Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 59

آتش_عشقم
قسط نمبر 59
از قلم حرا شاہ
شہوار جیسے ہی دروازہ کھول کر اندر بڑھا
کسی نے اسکی سانس کھینچی تھی
فرح زمین پر بے ہوش پڑی تھی
وہ تیزی سے اس تک آیا اور اسے کندھوں سے تھاما
” فرح ” اسنے گھبرائے ہوئے انداز میں پکارا
وہ اسکا چہرا تھپتھپانے لگا تھا
دل میں وسوسے اٹھے تھے ۔
” فرح اٹھو مجھ سے بات کرو ۔ ” وہ جیسے بچوں کی طرح فریاد کرنے لگا
پھر اگلے ہی لمحے ہاتھ کی پشت سے آنکھیں صاف کیں اور اسے اپنے بازووں پر اٹھا لیا ۔
وہ بے ہوش فرح کو لیکر باہر آیا تو سلار پریشان سا قریب آیا
” ہاسپتٹل جانا ہے ۔ جلدی کرو ” شہوار نے رکے بنا کہا اور تیزی سے سیرھیوں کی طرف بڑھا ۔
سلار بھی پیچھے لپکا ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں ہاسپتال کے کاریڈور میں موجود تھے
ماربل کا فرش شہوار کے وجود کو یخ کر رہا تھا یا اسکے اندر کا پچھتاوا
وہ بار بار منہ کھول کر سانس لینے کی کوشش کر رہا تھا ۔
” میں ایک نہیں دو جانوں کے خطرے میں ہونے کا زمہ دار ہوں ” دفعتا اسنے اپنا چہرا ہاتھوں میں دے دیا ۔
ہاتھوں کا پیالہ آنسووں سے بھیگنے لگا تھا ۔۔
سلار بس خاموشی سے اسے دیکھا گیا
جب لیڈی ڈاکٹر قریب آئی
” اس حالت میں اکثر پیشنٹ کو بے ہوشی کے جھٹکے لگتے ہیں ۔ فکر کی بات نہیں ۔ اب وہ تھیک ہے ” وہ اپنے مخصوص لہجے میں کہہ کر چلی گئی تو شہوار نے آنسو زدہ چہرا اٹھایا پھر آسمان کی طرف دیکھا جیسا شکر بجا لا رہا ہو ۔۔
وہ دروازہ کھول کر کمرے میں بڑھا تو سامنے فرح کو بیڈ پر لیٹے پایا
فرح کی آنکھیں بند تھیں ۔
شہوار کا منظر بار بار دھندلا ہوتا جاتا
وہ بار بار آنکھیں صاف کرتا
چند قدم اٹھا کر قریب آیا
فرح کے سرہانے آکر اسنے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔
شہوار کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر کے نیم بے ہوش فرح ہوش میں آئی۔
سامنے شہوار کو دیکھ کر وہ یک دم اٹھ کر بیٹھی
شہوار ندامت بھری نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
” شہوار ۔ ” وہ مدھم سا بولی
تو شہوار کا دل ڈوبا
” ہاں شہوار شاہ ۔ تمھارا گناہ گار ۔ تمھارا ستم گر ۔ ” اسنے فرح کا ہاتھ تھاما اور آنکھوں سے لگا کر کرب سے بولا تھا ۔
فرح اسے دیکھے گئی ۔
” میں اس لائق نہیں کہ معافی مانگوں ۔ بہت ظلم کیا میں نے تم پر ” وہ ایسے ہی اسکا ہاتھ پکڑ کر معزرت بھرے لہجے میں بولا
” مجھے ایک بار تمھاری بات سننی چاہیے تھی ۔ کس قدر بے رحم مرد ہوں میں ” وہ خود کو کوسنے لگا تھا ۔۔
فرح کے آنسو میں روانی آ گئی
” کیسے تمہیں اس حالت میں تنہا چھوڑ دیا ۔ کیا منہ دکھاوں گا اللہ کو کہ اسکی بندی کے ساتھ کیسا سلوک کیا ” وہ خشیت الہی سے بولتا لرز رہا تھا
دل تھا کہ پچھتاوے کے بوجھ سے پھٹا جا رہا تھا
” تمھارا قصور مجھے چھوڑ جانا نہیں تھا شہوار ” فرح نے حلق میں اٹکی سانس اندر اتاری پھر روندھے ہوئے لہجے میں بولی
شہوار نے سرخ پڑتی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا
” تمھاری جگہ کوئی اور مرد ہوتا تو شاید یوں ہی رد عمل کرتا ۔ مرد تو اپنی بیوی کے پاس کھڑے کسی دوسرے مرد کو برداشت نہیں کرتا ۔ یقینا تمھارے لیے یہ مشکل تھا اور اس وقت تمہیں جو سمجھ آیا تم نے کیا ۔ ” وہ اپنے الفاظوں کو مضبوطی سے ادا کر رہی تھی
” مگر جانتے ہو تم میرے گناہ گار کب ہوئے ۔ اس لمحے شہوار شاہ جب مجھے کھینچتے ہوئے لے گئے ۔ اس لمحے جب تم نے میرے پردے کی لاج نہیں رکھی ۔ اس لمحے تمھارے بھائیوں نے اپنا فرض پورا کیا مگر تم غافل ہو گئے ” وہ اسے ملامتی نظروں سے دیکھتی شکوہ کر رہی تھی
اسکے الفاظ شہوار کے دل پر چابک کی طرح لگے تھے
” میں اس وقت اپنے ہوش میں نہیں تھا ۔ مجھ پر طاری کیفیت نے مجھے ہر بات سے بےگانہ کر دیا تھا یہاں تک کہ مجھے اپنے رویے کا احساس تک نا ہوا ۔ تھیک کہا تم نے مجھے تمھارے پردے کی لاج رکھنی چاہیے تھی ۔ میں غافل ہو گیا تھا اپنے فرض سے ۔” وہ سخت پچھتاوں سے گھرے ہوئے بولا ۔
” اور اس خطا کے بدلے میرے رب نے مجھ سے میرے سجدے چھین لیے ۔ مجھے غلطی کا ادراک ہونے تک اپنے حضور حاضری سے محروم رکھا ۔ میرے دل میں اس قدر پھچتاوا ڈال دیا کہ دل دکھنے لگا ہے ۔ لگتا ہے کسی بھی وقت یہ خون اگل دے گا ۔ ” وہ درد کی انتہا پر کہہ رہا تھا
” میں تو یہ کہنے کے بھی لائق نہیں کہ غلطیاں انسان سے ہوتیں ہیں ۔ میں کس قسم کا انسان ہوں جو اپنی تکلیف میں اس انسان کی تکلیف بھول گیا جسے محبت کرتا ہوں ۔ ” اسکے لہجے میں خود کے لیے ملامت اور نفرت تھی
فرح خاموشی سے اسے سنے گئی ۔
اسکا دل کٹ رہا تھا
” فرح پلیز مجھے اس بوجھ سے آزاد کردو ۔ میرے دل سے یہ پچھتاوا ہٹا لو ۔ میں بہت بے چین ہوں فرح ۔ یا مجھ پر رحم کرو یا میری جان لے لو ۔ میں مزید اس گناہ کے بوجھ تلے نہیں رہ سکتا ” وہ گڑگڑانے لگا تھا ۔
” فرح پلیز مجھے وجود کی اس جنگ سے بری کردو ۔ ” وہ سماجت کر رہا تھا ۔
” مجھے معاف کر دو تاکہ اللہ بھی راضی ہو جائے ۔ ” فریاد در فریاد
” جب میری ماں کو صیام بخاری نے چھوڑا تو وہ لوٹ کر نا آیا ۔ وہ اس جگہ آتا تو تھا مگر گل آرا کی طرف ایک نظر نہیں کی ۔ بس استعمال کیا اور پھینک دیا ۔ اسے کسی قسم کا پچھتاوا نہیں ہوا۔ گل آرا نے اسی کے انتظار اور امید پر آخری سانسیں دے دیں ۔ مجھے لگا میرا انجام بھی گل آرا جیسا ہوگا مگر تم صیام بخاری نہیں ہو ۔وہ شخص ہمیشہ سے برا تھا اور شاید ہمیشہ برا رہے گا ۔ لیکن تم تو اچھے تھے نا ۔ جب کسی اچھے انسان سے خطا ہو تو زیادہ دکھ ہوتا ہے ۔ جب کوئی محبت کرنے والا دل دکھائے تو زیادہ تکلیف ہوتی ہے ۔ بس مر جانے کو دل کرتا ہے ۔ مگر جس نے مجھے زندہ رکھا وہ میرے وجود میں پلتا ایک معصوم وجود ہے ۔ میں اسے سزا نہیں دے سکتی تھی مگر آج ایسا درد اٹھا ہے کہ لگا مر جاوں گی ۔ ” وہ ٹھہرے ہوئے انداز میں نفی میں سر تکلیف سے بولی تھی ۔
” فرح ایسی بات مت کرو ۔ خدا نا کرے تمہیں یا ہماری اولاد کو کچھ ہو ” وہ تڑپ کر بولا تھا ۔
فرح کچھ نا بولی
بس آنکھیں موندھ لیں
” مجھ سے بات کرو پلیز فرح ۔ کوسوں ۔ چیخو چلاو ۔ چاہے تو مار لو مگر خاموش مت ہو ۔” اسنے فرح کا ہاتھ پکڑا اور ہیجانی انداز میں خود پر چلانے لگا تو فرح نے ہاتھ کھینچا
” ایسا مت کرو ۔ مجھے گناہ گار مت کرو ” وہ تڑپ کر بولی تھی
” کہتے ہیں غلطی ہو جانے کے بعد سب سے مشکل کام غلطی کا احساس ہونا ہے ۔ اس سے مشکل غلطی کا اعتراف کرنا اور سب سے مشکل معافی مانگنا ہے ۔ اور مجھے یقین تھا تمہیں اپنی غلطی کا پچھتاوا ہوگا ۔ تم سچے دل سے معافی مانگ رہے ہو تو میں تمہیں معاف کرتی ہوں ۔ ہمارے تعلق کو ایک اور موقع دیتی ہوں مگر مجھ سے وعدہ کرو ۔ پھر کبھی ہمارا تعلق میں عدم بھروسہ نہیں آئے گا ” فرح نے فراخ دلی سے کہتے ہوئے شہوار سے عہد لیا تھا ۔
” وعدہ کرتا ہوں فرح ۔ تمھاری بات کی لاج رکھوں گا ۔ ” شہوار نے اسکا ہاتھ تھاما اور ہونٹوں سے لگایا
فرح نے آنکھیں موندھ کر کھولیں تھیں ۔
” مجھے گھر لے چلو شہوار ۔” پھر اسنے خواہش کی تو شہوار نے سر اثبات میں ہلایا
اور اللہ ہی جو چاہے تو رسی دراز کر دے یہاں تک کہ توبہ کے راستے بند ہو جائیں
یا چاہے تو رسی کی گرفت کھینچ لے اور معافی تک لے آئے ۔
غلطی فرح کی بھی تھی ۔ اسے شہوار کو سب کچھ پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا
غلطی شہوار کی بھی تھی ۔ اسے مکمل حقیقت جاننی چاہیے تھی
مگر خطا کا پتلا انسان ایسی غلطیاں کرتا رہتا ہے تا کہ ان سے سیکھ سکے
اور ضروری نہیں غلطی برے انسانوں سے ہی ہو۔بعض اوقات اچھے انسانوں سے بھی ہو جاتی ہے
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
طوبی آفس سے نکل کر ایک خالی گلی میں چل رہی تھی جب سامنے اچانک کوئی آیا
وہ ڈر کر پیچھے ہوئی
جن تین ایمپلوئیز کو اسنے فراڈ کے بارے میں باتیں کرتے سنا تھا وہ ان میں سے ایک تھا
اسکا نام وقاص تھا
” یہ کیا بدتمیزی ہے ” طوبی نے سانس بحال کرتے ہوئے کہا ۔
” بدتمیزی تو تم نے کی تھی ہماری باتیں سن کر ۔ میں جانتا ہوں وہ تم ہی تھی ۔ میں نے سڑک سے مڑتے ہوئے تمھارے برقعے کی جھلک دیکھی تھی ۔ اب تم نہیں بچو گی ۔ وہ کہتے ہوئے آگے کو اسکی طرف بڑھا
طوبی پیچھے دیوار کو لگی
وقاص نے اسکی گردن دبانے کی کوشش کی
طوبی نے اپنے ہاتھوں سے اسکے ہاتھ روکے
” میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔ ” وقاص اس سے بھرتے ہوئے دانت پیس کر بولا
” چھوڑوں مجھے ۔ ” طوبی نے مزاہمت جاری رکھتے ہوئے اسے پیچھے دھکا دیا ۔
وقاص سامنے کی دیوار پر جا لگا
طوبی ایک طرف کو بھاگ اٹھی
وقاص بھی پیچھے بھاگا
دونوں مین روڈ پر آ گئے
وہ آگے تھی
اور بپھرا ہوا وقاص پیچھے تھا
وہ بھاگتے ہوئے ایک لمحے کو پیچھے کی طرف مڑی تھی جب سامنے سے آتی گاڑی سے ٹکرانے والی تھی۔۔۔۔
اس نے عین موقع پر گاڑی کو بریک لگائی تھی ورنہ وہ لڑکی گاڑی سے ٹکرا جاتی
حدید نے ونڈ سکرین سے دیکھا تو برقعے میں لپٹی وہی سیاہ آنکھوں والی لڑکی تھی
وہ اتر کر گاڑی سے باہر آیا
یہ کوئی اتفاق نہیں ہو سکتا تھا
ایک ہی لڑکی بار بار اسکے سامنے کیوں آ رہی تھیں
وقاص حدید کو دیکھتے پیچھے ہی رک گیا
” آپ تھیک ہیں ۔ ” اس نے طوبی سے پوچھا تو اسنے سر اثبات میں ہلایا ۔
” کون ہیں وہ لوگ ۔ اور کیوں پڑے ہیں آپ کے پیچھے ” حدید نے الجھن سے پوچھا
” میرے کولیگز ہیں ۔ میں نے انکو باتیں کرتے سنا تھا ۔ وہ لوگ فراڈ کر رہے ہیں کمپنی میں ۔ میں کسی کو بتا نا دوں ۔اس لیے میرے پیچھے پڑے ہیں ۔” طوبی نے کچھ سوچ کر اسے ساری بات بتائی
اور یہ بھی کوئی اتفاق نہیں تھا کہ دونوں دفعہ مدد حاصل کرنے کے لیے وہ ایک ہی انسان کے پاس پہنچی تھی
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا
مگر نقاب کے پیچھے طوبی کا چہرا اور ماسک کے پیچھے حدید کا چہرا ایک دوسرے کے لیے انجان تھا
” آپ میرے ساتھ چلیں ۔ میں آپکو ڈراپ کر دیتا ہوں ” حدید نے پیش کش کی
طوبی تزبزب کا شکار ہوئی پھر حامی بھر لی
حدید نے اسے ہاسٹل کے گیٹ پر چھوڑا ۔
” یہ کارڈ رکھ لیں ۔ اگر کسی مدد کی ضرورت ہو تو بتائیے گا ۔” اسنے کاڑد اسکی طرف بڑھایا
وہ آفس کا کارڈ تھا ۔ جس پر حدید کا نمبر لکھا تھا ۔
طوبی نے کارڈ تھاما اور اندر چلی گئی
حدید اس طرف دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نا ہو گئی ۔
پھر اسنے گاڑی آگے بڑھا دی
گھر تک کا راستہ اسکا زہن سیاہ آنکھوں والی لڑکی میں ہی ٹکا رہا تھا
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
شہوار پرانا آفس سنبھال رہا تھا
اسنے سلار سے کہا کہ وہ نئے آفس کو سنبھال لے
سلار نے حامی بھر لی
حدید اپنی ڈگڑی مکمل کر چکا تھا
شہوار نے اسے بھی آفس جوائن کرنے کا کہا تھا
حدید نے منہال کی دیکھ بھال کے حوالے سے فکر ظاہر کی ۔
” میں منہال کی دیکھ بھال کر لوں گی ۔ تم اسے پیلس میں لے آو ۔ ” پریشال نے انکی باتیں سن کر کہا تھا ۔
” وہ میرے بنا نہیں رہ پائے گی ۔ ” حدید نے تردید کرتے ہوئے کہا
” میں یہ تو یہ نہیں کہہ رہا کہ اسے کہیں بھیج دو ۔ بس جب تک تم آفس میں ہونگے پریشال اسکا دیھان رکھ لے گی ۔ ” شہوار نے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
” دیکھو حدید ۔ میں جانتا ہوں اس وقت تم بہت تکلیف میں ہو ۔ میں بس یہ چاہتا ہوں کہ تم آفس آو ۔ کام میں زہن بٹاو ۔ میں یہ نہیں کہتا مہکشاں کو بھول جاو مگر اپنی زندگی یوں ختم نا کرو ۔ اور پھر روعان کے بارے میں بھی تو سوچو ۔ تمہیں یوں دیکھ کر اسے کتنی تکلیف ہوگی ۔ ” شہوار نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو وہ یاسیست سے مسکرا دیا
” مجھے لگتا ہے بھاں مجھے کسی کی بد دعا لگی ہے ۔ میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا ہے جیسے کسی کا دل توڑا ہو ۔ ” حدید کی آواز بھیگی گی ۔
” اگر ایسا ہے تو جب کبھی وہ انسان مل جائے تو اس سے معافی مانگ لینا ۔ اس سے گزرا ہوا وقت تو نہیں پلٹے گا مگر تمھارے ضمیر کو سکون ضرور مل جائے گا ۔ ” شہوار نے کہا
” کیا آپ کو کبھی ضمیر نے ملامت کی ہے ۔” حدید نے اسکی طرف سوالیہ دیکھا
” بلکل ۔ میرا ضمیر پچھتاوں کی زد میں رہ چکا ہے مگر مجھے خوشی ہے کہ مجھے غلطی سدھارنے کا موقع ملا ہے ۔ ” وہ گہری سانس لیکر بولا تھا
تو حدید سر اثبات میں ہلا کر اٹھ کھڑا ہوا
اسنے آفس جوائن کرنے کا ارادہ کر لیا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
وہ مجتبی کے ساتھ اسلام آباد میں واپس آ گئی تھی
منال کو شہر سنسان سا لگا تھا
یا اسکا اندر سنسان ہوا تھا
مجتبی کو محکمے کی طرف سے فلیٹ ملا تھا
منال نے اصرار کیا کہ وہ ہاسٹل میں ہی رہے گی
مجتبی راضی ہو گیا ۔
وہ نیا سیمسٹر شروع ہونے کے بعد دوسرے دن یونی آئی تو آنکھوں میں آنسو آ بھرے
وہ گڑاونڈ میں آ گئے
جس جگہ وہ بیٹھا کرتے تھے
مہکشاں ایک ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا یاد آیا
مہکشاں کے اقرا محبت پر حدید کا خوش ہونا یاد آیا تو بے اختیار مسکرا دی ۔۔۔
یونی کے بعد وہ مہکشاں کے گھر چلی آئی
گھر بند تھا
فلاور شاپ میں جھانکا تو کاونٹر کے ساتھ حدید اور مہکشاں کی سائیکلز رکھیں تھیں
وہ ہمیشہ ایسے ہی پاس پاس رہتی تھی
وہ ایسی ہی اچھی لگتی تھیں
منال اداسی سے مسکرائی پھر واپس مڑ گئی
مہکشاں جیسی اچھی دوست کو کھونا اسکے لیے تکلیف دہ تھا ۔۔۔
وہاں سے وہ ہاسٹل آئی تھی
کمرے میں آئی تو طوبی وہیں موجود تھی ۔
اسکے ہاتھ میں ایک کارڈ تھا جسے وہ گھما رہی تھی
آہٹ پر چونکی اور سر اٹھایا
” منال ۔ تم کہاں چلی گئی تھیں ۔ ” طوبی نے استفار کیا تھا
” گھر گئی تھی ۔ ” وہ بیٹھتے ہوئے مدھم سا بولی
” کیا بات ہے ۔ پریشان لگ رہی ہو ۔ ” طوبی اسکے ساتھ آ بیٹھی ۔
منال نے اسے سب کچھ بتا دیا جسے سن کر طوبی کا دل بھر آیا
” مجھے بہت افسوس ہوا مہکشاں کی موت کا ” وہ تعزیت کرتے ہوئے بولی
” تم سناو ۔ کیسی ہو ۔” منال نے انگلی کی پور سے آنکھ صاف کرتے پوچھا
” اچھی ہوں بس ایک مشکل میں پھنسی ہوئی ہوں ۔ اسی بارے میں سوچ رہی تھی ۔ ” طوبی نے زکر کیا
” کیسی مشکل ” منال نے استفار کیا تو طوبی نے اسے سب بتایا
” مجھے کارڈ دیکھاو ۔ ” اسکی بات سن کر منال نے مطالبہ کیا
طوبی نے کارڈ اسے دیکھایا
اس پر لکھا نام پڑھ کر منال نے اسکی طرف دیکھا
” یہ وہی حدید ہے جس کے بارے میں ، میں نے بتایا ۔ ” منال نے واضح کیا
” مطلب فرح کا دیور ۔” طوبی کی آنکھوں میں وہ شوخ سا لڑکا گھوما جس نے فرح کے ولیمے والے دن اسکا مزاق اڑایا تھا
” ہاں ۔ وہی ۔” منال نے تصدیق کی
طوبی گہری سوچ میں ڈوب گئی ۔
” تمہیں اپنا آفس چھوڑ کر اسکے آفس کو جوائن کر لینا چاہیے ۔ ” منال نے مشورہ دیا تو طوبی نے کھوئے سے انداز میں سر ہلا دیا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
پریشال نے منہال کے سکول میں مینیجنگ سٹاف میں ڈیوٹی کر لی تھی ۔
وہ صبح منہال کے ساتھ سکول جاتی
پھر واپسی پر اسے اولڈ ہوم لے جاتی
کچھ دیر وہاں رک کر پیلس واپس آ جاتی
جب تک وہاں رہتی گوہر بی بی مہکشاں کا زکر کرتی رہتی
انکی باتیں سن کر وہ مہکشاں کو بہت حد تک جان چکی تھی
اس دن وہ منہال کو لیکر پیلس واپس آ رہی تھی جب انجان نمبر سے کال آئی
” اپنے بندے کی خیریت چاہتی ہو تو جہاں میں کہتا ہوں وہاں پہنچو ” دوسری طرف کی بات سن کر پریشال کا سانس رک گیا
” یہ۔ یہ کیا کہہ رہے ہو ۔ ” وہ اٹکتے ہوئے بولی
” اکیلی آنا نہیں تو سلار جان سے جائے گا ۔ ” دھمکی لگا کر کال بند ہق گئی
پریشال مضطرب سی موبائل کو دیکھتی رہی ۔
اسنے منہال کو پیلس چھوڑا اور خود نکل آئی
اسے کسی پرانی بند پڑی فیکٹری میں آنے کا کہا گیا تھا
وہ ٹیکسی لے کر وہاں پہنچی تھی ۔
پریشال تیزی سے چلتی اندر آئی تو اسنے کرسی سے بندھے سلار کو دیکھا
اسکی سانس اٹکی تھی
ساتھ ہی اسکی طرف پشت کیے کوئی کھڑا تھا
وہ پلٹا تو چہرا واضح ہوا
وہ صیام بخاری تھا
” میں شہوار کے نام نہاد بھائیوں کی تو جان نہیں لے سکا مگر آج اسکے سگے بھائی کی جان ضرور لوں گا ۔ میری تمھارے ساتھ کوئی دشمنی نہیں مگر کسی کی فرمائش پر تمہیں بھی مارنا ہوگا ۔” صیام بخاری نے اسکی طرف دیکھتے بے نیازی سے کہا تھا ۔
پریشال نے نفی میں سر ہلایا ۔
” تم ایسا نہیں کر سکتے ۔ ” وہ ڈھاری تھی
صیام بخاری نے وہاں موجود اپنے آدمیوں کی طرف اشارہ کیا تو وہ پریشال کی طرف بڑھے
کچھ مزاہمت کے بعد اسے بھی پکڑ کر کرسی سے باندھ دیا گیا ۔
کچھ دیر بعد ۔۔
وہ رسیوں کی گرفت میں ہاتھ پاوں ہلا رہی تھی جب صیام بخاری کے آئے تیسرے آدمی نے اسکے حکم پر سلار کی طرف گن پوائنٹ کی تھی
پریشال کی آنکھیں پھٹی تھیں ۔
” نہیں ۔ رک جاو ۔ رک جاو پلیز ” وہ ہیجانی انداز میں چلائی تھی ۔
ایک آدمی کیمرے سے ویڈیو بنا رہا تھا تاکہ سلار اور پریشال کی موت کا منظر شہوار اور تبریز خاور بھی دیکھ سکیں
صیام بخاری نے ہاتھ جھلا کر اشارہ کیا
پریشال کا دم سادھا
وہ تیز تیز اپنی رسیاں ہلانے لگی
اور اسی وقت صیام بخاری کے خاص آدمی نے فائر کر دیا
فظا میں گولی کی چیرتی ہوئی آواز گونجی ۔
گولی اسکے جسم کے آر پار ہو گئی
ایک لمحے کو سب کچھ تھم گیا
پریشال کی مزاہمت بھی تھم گئی
بنا پلک جھپکائے
وہ ساکت ہوئی بس سامنے دیکھے جا رہی تھی
بے یقینی سے
حیرت سے
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے