Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41

قسط نمبر 41
از قلم حرا شاہ
بہار پیلس کی سیاہ اور سرمائی بیرونی دیواروں نے افسردگی سے دیکھا کہ اندھیرے میں دو لوگ گھر سے باہر آئے تھے
ایک مرد تھا جس نے عورت کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا ۔
وہ اسے تقریبا اپنے ساتھ کھینچتا ہوا لایا تھا ۔
مرد نے گاڑی میں عورت کو بٹھایا اور خود بھی بیٹھ گیا ۔
اگلے لمحے گاڑی زن سے آگے بڑھ گئی ۔۔۔۔
شہوار شاہ کی گاڑی سڑک پر ڈور رہی تھی ۔
ساتھ والی سیٹ پر فرح دبکی بیٹھی تھی
حالانکہ شہوار کا چہرا بے ثاثر تھا مگر فرح کو اس سے خوف آ رہا تھا ۔
وہ دل ہی دل میں اللہ سے دعائیں کر رہی تھی
مدد طلب کر رہی تھی ۔
” شش۔۔ شہوار آپ ۔۔۔۔!” ہمت مجتبع کرکے فرح نے بولنا چاہا مگر شہوار نے ایک غصیل نظر ڈال کر اسے خاموش کروادیا ۔
پھر کچھ دیر تک فرح نہیں بولی ۔ اس کا دل زور سے ڈھرک رہا تھا
شہوار بھی کچھ نا بولا ۔ اسکا تنفر تیز چل رہا تھا ۔
دفعتا شہوار کے ماتھے پر بل پڑے ۔
کوئی بات تھی جو یاد آئی تھی ۔
چند لمحوں بعد شہوار نے گاڑی روک دی
وہ ایک سنسان جگہ تھی ۔
دونوں گاڑی سے اتر آئے
فرح اپنے وجود کے گرد بازوں لپیٹ کر کھڑی ہو گئی ۔
” تم نے بی جان سے جھوٹ کہا تھا کہ رشتہ داروں کے گھر رہتی تھی ۔ ” شہوار نے بہت سرد مہری سے سوال کیا ۔
ایسی سرد مہری جو فرح کے اندر سرایت کر گئی ۔
” بولو کیا تم نے جھوٹ بولا تھا ۔ ” وہ قدم قدم چلتا اسکے پاس آنے لگا ۔
فرح اپنے قدم پیچھے کرنے لگی ۔
اسے اپنے ہی شوہر سے خوف آ رہا تھا ۔
” بولو فرح ۔ !” دفعتا شہوار نے اسے بازووں سے تھاما اور زور سے ڈھارا ۔
” ہاں !” فرح شہوار کی تیز آواز سے بڑی طرح کانپ گئی تھی ۔ وہ آنسووں سے لبالب آنکھوں اور بھرائی آواز میں اعتراف کر گئی ۔
شہوار نے اسکا جواب سنا تو اسکے ہاتھ فرح کے بازو پر ڈھیلے پڑے ۔
” مطلب تم واقعی ایک طوائف زادی ہو ۔” بظاہر آہستہ مگر اندر سے سخت تکلیف میں گھر کر شہوار نے یہ بات دریافت کی ۔
فرح جو سہمی کھڑی تھی بس اثبات میں سر ہلا گئی ۔
شہوار نے زور سے آنکھیں بھینچ کر خود کو جیسے پرسکون کیا مگر اب سکون تھا کہاں ۔
” جانتی ہو مجھے اپنی شریک حیات میں یہ خوبی سب سے اہم چاہیے تھی کہ وہ ان دیکھی ہو ان چھوئی ہو ۔ وہ کسی غیر محرم کی دسترس سے پاک ہو ۔ اسکا چہرا تو کیا اسکی آواز بھی کسی نے نا سنی ہو ۔ اور تم ویسی ہی تھی فرح مگر آج مجھ پر یہ تم کیسا انکشاف کر رہی ہو ۔ فرح تم ایسا کیسا کر سکتی ہو ۔ تم کہنا چاہتی ہو کہ طوائف خانے میں پلی بڑی ہو ۔ تم کہنا چاہتی ہو کہ اپنا جسم غیر مردوں کو پیش کرتی تھی ۔ تم۔۔۔ !” وہ تکیلف سے بولتا بات کو زم کر گیا جبکہ فرح نے آخری جملے پر نفی میں سر ہلایا تھا ۔
” شہوار میری بات سنی۔۔۔!” اپنی صفائی میں فرح نے بولنا چاہا لیکن شہوار نے ہاٹھ اٹھا کر خاموش کروا دیا ۔
” بس فرح ۔ اب اور سنے کو بچا ہی کیا ہے ۔
اب تم صرف مجھے سنو ۔ سلار نے مجھے کہا کہ اسنے طوائف خانے میں تمہیں دیکھا ہے ۔ میں نے یقین نہیں کیا ۔ پھر مجھے وہ تصویر دیکھائی گئی جس میں تم نظر آ رہی ہو ۔ میں نے تب بھی یقین نہیں کیا ۔ فرح میں بہت امید سے تمھارے پاس آیا تھا ۔ تم سے سوال کیا اس امید پر کہ تم نفی کردو گی ۔ کہو گی کہ میرا بھائی جھوٹ بول رہا ہے ۔ تصویر کو پھاڑ دو گی اور انکار کردو گی ۔ مگر تم نے تو اعتراف کر لیا ۔ فرح آہ فرح آہ! تم نے میرا سب سے قیمتی بھرم ٹور دیا ۔ تم نے مجھ سے میرا رشک چھین لیا فرح ۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی کس قدر اذیت دی ہے مجھے تمھاری ہاں نے ۔ تم نے میرا غرور اعتبار اور محبت سب مٹی میں ملا دیا فرح ۔ تم ۔ تم نے ” وہ کہتے ہوئے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا اور اپنا چہرا ہاتھوں میں چھپا کر زارو قطار رونے لگا ۔
چھوٹے بچے کی طرح
دیوانہ وار
جبکہ فرح اسکی حالت کا زمہ دار خود کو تصور کرنے لگی
کیا سوچا تھا اسنے کہ آج اسے خوشخبری دے گی مگر وہ تو اسے اذیت دے بیٹھی تھی ۔
” شہوار آپ غلط ۔۔۔ !” فرح نے پھر اپنی بات رکھنا چاہی مگر شہوار نے درشتی سے اسے چپ کروا دیا ۔
” اپنی بکواس بند کرو ۔ ” اسکی آنکھیں سرخ تھیں ۔ رگیں کھینچی ہوئیں اور آواز میں نفرت شامل تھی ۔
” غلط میں تھا جو تمھارے جھانسے میں آ گیا ۔ اب سمجھا میں یہ تمھاری چال تھی ۔ یہی کرتی ہو نا تم جیسی عورتیں ۔ شریف ہونے کا ڈھونگ رچا کر مردوں کو قابو کرتی ہو ۔ جھوٹ بول کر دوسرے کا اعتبار جیتو ۔ شرافت کا لبادہ اوڑھ کر خود کو نیک ظاہر کرو اور شریف مردوں کو قابو کر لو ۔ یہ سب پیسے کے لیے کیا ہے نا تم نے ۔ پیسے چاہیے تھے تو بتا دیتی ۔ میری زندگی سے تو نا کھیلتی ۔ میرے جزبات کو تو ٹھیس نہ پہنچاتی۔ ” وہ جیسے ایک دم سے پھٹ پڑا تھا ۔ خو سمجھ میں آرہا تھا جو دماغ اخذ کر رہا تھا بولتا جا رہا تھا ۔
” شہوار میں ۔ ویسی نہیں ۔ آپ یقین کریں ۔ میں کچھ غلط ۔۔ نہیں ۔ نہیں کیا ۔ ” وہ ایک بار پھر سے بے ربط فقروں میں گویا ہوئی مگر اگلے ہی لمحے اسکے الفاظوں نے حلق میں دم ٹور دیا ۔
شہوار نے ایک زور دار تھپر اسکے چہرے پر مارا جس سے وہ زمین پر جس گری ۔
وہ واپس سنبھالتی اس سے پہلے ہی شہوار نے نیچے بیٹھ کر اسکا رخ اپنی طرف پھیر کر اسکا منہ اپنے ہاتھ میں پکڑا۔
” اگر سچی ہوتی تو بی جان سے جھوٹ نا بولتی ۔ اور سچ بولتی بھی کس منہ سے ۔ کس منہ سے کرتی اپنے گناہوں کی تشہیر ۔ آہ ! ۔ کس قدر ڈھیت ہو تم ۔ ابھی بھی خود کو تھیک کہنے پر تلی ہوئی ہو ۔ وہ تصویر صاف صاف دیکھاتی ہے ۔ تمھارا اعتراف بتاتا ہے کہ تمھارا ماضی کیا تھا ۔ تمھارا اصل کیا ہے ۔ تمھاری حیثیت کیا ہے اور ۔۔۔۔ ” فرح کا منہ اپنے ہاتھ سے دبوچے وہ ایک ایک لفظ دانت پیس کر بولا تھا ۔
” اور تمھارا مقام کیا ہے ۔ میں بتاوں تم جیسی عورتوں کا مقام پستی ہے ۔ زلالت ہے ۔ کل تک تم میری محبت کے اعلی مقام پر موجود تھی ۔ آج میری نفرت کی نچلی سطح پر بھی موجود نہیں ہو ۔ ” وہ بول رہا تھا اور فرح دم سادھے سنے جا رہی تھی ۔ صدمے کی سی کیفیت تھی ۔ شہوار اسے کیا کیا سمجھ رہا تھا ۔
شہوار نے اسکا چہرا چھوڑا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔
” اپنے آنسو پونچھ لو ۔ تم بہت اچھی اداکارہ ہوگی مگر تمھارا کوئی حربہ مجھ پر کام نہیں کرے گا ۔ ” ابکی بار شہوار کا لہجہ سنجیدہ تھا ۔
” مجھے تا عمر اس بات کا دکھ رہے گا کہ میں نے تم سے محبت کی مگر کوشش کروں گا تمہیں جلد بھلا سکوں ۔ آج سے تم میرے لیے مر گئی ہو ۔ ” اس نے حتمی انداز میں کہا اور رکے بنا چلتا گیا ۔
گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی آگے بڑھ گئی ۔
اور فرح وہ تو شاید مر ہی چکی تھی
بے حس
پھتر بنی بیٹھی رہی
کس قدر اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی مگر ۔۔۔۔
کتنی ہی دیر وہ بے سدھ زمین پر بیٹھی رہی
جس بات کا خدشہ تھا وہ ہو چکی تھی ۔ سب ختم ہو چکا تھا ۔
دفعتا وہ ایک جھٹکے سے ہلی ۔
ارد گرد ہاتھ مار کر زمین سے مٹی اٹھائی اور اپنے چہرے پر رگڑنے لگی ۔
ہاں یہی مقام تھا اسکا
زلت
پستی
کم تری
اور قصور یہ تھا کہ وہ طوائف زادی تھی ۔
اس لمحے شدت سے فرح کا دل چاہا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے ۔
کتنی دیر وہ اپنا جسم دیوانہ وار نوچتی رہی یہاں تک کہ گش کھا کر وہی پر گر کر بے ہوش ہو گئی
چند لمحوں بعد ایک گاڑی آکر رکی ۔ دو آدمی باہر آئے ۔ فرح کو اٹھا کر اندر ڈالا اور گاڑی اڑا کر لے گئے ۔
اوپر آسمان کی جانب دیکھو تو ستاروں نے تمام منظر دیکھ کر افسوس سے آہ بھری تھی ۔
ایک غلطی
ایک قصور
اور بے شمار ازالے
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
اس کمرے میں اندھیرا تھا
گہرا اندھیرا تھا ۔
اس قدر اندھیرا کہ اسے خوف محسوس ہو رہا تھا ۔
وہ وہاں تنہا تھا ۔
اسنے ارد گرد دیکھنے کی کوشش کی مگر کچھ نظر نا آیا ۔
دفعتا اسکا دم گھٹنے لگا ۔
اپنے سینے کو مسل کر اسنے سانس لینے کی کی کوشش کی
تبھی اسے خاموشی میں ایک آواز سنائی دی ۔
زنجیر کے ہلنے کی
آہستہ سی وہ آواز خاموشی میں اسکے کان کے پردے ہلا گئی ۔ وہ جس پر تیز ترین آواز بھی اثر نہیں کرتی تھی یہ ہلکی سی آواز اسکا دل دہلا گئی ۔
آواز پھر سے آئی ۔ اس مرتبہ بہت قریب سے
اسے لگا کوئی بلکل اسکے ساتھ بیٹھا ہے
وہ دوسری جانب کو سمٹا ۔
اسے خوف محسوس ہو رہا تھا ۔
اسکا دم گھٹ رہا تھا
اسے پسینے آ رہے تھے
زنجیر کی آواز بار بار آتی
کبھی قریب سے کبھی دور سے
اچانک آواز بند ہوئی اور ایک نسوانی آواز سرسراتی ہوئی اسکی سماعت میں پڑی ۔
” سب تمھارا قصور ہے ۔ “
اور یک دم ایک زخمی خون آلود نسوانی چہرا جھٹکے سے اسکے سامنے آیا ۔
وہ بری طرح ڈر کر اپنی جگہ سے اچھلا ۔۔۔۔۔
” نہیں ۔ پیچھے ہٹو ۔ دور رہو ۔ میرے قریب مت آو ۔ چلی جاو ۔ جاو یہاں سے ۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو ۔۔۔۔” جیل کی کوٹھڑی میں بند سلار شاہ آدھی رات کو اچانک نیند میں بڑبڑانے لگا تھا ۔ وہ ادھر ادھر چہرا پھیرتا اور خواب کے زیر اثر بولتا جاتا ۔
وہ بے چینی سے مچلنے لگا یہام تک کہ کسی نے اسکا کاندھا جھنجوڑا
وہ ہڑبڑا کر ہوش میں آیا ۔
اٹھ کر بیٹھا اور کتنی ہی دیر لمبے لمبے سانس کھینچتا رہا ۔
دوسرے شخص کی جانب متوجہ نا ہوا ۔
چند لمحے ایسے سرک گئے
وہ کافی حد تک خود کو کمپوز کر چکا تھا ۔
کیسا عجیب خواب تھا
اسنے خود کو اندھیرے میں دیکھا
زنجیر کی آوازیں
پھر وہ آواز اور وہ زخمی چہرا
وہ چہرا محض ایک لمحے کو نظر آیا تھا مگر سلار اسے اچھی طرح پہچانتا تھا ۔
وہ پریشال کا چہرا تھا ۔
سلار اٹھ کر کھڑا ہوا اور سلاخوں کی جانب آیا
ایک سلاخ کو زور سے مٹھی میں بھینچا
یہ کیا معاملہ تھا
اس خواب کا مطلب کیا تھا
اسنے پریشال کو اس حالت میں کیوں دیکھا
اسنے شہوار سے کہہ دیا تھا کہ وہ اسے آزاد کردے
وہ تو فارم ہاوس سے نکل چکی ہوگی پھر وہ ایسے کیوں نظر آئی ۔
وہ ایسے کیوں نظر آئی جیسے بہت بڑی مصیبت میں ہو ۔
سلار کی آنکھوں میں بار بار پریشال کا زخمی چہرا لہرا جاتا اور ہر بار وہ ایک جھرجھری سی لیتا
تبھی وہ پچھلی جانب مڑا تو ٹھٹھک کر رکا ۔
سامنے نادر بیٹھا تھا جو یک ٹک اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
سلار کے چہرے پر طیش ابھرا ۔
” تو آخر تم دوبارہ میرے سامنے آ گئے ۔ ” وہ قریب آیا اور نادر کو پیر سے ٹھڈا مارا ۔
نادر ایک جانب لڑکھ گیا ۔
سلار نیچے بیٹھا اور اسے سیدھا کیا ۔
” دیکھو اپنی طرف ۔ کیا حالت بنا لی ہے ۔ کس قدر بے بسی کی حالت میں ہو ۔ جسم اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ ہلکی سی چوٹ بھی برداشت نہیں کر پا رہے ہو ۔ زرا سے وار پر بے ہوش ہوئے جا رہے تھے ۔ پتا ہے مجھے مزا نہیں آرہا تمہیں مارنے کا ۔ سوچا تھا روز تمہیں مرنے تک اذیت دوں گا مگر تم تو پہلے ہی زندہ لاش کی طرح ہو ۔ افسوس ۔ لگتا ہے تمھارے جرم کی سزا قدرت نے ہی تمہیں دے ڈالی مگر یہ یاد رکھنا تمھاری آخری سانسیں میں ہی ختم کروں گا ۔” عام سے انداز میں بات شروع کر کے سلار نے دھمکی پر ختم کی تھی ۔
نادر کچھ نا بولا
شاید بولنے سے بھی تکلیف ہوتی تھی
” مجھے معلوم ہے کہ تم ایک مہرہ ہو ۔ اصل قاتل کوئی اور ہے ۔ تم مجھے اسکا نام بتاو اور اپنی موت آسان کر لو ۔ ” سلار نے نادر کے سامنے پیش کش رکھی ۔
” مم۔۔ مجھے نہیں معلوم ۔۔۔” گلا کھنکارتے ہوئے نادر نے لاعلمی کا اظہار کیا ۔
سلار نے مٹھیاں بھینچیں مگر غصے کو قابو رکھا ۔
” مجھے شروع سے ہر بات بتاو ۔ “
” شاز عالم شاہ اور ثمرین شاہ کی موت سے دو دن پہلے مجھے ایک کال آئی ۔ وہ پرائویٹ نمبر تھا ۔ دوسری جانب ایک انجان آواز نے مجھے کہا کہ میں آئیر پورٹ کے راستے پر غنڈوں کی مدد سے چاروں کا خاتمہ کردوں ۔ میں نے منع کیا!مگر مجھے ایک ویڈیو بیجھی گئی ۔ میری بیوی اور بچے بندی بنائے ہوئے تھے ۔ انکے گلے پر چاقو رکھے ہوئے تھا ۔ اس آدمی نے کہا کہ اگر میں ان چاروں کو نہیں ماروں گا تو میرے بیوی بچوں کا مار دے گا ۔ میں مجبور تھا ۔ نا چاہتے ہوئے بھی مجھے وہ قتل کرنے پڑے ۔ ” نادر بولتے بولتے تھک گیا تو سانس لینے کو رکا ۔
” کتنی عزیز تھی تمہیں تمھاری اولاد کہ اسکی خاطر کسی اور اولاد سے اسکا سب کچھ چھین لیا ” سلار کے لہجے میں دکھ اور افسوس تھا ۔
” مجھے معاف کردو سلار ۔ میں مجبور تھا ۔ مجھے معاف کردو ۔ ” نادر نے دونوں ہاتھ جوڑ کر سلار کی منتیں کرنا شروع کر دیں ۔
سلار نے بے رخی سے اسکے ہاتھ پیچھے جھٹک دیے
” پھر کیا ہوا ۔ ؟ “
” میں اپنے بیوی بچوں کو لیکر دوسرے شہر چلا گیا ۔ اس آدمی نے مجھے کہا کہ میں نے کسی کو بھی کچھ بتانے کی کوشش کی تو سب کو مار دے گا ۔
چند سالوں بعد مجھے خبر لگی کہ پولیس مجھے تلاش کر رہی ہے ۔ میں نے بیوی بچوں کو گاوں بھیج دیا ۔
خود پولیس سے چھپنے لگا ۔
یہاں تک کہ وہ مجھ تک پہنچ گئی ۔
اس روز تھانے میں ۔ میں نے تمھارے بھائی شہوار کو دیکھا ۔
شہوار کی ہی لکھوائی ایف آئی آر پر مجھے گرفتار کیا گیا تھا ۔
میں نے وہی بیان پولیس کو دیا جو تمہیں بتایا ۔
مجھے میری سزا کے لیے کوٹھڑی میں ڈال دیا گیا ۔
چند دن بعد دونوں غنڈے بھی پولیس کی حراصت میں تھے ۔ وہ جرائم پیشہ افراد تھے ۔
ایک رات انہوم نے جیل سے فرار ہونے کا منصوبہ بنایا اور مجھے بھی شامل کر لیا ۔
اس رات ہم نکل پڑتے لیکن گارڈ اور کانسٹیبل کو بھنک پڑ گئی ۔
میں دیوار کے اوپر چڑھ چکا تھا۔ ایک گولی میری ٹانگ پر لگی ۔
میں دوسری طرف گرا اور اس وقت سب تکلیف بھول کر بھاگنا شروع کر دیا ۔ وہ دونوں غنڈے ابھی نیچے ہی تھے تو پکڑے گئے ۔ میں بھاگ کر جنگل میں چھپ گیا ۔ ٹانگ میں تکلیف بہت تھی ۔ اور بروقت گولی نا نکلنے کہ وجہ سے میری ٹانگ ناکارا ہو گئی ۔
اس دن سے پولیس میرے پیچھے ہے ۔
میں اپنی ناکارہ ٹانگ اور دن بہ دن کمزور ہوتے جسم کے ساتھ ان سے بچنے کی کوشش میں ادھر ادھر چھپتا پھر رہا ہوں ۔ مگر اب مزید نہیں بھاگ سکتا ۔ اب مزید نہیں ۔۔۔۔” نادر نے تفصیلا تمام بات سلار کو بتائی ۔
اسے کھانسی کا دھکا لگا اور وہ دہرا ہو کر کھانستا ہی چلا گیا ۔
سلار اسے دیکھے ہی گیا ۔
زہن میں بس ایک جملہ گردش کر رہا تھا
“شہوار کی ہی لکھوائی ایف آئی آر پر مجھے گرفتار کیا گیا تھا ۔”
تو شہوار پہلے سے نادر کے پیچھے تھے
شہوار پہلے ہی جانتا تھا کہ وہ ہی مجرم ہے
وہ تو سمجھتا تھا کہ شہوار اپنے ماں باپ کے قاتلوں کو بھول چکا ہے مگر نہیں وہ بھولا نہیں تھا
اسے سب یاد تھا ۔
اور اسنے اپنے طور پر نادر کو سزا بھی دلوائی تھی۔
اتنے سالوں سے صرف وہ ہی نادر کو نہیں ڈھونڈ رہا تھا جبکہ شہوار بھی اسکی تلاش میں تھا ۔
سلار نے اپنا ہاتھ بالوں میں پھیرا اور ایک گہرا سانس لیا ۔
وہ اتنے سالوں سے اپنے بھائی سے اس لیے نفرت کرتا آیا تھا کہ وہ ماں باپ کی موت پر خاموش تھا ۔ نا وہ کچھ کر رہا تھا نا بی جان ۔ چلو شہوار چھوٹا تھا مگر بی جان تو بڑی تھیں ۔ وہ تو پولیس کو بتا سکتی تھیں ۔ لیکن حقیقت اسکے برعکس تھی
حقیقت تو یہ تھی کہ انیس سالہ شہوار نے اپنے چھوٹوں بھائیوں اور بی جان کو ہر معاملے سے دور رکھتے ہوئے خود ہی نادر کے خلاف کاروائی شروع کی تھی ۔
نادر کی زبانی یہ انکشاف سلار پر بھاری پڑا تھا ۔
جس بنیاد پر وہ اتنے سال بڑے بھائی سے ناراض رہا تھا وہ بنیاد ہی غلط تھی
تبھی سلار کے زہن میں شہوار کی دو دن پہلے کہی باتیں گونجنے لگی
” میرے کچھ کہنے کا شاید تم پر کوئی اثر نہیں ہوگا ۔ تم اپنی ضد اور نفرت میں اتنے آگے نکل چکے ہو کہ میری کوئی دلیل یا صفائی اسے کم نہیں کر سکتی مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ اس دن میں نے بھی اپنے ماں باپ کو کھویا تھا ۔ میرا بھی دکھ اتنا ہی ہے جتنا تمھارا لیکن میرے دکھ میں تمھاری نفرت بھی شامل ہے ۔ “
اور اس لمحے سلار کو شہوار کی بات سمجھ آئی تھی
وہ اپنی ضد اور نفرت میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ کسی بات کا تزکرہ تک نا کیا ۔
شہوار سے پوچھا تک نہیں کہ وہ اس معاملے میں کیا کرے گا ۔ مقتول کے انصاف کے لیے کیا کیا جائے گا ۔
اور پھر وہ کتنا خود غرض ہو گیا تھا ۔ یہ سوچتا رہا کہ سب اسی کا چھینا تھا ۔
یہ نہیں سوچا کا محروم شہوار بھی ہوا تھا ۔
ماں باپ اسکے بھی مرے تھے
ماں باپ کے بعد ایک بھائی تھا اور بھائی نے بھی منہ موڑ لیا تھا ۔
سلار کی نظریں دیوار پر تکی تھیں یہاں تک کہ ماضی سے منظر دیوار پر لہرایا ۔
بہار پیلس کا لان تھا ۔
چار سالہ سلار آگے بھاگ رہا تھا ۔
پیچھے شہوار اسے پکڑنے کو آرہا تھا ۔
” بھاں مجھے پکڑو ۔ بھاں مجھے پکڑو !” وہ آگے کو بھاگتا جاتا اور شہوار اسکے پیچھے ۔
پھر شہوار نے اسے پکڑ لیا ۔
توازن برقرار نا رہنے پر دونوں نیچے گرے
ہر بار ایسا ہوتا ۔
جب بھی دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے کو پکڑتا اور نیچے گرنے لگتے تو شہوار اسے اپنے اوپر رکھتا ۔ وہ ہمیشہ شہوار کے اوپر گرتا ۔
اٹھ کر کھڑا ہوتا اور پھر سے بھاگنے لگتا ۔
کبھی یہ دیھان ہی نہیں دیا کہ یوں گرنے سے شہوار کو چوٹ آتی ہوگی ۔
اسکے شہوار کے اوپر گرنے سے اسے تکلیف ہوتی ہو گی
سلار کے ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ آئی ۔
منظر بدلہ
وہی لان
وہی دو بچے
ایک بہت پیار سے دوسرے کو بلا رہا ہے اور دوسرا اسے نفرت سے دیکھ رہا ہے ۔
سلار ماں باپ کی موت کا زمہ دار بڑے بھائی کو سمجھ رہا ہے جبکہ بڑا بھائی غم کی شدت سے بھرتی آنکھوں میں آنسو ضبط کرے اسکی بے رخی اور نفرت کو سہہ رہا ہے ۔
سلار کی مسکراہٹ دھیمی پڑی
اسے معلوم نا ہوا کب اسکی آنکھ سے آنسو رواں ہو گئے
گزرے سالوں کے کئی منظر یکے بعد دیگر دیوار پر چلنے لگے
ہر منظر میں وہ تھا کہ شہوار سے ناراضی نفرت کا اظہار کرتا جاتا اور شہوار تھا کہ خاموشی سے اسکی نفرت برداشت کرتا جاتا ۔
سلار کی آنکھوں سے آنسو روانی سے گرنے لگے
اسے اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا
دل میں پچھتاوا بھرنے لگا تھا
اپنے لیے نفرت پیدا ہونے لگی تھی
اتنی نفرت کے اسنے اپنے بال نوچنے شروع کر دیے
اور اس سب میں وہ یہ نا دیکھ سکا کہ نادر کھانستے کھانستے ہی بے ہوش ہو کر گر پڑا تھا ۔
” بھاں مجھے معاف کر دیں ۔ ” سلار کے ہونٹ زیر لب پھڑپھڑائے ۔
دل کیا کہ بھاں ابھی سامنے آئے اور اسکے پیروں میں گر جائے
بھاں سے لپٹ جائے اور کہے کہ دیکھو تمھارا بھائی گرنے لگا ہے اسے بچالو ۔
تھیک اس طرح جیسے بچپن میں گرنے سے بچاتے تھے
خوف چوٹ کھا لیتے تھے لیکن اسے محفوظ رکھتے تھے
سلار کو لگا اسکا دل کسی نے مٹھی میں بھینچا تھا
اپنا چہرا ہاتھوں میں چھپائے وہ رونے لگا تھا
کیسا اتفاق تھا
اس رات دونوں ہی بھائی بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روئے تھے
ایک مان توٹنے پر
ایک مان توڑنے پر
کچھ دیر مزید سرکی جب سلار کے کانوں میں اذان کی آواز پڑی
وہ فجر کی اذان تھی
صبح کی اذان تھی
سلار کے آنسس تھم گئے
ہر طرف خاموشی تھی
فقط اذان کی آواز تھی
وہ سانس روکے سنے گیا
اذان ختم ہوئی تو جیسے فسوں توٹا
وضو نہیں تھا ورنہ نماز ادا کرتا
وہ یونہی سجدے میں چلا گیا ۔
کس بات نے اکسایا
نہیں معلوم
بس اندر سے آواز آئی
سجدے میں گر جا
سجدے میں رو لے
اے عبدللہ واپس لوٹ آ
اے عبدللہ ابھی دیر نہیں ہوئی واپس لوٹ آ
اے عبدللہ تیرا رب بلاتا ہے ۔ شاباش آ جا ۔
لوٹ آ
وہ سجدے میں تھا اور وہی درویش کی آواز چاروں طرف سے آنے لگی تھی
سلار پر کپکپی سی طاری ہوئی
وہ اٹھا اور ایک کونے میں ہو کر بیٹھ گیا
درویش کی آواز اب نہیں تھی
اب آواز اسکے اندر سے آرہی تھی
اسکے دل سے آرہی تھی
رب بلا رہا تھا اور وہ تھا کہ لبیک نہیں کہہ رہا تھا
کتنا بدنصیب تھا وہ کہ رب بلا رہا تھا اور وہ حاظر نہیں ہوتا تھا
سلار کو ایک جھرجھری سی آئی تھی
” وہ جسے چاہے نواز دے جسے چاہے محروم کردے “
یہاں آنے سے پہلے دربار پر ملے درویش نے یہ بات کہی تھی
یہ نوازنا کیا تھا توفیق تھی
اپنی طرف آنے کی توفیق
ابھی سلار شاہ کو یہ بات سمجھنی تھی کہ یہ توفیق اسے نصیب ہونی تھی
رب کے بلاوے پر پیش ہونے کا شرف اسے حاصل ہونا تھا
مگر یقینا رب اپنے گمراہوں بندوں کو آزمائش کے زریعے اپنے قریب کرتا ہے
اور کوٹھڑی کی یہ سزا
دڑگز برآمد ہونے کا چارج
سلار شاہ کی ایک آزمائش ہی تھی۔۔۔۔۔
بند کمرہ
اندھیرا
زنجیر میں بندھی پریشال
جو وقتا فوقتا اپنی زنجیر ہلاتی
اور چلاتی تھی
” مجھے یہاں سے باہر نکالو ۔ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گی ۔ سنا تم نے ۔ ” وہ حلق کے بل چلائی تھی
دروازہ کھلا
ایک آدمی اندر آیا
پریشال کے منہ پر زور دار طماچہ مارا کہ اسکا ہونٹ پھٹ گیا ۔ خون کی دو بوندیں بہہ گئیں
” خاموش رہو ۔ چپ چاپ یہ کھانا کھالو ۔ شور کروگی تو بھوکی پیاسی مروگی ۔ یہاں سے تب ہی نکلو گی جب تمھارا سودا ہو جائے گا ۔ اب آواز نہیں نکالنا ” اد آدمی نے دھمکی بھرے انداز میں کہا اور واپس چلا گیا ۔
پریشال نے نفرت سے اس جانب تھوکا
دو دن پہلے وہ سلار کی قید میں تھی
قید تھی یا چار دیواری میں محفوظ تھی
بھوکی پیاسی تھی مگر سکون میں تھی
کاش وہ اس روز فارم ہاوس سے نا نکلی ہوتی
کاش اسنے سلار کا انتظار کر لیا ہوتا
پریشال کی آنکھ سے آنسو ٹپکا
پچھلی قید میں تو امید تھی وہ سلار کے سوال کے جواب دے گی تو آزاد ہو جائے گی
اس قید میں تو ایسی کوئی شرط نہیں تھی
پچھلی قید کا مقصد پتا تھا
اس قید کی وجہ معلوم نہیم تھی
پہلے قید کرنے والا سامنے تھا
اب قید کرنے والا نا معلوم تھا
پچھلی قید میں وہ پھر سے اپنے اللہ کے قریب ہونے لگی تھی
اور اس قید میں۔۔۔۔
اس سے آگے پریشال سوچ نہیں سکی
وہ خود بھی نہیں جانتی تھی
وقت آہستہ آہستہ سرک رہا تھا اور وہ دیوار سے سر ٹکائے غیر مرکائی نکتے کو تکتی رہی
ایسے ہی سلار بھی جیل کی دیوار سے سر ٹکائے کسی غیر مرکائی نکتے کو تکے جا رہا تھا
یہاں تک کہ صبح مکمل چڑھ گئی لیکن پریشال کے قید خانے میں صبح کی بھنک نہیں لگی ۔
وہ بدستور ویسے ہی بیٹھی رہی۔
اندھیرے سے اٹی اس کمرے کی دیواروں نے دھندلا سا دیکھا پریشال کے جسم نے حرکت کی اور اگلے لمحے وہ سجدے میں چلی گئی
دیواروں نے کان لگا کر سنا تو وہ رب سے دعا کر رہی تھی
اپنے لیے نہیں
ابراہیم صاحب کے لیے
انکی صحت کے لیے
انکے حوصلے کے لیے
کتنی دیر وہ دعا کرتی رہی یہاں تک کہ آنسووں سے چہرا بھر گیا
ایک احساس نے آ گھیرا تو وہ مسکرادی
رب تو ہر جگہ مل جاتا ہے
پھر وہ اس جگہ کیوں نہیں اللہ کو پالیتی
وہ اس جگہ رہ کر بھی اپنے رب سے قریب ہو سکتی تھی
اور تنہائی اور فرصت تو اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
تنہائی بھی تھی اور فرصت بھی
ضرورت تھی تو توفیق کی جو اسکے لیے لکھ دی گئی تھی
ایسی ہی تنہائی اور فرصت سلار کو بھی ملی تھی
توفیق بھی عطا ہو رہی تھی
ضرورت تھی تو توفیق لینے کی
لبیک کہنے کی
حاضری لگوانے کی
رب کی طرف لوٹ جانے کی
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے