Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

قسط نمبر 32
از قلم حرا شاہ
سلار پریشال کی باتیں سن کر غصے میں فارم ہاوس سے نکلا تھا ۔
خود کو پرسکون کرنے کے لیے وہ سڑک پر تیز تیز چلنا شروع ہو گیا ۔
وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ آخر اسے اتنا غصہ کیوں آ رہا تھا
تھیک ہی تو کہہ رہی تھی ۔
آخر اسنے کونسا ایسا کام کیا تھا جس کی وجہ سے وہ جہنم میں نہیں جائے گا ۔
سلار نے پھر سے پریشال کی ساری باتیں اپنے ذہن میں گردان کرنی شروع کر دیں ۔
” یہ سوچ کر ہی گھن آ رہی ہے کہ میں کیسے تمھارے جیسے بے نمازی کے بارے میں دل میں ہمدردی رکھ سکتی ہوں ۔ میں کیسے تمھارے لیے دل میں جزبات رکھ سکتی ہوں ۔”
اور یہ وہ جملے تھے جن کی تکرار اب اسکے ذہن میں چل رہی تھی ۔
جزباتی پن سے بولتے ہوئے شاید پریشال کو بھی اندازہ نہیں ہوا تھا وہ سلار کے سامنے اعتراف کر گئی تھی ۔
وہ اسکے لیے اپنی ہمدردی اور چاہت کا اعتراف کر گئی تھی ۔
گو کہ یہ اعتراف محض اپنی غلطی کی نشاندہی کے لیے تھا مگر کیا تو گیا تھا نا ۔
” عبدللہ ۔ کہاں رہ گیا ۔ آج نہیں آئے گا “
وہ اپنی سوچوں میں ڈوبا تھا جب درویش کی وہی مخصوص آواز کانوں میں پڑی ۔
سلار نے ایک گہری سانس لی ۔
وہ سمجھ چکا تھا کیا کرنا ہے
اگلے ہی لمحے دل پر لاٹھی کی دستک بھی ہوئی ۔
” محبت فقط اللہ کی ۔ محبت صرف اللہ سے” درویش کی گونجتی آواز پھر سے دل پر پڑی تو سلار نے قدم تیز کر دیے ۔
تیز چلنے کے باعث اسے پسینہ آنے لگا تھا ۔
کچھ ہی دیر بعد وہ دربار پہنچ گیا ۔
ہر روز کی طرح آج بھی دربار کے صحن میں نماز فجر کی تیاری ہو رہی تھی ۔
سلار جوتے اتار کر اندر بڑھا تو اسی جگہ وہ درویش بیٹھا نظر آیا جہاں پچھلی دفعہ تھا ۔
وہی پیوند لگے کپڑے ۔
وہ ملگجے بال
وہی جھریوں زدہ چہرا ۔
اور ہر بار کی طرح اس بار بھی ہاتھ میں تسبیح لیے کوئی ورد کر رہا تھا ۔
سلار اس تک پہنچا اور نیچے بیٹھا ۔
درویش نے آنکھیں کھولیں اور مسکرا کر اسکی طرف دیکھا ۔
” آ گیا تو ۔ بول کیا لینے آیا ہے “
” سکون ” سلار نے ایک لفظی جواب دیا ۔
” کیا قابل بن کر آیا ہے سکون حاصل کرنے کے ” درویش نے اگلا سوال کیا ۔
سلار کچھ دیر لب کچکچاتا رہا پھر آنکھیں موندھ کر ماضی کی ایک وادی میں محو سفر ہو گیا ۔
( ” اللہ سے جب کوئی چیز مانگتے ہیں نا تو اپنی قابلیت یا حیثیت دیکھ کر نہیں بلکہ اللہ کی رحمت اور غظمت کے صدقے مانگتے ہیں “
بہار پیلس کے لان میں ثمرین شاہ کرسی پر بیٹھیں سامنے بیٹھے شہوار سے کہہ رہی تھیں جبکہ نیچے گھاس پر کہنیوں کے بل لیٹا سلار کلرنگ بک میں رنگ بھرتا ماں کی باتیں سرسری سی سن رہا تھا ۔
” اللہ سے جب بھی کسی چیز کی طلب کرو سوالی بن کر کرو ۔ یہ مت کہو کہ میں نے فلاں فلاں نیکی کی تو اسکے بدلے مجھے یہ سب ملے ۔ بلکہ اپنے گناہوں اور غلطیوں پر نادم ہو کر اللہ سے اسکی رحمت کے عوض مانگوں ۔” ثمرین شاہ نے مزید سمجھاتے ہوئے کہا تو شہوار نے سمجھ کر سر اثبات میں ہلایا ۔
کلرنگ بک میں رنگ بھرتا سلار اپنے مشغلے میں مصروف رہا )
” سوالی بن کر آیا ہوں ۔ قابل بن کر نہیں آیا ۔ اپنی اوقات کے مطابق خواہش لیکر نہیں آیا بلکہ اسکی عطاعت کے مطابق خواہش لیکر آیا ہوں ” ماضی سے واپس حال میں آتے ہی کچھ توقف کے بعد سلار نے کہا ۔
اسکے لہجے میں ایک آس تھی
ایک امید تھی ۔
” وہ دلوں کے حال جانتا ہے ۔ وہ جانتا ہے تجھے سکون کی تلاش ہے ۔ اور وہ تو اتنا عظیم ہے تیرے دعا کرنے سے پہلے ہی تجھے سکون حاصل کرنے کا موقع بخش دیا ۔ ” درویش نے اسکی طرف گہری مسکراہٹ سے دیکھتے ہوئے کہا تو سلار نے نا سمجھی سے اسکی طرف دیکھا ۔
” جا ۔ جا کے نماز پڑھ ۔ وقت جا رہا ہے ۔ ابھی بھی وقت ہے ۔ چلا جا ۔ جا کہ اس سے پہلے دیر ہو جائے ۔ ” درویش یک دم سخت لہجے میں بولتے ہوئے نمازیوں کی طرف اشارہ کرنے لگا تو نماز کے لیے ترتیب سے کھڑے ہو رہے تھے ۔
سلار اٹھ کر وضو خانے آیا ۔
پچھلی بار امام صاحب کے بتائے گئے طریقے پر وضو بنایا ۔
پھر باقی نمازیوں کے ساتھ آکر کھڑا ہو گیا ۔
امام صاحب نے نماز پڑھانا شروع کی ۔
سلار نے بھی تکبیر پڑھ کر بازوں باندھے ۔
دو رکعت سنت
دو رکعت فرض
جیسے جیسے وہ نماز پڑھتا جاتا اسکے وجود میں سکون اترتا جاتا ۔
درویش کی باتوں کا مفہوم اسے سمجھ آنے لگا تھا ۔
سلار نے سلام پھیرا تو درویش اسکی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔
” وہ جسے چاہے توفیق دے ۔ جسے چاہے محروم کر دے ” درویش نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا اور آنکھیں بند کر کے پھر سے زکر اللہ میں مصروف ہو گیا ۔
ایک سنسنی سی سلار کے وجود میں گردش کر گئی
اسنے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ۔
اسکے ہاتھ خالی تھے
اور ذہن بھی
کتنی مدت ہو گئی تھی اسنے اللہ سے کچھ مانگا نہیں تھا ۔
وہ تو اپنے تعین اللہ سے ناراض تھا
مگر اللہ تو اسے پھر بھی نواز رہا تھا ۔
سلار بہت دیر تک اپنے ہاتھوں کو دیکھتا رہا ۔
یہاں تک کہ وہ بنا کوئی دعا مانگے چہرے پر ہاتھ پھیر کر اٹھ کھڑا ہوا ۔
” وہ جسے چاہے توفیق دے ۔ جسے چاہے محروم کردے “
اسکے لیے یقینا توفیق لکھی تھی مگر محرومیوں کے بعد ۔
صبح مکمل روشن ہو چکی تھی ۔
سلار نے باہر نکلتے ہوئے درویش کی طرف دیکھا جو مگن سا زکر کر رہا تھا ۔
درویش سر کو دائیں بائیں مارتا اللہ ہو کی گردان کر رہا تھا ۔
” اللہ ہو ” سلار نے زیر لب دہرایا ۔
دل نے کہا اس نام کو بار بار لیتے جاو
اور سلار شاہ اس روز دربار سے باہر زبان پر اللہ ہو کی گردان لیکر نکلا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
صیام بخاری آفس سے باہر نکل کر گاڑی کی طرف بڑھا تھا جب اسکے موبائل پر کال آئی ۔
” کوئی آپڈیٹ ؟ ” کال اٹھاتے ہی صیام بخاری نے بیزاریت سے پوچھا ۔
” نہیں سر ۔ ہمارے آدمی تلاش جاری کیے ہوئے ہیں ۔ ایک ایک لڑکی پر ہماری نظر ہے مگر یوں بنا کسی شناخت کے کسی انسان کو ٹریسا کرنا بہت مشکل ہے ۔” دوسری طرف سے معزرت خوا انداز میں کہا گیا ۔
” یو یوز لیس انیمل ۔ ایک مہینے سے تم سے ایک کام نہیں ہوا ۔ ایک لڑکی تک نہیں ٹریس کی گئی ۔ اسے ڈھونڈ کر یا تو میرے سامنے لیکر آو یا کبھی مجھے اپنی شکل مت دکھانا ۔ بلیڈی ایڈیٹ !” صیام بخاری نے ضبط سے اپنے آدمی کی بات سنی پھر غصے سے اس پر ڈھارتا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا ۔
ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھا لی ۔
صیام بخاری نے سخت کوفت کے عالم میں شرٹ کے بٹن دھیلے کیے ۔
تبھی اسکا موبائل دوبارہ بجا ۔
صیام بخاری نے بے دلی سے سکرین دیکھی تو لیلہ بیگم کی کال تھی ۔
اسنے کٹ کردی ۔
پھر کال آئی
پھر کٹ کردی گئی ۔
” کال اٹھاو ۔ تمھارے فائدے کی بات ہے ” ابکی بار میسج آیا ۔
” تم کب سے میرے فائدے کا سوچنے لگی ” کال اٹھاتے ہی صیام بخاری نے طنزیہ کہا ۔
” لیلہ بیگم ہمیشہ اپنے فائدے کے بارے میں سوچتی ہے ۔ تمھارا پتا نہیں مگر میرا ضرور فائدہ ہے ۔ ” دوسرے طرف سے لیلہ بیگم کی سرشار سی آواز گونجی ۔
” کیا چاہتی ہو ” رسٹ واچ پر وقت دیکھتے صیام بخاری نے دریافت کیا ۔
” ہم دونوں کو ہی کچھ نا کچھ چاہیے ۔ تمہیں چاندی چاہیے اور مجھے پیسہ ۔ مجھ سے ملو ۔ باقی باتیں وہیں ہوگی ۔ ” جتاتے انداز میں کہتے بات خو ادھورا چھوڑ کر لیلہ بیگم نے کال کٹ کردی۔
صیام کچھ دیر موبائل کی سکرین دیکھتا رہا ۔
یقینا لیلہ اسے چاندی کے بارے کوئی معلومات دیکر پیسوں کا مطالبہ کرے گی ۔
صیام بخاری نے اخد کیا ۔
” آدھ گھنٹے میں میرے گھر پر ملو ” میسج ٹائپ کیا اور لیلہ بیگم کے نمبر پر بھیج دیا ۔۔۔۔
تقریبا آدھ گھنٹے بعد لیلہ بیگم صیام بخاری کے بنگلے میں بڑے اتراتے ہوئے داخل ہوئی ۔
آج وہ ایک تصویر کے عوض صیام بخاری سے بڑی رقم وصول کرے گی ۔
وہ اندر بڑھی تو صیام بخاری اسی کے انتظار میں صوفے پر بیٹھا تھا ۔
سوٹڈ بوٹد
نک سک سے تیار ۔
” میرے پاس وقت کم ہے ۔ جلدی بولو ۔ ” ایک ٹانگ کو دوسرے پر رکھ کر ہلاتے ہوئے وہ اضطراری انداز میں بولا ۔
” صبر رکھو ۔ اب اتنی بھی کیا جلدی ” شوخ پن سے بولتی لیلہ بیگم سامنے والے صوفے پر آکر بیٹھی ۔
” پہلی بار تمھارے گھر آئی ہوں ۔ کوئی تواضع نہیں کرو گے ۔ ہم سے تو خوب تواضع کروائیں ۔ ہماری لڑکی تک لے گئے ” لیلہ بیگم نے شکایتی انداز میں کہا تو صیام بخاری نے پیچھے کھڑے ملازم کو اشارہ کیا ۔
ملازم سر ہلا کر کچن کی طرف بڑھ گیا ۔
” فکر مت کرو ۔ آج کی یہ تواضع ہمیشہ یاد رکھو گی ۔ ” صیام نے معنی خیزی سے کہا ۔
تبھی ملازم ٹرالی میں چائے کے لوازمات سجائے ہوئے لیلہ بیگم کے پاس آیا ۔
کپ میں چائے ڈالی اور لیلہ بیگم کو پیش کی ۔
صیام بخاری اب صوفے کی پشت پر بازو پھیلائے اطمینان سے بیٹھا تھا ۔
لیلہ بیگم نے چائے کی ایک چسکی لی پھر گلہ کھنکارتے ہوئے صیام کی طرف متوجہ ہوئی ۔
” میرے پاس چاندی کی تصویر ہے ۔ میں تمہیں وہ اسی صورت دوں گی جب تم مجھے بیس کڑوڑ روپے دو گے ” بل آخر لیلہ بیگم نے اپنا مطالبہ رکھا ۔
صیام بخاری خفیف سی ہنسی ہنسا ۔
” تصویر کہاں ہے ” صیام نے آبرو اچکائی ۔
” تصویر اس پیکٹ میں ہے ” ہاتھ میں پکڑا خاکی لفافہ دکھایا ۔
” تمھاری رقم اس چائے میں ہے ۔ ” صیام بخاری معنی خیزی سے اٹھتے ہوئے بولا ۔
لیلہ بیگم جب تک اسکی بات سمجھ پاتی اسکا گلا گھٹنے لگ گیا ۔ سانس لینے میان دشواری ہونے لگی
دونوں ہاتھوں سے گلا تھامتے وہ نیچے کو جھکی خبکہ صیام سامنے کھڑا اسکی حالت سے محظوظ ہو رہا تھا ۔
” تم نے سوچا بھی کیسے میں تمہیں ایک پھوٹی کوڑی بھی دوں گا ۔ ” وہ طنزیہ چبا چبا کر بولا ۔
لیلہ بیگم زمین پر دھے چکی تھی ۔
” میں پہلے بھی اپنے فائدے کے لیے لوگوں کی جان لے چکا ہوں اور آج تمہیں مارتے مجھے بلکل کوئی افسوس نہیں ہو رہا ۔ ” وہ صوفے تک آیا خاکی لفافہ اٹھایا اور زمین پر تکلیف سے دہری ہوتی لیلہ بیگم کو تھوکر ماری ۔
” یہ مر جائے تو اٹھا کر باہر پھینک دینا اسے ” ملازم کو حکمیہ کہتے وہ تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا جبکہ لیلہ بیگم زہر کے پورے جسم میں پھیلنے کی وجہ سے جامنی پڑنے لگی تھی ۔
دفعتا منہ سے جھاگ نکلنے لگے ۔
ایک دو لمحے مزید سرکے اور ساری مزاہمت دم توڑ گئی ۔
لیلہ بیگم کا لالچ اسے موت کی اندھی وادی میں کھینچ کر لے گیا ۔۔۔۔
کمرے میں آتے ہی صیام نے تصویر نکال کر دیکھی ۔
کوٹھے کے صحن کا منظر جہاں محفل جاری تھی ۔
دو تین لڑکیاں رقس کر رہی تھیں ۔
اسے سمجھ نا آیا چاندی کون ہے
وہ بغور تصویر کو دیکھتا رہا جب اسے وہ نظر آئی ۔
ایک طرفا رخ
پردے کے پیچھے سے زرا سا دکھائی دیتا چہرا ۔
صیام بخاری نے اگلے ہی لمحے اس چہرے کو پہچان لیا ۔
یعنی جس لڑکی کی اسے تلاش تھی وہ اسکے ہی کاروباری حریف کے گھر موجود تھی ۔
چاندی کو وہ بہار پیلس سے آسانی سے نہیں نکلوا سکتا تھا ۔
اسے کوئی طریقہ سوچنا تھا کہ شہوار اسے خود نکال دے ۔
وہ سوچتے ہوئے تصویر دیکھتا رہا یہاں تک کہ ذہن میں تدبیر آئی ۔
اسکے ہاتھ میں موجود تصویر ہی فرح شہوار عرف چاندی کے بہار پیلس سے بے دخل ہونے کی وجہ بنے گی ۔
ذہن میں تمام تر کراوائی بنتے صیام نے تصویر واپس لفافے میں ڈالتے دراز میں رکھی ۔
اب وقت تھا شہوار شاہ کو اسکی زندگی کا دوسرا بڑا دھچکا دینے کا ۔
پہلا شاز عالم شاہ اور ثمرین شاہ کی موت تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے
See translation