No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
قسط نمبر 9
نائٹ کلب کے کاونٹر پر بیٹھا سلار
دو گھنٹے میں تقریبا پچاس گلاس شراب کے پی چکا تھا مگر نشہ نہیں چڑھتا تھا ۔
اب سالار نے جیب سے ایک پڑی نکالی ۔
سفید رنگ کے سفوف کو کاونٹر پر ڈالا ۔
نیچے کو جھکا اور سانس اندر کھینچی ۔
سفوف کا نشہ اندر اترا ۔
وہ بہت تیز تھا مگر سالار کو مزا نا آیا۔
اسنے ہاتھ مار کر کاونٹر سے سفوف جھاڑ دیا ۔
اسے یک دم بے سکونی ہونے لگی تھی ۔
ٹھنڈ کے باوجود بھی پسینے آ رہے تھے ۔
اسنے شرٹ کے سارے بٹن کھول دیے ۔
وہ بار بار چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔
جسم پر رقعت سی طاری ہونے لگی ۔
اسکے آگے کھڑے لڑکے کے ہاتھ میں موجود گلاس میں سرخ شربت تھا یا نائٹ کلب کی روشنیوں میں وہ سرخ معلوم ہو رہا تھا ۔
سالار اسے دیکھتا گیا ۔
سرخ
گہرا سرخ
خون کا رنگ
اور خون میں ڈوبے کچھ منظر ۔
یہ وہ کرب تھا وہ اذیت تھی جسے سالار اپنے زہن سے اتارنا چاہتا تھا مگر ہر منظر ہمیشہ ترو تازہ رہتا ۔
وہ کوشش کے باوجود بھی ایسا درد محسوس نا کر پایا تھا جو اس اذیت سے زیادہ ہو ۔
کیا کوئی اذیت اس اذیت سے بڑی تھی ۔
کوئی ایسی اذیت جو اسکے جسم و جان میں بسی اذیت کو کاٹ سکے ۔
لڑکے نے اپنا گلاس غیر ارادی طور پر سالار کی طرف کر دیا ۔
وہ جو پہلے ہی اندر اندر تکلیف میں تھا ایک دم غصے میں آیا اور وہی گلاس اٹھا کر اس لڑکے کے سر پر مار دیا ۔
” ہاو ڈیئر یو ۔ ” اسکی آواز اتنی بلند تھی کہ میوزک کے باوجود بھی سنائی دی ۔
ارد گرد کے لوگ بھی رک گئے ۔
لڑکا کرہاتا ہوا پلٹا اور ہونقوں کی طرح سالار کو دیکھا ۔
جس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا ۔
لڑکا ابھی پہلی ہی ضرب کے اثر سے نکل نا پایا تھا کہ سالار نے اسکا سر پکڑ کر زور سے کاونٹر پر دے مارا۔
دو لوگ اسے روکنے آگے بڑھے ۔
مگر وہ نشے کے باعث سالار کے سامنے ٹک نا پائے ۔
پہلا لڑکا کاونٹر پر بے ہوش پڑا تھا جبکہ باقی دو نیچے گرے تھے ۔
” راسکلز ۔ ” نفرت آمیز منہ بنا کر بے ہوش لڑکے کی طرف تھوکا ۔
پھر راستے میں آتے لوگوں کو دھکا دیتا ہوا باہر نکل گیا ۔
باہر سڑک پر آکر وہ پیدل چلنے لگا ۔
بال جو پیچھے سے بڑھا رکھے تھے ہاتھ سے انکی پانی کھول دی ۔ ہوا سے وہ پیچھے کی طرف لہرائے۔
بلیو جینز جو سامنے سے پھٹی ہوئی تھی
اور بٹن کھلی شرٹ کے ساتھ وہ جنوری کی سرد رات میں آگے بڑھتا جا رہا تھا ۔
سڑک بلکل خالی تھی ۔ بس وہ تھا ۔
اچانک زمین پر کسی چیز کے پڑنے کی مدھم آواز اسکے کانوں میں گونجی
وہ بری طرح چونک کر پلٹا ۔
کوئی نہیں تھا ۔
آس پاس نا ہی دور تک ۔
وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا ۔
شاید نشے کی وجہ سے وہم ہوا ہوگا ۔
وہ دو قدم ہی بڑھ پایا تھا جب وہی آواز بہت زور سے آئی تھی ۔
اتنے قریب کہ سالار کو لگا اسکے دل پر دست لگائی ہو ۔
اسکا دل پھڑپھڑانے لگا تھا ۔
وہ وہیں بیٹھ گیا ۔
” عبدللہ ۔ عبدللہ ۔۔ تو کہاں جا رہا ہے ؟ تیرا راستہ کہاں جا رہا ہے ۔ عبدللہ اپنے راستے کو تھیک کر لے ۔ ” سرسراتی ہواوں کی لہرو پر گونجتی وہ پراسرار آواز جیسے آس پاس سے ہی آئی تھی ۔
سالار نے ادھر ادھر دیکھا کوئی نظر نا آیا ۔
مگر الفاظ مسلسل اسکے کانوں میں گونج رہی تھی ۔
” عبدللہ اپنا راستہ موڑ لے ۔ موڑ لے ۔ ” آواز اچانک بہت بھاری اور بازور ہوئی کہ سالار سے برداشت کے قابل نا رہی ۔
وہ بے اختیار ہاتھ کانوں پر رکھ کر آنکھیں بھینچ گیا۔
چند لمحوں بعد اسنے ہاتھ ہٹائے تو وہاں خاموشی تھی
مگر خاموشی ایسی کہ سالار کو پہلی مرتبہ خاموشی سے لرزہ محسوس ہوا تھا ۔
اسکا جسم ہلکے سے کانپنے لگا تھا ۔
وہ کیا تھا ۔
وہ آواز کیسی تھی
وہ احساس کیسا تھا ۔
وہ جو کچھ بھی آسانی سے محسوس نا کر پاتا تھا آج یہ عجیب احساس اسکے اندر تک کیسے سرایت کر گیا تھا ۔
وہ خود کو نارمل کرتا ہوا اٹھا ۔
دل زور زور سے ڈھرک رہا تھا ۔
جسم میں ہلکی سی کپکپی تھی ۔
اور اس رات دوسری بار سالار شاہ کو ایسا خوف محسوس ہوا تھا ۔ پہلی بار جب وہ زخمی ہونے کے باوجود زبردستی ہسپتال سے نکل آیا تھا اور اسکے سامنے فقیر آیا تھا ۔
سالار کے زہن میں بری طرح سے کچھ چونکا ۔
وہ درویش ۔
وہ بھی تو بار بار عبدللہ کہ رہا تھا۔
وہ بھی کسی راستے کا زکر کر رہا تھا ۔
اس سے آگے سالار کچھ سوچتا زمین پر زور سے لاٹھی برسانے کی آواز آئی ۔
سالار نے آواز کی سمت دیکھا تو ایک ہیولہ سا کھڑا نظر آیا ۔
اسنے غور سے دیکھا تو چغہ پہنے اور لاٹھی پہنے وہاں کوئی آدمی کھڑا تھا ۔
وہ سالار کی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔
پہلی بار اس پر ٹرانس کی کیفیت آئی تھی
اب کی بار رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے ۔
پہلی بار زہن سے نکل گئی تھی ۔
اب کی بار زہن میں قید رہ جانے والی تھی ۔
فقیر نے ایک مرتبہ پھر زور سے لاٹھی زمین پر ماری ۔
سالار کے زمین پر جمے ہوئے قدم اکھڑے اور وہ بنا پیچھے دیکھے تیزی سے آگے بڑھنے لگا
وہ جلد از جلد یہاں سے دور جانا چاہتا تھا ۔
” عبدللہ اتنے دور نا نکل جانا کہ واپسی مشکل ہو ۔ ” وہ درویش معنی خیز لہجے میں بول کر واپس مڑ گیا ۔
وہ آگے چلتا جاتا اور اللہ ہو کی صدائیں لگاتا جاتا ۔
ایک جگہ اسنے حق اللہ کہتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا ۔
چاند کی روشنی میں چہرا واضح ہوا ۔
جھریوں زدہ چہرا
سبز اور سرمائی دو رنگ کی پتلیاں ۔
فقیر اور سالار دونوں کے قدم مخالف سمت تھے مگر کیا راستہ پلٹنے والا تھا ۔
کیا رخ بدلنے والے تھے ۔
کیا عبدللہ کو اسکی راہ ملنے والی تھی
کیا عبدللہ کی منزل راہ راست پر جانے والی تھی ۔
رات کے سنسان پہر جہاں اندھیرے کچھ لمحوں بعد اجالوں میں مل جائیں گے وہ فقیر اللہ ہو کرتا آگے بڑھ رہا تھا
جبکہ سالار پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سر جھکائے لمبے لمبے ڈگ بھر رہا تھا ۔
آسمان پر چمکتا چاند سالار کے ساتھ ساتھ اسی سمت دوڑھ رہا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
اس روز پریشال کا ایک اور فوفو شوٹ تھا ۔ یہ تیسرا تھا ۔
سب کچھ ویسا ہی تھا ۔ فینسی ڈریس
بولڈ فوٹو گرافی ۔
سب کچھ ہر کسی کے لیے نارمل تھا سوائے پریشال کے ۔
وہ پچھلے کچھ دن مخلتلف جگہوں پر جاب انٹرویو بھی دے چکی تھی ۔
وہ چاہتی تھی کہیں سے اسکے پاس پیسے آئیں ۔ وہ پیسے دے کر اپنا کنٹریکٹ ختم کردے جو اسنے ابراہیم صاحب کے علاج کی غرض سے پیسوں کے لیے کیا تھا ۔
مگر کیسے
یہی سوچتے ہوئے وہ گھر پہنچی
” آج کا کام کیسا رہا ۔ کوئی بات بنی یا نہیں ۔ ” کھانے کی میز پر ابراہیم صاحب نے دریافت کیا ۔ یہ وہ سوال تھا جو روز کیا جاتا تھا
جس کا روز تسلی بخش جواب آتا تھا ۔
” ہاں ۔ آج میں نے بات کی ہے ۔ اسلم صاحب ( کاسٹنگ ڈائریکٹر ) نے کہا تھا مجھے جلد ہی بڑا رول دیں گے ۔ ” کانٹے سے گاجر کا گول کٹلا منہ میں رکھ کر چباتے ہوئے بتایا۔
ابراہیم صاحب نے ایک بغور نگاہ اس پر ڈالی ۔
” یہ بات تم کتنے عرصے سے کہہ رہی ہو ۔ ” وہ کھانے روک کر تسلی سے بیٹھے تھے ۔
” ارے ابراہیم صاحب ۔ میں اکیلی لڑکی تھوڑی ہوں ۔ ہزاروں لڑکیاں ہیں ۔ اب اسلم صاحب کس کس کو یاد رکھیں گے۔ آپ فکر نا کریں ۔ جیسے ہی کچھ نظروں میں آنے لگوں گی مجھے بڑی آفرز خود با خود ہونے لگے گیں ” پریشال بھی کانٹا رکھ کر تسلی سے سمجھانے لگی ۔
ابراہیم صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور کھانے کی طرف جھک گئے ۔
” کسی کو پسند کرتی ہو ۔ ” کچھ سعاتوں کے بعد ابراہیم صاحب کی طرف سے سوال آیا۔
پریشال کو پانی پیتے ہوئے اٹھرو لگا ۔
” آپ کیوں پوچھ رہیں ہیں ؟ ۔ ” وہ کھانسی پر قابو پاتے ہوئے بولی ۔
” ارے بھئی خالی گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے ۔ تم بتاو کسی کو پسند کرتی ہو ۔ تمھاری شادی کرواں ۔ پھر تم دونوں جو مرضی کرتے پھرنا ۔ میں اپنے نواسے نواسیوں کے ساتھ کھیلوں گا ۔ “
وہ اتنے پیارے انداز میں اپنی خواہش کا اظہار کر رہے تھے کہ پریشال بے اختیار ہنس پڑی ۔
” ابراہیم صاحب وہ کیا ہے نا کیپٹن کی بیٹی ہوں ۔ عام چیز پسند نہیں آتی ۔ اور بہترین میرے لیے آپ سے بہتر کوئی چن نہیں سکتا۔ سو اپنے لیے داماد آپ خود تلاش کریں ۔ ویسے بھی اپنی گرل فڑینڈ کو آپریشن فائڈنگ داماد پر لگایا ہی ہوا ہے نا ۔ ” وہ ابراہیم صاحب کی طرف آگے کو ہو کر بولی اور آخر میں انکے گال پر چٹکی کاٹی ۔ ۔
” تھیک ہے پھر ۔ جلد تمھارے ہاتھ پیلے کرتے ہیں ۔ ” ابراہیم صاحب نے کہا تو پریشال کھڑی ہو کر انکے پیچھے آئی اور بازوں انکے کندھوں پر حمائل کیے ۔
” لیکن میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جاوں گی ۔ جو داماد سلیکٹ کریں اسے کہیے گا اسے یہاں ہی رہنا پڑے گا ۔ ” پریشال نیچھے جھکی اور اپنا چہرا ابراہیم صاحب کے کاندھے پر رکھا۔
” تم شادی کر رہی ہو یا ملازم رکھ رہی ہو ۔ ” انہوں نے اسکے گال پر تھپکی لگائی
” ملازم نہیں گھر داماد۔ ” ایک بار مزید اپنے بازوں انکے گرد زور سے حائل کیے اور الگ ہو گئی۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ کچن سمیٹ کر ابراہیم صاحب کے کمرے میں آئی ۔
انہیں دوا دی ۔
وہ سونے کے لیے لیٹ گئے تو اپنے کمرے میں آئی ۔
” گھر داماد ۔ ” اپنی بات ہر خود ہی ہنسی آئی ۔
پھر دل للچایا تو باہر نکل پڑی ۔
تین دن ہو گئے تھے وہ سٹوڈیو سے لیٹ آ رہی تھی کہ باہر چہل قدمی کا موقع نہہں مل رہا تھا ۔
وہ تسلی کر کہ ابراہیم صاحب سو گئے باہر نکل آئی ۔
چاند آج بادلوں میں ڈھکا تھا ۔
وہ اپنے کوٹ کے جیبوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھنے لگی ۔
کبھی مستی میں آکر جھوم جاتی
کبھی کسی گھر کے باہر لگی کیاری کے پھول کی خوشبو سے سانسوں کو تروتازہ کرتی ۔
وہ ایسے ہی پھرتے ہوئے ایک سنسان سڑک پر آ گئی ۔
موسم سرما کی وجہ سے جلد آمدو رفت بند ہو جاتی تھی ۔
ایسے میں ایک گاڑی تیزی سے اسکے ساتھ سے گزرتے ہوئے آگے آکر رکی ۔
پریشال نے مڑ کر جانا چاہا مگر پہلے ہی ایک آدمی اسکے منہ پر جلدی سے رومال رکھ چکا تھا ۔
پریشال نے ہاتھ پاوں مارے
مزاحمت کی مگر بے ہوشی کی سٹرونگ ڈوس کی وجہ سے جلد ہی
ڈھیلی پڑ گئی
آدمی نے اسے اندر ڈالا اور گاڑی رات کے کالے اندھیرے میں اندھیرا ہو گئی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
وہ شہر کا ریڈ لائٹ ایئریا تھا ۔
لمبی مگر باریک گلی جسکے دونوں اطراف پھولوں کی دکانیں تھیں ۔
دکانوں پر بیٹھے دکاندار اپنی گاہکی کرنے میں مصروف تھے ۔
ادھر سے ادھر رنگ برنگ جھل مل کرتے لباس میں ملبوس میک اپ زدہ چہروں والیں چنچل لڑکیاں آتی جا رہی تھی ۔
چند اوباش لڑکے گلی کے کونے پر کھڑے عجیب و غریب نظروں سے ان لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے جملے کستے اور لڑکیاں اٹھلاتی ہوئی ادائیں دکھانے میں مصروف تھیں ۔
کچھ کے درمیان آنکھ مٹکا بھی چل رہا تھا ۔
گلی کے آخری سرے پر کھلا سا احاطہ تھا اور احاطہ کے اختتام پر اس جگہ کی سب سے خاص عمارت ۔
چار منزل پر بنا کوٹھا
جس کے دروازے
کھڑکیوں اور بالکنیوں سے لٹکتی دوشیزائیں اپنے گاہکوں کو لھبانے میں مصروف تھیں ۔
وہ طوائفیں تھیں
وہ پیدا ہوتے ہی اسی کام میں جھونک دی جاتی تھیں ۔
کچھ مجبوری میں کرتیں تھیں ۔
کچھ شوقیہ کرتیں تھیں ۔
کوٹھے سے اندر آو تو بڑے سے برآمدے میں پروگرام چل رہا تھا ۔ سنہری چم چم کرتے اور جسم کی مناسب حد تک نمائش کرتے لباس زیب تن کیے وہ دو لڑکیاں گانے پر ٹھرک رہی تھیں ۔
سامنے کی جانب گاو تکیوں سے ٹیک لگا کر بیٹھے وہ شہر کے شریف النفس لوگ تھے جو اس کوٹھے پر اپنی ساری شرم و حیا شراب کے چند گھونٹ اور ٹھرکتی جوانیوں کے پیچھے نیلام کر چکے تھے ۔ وہ ہر چند منٹ بعد عش عش کرتے اپنی جگہ سے اٹھ جاتے ۔
کبھی مزے میں آکر نوٹوں کی گڈیاں لڑکیوں پر نچھاور کر دیتے۔
یہ لوگ یہاں سے جائیں گے تو پھر سے شریف اور پاک باز ہو جائیں گے ۔
پیچھے رہنے والی طوائفیں بدنام زمانہ ہو جائیں گی ۔
آدمیوں میں سے ایک آدمی ہاتھ میں پکڑے گلاس سے شراب اندر انڈیل کر اٹھ کھڑا ہوا ۔
اسنے پرجوشی کے عالم میں گلاس ایک طرف پٹخا ۔
دائین جانب صوفے پر برجمان پھیل کر بیٹھی لیلہ بیگم نے اپنی توجہ اس جانب مبزول کی ۔ دفعتا اسکے چہرے پر گہری مسکراہٹ پھیل گئی ۔ وہ سجی دھجی عورت اس کوٹھے کی مالکن تھی ۔
وہ آدمی ناچنے والی ایک لڑکی کے قریب آیا اور ساتھ ناچنے لگا ۔
ناچنے کے دوران وہ لڑکی کے جسم کو چھونے کی کوشش بھی کرتا ۔
لڑکی غیر آرامدہ سی ہوئی مگر لیلہ بیگم کا اشارہ پاتے ہی خود کو اس آدمی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔
وہ آدمی اتنا مست اور مسرور ہو چکا تھا کہ بار بار لڑکی پر ہی ڈلتا جاتا تھا ۔
وہ کسی طرح لڑکی کے نرم و ملائم جسم کو نوچنا چاہتا تھا ۔
صوفے پر بیٹھی لیلہ بیگم ارادہ بھانپ گئیں۔
اسنے لڑکی کو آنکھ سے اشارہ کیا۔
لڑکی سمجھ کر ناچنا چھوڑ کر ایک طرف کو چل دی ۔
آدمی بھی پیچھے ہی چل پڑا
تھک سے کمرے کا دروازہ بند ہوا ۔
دونوں پیچھے غائب ہو گئے ۔
دروازے کے اس پار ہر رات کی طرح آج پھر جسم کی نیلامی ہونی تھی ۔
آج پھر جسمانی کھیل کھیلا جانا تھا ۔
لیلہ بیگم ادا سے مسکرائی ۔
وہ آدمی بہت پیسے والا تھا
اگر اسکے کوٹھے کی طوائف اس آدمی کو مزے کراوادے تو پیسوں کی ریل پیل ہو جائے ۔
اور پیسہ لیلہ بیگم کی کمزوری تھا۔
وہ پیسے کے بارے میں ہی سوچتی اس طرف دیکھنے لگی جہاں ابھی تک باقی کے لوگ رقس و موسیقی میں دھن تھے ۔
” لیلہ بیگم گل آرا آئی ہے ۔ ” بینا کی آواز پر لیلہ چونک گئی ۔ مسکراہٹ بھی غائب ہو گئی ۔
” کیا لینے آئی ہے وہ ۔” مہمانوں کی وجہ سے دبا دبا سا بولی
” معلوم نہیں۔ باہر دروازے پر بیٹھی ہے ۔ ساتھ ایک بچہ بھی ہے ۔ ” بینا نے اطلاع دیتے ہوئے کہا ۔
لیلہ بیگم جھٹکے سے اٹھیں اور باہر کی طرف بڑھ گئیں ۔ ۔۔۔۔۔
وہ عورت بڑی سی کالی چادر میں لپٹی ۔ چہرے کو ڈھکے ہوئے ۔ چادر میں ہی بچہ لپیٹے تیزی سے پھولوں والی گلی سے گزرتی کوٹھے کے دروازے تک پہنچی ۔
وہیں بینا مل گئی تو لیلہ بیگم سے ملنے کی درخواست کر کے وہیں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
” اے کیا لینے آئی ہے اب یہاں ۔ اس روز تو بڑے گھمنڈ سے کوٹھے کو لات مار کر گئی تھی اپنے عاشق کے ساتھ ۔ کہاں ہے تیرا عاشق ۔ کیوں آئی ہے واپس ۔ کیا ہوا چار دن کی چاندی ختم ہو گئی ۔ ” لیلہ بیگم نے آتے ہی گل آرا کو تھوکر ماری تھی ۔
وہ زرا سی لڑکھی مگر سنبھل کر لیلہ بیگم کے قدم پکڑ لیے ۔
” خدارا میرے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ۔ مجھے یہاں پناہ دے دو ” گل آرا گر گرائی ۔
” ایسا کیا ہوا جو تو ایسی حالت میں واپس آئی ہے ۔ تیرا عاشق تو بہت امیر کبیر تھا نا ۔ کیا چھوڑ دیا اسنے تجھے ۔ وجہ کیا ہوئی ۔” لیلہ بیگم نے اچھنبے سے گل آرا کو دیکھا ۔
اسکی حالت کو دیکھا ۔
کالی چادر کے نیچے پہنے کپڑے اچھے تو تھے مگر اب بوسیدہ اور پھٹ چکے تھے ۔
گل آرا کے چہرے سے رونق اتر چکی تھی ۔
وہ پھیکا پھیکا سا لگ رہا تھا ۔
” انہیں بیٹا چاہیے تھا ۔ میں نے بیٹی کو جنم دیا تو طعنے طنز اور لعن طعن کر کے گھر سے نکال دیا ۔ یہ کہہ کر نکال دیا کہ طوائف ہے تو ایک طوائف کو جنم دے دیا ۔ کئی دن تک اپنی نو مولود بچی کے ساتھ بھٹکتی رہی ۔ کوئی آسرا نا ملا تو بڑی مجبوری میں اس کوٹھے پر واپس آ گئی ۔ میں محبت اور عزت کی تلاش میں اندھی ہو گئی تھی ۔ مجھے کیا معلوم تھا میں طوائف ہوں ۔ مجھے محبت سے نہیں جسم سے غرض ہونی چاہیے ۔ میں طوائف ہوں جس کا مقدر یہ کوٹھا ہے ۔ وہ محبت و عزت سب دکھاوا تھا ۔ روز ایک طوائف ہونے کا طعنہ ملتا ۔ روز الزام لگتا کہ ناجانے کس کا گناہ میں انکے سر ڈال رہی ہوں ۔ بیٹا ہوتا تو حالات کچھ اور ہوتے مگر ۔۔۔! ۔ ” گل آرا روتے ہوئے اپنی روداد سنا رہی تھی جبکہ لیلہ بیگم کا ذہن ایک ہی بات پر اٹکا تھا ۔
” بیٹی ” لیلہ بیگم کی آنکھیں چمکی ۔ کوٹھے کے لیے ایک اور طوائف مل گئی ۔
” اب تیری عقل تھکانے آ گئی ۔ میں ہمیشہ سمجھاتی تھی کہ طوائفوں کے لیے محبت نہیں ہوتی ۔ عزت نہیں ہوتی ۔ احساس نہیں ہوتے یہ فقط ایک چیز ہوتی ہے جس کو استعمال کر کے واپس اسکی طرف تھوکا بھی نہیں جاتا ۔ تو کس سبز باغ کے پیچھے چل پڑی تھی ۔ اب آگئی واپس اجڑ کر ۔ مگر لیلہ بیگم کے ساتھ تو نے جو کیا اس سب کو معاف کر کے میں تجھے واپس اپنے کوٹھے میں لیتی ہوں ۔ یہ جو بچی ساتھ لائی ہے نا ایک دن تیری طرح یہ بھی نام بنائے گی۔ جیسے لوگ تیری ڈیمانڈ کرتے تھے ویسے اسکی بھی ہوگی ۔ تیری طرح یہ بھی کوٹھے کی مشہور طوائف ہو گی ۔ ” لیلہ بیگم جیسے کھلی آنکھوں سے مستقبل دیکھ رہی تھیں مگر مستقبل دیکھا کس نے تھا ۔
لیلہ بیگم کے حکم پر گل آرا اور اسکی بچی کے لیے ایک کمرہ تیار کیا گیا ۔
باقی طوائفوں میں بھی بات پھیل گئی ۔
کئی حیران ہوئی
تو زیادہ تر حاسد بن گئیں ۔
کیونکہ گل آرا کے ہوتے انکی دال نہیں گلنی تھی ۔
ہر کوئی گل آرا کے بے مثال اور دلفریب حسن کا گرویدہ تھا ۔
ہر کوئی بس چاہتا تھا کہ اسکی شامیں گل آرا کے سنگ ہی رنگین ہوں ۔
گل آرا لیلہ بیگم کے لیے کمائی کا بہت اچھا زریعہ تھی ۔
وہ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی تھی ۔
ایک روز وہ مرغی اڑ گئی مگر آج کٹے پروں کے ساتھ واپس آئی ۔
گل آرا کے ساتھ بینا رک گئی ۔
جبکہ لیلہ بیگم برآمدے کی طرف آ گئی تاکہ آج کے پروگرام کے مہمانوں کو رخصت کر کے فیس وصول کر سکیں ۔
وہ آدمی جو لڑکی کے ساتھ اندر گیا تھا قریب آیا ۔
” واہ لیلہ بیگم ۔ آج تو تمھاری لڑکی نے مزہ دے دیا ۔ آہا ۔واہ ۔ ” وہ آدمی نہال ہوتے ہوئے کہنے لگا ۔ پھر جیب سے چیک بک نکالی اور چیک پھاڑ کر لیلہ بیگم کی طرف بڑھایا ۔
چیک دیکھتے ہی لیلہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔
وہ ایک کڑور کا چیک تھا ۔
” ارے کاظمی صاحب اگلی بار آوگے تو اس سے بھی زیادہ مزا ملے گا ۔ اگلی بار آپکے لیے ایک سرپرائز ہے ۔ ” چیک کو انگلیوں پر لپیٹتے لیلہ بیگم اپنے مخصوص شوخیہ انداز میں بولیں ۔
اسکے زہن میں گل آرا آئی تھی ۔
سونے کا انڈہ دینے والی مرغی پھر واپس آ چکی تھی ۔
” ایسا ہے تو پھر ہم بھی ایک سرپرایز دینا چاہیں گے ۔ ” یہ کہتے ہوئے کاظمی نے ایک نمبر ڈائل کیا ۔ دوسری طرف کچھ احکامات جاری کیے ۔
” لیلہ بیگم تمھارا جو زمین کا مسئلہ تھا۔ وہ حل ہو گیا ۔ میں نے اپنے وکیل کو کہہ کر معاملہ رفع دفع کروا دیا ہے ۔ آج میں بہت خوش ہوں ۔ بولوں کیا مانگتی ہو اور ۔ ” کاظمی ابھی تک مست ہوا وا تھا۔ آج وہ بہت عنایت و کرام کر رہا تھا ۔
” کیا کاظمی صاحب ۔ سب کچھ ابھی لٹا دو گے ۔ ارے کچھ اگلی بار کے لیے بھی سنبھال کر رکھو ۔ اور میں کہہے دیتی اگلی بار تو اپنی جان تک لٹا کر جاو گے ۔ ” لیلہ بیگم چیلنجنگ انداز میں بولی تو کاظمی نے قہقہہ لگایا ۔
” تھیک ہے پھر اگلی بار ملتے ہیں ۔ ” ہاتھ کے اشارے سے الوداع کہہ کر کاظمی باہر نکل گیا ۔
اور لیلہ جو خود کو روک کر کھڑی تھی پنجوں کے بل گھومی ۔
یہ آج تک کی سب سے بڑی کمائی تھی ۔
ایک ہی شام کا ایک کڑوڑ
اور اسکے علاوہ چھ سال سے چلتا کیس بھی ختم ۔
واہ واہ لیلہ بیگم کی چاندی ہو گئی تھی
مگر یہ چاندی ہوئی کس کی وجہ سے تھی ۔
وہ گل آرا کے کمرے کی طرف آئی ۔
” گل آرا بچی کا نام کیا ہے ۔ ؟ ” رانو اشتیاق سے پوچھنے لگی۔ پروگرام ختم کر کے وہ سب اس کمرے میں آگئی تھیں ۔
اور گل آرا کے گرد جمع ہو گئیں ۔
کچھ باہر ہی رہیں جنہیں گل آرا کا واپس آنا پسند نا آیا ۔
” اسکو نام اسکے باپ نے دینا تھا مگر اس نے تو دیکھا تک نہیں ۔ میری بچی بے نام ہے ۔” گل آرا مزید ایک زخم کھولتے ہوئے بولی ۔
” چاندی ۔ “
آواز پر سب نے مڑ کر دروازے کی جامب دیکھا جہاں لیلہ بیگم کھڑی تھی ۔
” یہ بچی اب بے نام نہیں ہے ۔ اسکا نام چاندی ہوگا ۔ یہ کوٹھے کی قسمت چمکائے گی ۔ یہ کوٹھے کا نام روشن کرے گی ۔ ” وہ قریب آئی اور بچی کو گل آرا کی گود سے لیا ۔
موتیا کی طرح کھلتے ہوئے گزاد اور ملائم چہرے والی وہ بچی گل آرا کی ہی بیٹی لگ رہی تھی ۔
لیلہ بیگم اس بھرم میں تھیں کی کوٹھے کی چاندی ہونے والی تھی مگر وقت نے اپنے پنوں میں کچھ ہی چھپا رکھا تھا ۔
وقت کی بہتی دھاریوں میں ایک طوائف نے طوائف کو جنم نہیں دیا تھا ۔
گل آرا نے اپنا جسم فروش کر کے ایک جسم فروش کو جنم نہیں دیا تھا ۔
چاندی جو کہ کوٹھے پر پرورش پانے کے باوجود بھی یہاں کے ماحول سے بلکل جدا ہونے والی تھی ۔
وہ جگہ جہاں جسم کی نمائش عام بات تھی وہاں وہ خود کو پردے میں رکھنے والی تھی ۔
وہ ہر ظلم برداشت کر کے خود کو کسی صورت بھی گناہ میں نہیں دھکیلنے والی تھی ۔
ہر لڑکی گل آرا سے سوال کر رہی تھی جبکہ لیلہ بیگم چاندی کو دیکھ رہی تھی ۔
چاندی ! لیلہ بیگم کے کوٹھے کی قسمت ۔
اسی وقت باہر کا موسم پلٹا تھا ۔ دو بار بجلی کڑکی تھی اور پھر بارش برسنا شروع ہو گئی تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
” اسلام علیکم ۔ ” ہاسٹل کے میٹنگ روم میں فرح نرمی سے سلام کرتی اندر داخل ہوئی ۔
وہ بڑی سی چادر اوڑھے ہوئے تھی ۔
ہاتھ میں تسبیح تھی کہ نماز پڑھتے ہی بلاوا آیا تھا ۔
” وعلیکم اسلام ۔ آئیں بیٹا ادھر بیٹھیں ۔ ” بہار جان نے ایک ہی نظر میں فرح کو بھانپ لیا ۔ اسکا پہناوا انداز اور لہجہ بتاتا تھا وہ سلیقہ مند ہاتھوں میں تربیت یافتہ تھی ۔
فرح انکے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی ۔
” مجھے بتایا گیا تھا آپکو مجھ سے کوئی کام ہے ۔ مجھے بہت خوشی ہوگی اگر یہ بندی نا چیز آپکے کام آسکے گی ۔ ” فرح نے بات کا آغاز کیا تو بہار جان کو اسکی خود اعتمادی بہت اچھی لگی۔
” ہم بڑی امید سے یہاں آئی ہیں ۔ بلکہ فریاد لیکر آئیں ہیں ۔ سنا ہے آپ جس کے حق میں دعا کر دیں وہ قبول ہو جاتی ہے ۔ یہ قدرت کی طرف سے آپکو خاص عنایت ہے ۔ ہم بھی ایک دعا کروانا چاہتے ہیں۔ بیٹا اگر ہم پر یہ عنایت کریں گی تو ہم ساری عمر آپکا احسان نہیں بھولیں گے ۔ ” وہ جزبات میں آکر رو پڑیں تھیں اور فرح کے آگے ہاتھ جوڑ لیے ۔
” آپ یہ کیا کر رہیں ہیں۔ مہربانی فرما کر مجھے شرمندہ نا کریں ۔ مجھے بتائیں اپنی پریشانی کے بارے میں ۔ میں آپکے حق میں دعا کر سکتی ہوں فقط ۔ اسے قبول کرنا میرے رب کے ہاتھ میں ہے ۔ ” فرح نے آگے بڑھ کر انکے جڑے ہوئے ہاتھ کھولے اور کہنے لگی ۔
بہار جان نے اپنی آنکھیں صاف کیں پھر سالار کے بارے میں بتانے لگیں ۔
” بیٹا آپ دعا کر دیں کہ ہمارا پوتا پھر سے ہمارا ہو جائے ۔ اسکا دل ہمارے لیے صاف ہو جائے۔ اسے ہم سے جو گلے ہیں وہ ختم ہو جائیں ۔ وہ ہم سے یوں بے رخی سے پیش آنا بند کر دیں ۔ ہمارا دل جلتا ہے جب اسکی آنکھوں میں سب کے لیے نفرت دیکھتے ہیں ۔ بیٹا آپ دعا کریں گی نا ۔ ” بہار جان نے ایک بار پھر فریادی لہجے میں دعا کا متن سامنے رکھا ۔
” مجھے بہت افسوس ہوا آپ کے پوتے کے بارے میں سن کر ۔ انشاللہ وہ جلد تھیک ہو جائے گا ۔ آپ صبر کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ۔ میں اسکے لیے دعا کردوں گی ۔ ” فرح نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے تسلی دی ۔
” انشاللہ ۔ بیٹا آپکی زبان مبارک ہو ۔ ہم چاہتے ہیں آپ ابھی ہمارے سامنے دعا کریں ۔ ” بہار بیگم مزید درخواست کی ۔
فرح کچھ پل کو رکی پھر ہاتھ دعا کے لیے اٹھا لیے ۔
تین مرتبہ درود پڑھا اور ہلکی سے بلند آواز سے یہ دعا مانگے لگی ۔
” اے اللہ ۔ اے دلوں کے محرم ۔ تیرا ایک بندہ بھٹک چکا ہے ۔ اسے ہدایت عطا کر ۔ اسے واپسی کے راستے پر موڑ دے ۔ اسے چاہنے والے اسکے زریعے تکلیف نہیں سکون پائیں ۔ یا اللہ میری دعا سالار شاہ کے حق میں قبول کر ۔ یا اللہ سالار شاہ کو ہدایت دے دے ۔ ” وہ آنکھیں بند کرکے مکمل وثوق سے دعا کر رہی تھی ۔ ہر جملے کے بعد بہار جان آمین کہتی تھیں ۔ آخر میں تین بار درود پاک پڑھ کر اسنے دعا ختم کی ۔
بہار بیگم کے دل میں عجیب سا اطمینان اترا تھا ۔
انہیں لگا جیسے انکے دل نے گواہی دی ہو کہ فرح کی دعا قبول ہو گئی تھی ۔
اور فرح کو ملی قدرت کی یہ خاص دین دوسروں کے لیے تو مفید تھی مگر اسکے اپنے حق میں نہیں ۔
” بہت شکریہ بیٹا ۔ بہت شکریہ ۔ آپ نے ہمارے سینے سے ایک بوجھ اتار دیا ہے ۔ اب ہم صبر سے اس گھڑی کا انتظار کریں گے جب سب پہلے جیسا ہو جائے گا ۔ “
” انشاللہ ” فرح نے کہہ کر جانے کے لیے اجازت لینا چاہی مگر بہار جان نے پہلے ہی اس سے سوال کر لیا ۔
” بیٹا اپنے بارے میں کچھ بتائیں ۔ اپنے خاندان کے بارے میں ۔ “
فرح ایک لحظے کو رکی
ماضی زہن کی کتاب پر دھندلا سا
بے رنگ سا اور رنگین سس چھپنے لگا ۔
وہ ماضی جسے فرح کبھی یاد نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
وہ ماضی جہاں گناہ کے دلدل میں رہتے ہوئے اسنے اپنا دامن صاف رکھنے کی کوشش کی تھی ۔
وہ ماضی جہاں انسانی جبر کے سامنے احکام الہی کو فوقیت دی گئی تھی ۔
” یہ ہاسٹل ہی میرا گھر ہے ۔ یہاں کے سب لوگ میرا خاندان ہیں ۔ اسکے علاوہ میرا کوئی نہیں ہے ۔ ” فرح نے سرسری سے انداز میں بتایا ۔
بہار جان کو اسکا جواب مناسب نہیں لگا تھا ۔
” مگر آپ کے انداز سے تو یہ معلوم ہوتا ہے آپ کسی اعلی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں ” بہار بیگم نے اپنی سوچ کا اظہار کیا ۔
فرح ہلکا سا مسکراکر بولی ۔
” میں یتیم ہوں ۔” زہن کی کتاب پر ایک آدمی کا چہرا چھپا تھا ۔ دھندلا سا ۔ با رعب سا ۔ دراز قد۔ بہترین پریسنیلٹی والا مرد ۔ اعلی نسب رکھنے والا ۔ مگر چھوٹی سوچ رکھنے والا مرد ۔وہ اکثر آتا تھا اور اسے دیکھے بنا ہی لمبے لمبے ڈگ بھرتا نکل جاتا ۔ وہ ہمیشہ اس شخص کی توجہ کی طلبگار رہتی جسکے بارے میں بتایا جاتا وہ اسکا باپ ہے ۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ شخص زندہ ہے یا مردہ مگر وہ ہمیشہ خود کو یتیم ہی سمجھتی آئی تھی ۔
” سات سال کی تھی جب ماں بھی فوت ہو گئی ۔ ” زہن کی کتاب نے ایک اور ورقہ پلٹا ۔
بستر پر لیٹی وہ کمزور اور بیمار عورت جو کسی زمانے میں حسن کی مثال ہوا کرتی تھی ۔ ہائے وہ پیسوں کی غنی عورت محبت کے معاملے میں بد قسمت نکلی ۔
سات سال تک بے وفائی کا کیل اسکے دل میں ٹھکا رہا یہاں تک کہ زخم سے خون رس رس کر وہ خود بھی ختم ہو گئی ۔
وہ چھپ کر اس روز ناجانے کتنا روئی تھی ۔ اسنے اپنے باپ کو بھی قریب دیکھا تھا مگر باپ کی آنکھوں میں دکھ نہیں دیکھا تھا ۔ کوئی رنج کوئی ملال ۔ کوئی پچھتاوا نہیں دیکھا تھا اور اس بات نے اسے بہت رولایا تھا ۔ اسنے اپنے باپ کو ماں کے مرنے کے بعد بھی اس جگہ آتے دیکھا تھا مگر ہمیشہ وہ اسے نظر انداز کر دیتا تھا ۔
” میں کچھ جاننے والوں کے ساتھ رہنے لگی مگر میرا وہاں رہنا مشکل ہو گیا ۔ ایک روز وہاں سے نکل آئی ۔ “
زہن کی کتاب پر پھر سے کئی پنے پلٹے ۔ رات کا وقت تھا جب وہ خاموشی سے کاندھے پر بیگ رکھے جس میں کچھ ضروری چیزیں تھیں اور بڑی چادر لپیٹے ہوئے تھی اس عمارت کے پچھلے دروازے سے نکلی تھی ۔ تالا اسنے بالوں والی پن سے کھولا تھا ۔ بل آخر وہ آزاد تھی ۔ وہ پیچھے مڑے بنا تیزی سے اندھیرے میں آگے بڑھنے لگی ۔
” دو سال سے اس ہاسٹل میں رہ رہی ہوں ۔ سکول میں پڑھاتی ہوں ۔ اب یہی میرا گھر ہے ۔ ” فرح نے اپنے بارے میں مناسب معلومات فراہم کردیں ۔
” تھیک ہے ۔ اچھا لگا بیٹا آپ سے بات کر کے ۔ کیا آپ ہمیں پانی پلا دیں گی ۔ ” بہار بیگم نے مصالحتا فرمائش کی تو فرح اثبات میں سر ہلاتی باہر نکل گئی ۔
بہار بیگم نے ڈرائیور کو واپس بھیج دیا ۔
پھر شہوار شاہ کو فون ملایا ۔
” بیٹا ہم ایک کام سے آئے ہوئے تھے ۔ ڈرائیور کو جانا پڑ گیا ۔ کیا آپ ہمیں گرلز ہاسٹل سے پک کر سکتے ہیں ۔ “
” جی بلکل بی جان ۔ میں ابھی آتا ہوں ۔ ” دوسری طرف سے شہوار کی مصروف سی آواز گونجی تھی ۔
فون بند ہوا تو فرغ اندر آئی ۔
اسکے ہاتھ میں چھوٹی ٹرے تھی جس میں ایک طرف پانی کا گلاس تھا ڈھکا ہوا ۔ اور دوسری سائڈ پر رومال رکھا تھا ۔
فرح نے پانی کا گلاس انہیں پیش کیا ۔
بہار بیگم اسکا ایک ایک انداز بغور دیکھتی تھیں ۔
وہ ہر انداز سے اعلی تربیت یافتہ معلوم ہوتی تھی ۔
بہار بیگم فرح کے ساتھ مزید باتئں کرنے لگیں ۔
وہ پڑھی لکھی
عقل مند
اور باشعور لڑکی تھی۔
اور سب سے بڑھ کر پردہ دار تھی ۔
فرح میں انہیں وہ سب اوصاف دکھے جو وہ چاہتی تھیں ۔
یقینا شہوار شاہ کے لیے فرح کا انتخاب غلط فیصلہ نہیں ہوگا ۔ وہ آئیں تو کسی اور مقصد کے لیے تھیں مگر ایک اور مقصد لیے جا رہی تھیں ۔
” ماڈرن نا ہو مگر زمانے کے ساتھ چلنے والی ۔ میرے ساتھ مل کر چلنے والی نا ہو مگر مجھے ہمیشہ سپوڑٹ کرے ۔ تعلیم یافتہ کم ہو مگر تہزیب یافتہ ضرور ہو ۔ پاک دامن ہو ۔ پردہ دار ہو ۔ جو میری شریک سفر بنے اس میں یہ خوبی لازمی ہو کہ اسے کسی غیر مرد نے نا دیکھا ہو ۔ وہ ڈھکی چھپی سی ہو ۔ صورت جیسی بھی ہو صیرت بہترین ہو ۔ جو رشتوں کی اہمیت جانتی ہو ۔ ” بہار جان نے چند دن پہلے شہوار سے پوچھا تھا کہ اسے کیسی لڑکی چاہیے ۔
تو شہوار نے یہ چند خصوصیات بتائیں تھیں ۔
” صاحبہ آپکو لینے آ گئے ہیں ۔ ” ہاسٹل کے گارڈ نے آکر اطلاع دی تو بہار جان گہری مسکراہٹ سجا کر اٹھ کھڑی ہوئیں ۔
وہ آگے بڑھی تو فرح بھی پیچھے چل پڑی تاکہ دروازے تک رخصت کردے ۔۔۔۔۔
شہوار شاہ نے اپنی گاڑی ہاسٹل کے باہر روکی ۔
گارڈ کو پیغام دیا اور انتظار کرنے لگا ۔
اسے حیرت ہوئی کہ بی جان یہاں کیوں آئی تھی۔
وہ گاڑی سے اتر کر اندر بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
بہار جان کے ساتھ چلتی آرہی فرح نے اچانک کسی کو اندر آتے دیکھا تو فورا چادر سے نقاب کر لیا ۔ اپنا چہرا نا محرم کے آگے ڈھانپ لیا ۔
شہوار یہ حرکت محسوس کر چکا تھا ۔
وہ لڑکی کا چہرا تھیک سے دیکھ نہیں پایا تھا مگر اسکی ادا دل کو بھا گئی تھی ۔
شہوار کی اپنی آنکھیں خود با خود جھک گئیں جیسے جیسے بہار جان کے ساتھ وہ لڑکی قریب آ رہی تھی ۔
اور یہ ہی احکام الہی ہے ۔
عورت کو پردے کی تلقین سے پہلے مرد کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھے۔
فرح نے شہوار کو پہچان لیا ۔
وہی مرد جس کے ہیڈ مزدور سے اچھے سلوک نے اسے متاثر کیا تھا ۔
بہار جان شہوار کے ساتھ چلی گئیں تو فرح تیزی سے اپنے کمرے میں آئی اود ڈھرکتے دل کو سنبھالا ۔
کہیں اس شخص کی نظر اسکے چہرے پر تو نہیں پڑ گئی تھی ۔
کہیں اسکے چہرے پر نامحرم کی نظریں تو نہیں نقش ہو گئی ۔
وہ آگے آئی اور جائے نماز جو بچھی ہی چھوڑ گئی تھی وہاں بیٹھی اور ہاتھ اٹھائے ۔
” یااللہ میرا پردہ قائم رکھنا ۔ یا اللہ مجھے نامحرم کے سامنے با پردہ نا کرنا ۔ یا اللہ میرے چہرے کو غیر مرد کی نظروں سے محفوظ رکھنا ۔ اللہ اگر اس شخص کی نظریں میرے چہرے پر پڑ گئیں ہیں تو مجھے معاف فرمادے۔ اللہ اس خطا کے عوض میرے چہرے کو جہنم کی آگ سے محفوظ رکھنا”
دروازہ کھلا اور ٹریسا اندر آئی ۔ آج وہ ہاف ٹائم میں واپس آگئی تھی ۔
وہ بہت غور سے فرح کی دعا سننے لگی ۔
اسنے بے اختیار اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا
وہ ہمیشہ کھلا ہوتا تھا ۔
محرم نا محرم ہر کسی کی نظر اس پر پڑھتی تھی ۔
ٹریسا شیشے کے سامنے آئی ۔ اپنی سیاہ رنگت کو بغور دیکھا ۔
کیا اسے بھی ضرورت تھی اپنا چہرا ڈھانپنے کی ۔ اونہوں وہ تو ایسی تھی ہی نہیں کہ کوئی اسکی طرف دیکھے بھی ۔ وہ سر جھٹک کر وہاں سے ہٹ گئی ۔
جبکہ فرح اپنے رب سے باتیں کرنے میں مشغول رہی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے
