Aatish E Ishqam By Hira Shah Readelle50249 Episode 43
No Download Link
Rate this Novel
Episode 43
از قلم حرا شاہ
صیام بخاری کے پر تعیش بنگلے پر دوپہر اتر چکی تھی ۔
اسکی گاڑی گیٹ پر آکر رکی ۔
صیام بخاری گاڑی سے اترا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا بنگلے کے اندر چلا گیا ۔
نک سک سے تیار ہوا
چہرا پر ہمیشہ کی طرح مخصوص مغروریت لیے ہوئے
وہ سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا ۔
ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کر کے خود کو ریلیکس کیا
پھر کوٹ کی جیب سے موبائل نکال کر کال ملانے لگا
” جی بولیے سر ” دوسری طرف سے آواز آئی
” جیسا کہا تھا ہو گیا ۔ ” صیام بخاری نے سنجیدگی سے پوچھا ۔
” بلکل سر ۔ آپ فکر مت کریں ۔ وہ شہوار کا چمچہ آدم اب میرے آدمیوں کے ہاتھوں نہیں بچے گا ” یقین دہانی کروائی گئی
” مجھے اسکی موت کی خبر جلد چاہیے ۔ اس نے مجھے دھوکہ دیا ہے اور میرے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کا انجام بھیانک ہونا چاہیے ” دانت پیس کر کہتے اس نے ٹھک سے فون بند کر دیا ۔
کچھ دیر گزری جب ناصر ملک ملاقات کو آیا
دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھ باتیں کرنے لگے
” سلار کے بارے میں کیا سوچا ؟ ” ناصر ملک نے استفار کیا ۔
” اسے کچھ دن جیل کی ہوا کھانے دو ۔ پھر دیکھتے ہیں ۔ میں اسے اپنے ہی بھائی کے خلاف استعمال کروں گا ۔ ” ایک شاطرانہ مسکراہت چہرے پر لیے وہ بولا تھا
ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے ۔ صوفے پر بازو پہلے نہایت اعتماد سے بیٹھا ہوا تھا ۔
” وہ سب تو تھیک ہے لیکن پولیس نے سلار کے ساتھ نادر کو بھی پکڑ لیا ہے ۔ کہیں وہ کچھ اگل نا دے ” ناصر ملک نے تشویش کا اظہار کیا ۔
” وہ کچھ نہیں بولے گا ۔ اسے معلوم ہی نہیں اس سے قتل کروانے والا میں ہوں ۔ ” ایک آنکھ اچکا کر صیام بخاری نے جتاتے ہوئے کہا ۔
ناصر ملک کے چہرے پر سایے سے لہرائے
” اسے نہیں معلوم مگر آدم کو معلوم ہے ” چہرے پر ہاتھ پھیرتے ناصر ملک منہ میں بڑبڑایا تھا
( ناصر ملک نے جب آدم سے شہوار کی کمپنی کے متعلق انفارمیشن لی تھیں جب ناصر ملک نے آدم کے سامنے اس بات کا زکر کیا تھا کہ شہوار کے ماں باپ کو صیام بخاری نے ہی مروایا ہے مگر وہ یہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ شہوار کے ساتھ مخلص ہونے کے باوجود بھی آدم نے شہوار کو یہ بات کیوں نہیں بتائی ۔ )
” کیا تم نے کچھ کہا ؟ ” صیام بخاری اسے سن نہیں پایا ۔
” نہیں کچھ نہیں ۔ میں چلتا ہوں ” ناصر ملک تیزی سے کہتے اٹھا اور باہر نکل گیا ۔
صیام بخاری کو اگر آدم والی بات پتا چلی تو وہ اسے مار دے گا
اس سے پہلے اسے ہی آدم کو مارنا ہوگا ۔
یہی سوچتے ہوئے وہ بنگلے سے باہر کی طرف بڑھنے لگا جب اسکے موبائل پر کال آئی ۔
” ہم لوگوں نے اپنا کام کر دیا ۔ سلار اب سلاخوں کے پیچھے ہے ۔ ہمارے پیسے کب ملیں گے ” یہ ان دونوں میں سے ایک تھا جن کے ساتھ سلار ڈرگز ڈیلنگ کا ریکٹ چلا رہا تھا ۔
وہی جس کا سلار نے ہاتھ کاٹ دیا تھا ۔
” تمھارا پیسہ جلد مل جائے گا ۔ بار بار فون مت کرنا ” ناصر ملک کوفت سے کہتے فون رکھنے لگا جب وہ آدمی بولا ۔
” پیسہ جلدی ملنا چاہیے ورنہ میں پولیس کے پاس پہنچ جاوں گا تمھارے کالے دھندوں کا ثبوت لیکر ” وہ خالصتا دھمکی آمیز لہجے میں بولا تھا ۔
” مطلب ” ناصر ملک کے قدم ٹھہرے
” مجھے معلوم ہے ہاشم لغاری کے فیشن اسٹوڈیو کی آر میں جو لڑکیوں کی ٹریفیکنگ ہوتی ہے اس میں تمھارا بھی ہاتھ ہے ۔ مجھے ٹائم سے پیسہ دو نہیں تو میں ٹائم سے پولیس کے پاس پہنچ جاوں گا اور یہ کوئی خالی دھمکی نہیں ہے ” اس آدمی نے جیسے ناصر ملک کے منہ پر طماچہ مارا تھا
وہ ہاشم لغاری کے ساتھ ملا ہوا ہے اس بات کی خبر تو صیام بخاری کو بھی نہیں معلوم پھر اسے کیسے معلوم ہوا ۔
ضرور کوئی ہے جو اسکی جاسوسی کر رہا ہے
وہ پتا لگا لے گا ۔
اسی الجھن میں گھرا وہ صیام بخاری کے بنگلے سے نکل کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
ناصر ملک کے جاتے ہی صیام بخاری کے چہرے کے تاثرات بدلے
وہاں ناگواریت نے پناہ لے لی
” تم اگر سوچتے ہو مجھے تمھاری کرتوتوں کا علم نہیں ہے تو بھول ہے تمھاری ” ایک نخوت بھری سانس لیتے وہ اٹھ کر باہر نکل آیا ۔
وہ دوسری منزل پر آیا اور ایک کمرے کے آگے کھڑا ہوا
” چلو صیام اب زرا سی اداکاری کر لی جائے ” خود سے ہی مکاری بھرے لہجے میں کہتے اسنے دروازے کا ہنڈل گھمایا اور اندر بڑھ گیا ۔
وہ ایک بیڈ روم کی طرز کا کمرہ تھا
بلکل سامنے دیوار کے آگے بیڈ رکھا تھا ۔
بیڈ پر کوئی لیٹا تھا
نیند کی دوا کے اثر میں سویا ہوا وجود
صیام بخاری بیڈ کے قریب آ کر کھڑا ہوا
کچھ دیر لیٹے ہوئے نفس کو دیکھتا رہا
پھر کندھے اچکا کر قریب ہی بیٹھ گیا ۔
اپنے ہاتھ میں سوئے ہوئے وجود کا ہاتھ پکڑا تو وہ وجود کسمسایا
اس سے پہلے اسکی آنکھ کھلتی صیام بخاری اپنے چہرے کے تاثرات دکھ اور ندامت میں بدل چکا تھا
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
آدم اس وقت آفس میں موجود تھا
وہ بے چینی سے اپنے کیبن میں ٹہل رہا تھا ۔
شہوار کا نا فون لگ رہا تھا نا ہی وہ آفس آیا تھا
پچھلی رات وہ بہار پیلس بھی واپس نہیں آیا تھا
آدم کو اسکی فکر ستا رہی تھی
اسے مزید انتظار نہیں کرنا چاہیے
اسے شہوار کو ڈھونڈنا چاہیے
یہ ارادہ کرتے وہ باہر نکلا ہی تھا جب اسے سامنے سے شہوار آتا دکھائی دیا ۔
آدم نے سکون کا سانس لیا ۔
شہوار بے تاثر چہرے اور سرخ آنکھوں کے ساتھ چلتا ہوا سیدھا اپنے آفس میں داخل ہو گیا ۔
آدم نے اسکے پاس جانے کو قدم بڑھائے پھر رک گیا
اسے شہوار کو اکیلا چھوڑنا چاہیے
اسکا دل توٹا تھا
جڑنے میں وقت لگے گا
کتنا یہ بھلا کب کس کو معلوم ہوا ہے ۔
شہوار نے اپنے کام ویسے ہی کرنے شروع کر دیے جیسے روز کرتا تھا ۔
وہی میٹنگز
وہی ڈیلنگز
مگر فرق یہ تھا کہ آج اسکے چہرے پر مخصوص مسکراہت نہیں تھی
وہ پر خلوص لہجہ نہیں تھا
آج بس بے رونق سی صورت تھی
اندر سے توٹ کر بکھری ہوئی مورت تھی
اور اس سب میں شہوار یہ بات بلکل فراموش کر چکا تھا کہ سلار نے اسے فارم ہاوس میں قید لڑکی کو آزاد کرنے کو کہا تھا ۔۔۔۔
آدم آفس سے نکل کر پارکنگ کی طرف آیا ۔
اسے کسی سے ملنا تھا ۔
اس سے پہلے وہ اپنی گاڑی تک پہنچتا اسکے سر پر پیچھے سے زور دار چیز لگی
سر کے پچھلے حصے میں درد کی ٹیس اٹھی
وہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑتے ہوئے کراہا
یونہی پیچھے پلٹا تاکہ مارنے والے کو دیکھ سکے مگر منظر دھندلا ہو گیا ۔
وہ مزید کچھ کر پاتا اس سے پہلے ہی بے ہوشی نے اس پر غلبہ طاری کیا اور وہ وہیں پر گر گیا ۔
نقاب پوش آدمی نے ساتھی آدمی کو اشارہ کیا اور وہ دونوں آدم کو گاڑی میں ڈال کر لے گئے
یقینا وہ صیام بخاری کے آدمی تھے
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
وہ ایک پرانی بلڈنگ تھی
کئی سال پہلے اس بلڈنگ میں آگ لگی تھی
جس کی وجہ سے آدھی بلڈنگ جل گئی تھی
تب سے وہ کھنڈر بن چکی تھی
وہ لڑکی اس بلڈنگ کی تیسری منزل پر بے صبری سے ٹہل رہی تھی
اسے کسی کا انتظار تھا
وہ بار بار کالز کرتی مگر نمبر بند جاتا
اب اسکا ضبط جواب دینے لگا تھا
وہ مزید کچھ دیر رکی پھر وہاں سے جانے کا ارادہ کر لیا ۔
وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھی ہی تھی جب عقب سے ایک مردانہ آواز سنائی دی ۔
” زرا ٹھہریے مس ارم ” جینز اور پینٹ پہنے بال سلیقے سے سیٹ کیے وہ بلکل اسکے سامنے آکر کھڑا ہوا ۔
ارم (ہاشم لغاری کی سیکٹری ) نے دیکھا اسکا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا ۔
” تم کون ہو ؟ ” ارم نے آبرو اچکائی ۔
” میں کون ہوں یہ جاننے کی ضرورت نہیں ۔ مجھے بس وہ تمام انفارمیشن دے دو جو تمھارے پاس ہیں ” اس آدمی نے اپنا صحیح والا ہاتھ ارم کی طرف بڑھاتے ہوئے مطالبہ کیا ۔
” میرے پاس کچھ نہیں ہے ۔ ” وہ کہہ کر جانے کو پلٹی
” ہم دونوں جانتے ہیں تمھارے پاس کیا ہے ۔ تمھاری بہن کے ساتھ جو ہوا مجھے افسوس ہے ۔ اگر تم چاہتی ہو اسے انصاف ملے تو ویسا کرو جیسا میں کہتا ہوں ” وہ ایک قدم آگے آیا اور ارم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ۔
” تم میری بہن کو کیسے جانتے ہو ” ارم نے مشکوک انداز میں سوال کیا ۔
” ان سب باتوں کا وقت نہیں ہے ۔ جیسا کہتا ہوں ویسا کرو ۔ ” وہ جیسے حکم دیتے ہوئے بولا تھا
” تمھارا یقین کیوں کروں ” ارم نے بازو سامنے لپیٹتے ہوئے پوچھا
” کیونکہ جس کا یقین کر کے تم یہاں آئی ہو وہ تو آیا نہیں ۔ سو اب تمھارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے ” وہ کندھے اچکا کر بولا تھا
” کیا تم نے اسکے ساتھ کچھ کر دیا ہے ” وہ اس آدمی کو بغور دیکھتے ہوئے بولی
” میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہے اور ویسے بھی اسکے اور بھی دشمن ہونگے جو اسے کچھ کر سکتے ہیں ۔ ” وہ منہ ٹیڑھا کر کے لاپرواہ سے انداز میں بولا ۔
” تھیک ہے ۔ مجھے کیا کرنا ہو گا ۔ ” کچھ دیر سوچ کر ارم نے حامی بھرلی
” جو کر رہی ہو وہی کرتی رہو ۔ اور جو کچھ ہاتھ لگا ہے مجھے دے دو ۔ “
ارم نے اسکی بات سن کر پرس سے ایک یو ایس بی نکالی اور اسکی طرف بڑھائی
” اس میں وہ سب ہے”
آدمی نے یو ایس بی پکڑی اور اپنی جیب میں ڈال لی
” مجھ پر بھروسہ کرنے کا شکریہ ” مسکرا کر کہا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا ۔
اسکے پیچھے ارم بھی نیچے اتر آئی
اپنی گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اسنے آخری ملایا ہوا نمبر دوبارہ ڈائل کیا
وہ نمبر آدم ہمایوں کا تھا
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
شہوار اسے اپنے لیے مردہ قرار دے کر سنسان جگہ پر چھوڑ گیا تھا
وہ روتے روتے بے ہوش ہو گئی تھی
پھر کیا ہوا پتا نہیں
اب ہوش آیا تو خود کو اس جگہ پر نہیں بلکہ ایک کمرے میں بیڈ پر لیتے ہوئے پایا
فرح نے آہسگتی سے آنکھیں کھولیں اور چاروں طرف الجھن سے دیکھا
تب اس نے محسوس کیا کہ اسکا ہاتھ کسی نے پکڑ رکھا ہے
کیا شہوار تھا
وہ سیدھی ہو بیٹھی جب اسکی امید توٹی اور وہاں حیرت اور نفرت نے جگہ لے لی
” تم !”
” ہاں بیٹا میں تمھارا باپ ۔ ” صیام بخاری جزبات بھرے انداز میں بولا ۔
” تم جیسا انسان کبھی میرا باپ نہیں ہو سکتا ” وہ دانت پر دانت جما کر بولی تھی ۔ لہجے میں نفرت شامل تھی
” تمھاری نفرت جائز ہے بیٹا ۔ میں تمھارا اور تمھاری ماں کا گناہ گار ہوں ۔ گزرے وقت نے مجھے میری غلطی کا احساس کرا دیا ہے ۔ میں تم سے شرمندہ ہوں بیٹا ۔ مجھے معاف کردو ” وہ کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر فرح کے سامنے سر جھکا گیا ۔
فرح الجھن سے دیکھتی رہی
ہر وقت انا کو اپنے ماتھے پر سجا کر رکھنے والا صیام بخاری آج سر جھکائے معافی مانگ رہا تھا ۔
” مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ مجھے یہاں سے جانا ہے ” ایک لمحے کو وہ پگلی تھی پھر خود کو وہ سب یاد کروالیا جو صیام بخاری نے اسکی ماں کے ساتھ کیا تھا ۔
” کہاں جانا ہے اس شہوار کے پاس جس نے تمھاری ایک نا سنی اور اس حالت میں چھوڑ کر چلا گیا ۔ یا اس ہاسٹل جہاں پولیس نے ریڈ ماری کیونکہ وہاں کی اونر کوئی ریکٹ چلا رہی تھی ۔ کوئی ٹھکانہ ہے تمھارے پاس ۔ میں جانتا ہوں تمھاری نفرت بہت زیادہ ہے مگر اپنے باپ کو ایک موقع دو ۔ میں تمھارے ساتھ بچپن میں تو نہیں تھا مگر اب اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں ۔ میں تو تم سے معافی مانگے لیلہ کے طوائف خانے بھی گیا تھا ۔ تمھارا باپ بہت نادم ہے بیٹا ۔ اسے معاف کردو گوکہ میں معافی مانگنے کے لائق نہیں ہوں مگر پھر بھی تم سے درخواست کرتا ہوں ۔ ” لہجے میں ندامت اور آنکھوں میں پچھتاوے کے فرضی آنسو لاتے ہوئے صیام بخاری فرح کے سامنے بہت عمدہ اداکاری کر رہا تھا
” کیا آپ واقعی شرمندہ ہیں ” فرح باپ کے جال میں کچھ کچھ پھنس چکی تھی ۔
” کاش میں تمہیں دل کی حالت بتا سکتا ۔ مگر تم اپنے باپ کی کیفیت سمجھو ۔ یقین کرو مجھ پر ” صیام بخاری نے چہرا اٹھایا اور فرح کا ہاتھ دباتے ہوئے فرط جزبات سے کہا ۔
فرح کی اپنی آنکھ سے دو آنسو توٹ کر گال پر پھسلے
” مجھے یقین کرنے کو وقت چاہیے ہوگا ۔ ” وہ منہ دوسری طرف پھیرتے ہوئے ناراض سے انداز میں بولی
” جیسا تم چاہو ۔ اب آرام کرو ۔ اور شہوار کے بارے میں مت سوچو ۔ اسے تم پر یقین کرنا چاہیے تھا ۔ تمھاری بات سننی چاہیے تھی ۔ وہ تمھارے لائق تھا ہی نہیں ۔ بھول جاو اسے ” جاتے جاتے وہ فرح کو شہوار کی طرف سے بدگمان کر گیا تھا ۔
فرح کی آنکھوں سے آنسو روانی سے بہنے لگ گئے تھے
آنکھوں میں تکلیف بھری کرچیاں چھبنے لگی تھیں
شہوار کے بولے تمام الفاظ زہن میں گردش کرنے لگ گئے تھے اور اسکے وجود پر کرب چھاتا جا رہا تھا ۔
ایک ہی رات میں وہ شہوار شاہ کے گھر سے صیام بخاری کے گھر میں آ چکی تھی
اب آگے قسمت میں کیا لکھا تھا ۔
کیا شہوار اسکی بے گناہی جان پائے گا
کیا غلط فہمی دور ہو گی
کیا فرح اپنے باپ کا سچ جان پائے گی
کیا صیام بخاری کا راز کھل جائے گا
یقینا سچ ایک نا ایک دن سامنے آکر ہی رہتا ہے
مگر اپنے وقت ہر
اپنے انداز سے
ایسے کہ تمام جھوٹ دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے
