Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

شہر پر ایک مصروف صبح اتر چکی تھی ۔
ہر زی نفس رزق کی تلاش میں نکل چکا تھا ۔
نیکو کار دن میں رزق کو تلاش کریں گے اور رات کو رزق دینے والے کو تلاش کریں گے ۔
بد کار رزق تو پائیں گے مگر دینے والے سے غافل رہ جائیں گے ۔۔
سوسائٹی میں شان سے کھڑے سرمائی رنگ کے مختلف شیڈز کا امتجاز لیے بہار پیلس میں بھی روز مرہ کی مصروفیت شروع ہو چکی تھی ۔
ہر روز کی طرح آج بھی ناشتے کی میز پر سب موجود تھے سوائے سلار کے ۔
وہ اپنے کمرے سے ہی باہر نہیں نکلا تھا ۔
ناشتہ کرتے ہوئے بہار جان اسی کے بارے میں سوچ رہی تھیں ۔
وہ اپنے دل کو مکمل یقین دلا چکی تھیں کہ فرح کی دعا سلار کے حق میں ضرور پوری ہو گی۔ فرح کا خیال آنے پر انہوں نے شہوار کی طرف دیکھا ۔
وہ ناشتہ مکمل کر کے اب جوس کا گلاس اٹھا رہا تھا ۔
” ہم آج جائیں گے آپکا رشتہ لیکر شہوار بیٹا ” بہار جان نے اطلاع دی تو شہوار نے مسکرا کر انہیں دیکھا ۔
” سہی ! مگر بی جان میری ایک گزارش ہے اگر وہ لڑکی انکار کردے تو آپ اس پر زور نہہں ڈالیں گیں ۔ میں اپنی زندگی میں کسی کو اسکی مرضی کے بنا شامل نہیں کرنا چاہتا ۔ ” شہوار کرسی پر زرا سا بہار جان کی طرف گھوما اور اپنی بات رکھی ۔
بہار جان نے تسلی بھرے انداز میں سر اثبات میں ہلایا۔
” آپ فکر نا کریں ۔ “
” تھیک ہے چلتا ہوں ۔ خیال سے جائیے گا ” شہوار کرسی سے کھڑا ہوا اور بہار جان کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے آفس کے لیے نکل گیا ۔
شہوار کے جاتے ہی بہار جان بھی اٹھنے لگیں تھیں جب سلار کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔
وہ سیاہ رنگ کے ٹراوزر اور سیاہ ہی بغیر بازو اور کھلے گلے والی شرٹ میں ملبوس تھا ۔
گو کہ سینٹرل ہیٹنگ کے باعث بہار پیلس میں سردی کا زور بہت حد تک کم تھا مگر سلار کا حلیہ موسم سے بالکل اختلاف کھاتا تھا ۔
وہ چلتا ہوا ٹیبل تک آیا اور اپنی مخصوص آخری کرسی پر بیٹھا ۔
بہار جان اسے دیکھے جا رہیں تھیں جب سلار کی طرف سے ان پر ایک حیرت کا وار ہوا تھا ۔
” میں پیلس سے جا رہا ہوں ۔” کانٹے کی مدد سے آملیٹ کا ٹکڑا منہ میں رکھتے سلار نے عام سے انداز میں کہا ۔
بہار جان کو سمجھ نا آئی ان پر کون سا جزبہ زیادہ حاوی ہوا تھا ۔
خوشی کا کہ سلار نے اتنے عرصے بعد ان سے بات کی تھی ۔
یا پریشانی کا کہ سلار نے آخر یہ کیسی بات کی تھی
جبکہ روعان اور حدید نے ایک دوسرے کے ساتھ نظروں کا تبادلہ کیا تھا ۔
” یہ آپ کیا کہہ رہیں ہیں ” اپنی حیرت پر قابو پاتے بہار جان نے استفار کیا ۔
” میں پیلس سے جا رہا ہوں ۔ ” سر اٹھا کر بہار جان کی طرف دیکھتے ہوئے گزرشتہ جملہ دوبارہ دہرایا ۔
یوں جیسے پہلی بار کا کہا گیا سنا نا گیا ہو
” مگر کیوں ۔ کیا یہاں آپکو کوئی کمی ہے ۔ کیا یہاں کی دیواریں آپ پر تنگ پر گئیں ہیں ” بہار جان کی آنکھوں میں نمی سی اتری تھی ۔
آخر یہ کیسی دعا قبول ہو رہی تھی کہ سلار ان سے بات کر رہا تھا مگر بات کر رہا تھا دور جانے کی ۔
” کچھ عرصہ کے لیے فارم ہاوس میں شفٹ ہو رہا ہوں ۔ ” بہار جان کے سوالوں کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے سلار نے کرسی سے اٹھ کر کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
بہار جان نے گہری سانس لی ۔
یہ تو شکر تھا کہ سلار نے بتا دیا وہ فارم ہاوس میں رہے گا ۔
وہ اپنے کمرے میں چلی گئیں انہیں جانے کی تیاری کرنی تھی
آدھ گھنٹہ گزرا ہوگا جب بہار جان کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی ۔
انہوں نے دروازہ کھولا تو سامنے سلار کھڑا تھا ۔
وہ اب جینز اور ہوڈی میں ملبوس تھا ۔ ہوڈی کی کیپ سر پر تھی جس سے نکل کر بال ماتھے پر بکھرے تھے ۔
” میں جا رہا ہوں ۔ بس یہ بتانے آیا تھا ” سلار نے سرسری انداز میں اطلاع دی اور بہار جان کا کوئی جواب سنے بنا ہی لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا جبکہ بہار جان دروازے میں کھڑی اسکی پشت کو افسوس سے دیکجتی رہیں
مگر یہ تو تسلی تھی کہ کم ہی سہی سلار نے بات تو کرنا شروع کی
بے رخی سے ہی سہی مگر آج پہلی بار کسے بات کے مطعلق اطلاع تو دی تھی ۔
بہار جان نے ایک بار پھر خود کو یقین دلوایا سب تھیک ہو جائے گا انہیں صبر کرنے کی ضرورت تھی ۔
فلحال تو انکی پریشانی کی واحد وجہ سلار تھا مگر وہ اس بات سے انجان تھیں کہ وقت نے انکے باقی بیٹوں کے نصیب میں بھی دردناک دکھ لکھ رکھے تھے ۔
بہار پیلس میں مقیم افراد کی مسکراہٹوں پر قفل لگنے والے تھے ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
یونیورسٹی میں معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں ۔
پروفیسر کلاسز میں لیکچر دے رہے تھے ۔
سٹوڈنٹس جو علم کے حصول کے لیے آئے تھے لیکچرز پر توجہ دے رہے تھے
جو ٹائم پاس یا مزے کرنے آئے تھے بوریت سے پیچھے بیٹھے اپنی ہی دھنوں میں مشغول تھے ۔
جن کے لیکچر نہیں تھے یا جان بوجھ کر چھوڑا ہوا تھا کینٹین یا گڑاونڈ میں اپنا ڈیرا جما کر بیٹھے ہوئے تھے ۔
وہ بزنس ڈیپارٹمٹ کی بلڈنگ تھی ۔
فارٹھ ایئر کی کلاس سر زاہد شروع کر چکے تھے ۔
سر زاہد وائٹ بارڈ پر ہیڈنگ دے کر کلاس کی طرف پلٹے تھے کہ حدید کلاس میں داخل ہوا تھا ۔
وہ ہمیشہ کی طرح اپنے مخصوص شوخ حلیے میں تھا ۔
بینڈز
لاکٹ
اور آج تو بالوں کو درمیان سے قطار کی صورت پونیوں میں باندھ رکھا تھا ۔
” تمھارے ہوتے کچھ بنوں یا نا بنوں بے بی سیٹر ضرور بن جاوں گا ۔” یونی آنے سے پہلے روعان نے حدید کے بالوں کی پونیاں بنا کر آخر میں اسکے بال کھینچتے ہوئے کہا تھا ۔
” ڈارلنگ اسے بے بی سیٹر نہیں سٹائلسٹ کہتے ہیں ۔ ” حدید نے تصحیح کرتے ہوئے کہا ۔ وہ ہاتھ مار کر روعان کے بال بگاڑنا نہیں بھولا تھا ۔
حدید سر زاہد کو ہاتھ کے اشارے سے سلام کرتا روعان کے ساتھ آکر بیٹھا جو رجسٹر کھولے کچھ لکھ رہا تھا ۔
اسنے بد مزہ ہو کر روعان کا رجسٹر پکڑ کر بند کیا ۔
روعان نے کوفت سے اسے دیکھا ۔
” چلنے والے نِکل گئے ہیں
جو ٹھہرے ذرا، کُچل گئے ہیں “
سر زاہد نے حدید کی طرف دیکھتے ہوئے طنزیہ اقبال کا شعر پڑھا تو پوری کلاس میں ہلکی سے ہنسی گونجی ۔
ان کا اشارہ حدید اور روعان کا چار سال سے ایک ہی کلاس میں پڑے رہنے کی طرف تھا ۔
” مگر سر آپ تو بلکل تھیک کھڑے ہیں ۔ ” معصوم شکل بناتے ہوئے روعان نے جوابا جملہ کسا تو اس بار کلاس میں ہنسی زیادہ زور سے پھوٹی تھی ۔
” شٹ اپ ۔ ” سر زاہد لہجے کو زرا بھینچ کر بولے تھے ۔
سٹوڈنٹس کی ہنسی کو بریک لگی ۔
” تمہیں شرم نہیں آتی چار سال سے روز ایک ہی کلاس میں آتے ہوئے ” سر زاہد نے اب اگلا پتا پھینکا ۔ آج وہ حدید کو پوری کلاس کے سامنے زلیل کرنا چاہ رہے تھے ۔
” سر آپ بیس سال سے روز اس کلاس میں آ رہے ہیں آپکو بھی تو نہیں آتی ۔ ” ایک بار پھر حدید نے منہ پھٹ ہونے کا ثبوت دیا تھا ۔ اسکے ہونٹ بتیسی کہ صورت میں ڈھلے ہوئے تھے ۔
حدید کے جواب پر جہاں سر زاہد سیخ پا ہوئے وہیں کلاس میں قہقہوں کے فوارے چھوٹے ۔
” نون سینس ۔ بدتمیز ۔ ” سر زاہد پھنکارے تھے ۔
” میں دیکھتا ہوں تم اس بار سیمیسٹر کیسے کلیئر کرتے ہو ۔ ” وہ چبا چبا کر کہتے قسم کھاتے ہوئے بولے ۔
” اور دفع ہو جاو کلاس سے ۔ ” آخر میں باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈھارے تھے ۔
حدید مطمائن سا کرسی پر بیٹھا رہا ۔
وہ اٹھا اور اسی اطمینان سے چلتا ہوا سر زاہد تک آیا اور بالکل سامنے کھڑے ہوکر پیٹ پر ہاتھ رکھ کر آگے کی طرف شکریہ کے انداز میں جھکا ۔
” ویل ڈیٹ ول بی پلیئر فار آس ۔ میں سیمیسٹر کلیئر کرنا بھی نہیں چاہتا ۔ میرا ارادہ تو روعان اور ہم دونوں کے گرینڈ چائلڈز کے ساتھ یہاں سے اکھٹے ڈگڑی پاس کر کے جانے کا ہے ۔ اور تب تک میں روز بے شرمی سے آپکو اپنی شکل دکھاتا رہوں گا ہر روز ہر لمحے ہر منٹ یہاں تک کہ آپکے خوابوں میں بھی آکر تنگ کروں گا ۔ آپ تنگ آکر اپنی قسم توڑتے ہوئے مجھے پاس کریں گے لیکن میں آپکے ارادے پر پانی پھیر دوں گا ۔ آپ میرے آگے ہاتھ جوڑیں گے میری منتیں کریں گے تاکہ میں یونی سے پاس اوٹ ہو جاوں مگر میں کسی سائے کی طرح اس یونی کے ساتھ چمڑا رہوں گا ۔ یونی صدیوں تک حدید حیدر کو یاد رکھے گی ۔ ” وہ ایک ہی سانس میں بولتا گیا اور سر زاہد کو غصے میں لال پیلا چھوڑتا روعان کو گریبان سے پکڑتا باہر نکل گیا ۔
“الو کا پٹھا !” سر زاہد نے پیچھے سے غصے میں چلایا تو حدید مزے سے روعان کی طرف مڑا ۔
” تجھے الو کہہ رپیں ہیں سر ” دونوں ہاتھ جینز کی جیب میں ارس کر سیٹیاں مارتا ہوا نکل گیا ۔
جبکہ روعان سر زاہد کی طرف کھسیانی مسکراہٹ اچھال کر حدید کے پیچھے بھاگا ۔
حدید ڈیپارٹمٹ کی بلڈنگ سے باہر آیا تو اسکے قدم اور سیٹیاں ایک ساتھ رکیں ۔
تھم تو اسکی نظریں بھی گئیں تھیں
تھم تو وقت بھی گیا تھا ۔
سامنے پھولاں والی کھڑی تھی ۔
ہلکے جامنی رنگ کے کرتے ، سفید سویٹر اور سفید کیپری کے ساتھ بالوں کو فرینچ چوٹی میں گوندھے وہ سادہ اور پیاری سی لگ رہی تھی ۔
” ایکسز کیوزمی ” مہکشاں نے پاس آکر کہا مگر جواب نا آیا ۔
وہ کھوئے سے انداز میں اسے دیکھتا جا رہا تھا ۔
وہ اسکے سامنے تھی
یہ حقیقت تھی مگر حدید کو خواب لگ رہا تھا ۔
وہ پھولاں والی سے حادثاتی ٹکراو کے بعد اتنی مرتبہ اسے اپنے وہم و گمان اور خیالات میں ارد گرد دیکھ چکا تھا کہ اب بھی وہ خیال ہی گمان ہو رہی تھی ۔
” ایکس کیوزمی ۔ ” ابکی بار وہ حدید کے چہرے کے آگے ہاتھ ہلاتے ہوئے بولی تو حدید ہر بڑا کر سیدھا ہوا ۔
” ججج ۔ جی جی ۔۔ جی قبول ہے ۔ ” ہڑبراتے ہوئے منہ سے چند الفاظ نکالے تو مہکشاں نے عجیب نظروں سے اسے سر سے پاوں تک دیکھا ۔
پتا نہیں کیا بول رہا تھا ۔ وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی ۔
اسے کسی اور سے پوچھنا چاہیے ۔
یہ سوچ کر وہ آگے بڑھی ہی تھی جب حدید نے تیزی سے اسکا راستہ روکا
” آپ نے بتایا نہیں کیا کہہ رہی تھیں آپ ۔ “
” مجھے ایڈمیشن آفس جانا ہے ” مہکشان نے اپنا سوال رکھا ۔
” اور پھر اسکے بعد میرج ریجسٹریشن آفس بھی وہ بھی میرے ساتھ کیونکہ مجھے تم سے پیار کتنا یہ تم نہیں جانتی ۔ بن جا تو میری رانی میں تینوں محل دلوادوں گا ۔ مجھ سے شادی کرو گی ۔ رونی کی بھابھی بنو گی ۔ دیکھو ہمارے بچوں کی پڑھائی لیٹ ہو رہی ہے ۔ ابھی سر سے کہہ کر آیا ہوں وہ بھی یہاں ہی سے ڈگڑی لیں گے ہمارے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔! ” حدید ایک ہی سانس میں الٹا سیدھا بڑبڑاتا گیا جب اسکی بولتی کو یک دم بریک لگی ۔
” ایڈیٹ ” مہکشاں کی طرف سے ایک زور دار تھپر حدید کے گال پر رسید ہوا ۔ وہ رکے بغیر آگے بڑھتی گئی ۔
حدید اپنے گال کو پیار سے بار بار سہلاتے ہوئے مہکشاں کو جاتے دیکھتے رہا ۔
اسکے پیچبے روعان آکر کھڑا ہوا تو حدید اپنا سینہ پکڑتے ہوئے روعان کے اوپر ڈھ گیا ۔
” تیری بھابی ابھی چھو کر گئی ہے ۔ ہائےےےے !” خواب آور کیفیت میں کہتے وہ جیسے اپنی قسمت پر فخر کرتے ہوئے بولا تھا
” اسے تھپر کہتے ہیں اردو زبان میں ” روعان نے حدید کو آگے کی طرف دھکیلتے ہوئے تصحیح کی تھی ۔
” تیری بھابی ابھی سے بیوی کا رول پلے کر رہی ہے نا ” وہ بھی حدید تھا ڈھٹائی سے کاندھوں پر نادیدہ مٹی جاڑھتے ہوئے بولا
” حدید آر یو سیریس ۔ یہ کوئی فلرٹنگ یا ٹائم پاس نہیں ہے ۔ تم سچ میں “
” میں سچ میں محبت کرتا ہوں ۔ اب کیا تجھے دل چیڑ کر دکھاوں یار ۔ ” حدید درمیان میں ہی روعان کی بات کاٹ کر بولا ۔
اسکے لہجے میں سنجیدگی اور سچائی جھلکتی تھی ۔
روعان اثبات میں سر ہلانے لگا ۔
” مگر ایسے تو وہ تمہیں پسند نہیں کرے گی ۔ ” وہ حدید کو دیکھتے ہوئے افسوس سے بولا ۔
” کیوں میرے سینگ لگے ہوئے ہیں ۔؟ میری ایک ٹانگ چھوٹی ہے کیا ۔ ؟ میں چلتے چلتے ڈینگا ہو جاتا ہوں ؟ میری آنکھوں میں بنٹے لگے ہوئے ہیں ؟ ۔ یا میں بولتا ہوں تو منہ سے ہاتھی کہ آواز نکلتی ہے ۔میرے پیچھے مگر مچھ کی دم لگی ہوئی ہے کیا ؟ میں بلیوں کے بلونگڑے کھا جاتا ہوں یا رات کو درخت سے الٹا لٹک جاتا ہوں ۔؟ ہیں ! ایسا کیا ہے مجھ میں جو پھولاں والی کو پسند نہیں آوں گا ۔ ” وہ دونوں ہاتھ پہلووں پر ٹکاتے ہوئے پیچ و خم کھاتے ہوئے بولا ۔
وہ خاموش ہوا مگر روعان کی ہنسی نا رکی جو حدید کی بات سن کر جاری ہوئی تھی ۔
” یہ سب تو نہیں ہے پر وہ اس جوکر کو بھی پسند نہیں کرے گی ” بلآخر اپنی ہنسی پر قابو پاتے روعان مزاق اڑانے والے انداز میں حدید کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
وہ جوکر لگ رہا تھا ۔
حدید نے خود کو بلڈنگ کی گلاس وال میں دیکھا ۔
سرخ رنگ کی جینز اور سرخ رنگ کی ہی شرٹ جس پر ہر شوخ رنگ کا چھٹا لگا ہوا تھا ۔
بال جو کہ آج ہی سامنے سے ملٹی ڈائی کیے تھے ۔
” اڑالے مزاق ۔ جب تجھے محبت ہوگی تب نا آئی بھاگتے ہوئے میرے پاس روتے ہوئے کہ جانی سیٹنگ کروادے ۔ ” حدید نے روعان کے سر پر ایک ہلکی سی جست لگائی تو جوابا روعان نے اسکے پیٹ میں پنچ مارا ۔
” تو نہیں بچتا آج ” شرٹ کے بازو اوپر کرتے حدید دانت پیس کر بولا ۔
” آجا میں نے کونسی چوریاں پہنی ہیں ۔ ” روعان بھی ترقی با ترقی بولا ۔
ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے وہ گراونڈ پہنچے تھے ۔
حدید جان بوجھ کر اہک ساتھ کھڑے دو لوگوں کے درمیان سے گزر کر جاتا ۔
کوئی کچھ کھا رہا ہوتا تو تیزی سے اسکے ہاتھ سے اچک لیتا ۔
کوئی اکیلا کھڑا ملتا تو اسکے سر پر ایک ڈھیلا ہاتھ چھوڑ دیتا ۔
گراونڈ تک پہنچنے تک وہ راستے میں آنے والے سبھی سٹوڈنٹس سے پنگا لیتا گیا تھا ۔
اسکا شکار بننے والے سٹوڈنٹس کی پیچھے سے صلاواتوں اور لعنتوں کی آواز بدستور تھی
گراونڈ پہنچتے ہی حدید اور روعان کے درمیان میں wwe شروع ہو چکی تھی ۔
کافی دیر تک ایک دوسرے کو اچھی خاصی مار پلا کر ہار جیت کا فیصلہ کیے بغیر وہ دونون تھک کر ایک ساتھ ہی گراونڈ میں چٹ لیٹ گئے ۔
سٹوڈنٹس انکی فائٹ انجوائے کر کے تتر بتر ہو چکے تھے ۔
یہ ان کا آئے روز کا تماشہ تھا ۔
مہکشان بھی ان سٹوڈنٹس میں شامل تھی ۔ وہ حدید اور روعان کی مستی والی لڑائی کو اصل لڑائی سمجھی تھی ۔
مگر ایسے دوستوں کی طرح ایک ساتھ لیٹے ہوئے دیکھ کر وہ سر نفی میں ہلاتے ہوئے وہاں سے نکل پڑی ۔
صرف وہ ڈائی بالوں وال لڑکا ہی پاگل نہیں تھا اسکا دوست بھی پاگل تھا ۔
مہکشاں سوچتے ہوئے یونی سے باہر نکلی تھی ۔
وہ ایونٹ مینجمنٹ میں داخلے کے سلسلے میں آئی تھی ۔
اگر یہاں ایڈمیشن ہو جاتا ہے تو اسکی بھر پور کوشش ہوگی ان دو لڑکوں سے ٹکراو نا ہو ۔ ۔۔۔
حدید اور روعان گراونڈ سے اٹھ کر مین گیٹ کی طرف آ رہے تھے ۔
روعان نے حدید کے گلے میں بازو ڈال رکھا تھا ۔
” میری محبت تیری بھابی کو یہاں تک کھینچ لائی ۔ ہم دونوں کا بلیو توٹھ ٹائپ پیار ہے ۔ میری سائکل خود با خود اسکے گھر کی طرف کھینچی چلی جاتی ہے ۔ اور آج پھولاں والی اتنے سارے سٹوڈنٹس کو چھوڑ کر سیدھا میرے پاس آئی ۔ بول جانی کیا یہی سچا پیار نہیں ۔ اب تو روز پھولاں والی کے دیدار ہوں گے ۔ ہائےےےےے ” حدید بولنا شروع ہو چکا تھا جبکہ روعان ہمیشہ کی طرح سننے کا فرض ادا کر رہا تھا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
نماز ظہر کا وقت ہوا تو موذن نے سب کو دعوت خاص کی طرف متوجہ کیا ۔ دعوت جس میں کامیابی کی ضمانت تھی ۔
دعوت جس میں فلاح کا انعام تھا ۔
فرح اپنی آخری کلاس لیکر فارغ ہوئی تھی ۔
وہ سٹاف روم میں آ گئی تاکہ نماز ادا کر سکے ۔
وہ داخل ہوئی تھی جب سامنے صوفے پر بیٹھیں بہار جان کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوئی ۔
” اسلام علیکم ۔ آپ یہاں ۔ ” فرح اسلام کے ساتھ بہار جان کی آمد پر استفار کرتے ہوئے بولی ۔
” ادھر آئیں بیٹا ! ہمارے ساتھ بیٹھیں ” بہار جان نے بہت شفقت سے اسے اپنے ساتھ بیٹھنے کا کہا تو فرح پاس آکر بیٹھی ۔
بہار جان نے دیکھا وہ شرعی پردے میں تھی ۔
ہاتھوں پر سیاہ دستانے تھے ۔
چہرا ایسے ڈھانپ رکھا کہ آنکھیں بھی واضح نہیں ہوتی تھیں
” آپ سوچتی ہوں گی ہم آپ کو روز زہمت دینے آجاتے ہیں ” بہار جان نے لہجے کو زرا ندامتی بنا کر بات کا آغاز کیا ۔
” بلکل نہیں ۔ آپ ایسا کیوں سوچ رہی ہیں ۔ بلکہ مجھے خوشی ہوئی آپ کے آنے سے ۔” فرح اپنا نقاب کھولتے ہوئے پر مسرت سی گویا ہوئی ۔
اسکے چہرا اب واضح تھا
” آپ کہیں ۔ میں سن رہی ہوں ۔” فرح نے انکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔
” دیکھیں بیٹا پہلی بار ہم اپنے دوسرے پوتے کی وجہ سے آپ کے پاس آئے تھے ۔ ہمیں مکمل یقین ہے آپکی دعاوں پر ۔ لیکن آج ہم اپنے بڑے پوتے کی وجہ سے آپ کے پاس آئے ہیں ” بہار جان نے ایک لمحے کو توقف کیا ۔
فرح کے زہن میں تیزی سے شہوار شاہ کا چہرا چھایا ۔
اسنے تیزی سے سر جھٹکا ۔
نامحرم کا خیال بھی پاک باز عورتوں کے لیے باعث ہلاکت ہوتا ہے ۔
” ہم اپنے بڑے پوتے شہوار شاہ کے لیے آپ کا رشتہ لیکر آئیں ہیں ۔ ” بہار جان نے اصل مدعا بیان کیا تو فرح کو کچھ لمحے سمجھ نہیں آئی وہ کیا ردعمل کرے ۔
” دیکھیں بیٹا بہترین طریقہ تو یہ تھا میں یہ بات آپکے کسی بڑے سے کرتی مگر آپ نے بتایا تھا آپکا کوئی رشتہ دار نہیں ہے تو یہ بات ہمیں آپ سے ہی کرنا پڑی ۔ ” فرح کی الجھن سمجھتے ہوئے بہار جان نے کہا ۔
” مگر میں سمجھ نہیں پائی ۔ آپ کیوں ایسا چاہتی ہیں ۔ ” کوئی ڈھڑکا سا تھا فرح کے زہن میں ۔ شاید اپنے ماضی کا جو اسنے اٹکتے ہوئے استفار کیا ۔
” کیونکہ آپکے اخلاق نے ہمارے دل کو خوش کیا ہے ۔ ہم نے جس کسی سے بھی آپکے بارے میں پوچھا آپکی تعریف ہی سنی ہے ۔ آپکے ہاسٹل اور سکول میں ہر ایک نے آپ کو بہترین کاردار کی مالک بتایا ہے ۔ ہم خود بھی آپ کا اخلاق دیکھ چکے ہیں ۔ ہمارے پوتے شہوار شاہ ایسی ہی شریک حیات چاہتے تھے ۔
یہ آپ کا پردہ ہی ہے جس کی وجہ سے میرے پوتے نے ہمارے زریعے آپکو نکاح کی دعوت بھیجی ہے ۔ وہ چاہتے تو آپکے پاس خود آجاتے مگر وہ آپکے پردے کا پس رکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ آپکی رضامندی پر ہی آپکو دیکھنا پسنف کریں گے ۔ اگر آپ انکار کرتی ہیں تو ہمارے پوتے کبھی بھی آپکو دیکھنے کا خیال تک نہیں لائیں گے ۔ ہم آپ پر زور نہیں ڈالیں گے آپ کا جو فیصلہ ہوگا ہمیں منظور ہوگا
۔ ” بہار جان اپنی بات مکمل کرکے اٹھ کھڑی ہوئیں ۔
فرح ابھی تک انکی باتوں کے زیر اثر تھی ۔
” وہ آپکے پردے کا پاس رکھنا چاہتے ہیں ۔ ” بہار جان کے یہ الفاظ فرح کی سماعت میں گونجے ۔
چنف لمحے لگے اسے فیصلہ کرنے میں ۔
وہ شخص جو اسے بنا دیکھے نکاح کی دعوت بھیج رہا تھا اسکے پردے سے متاثر ہو کر وہ شخص خود بھی کتنا پرہیزگار ہوگا ۔
” ٹھہریں ” بہار جان کے پیچھھ وہ بھی کھڑی ہوئی تھی ۔
” میں آپکے پوتے سے ایک بار ملاقات کرنا چاہتی ہوں ۔ ” فرح گھوم کر انکے آگے آئی اور خواہش رکھی ۔
” اور بہتر ہوگا آپکے پوتے بھی ایسا چاہیں گے ” فرح کی بات پر بہار جان کے دل میں امید اٹھی ۔
” ضرور کیوں نہیں ۔ ہم شہوار سے بات کر کے آپکو ملاقات کے لیے بلوا لیتے ہیں ۔ ” بہار جان نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی پر بوسہ دیا ۔
” اللہ رحمت کرے ” وہ دعائیہ انداز میں بولیں تو فرح نے آمین کہا ۔
وہ بہار جان کو گیٹ تک چھوڑنے آئی ۔ اسکا نقاب برابر تھا ۔
الودائی کلمات کہتے ایک بار پھر سے بہار جان اسکا ماتھا نقاب کے اوپر سے ہی چوما تھا ۔
بہار جان جا چکی تھیں ۔
فرح واپس سٹاف روم میں آئی اور نماز اد کی ۔
نماز پڑھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے ۔
” یاللہ میں جانتی ہوں تو نے اپنی اس گناہ گار بندی کے لیے بہترین حکمت عملی کر رکھی ہے ۔ تیری ہر مصلحت ہر فیصلت پر اپنا سر تسلیم خم کرتی ہوں ۔ اللہ صرف ایک گزارش ہے تجھ سے ۔ مجھے کبھی رسوا نا کرنا ۔ میرے عیبوں کو ہمیشہ پردے میں ڈھانپ کر رکھنا ۔ یہ دنیا بہت ظالم ہے ۔ اللہ مجھے انکے آگے رسوا نا کرنا ۔ ” دعا کرتے ہوئے فرح کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں ۔
نظروں کے سامنے کوٹھے کے کمرے گھوم رہے تھے ۔ وہ جگہ جو فرح کے لیے جہنم تھی ۔ وہ وہیں پلی بڑھی تھی ۔ مگر وہاں کے ماحول کو خود پر چڑھنے نہیں دیا تھا ۔
فرح نے ماضی کو زہن سے جھٹکا اور حال پر غور کیا ۔
” یا اللہ مجھے بہتر فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمانا ۔ ” ایک بار مزید دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ۔ پھر چند لمحے اپنے رب سے مزید دعائیں کر کے درود پڑھ کر چہرے پر ہاتھ پھیڑ لیا ۔
بیرونی طرف آو تو مین روڈ پر گاڑی آگے بڑھتی جا رہی تھی ۔ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھیں بہار جان فرح کی خواہش کا اظہار شہوار کے سامنے رکھنے کے لیے پر جوش تھیں ۔
گاڑی پیلس کی طرف رواں تھی
سڑکوں پر موجود بلڈنگز پیچھے کی جانب دوڑتی جا رہیں تھیں ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
سوسائٹی سے کچھ فاصلے پر بنی سکیم میں وہ ابراہیم اسد کا گھر تھا ۔
وہ لانج میں موجود تھے ۔ ویل چیئر پر بیٹھے چہرے پر پریشانی اور وسوسے کا آثار نمایا تھا
انکے پیچھے نور جہاں آنٹی کھڑی تھیں ۔ وہ بھی کبیدہ خاطر نظر آتی تھیں ۔
” آپکی بیٹی کب سے لاپتہ ہے ” سامنے صوفے پر بیٹھے انسپیکٹر زبیر نے گھمبیر لہجے میں دریافت کیا ۔
” کل رات سے ” ابراییم صاحب نے بتایا ۔ انکے لہجے میں واضح پریشانی گھلی ہوئی تھی ۔
” مطلب وہ رات کو کہیں گئی تھی ۔ ” اپنے ہاتھ میں پکڑی فائل پر کوائف لکھتے زبیر نے اگلا سوال کیا ۔
” وہ رات کو اکثر ٹہلنے نکل جاتی ہے ۔ کل رات بھی میرے سونے کے بعد نکلی ہوگی ۔ مگر اب تک واپس نہیں لوٹی ۔”
ابراہیم صاحب کی بات پر زبیر نے اثبات میں سر ہلایا ۔
” دیکھیں کیپٹین صاحب میں ہر زاویعے سے آپکی بیٹی کے گمشدہ ہونے کے کیس کی تفتیش کروں گا ۔ مگر میرا خیال ہے کہ آپکی بیٹی ۔۔۔۔۔ ” اسنے چند لمحے توقف کیا
” آپکی بیٹی شاید کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے ۔ ” اپنا خدشہ ظاہر کر کے ابراہیم صاحب کے تاثرات دیکھے ۔
وہ سخت اور نالاں تھے
” میری بیٹی مر سکتی ہے ایسی حرکت نہیں کر سکتی ۔ ” وہ آگے ہو کر زبیر کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کر تنبیہ زدہ لہجے میں بولے تھے ۔
انکی بات پر زبیر نے گہرا سانس لیا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔
” میں جلد سے جلد آپکی بیٹی کو بازیاب کرنے کی کوشش کروں گا ۔ ” مخصوص لہجے میں کہہ کر وہ فائل پکڑ کر نکل گیا ۔
اسکے جاتے ہی ابراہیم صاحب نے پیچھے کھڑی نور جہاں کو دیکھا جس نے انکا کاندھا پکڑ کر امید دلائی تھی ۔
انکی ڈھارس بندھائی ۔
وہ خود بھی پر یقین تھے کہ پریشال تھیک ہو گی ۔
آج صبح سے وہ پریشال کو ان گنت کالز کر چکے تھے ۔
جس چیز نے انہیں پریشان کیا تھا وہ اسکے فون کا بند ہونا تھا ۔
اس سے پہلے پریشال کبھی بھی بنا بتائے کہیں نہیں گئی تھی ۔
زہن طرح طرح کے وسوسوں سے بھر رہا تھا مگر وہ تمام کو اپنے سر سے جھٹکتے جا رہے تھے ۔
دوپہر آہستہ آہستہ اترتی شام کے سائے میں ڈھلتی جا رہی تھی ۔
انتطار بڑھتا جا رہا تھا ۔
دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیاں انتظار کی مقدار کو ناپ تو سکتی تھیں مگر تعین نہیں کر سکتی تھیں ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
شہر کے پوش علاقے میں بنے اس آفس پر صبح چڑھ چکی تھی ۔ بلندی کی طرف رواں اس بلڈنگ کے سب سے بلائی آفس کے دروازے پر صیام بخاری لکھا تھا ۔
اندر آو تو وہ ایک شاندار آفس تھا ۔
وہ پاور سیٹ پر بیٹھا تھا ۔ گرے کلر کے تراش خراش والے سوٹ میں ملبوس ۔
عمر تقریبا 55 سال
کنپٹیوں سے بال زرا سفید تھے جو اس اونچے لمبے انسان کو مزید باوقار اور پر رعب بنا رہے تھے ۔
صیام بخاری کے تاثرات تنے ہوئے تھے ۔
اس وقت وہ سامنے بیٹھے اپنے وکیل کی بات سن رہا تھا ۔
انداز سے لگتا تھا جیسے وکیل کی باتیں اس پر ناگوار گزر رہیں ہیں ۔
دفعتا دروازہ کھلا اور ناصر ملک اندر داخل ہوا ۔
وکیل بولتے ہوئے خاموش ہوا ۔
ناصر آگے آیا ایک نظر وکیل پر ڈالی پھر پاور سیٹ پر بیٹھے صیام بخاری سے مخاطب ہوا ۔
” یہ آدم نے دیا ہے ۔ ” اس نے آدم کی دی ہوئی یو ایس بی شیشے کی میز پر رکھی ۔
صیام بخاری نے اسے نہیں اٹھایا ۔
” اس بات کی کیا گڑنٹی ہے آدم دھوکا نہیں کرے گا ۔ ؟ ” صیام نے سوالیہ آبرو اچکائی ۔
” شہوار کے باپ نے آدم کے باپ کو جیل بجھوایا تھا ۔ آدم کے پاس شہوار کو تباہ کرنے کا مضبوط موقف موجود ہے ” ناصر ملک جتاتے انداز میں بولا تو صیام بخاری کے چہرے پر شاطرانہ مسکان لہرائی
” میں عالم شاہ کے خاندان کے ایک فرد کو بھی نہیں چھوڑوں گا ۔ جس طرح ان چاروں کو قتل کیا تھا ایک ایک کر کے عالم شاہ کے بیٹوں کو بھی اہنت راستے سے ہٹا دوں گا ۔ ” وہ دانت پیس کر نفرت کا اظہار کرتے ہوئے بولا تھا ۔
وہ صیام بخاری تھا جو اپنے سامنے آنے والے انسان کو راستے سے ہٹا دینے کو فوقیت دیتا تھا ۔
صیام بخاری کے اشارے پر ناصر ملک باہر نکل گیا ۔
وہ وکیل کی طرف متوجہ ہوا اور غصہ بھری ایک سانس لی ۔
” یہ بڑے بھی کیسے بیوقوفانہ فیصلہ کر دیتے ہیں ۔ کیا ضرور تھی اس بڈھے کو تمام پڑاپرٹی اپنے گرینڈ چائلڈ کے نام کرنے کی ۔ اب میری کوئی اولاد نہیں ہے تو کیا اچار ڈالوں اس وصیت کا ۔ ” وہ کوفت سے ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا تھا ۔
اسکے باپ نے کئی سال پہلے مرتے وقت تمام پڑپڑتی اپنے ہونے والے پوتے یا پوتی کے نام کردی تھی ۔
صیام بخاری کی اولاد اور بیوی اسکے ساتھ نہیں رہتے تھے ۔ وہ انہیں فراموش کر چکا تھا
” سر ہمیں صرف ایک سائن چاہیے اسکے بعد سب کچھ آپکے نام ہوگا ۔ ” وکیل نے بات رکھی تو صیام بخاری نے جھپٹ کر اسکا گریبان پکڑا ۔ ۔۔
” اور یہ سائن تمھارا باپ کرے گا ۔ ” وہ ڈھارا تھا ۔
” آا! آپ کی اولاد کرے گی جسکے نام پڑپڑاٹی ہے ۔” وکیل نے صیام بخاری کی گرفت سے اپنا گریبان چھڑواتے ہوئے کہا ۔
صیام بخاری کے چہرے پر الجھن در آئی ۔
” آپ بھول رہے ہیں مگر آپکی ایک بیٹی ہے ۔ وہ آپکے لیے خزانے کی چابی کھول سکتی ہے ” وکیل نے آبرو اچکا کر کہا تو صیام بخاری اطمینان سے سیٹ پر ہو کر بیٹھا ۔
” یہ تو میں بھول ہی چکا تھا ۔ ” وہ خود کلامی کے انداز میں بولا پھر موبائل اٹھا کر ایک کال ملائی ۔۔۔
چند فقرے بولے اور کال کٹ کردی ۔
” وہ یقینا اتنے سالوں بعد اپنے باپ سے مل کر خوش ہوگی ۔ مجھے بس کئی سالوں کے بعد اولاد کے لیے دل میں امڈ آتی محبت کا یقین دلانا ہے اسے ۔ بس کچھ اداکاری کرنی ہے ” وہ مسکراتے ہوئے لائحہ عمل بن رہا تھا جبکہ وکیل آفس سے نکل چکا تھا ۔
کئی سال پہلے اسنے ہی گھر سے نکالا تھا بیوی اور بیٹی کو ۔
کئی سال بعد وہ خود ہی بیٹی کو واپس لانے والا تھا ۔
مگر دھوکے سے
محض اپنے مطلب کے لیے ۔
لیکن اس بات سے انجان تھا کہ اسکی بیٹی اسکے سب سے بڑے کاروباری دشمن کی بیوی بننے والی تھی ۔
صیام بخاری خود بھی آفس سے نکلا آیا ۔
نکلتے ہوئے اسنے میز سے یو ایس بی اچکی تھی اور تیزی سے ڈگ بھرتا لفٹ کی طرف بڑھ گیا ۔
باہر پہلے سیاہ بادل صیام بخاری کے غلط ارادوں کے گواہ تھے جو اپنے فائدے کے لیے اپنی ہی بیٹی کی زندگی خراب کرنے والا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے