Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

شام کے سائے لہرانے لگے تھے ۔ موذن مغرب کی اذان کہہ کر خاموش ہوا تھا ۔
مساجد میں مرد اور گھروں میں عورتیں وثوق کے ساتھ نماز ادا کر رہی تھیں ۔
ایسے میں وہ ایک شہر کا ایک نچلے طبقے کا محلہ تھا ۔
محلے کی وہ تنگ سی گلی تھی ۔
روعان حیدر گلی کے سرے پر کھڑا تھا ۔
اسکا بچپن ان گلیوں میں ہی گزرا تھا ۔
گلی میں ایک گھر تھا ۔
اس گھر میں رہنے والی عورت ہندو تھی ۔
روعان نے اس گھر میں آنکھیں کھولیں تھیں ۔
وہ عورت اسے مارتی پیٹتی تھی
لعن طعن کرتی تھی ۔
اسکا بچپن ان ہی گلیوں میں گزرا تھا یہاں تک کہ ایک روز وہ حدئد حیدر سے ملا ۔
روعان گلی میں آگے بڑھتا گیا ۔
ماضی سایوں کی طرح پیچھے کی طرف گزرتا جا رہا تھا ۔
وہ گھر میں داخل ہو گیا ۔
اندر ایک چھوٹا سا برآمدہ تھا ۔
برآمدے میں چارپائی بچھی تھی ۔
چارپائی پر لاغر سی فالج زدہ عورت لیٹی تھی ۔
وہ سنوالے رنگ کی ہندو عورت تھی ۔
روعان سیدھا کچن میں چلا آیا ۔
وہ پانی کا گلاس لیکر آیا۔
وہ جانتا تھا کہ وہ عورت پیاسی ہوگی ۔
اسنے عورت کو بٹھا کر پانی پلایا ۔
اسکے بعد روز کی طرح گھر کی صفائی اور عورت کے کھانے پینے کے کام کیے ۔
اپنے ہاتھ سے نوالے بنا کر اسکے منہ میں ڈالے ۔
وہ اسے کھانا کھلاتا جاتا اور ہندو عورت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ۔
جو سلوک وہ اسکے ساتھ کرتی تھی اسکا بدلہ یہ تو نہیں تھا جو وہ دے رہا تھا ۔
عورت کے گلے میں پھانس سی اٹکی ۔
اسنے بامشکل اپنے لاغر ذدہ ہاتھ روعان کے سامنے جوڑے ۔
بن کہے بھی روعان اسکی بات سمجھ گیا ۔
” یہ آپکے سلوک کا بدلہ نہیں ہے ۔ یہ بہار جان کی تربیت ہے ۔” روعان نے عورت کے ہاتھ اپنے ہاتھوں سے نرمی سے کھول دیے ۔
عورت ایک بار پھر رونے لگی ۔
دفعتا اسکا سانس پھولنے لگا ۔
روعان بھاگ کر پانی لے آیا مگر وہ ایک جانب اشارہ کرتی رہی۔
روعان نے اسے سنبھالنے کی کوشش کی مگر اسکے دیکھتے دیکھتے ہی وہ مخصوص طرف اشارہ کرتی دم توڑ گئی ۔
دس سال سے معزور اور لاغر پڑی عورت کو آج تکلیف سے آزادی مل گئی تھی ۔
روعان کے بازووں میں اب ایک مردہ وجود جھول رہا تھا جو کہ پہلے ہی لاغر سا تھا ۔
بہت دیر بعد اسکا سکتہ ٹوٹا تو اسنے اپنے چہرے پر آنسو لڑکھتے محسوس کیے ۔۔۔۔
ہندو عورت کی آخری رسم ادا کر دی گئی ۔
اسی شام وہ دوبارہ اور شاید آخری بار اس گھر میں آیا ۔
چارپائی کھالی تھی ۔
وہ چارپائی پر بیٹھا اور ہاتھوں میں منہ چھپا کر رونے لگا ۔
وہ نہیں جانتا تھا یا اس بارے میں پر یقین نہیں تھا کہ اس عورت سے اسکا کیا رشتہ ہے مگر اسے بہت تکلیف ہو رہی تھی ۔
کافی دیر تک روکر خود کو ہلکا محسوس کرنے لگا تو عورت کا اشارہ یاد آیا ۔
اس جگہ پر ایک صندوق رکھا تھا ۔
روعان نے صندوق کھولا تو کونے میں ایک کاغز لپٹا ہوا ملا ۔
روعان نے کاغز کھولا ۔
وہ تحریر ہندی میں تھی ۔
ایک اندیشے نے بری طرح اسکا دل بھینچا ۔
روعان نے کاغز لپیٹ کر پینٹ کی پاکٹ میں ڈال لیا ۔
وہ کھڑا ہوا باہر نکل گیا ۔
رات پھیل چکی تھی ۔
روعان تیزی سے قدم اٹھا رہا تھا ۔
دماغ میں ایک بھنور سا چل رہا تھا ۔
جو وہ سوچ رہا تھا ویسا بلکل نا ہو ۔
اور اگر ویسا ہوا تو ۔۔۔۔۔
اس سے آگے سوچ ماوف ہو جاتی تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
حیدر آفندی اور لائبہ حیدر کی موت کے بعد بہار جان تین سالہ حدید کو بہار پیلس لے آئیں تھیں ۔
وہ اتنا چھوٹا تھا کہ ابھی اسے اپنے نقصان کا اندازہ نہیں تھا ۔
ماں کی کمی محسوس کر کے روتا مگر بہار جان کی توجہ اور شفقت سے جلد ہی مانوس ہو گیا ۔
یہ قسمت کا کھیل تھا کہ اپنا خون دور ہو گیا تھا جبکہ غیر سے قربت بڑھ گئی تھی ۔
حدید بڑا ہوتا گیا تو فطرتی طور پر شرارتی واقع ہوا ۔
وہ شوخ باز۔
رنگوں کا شیدائی
اور زندگی کا لطف اٹھانے والا لڑکا تھا ۔
سکول سے اکثر اسکی شرارتوں کی شکایت آتی تھی مگر حدید حیدر باز آنے والے دن پیدا ہی نہیں ہوا تھا ۔
اسکا کوئی خاص دوست نہیں تھا یہاں تک کہ ایک روز اسنے پھٹے پرانے کپڑوں میں اپنا ہم عمر بچہ دیکھا ۔۔۔۔
وہ ایک عام سا دن تھا مگر حدید حیدر کے لیے بہت خاص ثابت ہوا تھا جب وہ ہمیشہ کی طرح خوابوں کی دنیا کا سوپر ہیرو بنا ہوا تھا ۔
” تم ہمارے مسیحا ہو ۔ ہمارا سوپر ہیرو ۔ ہم تم سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ تم کمال ہو ۔ تم لاجواب ہو ۔ تم کتنے طاقتور ہو ۔ تم نے ایک ہی جھٹکے میں مونسٹر کو مار گرایا ۔ تم ۔۔۔تم۔۔۔۔۔” اونچی بلڈنگ کے ٹاپ فلور پر وہ سٹائل مارے کھڑا تھا ۔
بلڈنگ کے پچھلی طرف ہرے رنگ کا چھ آنکھوں والا مانسٹر زمین بوس پڑا تھا ۔
سامنے کی طرف شہر کے لوگ کھڑے اپنے سوپر ہیرو کو سراہنے میں مصروف تھے ۔
” ارے رکو رکو ۔ ابھی نہیں ۔ بعد میں لے لینا آٹو گروف ۔ کندھا تو چھوڑ دو میرا ” سوپر ہیرو زرا جھجھکتے ہوئے پلٹا تو وہاں کوئی مانسٹر نہیں تھا ۔
پیچھے دیوار تھی ۔
آگے اسے سراہتے ہوئے شہری نہیں بلکہ یونیفورم میں ملبوس تماشائی طالب علم تھے ۔
اسکا کندھا ایک بچہ آٹو گراف کے لیے نہیں بلکہ جگانے کے ہلا رہا تھا ۔
او نو ۔ یہ کیا ہو گیا ۔ وہ پھر سے خواب دیکھ رہا تھا ۔ وہ کلاس میں سو گیا تھا اور خوابوں کی دنیا کا وہ سوپر ہیرو تھا ۔ کتنا مزا آ رہا تھا ۔
” حدید تم کلاس میں سو کیوں رہے تھے ” سر خان نے ماتھے پر تیوری ڈال کر پوچھا ۔
” اوہ تو تم یہاں ہو مانسٹر ” آنکھیں پھاڑے وہ یک دم بولا ۔ ساتھ ہی کلاس میں باقی بچوں کی بھی ہنسی چھوٹی ۔
سر خان کی تیوری اور گہری ہوئی ۔
” سائلنٹ ” ایک بھاری دبکا اور تمام کلاس کی سٹی گل ۔
” یو ۔ گیٹ آوٹ فروم دی کلاس ۔ “
لاسٹ پر بیٹھا حدید کھڑا ہوا اور مزے سے چلتا ہوا سر تک آیا ۔
” سر آپکو شہر کے رکھوالے سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے ۔ ” آنکھوں سے شرارت کے انگارے پھوٹ رہے تھے ۔ چہرے پر بلا کی معصومیت تھی ۔ لہجے میں اپنے لیے داد شامل تھی ۔ ایک انوکھا سا پر اعتماد انداز ۔
” گیٹ آوٹ ” بامشکل خود کو ہاتھ اٹھانے سے روکا تھا کہ سکول کے قانون میں ہاتھ اٹھانا منع تھا ۔
وہ بھی اپنے نام کا ایک ۔ سر کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے مزے سے کلاس سے نکل کر کھڑا ہو گیا ۔
سر خان کلاس کی طرف گھومے اور کتاب کھولنے کو کہا ۔
مگر یہ کیا کچھ دیر ہی گزری جب سب کا دیھان باہر کی طرف ہو گیا ۔
” دیشو ۔ ہائی یا ۔ یے لو ۔ بدھے مانسٹر ۔ میں تمھارا قیمہ بنا دوں گا ۔ یہ لو پنچ کھاو ۔ تمھاری نانی پرنانی دادی سب یاد دلوادوں گا ۔ آخر تم نے حدید ڈی سوپر ہیرو سے پنگا لیا ہے “
خواب کے آفٹر شاکس جاری تھے ۔ ہاتھ پاوں چلاتا وہ بھر پور مقابلے پر تھا اس بات سے انجان اسے دیکھا جا رہا ہے اور اسکی حرکتوں پر ہنسا جا رہا یے ۔
” حدی۔ی۔ی۔ی۔ی۔ی۔د ” سر خان حلق پھاڑ کر چلائے تھے ۔
” باہر کھڑے ہو کر بھی چین نہیں ہے ۔ تم پنیش میں کھڑے ہو ۔ بلکل سیدھے کھڑے ہو ۔ ایک انچ بھی ہلنا نہیں ۔ اور تم سب ۔ اب کوئی ہنسا تو وہ باہر ہوگا کلاس سے ” ایک بار مزید بچوں کی ہنسی پر تالے لگائے ۔
بوڑڈ کی طرف پلٹے تو دبی دبی ہنسی کانوں میں پڑی ۔
واپس کلاس کی طرف رخ کیا تو مکمل خاموشی ۔ باہر دیکھا تو حدید بھی اپنی جگہ پر سیدھا کھڑا تھا ۔
واپس پلٹے اور پھر وہی دبی دبی سی ہنسی ۔
وہ با مشکل ضبط کرتے بوڑڈ پر آج کا کام کروانے لگے ۔
باہر کھڑے حدید کی حرکتیں اور اندر بیٹھے سڑوڈنتس کی دب دبی ہنسی بدستور جاری تھی ۔۔
اس روز وہ آف ٹائم پر اپنی سائیکل لیکر نکل پڑا
عادت سے مجبور وہ آوارہ گردی کرتا ہوا شہر کے ایک نچلے طبقے کی طرف نکل پڑا ۔
وہ گرمیوں کے دن تھے ۔
پیاس محسوس ہوئی تو سائیکل روک کر واٹر بوتل نکال کر پانی پیا ۔
پھر ادھر ادھر نگاہ ڈالی جب اسے وہ نظر آیا ۔
تنگ گلی میں کھڑا ایک اسکی عمر کا لڑکا ۔
دونوں کی عمر تقریبا گیارہ سال ہو گی۔
حدید بغور دیکھتا رہا ۔
لڑکے کے کپڑے پھٹے تھے
چہرے گردن اور بازووں پر چوٹیں تھیں۔
الجھے بال
اور چہرے پر چھائی گرد ۔
وہ دیکھتا رہا یہاں تک کہ گھر سے ایک سانولی رنگت کی ساڑھی میں ملبوس عورت نکلی ۔
پہلے تو کسی بات پر لڑکے کو خوب ڈانتا پھر جیسے سکون نا ملا ہو تو ڈنڈے سے مارنے لگی ۔
حدید کا منہ کھل گیا ۔ وہ عورت بہت بری طرح اسے مار رہی تھی
حدید نے دیکھا دانت پیس کر ہنستے ہوئے وہ ایک مانسٹر بن چکی ہے ۔
اسنے خود کو سپر ہیرو محسوس کیا
ہاں وہ سپر ہیرو تھا اور اسے مانسٹر کے ہاتھوں اس لڑکے کو بچانا تھا۔
حدید نے ارد گرد دیکھا پھر جو ذہن میں آیا اس پر فورا عمل کر دیا ۔
ایک پھتر اٹھایا اور نشانہ لے کر عورت کے سر پر دے مارا ۔
عورت درد سے کرہائی اور زمین پر گرتی چلی گئی ۔
اس سے پہلے وہ کچھ ردعمل کر پاتا حدید نے اسکا ہاتھ تھاما اور تیزی سے اپنے ساتھ بھگانے لگا۔
کچھ دور آکر حدید نے اسکا ہاتھ چھوڑا اور سانس لینے کو جھکا جبکہ وہ نا سمجھی اور خوف سے اسکا چہرا دیکھ رہا تھا بلکہ تک رہا تھا
” تھینکس کہنے کی ضرورت نہیں ۔ ایک سپر ہیرو ہونے کے ناطے یہ میری ڈیوٹی تھی مانسٹر سے تمھاری حفاظت کروں۔ ” سانس بحال کرتے ہوئے حدید نے ایک فرض شناس سپر ہیرو کی طرح کہا۔
جبکہ لڑکا ابھی تک اسے حیرت ذدہ سا دیکھ رہا تھا ۔
” میرا نام حدید ہے ۔اور تمھارا ۔” حدید نے ہاتھ آگے کی طرف بڑھایا ۔
” جانور ۔ غلیظ ۔۔ ” اسنے دو لفظی جواب دیا ۔
” ہیں! یہ کیسا نام ہوا ۔ ” حدید نے منہ چڑھایا ۔
” مجھے یی ہی بلایا جاتا ہے۔ ” بے تاثر لہجے میں کہہ کر وہ پلٹ گیا۔
” ارے رکو تو ۔ میں نے تمھاری جان چھڑوائی ہے ۔ تم تھینکس بھی نہیں بول رہے ۔ ” حدید بھی اسکے پیچھے لپکا ۔
” مجھ سے دوستی کرو گے جانور ۔ ؟ ” لڑکا زیادہ آگے نکل گیا تو تقریبا چلایا تھا ۔
لڑکا رکا اور حدید کی طرف پلٹ گیا ۔
چند لمحوں بعد وہ مسکرا دیا ۔
حدید کو سگنل مل گیا تو بھاگتا ہوا اس تک پہنچا ۔
” اب ہم دوست بن گئے ہیں تو چلو آو تمہے اپنا گھر لیکر چلوں ۔ تم چلو گے میرے ساتھ ؟ ” نئی نویلی دوستی کی خوشی میں وہ پر جوشی سے بولا ۔
” نہیں یہ میرا گھر ہے ۔” کہہ کر وہ گلی میں گھس گیا ۔ ہندو عورت موجود نہیں تھی ۔ وہ شاید گھر کے اندر چلی گئی تھی ۔
تبھی دوسری طرف سے مٹکتی ہوئی ایک بلی اسکے پاس آئی ۔
لڑکے نے اسے گود میں بٹھالیا اور پیار کرنے لگا ۔
” تمہے بھوک لگی ہے نا ۔ ” اب وہ بلی کی طرف متوجہ تھا ۔
” مجھے بھی لگی ہے مگر آج کملا دیوی تو کچھ کھانے کو نہیں دے گی ۔” اسنے مزید کہا ۔
حدید کو کچھ سوجھا ۔ وہ سائیکل کے پاس آیا ۔ اپنے بیگ سے بسکٹ کا پیکٹ نکالا اور واپس آکر اس کی طرف بڑھایا ۔
لڑکے نے جھجھکتے ہوئے پیکٹ پکڑ لیا ۔
اسے کھول کر بسکٹ منہ میں ڈالنے کی بجائے اسنے بلی کے منہ میں ڈالا ۔ بھوری بلی مزے سے بسکٹ کھا گئی ۔
” یہ تمھارے لیے تھا ۔ اسے کیوں دیا۔ ” حدید یہ دیکھ کر یک دم چلایا۔
” مگر بھوک تو اسے زیادہ لگی ہوئی تھی نا ۔ ” لڑکے کے لہجے میں عجیب سا احساس تھا جو حدید نے محسوس کیا تھا ۔ بہار جان کہتی تھیں ہمیشہ ایسے انسان کو اپنا دوست بناو جو اپنے سے زیادہ دوسروں کا سوچتا ہو ۔ لڑکا خود بھی تین دن کا بھوکا تھا مگر خود سے زیادہ بلی کا احساس تھا ۔
” تمہے بلیاں پسند ہیں ۔ میرے گھر میں بھی بلیاں ہیں ۔ تم دیکھو گے کیا ۔ ” حدید سوچتے ہوئے فورا بولا شاید یہ ترکیب کام کر جائے۔
وہ کسی بھی طرح اس لڑکے کو اپنے ساتھ لیکر جانا چاہتا تھا ۔
” کیا سچ میں ۔ مجھے دیکھاو گے ۔ کیا یہ بھی ساتھ چل سکتی ہے ۔” حدید کی بات سن کر لڑکے کی آنکھوں میں اشتیاق ابھرا ۔
” ہاں دوست کیوں نہیں اسے بھی ساتھ لے لو ۔ وہ سب تمھاری ہونگی ۔ اور ہم نئی بھی لائے گے ۔ خوبصورت پیاری پیاری بلیاں اور بلے بھی ۔ انکی شادی کروائیں گے ۔ پھر انکے بچے ہونگے ۔ ہم گھر میں ایک کیٹ شو روم کھولیں گے ۔ انکے نام بھی رکھیں گے ۔ ہم انکی برٹھ ڈے بھی منائے گے اور ۔ اور بلیوں کا فیشن شو بھی ہو گا ۔ اور انکا ۔۔۔۔ ” حدید کی نا رکنے والی زبان شروع ہو چکی تھی جبکہ اسکے ساتھ چلتے لڑکے کے زہن میں صرف ایک لفظ گھوم رہا تھا
” دوست ۔”
۔ اور پھر پہلی بار کسی نے دوست کہا تھا ۔
زندگی نے نئے پنے کھولے تھے ۔
وہ ورقے اسے کہاں لے جانے والے تھے ۔۔۔۔
” بہار جان یہ میرا دوست ہے ۔ میں اسے یہاں کیٹس دکھانے لایا ہوں ۔ کیا یہ یہاں رہ سکتا ہے پلیز ۔ ” وہ آنکھوں میں ڈھیروں امید لیکر بہار جان سے پوچھ رہا تھا ساتھ میں آنکھ بھی ماری تھی ۔
کیونکہ بہار بیلس میں کوئی بلی نہیں تھی ۔
جبکہ دوسرا لڑکا منہ لٹکائے گود میں بھوری بلی اٹھائے گھبرایا سا کھڑا تھا۔
کیا اسنے تھیک کیا تھا حدید کے ساتھ آکر
بہار جان نے اس پر نظر ڈالی اور سوچنے لگی۔
” حدید جان یہ کب بنے آپ کے دوست اور کیسے۔ ” بہار جان نے استفار کیا ۔
” لیڈی سپرنگ آپ نے کہا تھا نا ہمیشہ اس کو دوست بنانا جو دوسروں کے بارے میں زیادہ خیال رکھتا ہو ۔ آج پتا کیا ہوا ۔ میں نے اسے بسکٹ دیا کھانے کو مگر اسنے بلی کو کھلایا ۔ اس لیے میں نے اس سے دوستی کرلی ۔ میں نے تھیک کیا نا ۔” وہ قریب آکر انکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا ۔ بہار جان ہلکا سا مسکرائیں اور اسکا گال تھپکا ۔
” آپکا نام کیا ہے ؟ ” بہار جان کے سوال پر وہ جھجھکا تو حدید فورا بولا ۔
” اسکا کوئی نام نہیں ہے ۔ آپ اسے کوئی نام دیں پلیز ” حدید کی بات پر وہ حیرت زدہ ہوئیں پھر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولیں ۔
” ہم آپکا نام روعان رکھتے ہیں ۔ اور بہار پیلس میں آپکو خوش آمدید بیٹا ۔ “
” روعان ” اسنے زیر لب دھرایا اور مسکرایا ۔
ایک بھر پور دل سے نکلی مسکرہٹ۔
بل آخر اسکا بھی ایک نام تھا ۔
مگر وقت کے ساتھ ساتھ اندازہ ہوا صرف نام ہی نہیں پہچان بھی ضروری تھی ۔
اور اپنی پہچان پانے کے لیے واحد زریعہ وہ ہندو عورت تھی ۔
وقت کے ساتھ ساتھ روعان اور حدید میں دوستی کا ایک منفرد تعلق بن گیا ۔
وہ دونوں ایک دوسرے کی جان بن گئے ۔
شروع میں روعان زرا سہما سا گھبرایا ہوا رہتا تھا
کہ اس قدر محبت اور اپنے پن کا عادی نہیں تھا بلکہ اس لفظ سے نا واقف تھا ۔ مگر بہار جان کی شفقت اور تربیت نے اسے ایک سلجھا ہوا با تمیز انسان بنایا دیا تھا ۔
وہ ہندو عورت کے گھر میں آنکھ کھولنے والا بے نام لڑکا بہار پیلس کا ایک فرد بن چکا تھا ۔
حدید اور اسکا بہار جان سے عجیب سا لگاو تھا۔
خون کا تعلق نا تھا مگر الفت کا تعلق ضرور تھا۔
بہار جان نے کبھی ان دونوں کو غیر نہیں سمجھا تھا بلکہ ان دونوں کو بھی شہوار اور سلار سے کم نہیں سمجھا تھا ۔
بہار جان سالار کو خود سے اکھڑا ہوا ۔ ناراض سا دیکھتی تو دل میں کسک اٹھتی کاش وہ بھی ویسا ہی ہوتا جیسے شہوار حدید اور روعان تھے ۔
انکی دعائیں سنی جانی تھیں ۔
کیا انکے حق میں کسی اور کی دعا قبول ہونی تھی ۔ مگر کب یہ وقت کو ہی معلوم تھا۔
اور وقت بہت بڑا رازدان ہوتا ہے ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
” مماااااااااا ۔ مجھے ڈھیر ساری شاباش دیں ۔ میں پاس ہو گئی ہوں ۔ میں نے سیکنڈ ایئر میں پورے 980 نمبر لیے ہیں ۔ ” بوائے کٹ بالوں والی ٹوم بوائے منال میں آج ٹریسا کی روح آ گئی تھی اور فون پر ماں سے بات کرتے ہوئے وہ جس حد ممکن ہو اونچا بولی تھی ۔ اسکا بس چلتا تو مسجد کے سپیکر میں علان کرتی ۔
” ماشاللہ ۔ میری بیٹی ہے ہی بہت قابل ۔ ” دوسری طرف سے واصف صاحب کی فخریہ آواز گونجی ۔
” بابا آپ ۔ اچھا تو مما نے سپیکر آن کر کے رکھا ہوا ہے ۔ بابا میں نے تو ایک یونیورسٹی کی آن لائن سائٹ بھی وزٹ کر لی ہے ۔
یونی والے آپکی ہونہار بیٹی کو خوشی سے لیں گے ۔ بلکہ منال واصف کا انکی یونی میں پڑھنا انکی گڈ لک ہو گی۔ ” منال نے کال کٹ کی اور فورا ویڈیو کال ملالی تھی ۔
دوسری طرف سے واصف صاحب مسکرائے تھے ۔
وہ سیاہ اور سفید بالوں کا امتجاز لیے گریس فل سے مرد تھے ۔
” موٹو ۔ یونی کی کمبختی آئے گی تم وہاں چلی گئی تو ۔ ” کہیں سے یاور کیمرے کے آگے آیا اور مزاق بھرا طنز کیا ۔ وہ بائیس سال کا سمارٹ سا لڑکا تھا ۔ اسکے بال گھنگھریالے تھے ۔
” ہاں تو کسی بھی بہانے ہو ۔ یونی منال واصف کو یاد تو رکھے گی نا ۔ ” کندھے اچکا کر وہ ناک سے مکھی اڑاتے ہوئے بولی ۔
” تمھارا کیا بنا یاور ۔ تمہے کب دھکے پڑ رہے ہیں یونی سے۔ ” وہ بھی جوابی کاروائی میں مزاحیہ انداز میں بولی ۔
” دھکے نہیں۔ پورے وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ گھر چھوڑ کر جائیں گے ۔ ” یاور اترا کر بولا تھا ۔ ۔
” اور سنو ڈوریمون مجھے بھائی کہا کرو کتنی بار کہا ہے ۔ یہ یاور کیا ہوتا ہے پورے ( پورے کو لمبا کھینچا ) تین سال بڑا ہوں تم سے ۔ ” وہ زرا سی آنکھیں دکھا کر بولا تو منال نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی پھر مزے سے منہ چڑھا دیا ۔
” یاور ۔ یاور ۔ یاور ۔ میں یاور ہی بولوں گی ۔ کر لو جو کرنا ہے ۔” وہ ڈھیٹائی سے بولی تھی ۔
” موٹی گول گپا اگر میرے سامنے ہوتی تو تمھاری زبان کھینچ لیتا ۔ ” یاور نے دانت پیس کر دھمکی لگائی ۔
” اچھا ۔ اور میں اس سے پہلے ہی تمھارا وہ ہاتھ توڑ کر تمھارے دوسرے ہاتھ میں دے دیتی ۔” وہ بھی ترکی با ترکی بولی ۔
” تم میرا ہاتھ توڑو گی ۔ تم سکول کی کڑاتے چیمپیئن ہو تو کیا مطلب کسی پر بھی زور آزمائی کرو گی۔ ” یاور منہ ٹیڑھا کر کے بولا تھا ۔
” ہاں بلکل۔ تم میری زبان کھینچوں گے تو میں تمھارا ہاتھ کیوں نہیں توڑ سکتی ۔ ” وہ معصومیت سے کندھے اچکاکر بولی ۔
دونوں کی تو تو میں میں جاری تھی ۔
اس سے پہلے یاور اپنا جوابی حملہ کرتا واصف صاحب نے کیمرا اہنی طرف گھمایا ۔
” کبھی تو لڑے بنا بات کر لیا کرو آپ دونوں ۔ جب دیکھو لڑتے رہتے ہو ۔ یاور میں نے کام کہا تھا آپ کو ۔ ” واصف صاحب زرا سا جھڑک کر بولے تو وہ جی جی کرتا نکل گیا ۔
” تو بیٹا جی اب آپ بتاو ۔ ساری چھٹیاں گزار دیں ۔ اب یونی بھی شروع ہونے والی ہے ۔ کیا گھر آنے کا ارادہ نہیں ہے ۔ ” وہ اصل مدعے پر آتے ہوئے بولے ۔
” گھر آوں گی تو مما کام کروائیں گی ۔ مجھ سے نہیں ہوتے گھر کے کام ۔ ” اسکے پاس نا آنے کا جواز پہلے سے ہی موجود تھا ۔
وہ جیسے ناک چڑھا کر بولی تھی واصف صاحب سے ہنسی کنٹرول نہیں ہوئی تھی ۔
” تو بیٹا جی ساری زندگی گھر نہیں آو گی ۔ اور شادی ہوگی تمھاری تو تب کیا کرو گی ۔ آخر کب تک بھاگوں گی کام سے ۔ ” وہ سمجھانے والے انداز میں بولے ۔
جس پر منال نے دائیں سے بائیں سر مارا ۔
” بلکل نہیں ۔ میں شادی ہی ایسے لڑکے سے کروں گی جو مجھے سرونٹ رکھ کر دیگا ۔ نہیں تو میں شادی ہی نہیں کروں گی ۔ ” منال واصف نے اپنا فل اینڈ فائنل فیصلہ سنایا تھا ۔
واصف صاحب محض مسکرا دیے ۔
ابھی چھوٹی تھی ۔
وہ کیا بحث کرتے اسکے ساتھ ۔
” اچھا تو بیٹا ۔مجھے آپ کو ایک گڈ نیوز دینی تھی ۔ ” اب وہ دوسری اطلاع کی جانب بڑھے ۔ ۔
” بولیں بابا ۔ ” وہ پرجوش سی ہوئی ۔
” آٹھ مہینے تک مجتبی کی شادی فکس ہو گئ ہے ۔ ” انہوں نے اپنے بڑے بیٹے اور منال کے بڑے بھائی کے متعلق آگاہ کیا ۔ مجتبی منال اور یاور دونوں سے بڑا تھا ۔ وہ ستائیس سال کا کم گو مرد تھا ۔ منال اور یاور کی طرح باتونی نہیں تھا ۔
” واووووو گریٹ ۔ کون ہے لکی گرل ۔ ” وہ بھرپور خوشی سے چلائی تھی ۔
کمرے میں رکھے صوفے پر بیٹھی ٹریسا جو کہ لیپ ٹاپ پر کام کرنے کی کوشش کر رہی تھی اسکی آواز سے بار بار ڈسٹرب ہو رہی تھی ۔
وہ آفس سے ملے کسی پروجیکٹ پر فوکس کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر منال کی وجہ سے زہن بھٹک رہا تھا ۔
ایک بار ہہلے بھی زرا سی غلطی سے اسکو ترکی نہیں ملی تھی ۔ وہ کئی عرصے سے کوشش کر رہی تھی مگر ناکامی ہی ناکامی ہو رہی تھی ۔
منال کی باتیں جاری تھیں ۔
ٹریسا نے کوفت میں آکر کچھ بٹن ڈبائے اور لیپ ٹاپ بند کر دیا۔
وہ بہت دیر سے کام کر رہی تھی ۔
اسے کچھ دیر ریلیکس کرنا چاہیے تھا ۔
یہ سوچ کر وہ باہر نکلی اور ہاسٹل کی چھت پر آگئی ۔
” مریم ” واصف صاحب نے بتایا تو منال کا زرا سا منہ بنا ۔
” مریم کیوں ۔ وہ مجتبی بھائی کے ساتھ بلکل اچھی نہیں لگے گی ۔ آپ نے دیکھا اسکے منہ پر کتنا بڑا نشان ہے ۔ وہ کتنی بدصورت لگتی ہے “
” نہیں بچا ۔ کسی کو ایسے نہیں کہتے ۔ سب کو اللہ نے بنایا ہے ۔ لوگ شکل دیکھتے ہیں مگر ہم نے مریم کی سیرت دیکھی ہے ۔ بہت سوچ کر اور مجتبی کی رضامندی سے رشتہ طے ہوا ہے ۔ اگر مجتبی کو صورت سے غرض ہوتی تو وہ مریم کی طرف دیکھتا بھی نہیں مگر مجھے فخر ہے اسنے صورت پر سیرت کو فوقیت دی۔ اور اللہ کی بنائی چیز میں نقص نکالنا یعنی اس میں نقص نکالنے کے برابر ہے ۔ بیٹا آئندہ کبھی بھی کسی کی ظاہری صورت کا مزاق نا بنانا ۔ ” واصف صاحب نے قدرے سخت لہجا اپناتے ہوئے اسے تائید کی تھی ۔
” سوری بابا ! ۔ ” منال نے دونوں کان پکڑ کر کہا تو واصف صاحب کے چہرے پر پھر نرمی کے تاثرات آ گئے ۔
” تھیک ہے بیٹا ۔ مجھے کام سے جانا ہے ۔ پھر بات ہو گی۔ تم اپنی ماں سے بات کرو ۔ ” واصف صاحب نے موبائل فریحہ کے ہاتھ میں دے دیا۔
اب ماں بیٹی میں مجتبی اور مریم کی شادی کے متعلق باتیں شروع ہو چکی تھیں ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
وہ گھر سے نکلی تھی ۔ چہل قدمی کرتے گھر سے کچھ آگے آگئی تھی ۔
اور پھر سب کچھ اچانک ہوا تھا ۔
دو لوگوں نے اسے بے ہوش کر کے گاڑی میں ڈالا تھا ۔ پھر سارے منظر اندھیرے میں ڈوب گئے ۔۔۔۔۔
وہ ایک فارم ہاوس تھا ۔
لانج نما کمرے میں صوفے پر پھیل کر سالار بیٹھا تھا ۔
اسکے ہاتھ میں سگریٹ تھا جس سے وہ بار بار کش لگاتا ۔ کمرے میں دھواں پھیلا ہوا تھا ۔ ایک طرف تین چار سگریٹ کی خالی ڈبیا پڑی ہوئیں تھیں ۔
اس نے جوگرز سمیت سامنے ٹیبل پر تانگ پر ٹانگ رکھی ہوئی تھی ۔
سامنے لگی بڑی سی ایل ای ڈی پر بلیو فلم چل رہی تھی ۔ آواز اونچی کھلی ہوئی تھی ۔ کردارو کی آوازیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں ۔ عجیب نازیبا آوزیں ۔
دائیں جانب ایک کمرے کا دروازہ کھلا ۔ باریک تنگ کپڑوں میں ملبوس ایک دبلی اور دراز قد لڑکی باہر نکلی ۔
وہ بالوں کی لٹیں ہاتھ میں گھماتی سالار کے ساتھ آکر بیٹھی ۔
اب وہ اپنی انگلی سالار کے گال پر بڑے رومنٹک انداز میں پھیر رہی تھی کہ دفعتا سالار نے چہرا موڑ کر اسکی انگلی پر کاٹ لیا ۔
لڑکی نے سسک کر انگلی پیچھے کی ۔
” تم اب حویلی پر کیوں نہیں آتے ۔ ” لڑکی ناراضی بھرے انداز میں بولی ۔ ( حویلی یعنی کوٹھا ) ۔
” کیونکہ تم یہاں آجاتی ہو ۔ ” سالار نے اسکے انگلی میں لپیٹے بال آزاد کرتے ہوئے کہا ۔
” پتا ہے میری کتنی ڈیمانڈ ہے ۔ ہر کوئی بس نیلوفر کے ساتھ اپنی راتیں رنگین کرنا چاہتا ہے ۔ مگر میرا دل صرف تمھارے لیے ڈھڑکتا ہے ۔ ” نیلوفر نے قریب ہونا چاہا مگر سالار نے اسے ایک طرف دھکیل دیا ۔
اس نے پینٹ میں ہاتھ ڈال کر پیسے نکالے اور نیلو فر کے منہ پر دے مارے ۔
” شٹ اپ ! اپنی اوقات میں رہو ۔ اٹھاو اپنی مزدوری کے پیسے اور دفعہ ہو جاو ۔ ” وہ نیلوفر کو ٹانگ سے تھوکر مارتا ہوا باہر نکل گیا ۔
نیلوفر نے کندھے اچکائے اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اسکا مقصد پیسا تھا ۔ وہ مل گئے ۔ اسے کیا چاہیے تھا ۔
وہ تیزی سے فارم ہاوس سے باہر نکلا تھا جب موبائل پر میسج آیا ۔
” کام ہو گیا ہے ۔ لڑکی کو اٹھا لیا ہے ۔” سالار کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی ۔
اس مسکراہٹ میں عجیب قسم کا سرور اور شہوت شامل تھا ۔
وہ نیلو فر سے بور ہو گیا تھا
وہ ٹیسٹ چینج کرنا چاہتا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
آفس بلڈنگ کے نیچے پارکنگ ایریا میں آدم کسی کے انتظار میں کھڑا تھا ۔ وہ بار بار گھڑی دیکھتا اور فرش پر اپنے جوتے کو بھی ہلکا سے تھپتھپا رہا تھا۔
اچانک سامنے سے ایک آدمی چلتا ہوا آیا ۔
وہ قریب آیا تو آدم نے پاکٹ سے ایک یو ایس بی نکال کر اسکے سامنے لہرائی ۔
آدمی نے پکڑنا چاہا مگر آدم نے مٹھی بند کر کے پیچھے کرلی ۔
” پہلی میری چیز ” اور دوسرا ہاتھ سامنے رکھا ۔
آدمی نے برا سا منہ بناکر اپنی جیکٹ کی جیب سے ایک لفافہ نکالا ۔
” صیام بخاری نے اس پر خود سائن کیے ہیں ۔ ” آدمی نے جتاتے ہوئے لفافہ سامنے لہرایا
” یہ یقینا بہتر بات ہے ۔ ” آدم نے سرہاتے ہوئے اسکے ہاتھ سے لفافہ جھپٹ لیا ۔
آدمی سٹپٹایا تو آدم نے ایک عجیب سی مسکراہٹ دے کر اسکے ہاتھ میں یو ایس بی پکڑائی ۔
” کیا اس میں وہ سب ہے جو صیام بخاری کو چاہیے ۔ ” آدمی شک بھری نظروں سے پوچھنے لگا ۔
” کیا میں نے پوچھا لفافے میں وہ ہے جو مجھے چاہیے ۔ ” آدم نے الٹا سوال کیا ۔
” کیا تم مجھ پر شک کر رہے ہو ” آدم کے آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ دبا کر بولا تھا ۔
” نہیں بلکہ مجھے تو بھروسہ ہے تبھی تو کھول کر نہیں دیکھا تھا ۔ ” وہ اتنے ہی سکون سے بولا تھا ۔
“ہمممم ابھی تمھارا کام ختم نہیں ہوا ۔ جس طرح عالم شاہ ، ثمرین شاہ اور آفندیز کو راستے سے ہٹایا تھا شہوار شاہ کا پتا بھی کاٹنا ہے۔ یہ وہ اگلا کام ہے جو صیام بخاری تم سے چاہتا ہے ۔ ” وہ آدمی رازداری سے کہہ رہا تھا جبکہ آدم نے زور دار قہقہہ لگایا ۔
” یقین کرو میں اس لمحے کے انتظار میں ہوں جب شہوار شاہ کی جان اپنے ہاتھوں سے لونگا ۔ ” وہ دانت پیس کر شہوار سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے بولا ۔
” کام کب انجام دینا ہے ۔ یہ بتا دیا جائے گا ۔ تب تک شہوار کا سایہ بن کر رہو ” آدمی نے اپنی بات کہی اور الٹے قدم پیچھے ہٹ گیا ۔
آدم جب آفس کی بلڈنگ میں داخل ہو رہا تھا اسکی مٹھی بھینچی ہوئی تھی ۔
وہ تیزی سے آگے بڑھا جب سامنے سے آتے شہوار سے ٹکر ہو گئی
” میں تمہے ہی ڈھونڈ رہا تھا ۔ اچھا لیسن ملک انڈسڑیز کے ساتھ ہمارا پروجیکٹ تم لیڈ کرو گے۔ یہ پروجیکٹ ہمارے بزنس کے لیے بہت اہم ہے ۔ یہاں سب سے زیادہ مجھے تم پر بھروسہ ہے ۔ یو آر پرفیکٹ فار دس ٹاسک ۔” شہوار جلدی میں تھا تبھی تیزی میں آدم کو اسکا نیا ٹاسک دے کر چلا گیا ۔
آدم نے اسکے جاتے قدم گنے پھر اپنے قدم اٹھا دیے ۔
ایک بار کوٹ ہر ہاتھ رکھ کر تسلی کی کہ لفافہ اندرونی جیب میں ہی تھا ۔
اسکے ہاتھ ایک بڑا پروجیکٹ آیا تھا
اور پھر یہ پراجیکٹ بہت اہم بھی تھا ۔
کسی کو برباد کرنے کے لہے ضروری نہیں اسے مار دو ۔ اسکے مفاد کو نقصان ہہنچا کر بھی ایسا کیا جا سکتا تھا ۔
شہوار کو آدم پر خود سے بھی زیادہ یقین تھا ۔ کیا یہ یقین اندھا یقین ثابت ہونے والا تھا ۔
فیصلہ کرنے والا وقت تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے