Aatish E Ishqam By Hira Shah Readelle50249 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
بہار پیلس سے نکل کر فرح گاڑی میں بیٹھی تھی۔
شہوار نے ڈرائیور کو کچھ ہدایات دیں اور گاڑی آگے بڑھ گئی ۔
پچھلی سیٹ پر با نقاب بیٹھی فرح سفر کی دعائیں پڑھنے میں مصروف ہوگئی ۔
گاڑی مین روڈ پر پہنچ کر ایک اشارے پر رک گئی ۔
فرح نے یونہی دائیں جانب نظر پھیری تو آنکھیں ٹھہر گئیں ۔
اس جانب ایک سیاہ گاڑی موجود تھی ۔
پچھلی طرف کا شیشہ نیچھے گرا ہوا تھا ۔
سیٹ پر بے نیاز سا موبائل میں مصروف صیام بخاری بیٹھا تھا ۔
دفعتا صیام نے بھی چہرہ اٹھا کر فرح کی گاڑی کی طرف دیکھا ۔
ایک سرسری نگاہ ڈال کر واپس نظر نیچھے کر لی ۔
فرح پہلی نظر میں ہی باپ کو پہچان گئی تھی ۔
وہ ویسا ہی تھا جس طرح آخری بار دیکھا تھا ۔
ہاں بس کنپٹی سے بال سفید ہو گئے تھے ۔
آخری بار جب وہ طوائفوں کے کوٹھے پر اسکی سسک سسک کر مرنے والی ماں کو آخری بار دیکھنے آیا تھا ۔
نا ہی صیام بخاری کی شکل میں فرق آیا تھا نا ہی اسکی مغروریت میں ۔
فرح کو اس وقت اپنے باپ سے نفرت کے سوا کچھ محسوس نا ہوا تھا
وہ شخص اسکی ماں کا قاتل تھا ۔
اگر دنیا میں نہیں تو قیامت والے دن وہ اپنے باپ کا گریبان ضرور پکڑے گی ۔
فرح نے نفرت سے چہرا دوسری طرف موڑ لیا ۔
وہ اس شخص کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی ۔
اشارہ کھلا گاڑی آگے بڑھ گئی ۔
صیام بخاری کی گاڑی بھی کچھ فاصلہ ساتھ چل کر مخالف سمت مڑ گئی ۔
صیام بخاری نے سرسری نگاہ فرح پر ڈالی تھی مگر وہ اسے پہنچان نا پایا تھا ۔
یوں تو فرح مکمل نقاب میں تھی مگر نا بھی ہوتی تو بھی وہ اسے پہنچان نا پاتا ۔
اسنے کبھی فرح کو غور سے دیکھا ہی نہیں تھا ۔
کوٹھے پر رہتی وہ چھوٹی بچی ہمیشہ اسنے نظر انداز ہی کی تھی ۔
کبھی ایک سرسری نگاہ بھی ڈالنی گوارہ نہیں کی تھی ۔
گاڑی مسلسل پیہے گھماتی اپنی منزل کی طرف رواں تھی ۔
زندگی کے پہیے بھی مکمل رفتار سے گھوم رہے تھے ۔
مگر ان کی سمت کا تعین قدرت کے سوا کسی کو معلوم نا تھا
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
فرح ہاسٹل پہنچی تو بیرونی سیڑھیوں پر منال کو بیٹھے دیکھا ۔
وہ اداس سی لگ رہی تھی ۔
” کیا بات ہے پیاری لڑکی ایسے کیوں بیٹھی ہو ۔ کیا ہوا ” فرح فکر مند ہوتے ہوئے اسکے پاس بیٹھی ۔
” فرح آپی وہ ٹریسا بہت رو رہی ہے ۔ اسکے باس نے اسے پڑوموٹ نہیں کیا ۔ سب اسکے رنگ کا مزاق اڑاتے ہیں ۔ مجھے اسکے لیے بہت برا لگ رہا ہے ۔ ” منال نے فرح کے سامنے اپنی اداسی کی وجہ رکھی ۔
” تمہیں اسکے لیے برا کیوں لگ رہا ہے ” فرح نے مدھم سا مسکراکر پوچھا تو منال فورا بولی ۔
” لوگ اسکے ساتھ برا کرتے ہیں نا ۔ اسے طعنے دیتے ہیں برا بھلا کہتے ہیں ۔ ” منال نے وجہ سامنے رکھی ۔
” تو تمہیں برا لوگوں کے لیے لگنا چاہیے کہ وہ غلط کر رہے ہیں نا کہ ٹریسا کے لیے ۔ یا تم یوں کہنا چاہتی ہو کہ تمہیں اسکے ساتھ ہمدردی ہو رہی ہے اسکے سیاہ رنگ کی وجہ سے ” فرح نے وضاحت طلب نظروں سے منال کو دیکھا تو اسنے فورا اثبات میں سر ہلایا ۔
” ہاں ہاں وہی ۔ مجھے ہمدردی ہو رہی ہے اسکے ساتھ ۔ “
فرح اسکی بات سن کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔
اور اندر بڑھ گئی ۔
منال بھی پیچھے آئی ۔
فرح کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آئی تو کمرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا ۔
فرح نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر لائٹ آن کی ۔
دروازے کے ساتھ والی دیوار کے آگے دو زانوں ٹریسا بیٹھی تھی ۔
یک دم روشنی ہونے پر وہ چونک کر سیدھی ہوئی اور تیزی سے آنکھیں رگڑنے لگی ۔
رونے سے اسکی آنکھیں واضح سوجھی ہوئی لگ رہی تھیں ۔
فرح اسکے سامے بیٹھی اور بنا کچھ کہے اسے دیکھتی رہی ۔
ٹریسا نے فرح کی طرف دیکھا اور رونے کے درمیان مسکرائی ۔
تکلیف دہ کرب زدہ مسکراہٹ
” منال تم کہہ رہی تھی تمہیں ٹریسا سے ہمدری ہو رہی ہے ۔ ” فرح ٹریسا کی بجائے منال سے مخاطب ہوئی تھی ۔
منال نے سر اثبات میں ہلا کر تصدیق کی ۔
” ہمدردی کیا ان لوگوں سے نہیں جتائی جاتی جن کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہو ۔ کچھ برا ہوا ہو ۔ اگر تم یہ کہتی ہو اللہ نے ٹریسا کو سیاہ رنگ دے کر اسکے ساتھ غلط کیا ہے تو تمہیں مکمل حق ہے اس سے ہمدردی جتانے کا ۔ مگر کیا تمہیں لگتا ہے کہ اللہ کبھی اپنے بندے کے ساتھ غلط کر سکتا ہے ۔ سیاہ رنگ ہونا ہر گز غلط نہیں ہے ۔ اگر سیاہ رنگ ہونا غلط ہے تو ہمارے پیارے نبی کے بہترین خادم بلال حبشی کا رنگ سیاہ نا ہوتا ۔ اللہ بہترین مصور ہے اسنے انسانوں کو مختلف رنگ عطا کیے ہیں ۔ ہم کسی کے سفید رنگ کو دیکھ کر اسے بخت والا اور سیاہ رنگ کی بنا پر گناہ گار یا غلط نہیں کہہ سکتے ۔ ہمارے رنگ ہمارے اعمال کی پہچان نہیں دیتے ۔ سیاہ رنگ والے بھی اللہ والے ہو سکتے ہیں ۔ گناہوں اور بدکاریوں کی نحوست سفید رنگت والے کے چہرے پر بھی ہو سکتی ہے ۔
پیارے نبی فرماتے ہیں
“اے لوگو تمہارا معبود ایک ہی ہے اور تمہا رے باپ بھی ایک۔ اور یاد رکھو کسی عربی کو عجمی پر یا عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، اسی طرح کسی گورے کو کالے پر یا کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں سوائے اس کے جو متقی ہو۔۔ وہی اللہ کے نزدیک معزز و مکرم ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ۔ (صحیح الترغیب: 2964)
اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ ہم سب کو پیدا کرنے والا اللہ ہے ۔ کسی کے رنگ ظاہری صورت یا بناوٹ پر انگلی اٹھانا نعوذ بللہ اللہ کی مصوری پر انگلی اٹھانے کے مترادف ہے ۔
جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ یقینا گناہ کے مرتکب ہیں ۔ دوسری بات یہ صاف طور پر واضح کر دیا گیا ہے کہ لوگوں میں فرق کرنے والا انکا رنگ یا نسل نہیں بلکہ ان کے اعمال ہیں ۔ تمھاری رنگت شکل و صورت اس بات کا تعین نہیں کریں گے کہ تم جنت میں جاو گے یا جہنم میں ۔ نا ہی تمھاری نسل اس بات کا تعین کرے گی ۔ جو چیز تعین کرنے والی ہے وہ تمھارے اعمال ہیں ۔ تمہیں اللہ کی رضا اللہ کی خوشنودی تمھارے اعمال کی بنا پر حاصل ہو گی ۔ تمھارا رنگ شکل و صورت تمہیں اللہ کے نزدیک اچھا یا برا ثابت نہیں کرتے ۔ ” بہت دیر سے بولتی فرح سانس لینے کو ٹھہری ۔
ساتھ منال کے تاثر بھی دیکھے ۔ وہ فرح کی باتیں کچھ کچھ سمجھ گئی تھی ۔
پھر ٹریسا کی طرف دیکھا جو مبہوت سی اسکی طرف دیکھ رہی تھی ۔
فرح کے خاموش ہونے سے جیسے تسلسل ٹوٹا تھا اور وہ بے چین ہوئی تھی ۔
” بولتی رہو ۔ پلیز فرح بولتی رہو ۔ مجھے یہ بتاتی رہو کہ مجھے یہ رنگ دے کر خدا نے مجھے کسی سے کم نہیں بنایا ۔ مجھے اس بات کا یقین دلاتی رہو کہ یہ رنگ میری کمی نہیں ہے ۔ مجھے احساس دلاو کہ خدا نے مجھے ایک بہتر رنگت دی ہے ” ٹریسا نے یک دم فرح کا ہاتھ پکڑا اور امید بھرے روہانسے لہجے میں فریاد کی ۔
فرح نے دوسرے ہاتھ سے اسکا ہاتھ تھاما اور ہونٹوں تک لے جاکر پشت پر بوسہ دیا ۔
” اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورت چیزیں تخلیق کرتا ہے ۔ ہر انسان خوبصورت ہے ۔ انسان کو بدصورت اسکے برے اعمال اور گناہ بناتے ہیں ۔ کیا تم گناہ گار ہو ۔ کیا تم نے کبھی زندگی میں برے اعمال کیے ہیں ۔ ” فرح نے اختتام میں سوالیہ انداز میں پوچھا ۔
ممم ۔۔۔ میں نہیں جانتی ” ٹریسا جواب دیتے ہوئے زرا سا جھجکی تھی ۔
” ہم اس بارے میں تفصیل سے بات میں بات کریں گے ۔ ابھی کے لیے دوسرے مسئلے کی طرف آتے ہیں ۔ تمھارے جاننے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اللہ نے تمہیں خوبصورت بنایا ہے ۔ کسی کے کچھ کہنے سے تم ہر گز بری نہیں بن جاو گی ۔ آئندہ کبھی خود کو رنگ کی بنا پر کسی سے کم مت سمجھنا ۔ ” فرح نے اسکے ہاتھ پر دباو دیا تو ٹریسا نے اثبات میں سر ہلایا ۔ ساتھ وہ مسکرائی بھی تھی ۔
اطمینان والی مسکراہٹ
” اور وہ لوگ جو تمہیں برا کہتے ہیں ۔ تمھارے رنگ کا مذاق اڑاتے ہیں وہ لوگ اللہ کی نظر میں یقینا گناہ گار ہیں ۔ وہ اپنے اس عمل کی سزا ضرور پائیں گے اگر وہ توبہ نا کرلیں تو ۔ اگر وہ باز نہیں آتے تو سخت عزاب کے حقدار ہیں ” فرح نے بات مکمل کر کے ٹریسا کا ہاتھ چھوڑا اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔
وہ الماری تک آئی اور ایک کتاب پکڑی
فرح کتاب لیکر واپس ٹریسا کے پاس آئی اور کتاب کا ایک صفحہ کھولا ۔
” دیکھو اللہ ان لوگوں کو کیا فرما رہا ہے جو لوگوں کا مذاق بناتے ہیں ” پھر قرآنی آیت کا ترجمہ پڑھا
اے ایمان والو! نہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں کیا عجب وہ ان سے بہتر نکلیں۔ (الحجرات 11:49)”
ایک لمحے کا توقف کیا اور منال کی طرف دیکھا جو بغور اسکی بات سن رہی تھی ۔
” اسلام نے مومنوں کو اس بات سے پابند کیا ہے کہ وہ نا کسی مومن اور نا ہی غیر مسلم پر کسی قسم کا ایسا مذاق کریں جو دل آزاری کا باعث بنے ، طنز کریں یا انہیں الٹے سیدھے القاب سے پکاریں ۔ منال تمہیں ٹریسا سے ہمدردی ہو رہی تھی کہ لوگ اسے طعنے دیتے ہیں کیا تم خود بھی اسے الٹے سیدھے ناموں سے نہیں پکارتی ۔ ” فرح نے بات کا رخ منال کی طرف موڑا تو وہ چونک سی گئی ۔
” تم ایسا مذاق میں کرتی ہو ۔نا صرف تم بلکہ ٹریسا بھی تمہیں بہت کچھ کہتی رہتی ہے ۔ مجھے معلوم ہے تم دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے الٹے ناموں سے پکارنے پر برا نہیں مانتا مگر اس بات کو سختی سے ممانعت کی گئی ہے ۔ یہ اخلاقی لحاظ سے ایک غلط فیل ہے ۔ اور فرض کرو تم نے کوئی چیز بنائی اور میں اسکی برائی کروں یا اسے غلط نام سے پکاروں ۔ کیا تمہیں برا نہیں لگے گا ۔ یقینا ۔ اس طرح اگر تم اللہ کے تخلیق کردہ انسان کو الٹے ناموں سے پکاروں گی تو کیا اللہ کو برا نہیں لگے گا ۔ کیا اللہ تم سے ناراض نہیں ہوگا کہ تم نے اسکی مصوری میں خامی نکالی ہے ۔ بولو کیا انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اللہ کی بنائی کسی چیز میں خامی نکال سکے ۔”
فرح کی بات سن کر منال کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمودار ہونے لگے ۔
” کیا اللہ مجھے سے ناراض ہوں گے ۔ کیا مجھے الٹے نام لینے کی سزا ملے گی ۔ ” وہ آنسو بھری آنکھوں سے معصومیت سے پوچھنے لگی ۔
” اگر تم توبہ کرلو اور وعدہ کرو کہ آئندہ ایسا نہیں کرو گی تو تمہیں اللہ تم سے ناراض نہیں ہو نگے ۔ اور اس سے بھی زیادہ بہتر ہے اس انسان سے معافی مانگو جس کو الٹے ناموں سے پکارتی ۔ جب تک وہ تمہیں معاف نا کردے اللہ بھی تمہیں معاف نہیں کرے گا ۔ ” فرح نے سمجھایا تو منال کی آنکھوں میں ندامت چھلکی ۔
وہ ٹریسا کی طرف موڑی اور انگلیاں مڑورتی ہوئی آہستہ آواز میں بولی ۔
” مجھے معاف کردو میں تمہیں کبھی الٹے ناموں سے نہیں بلاوں گی ۔ “
منال کی بات سن کر ٹریسا کی آنکھیں بھر آئیں ۔
وہ آگے ہوئی اور منال کو گلے لگایا
” تم بھی مجھے معاف کردو ۔ میں بھی تمہے الٹے ناموں سے پکارتی ہوں ” یوں ہی گلے لگے ٹریسا نے بھی معافی طلب کی ۔
فرح نے دونوں کی طرف مسکراکر دیکھا ۔
ٹریسا منال سے الگ ہوئی اور آنکھوں سے آنسو انگلیوں کی پور سے صاف کیے ۔
” ایک بات اور پیاری لڑکی ! ” فرح نے پیار سے ٹریسا کو مخاطب کیا تو وہ اسکی طرف متوجہ ہوئی ۔
” کبھی بھی یہ مت سوچنا تمہیں اپنی رنگت کی وجہ سے پروموشن نہیں ملی ۔ یہ پروموشن تمھاری قسمت میں ہی نہیں تھی یا پھر اللہ تمھارا امتحان لے رہا ہے کہ آیا تم صبر کرتی ہو یا شکایت کرتی ہو ۔ اگر گلہ کروگی تو جو ہے وہ بھی جائے گا ۔ صبر کرو گی تو وہ ملے گا جو تم نے سوچا بھی نہیں ہوگا ۔ اگر سیاہ رنگت ناکامی کا سبب ہے تو دنیا میں کوئی بھی سیاہ رنگت والا انسان کامیاب نا ہوتا ۔ اگر ایسا ہوتا تو اوبامہ امریکہ کا صدر نا بنتا ۔ ایسے گوری رنگت والے بھی موجود ہیں جنہیں پروموشن تو کیا جاب تک حاصل نہیں ہے ۔ شکر کرو کہ تمھارے پاس جاب تو ہے ۔ ” فرح نے منال کی بتائی گئی باتوں میں سے اس مدعے پر بھی ٹریسا کو سمجھانے کی کوشش کی ۔
ٹریسا نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا ۔
” شکریہ فرح ۔ بہت شکریہ ۔ میرا دل اب بہت ہلکا ہو گیا ہے ۔ تمھاری باتیں ہمیشہ یاد رکھوں گی ۔ تمھارے جیسی گائیڈر ہر لڑکی کو ملنی چاہیے ” فرط تشکر سے سرشار ٹریسا نے فرح کو گلے لگایا تھا ۔
فرح نے گلے لگی ٹریسا کی پشت پر ہلکے سے تھپکی دی تھی ۔۔۔
فضا میں مغرب کی اذانیں گونجی تو فرح نماز پڑھنے اٹھ کھڑی ہوئی
وہ وضو کر کے مسلے پر کھڑی ہوئی تو ٹریسا کو اپنا سوال یاد آیا ۔
” تم نماز کیوں پڑھتی ہو “
فرح نے اب تک تین منطق کے حوالے سے جواب دیا تھا ۔
ٹریسا نے انہیں کے اعتبار سے نیٹ پر موجود مواد بھی پڑھ لیا تھا مگر جو لطف فرح کے بتانے سے آتا تھا وہ نیٹ پر موجود مواد میں نہیں آتا تھا ۔
فرح نماز پڑھنے میں مشغول تھی ۔ ٹریسا اپنی سوچوں میں جبکہ منال بیڈ پر بیٹھی سامنے ڈائری رکھے بیٹھی تھی ۔
آج بھی ڈائری کا صفحہ پینسل سے کٹے ہوئے بے ربط فقروں سے بھرا ہوا تھا ۔
کہانی تو اسکے زہن میں چلتی رہتی تھی مگر لفظوں میں ڈھالنا نہیں آرہا تھا ۔
کرداروں کے رویے اور شخصیت واضح نہیں کر پا رہی تھی ۔
نا ہی منظر نگاری لکھ پا رہی تھی ۔
بہت کوشش اور چند الفاظ کاغز پر گھسیٹنے کے بعد منال نے کوفت سے ڈائری بند کی ۔
وہ منہ پھلا کر بیٹھ گئی ۔
فرح نماز مکمل کر چکی تھی ۔ دعا مانگ کر فارغ ہوئی ۔ جائے نماز بچھا رہنے دیا ۔
پہلے منال تک آئی اور قرآنی سورتوں کو ورد کرکے اس پر پھونکا ۔ یہی عمل ٹریسا کے ساتھ بھی کیا ۔
” پریشان ہو ” منال کا پھولا چہرا دیکھ کر پوچھا تو اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
” نماز پڑھ لو ۔ یہ سکون بھی دیتی ہے اور کامیابی بھی ” فرح نے منال کے کندھے کو تھپکتے ہوئے کہا ۔
منال فورا اٹھ کھڑی ہوئی اور وضو کرنے باتھ روم کی طرف بھاگی ۔
فرح اکثر منال کو نماز پڑھنے کا کہتی رہتی تھی ۔ وہ چھوٹی تھی اور لاپرواہ بھی ۔ نماز میں سستی کر جاتی تھی ۔
فرح نے کبھی اسے ڈانٹا نہیں تھا ہاں البتہ صورت حال کو استعمال کرتے ہوئے اسے نماز پڑھنے کی طرف راغب ضرور کرتی رہتی تھی ۔
منال نماز پڑھ رہی تھی ۔ فرح سکول میں ہوئے بچوں کے ٹیسٹ چیک کرنے میں مصروف ہو گئی ۔
تمام باتوں کے درمیان وہ اپنے اور شہوار کے ہونے والے نکاح کے بارے میں بتانا ہکثر بھول چکی تھی ۔
ٹریسا بظاہر لیپ ٹاپ کھولے آفس کا کام کر رہی تھی مگر زہن ایک ہی جملے میں اٹکا ہوا تھا
” نماز پڑھ لو ۔ یہ سکون بھی دیتی ہے اور کامیابی بھی ۔ ” اور اسکے ساتھ کئی سوال زہن میں جنم لے رہے تھے ۔
یہ تو بس شروعات تھی ۔ بہت سے سوال بہت سی الجھنیں حل کرنا ابھی باقی تھی ۔
اور ٹریسا کو مکمل یقین تھا فرح کے ہوتے وہ اپنے تمام سوالوں کے جواب جان لے گی ۔
ٹریسا نے زہن میں چلتے سوال جھٹکے اور کام کی طرف متوجہ ہوئی ۔
سردی کا زور موسم پر کم ہونے لگا تھا ۔
باہر پھیلتا اندھیرا جہاں بدکاروں کی سیاہ کاریوں کا گواہ بننے والا تھا وہیں وہ نیکو کار کی عبادتوں اور رات کے قیام کا شاہد بھی بننے والا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
موذن نے خوشالحان آواز میں عشا کی دعوت دی تو اہل ایمان نماز پڑھنے مساجد کا رخ کرنے لگے ۔
سوسائٹی میں بنی جامعہ مسجد میں شہوار شاہ نماز ادا کر رہا تھا ۔
وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ۔
” یا اللہ میں جس عورت کو اپنی زندگی میں شامل کرنے جا رہا ہوں اسے میرے لیے راحت بنا ۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں ۔ ایک دوسرے کی خوشیوں اور تکلیفوں میں ساتھ ہوں ۔ میرے نکاح میں شامل ہونے والی عورت کی عزت اور حفاظت کا آمین بنا ۔ ” شہوار نے دعا مکمل کی اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
بہار پیلس کی نچلی منزل میں بنے بہار جان کے کمرے میں آو تو بہار جان بیڈ کروان سے ٹیک لگا کر نیم دراز تھیں ۔ انکی ٹانگوں کی جانب شہوار بیٹھا ٹانگیں دبا رہا تھا ۔ ساتھ ساتھ وہ انہیں فرح کے فیصلے کے بارے میں بھی آگاہ کر رہا تھا ۔
” ماشااللہ ۔ ” شہوار کے چہرے پر چھلکتی خوشی کو دیکھتے ہوئے بہار جان نے اسکی بلائیں لیں تھیں ۔۔
یہ خوشی تا عمر انکے پوتوں کے چہرے کا اثاثہ بنی رہے ۔ زیر لب دعائیہ انداز میں بولا ۔
” شہوار جان ہم چاہتے ہیں یہ شادی جلد از جلد ہو جائے ۔ ” بہار جان نے مطالبہ رکھا تو شہوار نے سوچ کر جواب دیا ۔
” میرا ارادہ تو اس اتوار کو ہی نکاح کرنے کا ہے ۔ ” شہوار نے اپنا ارداہ ظاہر کیا تو بہار جان کو فکر ستائی ۔
” اس اتوار کو ؟ ۔ چار دن ہیں اتوار میں ۔ اتنی جلدی تیاریاں کیسے ہونگی ۔ اور مہمانوں کو بھی تو دعوت دینی ہے ۔ اتنی جلدی سب کیسے ہوگا ” بہار جان نے یک دم پریشان نظر آنے لگی تھیں ۔
” بی جان ۔ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس اتوار کو فقط سادگی سے نکاح ہوگا ۔ فرح بھی یہ ہی چاہتی ہیں ۔ بعد میں ولیمہ کی دعوت دو تین دن بعد کر لیں گے ۔ تب تک تمام تیاریاں اور دعوت نامہ مہمانوں کو پہنچ جائیں گے ۔ ” شہوار نے انکی پریشانی دور کر کے تمام لائحہ عمل بیان کیا تو بہار جان نے سکون محسوس کیا ۔
” اگر آپ ایسا چاہتے ہیں تو پھر تھیک ہے ۔ خوش رہیں ہمیشہ ۔ ” وہ آگے کو ہوئیں اور اپنے ہاتھ میں شہوار کا ہاتھ تھاما
” اللہ آپکو ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رکھے ۔” شہوار نے جھک کر انکے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دیا ۔
کچھ دیر بعد بہار جان کو سلار کا خیال آیا تو چہرے پر پھر سے فکر لہرانے لگی ۔
” ہمیں سلار کے بارے میں آپ سے بات کرنی تھی ۔” بہار جان نے کہا تو شہوار مسکرایا ۔
” میں جانتا ہوں آپ کیا کہنا چاہتی ہیں ۔ یہی کہ وہ فارم ہاوس میں شفٹ ہو گیا ہے ۔ آپ اسکے لیے پریشان مت ہو ۔ وہ ویسے بھی اپنا زیادہ وقت فارم ہاوس میں ہی گزارتا تھا ۔ اسے کچھ وقت کے لیے اسکے حال پر چھوڑ دیں ۔ صبر کریں ۔ سب بہتر ہوگا ۔ ” شہوار نے انکی تسلی کروائی ۔
اسکے موبائل پر کال آئی تو وہ ریسیو کرتا باہر نکل گیا ۔
” ہاں کہو آدم ” فون کان سے لگاتے وہ اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے بولا ۔
” شہوار خطاب عزیر نے ہماری کمپنی کے ساتھ ڈیل کینسل کردی ہے ۔ ” دوسری جانب سے آدم کی دی ہوئی خبر سن کر شہوار کے چہرے پر پریشانی اور الجھن کی تاثر چھانے لگے
” تھیک ہے ۔ کل آفس میں اس بارے میں بات کرتے ہیں ۔” شہوار نے سرسری سا کہہ کر فون بند کردیا ۔
کچھ دیر بعد وہ موبائل ہر بینک اکاونٹ کی ٹرانزیکشن چیک کر رہا تھا ۔
سدلار حدید اور روعان تینوں کے بینک پر آکاونٹ تھے جس میں وہ ہر ماہ رقم جمع کروا دیتا تھا ۔
تفصیل یہ ظاہر کر رہی تھیں کہ پچھلے پانچ ماہ سے سلار نے اکاونٹ سے ایک پیسہ بھی نہیں نکالا تھا ۔
اگر سلار نے کوئی پیسہ نہیں نکالا تھا تو پھر وہ اتنے مہینے سے اپنا خرچ کیسے چلا رہا تھا ۔
جہاں تک اسے معلوم تھا سلار کیس قسم کی جاب بھی نہیں کر رہا تھا ۔
زہن میں چلتی الجھن کے پیش نظر شہوار نے ایک فون کال ملائی ۔
” مجھے سلار کے ایک ایک قدم کی خبر چاہیے ” ہدایت دے کر فون رکھا اور سونے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا
نیند کو مکمل خود پر غالب آنے سے پہلے شہوار شاہ کے زہن میں جو آخری خیال آیا تھا وہ فرح کا تھا ۔
ہاسٹل میں اپنے بستر پر لیٹی فرح کے شعور اور لاشعور میں بھی شہوار شاہ کا ہی خیال رقص کر رہا تھا ۔
چند دن اور وہ ایک نیک انسان کے نکاح میں ہوگی ۔
زندگی کا ایک نیا آغاز ہونے والا تھا ۔
یہ آغاز یہ تبدیلی دونوں کے لیے خوش کن ثابت ہو ۔
مگر کیا ایسا ہونے والا تھا ۔
یہ فقط وقت کو ہی معلوم تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
وہ اتوار کا دن تھا ۔
بہار جان نے ایک دن پہلے اسے فون پر بتا دیا تھا کہ کل عقد نکاح قائم کیا جائے گا ۔
بہار جان اتوار کے روز دوپہر میں ہاسٹل پہنچ گئی تھیں ۔
وہ اسے ساتھ لے جانا چاہتی تھیں تاکہ وہ اپنے لیے عروسی جوڑا پسند کر لے ۔
آج صبح ہی فرح نے منال اور ٹریسا کو اس بارے میں آگاہ کیا تھا ۔
منال تو حیرت اور خوشی سے اچھل ہی پڑی تھی ۔
” یہ تو بہت خوشی کی بات ہے فرح آپی ۔ اچھا یہ بتائیں آپکے ہونے والے ہیزبنڈ ہینڈسم تو ہیں نا ” منال نے پر جوشی سے پوچھا تو فرح مسکرائی
” پیاری لڑکی میں صورت پر سیرت کو فوقیت دینے والی ہوں اور اللہ نے جس شخص کو میری زندگی میں شامل کرنے کا ارادہ کیا ہے وہ صورت اور سیرت دونوں لحاظ سے بہتر ہے ۔” منال کے پھولوں گالوں پر چٹکی کاٹتے ہوئے فرح نے کہا ۔
” شادی کے بعد تم آتی رہو گی نا ملنے ” وہ ٹریسا تھی جو کسی خیال کے تحت پوچھ رہی تھی ۔
” ضرور ۔ تم لوگ ہی تو میری فیملی ہو ۔ میں ملنے آتی رہوں گی ۔ اور تم پریشان مت ہو ۔ مجھے معلوم ہے تمھارے بہت سے سوال رہتے ہیں ۔ میں تمھارے سب سوالوں کا جواب ضرور دوں گی ۔” فرح ٹریسا کی پریشانی کا سبب جان چکی تھی سو اسکا ہاتھ پکڑ کر تسلی آمیز لہجے میں گویا ہوئی ۔
وہ تینوں باتیں کرنے میں مشغول تھیں جب بہار جان کی آمد ہوئی ۔
فرح انکی خواہش پر انکے ساتھ چلی گئی ۔
” فرح آپی یہاں سے چلی جائیں گی تو ہاسٹل خالی خالی سا لگنے لگے گا ۔ مجھے تو جب انکی یاد آئے گی تو انکے سسرال ہی چلی جاوں گی ان سے ملنے ۔ بلکہ ہم دونوں چلیں گے ۔ ” منال ہم کلامی کے انداز میں بول رہی تھی جبکہ ٹریسا اور وہ فرح کی ہدایت کے مطابق مہمانوں کے بیٹھنے اور تواضع کا انتظام کرنے میں مصروف ہو گئیں ۔
عصر کا وقت ہونے سے پہلے بہار جان اور فرح پہنچ چکی تھیں ۔
فرح نے نکاح کے لیے عروسی لباس زیب تن کیا ۔ وہ لہنگے کی بجائے کامدار شلوار سوٹ لائی تھی ۔
ڈوبٹہ ٹھیک طرح سر پر اوڑھ لیا تھا ۔ ایک ہلکے کپڑے کا ڈوبٹہ گھونگٹ کی صورت چہرے پر ڈال رکھا تھا ۔
کلائیوں تک مکمل بازوں کے اوپر ہی سرخ چوریاں پہنی تھیں ۔
منال کی فرمائش پر بہت ہلکا سا چہرے کو سنگھار میں ڈھالا تھا ورنہ وہ سادہ رہنا ہی پسند کرتی تھی ۔
کانوں میں آویزے ۔ گلے میں ہار اور ماتھا پٹی کے ساتھ فرح کی دلکشی اور جوبصورتی میں مزید نکھار آگیا تھا ۔
منال اور ٹریسا نے تیار ہونے میں اسکی مدد کی تھی ۔
جب وہ مکمل تیار ہو گئی تو ٹریسا ٹرانس کی سی کیفیت میں اسے کچھ دیر دیکھتی رہی ۔
یوں تو فرح سادہ حلیے میں بھی اچھی لگتی تھی مگر دلہن کے روپ میں کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔
” آپی اللہ آپکو نظر سے بچائے ۔ ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہیں ” منال نے دونوں ہاتھوں سے اسکی بلائیں لیں ۔
” اللہ تم دونوں کے نصیب میں بھی ڈھیروں خوشیاں عطا کرے۔ اللہ ہر لڑکی کی زندگی میں بہتر ہمسفر شامل کرے ۔ ” جوابا فرح نے دونوں کو دعا دی تھی ۔
شہوار شاہ ۔ مولوی صاحب اور گواہان آ چکے تھے ۔
ٹریسا اور منال نے انکا استقبال کیا تھا ۔
منال تو شہوار کو دیکھ کر دیکھے ہی گئی تھی ۔
” فرح آپی کے ہونے والے ہبی تو بہت پیارے ہیں ۔ ان سے پوچھو انکا کوئی چھوٹا بھائی ہے ” آہستہ آواز میں کہتے ٹریسا کے بازوں پر کہنی ماری تو ٹریسا نے اسے گھورا ۔
وہ لوگ کمرے میں آچکے تھے ۔
شہوار نے اندر داخل ہوتے ہوئے بلند آواز میں سلام کیا تھا جس کا جواب فرح نے زیر لب دیا ۔
وہ بیڈ پر ست جھکا کر بیٹھی تھی ۔
شہوار نے دلہن بنی فرح کو نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے اپنی قسمت پر رشک کیا تھا
مہمانوں کی خاطر تواضع چائے سے کی گئی تھی ۔
” شہوار نکاح کی رسم اد کر لی جائے ” بہار جان نے کہا تو شہوار نے اپنے ساتھ آئے ایک درمیانی عمر کے آدمی کی طرف اشارہ کیا ۔
” یہ کمال صاحب ہیں ۔ یہ فرح کے ولی کے طور پر نکاح کی رسم میں شامل ہونگے ۔ مولوی صاحب نکاح پڑھانا شروع کریں ” شہوار
نے اطلاع دی اور مولوی صاحب ست درخواست کی ۔
” دلہن کے والد کا نام بتا دیں ” مولوی صاحب نے استفار کیا تو شہوار نے فرح کی طرف دیکھا ۔
نامحسوس انداز میں فرح نے گود میں رکھی ہاتھوں کو آپس میں مس کیا تھا ۔
وہ اپنے باپ کا نام کبھی بھی اپنی زبان پر نہیں لانا چاہتی تھی مگر نکاح کے فریضے کو انجام دینے کے کیے ضروری تھا ۔
” فرح اپنے والد کا نام بتائیں ۔ ” فرح کے ساتھ بیٹھی بہار جان نے اسے پکارا تو وہ سوچو سے آزاد ہوئی ۔
اپنا گلا تر کیا اور قدرے پھیکے انداز میں جواب دیا ۔
” صیام بخاری “
شہوار یک دم یہ نام سن کر چونکا تھا ۔
صیام بخاری
یہ نام وہ ہزار ناموں میں بھی پہچانتا تھا ۔
صیام بخاری نا صرف شاز عالم اور حیدر آفندی کا کاروبارہ حریف رہ چکا تھا بلکہ شہوار کا بھی کاروباری حریف تھا ۔
فرح صیام بخاری کی بیٹی تھی ۔
بہت سے خیال ایک ساتھ زہن پر وارد ہوئے تھے ۔
نہیں ۔ یہ صیام بخاری ضرور کوئی اور ہوگا ۔
اگر فرح بزنس مین صیام بخاری کی بیٹی ہوتی تو یوں ہاسٹل میں کیوں رہ رہی ہوتی ۔
اسکے علاوہ اتنے سالوں میں اسنے صیام بخاری کی کسی اولاد کے بارے میں نہیں سنا تھا ۔
مولوی صاحب نکاح کی دعائیں پڑھ رہے تھے
دعائیں پڑھ کر وہ ایجاب و قبول کی غرض سے فرح سے گویا ہوئے ۔
“فرح صیام ولد صیام بخاری آپکا نکاح شہوار شاہ ولد شاز عالم شاہ کے ساتھ پانچ لاکھ روپے حق مہر کے عوض کیا جا رہا ہے کیا آپکو قبول ہے ” ۔
فرح نے کچھ لمحے کا توقف کیا ۔ دل ڈھرک سا اٹھا تھا ۔
پیچھے کی جانب بیٹھی ٹریسا نے کاندھے پر ہاتھ رکھا تو اسے تسلی محسوس ہوئی تھی ۔
” قبول ہے ۔ ” بلاآخر فرح نے اقرار کیا ۔
مولوی صاحب نے دو مرتبہ مزید اپنی بات دہرائی ۔
فرح کی جانب سے ایجاب و قبول کیا جا چکا تھا ۔
منال کا دل کیا خوشی سے ڈانس کرے تالیاں بجائے مگر مولوی صاحب کی موجودگی میں خود پر کنٹرول کرے رکھا ۔
مولوی صاحب اب شہوار کی طرف متوجہ ہوئے ۔
بہار جان دونوں کو بار بار دیکھتی دل ہی دل میں انکی بلائیں لینے میں مصروف تھیں ۔
” شہوار شاہ ولد شاز عالم شاہ آپ کا نکاح فرح صیام ولد صیام بخاری سے پانچ لاکھ روپے حق مہر کے عوض کیا جاتا ہے ۔ کیا آپ کو قبول ہے ” مولوی صاحب کے منہ سے صیام بخاری کا نام سن کر شہوار پھر سے الجھن میں پڑا تھا ۔
وہ شش و پنج کا شکار ہوا تو اور یہ بات واضح طور پر سب نے محسوس کی تھی ۔ شہوار نے پہلو بدلا تھا ۔
شہوار نے گہری سانس لی اور زہن سے ہر غلط سوچ کو جھٹک دیا ۔
” قبول ہے ۔ ” شہوار کے اقرار پر مولوی صاحب نے دو مرتبہ مزید گواہی لی ۔
اسکے بعد مولوی صاحب نے گواہاں سے شہادت وصول کیں ۔ ولی کے طور پر کمال صاحب سے گواہی لی ۔
آخر میں دعا مانگ کر نکاح کے مکمل ہونے کی نوید سنائی
عقد نکاح ہو چکا تھا ۔
بہار جان نے پہلے فرح کے ماتھے پر بوسہ دے کر اسے دعائیں دیں پھر شہوار کے چہرے پر پیار سے ہاتھ پھیرا ۔
ٹریسا اور منال فرح کے اطراف میں بیٹھی اسکے گلے لگی ہوئی تھیں ۔
” کونگریچولیشنز آپی ۔ ” منال نے اسکے رخسار پر بوسہ دیا ۔
بظاہر مدھم سا مسکراتی فرح کا دل ابھی تک ڈھڑک رہا تھا ۔ وہ خوش و بے یقینی کی ملی جلی کیفیت کا شکار ہو رہی تھی ۔ اسکی زندگی میں ایک مرد کو شامل کر دیا گیا تھا ۔ اسکی زندگی کا نیا دور شروع ہو چکا تھا ۔ اسکے نام کے ساتھ اب ایک ایک مرد کا نام جوڑ دیا گیا تھا ۔
فرح نے شہوار کی طرف دیکھا جو مولوی صاحب اور گواہان سے گلے مل رہا تھا ۔ وہ ان سے مسکرا کر مبارک باد پیش کر رہا تھا ۔
پہلی بار اقرار کرتے ہوئے شہوار کے چہرے پر آئی واضح الجھن نے فرح کو فکر مند کر دیا تھا ۔
اس وقت فرح بلکل نہیں سمجھ پائی تھی کہ شہوار کی اس ششو پنج کی وجہ اسکے باپ کا نام تھا ۔
کچھ دیر بعد رخصتی کی غرض سے وہ لوگ باہر آ گئے تھے ۔ فرح نے چہرے پر ڈوبتہ گرا لیا تھا ۔
منال اور ٹریسا ساتھ ساتھ تھیں ۔
ہاسٹل کی ملکن اور باقی لڑکیوں فرح کو مبارک باد دینے آئیں ۔ فرح نے مسکراکر سب کی دعائیں قبول کیں ۔
دروازے پر پہنچ کر منال اور ٹریسا ایک مرتبہ پھر فرح سے گلے ملی ۔
” آپی میں آپکو بہت مس کروں گی ۔ ” منال اداس سی ہوئی تو فرح نے اسکے چہرے کو ہاتھوں میں تھاما ۔
” میں بھی بہت مس کروں گی ۔ مجھ سے ملنے آتی رہنا ۔ اور اپنا بہت خیال رکھنا ” فرح نے پیار بھرے انداز میں دونوں کو ہدایت کی تو مسکرا دی ۔
سب کو الواداع کہہ کر وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بہار جان کے ساتھ بیٹھ گئی ۔
شہوار آگے والی سیٹ پر بیٹھا ۔
گاڑی زن سے آگے بڑھ گئی ۔
اسکی منزل بہار پیلس تھی ۔
مگر فرح اور شہوار کی ازدواجی زندگی کی منزل انہیں کس راستے پر لے جانے والی تھی ۔ یہ معمہ قدرت نے قسمت کے پنوں پر محفوظ کر رکھا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے
