Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

بہار پیلس پر ایک نئی صبح چڑھ چکی تھی ۔
روعان اور حدید کے مشترکہ کمرے میں آو تو روعان باتھ روم سے نہا کر نکلا تھا ۔
حدید زخمی بیچارا بیڈ پر پڑا تھا ۔
” چل اٹھ جا یونی نہیں جانا ” تولیے سے بال سکھاتے ہوئے روعان نے کہا ۔
” میں ایسی حالت میں یونی جاوں گا ۔ تیرا دماغ تو تھیک ہے ” حدید برا سا منہ بنا کر بولا ۔
” ایک چھوٹا سا زخم ہی تو ہے ۔ چل اٹھ جا ڈرامے نا کر ” روعان اسکے پاس بیڈ پر آکر کھڑا ہوا اور حدید کی زخم والی جگہ پر گدگدی سی کی ۔
” جانی نا کر ۔ بہت درد ہو رہا ہے ” روعان کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے حدید بڑبڑایا ۔
اسکا موڈ اف لگ رہا تھا ۔
” مجھے پتا تجھے اس چوٹ کا درد نہیں ہو رہا ۔ تو مہکشاں کی وجہ سے پریشان ہے ۔ اس لیے کہہ رہا ہوں یونی چلتے ہیں ۔ مہکشاں کو دیکھ لو گے تو اچھا محسوس کرو گے ۔ ” روعان نے حدید کا کاندھا تھپکتے ہوئے کہا ۔
” کیا واقعی میرا درد اسے دیکھ کر تھیک ہو جائے گا ” حدید نے روعان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے رجسس سے پوچھا ۔
” ہاں ہوتا تو ایسا ہی ہے ۔ جو انسان اچھا لگتا ہو اسے دیکھ کر بھی اچھا لگتا ہے ۔ ” روعان نے کندھے اچکاکر کہا ۔
” مہکشاں مجھے اچھی تھوڑی لگتی ہے ” حدید اسکی بات سن کر منہ لٹکاتے ہوئے بولا ۔
اس سے پہلے روعان کچھ اگر مگر کرتا وہ خود ہی بول پڑا
” وہ تو مجھے بہت اچھی لگتی ہے ۔ بلکہ وہی تو اچھی لگتی ہے ” حدید جزباتی انداز میں سانس لیکر بولا ۔ اسکی نظریں خلا میں تھیں جیسے مہکشاں کا چہرا سامنے ہی ہو ۔
” آخری اطلاع کے مطابق تجھے کچھ عرصہ پہلے تک ہر لڑکی اچھی لگتی تھی ۔ بلکہ وہ ہی لڑکی اچھی لگتی تھی ” روعان نے اسکا کاندھا جھنھوڑ کر اسے مہکشاں کے تصور سے نکالا ۔
” یار جانی دلبر جانی تو اچھی طرح جانتا ہے میرے مہکشاں کے لیے جزبات کیا ہیں ۔ اگر وہ کوئی عام لڑکی ہوتی نا یا تو تجھے پتا اسے دیکھتے ہی آئی لو یو بول دیتا ۔ اور میں ایسا کئی لڑکیوں کے ساتھ کر بھی چکا ہوں ۔ جسٹ ایز آ فلرنٹنگ ۔ مگر مہکشاں کے سامنے شروع میں جب بھی جاتا تھا منہ سے کچھ نکلتا ہی نہیں تھا ۔ تجھے یاد ہے نا میں نے تو پلین بھی بنا لیا تھا اسے بھاں کے ولیمے والے دن پرپوز کرنے کا مگر ۔۔۔۔ ” حدید نے روعان کی طرف دیکھا اور پچھلی باتیں چھیڑتے ہوئے بولا ۔
” ہاں ہاں مجھے پتا ہے تجھے اس سے سچی والی محبت ہے پر تو اس سے کہتا کیوں نہیں ہے ۔ تو کھل کر بات کیوں نہیں کرتا ۔ ” روعان نے بے چینی سے سوال کیا ۔
” تو تو کون سا کرتا ہے ۔ ” حدید نے الٹا اس سے ہی ٹوک دیا ۔
” میں کیا نہیں کرتا ہوں ” روعان نے الجھن سے اسکی طرف دیکھا ۔
” اس موٹو منال سے بات ۔ تو اسے پسند کرتا ہے ۔ شاید محبت بھی کرتا ہے مگر اسے بتاتا ہی نہیں ہے ” حدید نے آبرو اچکا کر اسے دیکھا تھا
” ٹائم دیکھ کتنا ہو گیا ۔ تو کن باتوں میں لگ گیا ۔ چل اٹھ جا یونی سے لیٹ ہو جائیں گے ۔ ” روعان فورا اٹھتے ہوئے گڑبڑاتے ہوئے بولا تھا ۔
حدید بھی لب بھینچتا کھڑا ہونے لگا ۔
اسنے یہ نہیں دیکھا کہ اسکی بات پر روعان کے چہرے پر سایہ سا لہرایا تھا ۔
کچھ تھا جس نے روعان کو اداس کیا تھا ۔
روعان نے حدید کے بازو میں ہاتھ ڈال لیا تاکہ اسے اٹھنے میں سہارا دے سکے ۔
وہ دونوں رات گھر واپس آئے تھے
بہار جان یا کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا
بہار جان ویسے بھی بیمار رہنے لگی تھیں ۔
وہ زیادہ تر کمرے میں ہی رہتی تھیں ۔
حدید کے دوا لے کر سو جانے کے بعد روعان کچھ دیر بہار جان کے پاس انکے کمرے میں چلا گیا تھا ۔
بہار جان بیڈ پر نیم دراز لیٹی تھیں ۔
روعان انکے دائیں طرف بیٹھ گیا ۔
” میں آپ کا سر دبا دیتا ہوں بہار جان ” کہتے ہوئے روعان نے انکا سر دبانا شروع کر دیا ۔
” بہت شکریہ میری جان ۔ اللہ تمھارے ہاتھ ہمیشہ سلامت رکھے ۔ ” بہار جان نے دعائیہ انداز میں کہا ۔
روعان جب بھی انکا سر دباتا تھا انہیں بہت سکون ملتا تھا ۔
” آپ پریشان ہیں بہار جان ” روعان نے اندازہ لگایا۔
” ہاں روعان جان ۔ ہم آج کچھ پریشان ہیں ۔ ویسے تو آپ سب کی فکر ہمیشہ ہی لگی رہتی ہے مگر آج دل عجیب سے انداز میں گھبرا رہا ہے ۔ ہم تو ہر وقت اللہ سے یہی دعا کر رہے ہیں کوئی بڑی گھڑی نا آئے ۔ ” بہار جان نے اپنے خدشات ظاہر کیے ۔
” کچھ نہیں ہوگا بہار جان ۔ آپ پریشان مت ہوں ۔ ” روعان نے انکو تسلی آمیز لہجے میں کہا ۔
” ہم اب بیمار رہنے لگے ہیں ۔ ہماری اب نا جانے کتنی زندگی باقی ۔۔۔۔ ” بہار جان کے الفاظ منہ میں ہی تھے جب کمرے میں فرح داخل ہوئی
” آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں ۔ اللہ آپکا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رکھے ۔ ” فرح ٹوکنے والے انداز میں بولی تھی ۔
اسے معلوم نہیں تھا وہاں روعان موجود ہوگا ۔
وہ کھلے چہرے کے ساتھ کمرے میں آگئی تھی اور روعان کو بیٹھا دیکھ کر گڑبڑا گئی مگر اگلے ہی لمحے اسنے بڑے سکون سے اپنے چہرے پر ڈوبتا نقاب صورت اوڑھ لیا ۔
” تم آنکھیں کھول سکتے ہو ۔” فرح بے تاثر آواز میں روعان سے مخاطب ہوئی تو اسنے اپنی آنکھیں کھول لیں ۔
شہوار نے جب سے ان دونوں کو فرح سے پردہ رکھنے کا کہا تھا روعان اس بات پر ہمیشہ دل سے عمل کرتا تھا ۔ بھاں کی کوئی بات وہ ٹال دے ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔
” بی جان میں آپ کو دوا دینے آئی تھی ۔ ” فرح نے آنے کا مقصد بتایا ۔
” روعان جان نے ہمیں دوا کھلا دی ہے ۔ روعان بیٹھے ہیں ہمارے پاس ۔ آپ شہوار کے پاس کمرے میں جائیں ۔” بہار جان نے مدھم سا مسکراکر کہا تو فرح کے چہرے پر بے چینی پھیلی ۔
” مگر شہوار تو ابھی گھر نہیں آئے ۔ انکا میسج آیا تھا کسی ضروری کام سے لاہور جا رہے ہیں ۔ شاید دیر رات تک آئیں ۔ ” فرح نے اطلاع دیتے ہوئے بتایا ۔
” اچھا تھیک ہے ۔ آپ چاہیں تو یہاں ہمارے پاس بیٹھ جائیں ۔ روعان جان اپنے کمرے میں چلے جاتے ہیں ۔ ” بہار جان نے فرح سے کہا ۔ وہ جانتی تھیں روعان کی موجودگی میں وہ غیر آرام دہ ہو گی ۔
” میں تھیک ہوں ۔ ” فرح نے کہا اور بہار جان کی ٹانگوں کی طرف بیٹھ گئی ۔
نا محسوس طریقے سے اسنے اپنا ایک ہاتھ پیٹ پر رکھ لیا ۔
وہ بچے کی خبر سب سے پہلے شہوار کو دینا چاہتی تھی ۔
مگر شہوار ابھی تک گھر نہیں آیا تھا ۔
فرح بیٹھ گئی تو روعان اٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔
” ہماری بس اتنی سی خواہش ہے کہ اپنے باقی پوتوں کی بھی شادیاں دیکھ لیں ۔ اللہ مجھے اتنی زندگی دے دے ۔ ” بہار جان نے روعان کی طرف دیکھتے ہوئے بہت آرمان سے کہا تھا ۔
” انشاءاللہ ۔ ہم مل کر سب کی شادیاں بھی کریں گے ” فرح نے خوش دلی سے کہا تھا ۔
” ابھی تو ہمیں آپ کے اور شہوار جان کی اولاد کو گود میں کھلانے کی خواہش ہے ۔ ” بہار جان نے فرح کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
فرح کچھ بولی نہیں مگر نقاب کے اندر سے اسکا چہرا سرخ ہوا تھا ۔
” انشاءاللہ بی جان ۔ انشاءاللہ ۔” چند لمحوں بعد وہ گلا کھناکارتے ہوئے بولی ۔
” بی جان کیا آپ نے کوئی رشتہ دیکھ رکھا ہے کسی کے لیے ۔ ” فرح نے خیال آنے پر پوچھا ۔
” رشتہ دیکھ تو نہیں رکھا ہم نے مگر طے ضرور کر رکھا تھا ۔ یوں سمجھیے شہوار کی ماں ثمریں شاہ کی یہ خواہش تھی کہ وہ اپنے بھائی کی بیٹی کو اپنی بہو بنائیں گیں ۔ لیکن وہ کبھی یہ بات اپنے بھائی سے کہہ نہیں پائیں تھیں ۔ کسی مسئلے کی بنا پر انکی بھائی بھابی سے بول چال بند تھی ۔ شہوار کے بابا شاز عالم کو ثمرین کے بھائی پسند نہیں تھے ۔ ثمرین اکثر کہتی تھیں کہ انکی بہت خواہش ہے بھائی کی بیٹی کو اپنی بہو بنانے کا مگر شاز عالم کی وجہ سے وہ خاموش رہتی تھیں ۔ ” بہار جان نے یاد کرتے ہوئے پرانی بات کا زکر کیا ۔
” اگر آج ثمرین آنٹی زندہ ہوتیں تو وہ شہوار کی شادی اپنی بھتیجی سے کرتیں۔ ” انکی باتوں سے فرح نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا ۔
” نہیں ۔ ثمرین اپنی بھتیجی کو سلار کے لیے چاہتی تھیں ۔ ” بہار جان نے فرغ کی تصحیح کی تھی ۔
فرح کو یک دم سکون سا ملا تھا ۔
” تو آپ چاہتی ہیں کہ انکی یہ خواہش پوری ہو ۔” کچھ سوچ کر فرح نے دریافت کیا ۔
” ہاں ہم چاہتے تو ہیں مگر آخر یہ ممکن کیسے ہوگا ۔ نا سلار راضی ہونگے اور نا ہمیں یہ معلوم کہ ثمرین شاہ کے بھائی بھتیجی اس وقت کہاں ہیں ۔ آخری بار جب ہم نے دیکھا تھا تو ثمرین کی بھتیجی چار سال کی تھی ۔ ثمرین کے بھائی کے مالی حالات کچھ خراب تھے ۔ وہ اس روز اپنی بہن سے اسی سلسلے میں بات کر رہے تھے ۔ ثمرین کے بھائی خودار انسان تھے ۔ وہ کوئی مالی مدد نہیں مانگ رہے تھے بلکہ بہن سے محض زکر کر رہے تھے ۔ شاز عالم نے انکی باتیں سن لیں اور اس روز ثمرین شاہ کے بھائی کو بہت سنا دیں ۔ ثمرین پر بھی پابندی لگادی کہ وہ اپنے بھائی سے نا ملے ورنہ وہ اسے چھوڑ دیں گے ۔ ہم نے بعد میں شاز عالم کو بہت سمجھایا کہ وہ اپنا رویہ درست کرے مگر وہ راضی نا ہوئے ۔ اس دن کے بعد ہم نے ثمرین شاہ کے بھائی کو نہیں دیکھا ۔” بہار جان نے اس دفعہ تفصیلآ زکر کیا ۔
” اگر سالار کی قسمت میں ہوگا تو ثمرین آنٹی کی خواہش ضرور پوری ہوگی ۔ ” فرح نے آگے بڑھ کر انکا ہاتھ تھاما اور تھپاتھپاتے ہوئے بولی ۔
بہار جان نے محض سر اثبات میں ہلا دیا۔
فرح مزید کچھ دیر انکے پاس بیٹھی پھر بہار جان سو گئیں تو فرح بھی کمرے میں آ گئی ۔
کمرے میں آکر اسنے شہوار کو کال ملائی ۔
نمبر بند جا رہا تھا ۔
اسنے مزید کچھ بار کالز کیں مگر ہر بار شہوار کا نمبر بند ملا ۔
ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ۔
فرح کا دل پریشان سا ہونے لگا ۔
رات کے دس بج رہے تھے ۔ شہوار شہر میں بھی نہیں تھا اور فون بھی بند جا رہا تھا ۔
فرح کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی ۔
اسنے وضو کیا اور دو نفل نماز ادا کی ۔
پھر جائے نماز پر ہی بیٹھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ۔
” یااللہ تو دلوں کے حال سے سب سے بہتر واقف ہے ۔ تو میرے دل کے حال سے بھی واقف ۔ میرے دل کا حال اچھا کردے ۔ اللہ میرے دل میں عجیب وسوسے اٹھ رہیں ہیں ۔ میرے دل کو ان سے پاک کردے ” فرح اپنے رب سے باتیں کرنے میں مشغول ہو گئی ۔
کچھ دیر بعد اسکا فون بجنے لگا ۔
اسنے تیزی سے فون اٹھایا یہ سوچ کر کہ شہوار کا ہوگا مگر سکرین پر ٹریسا کا نام جگمگا رہا تھا ۔
اسکے تاثرات یک دم پھیکے پڑ گئے
پھر اسنے کال اٹھالی ۔
” میں نے دسٹرب تو نہیں کیا تمہیں اس وقت ” ٹریسا نے معزرت خوا لہجے میں پوچھا ۔
” نہیں بلکل نہیں ۔ بتاو کیوں کال کی تھی ” فرح نے استفار کیا ۔
” ابھی کچھ دیر پہلے میں نے عشاء کی اذان کے بعد سجدہ کیا تھا ۔ یہ میرا اب معمول بن چکا ہے ۔ مگر میرا دل مزید طلب کر رہا ہے ۔ ایک کیریوسٹی سی ہے مزید جاننے کی ۔ ہماری کچھ دنوں سے بات نہیں ہوئی تو ادھورا ادھورا سا لگ رہا ہے ۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کچھ رہ گیا ہو ۔ نا مکمل سا ۔ تمھاری باتیں جو تم اسلام کے بارے میں بتاتی ہو انہیں سن کر بہت اچھا لگتا ہے ۔ سکون بھی ملتا ہے ۔ کیا اگر تم کل فرح ہو تو میں کچھ دیر کے لیے تمھارے سکول آ جاوں ” ٹریسا نے اپنے دل کی کیفیت بیان کرتے ہوئے اس سے پوچھا تھا ۔
” کل تم میرے گھر آ جاو ۔ دراصل میں کل سکول نہیں جا رہی ۔ ” فرح نے اسے پیشکش کی ۔
دوسری جانب سے کچھ دیر بعد ٹریسا کا جواب آیا ۔
” تھیک ہے ۔ میں آفس کے ہاف ٹائم میں تمھارے گھر آوں گی ۔ “
اسکے بعد مزید کچھ باتیں کر کے فرح نے فون بند کر دیا ۔
اسے پھر سے شہوار کی فکر لگ گئی ۔
وہ رات فرح کی اسی فکر میں گزری
مگر وہ پہلی رات نہیں تھی جو پریشانی میں گزرنی تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
یونیورسٹی گیٹ سے سٹوڈنٹس اندر داخل ہو رہے تھے ۔
منال دو منٹ پہلے ہی اندر آئی تھی اور گیٹ کے پاس ہی کھڑی ہو گئی ۔
جب اسنے دیکھا کہ گیٹ سے روعان اندر آرہا ہے
اسکے ساتھ حدید بھی ہے مگر وہ اسکا ساتھ نہیں بلکہ اسکی کمر پر چڑھا ہوا ہے ۔
حدید روعان کی کمر پر سوار تھا اور اپنے بازوں اسکے گلے کے گرد حائل کر رکھے تھے ۔
” تمہیں شرم نہیں آتی اتنے بڑے ہو کر اپنے دوست پر چڑھے ہوئے ہو ” وہ دونوں منال کے قریب آئے تو اسنے دونوں بازو پہلووں پر سجا کر پوچھا ۔
” شرم تو ہم کو مگر آتی نہیں ہے ۔ اور ویسے بھی موٹی بلی یہ میرا دوست ہے ۔ میں صرف اسکی کمر پر ہی نہیں چڑھتا اسکی گود میں بھی چڑھ کر بیٹھ جاتا ہوں بلکہ سر پر بھی چڑھ جاتا ہوں ۔ کوئی پروبلم تمہیں ۔ ” روعان کی کمر پر سے اترتے ہوئے حدید منال کو جواب دیتا منہ چڑھا کر بولا تھا ۔
” سر پر چڑھ جاتے ہو ۔ بندر بننے کا بہت شوق ہے ” منال نے بھی مزے سے طنز کیا ۔
” تم نے مجھے بندر کہا ۔ ” حدید نے منال کو گھور کر دیکھا ۔
” ہاں کیونکہ تم ہی سر پر چڑھے ہوئے ہو ۔ او ہاں ۔ میں اپنے ناول میں تمھارا نام بندر ڈال دیتی ہوں ۔ ” منال چٹکی بجاتے ہوئے بولی ۔
” سو فنی ۔ تمھارا ناول پہنچا کہاں تک ویسے ” منہ بگاڑ کر کہتے حدید نے اس سے پوچھا
” کہاں تک پہنچے گا ۔ ابھی ایک ایپی لکھی وہ بھی چار لوگوں نے پڑھی ۔ آگلی لکھنے کے لیے کچھ مل نہیں رہا ۔ ہیرو ہیروئین کے درمیان کچھ ہو ہی نہیں رہا ۔ ” وہ منہ لٹاکر اپنی دھن میں بولتی گئی جبکہ آخری جملہ پر جہاں روعان نے اسکی طرف چونک کر دیکھا تھا وہاں حدید نے روعان کی طرف دونوں آبرو نچا کر تنگ کرنے والے انداز میں دیکھا ۔
” تم کیا چاہتی ہو ہیرو ہیروئین کے درمیان کیا ہو ۔” حدید نے مسکراہت دباتے معنی خیز انداز میں پوچھا
” مطلب کہ محبت ہو ۔ اور کیا ہونا ہے ” منال نے واضح کیا ۔
” تو یعنی تم چاہتی ہو کہ روعان تمھارے ناول کا ہیرو ہے تو وہ تمھارے ناول کی خاطر تم سے محبت کرے ” حدید نے آبرو اچکاکر تجسس سے پوچھا
” ہاں نا ۔ ” منال کے منہ سے نکلا مگر اگلے لمحے وہ بات پلٹنے کو بولی ۔
” میرا مطلب سچ میں محبت نا کرے ۔ بس ایکٹنگ کر لے جب تک میرا ناول پورا نہیں ہو جاتا ۔ “
اسکی بات سن کر حدید نے زور دار قہقہہ لگایا تو اسکا زخم دکھنے لگا ۔
حدید کے چہرے پر تکلیف ابھری تو منال نے نوٹ کر لی ۔
” تمہیں چوٹ لگی ہے کیا ۔ ” منال نے پوچھا ۔
” ہاں ایکچولی وہ کل ” جوابا روعان نے کل مہکشاں کے گھر ہونے والے واقع کے بابت سب بتا دیا
” اوہ ۔ مہکشاں تھیک تو ہے ۔ ” منال نے سب سن کر فکر مندی سے پوچھا ۔
” نہیں ۔ ” جواب حدید نے دیا تھا ۔ اسکے تاثرات یک دم سنجیدہ ہو گئے تھے ۔
” کیا ہوا اسے ۔ ” منال نے حیرت سے پوچھا ۔
” آج مل کر پوچھوں گا اس سے ۔ ” حدید نے کھوئے کھوئے سے انداز میں کہا ۔
منال کو اسکی بات سمجھ نہیں لگی مگر زہن میں ایک خیال آیا ۔
” ہیرو کا دوست ہیرو بننے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی ہیروئین کو اسکے گھر میں گنڈوں سے بچانے جاتا ہے لیکن وہ ہیرو نہیں ہے تو گنڈے کے ہاتھوں زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ جاتا ہے ” بیگ سے ڈائری نکال کر اس پر لکھتے وہ اونچی آواز میں بولی تو حدید نے اسے کڑے تیوروں سے دیکھا ۔
” تم یہ سب بھی لکھو گی اپنے ناول میں “
” ہاں وہ سب کچھ جو ناول کے کرداروں کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ لیکن دیکھو نا سب کے ساتھ کچھ نا کچھ ہو رہا بس ہیرو ہیروئین کے ساتھ کچھ نہیں ہو رہا ۔ فرح آپی کی تمھارے بھائی سے شادی ہو گئی ۔ ٹریسا کی پروموشن ہو گئی ۔ مہکشاں کے گھر پر بھی غنڈے آ گئے ۔ بس نہیں ہو رہا کچھ تو ۔۔۔۔۔۔” وہ بول رہی تھی جب حدید نے اسے درمیان میں روکا ۔
” ارے بس بس ۔ ٹینشن کیوں لے رہی ہو ۔ اب سے میں حدید حیدر اعلان کرتا ہوں موٹو منال اور میرا رونی جانی ایک دوسرے کے آفیشل پریمی ہیں ۔ سچی والے نہیں ایکٹنگ والے ۔ اب تم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرو ۔ ڈیٹ کرو ۔ موجے مارو مزے کرو مگر صرف ایکٹنگ والا سچی والا نہیں ۔ ” دونوں ہاتھ اٹھا کر حدید نے جیسے قاضی کے فرائض انجان دیے تھے ۔
” چل روعان اپنی ہیروئیں مطلب ناول کی ہیروئین کو آئی لو یو بول اور اسے لینچ پر لے کر جا ” روعان کے کندھے پر تھپکتے ہوئے حدید نے حکم دیا تو روعان نے اسے گھورا ۔
حدید کی باتیں سن کر منال کے دل میں عجیب سی گدگدی ہونے لگی تھی ۔ وہ جو روعان کے لیے دل میں جزبات رکھنے لگی تھی آج یہ خواہش اٹھی کہ روعان بھی اسکے لیے محبت کے جزبات رکھے ۔ سچے والے اداکاری والے نہیں ۔
” جانی شرما مت ۔ اٹس این ایکٹنگ ۔ چل بول دے جلدی سے آئی لو یو ۔ نہیں تو میں بول دوں ۔” حدید مسلسل اسے زور دے رہا تھا ۔
روعان کچھ دیر کشمکش میں اپنی انگلیاں مڑورتا رہا ۔
” اف نکھڑے نا کر ۔ کونسا اصل میں بولنا ۔ جھوٹ کا بولنا ہے ” حدید کو روعان کی خاموشی سے کوفت ہوئی ۔
” جب روعان تمہیں آئی لو یو بولے تو تم اولڈ ہیروئینز کی طرح شرماتی ہوئی اپنا ڈوبتہ کھاتے ہوئے یہاں سے بھاگ جانا ۔ مگر تمھارے پاس ڈوبتہ نہیں ہے تو یہ ٹشو ہی کھا لینا ” وہ منال کو سمجھاتے ہوئے بلکل کسی ڈائریکٹر کی طرح بولا ۔
” میرے ایکشن کہنے پر ۔ لائٹس کیمرہ ایکشن ۔” جیسے ہی حدید نے اپنا ہاتھ نیچے کیا اگلے ہی لمحے روعان بول پڑا ۔
” آئی لو یو “
اور منال کو لگا جیسے ہوائیں رکی تھیں
سانسیں تھمی تھیں
وقت کی گھڑیوں نے ان تین لفظوں کو مقید کیا تھا ۔
وہ سچ نہیں تھے مگر منال کو سچ لگے تھے ۔ بس وہی تو اچھے لگے تھے ۔
حدید نے اسے اشارہ کیا تو وہ اپنے دل پر قابو پاتی بولی ۔
” آئی لو یو ٹو ۔ “
اور روعان کو محسوس ہوا جیسے ڈھرکن مدھم ہوئی ہو ۔
رگوں میں خون کی گردش تیز ہوئی ہو ۔
“کٹ کٹ ! تمہیں تو شرما کر بھاگنا تھا ۔ آئی لو یو ٹو نہیں بولنا تھا ۔ “
منال اور روعان دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ دونوں ایک فسوں میں قید تھے ۔
ایک حصار سا تھا جسے حدید نے توڑا تھا ۔
” میں پرانے زمانے کی نہیں آج کی ہیروئین ہوں ۔ میں تو سامنے ہی آئی لو یو ٹو بولوں گی ۔ ” منال نے حدید سے ہاتھ جھلا کر کہا ۔
” تھیک ہے مرضی تمھاری ۔ اب یہ تو ہو گیا اہک سین تمھارے ناول کے لیے ۔ اگلے سین میں ہیرو یعنی روعان تمہیں یعنی ہیروئین کو لنچ پر لیکر جائے گا ۔ تھیک ہے کل تیار رہنا ۔ ” حدید نے اگلا لائحہ عمل بناتے ہوئے کہا ۔
” آئی ول ” دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بناتی وہ پر جوشی سے کہتی اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئی ۔
” یہ سب کیا تھا ” منال کے جانے کے بعد روعان نے اسے پوچھا ۔
” ارے تیری لو سٹوری بنا رہا ہوں ۔ ابھی تو نے سچی والا آئی لو یو کہا اور اسنے ایکٹنک والا ۔
ایسے ہی کرتے کرتے ایک دن وہ بھی تجھے سچی والا آئی لو یو بولے گی ۔ ایکٹنگ کرتے کرتے اسے بھی تجھ سے محبت ہو جائے گی ۔” حدید نے روعان کے کاندھے پر بازو حمائل کر لیا اور ایک آنکھ دبا کر بولا ۔
” اب آگے تیرا کام ہے ۔ میں نے تو اپنا کام کر دیا ۔ ” حدید نے ہاتھ اٹھا کر اپنے فرض کے پورے ہونے کی تصدیق کی
روعان نے محض ایک گہری سانس بھری ۔
وہ کلاس میں آکر بیٹھ گئی مگر کہیں اور ہی کھوئی ہوئی تھی ۔
” آئی لو یو ” روعان کی آواز اسکے کانوں میں زہن میں لاشعور میں یہاں تک کہ دل میں بھی سنائی دے رہی تھی ۔
وہ زیر لب ان لفظوں کو ہلکا سا بڑبڑاتی تو ایک ہارٹ بیٹ مس ہوتی ۔
آج روعان کا آئی لو یو ایکٹنگ والا تھا مگر اسکا دل کہتا تھا ایک دن روعان اس سے سچی والا آئی لو یو بولے گا ۔
یہ سوچ کر ہی منال کے دل میں پھول کھلنے لگے ۔
وہ بے صبری سے ہیرو کی طرف سے ہیروئین کو پیش کیے جانے والے لینچ کا انتظار کرنے لگی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
ماڈلنگ سٹوڈیو میں روز کے کام جاری تھے ۔
وہی سٹوڈیو جہاں پریشال آئی تھی بولڈ فوٹو شوٹ کے لیے ۔
ماڈلز اپنا میک آپ کرواکر شوٹ کرواتی جا رہی تھیں ۔
ارم سب کاموں کا جائزہ لے رہی تھی
اسکے ہاتھ میں ایک فائل تھی جسے لیکر وہ شوٹ کے کام سے فارغ ہو کر ہاشم لغاری کے آفس میں داخل ہوئی ۔
” یہ کچھ نئی لڑکیاں ہیں جو ہمارے جال میں پھنس چکی ہیں ۔ اب ان کو بلیک میل کر کے ہم پیسے نکلوا سکتے ہیں ” کرسی کھینچ کر اسپر بیٹھتے ہوئے بولی ۔
ہاشم لغاری نے محض ہوں میں جواب دیا ۔
یہ بات اسکے معمول کا حصہ تھی ۔
” اس لڑکی کو کب تک رکھنا ہے ۔ ” کچھ دیر بعد ارم نے سوال کیا ۔
” جب تک اسکا خریدار واپس نہیں آ جاتا ۔ دیھان رکھنا وہ بھاگنے نا پائے ۔ وہ لڑکی ہمیں بھاری رقم دلوا سکتی ہے ۔ جس آدمی نے اسکی ڈیمانڈ کی تھی وہ ملک سے باہر ہے ۔ کچھ دن میں واپس آئے گا تو ہم ڈیل فائنل کریں گے ۔ ” ہاشم لغاری نے اطلاعا کہا ۔
” یہ تو اچھا ہوا کہ ہم نے پہلے ہی اپنے آدمی اس کے گھر کے آس پاس لگا دیے تھے ۔ مجھے یقین تھا کہ ایک دن وہ اپنے گھر ضرور آئے گی اس دن ہمارے آدمیوں نے کسی کو پتا لگنے سے پہلے ہی اس لڑکی کو وہاں سے کیڈنیپ کر لیا ۔ ” ارم نے منصوبے کا زکر کرتے ہوئے کہا۔
پھر وہ مزید کچھ دیر ہاشم لغاری سے باتیں کرتی رہی ۔۔۔۔۔
وہ بلکل ایک بند کمرہ تھا ۔۔
روشنی کا واحد زریعہ اوننچائی پر لگا ایک روشن دان تھا ۔
ہوا بھی کم
گھٹن زدہ ماحول
خاموشی
تنہائی
محض زنجیروں کی چھنکار
اور زنجیروں سے بندھی وہ زی نفس
جو مدھم سی روشنی میں بہت مرجھائی سی معلوم ہو رہی تھی ۔
اندھیرے میں اندھیرا بنی ہوئی
سیاہ رنگ کو چاہنے والی آج اسی کی وحشت اور ویرانی سے خوف کھاتی ہوئی ۔
ایک آسان قید سے نکل کر مشکل قید میں پھنسی ہوئی
وہ پریشال ابراہیم تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے ۔