Aatish E Ishqam By Hira Shah Readelle50249 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
آتش_عشقم
قسط نمبر 33
از قلم حرا شاہ
وہ ایک نامکمل شدہ عمارت تھی ۔
چار منزلہ اس عمارت کی تعمیر کسی وجہ سے رک چکی تھی ۔
آس پاس کے لوگ یہ بھی نہیں جانتے تھے اسکا مالک کون ہے اور کس وجہ سے تعمیر روک دی گئی تھی ۔
آبادی سے زرا ہٹ کے بنی وہ عمارت آج کل نشئیوں چور چکاروں اور دیگر غلط کاموں میں پڑے لوگوں کی جاہ پناہ بنی ہوئی تھی ۔
کوئی وہاں آکر کسی کو پوچھنے والا تھا ۔
رات کا وقت تھا ۔
تیسری منزل پر وسعت میں لکڑی کی دو کرسیاں رکھی تھیں ۔
ایک آدمی کرسی پر بیٹھا تھا جبکہ دوسرا کرسی کی پشت پر کھڑا کرسی پر پڑے پلاسٹک کے لفافوں کو دیکھ رہا تھا ۔
اس جگہ روشنی کا زریعہ موبائل کی ٹارچ تھی ۔
” سلار شاہ لمبے عرصے کے لیے جیل جانے والا ہے ” اسنے چہرے پر نفرت آمیز شیطانی مسکراہٹ سجا کر کہا ۔
” بس اب ان پیکٹس کو اسکی گاڑی میں پلانٹ کرنا ہے ۔” کرسی پر بیٹھے آدمی نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔ اسکی نظریں مسلسل اپنے پٹی زدہ بازوں پر تھیں ۔
وہ کٹا ہوا ہاتھ جو سلار نے پریشال کو چھونے کی کوشش میں کاٹا تھا ۔
اسی رات سے سلار سے بدلہ لینے کا جنون سوار ہو گیا تھا اور جلد ہی وہ اپنے انتقام کو عملی جامہ پہنائیں گے ۔
کرسی کے پیچھے کھڑے آدمی نے گردن ہلا کر تائید کی
کرسی پر پڑے چار پلاسٹک کے لفافوں میں موجود سفید سفوف یقینا منشیاجات تھیں ۔
رات آہستہ آہستہ سرک رہی تھی اور وہ دونوں آدمی سلار شاہ کو سلاخوں کے پیچھے بند کروانے کی منصوبہ بندی کرنے لگے تھے ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
ایک نیا دن
کاروباری سرگرمیاں شروع ہو چکی تھیں ۔
ایسے میں اس آفس میں ملازمین اپنے روز مرہ کے کام کرنے میں مصروف تھے
ٹریسا بھی اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی کمپیوٹر سکرین پر دیکھتی کی بورڈ پر انگلیاں چلا رہی تھی ۔
وہ مکمل انہماک سے اپنا کام کر رہی تھی جب کسی نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھا ۔
وہ ہڑبڑا کر پیچھے مڑی تو اسکا باس کھڑا تھا ۔
” سسس۔ سر آپ ! ” اپنی ہڑبڑاہٹ پر قابو پاتے وہ بامشکل بولی ۔
” میں دیکھ رہا ہوں تم آج کل بہت محنت کر رہی ہو ۔ ” اصغر سیفی نے ایک نظر کمپیوٹر پر دالتے ہوئے اس سے کہا ۔
” جی سر ” ٹریسا نے مسکرا کر کہا ۔
( سر محنت تو پہلے بھی کرتی تھی آپ کو آج کیسے میری محنت نظر آ گئی ) وہ بس دل میں ہی سوچ سکی ۔
” عنزہ کے باعث جو کمپنی کا نقصان ہوا تھا تمھاری محنت کے باعث وہ پورا ہو سکتا ہے ” اصغر سیفی نے مزید کہا ۔
( کمپنی کا نقصان ! سارا ملبہ تو عنزہ پر ڈال دیا تھا ۔ ہونہو )
” میں کیا کر سکتی ہوں سر ۔ پلیز بتائیے ” ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے وہ باس کی طرف مکمل متوجہ تھی ۔
” یقینا تم آگے بھی کرو گی مگر ابھی تم نے بہت اہم کام کر دیا ہے ۔ جس نئی کمپنی کے ساتھ ہم نے ڈیل کرنی تھیں اسکے اونر نے تمھاری سجیسٹ کی ہوئی آفر اکسیپٹ کر لی ہے ۔ اب ہماری کمپنی صیام بخاری کی کمپنی کے ساتھ پاٹنر شپ پر کام کرے گی ۔ ہمارا ایگریمنٹ دو سال کا ہوا ہے ۔ ” اصغر لغاری جو اتنی دیر سے تمہید باندھ رہا تھا اب بات واضح کی تھی ۔
” میں تمہیں یہاں کانگریٹس کرنے آیا ہوں ۔ میں تمھاری پروموشن کر رہا ہوں ۔ آج سے تم اسسٹنٹ ایم ڈی ہو گی کمپنی کی ۔ تمھارا پروموشن لیٹر تمہیں جلد مل جائے گا ۔ ” باس نے اطلاعا کہا اور پھر وہاں سے چلا گیا ۔
ٹریسا ایک مدھم سی مسکراہٹ لے کر واپس بیٹھی ۔ ارد گرد بیٹھے ملازمین اسے مبارک باد دینے لگے ۔
وہ مسکراہٹ سجائے گردن ہلاتی سب کو جواب دینے لگی ۔
تو بل آخر وہ پروموشن جسکا اسے کب سے انتظار تھا اور اسکے لیے محنت بھی بہت کی تھی وہ اسکے پاس تھی
مگر یہ آخری منزل نہیں تھی ۔
اسے ایم ڈی بننا تھا
اور ایسے ہی محنت کر کے مزید آگے بڑھنا تھا ۔
وہ ایک بزنس وومن بننا چاہتی تھی ۔
ٹریسا کی زندگی کا واحد گول ۔
ایک نامور بزنس وومن ۔
سب سے فارغ ہو کر وہ پریر روم میں آئی ۔
فرح کی ایک ہدایت کے مطابق شکر کے نفل ادا کیے ۔
اسے پروموشن ملی تھی مگر وہ تھیک سے خوش نہیں ہو پا رہی تھی ۔
کوئی کسک کوئی کمی لگ رہی تھی ۔
یہ کمی دنیاوی نہیں دینی تبدیلی سے ہی پوری ہونی تھی ۔
اسکے پاس فرح سے پوچھنے کو بہت سوال تھے مگر اس وقت کام کا بوجھ سر پر تھا ۔
وہ سب سوال زہن کے نہاں خانے میں جا کر بس چکے تھے ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
پھولوں والی دکان کے کاونٹر پر منہال بیٹھی تھی ۔ مہکشاں اس کے پیچھے کھڑی بال کنگھی کر رہی تھی
منہال چاکلیٹ کھانے میں مصروف تھی ۔
کچھ دیر پہلے یونی جاتے ہوئے حدید آیا تھا وہی اسے چاکلیٹ دے کر گیا تھا ۔
منہال اور حدید کی اچھی دوستی ہونے لگی تھی ۔
حدید مہکشاں کا اسکے کام میں ہاتھ بٹاتا تھا اور مہکشاں اسے اشاروں کی زبان سیکھاتی جس سے وہ منہال سے باتیں کر پاتا ۔
مہکشاں نے منہال کے بال پونی میں باندھ کر ہاتھ ہٹائے تو منہال نے چہرا موڑ کر مہکشاں کے رخسار پر بوسہ دے کر اپنی محبت کا اظہار کیا ۔
جوابا مہکشاں نے بھی اسکا ماتھا چوما ۔
” چلو اب زیادہ مسکے نا لگاو ۔ سکول سے بلکل چھٹی نہیں ہو گی ۔ ” اگلے ہی لمحے مہکشاں نے منہال کی امیدوں پر پانی پھیرا تو اسکا منہ لٹک گیا ۔
” سنڈے کو ہم پارک چلیں گے ۔ خوب جھولے لیں گے اور آپکی فیورٹ آئسکریم کھائیں گے ” مہکشاں نے اسکے گال پر چٹکی کاٹتے ہوئے کہا تو منہال کی پھر سے بانچھیں کھل گئیں ۔
( حدید بھی ساتھ چلے گا )
اگلے ہی پل اشاروں میں پوچھا تو مہکشاں نے کچھ سوچ کر سر اثبات میں ہلا دیا ۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد معمول کی طرح منہال کو سکول چھوڑ کر وہ اپنے کام میں مصروف ہو گئی ۔
منہال کا بنایا ہوا ڈونیشن باکس پھولوں والی دکان کے کاونٹر پر ہی رکھا رہتا
لوگ گزرتے ہوئے پیسے ڈال جاتے ۔
وہ مہینے دو مہینے بعد منہال کے ساتھ جا کر ان پیسوں کو اولڈ ہوم جا کر دے دیتی ۔
البتہ وہ رقم بہت کم ہوتی مگر منہال بہت محبت سے اس رقم کو پیش کرتی اور وہ محبت بے شمار ہوتی ۔
یقینا اولڈ ہوم میں رہنے والوں کو پیسے سے زیادہ محبت کی ضرورت ہوتی ہے اور مہکشاں اور منہال اپنے اپنے طریقے سے محبت دے بھی رہیں تھیں اور لے بھی رہیں تھیں۔
آج زیادہ کام نہیں تھا ۔
دو تین جگہ پھولوں کی ڈلیوڑی کرنی تھی اسکے بعد دکان کو ہی دیکھنا تھا ۔
و آخری ڈلیوڑی کر کے تیزی میں سکول کی طرف سائیکل چلانے لگی ۔
چھٹی ہو گئی تھی اور منہال انتظار میں بیٹھی ہو گی ۔
وہ سکول پہنچی تو گارڈ نے بتایا منہال جا چکی ہے
پہلے مہکشاں پریشان سی ہوئی پھر حدید کا خیال آیا ۔
وہ گھر پہنچی تو منہال اور حدید وہیں پر موجود تھے
منہال کاونٹر پر بیٹھی تھی اور سامنے حدید کھڑا تھا
دونوں چھم چھم کھیل رہے تھے ۔
انہیں مہکشاں کے آنے کا علم نا ہوا ۔
دفعتا منہال نے اس طرف دیکھا تو مہکشاں سینے پر بازو لپیٹے اس طرف ہی غصے سے دیکھ رہی تھی ۔
منہال نے میسنے پن سے دانت نکالے ۔
” ہائے !” حدید نے بھی ہاتھ ہلایا ۔
اگلے ہی پل مہکشاں آگے بڑھی اور منہال کے گال پر تھپر ثبت کر دیا ۔
یہ اتنا اچانک تھا کہ منہال کے ساتھ ساتھ حدید بھی گنگ رہ گیا ۔
” آخر یہ حرکت کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ تم کس سے پوچھ کر میرے علاوہ کسی اور کے ساتھ سکول سے آئی ۔ تمہیں معلوم ہے میں کتنا پریشان ہو گئی تھی ۔ ” سرخ چہرے کے ساتھ وہ تیز لہجے میں بولی ۔
ننھی منہال آنسووں سے لبالب آنکھیں لیے بے آواز ہچکیاں لینے لگی تھی ۔
ساڑھے چھ سالوں میں پہلی بار تھا جو مہکشاں نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا ۔
” وہ کسی کا ساتھ نہیں میرے ساتھ آئی ہے سکول سے ” حدید نے منہال کو چپ کروانے کی غرض سے خود سے لگاتے ہوئے مہکشاں سے کہا ۔
” چاہے کوئی بھی ہو ۔ میری بیٹی کی میرے بنا یا میری اجازت کے بنا کہیں بھی کسی کے ساتھ آنے جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ” اپنی سانسوں پر قابوں پاتے مہکشاں نے پھر سے واضح کیا ۔
” کوئی ۔ کسی ۔ ! یعنی میں کوئی ہوں ۔ مجھے لگا تم مجھے اپنا دوست سمجھتی ہو مجھ پر بھروسہ کرتی ہو ۔ ” حدید نے لہجے کو افسوس میں لپیٹتے ہوئے کہا ۔
منہال ابھی تک ہچکیاں کھینچ رہی تھی ۔
” منہال میری کل متع ہے اور میں اپنے علاوہ اسکے بارے میں کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتی ۔ اور آج کل حالات بھی ایسے نہیں ہیں کہ بھروسہ کیا جائے ” ابکی بار مہکشاں نے سنجیدگی سے کہہ کر حدید کے ساتھ لگی منہال کو گود میں اٹھایا اور اندر بڑھ گئی ۔
حدید وہیں کا وہیں کھڑا رہ گیا ۔
مہکشاں کو کیا ہوا تھا ۔
آج سے پہلے تو کبھی ایسا رویہ نہیں دکھایا تھا ۔
حدید کو چند لمحے لگے اسکی آخری بات سمجھنے میں ۔
یعنی وہ اس پر بھروسہ نہیں کرتی یا کرنے سے دڑتی ہے ۔
حدید کو وقعتا دکھ ہوا تھا ۔
کچھ تھا مہکشاں کے ماضی میں جو اسے آسانی سے کسی پر بھروسہ کرنے سے روک رہا تھا ۔
حدید باہر نکل آیا اور اپنی سائیکل لیکر نکل گیا ۔
مہکشاں کے الفاظوں نے اسے بری طرح رنجیدہ کیا تھا ۔
دوپہر پورے جوبن پر تھی مگر حدید کو موسم بھیگا بھیگا سا لگ رہا تھا ۔
گھر کے اندر آو تو منہال رو رو کر سو چکی تھی اور پاس بیٹھی مہکشاں بھی رو رہی تھی
اسے خود بھی تھپر مارنے کا افسوس تھا ۔
بھیگتی پلکوں سے ٹپکتے آنسووں میں ایک منظر دھندلا رہا تھا ۔
آٹھ سالا مہکشاں ماں کو بتائے بنا گھر سے نکلی تھی ۔
وہ کچھ آگے نکل آئی تو سنسان جگہ دیکھ کر ایک آدمی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔
وہ فرار کی تگو دو میں چلائی مگر بے سود
پھر وہ ہوا جو اسنے کبھی سوچا نہیں تھا ۔
مہکشاں کی زندگی کی بھیانک ترین یاد اسے آٹھ سال کی عمر میں ملی تھی ۔۔۔
منہال کسمسانے لگی تو مہکشاں تیزی سے آنکھیں صاف کر کے اسکی طرف متوجہ ہوئی ۔
کچھ دیر پہلے جب منہال اسے سکول میں نہیں ملی تھی تو دل میں عجیب وسوسے آنے لگے تھے ۔
وسوسے جو اسکے دل کو جھرجھری لینے پر مجبور کر رہے تھے
منہال کو پھر سے سلا کر وہ باہر دکان میں آگئی ۔
وہاں خود کو مصروف رکھا تاکہ ذہن ریلیکس ہو سکے ۔
کچھ دیر بعد اسے حدید کا خیال آیا ۔
اپنے الفاظ یاد آئے ۔
یقینا حدید کو دکھ ہوا تھا مگر وہ ماں تھی اور اس لمحے جو سمجھ آیا مہکشاں نے وہ کیا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے
