Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

اولڈ ہاوس میں وہ ایک معمول کا دن تھا ۔
گوہر بی بی اپنی ویل چیئر پر بیٹھیں تھیں ۔
موسم بہت اچھا تھا آج ۔
ہلکی سی نمی لیے ہوئے ۔
فرحت بخشتا ہوا ۔
” آئیں گوہر بی بی باہر چلتے ہیں ۔ بہت پیارا موسم ہو رہا ہے ۔ ” مہکشاں مسکراتی ہوئی اندر آئی اور انکی ویل چیئر چلا کر باہر لے آئی ۔
پاس ہی زمین پر پیٹ کے بل لیٹی کلرنگ بک میں رنگ بھرتی منہال بھی اٹھ کر ان کے پیچھے ہو لی۔
اس جگہ کا مہکشاں کو ایک بڑا فائدہ یہ بھی تھا کہ جب چاہے منہال کو یہاں چھوڑ سکتی تھی بنا کسی پس و پیش کے ۔
باہر لان میں اہک جگہ مہکشان نے ویل چیئر روک دی ۔
ساتھ ہی رکھے بینچ پر خود بھی بیٹھ گئی ۔
منہال بھی اسکے ساتھ آکر بیٹھی اور اسکے بازو کے ساتھ سر ٹکا لیا ۔
گوہر بی بی پر شفقت نگاہوں سے منہال کو دیکھنے لگی جو اپنی ہی دھن میں کلرنگ بک میں رنگ بھر رہی تھی۔
دفعتا انکی نگاہوں میں ہمدردی چھلکنے لگی
” مہکشاں میری بچی ۔ کیا سوچا زندگی کے بارے میں ۔ ” منہال سے نظریں ہٹاتیں وہ اس سے سوال کرنے لگیں ۔
” کچھ خاص نہیں ۔ جیسے چل رہی ہے اچھی ہے ۔ ” وہ مسکراکر کندھے اچکا گئی ۔
” ایسا چلنا نہیں چاہیے نا ۔ تم ابھی جوان ہو ۔ آگے اتنی زندگی پڑی ہے ۔ ایسے اکیلے کیسے گزاروں گی زندگی ۔ ” گوہر بی بی ضعف کے باعث کانپتی ہوئی آواز میں بولیں ۔
” میں اکیلی کہاں ہوں ۔ منہال ہے ۔ اور آپ سب بھی تو ہیں میرے ساتھ ۔ ” مہکشاں نے اپنے اکیلے نا ہونے کا جواز پیش کیا ۔
” یہ میں بھی جانتی ہوں اور تم بھی کہ اتنے لوگوں کے ہونے کے باوجود بھی تم اکیلی ہو ۔ ہم سب تمھاری زندگی میں وہ کمی پوری نہیں کر سکتے جو ایک شخص کر سکتا ہے ۔ اتنی لمبی زندگی میں ہم سب کچھ وقت کے ساتھی ہیں مگر تمہیں تا عمر کے ساتھ کی ضرورت ہے ۔ تمہیں اپنے لیے ایک مرد کی ضرورت ہے ۔ جو تمھارا خیال رکھے ۔ زندگی میں تمھارا ہم سفر بنے ۔ ” وہ اسے سمجھاتے ہوئے سانس لینے کو رکیں ۔
اور مہکشان نے حلق میں اٹکی ہوئی سانس بحال کی تھی ۔
” زندگی نے مجھے ایک ہمسفر دیا تھا ۔ وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا ۔ اب مجھے کسی دوسرے ہمسفر کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں خود کا اور منہال کا خیال رکھ سکتی ہوں ۔ میں ان کمزور عورتوں میں سے نہیں ہوں جنہیں زندگی جینے کے لیے مرد کا سہارا چاہیے ہوتا ہے ۔ ” آنکھ میں امڈ آئی نمی کو بہت مہارت سے اندر انڈیل کر وہ مضبوط لہجے میں بولی تھی ۔
” تمہیں ضرورت نا ہو مگر منہال کا ہی سوچ لو ۔ اسے باپ کی کمی محسوس نہیں ہوتی ہوگی ۔ کیا اسے باپ کی ضرورت نہیں ہے ۔ ” گوہر بی بی کی بات پر منہال نے انہیں دیکھا اور مسکرائی ۔ جیسے انکی بات سے اتفاق کیا ہو ۔
مہکشان نے پیار سے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور گہرا سانس لیکر بولی ۔
” کیا کوئی دوسرا شخص منہال کو قبول کرے گا ۔ کیا وہ اسے سگے باپ کی طرح محبت کرے گا ۔ نہیں ۔ کوئی ایسا نہیں کرے گا ۔ میں خود کے لیے منہال کو چھوڑ نہیں سکتی ۔ ہر گز نہیں ۔ ” مہکشاں جیسے فیصلہ کرتے ہوئے بولی ۔
” اور اگر کوئی ایسا مل جائے تو ۔ ” گوہر بی بی امید سے پوچھنے لگی ۔
مہکشاں نے جواب نہیں دیا ۔
وہ پر سوچ انداز میں اپنا ہونٹ کاٹنے لگی ۔
” میری بچی اللہ بہت رحیم ہے ۔ وہ بہت بڑا کارساز ہے ۔ وہ ایک در بند کرتا ہے تو دس اور کھول دیتا ہے ۔ تمھاری زندگی میں آنے والا اگر ایک شخص اللہ کی رضا سے تم دونوں سے دور ہو گیا ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ تمھاری زندگی میں کسی دوسرے شخص کی جگہ نا ہو ۔ کیا معلوم اللہ نے تمھارے لیے بہترین فیصلہ کر رکھا ہو ۔ ” گوہر بی بی نے اسکا ہاتھ اپنے ضعیف ہاتھوں میں تھاما ۔
مہکشاں یاسیست سے مسکرائی ۔
ایک آنسو ٹوٹ کر آنکھوں سے بہا ۔
” کیا یہ آسان ہوگا ۔ کیا یہ آسان ہوگا کہ میرے دل میں جو شخص بستا ہے میں اسکی جگہ کسی دوسرے کو دے دوں ۔ کیا یہ محبت میں خیانت نہیں ہوگی ۔ ” وہ بولی تو جیسے اسکے گلے میں پھانس اٹکی تھی ۔
” میری دلاری میں سمجھ سکتی ہوں ۔ میں ہر گز یہ نہیں کہہ رہی تم اسکی محبت اپنے دل سے ختم کردو ۔ وہ تمھارا شوہر ہی نہیں تمھاری بیٹی کا باپ بھی تھا ۔ اسکی جگہ تمھارے دل میں کبھی تبدیل نہیں ہوگی ۔ میں یہ بھی نہیں کہتی کہ کسی اور سے محبت کرو ۔ بس ان بوڑھی آنکھوں کی خواہش ہے تمہیں دوبارا اپنے گھر کا ہوتے ہوئے دیکھنا ۔ میری بچی میں سکون سے مر سکوں گی جب تمہیں اور منہال کو محفوظ ہاتھوں میں دیکھوں گی ۔ اسے تم میری خواہش ہی سمجھ لو ۔ ” گوہر بی بی اس سے فریاد کرتی ایک دم رو پڑیں تو مہکشاں تیزی سے انکے سامنے آکر بیٹھی ۔
” ارے آپ رونے کیوں لگی ۔ ” مہکشاں فکر مندی سے انکے آنسو پہنچنے لگی۔
گوہر بی بی نے اسکے ہاتھ تھامے ۔
” میری بچی میں تمھیں اپنے گھر کا ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں ۔ کیا اپنی بوڑھی ماں کی یہ خواہش پوری نہیں کرو گی۔ ” وہ اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے بڑے مان سے کہنے لگیں ۔
مہکشاں نے انکے جھریوں زدہ ہاتھوں کی پشت پر بوسے دیے اور آنکھوں پر لگائے ۔
” میری پیاری اماں آپ کے لیے میری جان بھی حاضر ہے ۔ آپ جس سے چاہیں گیں مجھے منظور ہوگا ۔ میری بس ایک شرط ہے کہ وہ منہال کو قبول کرے ” مہکشاں سے گوہر بی بی کے آنسو دیکھے نا گئے ۔
گوہر بی بی کے چار بیٹے تھے ۔ شادی کے پینتیس سال آرام سے گزرے ۔ شوہر کی موت ہو گئی ۔ بیٹوں کو ماں بوجھ لگی تو اولڈ ہوم میں ڈال دیا ۔ بیٹوں کی شادی انکی خوشیاں ۔ انکے بچے سب ارمان دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ کسی ایک نے بھی پلٹ کر نا دیکھا ۔
آج انہیں یہاں چالیس سال ہونے کو تھے ۔ انکی زبان سے آج تک بیٹوں کا زکر ہوتا ۔اور بیٹے ایسے تھے کہ بھول سے بھی ماں کی خبر گیری نہیں کی ۔ گوہر بی بی بہت صابر خاتون تھیں ۔ کبھی گلہ نہیں کرتی تھیں ۔ بلکہ دعا کرتیں کہ انکے بیٹے جہاں بھی ہوں خوش ہوں ۔
” انشاللہ انشاللہ ۔ تم ارادہ کرو ۔ اللہ اسباب پیدا کرے گا ۔ تمھارے لیے اسنے بہتر مرد ضرور چن رکھا ہوگا ۔ اللہ سے امید رکھو ۔ ” گوہر بی بی آنسووں کے درمیان مسکرائی تھیں ۔
مہکشاں بھی مسکرائی ۔
” میں اپنے بچوں کی شادیاں تو نا دیکھ پائی ۔ تمھاری دیکھ لوں گی تو سکون سے مر سکوں گی ۔ ” وہ ایک بار پھر موت کا زکر کر گئیں تو مہکشاں نے ناراضی سے انہیں دیکھا ۔
” اب آپ نے دوبارہ مرنے کی بات کہی تو کوئی بات نہیں مانوں گی آپ کی ۔” چہرے پر سخت ناراضی کے آثار سجائے وہ کہنے لگی تو گوہر بی بی مسکرادی ۔
” اللہ نے مجھے بیٹی عطا نہیں کی ۔ چار بیٹے ہوئے تو خاندان میں بہت دھوم تھی ۔ بیٹوں کی ماں ہے ۔ بہت عزت تھی ۔ خود پر بھی فخر ہوتا تھا ۔ بیٹے بڑھاپے کا سہارا بنے گے ۔ بیٹی کی خواہش خود بھی کبھی نہیں کی ۔ بس یہ ہی سوچا دوسرے گھر چلے جائے گی ۔ وہ کیا سہارا بنے گی ۔ میں غلط تھی ۔ کاش میرے چار بیٹے نہیں بس تمھاری جیسی ایک بیٹی ہوتی ۔ “
” میں آپکی بیٹی ہی ہوں ۔ ” مہکشاں اٹھ کر کھڑی ہوئی اور انکے گرد اپنے بازوں حائل کیے ۔
گوہر بی بی نے آنکھیں بند کر کے سکون اندر سمیٹا تھا ۔
” میں کل ایڈمیشن کے لیے جا رہی ہوں ۔ ” پیچھے ہوتے ہوئے اسنے اطلاع دی ۔
” اللہ تمہیں کامیاب کرے ۔ ” گوہر بی بی کے دل سے دعا نکلی ۔
” پھر تم شاپ کا کیا کرو گی ۔ وہ کیسے دیکھوں گی ۔ “
” آپ فکر نا کریں میں سنبھال لوں گی ۔ ” وہ پر عزم طرقے سے بولی ۔
وہ بائیس سال کی تھی ۔
وہ جو کبھی ڈری سہمی سے رہتی تھی
اپ پہاڑ سر کرنے کا جزبہ رکھتی تھی ۔
اور یہ جزبہ اسے صرف ایک شخص نے دیا تھا ۔
اسکے شوہر نے
وہ شخص جو اچانک ہی اسکی زندگی میں آیا تھا ۔
مگر صد افسوس بہت جلد اس سے چھین بھی لیا گیا تھا ۔
گوہر بی بی کو واپس اندر چھوڑ کر وہ اولڈ ہوم سے نکل گئی ۔
اسے ایک جگہ پھولوں کی ڈلیوری کرنی تھی ۔
منہال کو اولڈ ہوم ہی چھوڑ دیا تھا ۔
منہال اپنی کلرنگ بک گوہر بی بی کو دیکھانے لگی جسے کمزور نظر کے باعث وہ بہت مشکل سے دیکھ پا رہیں تھیں ۔
ان بوڑھی عورتوں کے درمیان وہ بے زبان بچی بہت آرام سے رہ لیتی تھی ۔۔۔۔
وہ ایک چھوٹا سا گھر تھا مگر بہت خوبصورت تھا ۔ مہکشاں نے بہت پیار سے ایک ایک چیز کو سجایا تھا ۔
گھر کے ساتھ ہی فلاور شاپ تھی ۔
اپنے اور منہال کے خرچے پورے کرنے کے لیے اسے یہ شاپ بہت مدد دیتی تھی ۔
منہال اور اولڈ ہوم میں رہنے والی عورتوں کے علاوہ اسکا اور کوئی نہیں تھا ۔
وہ بہت اچھے سے پھولوں کا خیال رکھتی تھی ۔
انہیں آڈر پر بھی ڈلیور کرتی تھی ۔
فنکشن وغیرہ پر سجاوٹ بھی کرتی تھی ۔
اسنے نیٹ پر اشتہار بھی دے رکھا تھا ۔
یہ کام وہ چار سال سے کر رہی تھی ۔
ایک سائیکل جو اسکے شوہر نے اسے گفٹ کی تھی
وہ ڈلیوری اسی سائیکل پر کرتی تھی ۔
کہیں آنے جانے کے لیے بھی وہی سائیکل استعمال کرتی تھی ۔
وہ اپنی زندگی سے مطمائن تھی ۔
مگر یہ بات تو وہ جانتی تھی وہ اپنی زندگی میں خلا محسوس کرتی تھی ۔
کیا اسکی زندگی میں کوئی آنے والا تھا جو اس خلا کو دور کرے گا ۔
تیزی سے آڈر کیے ہوئے پھول ٹوکری میں رکھتے ہوئے وہ دکان سے باہر نکلی ۔ باہر سٹینڈ پر رکھے گلاب کے پھولوں کو یونہی چھوا ۔ کوئی لمس محسوس کیا ہو جیسے ۔
کسی یاد کو جیا ہو جیسے ۔
گلاب کی بھینی خوشبو اپنے اندر اتارتی وہ ایک نئے دن کا آغاز کرتی سائیکل کو پیڈل مارتی نکل گئی ۔
اس بات سے بلکل انجان کوئی اسے بہت محبت سے کھوئے کھوئے انداز میں دیکھ رہا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
گرلز ہاسٹل کا ماحول روز کے مطابق تھا ۔ ظہر کا وقت تھا ۔ جمعہ کا دن تھا ۔ فرح سکول سے جلدی آ گئی تھی ۔
وہ نماز پڑھ رہی تھی ۔
ہمیشہ کی طرح وہ مکمل حجاب میں تھی ۔ ایک بال بھی نہیں دکھتا تھا ۔ روشن چہرا
پاکیزہ دامن ۔۔۔۔۔
ہاسٹل کے سامنے ایک گاڑی آکر رکی ۔
ڈرائیور نے اتر کر پچھلا دروازہ کھولا ۔
لڑکیاں حیرت سے دیکھنے لگی ۔ یہاں کبھی کوئی گاڑی آکر ایسے نہیں رکی تھی ۔
گاڑی کے اندر سے بہار جان باہر نکلی ۔ وہ اپنے پہناوے اور ڈھنگ سے اعلی گھرانے کی لگ رہیں تھیں ۔
لڑکیوں میں چے مگوئیاں شروع ہو چکیں تھیں ۔
بہار جان کا اشارہ پاتے ہی ڈرائیور اندر کی طرف بڑھ گیا ۔
بہار جان اپنی سٹیک زمین پر جمائے ہاسٹل کا بیرونی جائزہ لینے لگی ۔
سالار کی بھلائی کے لیے انہیں دنیا کے کسی کونے میں بھی جانا پڑے وہ ضرور جائیں گی ۔
(” آپ دونوں نے مارا ہے ماما اور بابا کو ۔ آپ نے انہیں جانے دیا ۔ انہیں نہیں روکا ۔ وہ آپ لوگوں کی وجہ سے مرے ہیں ۔ ” یہ بہار پیلس پر اترے سانحے سے دو ہفتے بعد کی بات تھی ۔
سر پر چوٹ آنے کی وجہ سے دو دن ہاسپیٹل ایڈمت رہ کر سالار واپس گھر آ گیا تھا ۔
وہ گم سم اور سہما ہوا تھا ۔
کوئی بات نہیں کرتا تھا ۔
بات بات پر بری طرح چونک جاتا
مگر اس دن اسے ناجانے کیا ہوا وہ پھٹ پڑا ۔ ۔
” آپ دونوں بہت برے ہیں ۔ مجھے نفرت ہے آپ دونوں سے۔ ” حلق کے بل چلاتے ہوئے سالار نے بہار جان اور شہوار دونوں کو موردلازام ٹھہرایا اور بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا اور دروازہ زور سے دے مارا ۔
اسکا رویہ بہت تبدیل ہو چکا تھا ۔
وہ حساس تو تھا ہی
مگر اب ضدی اور بدتمیز ہو گیا تھا ۔
وہ کم عمر تھا ۔
وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کیا کر رہا ہے ۔
وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا اسکا یہ رویہ یہ الزام شہوار اور بہار جان کو کتنی اذیت دے رہا ہے ۔
شہوار اور بہار جان سکتے کے عالم میں ہی رہ گئے ۔
اس روز شدت سے یہ محسوس کیا گیا تھا کہ صرف عالم شاہ اور ثمرین شاہ کو ہی نہیں وہ سالار کو بھی کھو چکے ہیں ۔ )
” میڈم آئیے اندر چلیں ۔ ” ڈرائیور کی آواز پر بہار جان اذیت ناک یاد سے نکلی ۔
پھر سر اثبات میں سر ہلاتی اندر بڑھ گئی ۔
انہیں میٹنگ روم میں بٹھایا گیا ۔
ہاسٹل کی مینیجر رابعہ خود انکی مہمان نوازی کرنے لگی ۔
” آپ نے مجھے بلوا لیا ہوتا ۔ “
” ہمارا مقصد یہاں خود آنے پر ہی پورا ہوگا ۔ آپ فرح نام کی لڑکی کو بلوادیں ۔ ہمیں بہت ضروری کام ہے اس سے ۔ ” بہار جان نے بنا تاخیر کیے مطالبہ رکھا تو رابعہ سر اثبات میں ہلاتی میٹنگ روم سے نکل گئی ۔
بہار جان صوفے پر بیٹھ اس لڑکی کا انتظار کرنے لگیں جس کی دعا یقینا انکے پوتے کی زندگی سنوارے گی ۔
مسجد سے سلام پڑھنے کی آواز آ رہی تھی ۔ بہار جان آنکھیں موندھے دل ہی دل میں اپنے رب کے حضور مہو دعا تھیں ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕موجودہ دن کی صبح ۔۔۔۔
حدید کاوچ پر بیٹھا ہاتھ میں گیم کنٹرولر پکڑے گیم کھیل رہا تھا ۔ ساتھ ساتھ کبھی جوش میں آکر یا ہو کی آواز نکالتا
تو کبھی ہارنے پر او شٹ کہتا ۔
ساتھ ہی کوشن رکھے ایک کتاب سامنے رکھے روعان اسے پر نظریں گاڑھے ہوئے تھا ۔
پاس بیٹھی لولا کی کمر کو بھی سہلاتا تھا ۔
” اور جانی کہاں تک پہنچی تمھاری کھوج ” حدید گیم کو کوئی ستروی بار کھیل کر تھک چکا تو بند کر کے بازوں کھولتے ہوئے انگڑائی لیتے ہوئے بولا ۔
روعان نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور گہری سانس لی ۔
” وہ کوئی بات ہی نہیں کرتیں ۔ بس خاموشی سے چھت کو گھورتی رہتی ہیں ۔ کوئی اشارہ بھی نہیں دیتی ۔ “
روعان نے تھک سے کتاب بند کی اور اٹھ کھڑا ہوا ۔
حدید نے کچھ دیر ہونٹ کاٹتے ہوئے اسے دیکھا ۔
” اگر وہ بوڑھی عورت بولتی بھی ہے تو تم کیا سننا چاہو گے اس سے ” وہ خود بھی اسکے پاس آیا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھنے لگا ۔
” یہ ہی کہ وہ کون تھی جو مجھے اسکے پاس چھوڑ گئی ۔ اور میرا کیا رشتہ ہے اس سے ۔ ” ہمیشہ کی کہنے جانے والی بات ایک مرتبہ پھر دہرائی گئی ۔
” اس میں ایسی کیا بات ہے ۔ میں بتا دیتا ہوں ۔” حدید ناک سے مکھی اڑانے کے مترادف بولا ۔
” وہ عورت تمھاری ماں ہوگی ۔ وہ بوڑھی بیمار عورت جو کہ ہندو معلوم ہوتی ہے وہ تمھاری ماں کی ماں ہو گی ۔ اب اس میں ٹینشن والی کیا بات ہے ۔ ” حدید واقعتا کوفت سے بولا تھا کیونکہ روعان کا اس بات کو لیکر پریشان رہنا اسے الجھا رہا تھا ۔
روعان کچھ بولا نہیں ۔ بس سوچتا رہا ۔ ۔
” کوئی عورت اپنی ہی بیٹی کو برا بھلا کیوں کہے گی ۔ اسے بد دعائیں کیوں دے گی ۔ کوئی عورت اپنی ہی بیٹی کے بچے کو برا بھلا کیوں کہے گی ۔ اسے گالیاں کیوں دے گی ۔ ” روعان نے جھک کر لولا کو اٹھایا اور خود کلامی کے انداز میں بولا ۔
حدید نے افسوس سے اسے دیکھا ۔
” وہ اپنی بیٹی سے ناراض ہوگی یار ۔ چل بس کر دے ۔ بھول جا ۔ اب یہ ہی تیرا گھر ہے ۔ ہم سب تیرے اپنے ہیں ۔ بھول جا وہ بوڑھی عورت کیا کرتی تھی ۔ کیوں کرتی تھی ۔ ” حدید نے اسکا چہرا اپنے ہاتھ سے اپنی طرف کرتے ہوئے منت کی تھی ۔
روعان ہلکا سا مسکرایا ۔
” میں بہت مس کرتا ہوں وہ ڈانٹ ۔ وہ مار ۔ وہ گالم گلوچ ۔ وہ بد دعائیں ۔ ” ایسے ہی مسکراتے ہوئے وہ کہنے لگا ۔ ۔
” ایسا ہے تو میں تیری یادیں تازہ کر دیتا ہوں ۔ ” حدید نے دانت پیس کر کہا اور اگلے ہی لمحے روعان کے جبڑے پر مکا مارا ۔
” لعنتی منہوس ۔ بے غیرت ۔ وہ کرم جلی چھوڑ گئی تجھے میرے سر پر ۔ بے حیا بے شرم ” مزید ایک تھپر اسے گال پر سونلتے ہوئے وہ ہندو عورت کی نکل کرتے ہوئے سینے پر ہاتھ مارتا دہائیاں دیتے ہوئے بولا ۔
” تجھے کیڑے پڑیں ۔ تو نرگ میں جلے ۔ تیرے ہاتھ ٹوٹے ۔ ” وہ ایکٹنگ کی ٹانگ توڑتے ہوئے مسلسل روعان کے سینے پر ہاتھ مار رہا تھا جبکہ روعان بامشکل اسکی اعلی درجے کی ٹھرڈ کلاس ایکٹنگ پر اپنی ہنسی روک پا رہا تھا ۔
ایک دو بار اسنے حدید کو روکا بھی مگر اس میں ہندو عورت کی روح گھس چکی تھی جو آسانی سے نہیں نکل سکتی تھی ۔
” لو لیٹر چل کہیں باہر چلیں ۔ ” تقریبا آدھے گھنٹے بعد حدید نے بور ہوتے ہوئے کہا ۔ وہ اپنا لاکٹ دانتوں میں چبا بھی رہا تھا ۔
” تم جاو مجھے لولا کو چیک اپ کے لیے لے جانا ہے ۔ ” روعان نے لولا کو بیڈ سے اٹھاتے ہوئے اسکے گال پر چٹکی کاٹی ۔
” اوئے اسکے بچے کب ہونگے ۔ مجھ سے تو انتظار نہیں ہوتا ۔ ” حدید پر جوش انداز میں بولتے ہوئے لولا کو گدگدی کرنے لگا ۔
” اب مجھے کیا پتا ۔ جب ہونے ہوں گے ہو جائیں گے ۔ ” سرسری سا کہہ کر روعان باہر نکل گیا ۔ ۔
” اچھا کتنے ہونگے ویسے ۔ چار چھ آٹھ ” حدید بھی اسکے پیچھے لپکا ۔
” جب ہونگے پتا لگ جائے گا ۔ تم یہ سٹوپڈ سوال کیوں پوچھ رہے ہو ۔ ” روعان کو اسکے بے تکے سوال تنگ کر رہے تھے ۔ ۔۔
” وہ میں پہلی بار کسی بلی کو ماں بنتے ہوئے دیکھ رہا ہوں نا ” حدید نے بڑی سے بتیسی نکال کر کہا تو روعان کا قہقہہ چھوٹا ۔
” تم پر کریڈٹ باقی ہے اس پنچ کا ۔ ” اپنی ہنسی روکتے ہوئے روعان نے حدید کا گال اپنی انگلیوں سے مسلتے ہوئے یاد دہانی کروائی
وہ اس مکے کی بات کر رہا تھا جو کچھ دیر پہلے حدید نے اسے مارا تھا ۔
” ہارٹ بیٹ ایک چھوڑ تو دو مار لی ۔ مگر آہستہ سے ماری پلیز ۔۔ ۔ !” حدید کا جملہ میں ہی کچلا گیا جب روعان نے زور دار مکا اسکے منہ پر جڑا ۔ ۔
” آج کا حساب آج ہی پورا ۔ نو ادھار ” ہیرو کے سٹائل میں روعان نے مکے پر پھونک ماری اور لولا کو لیے آگے بڑھ گیا ۔
حدید نے ہاتھ رکھ کر اپنا جبڑا سہلایا ۔
روعان نے پہلی بار اسے مارا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں تھا اسکا ہاتھ بہت بھاری پڑا تھا
ایک پل کو حدید کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ یہ جانتا تھا بوڑھی بیمار ہندو عورت کون تھی ۔ وہ یہ بھی جانتا تھا وہ کرم جلی کون تھی ۔
اسکی ماں اور نانی اگر ہندو تھیں تو کیا وہ بھی ہندو تھا ۔
اسکا کوئی نام نہیں تھا ۔ کوئی شناخت نہیں تھی ۔
روعان یہ نام اسے بہار جان نے دیا تھا ۔
حدید کی طرح اسنے اپنے نام کے ساتھ بھی حیدر کو سر نیم کے طور پر لگا لیا
مگر اسکی اصل پہچان کیا تھی ۔
یہ وہ واحد معمہ تھا جو روعان حیدر کو الجھا کر رکھتا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
وہ بور ہو رہا تھا ۔ روعان لولا کے ساتھ لگا ہوا تھا ۔ بہار جان بھی کہیں گئیں ہوئی تھیں ۔
ایسے میں حدید حیدر کے خیالوں میں زور وشور سے ایک چہرا آ رکا ۔
وہ خوبصورت چہرا
وہ پری رخ
جس پر وہ تن من سے فدا ہو گیا تھا ۔
جس نے راتوں کی نیند چرا لی تھی ۔
جس نے سکون بے حال کر رکھا تھا ۔
حدید سائیکل نکال کر اسے سڑک پر بھگانے لگا ۔
اسکا رخ غیر ارادی طور پر اس سڑک کی طرف تھا جہاں وہ اس لڑکی سے ٹکڑایا تھا ۔
وہ اسی جگہ آکر رکا ۔ سب فلم کی طرح چلنے لگا کسی نے ریوائنڈ بٹن دبا دیا ہو جیسے۔
اسنے یاد کرنے کی کوشش کی ۔ لڑکی کس طرف گئی تھی ۔
پھر اپنی سائیکل کے ہی نہیں زندگی کے پہیے بھی اسی طرف پھیر دیے ۔
وہ پیڈل کر رہا جب ایک دم سے سائیکل کی چین اتر گئی ۔
حدید نے اتر کر چین سیٹ کی ۔
وہ جیسے ہی کھڑا ہوا ایک منظر نے اسکے سارے منظر قید کر لیے ۔
اسکے سامنے پھولوں کے درمیان کھڑی وہ لڑکی پھول ہی لگ رہی تھی ۔ وہ گلاب کو چھوتے زرا سا مسکائی تھی ۔
حدید کے ہونٹ بھی مسکراہٹ میں ڈھلے ۔ دنیا اپنی گردش میں تھی مگر اسکی دنیا رک چکی تھی ۔
وہ مکمل طور پر اس حسین منظر میں کھو چکا تھا ۔
وہ مکمل طور محبت کے حصار میں قید ہو چکا تھا ۔
مہکشاں سائیکل کو پیڈل مارتی وہاں سے چلی گئی مگر حدید بہت دیر تک اسی منظر کا ہی ہو کر رہ گیا ۔
وہ قریب آیا اور اسی پھول کو چھوا جسے مہکشاں نے چھوا تھا ۔
اس پھول میں مہکشاں نے بھی کسی کا لمس تلاشا تھا
اسی پھول میں حدید نے بھی مہکشاں کا لمس محسوس کرنا چاہا تھا ۔
وہ بہت پیار اور پر جوشی سے ایک ایک چیز کو دیکھنے لگا ۔
جس سے محبت ہو صرف وہ ہی نہیں اس سے مانوس ہر چیز بھی پیاری لگتی ہے اور کوئی اس وقت حدید حیدر سے پوچھتا اسے یہ سب پھول کتنے پیارے لگ رہے تھے ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
ابراہیم صاحب کی طبیعت ان دنوں کچھ زیادہ خراب رہ رہی تھی ۔ ان کو پریشال کی فکر ستا رہی تھی ۔
وہ چاہتے تھے وہ اسکی شادی اپنے ہاتھوں سے کر دیں ۔
اسی مقصد کے لیے انہوں نے نور جہاں آنٹی کو بھی کہہ رکھا تھا ۔
ایک دو لوگ آئے پریشال کو دیکھنے مگر جب معلوم ہوا وہ چھوٹی موٹی ایکٹنگ کرتی ہے تو منع کر گئے ۔
پریشال کو کوئی فکر نہیں تھی مگر ابراہیم صاحب اسکے لیے گھلتے رہتے تھے ۔
رات کا وقت تھا ۔
کمرے کی زرد بتیاں روشن تھیں ۔
وہ آج ہمیشہ کی طرح پیدل مارچ پر نہیں نکلی تھی ۔
وہ اس روز اپنے کمرے میں تھی ۔
سامنے لیپ ٹاپ کھلا تھا ۔
سکرین پر میگزین کی تصویر آ رہی تھی ۔
( نائٹ کلب اپنے ادھم زدہ ماحول میں مکمل رچا بسا تھا ۔
کاونٹر پر کوئی بیٹھا تو کوئی کھڑا تھا ۔
ایک سٹول پر سالار بیٹھا تھا ۔
حنین کے ساتھ ہونے والے کار ایکسیڈنٹ کے بعد وہ آج نائٹ کلب آیا تھا ۔
حنین سے اسکی پھر ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔
حنین کی ماں نے ملنے نہیں دیا تھا ۔
سب لوگ تھرک رہے تھے مگر صرف وہ ساکت بیٹھا تھا ۔
موبائل سکرین پر دیکھتے ہوئے اسکے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ در آئی
” تو مس پریشال ابراہیم بہت پرسا بنتی ہو تم۔ یہ ہے تمھاری پارسائی ۔ یہ ہے تمھاری اوقات ۔ تمھاری اوقات میں تمہیں یاد کرواوں گا ۔ یو بلیڈی بچ ۔ ” وہ ہونٹ کاٹتے دل ہی دل میں بولا تھا ۔ ساتھ سر بھی جھٹکا تھا ۔ )
پریشال نے سکرین پر نظر آتے اپنے بولڈ فوٹو شوٹ کو دیکھتے ہوئے گہرے سانس اندر اتارے تھے ۔
یوں تو وہ میگزین زیادہ مشہور نہیں تھا مگر اسے ڈر تھا کہیں ابراہیم صاحب نا دیکھ لیں ۔
ہاں وہ برقعہ پردہ کرنے والی لڑکی نہیں تھی مگر وہ ایسی بھی نہیں تھی کہ بلکل ہی بے لحاظ ہو جائے ۔
( موبائل پر ہی نظریں گاڑھے ہوئے سالار نے دو چار بٹن دبائے ۔ اسنے پریشال کی تصویر کسی کو سینڈ کی تھی ۔
” مجھے اسکی مکمل آٹو بائیو گرافی چاہیے ۔ ” میسج ٹائپ کیا اور سینڈ کر دیا ۔
اگلے ہی سیکنڈ اوکے کا انگوٹھا سکرین پر لہرایا ۔
سالار کے چہرے پر اس وقت صرف بدلے کا جنون تھا ۔
اور ایک تمکنت کے احساس سے اسکا چہرا سرخ ہو رہا تھا ۔
وہ تھپر آج بھی اسکے گال پر نقش تھا
وہ تھپر جو پریشال یکثر محو کر چکی تھی ۔
سالار نے موبائل جیب میں ڈال لیا۔
کاونٹر پر رکھے گلاس سے دو گھونٹ بھرے ۔
کڑوا پانی ہلق میں اترتا عجیب سا خمار دے گیا ۔)
پریشال نے لاپ ٹاپ بند کیا اور گہری سانس لیکر اٹھ کھڑی ہوئی ۔
شیشے میں نظر آتی ایک مختلف ناراض سی پریشال کے عکس کو نظرانداز کرکے باہر نکل گئی ۔
وہ ابراہیم صاحب کے کمرے میں آئی ۔
وہ سو چکے تھے ۔
پریشال نے ان کی چادر درست کی ۔
باہر آئی اور چھت کی طرف بڑھ گئی ۔
گرم شال کاندھوں پر ڈال رکھی تھی ۔
چاند مکمل نکلا ہوا تھا ۔
خوبصورت چاند ۔
پریشال چاند کو دیکھنے لگی ۔
” میری پری کے لیے سپنوں کا راج کمار آئے گا ۔ ” ملیحہ ابراہیم نے ایک بار پیار سے زکر کیا تھا ۔
اور اس وقت پریشال کے زہن میں ایک خاکہ سا بنا۔
کیا واقعی اسکے سپنوں کا راج کمار آئے گا ۔ وہ کیسا ہوگا ۔ وہ اس سے کیسے محبت کرے گا ۔ وہ اسے کیسے چاہے گا ۔ وہ چھبیس سال کی تھی مگر اب تک اسنے محبت کا زائقہ نہیں چھکا تھا ۔ آج تک کوئی ایسا ملا ہی نہیں تھا جسے دیکھتے ہی دل نے
اٹ از پرفیکٹ کہا ہو ۔
آج دل نے کہا تھا چلو یہ ذائقہ بھی چکھ کر دیکھتے ہیں ۔
وہ اس رات کافی دیر تک اس شخص کے بارے میں سوچتی رہی جسے اسکے لیے بنایا گیا تھا ۔ جسکی محبت پر صرف پریشال کا حق تھا ۔
پریشال کے لیے محبت کا ذائقہ کیسا ہونے والا تھا ۔
میٹھا یا کڑوا
یہ تو وقت کی تھال پر رکھی قسمت میں ہی رچا ہوا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے