آنکھیں موندے لیٹ گیا،،،،،،
اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے آج صبح ہونے والا منظر گردش کرنے لگا جب وہ اس کے بلکل قریب آنکھوں کو موٹا کیے بولتی ہوئی نہایت معصوم لگ رہی تھی،،،،،،
پھر اسے وہ چاکلیٹ یاد آئی جو ایشا نے اسے دی تھی وہ اٹھ کر بیٹھا اور کوٹ کی پاکٹ سے چاکلیٹ نکالی،،،،،،
اس نے چاکلیٹ کو گھما کر دیکھا جہاں لکھا تھا “تھینکس سوپر مین انکل”،،،،،،،
وہ چاکلیٹ ہاتھ میں لیے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آیا،،،،،،
اب وہ خود کو نہایت غور سے دیکھ رہا تھا، چوڑا سینہ، سخت پیٹ، سلم فیس، نائس ہیئر سٹائل پھر اپنے چہرے کو ہاتھ لگاتے ہوئے وہ خود کلام ہوا ” کیا واقع ہی میں انکل لگتا ہوں”
بھائی آپ پورے بتیس سال اور تین ماہ کے ہو گئے ہیں،،،،، اسے ایرہ کی بات یاد آئی
لیکن بتیس سال میں کون انکل دکھتا ہے ابھی تو میں بلکل ینگ ہوں،،،،،،
پاگل لڑکی،،،،، اس نے چاکلیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا



ایشا آج بہت خوش تھی کہ اس نے اپنا فرض ادا کر دیا،،،،،،،
کیا ہوا ہے آج بہت خوش دکھائی دے رہی ہو،،،،،، نمرہ نے پوچھا
نمرہ تمہیں یاد ہے نا سوپر مین انکل،،،،،،،
سوپر مین انکل،،،،، نمرہ نے منہ کا زاویہ بگاڑتے ہوئے کہا
ارے وہی کراچی بیچ والا،،،،،،
اچھا وہ ہاں یاد ہے کیوں اب کیا تم واقع ہی کراچی گئی تھی اسے تھینکس بولنے،،،،،، جتنی ایشا میں عقل تھی اسے واقع ہی لگا کہ وہ یہ کہنے والی ہے
ارے نہیں وہ آج صبح مجھے ملا،،،،،،، وہ چشمے سے انگلی کو دھکیلتے ہوئے بولی
کیا کب اور کہاں،،،،،،، نمرہ حیران ہوئی
آج ٹریفک جام تھی تب اس کی گاڑی بلکل میری گاڑی کے پاس رکی تب ہی میں نے اسے دیکھا،،،،،
اچھا پھر کیا ہوا،،،،،، اس نے تجسس سے پوچھا
پھر میں نے اسے تھینکس بھی بولا اور گفٹ میں چاکلیٹ بھی دی،،،،،،،
یہ تو اچھا ہو گیا ورنہ تمہیں کراچی جانا پڑتا،،،،،، اس نے تنز کیا
ہاں بلکل صحیح کہہ رہی ہو،،،،،،،، ایشا اثبات میں سر ہلانے لگی



پارٹی سٹارٹ ہو چکی تھی آدھے سے زیادہ سٹوڈنٹس وہاں پہنچ چکے تھے،،،،،،
لیزہ ہال میں داخل ہوئی اس نے بلیک کلر کی میکسی پہن رکھی تھی، آج نیلی آنکھوں میں گہرا سا کاجل لگایا تھا، لائٹ ریڈ لپ سٹک ہونٹوں پہ سجائے، بالوں کا جوڑا کر کے گردن میں ایک لٹ چھوڑے وہ کسی کے بھی ہوش اڑانے کے قابل تھی،،،،،،،،
ٹک ٹک ٹک کی آواز کے ساتھ وہ ہائی ہیلز میں چلتی ہوئی ہما کے پاس پہنچی،،،،،،
ہما نے پرپل فراک پہن رکھی تھی وہ بھی آج معمول سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی،،،،،،،
واؤ لیزہ یو آر لکنگ سووووو بیوٹیفل،،،،،،، ہما نے مسکراتے ہوئے اس کی تعریف کی
یو ٹو مائے سویٹ ہارٹ،،،،،، لیزہ بھی مسکرائی
تبھی ہال میں ذوہا داخل ہوئی اس نے بھی میکسی پہن رکھی تھی جو کہ شائننگ بلیو کلر کی تھی اس کے کندھے پر بلیک کلر کا خوبصورت اور بڑا سا پھول بنا تھا، پیشانی سے اوپر بالوں کا ڈیرائن بنائے اور باقی کے بالوں کو کمر پر ڈھلکائے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی،،،،،،
ذوہا آگئی،،،،،،، ہما اس کی طرف بڑھنے لگی جب لیزہ نے اس کا ہاتھ تھاما،،،،،،
ذوہا نے اس کی طرف دیکھا تو وہ نفی میں سر ہلا رہی تھی ہما خاموشی سے واپس اپنی جگہ پر آئی لیکن آج اس کا ذوہا سے بات کرنے کا بہت من کر رہا تھا،،،،،،،
ذوہا نے پورے ہال میں نظر دوڑائی سبھی سٹوڈنٹس خوشگپیوں میں مصروف تھے آج کی رات انجوائے کرنے کی رات تھی،،،،،،،
پھر اس کی نظر لیزہ اور ہما پر پڑی وہ آنکھوں میں امید لیے ان کی طرف بڑھی،،،،،،،
ذوہا کا ارادہ بھانپتے ہوئے لیزہ ہما کا ہاتھ پکڑے آگے کو بڑھ کر کلاس فیلوز سے باتیں کرنے لگی،،،،،،،
ذوہا دکھی دل کے ساتھ نظریں جھکا گئی اور چلتی ہوئی ایک چیئر پر بیٹھی،،،،،،
ویٹر نے اس کے آگے جوس کی ٹرے بڑھائی جس سے اس نے ایک گلاس ایپل جوس کا اٹھایا،،،،،،
تھینکس،،،،، وہ مسکرائی اور ویٹر آگے بڑھ گیا
جوس کا سِپ لے کر اس نے ہاتھ پہ بندھی خوبصورت واچ کی طرف دیکھا اب اسے ارحام کا انتظار تھا نہ جانے وہ کتنی دیر لگائے گا ذوہا نے سوچا،،،،،،،
اس نے سٹیج کی طرف دیکھا جہاں ایک لڑکا اور لڑکی سنگنگ کر رہے تھے وہ انہیں دیکھتے ہوئے انجوائے کرنے لگی اسی دوران اس کی کافی کلاس فیلوز اس کے پاس ہائے فائے کرنے کے لیے آئیں،،،،،،،،
اس نے لیزہ کی طرف دیکھا جو ہما کے ساتھ کھلکھلا کر ہنسنے میں مصروف تھی،،،،،،،
ذوہا اس وقت فرینڈ کی کمپنی شدت سے مس کر رہی تھی،،،،،،
اففف ارحام کب آؤ گے،،،،،،، آدھا گھنٹہ ہو گیا تھا اور وہ بہت بور ہو رہی تھی اب تو سبھی سٹوڈنٹس آچکے تھے،،،،،،
ہال کے دروازے پر ایک نفس کھڑا ہوا ذوہا نے ایک بار اس کی طرف دیکھا کہ شاید ارحام ہو پھر نا امیدی سے نظریں ہٹا لیں،،،،،،
اگلے پل ذوہا نے فوراً اس کی طرف سر تا پاؤں دیکھا وہ ارحام تھا اسے یقین نہیں آرہا تھا،،،،،،
او۔۔۔ مائے۔۔۔ گاڈ،،،،،،، بے ساختہ ذوہا کے منہ سے نکلا
اس کے برانڈڈ بلیک شوز جو لائٹنگ میں چمک رہے تھے ،برانڈڈ بلیک پینٹ، بلیک شرٹ کے اوپر بلیو کوٹ جیسے صرف اسی کے وجود کے لیے بنایا گیا ہو، اس کے ہاتھ میں قیمتی واچ جس کی گرفت قدرے ڈھیلی تھی،،،،،،
اس نے ہال میں نظریں دوڑائیں زیادہ تر لڑکیاں اسی کی طرف دیکھ رہی تھیں،،،،،،،
یہ کون ہے یار ہی از سو ہینڈسم،،،،،،،، لیزہ کے پاس کھڑی لڑکی نے کہا تو لیزہ نے ہال کے دروازے کی طرف دیکھا



الائیہ نے اپنا لگیج پیک کر لیا تھا وہ ریڈی ہو کر لاؤنج میں کھڑی تھی،،،،،،،
بیٹا مجھے بہت برا لگ رہا ہے تمہارا یہاں سے اس طرح چلے جانا،،،،،،، ماہاویرا کے چہرے پہ دکھ واضح تھا
آنٹ آپ پلیز سیڈ مت ہوں میں جب تک یہاں ہوں آپ سے ملنے آتی رہوں گی،،،،،، وہ اس کے گلے لگی
خوش رہو بیٹا،،،،،،،، ماہاویرا نے اس کا کندھا سہلایا
اوکے انکل،،،،،،،، وہ بلال کی طرف آئی
اللہ تمہیں کامیاب کرے،،،،،،، بلال نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا
وہ لگیج اٹھاتی ہوئی باہر کی جانب چلنے لگی ماہاویرا بھی اس کے ساتھ چل رہی تھی،،،،،،،
ڈرائیور گاڑی میں بیٹھا اسے اس کی منزل تک پہنچانے کے لیے تیار بیٹھا تھا وہ گاڑی کی بیک سائیڈ پر بیٹھی اور ماہاویرا کو ہاتھ ہلایا،،،،،،،،
اگلے پل گاڑی گھر سے باہر نکل گئی،،،،،،
وہ سیٹ کی بیک سے ٹیک لگائے آریان کے بارے میں سوچ رہی تھی صبح کے بعد وہ اسے منانے ایک بار بھی نہیں آیا تھا وہ چاہے جتنی بار اسے روک چکی تھی لیکن اس کا دل آخری وقت تک اس کا انتظار کرتا رہا لیکن وہ دشمنِ دل نہ جانے کہاں چلا گیا تھا،،،،،،،
قرب کے ساتھ اس نے آنکھیں موند لیں کچھ دیر کی مسافت کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں اب تک تو ہوٹل آجانا چاہیے تھا اس نے سوچتے ہوئے ونڈو سے باہر دیکھا،،،،،،،
حیرت سے الائیہ کی آنکھیں کھلیں وہ کس جگہ تھی اور ڈرائیور اسے یہاں کیوں لے کر آیا تھا،،،،،،
یہ کوئی گارڈن تھا بہت خوبصورت گارڈن جو ہر طرف سے روشنیوں سے نہلایا گیا تھا،،،،،
شدید تیز روشنی جس میں ایک ایک پھول اپنے رنگ کی پہچان کروا رہا تھا الائیہ حیرت سے اس منظر کو دیکھ رہی تھی،،،،،،،
یہ۔۔۔یہ مجھے کہاں لے آئے ہو مجھے ہوٹل جانا ہے آنٹ نے تمہیں بتایا نہیں،،،،،،، گاڑی کی بریک لگنے پر الائیہ بولی
ڈرائیور نے سر پہ لی ہوئی پی کیپ اتاری جو کہ یقیناً اس کا چہرہ چھپانے کے لیے لی گئی تھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا،،،،،
تم،،،،،،،



ارحام اوہ مائے گاڈ از دس یو،،،،، ذوہا کو یقین نہیں ہو رہا تھا وہ انتہا کا ہینڈسم دکھ رہا تھا
ہاں میں ہی ہوں تمہارے سامنے،،،،،،، وہ مسکراتا ہوا بولا
ذوہا نے بے یقینی سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا،،،،،،،،
کیا ہوا تم ایسے بیحیو کیوں کر رہی ہو،،،،،،،
ارحام یو آر لکنگ ٹووووووو مچ ہینڈسم،،،،،،،
اوہ مائے گاڈ لیزہ یہ ارحام ہے،،،،، ہما نے حیرت سے کہا لیزہ بھی اسی کی طرف دیکھ رہی تھی
آس پاس کی لڑکیاں ارحام کو دیکھ دیکھ کر اس کے بارے میں کمنٹس پاس کر رہی تھیں،،،،،،
چلو یہاں سے،،،،، لیزہ نے ہما کو کہا کیوں کہ وہ اس کی تعریف سننا نہیں چاہتی تھی یا یہ ایکسیپٹ نہیں کرنا چاہتی تھی کہ ارحام ہینڈسم ہے
وہ اس کے ساتھ چیئر پر بیٹھا ذوہا ہنس ہنس کر اس سے باتیں کر رہی تھی،،،،،،،
اس نے ہال میں نظر دوڑائی شاید اس کی نظریں کسی کو تلاش رہی تھیں وہ جو ہما کے ساتھ کھڑی نہایت نزاکت کے ساتھ گلاس سے جوس کا سِپ لے رہی تھی ارحام کو وہ آج کسی پرستان کی پری ہی معلوم ہو رہی تھی،،،،،
ارحام سن رہے ہو،،،،،، ذوہا نے اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ ہلایا
ہاں سن رہا ہوں،،،،،،،
تم نے کچھ نوٹس نہیں کیا،،،،،،،
کیا،،،،، ارحام نے کہا
خود نوٹ کرو،،،،،،
پھر ارحام نے اس کی بلو میکسی دیکھی اور کندھے پر بنا خوبصورت بلیک پھول،،،،،،
تم نے میرے ساتھ میچنگ کی ہے،،،،،،، وہ حیران ہوا
ہاں،،،،،، وہ ہنسی
میں نے کچھ اور پہننا تھا لیکن جب تم نے مجھے بتایا تم کس کلر کا کمبینیشن پہن رہے ہو تو یونی سے جاتے ہی میں مارکیٹ گئی اور میچنگ ڈریس لے کر آئی،،،،،،،
اس کی بات سن کر ارحام مسکرا دیا،،،،،،
چلو نا ڈانس کرتے ہیں،،،،،،، وہ کھڑی ہوئی
پاگل ہو کیا میں اور ڈانس ہرگز نہیں،،،،،،، وہ حیران ہوا
افففف کچھ نہیں ہوتا یہ سب نارمل ہے،،،،،، وہ اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی اسے کھڑا کر گئی
ذوہا میں نہیں کر سکتا یہ،،،،،،
اس نے ارحام کی ایک نہ سنی اور اسے سرکل میں لے آئی جہاں دو تین کپل ڈانس کر رہے تھے،،،،،
وہ دیکھو ذوہا اس کے ساتھ ڈانس کرنے لگی ہے،،،،،،، ہما نے حیرت سے کہا
لیزہ نے سرخ آنکھوں سے ان دونوں کی طرف دیکھا جہاں ذوہا اسے ڈانس کرنے پر مجبور کر رہی تھی اور وہ کر نہیں رہا تھا،،،،،،
کم آن ارحام ٹرائی تو کرو،،،،،
ذوہا مجھے نہیں آتا،،،،، وہ معصوم سا منہ بنائے بولا
کچھ دیر بعد لیزہ چلتی ہوئی ان دونوں کے پاس آئی،،،،،،
وہ مسکرا رہی تھی،،،،، ذوہا اور ارحام نے حیرت سے اسے دیکھا
اس نے ذوہا کے ہاتھ سے ارحام کا ہاتھ پکڑ کر اپنی کمر پر رکھا ارحام حیرت سے اس حسین پری کو دیکھ رہا تھا،،،،،،
اس نے اپنا ہاتھ ارحام کے کندھے پر رکھا اور ڈانس کرنے لگی،،،،،،
ذوہا حیرت کے ساتھ ساتھ خوش ہو رہی تھی شاید لیزہ نے اپنی ضد چھوڑ دی تھی،،،،،،،
ہال کی لائٹس آف کر دی گئیں اب صرف سرکل پہ لائٹ کا فوکس تھا،،،،،،



یہ تم تھے تم دھوکے سے مجھے یہاں لائے،،،،، وہ غصے سے بولی
آریان گاڑی سے باہر نکلا اور اس کی طرف کا دروازہ کھولا،،،،،،
نہیں آوں گی میں باہر،،،،،، وہ چلّائی
اگلے پل آریان نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا الائیہ سکتے کی حالت میں اسے دیکھنے لگی،،،،،،،
وہ گارڈن کے اندر داخل ہوا تیز روشنیوں میں آریان کا چہرہ چمک رہا تھا الائیہ اسے کھوئی کھوئی نظروں سے دیکھنے لگی،،،،،،
اس نے نرمی سے اسے چیئر پر بیٹھایا،،،،،،
آر۔۔۔۔
شششش،،،، اس سے پہلے وہ کچھ کہتی آریان نے اس نرم ہونٹوں پر انگلی رکھی
اس نے کوٹ اتار کر اس کی طرف رخ کیا الائیہ نے حیرت سے اس کی شرٹ کو دیکھا جہاں سیڈ ایموجی کے ساتھ لکھا تھا
“آئم سوری
“
اس نے آریان کی طرف دیکھا جو معصوم فیس بنائے کانوں کو پکڑے کھڑا تھا اس کی معصومیت پہ وہ مسکرا دی،،،،،،،
آریان نے اپنی شرٹ کی طرف اشارہ کیا یعنی وہ اس کا جواب مانگ رہا تھا،،،،،
الائیہ نے اثبات میں سر ہلایا،،،،،، آریان نے اس کا ہاتھ تھام کر ہاتھ کی پشت پر اپنے ہونٹ رکھے
وہ اس حرکت پر حیران ہوئی شاید یہ خلافِ توقع تھی،،،،،،
آریان اپنی شرٹ اتارنے لگا جب الائیہ کی آنکھیں پھٹیں،،،،،،
یہ کیا کر۔۔۔۔۔۔
آریان نے اسے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے چپ رہنے کا اشارہ کیا تو وہ خاموش ہو گئی،،،،،
اس نے شرٹ اتار کر چیئر پر رکھی اب جو اس نے شرٹ پہنی تھی اس پہ لکھا تھا
“وِل یو میری می پلیز
“
الائیہ یہ پڑھ کر حیران ہوئی آریان پھر سے شرٹ کی طرف اشارہ کرنے لگا کیوں کہ وہ جواب مانگ رہا تھا،،،،،،
سوچوں گی،،،،، وہ فاتحانہ نظروں سے بولی
وہ خاموشی سے ایک گھٹنہ زمین پر ٹکا کر بیٹھا اور پینٹ کی پاکٹ سے ایک ڈائمنڈ رنگ نکالی،،،،،،،
اس نے الائیہ کی طرف ہاتھ بڑھایا الائیہ نے بلش کرتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا،،،،،
آریان نے اس کے سفید ہاتھ کی فورتھ لاسٹ فنگر میں رنگ پہنائی،،،،،،
وہ ابھی رنگ کو دیکھ رہی تھی جب وہ کھڑا ہوا اور ایک جھٹکے کے ساتھ اسے کھڑا کر کے اپنی طرف کھینچا،،،،،
وہ اس کے سینے سے جا لگی آریان نے اس کی تھوڑی کو دو انگلیوں سے ایک سائیڈ پر کیا اور اس کے رخسار کو چوم لیا،،،،،،
اس کے لمس سے الائیہ کو جیسے کرنٹ لگا تھا،،،،،،



قرباں ہوا۔۔۔۔ تیری تشنگی میں یوں
قرباں ہوا۔۔۔۔ تیری عاشقی میں یوں![]()
وہ پاؤں کے ساتھ پاؤں ملاتی اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی ڈانس کر رہی تھی،،،،،،
بے خودی میں بے قلی میں کفی میں ہوا
تجھ کو ہر دعا دی پر دغا دی پر فنا ہوا![]()
وہ اس کا ہاتھ پکڑے گول گول کھومتی ہوئی اس کے سینے سے آ ٹکرائی،،،،،
قرباں ہواااااا ہاں ں ں ں۔۔۔۔۔
قرباں ہوااااا۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
وہ لیزہ کو کمر سے پکڑے اوپر اٹھا کر گھمانے لگا،،،،،،،
سبھی سٹوڈنس نے ہوٹنگ شروع کر دی وہ دونوں کمال کا ڈانس کر رہے تھے،،،،،
روبروووو۔۔۔ تو مگر تنہا ہے یہ جہاں
چل اٹھے میری گفت سے سانسوں کا یہ سماں![]()
اس نے لیزہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے ایک طرف کو جھکایا لیزہ مسلسل اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی،،،،،
کیا ہوا پل میں تارے کھو گیا تو۔۔۔۔
تو ملا پر جدائی واں ہوا یوں۔۔۔۔![]()
اس نے لیزہ کو ایک جھٹکے کے ساتھ اپنے مقابل کھڑا کیا ان دونوں کا چہرہ بلکل قریب تھا،،،،،
بے خودی میں بے قلی میں بے کفی میں ہوا
تجھ کو ہر دعا دی پر دغا بھی پر فنا ہوا۔۔۔۔![]()
وہ لیزہ کی رخسار پہ انگلی پھیرتا ہوا اس کی تھوڑی تک لے کر آیا،،،،،
قرباں ہوا ہاں۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔ہاں
قرباں ہواااا۔۔۔ہاں۔۔۔۔ہاں۔۔۔ہاں![]()
وہ اس کے بازو کو پکڑتی ہوئی گھوم کر اس کے سینے سے لگی،،،،،
سونگ ختم ہو چکا تھا پورا ہال لڑکے لڑکیوں کی تالیوں اور ہوٹنگ سے گونج رہا تھا،،
