Aatish E Ishqam By Hira Shah Readelle50249 Episode 34
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
از قلم حرا شاہ
قسط نمبر 34
شام کے سائے شہر پر اترنے لگے تھے ۔
عصر کی نماز ہو چکی تھی ۔
شہوار اس وقت آفس کے پریر روم میں تھا
نماز ادا کر کے وہ دعا کے لیے بیٹھا تھا جب اچانک اسکا فون بج پڑا ۔
” ہاں بولو ۔ ” اسنے موبائل کان سے لگاتے کہا
” سلار صاحب کے بارے میں خبر دینی تھی ” دوسری طرف سے آواز آئی ۔
” ہاں کہو ۔ میں سن رہا ہوں ” شہوار نے متوجہ لہجے میں کہا ۔
” وہ اس وقت لاہور میں ہے ” اطلاع کیا گیا ۔
” آر یو شیور وہ لاہور ہی میں ہے ؟ ” شہوار نے تصدیق کرنے کو پوچھا ۔
” سر مجھے پکی انفارمیشن ہے ۔ “
” ٹھیک ہے ۔ ” کہہ کر شہوار نے فون رکھ دیا ۔
وہ آفس آیا تو چہرے پر تفتیش کے آثار تھے ۔
سلار اس وقت لاہور میں کیا کر رہا تھا ۔
یہ تو سچ تھا وہ کیا کرتا ہے یہ بات کسی کو بتائے گا نہیں مگر شہوار کو اسکے لیے فکر ہو رہی تھی ۔
وہ تو چاہتا تھا سلار سے بات کرے مگر سلار نے خود کو بہت دور کر لیا تھا ۔
شیشے کی دیوار کے آگے کھڑا وہ اسی نہج پر سوچ رہا تھا جب پھر سے اسکا فون بجا ۔
” شہوار سپیکنگ ” ٹیبل سے فون اٹھا کر کان سے لگاتے ہوئے وہ گویا ہوا ۔
” مسٹر شہوار آپ نے جو کال ریکارڈز اور فون لوکیشنز منگوائیں تھیں وہ آ چکی ہیں ” دوسری جانب سے نسوانی آواز میں بتایا گیا ۔
” ٹھینکس آلوٹ ۔ مجھے وہ میل کر دیں ” شہوار نے کہا تو دوسری جانب سے حامی بھر کر فون رکھ دیا گیا ۔
کچھ دیر بعد اسے ایک میل ریسیو ہوئی ۔
شہوار نے اسے کھول کر چیک کیا ۔
جوں جوں وہ دیکھتا جاتا اسکے ماتھے پر شکنیں پڑتی جاتیں ۔
وہ آدم کی کال ریکارڈز کا ڈیٹا تھا ۔
اس ریکارڈ کے مطابق آدم کی ناصر ملک اور ایک انجان شخص سے بات چیت ہونے کی تصدیق ہو رہی تھی۔
آدم کی اکثر لوکیشنز صیام بخاری کے گھر اور آفس کی دکھائی دے رہی تھیں ۔
شہوار نے ہاتھ مار کر لیپ ٹاپ بند کیا اور اپنی کنپٹیاں سلگائیں ۔
اسے کم سے کم آدم سے کسی فریب کی امید نہیں تھی مگر یہ سب ہو رہا تھا ۔
اور اب بہت ہو گیا تھا ۔
اسنے آدم کے کیبن میں خفیہ کیمرہ لگوا دیا تھا
آدم کی کالز ٹیپ کی جارہی تھیں ۔
اور جس دن کوئی خاطر خوا ثبوت اسکے ہاتھ لگے گا وہ اسے رنگے ہاتھوں پکڑے گا ۔
وہ اب کسی صورت بھی آدم ہمایوں کو فرار کی راہ حاصل نہیں کرنے دیگا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
گرلز ہاسٹل کی چھت پر آو تو ہوائیں پھڑپھڑاتی ہوئیں مچل رہی تھیں ۔
آج منال واصف ٹھنڈ کی فکر کیے بنا چھت پر موجود تھی ۔
گو کہ موسم سرما بہت حد تک گرما کی طرف جا چکا تھا مگر ہوا اچھی خاصی ٹھنڈی تھی ۔
یعنی جاتی سردیوں والا موسم چل رہا تھا ۔
” کوشش کرو تنہائی میں لکھو ۔ کوئی ڈسٹرب کرنے والا نا ہو “
فیسبک پر ناول لکھنے کے طریقے بارے میں پوسٹ کی تو ایک میمبر نے کمنٹ کیا تھا ۔
وہ اسی پر عمل کرتی اس وقت چھت پر موجود تھی ۔
” کہانی ہمیشہ پاسٹ ٹینس میں لکھو “
وہ ڈائری میں لکھی تمام باتیں جو اسنے نوٹ کی تھیں انہیں فعل ماضی میں منتقل کرنے لگی ۔
” کہانی کا ایک پلاٹ ہو ۔ ایک مقصد ۔ ایک مین پوائنٹ ۔”
اور مین پوائنٹ منال واصف ہی تھی ۔
منال واصف جیسی لڑکی کی محبت کی کہانی ۔
” الفاظ کا چناو اچھا ہونا چاہیے ۔”
اور یہاں آکر وہ مخمصے میں پڑ گئی
” میں اپنی اردو وکیبلری کیسے بہتر کر سکتی ہوں ۔ ” اس کمنٹ کے جواب میں اسنے پوچھا تھا ۔
” آپ ان رائٹرز کو پڑھو جو ادب لکھتے ہیں ۔ جو صحیح معنی میں اردو لغت اور اصطلاح استعمال کرتے ہیں ۔ مذید اچھا کرنے کے لیے اخبار پڑھا کرو ” چند گھنٹوں بعد یہ جوابی کمنٹ وصول ہوا ۔
” اخبار پڑھوں ۔ ہوں !” سوچتے ہوئے اسنے نیٹ سے اخبار جہاں کا حالیہ ایڈیشن پی ڈی ایف میں ڈاونلوڈ کیا اور پڑھنا شروع کیا ۔
” افففففف ” دس منت ہی گزرے تھے وہ فائل بند کر کے اٹھ کھڑی ہوئی
اتنی مشکل اردو
اسکا تو دماغ ہی گھوم گیا تھا
آدھے الفاظ کا تو گوگل سے سرچ کر کے مطلب دیکھنا پڑا ۔
وہ تو بوڑھی ہو جائے گی اس طرح ۔
نہیں نہیں وہ زندہ رہتے ہوئے ہی ناول لکھنا چاہتی تھی
اسنے پھر سے اپنی پوسٹ کھولی
ایک نیا کمنٹ آیا ہوا تھا
” پیاری اپنی کہانی اپنے الفاظوں میں لکھوں ۔ ضروری نہیں مشکل الفاظ کا ہی استعمال کرو ۔بس یہ دیھان رکھو بات پڑھنے والے کو سمجھ آ جائے ۔”
منال کے ہونٹ پر یک دم سکون کی مسکراہٹ آئی
ہاں وہ ایسا ہی کرے گی ۔
سادہ الفاظ جو اسے سمجھ آتے ہیں انکا ہی استعمال کرے گی ۔
” سب سے ضروری دل سے لکھو ۔ “
ایک نیا کمنٹ سکرین پر واضح ہوا تو منال کے دل میں گدگدی سی ہوئی ۔
ناول کی فرضی کہانی چند دن پہلے حقیقی بنی تھی ۔
اسکی حقیقی لو سٹوری
جہاں وہ تو محبت کرنے لگی تھی مگر اسکا ہیرو نہیں ۔
یا شاید وہ بھی کرتا تھا مگر اسے علم نہیں تھا ۔
” کہانی کے کردار جاندار ہوں ۔ کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے اچھے سپورٹنگ کریکٹرز بھی ہوں “
منال نے دیکھا بیک وقت آئے تینوں کمنٹس ایک ہی آئی ڈی سے آئے تھے ۔
” ناول گائیڈز ” نام سے اس آئی ڈی کے پیچھے بیٹھا مرد یا عورت اسے جیسے ایک ایک پوائنٹ بتا کر گائڈ کر رہا تھا ۔
سپورٹنگ کریکٹرز
وہ فرح آپی ٹریسا کو شامل کرسکتی ہے
وہ حدید اور مہکشاں کو شامل کر سکتی ہے ۔
اور شاید آگے چل کر اسے مزید کردار مل جائیں
” اور سب سے آخر میں کہانی کا اختتام جسٹیفائڈ ہو ۔ ادھورا یا نامکمل اختتام اکثر پڑھنے کا مزا کر کرا کر دیتا ہے ۔ “
ایک مزید ہدایت پر مبنی کمنٹ آیا ۔
منال کو اس آئی ڈی کے پیچھے بیٹھا انسان اچھا لگا تھا
کسی گائیڈ کی طرح وہ اسے بتا رہا تھا
منال نے وہ آئی ڈی کھولی تو پروفائل میں کتابوں کا خوبصورت سا ریک سجا تھا ۔
وہ مزید نیچے آئی تو سب ہی پروفئل پیکچرز کتابوں اور تحریر سے متعلق تصاویر ہر مبنی تھی
مشہور فلاسفر کے اقوال بھی شیئر کیے گئے تھے ۔
منال کو پروفائل اچھی لگی تو اسنے فرینڈ ریکوسٹ بھیج دی ۔
پانچ منٹ بعد قبول ہو گئی
” ہائے ۔ ” اسنے مخفی پیغام بیجھا
دوسری جانب سے جواب نہیں آیا بلکہ آف لائن ہونے کا اشارہ نظر آیا
وہ اسکے بعد کافی دیر تک انتظار کرتی رہی ۔
پھر دوبارہ ڈائری کھولی اور تمام واقعات کو اپنی سمجھ کے مطابق لفظوں میں ڈھالا
ہوں پہلی قسط کے لیے مواد ہو گیا تھا ۔
البطہ ایک طویل قسط نہیں تھی مگر پہلی کوششیں اکثر چھوٹی ہی ہوتی ہیں ۔
منال نے موبائل میں اپنی لکھی ہوئی پہلی قسط ٹائپ کرنا شروع کی ۔
اسی دوران ناول گائیڈز کی آئی ڈی پھر سے آن لائن ہوئی ۔ منال کا بیجھا گیا پیغام پڑھ لیا گیا مگر جواب نہیں آیا ۔
اسنے ابکی بار ہائے کے ساتھ کیا ہم بات کرسکتے ہیں بھی لکھا ۔
” جی بولیں ۔ ” فورا جواب آیا
” آپنے پہلے جواب کیوں نہیں دیا ” منال نے تجسس سے لکھا
” محترمہ میرے پاس ہائے کا کوئی جواب نہیں ہے ۔ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کو گفتگو کا آغاز سلام سے کرنا چاہیے نا کہ ہائے سے “
جواب موصول ہوا تو منال کو یک دم شررمندگی محسوس ہوئی ۔
” اسلام علیکم ” اسنے ٹائپ کیا اور بھیج دیا
” وعلیکم اسلام ! جی اب بتائیں کیا بات کرنی ہے “
” میں نے پہلی بار لکھنا شروع کیا ہے آپ مجھے گائیڈ کریں گے ” منال اب مدعے پر آئی ۔
” میرے خیال سے میں بنیادی باتوں کے بارے میں بتا چکا ہوں ۔”
” نہیں مجھے مذید گائیڈ کریں “
” آپ اپنا لکھا ہوا دکھائیں ۔ ” دوسری جانب سے فرمائش آئی
منال کو جھجھک محسوس ہوئی
” میں نہیں دیکھاوں گی ۔ آپ ہنسے گے “
” آپ دیکھائیں گی تو ہی بتا سکوں گا کیا کمی ہے “
” اچھا تھیک ہے ” ساتھ ہی اسنے لکھا ہوا بیجھ دیا ۔
میسج سینڈ کر کے وہ انتظار میں بیٹھ گئی
معلوم نہیں وہ شخص کیسے ردعمل کرے گا ۔
اور اسی فکر میں وہ اپنی انگلیاں مڑورنے لگی ۔
” آپ کی لکھی اس تحریر میں کچھ غلطیاں ہیں ۔ ” پندرہ منٹ بعد جواب موصول ہوا ۔
” میں چاہوں تو اسے ایڈیٹ کر کے تھیک کر سکتا ہوں مگر اس تحریر کو خالصتا آپکا ہی ہونا چاہیے ۔ میں ان جملوں کو انڈرلائن کر دیتا ہوں جہاں غلطیاں ہیں ۔ آپ انہیں تھیک کر لیجیے گا ” اس شخص کی طرف سے یہ پیغام موصول ہوا تو منال سوچ کر جواب دیا
” آپ پلیز مجھے بتادیں کہاں غلطی ہے ۔ میں تھیک کر لوں گی “
” مجھے کچھ وقت دیں ” جواب موصول ہوا پھر دے آئی ڈی آف لائن ہو گئی ۔
منال نے موبائل بند کر کے سٹول پر رکھا جس پر بیٹھی تھی اور بنیرے تک آئی ۔
وہ خود کو ریلکس محسوس کرنے لگی تھی
کچھ ہی دیر میں اسکے گائیڈر کا میسج آئے گا اور وہ اپنی غلطیان درست کر کے قسط پوسٹ کردے گی
وہ جو سمجھ رہی تھی بہت آسان کام ہوگا اتنا آسان ہونے والا نہیں تھا ۔
اس سوچ میں ہی گم اسنے ایک طرف گردن موڑی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی
او نو !!!!
ساتھ والی عمارت کی چھت کے بنیرے پر ایک کالے رنگ کا موٹا تازہ بلا ٹہلتا ہوا اسی طرف آ رہا تھا
ایک چھلانگ کا کھیل اور وہ ہاسٹل کی چھت پر ہوتا ۔
منال واصف میں جیسے فلیش کی طاقت سما گئی
جتنی تیزی سے ہو سکے وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نیچے کی طرف بھاگی ۔
کمرے میں گھسی اور سر تک کمبل لیکر بیٹھ گئی
اففففف آخر یہ بلیاں کیوں ہے اس دنیا میں
اگر ہیں بھی تو اسکے پاس کیوں آتی ہیں ۔
یک دم شروع ہونے والی چھینکوں میں اسنے کوفت سے سوچا تھا ۔۔۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
بہار پیلس کی خوبصورت عمارے میں روعان اور حدید اپنے مشترکہ کمرے میں موجود تھے ۔
بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر بیٹھا روعان جو کافی دیر سے موبائل میں لگا ہوا تھا اسے بند کر کے سائڈ پر رکھا اور حدید کی طرف دیکھا ۔
وہ یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہوا کہ حدید علامہ اقبال والے پوز میں کسی گہری سوچ میں گم تھا
موبائل میں گیم آن تھی مگر وہ کھیل نہیں رہا تھا ۔
حدید اور سوچ بچار میں
روعان سے قطعی یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی
اسنے بیڈ سے ایک کشن اٹھا کر حدید کی طرف پھینکا
کشن حدید کو لگا تو ہڑبڑا کر سیدھا ہوا ۔
” کیا ہوا ۔ یوں دیوداس کیوں بنا بیٹھا ہے ” روعان اسکے پاس آکر بیٹھا اور پوچھنے لگا ۔
حدید نے اسے مہکشاں کی منہال کو تھپر مارنے اور مہکشاں کا اس پر بھروسہ نا کرنے والی تمام بات بتائی ۔
” مجھے تو لگا تھا ہم دوست ہیں مگر رونی وہ مجھے کوئی سمجھتی ہے ” حدید کے لہجے میں دکھ پنہا تھا
” کیا معلوم اسکے پاس ایسا کرنے کی وجہ ہو ۔ ” روعان نے سمجھانے والے انداز میں کہا ۔
” مثلا کیا وجہ ۔ ؟ ” حدید نے سوالیہ دیکھا ۔
” دیکھ یار ! وہ اپنی بیٹی کے ساتھ اکیلی رہتی ہے ۔ منہال بول بھی نہیں سکتی ۔ ہمیں نہیں معلوم مگر اسکے پاس کئی وجوہات یا مجبوریاں ہو سکتی ہیں ۔ اور میں تو کہتا ہوں مہکشاں کو واقعی کسی پر بھی یقین نہیں کرنا چاہیے ۔ “
روعان نے تفہمی انداز میں بات ختم کی تو حدید اسے گھور کر دیکھنے لگا ۔
” تو بھی سمجھتا ہے میں کسی میں شامل ہوتا ہوں ۔ ” اسنے حدید کا ہاتھ پیچھے جھٹکا اور سیدھا کھڑا ہو گیا ۔
” بس اب بہت ہوا ۔ میں مہکشاں کے پاس جاوں گا اور پوچھوں گا وہ مجھے کیا سمجھتی ہے ۔ اگر وہ واقعی مجھے کچھ سمجھتی ہے مجھ پر ٹرسٹ کرتی ہے تو تھیک ورنہ ۔۔۔۔۔ “
روعان کھڑا ہوا اور اسکی پشت پر ہاتھ رکھ کر بات کاٹی
” ورنہ تم اسکا ٹرسٹ جیتو گے ۔ “
پھر مسکرا کر سامنے آیا
” مجنوں کی اولاد اتنا ایمیوشنل نا ہو ۔ حدید بن حدید ۔ چل اب مسکرا دے ۔ ” روعان نے کہتے ساتھ اسے گدگدیاں کرنی شروع کر دیں ۔
حدید دہرا ہوتے ہوئے ہنس پڑا ۔
وہ خود بھی روعان کو گدگدی کرنے لگا ۔
” بڈی تجھے لیڈی پانڈا اچھی لگتی ہے نا ؟” کچھ دیر بعد وہ دونوں بیڈ پر نیم دراز تھے جب ہنسی پر قابو پاتے حدید نے سوال کیا ۔
” وہ اچھی لڑکی ہے ۔ ” روعان نے کندھے اچخا کر کہا ۔
” افففف یار ۔ تو مان کیوں نہیں لیتا وہ تجھے اچھی لگتی ہے ۔” حدید نے بیزاریت سے روعان کو کوسا ۔
” اچھا پھر کیا ہوگا ۔ ” روعان اٹھ کر بیٹھا اور تجسس سے سوال کیا ۔
” پھر میں اسے تیرے لیے پرپوز کروں گا اور کیا ” حدید کو تو بس اس بات کی ہی فکر تھی ۔
” اور پھر ؟
” پھر “
” اسنے انکار کر دیا تو ۔ وہ غصہ ہو گئی تو ۔ ہماری دوستی بھی نہیں رہی تو ” روعان کو خادشات لاحق ہوئے تھے ۔
” اور وہ مان گئی تو ۔ اس دن مہکشاں نے کہا تھا ڈے آر ان لو ۔ یعنی لیڈی پانڈا بھی ۔ تو مجھ سے شرط لگا لے وہ بھی تجھے پسند کرتی ہے اور اگر ایسا نا ہوا تو قسم کھاتا ہوں اپنے سارے بال اتروا دوں گا ۔ ” اس بار حدید بھی پورے چیلنجنگ انداز میں بولا
روعان کچھ بولا نہیں بس حدید کی شکل دیکھتا رہا
پھر یک دم اٹھا اور بیڈ سے موبائل اٹھا کر باہر کی طرف بڑھ گیا ۔
” کہاں جا رہا ہے ؟” حدید نے نیم دراز ہوئے ہی آواز دے کر پوچھا ۔
” کیوٹیز کے پاس ” جواب آیا ۔
کیوٹیز ۔
بلیاں
یاد آیا
اسے لیڈی پانڈا سے مکے کا بدلہ لینا تھا ۔
اس بار لیڈی پانڈا کی بڑتھ ڈے پر اسے زبردست سرپرائز ملے گا جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گی ۔
سوچ کر ہی جیسے حدید کو مزا آنے لگا تھا
وہ تصور میں ہی منال کی حالت پر محظوظ ہونے لگا ۔
بس اب اسکا گفٹ منال کی بڑتھ ڈے سے پہلے تیار ہو جائے ۔۔۔۔
روعان کیوٹیز کے کمرے میں آیا ۔
اپنی جگہ پر سوئی ہوئی لولہ کی فر پر آرام سے ہاتھ پھیرا ۔
ایک دو ہفتے بعد لولا بچے دینے والی تھی ۔
وہ آج کل کچھ زیادہ ہی خیال رکھ رہا تھا اسکا ۔
دوسری بلیاں بھی اپنے کھلونوں کے ساتھ مصروف تھیں ۔
وہ وہاں رکھی چیئر پر آکر بیٹھا اور موبائل آن کر لیا ۔
پہلے کچھ سوچنے لگا پھر تیزی سے انگلیاں چلانے لگا ۔
” تجھے لیڈی پانڈا اچھی لگتی ہے نا ” حدید کا سوال پھر سے زہن میں گردش کر گیا ۔
روعان کو علم نا ہوا مگر وہ بلش کرنے لگا تھا ۔
پھر وہ اپنے خیالات جھٹک کر مکمل انہماک سے اس کام میں مصروف ہو گیا جو وہ کر رہا تھا ۔
کچھ دیر پہلے چلنے والی سرد ہواوں کا زور کم ہو چکا تھا ۔
موسم سہانا سا ہو گیا تھا ۔
سہانا سا جیسے محبت کو خود میں سینچ لیا ہو ۔
حدید دروازہ کھول کر اندر آیا اور اسے زبردستی اپنے ساتھ باہر لے گیا ۔
” باہر موسم اوسم بنا ہوا اور تو یہاں اندر بیٹھا ہو ۔” پیلس سے باہر نکلتے حدید نے کہا ۔
اور روعان یہ دیکھ کر خوش تھا کہ حدید کا موڈ تو اچھا ہوا ۔
اسکی جگہ وہ ہوتا تو اسے بھی دکھ ہوتا مگر اسے یقین تھا مہکشاں کے پاس ایسا کہنے کی ضرور کوئی وجہ ہوگی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے
