No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
حال ۔
نماز مغرب دی جا چکی تھی ۔ اہل ایمان مساجد کا رخ کر چکے تھے ۔ اہل غافل کے رخ کہیں اور کے ہی تھے ۔
سیاہ رنگ کی سپورٹس کار بہت تیزی سے اس سڑک پر کٹ مارتی ہوئی جا رہی تھی ۔
چلانے والا کوئی جنونی تھا ۔
نہایت ہی ریش قسم کی ڈرایونگ کا مظاہرہ کرتا وہ سالار شاہ تھا ۔
گاڑی کی پسینجر سیٹ پر حنان عرف ہنی سیٹ کے ساتھ بلکل چپک کر بیٹھا تھا ۔
جبکہ ڈرائیو سیٹ پر بیٹھا سالار پر سکون تھا ۔ وہ وقفے وقفے سے ڈیش بورڈ پر رکھی شیشے کی بوتل سے ایک گھونٹ شراب کا لگا لیتا تھا ۔
تیز کانوں کے پردے چیڑتا ہوا میوزک ہنی کی طبیعت بو جھل کرنے لگا ۔
ہنی نے پہلو بدلا اور اگلے ہی لمحے اسکے جبڑے پر سالار کا زوردار مکا وارد ہوا ۔
کچھ سیکنڈز کے لیے ہنی کی آنکھوں میں اندھیرا لہرا گیا ۔
” کیوں مارا ” ہاتھ سے دکھتا ہوا جبڑا پکڑے ہنی نے سالار کو دیکھا جو نہایت ہی اطمینان سے ڈرائیو کر رہا تھا ۔
سالار کی دوستی بہت کم تھی ۔ ہنی اسکا سکول کے زمانے سے دوست تھا ۔ اسکے بعد کئی لوگ آئے مگر سب دشمن کی حیثیت سے ہی ۔
وہ سکول کالج اور یونیورسٹی کے کیریر میں تعریبا ہر کسی سے مار ڈھار کر چکا تھا ۔
دوسروں کی اگر پھڈے بازی میں ٹھکائی کرتا تھا تو ہنی کو دوستی میں اکثر ایک دو لگا دیتا تھا ۔
دوست کے ہاتھوں زلیل نا ہوئے رسوا نا ہوئے مار نا کھائی قبر تک نا پہنچ گئے تو ایسی زندگی سے بہتر بندا چلو بھر پانی میں ڈوب مرے *
quotation_by_Salar_Shah
” تاکہ تم وولیم کم کرنے کی زحمت مت کرو ” سالار نے آبرو اچکاکر تنبیہ انداز میں کہا۔
” تجھے کیسے پتا میں وولیم کم کرنے والا تھا ” ہنی نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا ۔
کوئی ثاثر بھی نہیں ملتا تھا سالار کے چہرے پر ۔
” تمھارے اندر مچلتی چل سے ” جواب دے کر سالار نے پھر سے شیشے کی بوتل اٹھائی اور منہ سے لگا کر دو تین گھونٹ اندر انڈیلے اور بنا دیکھے ہنی کی طرف اچھال دی ۔
بوتل اسکے پیٹ پر جاکر لگی ۔
” آوچ ” وہ درد سے چلایا ۔
” تمیز نام کی کوئی چیز تمھارے پاس سے نہیں گزری “
” آہ ۔ شاید گزری ہو مگر مجھے عادت نہیں ہر پاس سے گزرنے والی کا نام پوچھوں ۔ ” وہ ڈھٹائی سے بولا ۔
” اسے پی لو تمھارے کانوں کو افاقہ ہوگا ۔ ” ہنی جو ڈیش بورڈ پر واپس بوتل رکھنے لگا تھا یک دم ٹھٹکا ۔
” تجھے کیسے پتا چلا کہ میں۔۔۔۔۔” اسکے الفاظ حلق میں ہی رہ گئے کیونکہ سالار اسکے ہاتھ سے بوتل پکڑ کر اسکا منہ کھول کر شراب اسکے اندر انڈیل چکا تھا ۔
” بہت زیادہ بکواس کرنے لگے ہو ۔ مفت کی چیز راس نہیں آتی ۔”
ابکی بار ہنی کو زرا سا گھورا تھا ۔
ہنی خاموشی سے بیٹھ گیا ۔
اسکا جبڑا اور پیٹ ابھی تک درد کر رہا تھا ۔
سالار نے سپیکر کا وولیم فل تیز کر دیا ۔
انگلش سنگر مزید اونچا گلا پھاڑنے لگا اور پھٹ تو ہنی کے کان بھی رہے تھے ۔
وہ دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں میچ کر بیٹھ گیا ۔
اگر ایسا نا کرتا تو یقین اسکے کانوں سے خون ابل پڑتا ۔
جبکہ سالار بہت سکون سے سنگر کے ساتھ سر تال ملاتا گنگنا رہا تھا ۔
گاڑی کے سپیڈ میٹر پر رفتار کی حد 200 ایم پی ایچ تھی ۔
رفتار کی سوئی 120 پر تھی ۔ ہنی نے دیکھا وہ آگے بڑھ رہی تھی ۔
” سالار یار آیستہ کر ۔ ” ہنی چلایا مگر میوزک کی آواز میں اسکی آواز دب گئی ۔
130 ایم پی ایچ
“سالار بہت زیادہ ہو گئی سپیڈ “
سالار کی آبرویں تن گئیں ۔
150ایم پی ایچ
“گاڑی ٹھک جائے گی روک لے”
سالار کے ہونٹوں پر پر اسرار مسکراہٹ آئی
170 ایم پی ایچ
“تجھے مرنا ہے تو مر مجھے تو بخش دے
سالار کی مسکراہٹ گہری سے گہری ہوتی گئی ۔
اسکے زہن میں بھگڈر مچی ہوئی تھی ۔
190 ایم پی ایچ
“سالار تیرا دماغ چل گیا ہے “
ہنی نے سالار کا کندھا جھنجھوڑا مگر وہ ایک انچ بھی اسے ہلا نا پایا ۔
200 ایم پی ایچ
“سالااااااااااااااااااااااااااار “
ہنی ہلق کے بل چلایا ۔
ایک زور دار بلاسٹ کی آواز ۔ ٹائر پینکچر اور گاڑی سڑک پر ناگن کی طرح بل کھاتی ہوئی دائیں طرف کی دیوار میں جا ٹھکی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
صبح مکمل چڑھ چکی تھی ۔ دسمبر کا سورج دھاک بٹھائے آسمان پر چڑھ چکا تھا ۔
پریشال جیسے دبے قدموں چہل قدمی کے لیے نکلی تھی ویسے ہی دبے قدموں گھر میں داخل ہوئی تھی ۔
بنا آواز پیدا کیے اسکا رخ اپنے کمرے کی طرف تھا ۔
ڈور ناب پر ہاتھ پڑنے سے پہلے کسی کے کھنکھارنے کی آواز اسکے کانوں میں پڑی ۔
پریشال نے آنکھیں بند کر کے زبان دانتوں تلے دبائی ۔
وہ پکڑی گئی تھی ۔
” کیا میں پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہاں سے آوارہ گردی کر کے آ رہی ہو ۔ ” ویل چیئر پر بیٹھے ابراہیم صاحب نے طنزیہ کہا ۔
” کیوں نہیں ابراہیم صاحب ۔ پورا حق ہے آپکو ۔ ” وہ الٹے قدموں انکی طرف گھومی اور ڈھتائی سے بولی ۔
” کیا یہ کوئی طریقہ ہے آدھی رات کو سڑکوں پر پھرنے کا ۔ ” وہ نالاں نظر آتے تھے ۔
” کیونکہ میں دن میں ایسے سڑکوں پر نہیں پھر سکتی نا ۔ ” وہ انکے سامنے زمین پر بیٹھی اور بچوں کی طرح منانے والا منہ بنایا ۔
” میں کتنا پریشان ہو گیا تھا ۔ آدھی رات سنسان سڑکیں ۔ تمہے کوئی نقصان پہنچا دیتا تو ۔۔۔۔ ” وہ سخت فکر مندی سے کہنے لگے ۔
” مائی سویٹو ڈیئر ہینڈسم ابراہیم صاحب آپکو کتنی فکر ہے میری ۔ لیکن آپ نے ہی تو سیکھایا ہے کہ کوئی پھی پریشانی آئے اس کا ہمت سے سامنہ کرو ۔ اسکا منہ ٹور کر رکھ دو ۔” پریشال نے ابراہیم صاحب کے گال چٹکیوں میں بھینچے ۔
اسکے سامنے وہ لڑکا آیا جو اس سے اس کی قیمت پوچھ رہا تھا ۔
نا محسوس طریقے سے وہ جھجھلا سی گئی ۔
” یعنی کسی کا منہ ٹور کر آ رہی ہو ۔ ” وہ بھی باپ تھے ۔ اسکی آنکھیں پڑھ گئے ۔
” بس منہ ہی نہیں توڑا ۔ باقی تھپر تو زور دار لگایا تھا ۔ ” پریشال نے دانت پیستے ہوئے افسوس سے ہاتھ ملے ۔
” کل سے اگر چہل قدمی کرنی ہو تو شام میں نکل جانا ۔ ” ابراہیم صاحب نے تاقید کی ۔
” اوکے جو حکم کیپٹن ۔ ” سر کے پاس ہاتھ لے جا کر راجر سر کیا اور پھر انکی ویل چیئر چلاتی ہوئی کمرے میں لے جانے لگی ۔
کچھ دیر بعد وہ فریش ہو کر کپڑے تبدیل کر کے ابراہیم صاحب کے ساتھ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی تھی ۔
” آج کہاں جانا ہے ۔ ” ابراہیم صاحب نے آم لیٹ کا ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے پوچھا ۔
” لائبہ بتا رہی تھی ایک سٹوڈیو کا ۔ وہاں اوڈیشن دوں گی ۔ ” پریشال نے بریڈ پر جیم لگاتے ہوئے بتایا ۔
” ہوں ۔ “
” اگر میں چلنے کے قابل ہوتا تو تمہے ایسے دھکے نا کھانے دیتا ۔ ” ابراہیم صاحب شکن زدہ لہجے میں بولے تھے ۔
” ہر گز نہیں ۔ آپ اگر چلنے کے قابل بھی ہوتے تب بھی میں ایسے دھکے کھا رہی ہوتی ۔ یہ تو بچپن سے خواب تھا میرا بڑی سٹار بنوں ۔ آپ دیکھنا ایک دن ملک کی سب سے بڑی سپر سٹار بنو گی ۔ اس دن کیپٹن ابراہیم اسد مجھ سے لائن میں کھڑے ہو کر آٹو گراف لیں گے ” وہ لاپرواہی سے انکے بازوں پر ہاتھ مارتی بولی ۔
آنسو روکنے کی کامیاب حد تک کوشش بھی کی تھی ۔
باپ کا دل رکھنے کو ۔ باپ کو احساس کمتری نا محسوس کروانے کے لیے وہ ایسے سو جھوٹ بول سکتی تھی مگر سچ تو یہ تھا کہ جگہ جگہ دھکے کھا کر ایکٹنگ کے اوڈیشن دینا اسے کبھی پسند نہیں تھا
وہ چھبس سالہ خوبصورت نقشو نگار کی مالک لڑکی تھی ۔
دراز قد ۔
ایم اے پڑھی ہوئی ۔
پریشال کی ماں کے انتقال کے کچھ عرصے بعد ابراہیم صاحب نے دشمن سے جھڑپ کے ایک مشن کے دوران اپنی ٹانگیں کھو دیں تھیں ۔ وہ معزور ہو کر ویل چیئر پر پڑ گئے تھے ۔ کیپٹن ابراہیم اسد سے وہ ابراہیم صاحب بن گئے تھے ۔
اس وقت پریشال نے فائنل ایئر کے پیپر دیے تھے ۔
ڈگڑی کے بغیر جاب نہیں ملنی تھی کوئی اچھی تو اسکی دوست لائبہ نے اسے ایکٹنگ کے لیے ٹرائی کرنے کو کہا ۔
بقول لائبہ کہ وہ پرفیکٹ ہیروئین میٹیریل تھی ۔
مگر وہ جہاں بھی گئی محض ایک چھوٹی موٹی ایڈ کروائی گئی یا سائڈ رول جو پانچ منٹ سے زائد کا کبھی نہیں ہوا تھا ۔
” اس لائن میں صرف میں ہی اکیلا نا کھڑا ہوں ۔ ” وہ اسکی کیفیت بھانپ کر ماحول ہلکا کرنے کے لیے مزاح کرتے ہوئے بولے ۔
” یہ تو اور بھی اچھی بات ہے ۔ میرے فین اور سپورٹرز میں میرے بابا کھڑے ہونگے اور مجھے کیا چاہیے ۔ ” پریشال پورے دل سے مسکرائی ۔ پھر اٹھ کر ابراہیم صاحب کے گلے لگی۔
” اپنا خیال رکھیے گا میں دو گھنٹے تک آ جاوں گی ۔ دیر ہو تو پریشان مت ہو جائیے گا۔ بھوک لگے تو فریج سے فروٹ نکال کر کھا لینا ۔ میڈیسن سائڈ ٹیبل پر رکھیں ہیں ایک گھنٹے بعد یاد سے کھا لینا ۔کوئی زیادہ اہم ضروت ہو تو ساتھ والی اپنی گرل فرینڈ نور جہاں آنٹی کو بلا لینا ۔ انکے ساتھ گپے مار لینا ۔ اوکے بائے لو یو بائے ” ہر روز کی طرح آج بھی وہ دروازے میں کھڑی ہدایتوں کی فہرست جاری کر کے ہاتھ ہلا کر باہر نکل گئی ۔
آہ ایک اور بھاگ ڈور والا دن ۔
ایک اور دھکے کھانے کا دن ۔
وہ رات میں پریشال ہوتی تھی ۔ صرف پریشال جب وہ صرف اپنے لیے جیتی تھی ۔ اپنے لیے سانس لیتی تھی ۔ اپنے ساتھ گپے لڑاتی تھی ۔ اپنے ساتھ لڑائی کرتی تھی ۔ اپنے ناز و نکھڑے اٹھاتی تھی ۔
دن میں وہ پریشال ابراہیم بن جاتی تھی جہاں ضروریات زندگی چلانے کے لیے اس کو نا پسند کام بھی کرنا پڑتا تھا ۔ اپنی مرضی کے خلاف چلنا پڑتا تھا مگر یہ ہی زندگی تھی اور پریشال ابراہیم کو چیلنجز پسند تھے ۔
اسکے نکلتے ہی ابراہیم صاحب گردن جھکا کر بیٹھ گئے ۔ نظریں گھڑیں پر ٹکی ٹھیں ۔
وہاں 8 بج رہے تھے ۔
مگر وہ گھڑی کی سوئیاں کہاں دیکھ رہے تھے ۔
وہ تو وقت کی گھومتی سوئیاں چن رہے تھے ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
سورج کی سرمائی کرنیں اس جگہ کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے تھیں ۔ دوپہر کی نرم گرم سی دھوپ سردی کا زور کسی حد تک کم کر رہی تھی ۔
وہ ایک زیر تعمیر بلڈنگ دی ۔ کافی عرصے سے وہاں کام بند تھا ۔ مگر آج وہاں پھر سے ہل چل لگی ہوئی تھی ۔
ورکرز کام کر رہے تھے ۔ تعمیری مشینری بھی چل رہی تھی ۔
ایک شور سا اس جگہ پر برپا تھا ۔
ایسے میں اس بلڈنگ کی پانچویں منزل میں بنا وہ سیمنٹ کی دیواروں والا آفس تھا ۔ ایک دیوار جو سڑک کی طرف تھی آدھی غائب تھی ۔ وہاں تعمیر مکمل ہونے کے بعد شیشہ لگنا تھا شیشہ لگنا تھا۔
آدھ تعمیر دیوار کے آگھ شہوار شاہ کھڑا تھا ۔ اسکے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا جسے وہ گھونٹ گھونٹ اندر انڈیلتا سردی کی شدت کو گرمائی میں بدل رہا تھا ۔
اسکے پیچھے لکڑی کی میز پر آدم جھکا ہوا تھا ۔ وہ ایک نقشے کے بلیو پرنٹ کا بغور جائزہ لے رہا تھا ۔
پین سے ایک جگہ نشانہ لگایا اور سر اٹھا کر شہوار کو دیکھا ۔
میز پر پڑی آدم کہ چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی ۔
” چار سال ۔ فائنلی چار سال بعد ہم لینڈ کلیئر کروانے میں کامیاب ہو گئے ” شہوار اندر کی طرف مڑا اور آدم تک آیا ۔
چائے کا خالی کپ میز پر رکھا اور خود بھی نقشے پر جھکا ۔
” کیا تم نے اسے دیکھ لیا ۔ ” اب وہ آدم سے کسی بارے میں استفار کر رہا تھا ۔
” یس سر یہ دیکھیں میرے خیال سے پارکنگ یہاں ہونی چاہیے ۔ ” آدم نے ایک جگہ پین رکھا جہاں نشان لگا ہوا تھا ۔
شہوار نے غور سے اس جگہ پر دیکھا ۔
” ہوں گریٹ ۔ اٹ ول بی گڈ اور تم مجھے سر نا کہا کرو کتنی بار کہا ہے ۔ ” آدم کے کام کو سرہا کر شہوار نے اسے یاد دہانی کروائی ۔
” یہ کیسے ہو سکتا ہے آپ میرے باس ہیں۔ سر نہیں کہوں گا تو کیا کہوں گا۔ ” آدم نے ہر بار کی طرح اس بار بھی جواز پیش کیا ۔
” سر یا باس مالک کے لیے بولا جاتا ہے ۔ میں نے تمہے کبھی غلام نہیں سمجھا ۔ تم ہمیشہ سے میرے لیے میرے بھائی کی طرح ہو جیسے سالار ہے ۔ حدید اور روعان ہے ۔ بابا کا بزنس اسٹیبلش کرنے میں تم نے میرے ساتھ بھائیوں جیسا تعاون کیا ہے ۔ مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا جب تم مجھے باس یا سر کہتے ہو ۔ اور یہ میں اس لیے نہیں کہہ رہا کہ تم میرے سب سے قریب ہو ۔ مجھے نہیں پسند کہ آفس کے گیٹ پر کھڑا ہونے وال ایک واچ مین بھی مجھے سر کہہ کر بلائے ۔ وی آل آر آ فیملی ہیئر ۔ ہم سب یہاں کمپینیین ہیں ۔ مالک یا غلام نہیں ۔ مالک صرف اللہ ہے ۔ میری نا چیز زات یہ بات قبول نہیں کرتی کہ میں دنیاوی دکھاوے یا انا کی تسکین کے لیے لوگوں کا مالک بن بیٹھوں گا۔ ” وہ نہایت نرم مگر ہر لفظ پر زور ڈالتے ہوئے بولا ۔ آدم نے اسکی ساری بات سن کر سر اثبات میں ہلایا ۔
” میں سمجھ گیا ۔ ” پھر گردن کو خم دیا ۔
” گڈ ۔ آئندہ سے تم مجھے شہوار کہہ سکتے ہو ۔ ” شہوار نے تائید کی اور میز پر بچھا نقشہ لپیٹنے لگا ۔
اسکے قدم باہر کی طرف بڑھے ۔
” سر ۔ مم ۔میرا مطلب شہوار ہیڈ لیبر اپنی پچھلی پیمنٹ مانگ رہا ہے۔ “
آدم گلا کھکھنار کر تصحیح کرتے ہوئے بولا ۔
” کیا ابھی تک پیمنٹ کلئیر نہیں ہوئی ۔ ” شہوار ناراض سا پلٹا ۔
” اسکے اکاونٹ میں پروبلم آ رہی ہے ۔ چیک باونس ہو رہا ہے ۔ وہ کیش کی ڈیمانڈ کر رہا ہے ۔ ” آدم نے معاملے سے آگاہ کیا ۔
” تو یہاں کھڑے ہو کر تمہے مجھے یہ بتانے کی بجائے اسکی پیمنٹ اسے کلیئر کرنی چاہیے تھی ۔ دو ہفتے ہو گئے اور پیمنٹ کلیئر نہیں ہوئی ۔ تم مجھے قیامت والے دن ان لوگوں میں کھڑا کرنا چاہتے ہو جو اپنی واجب الادئیگی میں تاخیر کرتے ہیں ۔
ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ” مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو ۔ ( ابن ماجہ) “
کیا تم مجھے قیامت والے دن انکے سامنے شرم سار کرنا چاہتے ہو ۔ ” شہوار کا لہجا سخت ہوا تھا جس میں وہ آدم سے باز پرس کرنے لگا ۔
” میں معزرت چاہتا ہوں ۔ ” آدم فورا باہر کی طرف بھاگا تھا ۔
شہوار نے سکون کا سانس لیا اور خود بھی قدم آگے بڑھا دیے ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
فرح برقعے میں ملبوس سکول سے نکلی تھی ۔ اسکا رخ ہاسٹل کی طرف تھا ۔ اچانک یاد آیا اسے کچھ کتابیں چاہیے تھیں ۔
اسنے راستہ بدل لیا کیونکہ بک سٹور دوسری طرف تھا ۔ اسکے راستے میں زیر تعمیر بلڈنگ آئی تھی ۔
فرح نے تعمیراتی بلڈنگ پر ایک نظر ڈالتے ہوئے قدم آگے بڑھائے ۔
تبھی اسکی نظر اندر سے آتے ہوئے مرد پر پڑی ۔
وہ رائل بلیو کلر کے سوٹ میں نک سک سے تیار ہوا خوبرو مرد تھا ۔
چھ فٹ سے اٹھتا قد اور مظبوط جسامت کا حامل۔ چہرے پر سجی ڈاڑھی اسے مزید جازب نظر بنا رہی تھی ۔
اسکے باہر آنے پر وہاں کام کرتے مزدوروں نے اسے سلام کیا جسکا جواب اس آدمی نے سر جھکا کر خوش اصلوبی سے دیا ۔
وہ چلتا ہوا گاڑی تک آیا جب مزدوروں کے ہیڈ نے اسے آواز دی ۔
اسنے نہایت سکون سے رک کر اسکی بات سنی اور آخر میں گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ہیڈ مزدور کے کندھے پر تھپکی بھی لگائی ۔
اسکا مکمل تاثر فرح پر ایک اچھے اخلاق والے انسان کا پڑا تھا ۔
دوسرے باسز کی طرح وہ گھمنڈی یا اکھڑ مزاج معلوم نہیں ہوتا تھا ۔
فرح آگے بڑھ گئی ۔۔۔۔
ہیڈ مززور کو اسکی ادائیگی کے متعلق تسلی دے کر شہوار گاڑی میں بیٹھ گیا ۔
شیشے سے باہر سڑک پر ایک نظر ڈورائی جب شہوار شاہ کی نظریں ٹھہر گئیں ۔
سڑک پر چلتی وہ لڑکی مکمل حجاب میں تھی ۔
وہ نظریں جھکائے آگے چلتی جارہی تھی ۔
شہوار کے لبوں کو مسکان نے چھوا ۔
اسے ہمیشہ سے اپنے لیے ایک ایسی لائف پاڑٹنر کی خواہش تھی ۔ وہ ایک با پردہ اور پاکیزہ عورت اپنی زندگی میں چاہتا تھا ۔
سڑک پر چلتی وہ لڑکی شہوار شاہ کے دل میں اپنے لیے ایک احترام کا مقام پیدا کر گئی تھی ۔
گاڑی آگے بڑھ گئی ۔ لڑکی پیچھے رہ گئی ۔
” یا اللہ میری زندگی میں پاک عورت شامل کرنا ۔” ہونٹوں پر مٹھی رکھ کر گہری سانس لیتے ہوئے دل میں دعا کی ۔
گاڑی دوسرے آفس کی طرف رواں دواں تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
” اسلام علیکم ۔ ” فرح بازووں میں کتابیں تھامے ہاسٹل میں اپنے مخصوص پارشن میں داخل ہوتے ہوئے اونچا بولی ۔
وہاں موجود لڑکیوں نے سر اٹھا کر سلام کا جواب دیا ۔
پورشن کے درمیانی حصہ ایک برآمدے جیسا تھا جہاں صوفے رکھے تھے ۔ برآمدے کے دو اطرف کمرے تھے ۔ ایک طرف نیچے جانے اور اوپر جانے کے لیے سیڑھیاں تھیں ۔ جبکہ ایک طرف گیلری تھی ۔ ہر پورشن کے لیے ایک گیلری ۔
فرح دروازہ کھول کر اندر بڑھ گئی ۔
صوفے پر بدستور خیالوں کی دنیا میں گم ہوئی منال ایلس ان ڈا ونڈر لینڈ بنی بیٹھی تھی ۔
نوٹ بک پر سطریں لکھ لکھ کر کاٹی گئیں تھیں ۔
منال نے فرح کا سلام نہیں سنا تھا ۔
فرح قریب آئی اور اسکے ہاتھ سے نوٹ بک پکڑی ۔
” اوہ ۔ فرح آپی آپ کب آئی ۔ ” منال ہوش میں آتے ہوئے بولی ۔
” جب تم یہاں بیٹھ کر دنیا کی سیر کو نکلی ہوئی تھی ۔ ” فرح نے پیار سے منال کے گال پر چٹکی کاٹی ۔
گول مٹول سی ٹوم بوائے منال واصف فرح کو بہت اچھی لگتی تھی ۔ بلکل کسی چھوٹی بہن کی طرح ۔ یہ ہی وجہ تھی کہ فرح وقتا فوقتا اسے کچھ نا کچھ سمجھاتی رہتی تھی ۔
” کیا لکھ رہی تھی ۔ ” فرح نے اب نوٹ بک پر نظر ڈالی ۔
نہایت ہی رف رائٹنگ اور اسے بھی پین سے لکیریں کھینچ کر کاٹا گیا تھا ۔ فرح کو سمجھ نا آئی تو سولیہ نظریں منال کی طرف اٹھائیں ۔
” وو ۔۔ وہ ۔۔میں نا ناول لکھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ ” ہاتھوں کو آپس میں مڑوڑے کھلاتے ہوئے بتیسی نکالتے ہوئے بولی ۔
” اچھا ۔ ” فرح نے ایک ترچھی نظر اس لڑکی پر ڈالی جسکی عمر اٹھارہ اور انیس کے درمیان تھی ۔
” کیا تمہے لگتا ہے تم ناول لکھنے کی عمر میں ہو ۔ ” فرح اسکے ساتھ ہی بیٹھ گئی ۔
منال نے کندھے اچکا دیے ۔
” آخر یہ کرنے کا آئیڈیا کہاں سے آیا ۔ ” وہ مزید استفار کرنے لگی ۔
” ایف بی پر ناول پڑھ پڑھ کر خود بھی لکھنے کا شوق پیدا ہو گیا مگر مجھے سمجھ نہیں آرہی کیا لکھوں۔ ” اپنے نئے پیدا ہوئے شوق کی پیدائش گاہ کا زکر کر نے کے بعد رونی سی صورت بنائی ۔
” جون ایلیا لگتا ہے تم جیسے ننھے منے لکھاریوں کے لیے کہہ گئے تھے کہ جنہیں پڑھنا چاہیے وہ لکھ رہیں ہیں ۔” فرح حوالہ دیتے ہوئے افسوس سے بولی ۔
” لو ابھی تو میں نے ایف ایس سی کے پیپرز دیے ہیں ۔ اب کیا وکیشنز میں بھی پڑھوں ۔ ” فرح کی بات پر منہ کھولے حیرت کا اظہار کرتے بولی ۔ منال کے معصومیت بھرے انداز پر فرح بے اختیار ہنس پڑی ۔
” میرا مطلب ہے پیاری ابھی تم چھوٹی ہو ان چیزوں کو لکھنے کے لیے ۔ ” فرح نے پیار سے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرا
” چھوٹی ۔ نہیں نہیں ۔ میں تو انیس سال کی ہوں ۔ ایف بی پر ہندرہ سولہ سال کی لڑکیاں بھی ناول لکھتی ہیں ۔ ” منال ہاتھ جھلا جھلا کر بتانے لگی ۔
” اچھا ۔ چلو یہ بتاو وہ لکھتی کیا ہیں ۔” فرح نے بازوں ٹھوڑی تلے تکایا ۔ وہ غور سے منال کو سننے لگی ۔
” وہ ناول لکھتی ہیں ۔ “
” ہاں مگر ناول میں کیا لکھتی ہیں ۔ کیسی تحریر لکھتی ہیں ” فرح نے تفصیلا پوچھا ۔
” وہ ۔۔۔ ” منال نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر ایک لمحے کو سوچا ۔
” وہ لو سٹوری لکھتی ہیں ۔ ایک شہزادوں جیسا ہیرو اور پریوں جیسی ہیروئین ۔ دونوں کی محبت بھری کہانی ۔ اور ۔۔۔۔ ” وہ زرا سا شرمائی ۔ پھر چہرے پر زرا سی سرخی لاتے ہوئے بولی ۔
” اور رومانس بھی۔”
فرح چند لمحے اسکی شکل دیکھتی رہی جو رومانس کے زکر پر سرخ انگارہ ہو رہا تھا ۔
” آپ کو پتا ہے فرح آپی ناول کا ہیرو اور ہیروئین “وہ” بھی کرتے ہیں ۔” وہ پر زور بھی دیا اور لاج بھی کھائی ۔
” اچھا یہ بتاو تم نے کیا سیکھا ان ناولز سے ۔ ” فرح اب سنجیدگی سے پوچھنے لگی ۔
” یہی کہ ہیرو ہیروئین سے کتنی محبت کرتا ہے ۔ پہلے وہ دشمن ہوتے ہیں پھر وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ “
” کیا بس یہ ہی سیکھا تم نے ۔ ” فرح کو ناجانے کیوں اس پر ترس آرہا تھا ۔
” ہاں نا ۔ رزلٹ کے انتظار میں جتنے ناول پڑھے ان میں یہ ہی تھا ۔ ” منال ہاتھوں کو جھٹک کر بولی ۔
” تم غلط جگہ پہنچ گئی لڑکی ۔ یہ سب تمھارے دماغ کے لیے تھیک نہیں ہے ۔ تمھارا زہن ابھی پختہ نہیں ہے ۔ ” فرح اپنے تئیں اسے سمجھانے لگی ۔
” تو کیا ہے میرے لیے صحیح ۔ ” منال نے پوچھا ۔
” تم دوسری طرح کے ناولز پڑھو ۔ جیسے اسلامی ۔ انفورمیٹیئو ۔ جس سے کچھ اچھا سیکھو ۔ کچھ بہتر سیکھو۔ ناکہ صرف پیار محبت کی داستانیں ۔ تم سمجھ رہی ہو نا ۔ “
فرح کی بات سن کر منال کچھ دیر سوچتی رہی پھر چہک کر بولی ۔
” اوکے اب سے میں ایسا ہی ناول پڑھوں گی ۔ ” وہ پختہ ارادہ کرتے ہوئے بولی ۔
” ہوں ۔ مگر پڑھنے سے پہلے مجھے بتا دینا تم کونسا ناول پڑھ رہی ہو ۔ ” فرح نے تاکید کی ۔
” اوکے فرح آپی ۔ ” ٹوم بائے منال نے حامی بھرتے ہوئے فرح کے گال پر بوسہ لیا ۔
” پیپرز کے بعد گھر کیوں نہیں گئی تم ۔ ” فرح اب دوسرے مدعے پر آئی ۔
” اماں نے گھر میں کام ہی کروانا تھا ۔ مجھ سے نہیں ہوتا کام وام” منال نے منہ بسور کر کہا ۔
” تو یہ کوئی بڑی بات تو نہیں ہے کام کرنا اچھی بات ہے ۔ ہر لڑکی کو گھر کے کام آنے چاہیے ۔ ” فرح پھر سے اسے سمجھانے لگی تھی ۔
” او ہو مجھ سے نہیں ہوتی چھوڑو ۔ تاکی ۔ ” سر دائیں بائیں مارتی وہ ایسے بولی جیسے پہاڑ توڑنے کو کہا گیا ہو ۔
فرح پھر سے اسکی ادا پر ہنس دی ۔
” جب شادی ہوگی تو تب تو کام کرو گی نا ۔ ” فرح نے ابکی بار جتایا تھا ۔
” نہیں تب بھی نہیں۔ میں ایک بہت ہی امیر انسان سے شادی کروں گی جیسے ناول میں ہوتے ہیں ۔ نوکر چاکر میرے آگے پیچھے ہونگے ۔ وہ میرا ہیرو جیسا شوہر مجھ ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھے گا ۔ مجھ سے بلکل بھی کام نہیں کروائے گا ۔ ” منال کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی جیسے وہ امیر ہیرو جیسا شوہر سامنے ہی بیٹھا اسے ڈائمڈ رنگ دے کر پرپوز کر رہا ہو ۔
” کیا ناولز والے ہیرو اصل میں بھی ہوتے ہیں۔ ” فرح ہنسی چھپاتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
” ہاں نا ہوتے ہیں ۔ ہینڈسم ۔ امیر کبیر ۔ بزنس مین ہوتے ہیں نا ۔آپ نے کبھی نہیں دیکھے ۔ ” منال کی وضاحت پر فرح کے زہن میں ایک چہرا ابھرا ۔
شہوار شاہ کا چہرا ۔
وہ خوبرو مرد بلکل کسی شہزادے جیسا تھا ۔
اسکا مزدوروں سے اخلاق کمال تھا
منال کے اسکے سامنے ہاتھ جھلانے سے وہ چونکی پھر نا محسوس طریقے سے کھنکھار کر دل ہی دل میں دعا کی ۔
” یا اللہ میرے دل میں نا محرم کا خیال مت ڈالنا ۔ اسے بھٹکنے سے روکنا ۔ یا اللہ میرے خیالات کو ہمیشہ پاک رکھنا ۔”
اس نے منال کو دیکھا جو کال آنے پر موبائل پر لگ گئی تھی ۔ کال اسکی بیسٹی کرن کی تھی ۔ فرسٹ ایئر میں دونوں کی دوستی ہوئی تھی اور تب سے ایک دوسرے کی سگی بن گئیں تھیں ۔
منال اپنی ہر بات اس سے بانٹتی تھی ۔
ہر اچھی بری
چھوٹی بڑی بات ۔
فرح یاسیست سے مسکرادی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے
No comments yet
Be the first to comment.
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
