No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
قسط نمبر 7
بہار پیلس میں بہار جان گیسٹ روم میں بیٹھیں تھیں ۔
صوفے کے بازوں پر اپنا بازو ٹکائے وہ بہت باذوق لگ رہی تھیں ۔
ہلکے نیلے رنگ کی ساڑھی میں ملبوس ۔ گلے میں سفید موتیوں کا ہار پہنے جسکا موتی وہ ادا سے گھماتی تھیں ۔
سامنے صوفے پر تابندہ خان بیٹھیں تھیں ۔ وہ بہار بیگم کی درینہ شناسہ تھیں ۔ ایک مشہور سکول میں بطور پرنسپل کے فرائض انجام دیتی تھیں ۔
کیٹھ چائے کی ٹرالی لیکر داخل ہوئی ۔
پھر دونوں کو چائے بنا کر پیش کی اور کمرے سے نکل گئی ۔
باہر موسم ابر آلود ہو رہا تھا ۔ بارش ہونے کے امکان لگ رہے تھے ۔
” تابندہ ہم سالار کی وجہ سے بہت پریشان ہیں ۔ ایسا کیا کریں جس سے انکی باغی خصلت تبدیل ہو جائے ۔ وہ ہم سے راضی ہو جائیں ۔ آخر اتنی طویل ناراضی بھی کوئی کسی سے رکھتا ہے۔ وہ آج تک ہمیں اور شہوار کو اپنے ماں باپ کی موت کا قصور وار سمجھتا ہے ۔ مگر یہ کیوں نہیں سمجھتا کہ ہم نے بھی اپنے بیٹے اور بہو کو کھویا تھا ۔ شہوار نے بھی اپنے ماں باپ کھوئے تھے ۔ وہ حدید کی طرف کیوں نہیں دیکھتے ۔ انہوں نے بھی تو اپنے ماں باپ اس درد ناک حملے میں کھوئے تھے ۔ ” چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتی وہ تکلیف سے بولیں تھیں ۔ انکے لہجے میں کرب شامل تھا ۔
” بہار اسے کسی سائیکیٹریسٹ سے چیک کر واو ” تابندہ خان نے مشورہ دیا ۔
” تابندہ ہمارے پوتے زہنی مریض نہیں ہیں ۔ ” بہار بیگم زور دے کر بولیں تو تابندہ خان نے پہلو بدلہ ۔
” پھر میں ایک مشورہ دوں گی ۔ اسکے لیے دعا کرواو ۔ میں ایک لڑکی کو جانتی ہوں ۔ سکول میں ٹیچر ہے ۔ بہت با پردہ اور نیک سیرت لڑکی ہے ۔ ایک بار میں نے زکر کیا اپنے بیٹے کے بارے میں ۔ دس سال ہوگئے شادی کو اولاد نہیں تھی ۔ اسنے دعا کی اللہ میرے بیٹے اور بہو کو اولاد عطا کرے ۔ یہ دعا کی تاثیر تھی یا خدا داد صلاحیت میرے بیٹے اور بہو کو اللہ نے جڑواں بچے عطا کیے ۔ تب سے مجھے یقین ہے اس لڑکی کی دعاوں پر ۔ وہ جو دعا کرتی ہے قبول ہوتی ہے ۔ دعا کے معاملے میں وہ گاڈ گئفٹد ہے ” تابندہ خان نے دوسرا مشورہ دیتے ہوئے سکول میں پڑھانے والی ایک ٹیچر کا زکر کیا
” اگر ایسا ہے تو ہم بزات خود اس لڑکی سے ملاقات کریں گے ۔ ہم اس سے درخواست کریں گے کہ وہ ہمارے پوتے کے لیے دعا کرے ۔ تابندہ ہمیں اسکا نام پتا بتاو ۔ ” بہار بیگم واضح طور پر بے چینی اور عجلت سے بولیں تھیں ۔
” اسکا نام فرح ہے ۔ گرلز ہاسٹل میں رہتی ہے ۔ ” تابندہ کے بتانے پر بہار بیگم فورا بولیں ۔
” ہم جلد اس لڑکی سے ملاقات کریں گے ۔ “
تابندہ خان اثبات میں سر ہلا کر چائے کے کپ سے لب لگا گئیں ۔
جبکہ بہار جان کا کپ ایسے ہی پڑا سرد ہوتا رہا ۔
باہر بادل کھل چکے تھے ۔
بارش بہار پیلس کے لان کو بھگوتی جا رہی تھی ۔
کیٹھ جو کچن سے نکلی تھی اچانک سے کسی نے اسے کھینچا تھا ۔
وہ حدید تھا ۔
وہ کیٹھ کو لیکر لان میں نکل آیا تھا ۔
” کام کر کرکے تمھارا فیوز خراب ہوجائے گا کیٹھ ۔ زرا دماغ کو ٹھنڈا کر لو ۔ ” باہر آکر اسکا ہاتھ چھوڑتے ہوئے وہ شوخ سا بولا ۔
” اف ۔۔۔ مجھے پورا گیلا کر دیا ۔ اتنے کام کرنے ہیں میں نے۔ ” کیٹھ ماتھا ٹھٹکتے ہوئے بولی ۔ ساتھ ہی اپنے یونیفارم کو دیکھا جو بھیگ چکا تھا ۔
” گیلی ہو گئی ہو تو اب بارش میں نہا بھی لو ۔ اور تمہیں بارش میں کام کیسے سوج سکتے ہیں ۔ جب بارش ہو تو صرف بارش کے بارے میں سوچوں ۔ بارش کو خود پر برسانے کا سوچو ۔ خبردار جو بارش کے ہوتے ہوئے تم کسی اور چیز کے بارے میں سوچو بھی تو ۔ ورنہ بارش اسے اپنی انسلٹ سمجھ کر تم سے ناراض ہو جائے گی ۔ پھر وہ کبھی تم پر نہیں برسے گی ۔ ” وہ منہ پھاڑ کر ہاتھوں کو کیٹھ کی طرف لمبا کرتے ہوئے بولا ۔
کیٹھ ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹی تو حدید کے قہقہے بلند ہوئے ۔
وہ اندر کی طرف بھاگ گئی ۔
حدید دونوں بازو کھول کر کھڑا ہو گیا ۔
وہ سردیوں کی یخ بارش تھی مگر ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ جہاں بارش ہو وہاں حدید نا ہو ۔
وہ اپنے سر کو ہلاتا بالوں کو چاروں طرف جھٹکا ۔
کبھی مستی میں آکر چھلانگ لگاتا ۔
کبھی موج میں ناچنے لگتا ۔
وہ بھرپور طریقے سے بارش کا لطف اٹھا رہا تھا ۔
رنگین مزاج حدید جو ہر لمحے کو بھر پور انجوائے کرتا تھا
روعان پیلس میں موجود نہیں تھا ورنہ اسے بھی اپنے ساتھ گھسیٹ لیتا ۔
جتنی دیر بارش ہو تی رہی وہ خود کو بارش میں بھگوتا رہا ۔
یخ قطروں کے باعث ایک دو چھینکیں بھی آئیں مگر پروا کسے تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
وعدے کے مطابق پریشال سٹوڈیو پہنچ چکی تھی ۔
ابراہیم صاحب اب بہت بہتر تھے ۔
وہ صبح کے نو بجے کا وقت تھا ۔
پریشال گرے جینز کے اوپر وائٹ ٹاپ پہنے ہوئے تھی ۔
لمبے گھنگھریالے بال اونچی پونی میں بندھے تھے ۔
گردن کے گرد مفلر لپیٹا ہوا تھا ۔
وہ ایک لحظے کو سٹوڈیو کے سامنے رکی ۔
گہری سانس لی اور اندر بڑھ گئی ۔
اندر کا ماحول معلوم جیسا ہی تھا ۔
ادھر ادھر بھاگتے ہوئے سپوڑٹ بوائز ۔
میک اپ آرٹست ۔
وہ ایک کم معیار کا فیشن سٹوڈیو تھا ۔
وہاں کام کرنے والی ماڈلز بھی زیادہ مشیور نا تھیں ۔
ماڈلز کا شوٹ یا تو ایک سستے عام سے میگزین میں چھپتا یا نیٹ پر کسی چھوٹی ویب سائٹ پر شائع ہوتا ۔
وہ کافی دیر انتظار میں بیٹھی رہی پھر اندر بلایا گیا ۔
” میں یہ بات واضح کر دوں کہ ہمارے ساتھ تمھارا دو سال کا کنٹریک ہو گا ۔ اس دوران تم کسی اور کے ساتھ کام نہیں کرو گی ۔” ہاشم لغاری نے اسکے سامنے ایک کنٹریک پیپر رکھا تھا ۔
پریشال نے کاغز کی سطریں تیزی سے پڑھیں پھر سائن کر دیے ۔
” گڈ ۔ ہم آج اپبا پہلا شوٹ کر سکتے ہیں ۔ تم بہت خوبصورت ہو ۔ میرے پاس کام کرنے والی ہر ماڈل سے زیادہ خوبصورت ۔ دیکھنا میں تمہیں سٹار بنا دوں گا ۔” ہاشم آگے کو ہوتے ہوئے ہاتھ باہم پھنسا کر بولا ۔
” مجھے خوشی ہوگی ۔ ” پریشال بھی مسکرادی ۔
کچھ دیر بعد وہ میک اپ روم میں بیٹھی تھی ۔ ایک لڑکی اسکا میک اپ کر رہی تھی ۔
وہ گولڈن سموکی میک اپ سے سج رہی تھی ۔
عام حلیے میں پیاری لگتی تھی مگر میک اپ کر کے کوئی حسینہ لگ رہی تھی ۔
جو لباس اسے دیا گیا اسے دیکھتے ہی پریشال نے دل میں استغفار کہا ۔
گولڈن کلر کی سلیو لیس اور بیک لیس میکسی جو کے ٹانگوں سے کچھ نیچھے آکر بہت ہلکی جالی میں تبدیل ہو جاتی یوں کے ٹانگے واضح ہوں ۔
” کیا مجھے یہ ہی پہننا پڑے گا ۔ ” پریشال نے کوفت سے پوچھا ۔
” کنٹریک کے مطابق ماڈل وہی ڈریس پہنے گی جو انتظامیہ انتخاب کرے گی ۔ اسے اپنی مرضی کا حق نہیں ہے ۔ ” وہ لڑکی تھی جو اسے یہاں کے قوانین سمجھانے لگی ۔
دل پر پتھر رکھ کر پریشال نے وہ لباس پہن لیا مگر سارا وقت غیر آرام دہ رہی ۔
اسکی کوشش تھی کہ جلد سے جلد یہ لباس اسکے جسم سے اتر جائے ۔ اور یہ کوفت اسکے بار بار ہاتھوں سے کاندھوں کو ڈھانپنے پر سب پر آشکار ہو رہی تھی ۔
” اتنی ہی حیا آرہی ہے تو یہاں آئی ہی کیوں ہو ۔ ” وہ چنچل سی لڑکی کوئی پرانی مگر سٹوڈیو کی مشہور ماڈل تھی جس نے جملہ کسا تھا ۔
پریشال خاموش رہی ورنہ وہ اسکا منہ ایک لمحے میں توڑ سکتی تھی ۔
شوٹ شروع ہوا
وہ مکمل خود اعتمادی کے ساتھ پوز کر کے شوت کرواتی رہی ۔
سنہری میکسی پہنے سموکی میک آپ اور بالوں کو سٹائلش انداز میں کرل کیے وہ باآسانی کسی پر بھی قیامت دھا سکتی تھی ۔
تقریبا دوپہر کے بعد وہ اپنے کپڑے پہن کر سٹوڈیو سے باہر نکلی تھی ایسے کہ دونوں بازوں ہاتھوں سے ڈھانپ رکھے تھے ۔
قدم تیز تیز تھے ۔ ۔
اسے جلد گھر پہنچا تھا ۔
ہارٹ اٹیک کے بعد سے وہ ابراہیم صاحب کو اکیلا کم ہی چھوڑتی تھی ۔
پریشال ابراہیم کسی قسم کا رسک مول نہیں لے سکتی تھی ۔
عصر کی اذانیں فظا میں بکھر رہی تھیں جب وہ گھر کا لاک کھول کر اندر بڑھی تھی ۔
ابراہیم صاحب سے مل کر کمرے میں آئی تو دل میں خیال آیا ۔
وضو کیا اور نماز ادا کی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ۔
” اللہ مجھے معاف کر دینا ۔ میرے تمام گناہوں کے ساتھ مجھے معاف کرنا ۔ بابا کو ہمیشہ میرے سر پر سلامت رکھنا ۔ ” ایک قطرہ آنکھ سے نکل کر بہہ گیا ۔
وہ خود سے باتیں کرنے کی عادی تھی مگر آج وہ اللہ سے باتیں کر رہی تھی ۔
وہ بہت دینی قسم کی لڑکی نہیں تھی ہاں مگر نماز روزے کی پابند ضرور تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
ثمرین شاہ پانچ سالا سالار کا ہاتھ پکڑے باہر لائیں تھیں ۔
” بی جان ہم سالار کو ساتھ لیکر جا رہے ہیں ایئر پورٹ تک ۔ نادر ( ڈرائیور ) کے ساتھ واپس آ جائیں گے ۔” ثمرین شاہ نے اطلاع دیتے ہوئے کہا ۔
سالار نے ماں سے ہاتھ چھڑوایا اور بہار جان کی طرف بھاگ کر آیا ۔
” دادو ماما کو روک لیں ۔ آپ کہیں نا انہیں پلیز ۔ ” وہ روہانسا سا ہوا تھا
” میرے لاڈلے آپکی ماما ہمیشہ کے لیے ٹھوڑی نا جا رہی ہیں ۔ وہ ایک ہفتے میں واپس آ جائیں گی ۔ ” بہار جان نے سمجھاتے ہوئے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرا ۔
” نہیں انہیں روک لیں ۔ مت جانے دیں ۔ ” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا ۔
کیا ڈھرکا جسے بیان نہیں کر پا رہا تھا ۔
” سالار ضد مت کرو ۔ ایسے رونے سے مام ڈیڈ پریشان ہونگے ۔ وہ کام تھیک سے نہیں کر پائیں گے ۔” شہوار نے اسے کاندھوں سے تھاما اور سمجھایا ۔
” کیا تم شاز عالم اور ثمرین شاہ کو لیکر نکل چکے ہو؟ “
” بس ہم نکلنے ہی والے ہیں “
” ساتھ میں حیدر آفندی اور لائبہ آفندی بھی ہونگے ؟ “
” جی مگر بچہ بھی ہے ساتھ میں “
” سب کو ختم کردو ۔ میرے آدمی طے شدہ جگہ پر موجود ہیں ۔”
” میں سمجھ گیا ” شاز عالم ثمرین شاہ سالار کے ساتھ باہر آکر گاڑی میں بیٹھے تو نادر نے گاڑی اسٹارٹ کردی ۔
راستے میں ایک بنگلے کے باہر گاڑی روک کر حیدر آفندی اور لائبہ آفندی کو پک کیا گیا ۔
شاز عالم اور حیدر آفندی کاروباری ساتھی تھے اور بہت اچھے دوست بھی ۔
لائبہ حیدر اپنا تین سالا بیٹا چھوڑ کر جا رہی تھیں ۔
گاڑی ایئر پورٹ کے راستے پر رواں تھی ۔ سالار نے ثمرین شاہ کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ۔
اسکا دل مسلسل بے چینی میں تھا ۔
” سر آگے راستہ بند ہے ۔” ایک جگہ گاڑی روکتے نادر نے بتایا ۔
” دوسرا راستہ لے لو ۔ ” موبائل پر کچھ دیکھتے شاز عالم نے سرسری سے کہا ۔
گاڑی دوسرے راستے پر چل پڑی ۔ راستہ جہاں موت ان چاروں کی طاق میں تھی ۔
ایک قدرے ویران سڑک پر نادر نے گاڑی کی رفتار آہستہ کی ۔ دو تین جھٹکے آئے اور گاڑی بند ہو گئی
” سر گاڑی خراب ہو گئی ہے ۔ ” نادر نے پیسنجر سیٹ پر بیٹھے شاز عالم کو اطلاع دی
” تو دیکھو اتر کر کیا مسئلہ ہے ۔ میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو ” شاز عالم جھڑک کر بولے تو نادر گاڑی سے اتر گیا ۔
انہیں کوفت ہو رہی تھی ۔
ایئر پورٹ پہنچنے میں دیری ہو رہی تھی ۔
” ماما گھر واپس چلیں ” ایک آخری معصومیت بھری التجاء سالار کی طرف سے آئی تھی ۔
ثمرین شاہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی گاڑی کا دروازہ کھلا ۔
وہ نقاب پوش شخص تھا جس نے ثمرین کی گود سے سالار کو لیکر باہر نکالا تھا ۔
” سالار !” وہ چلائیں تھیں ۔
سب اچانک اور تیزی سے ہوا تھا ۔
باقی نفوس بھی ہکا بکا رہ گئے تھے ۔
دفعتا نادر شاز عالم کی طرف والے دروازے پر آیا ۔
اس سے پہلے وہ کچھ بولتے نادر نے ایک چاقو انکے پیٹ میں گھسا دیا ۔
” بابا !” سالار کی فلک شگاف چینخ نکلی ۔
” بچے کا منہ بند کرواو ۔”
نقاب پوش آدمی اسکی طرف بڑھا اور اسکا سر زور سے زمین ہر پٹخ دیا ۔ سالار کے سر سے خون بہنے لگا ۔
ثمرین شاہ تکلیف سے چلائیں ۔ کسی کو کچھ کہنے کا موقع نا ملا ۔
بہت پھرتی سے نادر اور وہ دو آمی ان چاروں پر چاقووں سے وار کرتے جارہے تھے یہاں تک سب کے سب خون سے لت پت ہو چکے تھے ۔
وہ منظر ویسا ہی تھا جیسے سالار کے بیڈ کے پیچھے لگی پینٹنگ ۔
تین خونخوار بھیڑیے جو چار بھیڑوں پر حملہ کر رہے تھے ۔
نادر نے خود کو بھی ایک دو وار لگائے تاکہ اس پر شک نا جائے ۔
وہ سمجھ رہا تھا کہ سالار بے ہوش ہے مگر اسکی آنکھیں کھلیں تھیں۔
سڑک پر منہ کے بل گرے وہ تمام خونی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔
پھٹی نگاہوں سے
معصوم بے یقین نگاہوں سے
وہ پانچ سال کا انتہائی حساس بچہ تھا جسکے سامنے اسکے ماں باپ سمیت دو لوگوں کو بری طرح سے قتل کر دیا گیا تھا ۔
وہ خونی منظر اسکے معصوم زہن میں نقش ہو چکا تھا ۔
اور سالار اسکی تو ہر حساسیت ختم ہو چکی تھیں ۔
آنکھیں پتھرا چکی تھیں ۔
وہ خود بھی پتھر کا ہو چکا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
وہ دن سالار کی زندگی کا سب سے بھیانک دن ثابت ہوا تھا ۔ چند لمحوں میں ہی اس پر قیامت وارد کر دی گئی تھی ۔ دنیا جہاں کے سب پہاڑ اسکے سر پر گرا دیے گئے تھے ۔ اسکی معصوم آنکھوں کے سامنے بے رحمی سے چار لوگوں کا قتل کر دیا گیا تھا ۔ وہ زمین پر منہ کے بل پڑا تھا ۔ سر کے دائیں طرف سے خون بہہ کر سڑک کو سرخ کر رہا تھا ۔ مگر اسے تکلیف کا احساس نہیں تھا ۔
یہ چوٹ تو درد دینے میں کئی گناہ پیچھے تھی اس درد سے جس سے وہ گزر رہا تھا ۔
کچھ فاصلے پر عالم شاہ ثمرین شاہ حیدر آفندی اور لائبہ حیدر کی خون سے اٹی لاشیں پڑیں تھیں ۔
سالار بازووں پر زور ڈال کر اٹھ کر بیٹھا ۔
پھر گھٹنوں پر گھسیٹتا ہوا ثمرین شاہ تک آیا ۔
” ماما ۔ اٹھیں ۔ ” ثمرین شاہ کا کندھا جھنجھوڑتا ہوا وہ چلایا ۔
” بابا اٹھیں ۔ آنکھیں کھولیں ۔ ” وہ گاڑی کے دوسری طرف آیا اور عالم شاہ کا چہرا ہاتھوں میں لیکر انہیں پکارا ۔
وہ روتے ہوئے کبھی ماں تو کبھی باپ کے پاس آتا ۔
دونوں کو جھنجوڑتا مگر اب کوئی بھی اسکی بات سننے کے قابل نہیں تھا ۔
” ماما ۔ پلیز اٹھ جائیں ۔ دیکھیں بابا بھی نہیں اٹھ رہے ۔ آپ ان سے کہیں نا ۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔ ” وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا اور ثمرین شاہ کی منتیں کرنے لگا ۔
” مممم۔۔مما۔۔ماما ۔ وہ کون لوگ تھے ۔ انہوں نے ایسا کیوں کیا ۔ ماما وہ ایسے کیوں مار گئے آپ سب کو ۔ ” وہ زمین پر لیٹا اور سر ثمریں شاہ کے سینے پر رکھ لیا ۔ وہ آنسووں سے بھری آنکھوں اور ہچکی زدہ سانسوں سے بار بار یہ ہی دہراتا جا رہا تھا ۔
” وہ کون لوگ تھے ۔ انہوں نے ایسا کیوں کیا ۔ “
ایسے ہی ماں کے سینے کے ساتھ لگے وہ کچھ ہی دیر میں بے ہوشی کی وادی میں جا چکا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
کالونی میں بہار پیلس اپنے پورے قد سے کھڑا تھا ۔
موسم میں اچانک سے تبدیلی آئی تھی ۔ کچھ دیر پہلے کی دھوپ چھایا میں بدل گئی تھی ۔ فضا میں زردی چھا گئی تھی ۔
موسم خراب سے خراب ہوتا جا رہا تھا ۔
ایسے میں دس سالا شہوار لان میں لگے جھولے پر بیٹھا تھا۔ اسنے سامنے ان ڈور پلانٹ رکھا ہوا تھا جس کی پتیاں وہ قینچی سے تراش رہا تھا ۔
موسم نے رخ پھیرا تو شہوار بد مزا سا ہوا ۔ ہلکی بوندہ باندی بھی شروع ہو چکی تھی ۔
وہ پودا اٹھا کر اندر جانے ہی لگا تھا جب ہارن کی آواز سنائی دی ۔
وہ مسکراکر گیٹ کی طرف پلٹا ۔
ڈرائیور اور سالار واپس آ گئے تھے ۔
گاڑڈ نے دروازہ کھولا اور اگلے منظر پر شہوار کی مسکراہٹ سمٹی ۔
نادر زخموں سے نکلتے خون ( جو اسنے جان بوجھ کر لگائے تھے ) کو ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے گیٹ سے اندر تقریبا گر گیا تھا ۔
گارڈ نے فورا لپک کر اسے سہارا دیا ۔
” نادر یہ سب کیا ہے ۔ کیا ہوا ہے ۔ سر کہاں ہیں ۔ میڈم کہاں ہیں ۔ بتاو کچھ نادر ۔ ” گارڈ بھی نادر کے ساتھ نیچھے بیٹھا اور پریشانی سے استفار کرنے لگا ۔
” وووہ ۔۔۔وہ ۔وہ ۔۔ ہم پر حملہ ہوا راستے میں ۔ وہ دو لوگ تھے ۔ سب کو مار دیا انہوں نے ۔ ” نادر با مشکل تکلیف کی شدت سے بول پایا ۔
گارڈ کے چہرے پر جہاں اسکی بات سن کر سایہ سا لہرایا وہیں قریب آتے شہوار کے ہاتھ سے پودا چھوٹ کر نیچھے گرا ۔ پکی زمین پر پودا گرتے ہی ٹکڑوں میں بدل گیا ۔ آسمان پر بجلی زور سے کڑکی تھی ۔
اور شہوار وہ خود بھی آندھیوں کی زد میں تھا۔
بہار جان تک خبر پہنچی تو وہ خود کو سنبھالتی بڑی مشکل سے باہر آئیں ۔
باہر لان میں چادر سے ڈھکی چار لاشیں پڑیں تھیں ۔
” میرے بیٹے یہ کیا ہوا ۔ کس نے کیا آپ کے ساتھ ایسا ۔ آخر کیوں اتنا ظلم کیا گیا ۔ ” وہ عالم شاہ کی لاش کے پاس آکر بیٹھیں اور والہانہ رونے لگیں ۔
وہ ثمرین شاہ کی لاش تک جانے کے لیے اٹھیں تو چکرا گئیں ۔ ایک باوردی ملازمہ نے سہارا دیا ۔
بہار جان بلکل ہوش کھو بیٹھیں تھیں ۔ ایک نہیں ایک ساتھ چار لاشیں انکے سامنے پڑیں تھیں ۔
” اللہ ہمیں صبر عطا کریں ۔ ہمیں ہمت دیں ۔ ہم کیا کریں گے اب ۔ کیسے زندہ رہیں گے ۔ اللہ ہمارے بچوں کی جگہ آپ ہماری جان لے لیتے ۔ ہم کیسے اپنے پوتوں کو سنبھالیں گے ۔ ” وہ عالم شاہ کی لاش کے پاس بیٹیں تھیں ۔ غم کی تکلیف سے بار بار غشی طاری ہوتی تھی ۔
انہیں اچانک سالار کا خیال آیا ۔
” سالار ۔۔۔ہمارے سالار کہاں ہیں ۔ وہ ہمیں نظر کیوں نہیں آرہے ہیں ۔ ” وہ اٹھی اور ہیجان خیز انداز میں باہر کی طرف دوڑی تھیں ۔
” میڈم ۔۔ وہ تھیک ہیں ۔ سر پر زرا سی چوٹ آئی ہے ۔ ہاسپیٹل لیکر گئے ہیں ۔ ” ملازمہ نے پھر سے آکر انہیں تھاما اور اطلاع دی ۔
سالار تھیک ہے یہ سن کر بہار جان کو کچھ قرار ملا ۔
” شہوار ۔ وہ کہاں ہیں ۔ ” اب انہوں نے بڑے پوتے کی تلاش میں نظریں گھمائیں تو وہ انہیں لان میں ہی بیٹھا ملا ۔
اسکی نظریں ثمرین شاہ کی چادر میں لپٹی لاش پر جمی تھیں ۔
آنکھوں سے آنسو تواتر بہہ رہے تھے ۔ وہ اٹھا اور بہار جان تک آیا اور ان کے گلے لگ گیا ۔
” بی جان ۔ دیکھیں کیا ہو گیا ۔ بی جان ہمیں سالار کی بات مان لینی چاہیے تھیں ۔ وہ بار بار منع کر رہا تھا ۔ بی جان ہمیں انکو نہیں جانے دینا چاہیے تھا ۔ ” وہ بہار جان سے الگ ہوا اور آنکھوں میں بے پناہ پچھتاوا لیکر بولا ۔
” ہمارے بچے ۔ ہماری جان کی خوشی اگر ہمیں زرا سا بھی ابہام ہوتا تو ہم کبھی جانے نہیں دیتے ۔ ” بہار جان بھرائے ہوئے لہجے میں بولیں ۔
” بی جان سالار کیسا ہوگا ۔ اگر اسنے اپنی آنکھوں سے حملہ ہوتے ہوئے دیکھا ہوگا تو کیا ہوگا ۔ ” شہوار ایک ڈر کے تحت بولا ۔
” ہم ہیں نا ۔ آپ ہیں نے ۔ ہمیں خود کو سنبھالنا ہوگا تب ہی ہم سالار کو سنبھال سکیں گے ۔ وہ بہت حساس ہیں ۔ ہمیں مل کر انہیں اس تکلیف دہ دور سے نکالنا ہوگا ۔ ” بہار جان نے خود پر ضبط کر کے شہوار کو اپنے ساتھ لگایا ۔
اس روز صرف موسم ہی نہیں اچانک تبدیل ہوا تھا ۔
بہار پیلس کی ہنستی کھیلتی زندگی میں بھی بے دردی سے کیے گئے قتل کی وجہ سے تبدیلی آئی تھی ۔
وہ دن غم کا تھا ۔
تکلیف کا تھا ۔
بہار پیلس پر اتری قیامت کا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
حیدر آفندی اور عالم شاہ بچپن کے دوست تھے ۔
سکول کالج اور بیرون ملک سے اعلی تعلیم دونوں نے ساتھ حاصل کی تھی ۔
بعد میں دونوں نے مل کر کاروبار بھی اکٹھے شروع کیا تھا ۔
دونوں کی پاڑٹنر شپ کافی اچھی اور مشہور تھی ۔
اسی دوران عالم شاہ نے ثمرین شاہ سے شادی کی تھی ۔
وہ بھی تعلیم یافتہ خاتون تھیں اور شادی کے بعد بھی شوہر کے ساتھ مل کر کام کرتی رہیں تھیں ۔
عالم شاہ ہمیشہ انکے قدم سے قدم ملاکر چلنے والی ہمسفر چاہتے تھے اور ثمرین شاہ کے روپ میں ایسی ہی بیوی ملی تھی ۔
لائبہ ثمرین شاہ کی کلاس فیلو تھیں ۔ انکی ہی تجویز پر حیدر آفندی نے لائبہ سے شادی کی تھی ۔ وہ ہمیشہ ثمرین شاہ کی تجویز کو سرہاتے تھے ۔
دونوں جوڑے اپنی شادہ شدہ اور کاروباری زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھے مگر کہتے ہیں نا جہاں خوشی ہوگی وہاں دشمنی بھی ہوگی ۔ حسد بھی ہوگا ۔ نفرت بھی ہوگی ۔
جہاں خوشی کے دیے جلیں گیں وہاں نفرت کی آگ بھی ہوگی ۔
اسلام آباد میں اپنے مشترکہ پھیلے ہوئے کاروبار کے بعد عالم شاہ اور حیدر آفندی نے اپنا کاروبار دوسرے شہر میں بھی پھیلانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ ثمرین شاہ اور لائبہ حیدر بھی اس فیصلے سے متقف ہوئی تھیں ۔ فیصلے پر بورڈ کی میٹنگ کے بعد عمل در آمد ہو چکا تھا ۔ کراچی شہر میں شاہ بزنس ٹائیکون کے ایک آفس کی تعمیر شروع ہو چکی تھی ۔
بلڈنگ زیر تعمیر تھی جب زمین کے ایک متنازعے کے باعث کیس کر دیا گیا ۔
تعمیر روک دی گئی ۔ جگہ کو سیل کر دیا گیا ۔
دو سال کورٹ میں کیس چلا ۔
کورٹ کی پیشیاں عالم شاہ اور حیدر آفندی ہی بھگتاتے رہے تھے ۔
اس روز آخری پیشی تھی اور امکان تھا کہ ان کے حق میں ہی فیصلہ آئے گا ۔
کیس کی آخری پیشی کے بعد کچھ مزید ضروری کام کرنے تھے ۔ اس بار ثمرین شاہ اور لائبہ حیدر کا جانا بھی ضروری تھا ۔
مگر پہنچنے سے پہلے ہی انکے اپنے شہر میں ہی ان سب کو ختم کر دیا گیا ۔ مخالف پارٹی کو جب نظر آیا وہ کیس ہار سکتے ہیں تو پہلے ہی اپنے مخالفیں کی زندگیاں ختم کر دیں ۔
دو ہستے بستے خاندان اجاڑ کر رکھ دیے ۔
تین بچوں کو یتیم کر دیا گیا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
وہ تین سال کا تھا جب ماں باپ کا قتل کر دیا گیا تھا ۔
لائبہ اسے نانی کے پاس چھوڑ کر گئیں تھیں ۔
بیٹی اور داماد کے درد ناک قتل کے غم کو وہ سہہ نہیں پائی اور کچھ ہی دنوں میں شدید بیمار ہو کر فوت ہو گئیں۔
اب وہ اکیلا تھا ۔ کوئی بھی دنیا میں نہیں تھا اسکا ۔
ایسے میں بہار جان اسکی سر پرست بنی تھی ۔
وہ اسے اپنے گھر لے آئیں تھیں ۔
اور اپنے سگے بچوں کی ہی طرح اسکی بھی پرورش کی تھی ۔
وہ حدید حیدر تھا ۔
حیدر آفندی اور لائبہ حیدر کی واحد اولاد ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے
