Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

قسط نمبر 31
از قلم حرا شاہ
موذن فظا میں عشا کی پرنور اذانیں بکھیر کر فارغ ہوا تھا ۔
لوگ مساجد کا رخ کرنے لگے تھے ۔
آج چاند کی چودہ تاریخ تھی ۔
پورے چاند نے زمین پر روشنی بکھیری ہوئی تھی ۔
مست سی روشنی
فسوں لیے ہوئے
دل کو روشن کیے ہوئے
فارم ہاوس کے اندر آو تو پریشال عشا کی نماز ادا کر رہی تھی ۔
نماز پڑھ کر اسنے دعا مانگی
ابراہیم صاحب کے لیے
وہ انکے لیے ہی دعا مانگا کرتی تھی ۔
وہ دعا مانگنے میں مصروف تھی اسکی آنکھیں بند تھیں جب یک دم اسنے آنکھیں کھولیں ۔
سامنے کوئی نہیں تھا ۔
اسے ایسا لگا جیسے سلار آیا ہو ۔
وہ واضح طور پر اسکے تیز پرفیوم کی خوشبو محسوس کر سکتی تھی ۔
اسے یہاں تین ہفتے ہو چکے تھے اور اب تک وہ کچھ حد تک پرفیوم کی خوشبو کی عادی ہو چکی تھی ۔
مگر آج وہ خوشبو اسکی طبیعت پہلے جیسی بوجھل کر رہی تھی ۔
پریشال یک دم اٹھ کر باہر آئی اور بے اختیار دل پر ہاتھ رکھا ۔
اسکا سانس گھٹنے لگا تھا ۔
موسم میں کھنکی ہونے کے باوجود بھی اسے پسینے آنے لگے تھے ۔
وہ نیچے کو جھکی اور گہرے گہرے سانس لینے کی کوشش کی ۔
مگر دم گھٹتا ہی چلا جاتا تھا ۔
اسکے ہونٹ بھی خشک ہونے لگے تھے
وہ واپس سیدھی ہوئی اور ادھر ادھر دیکھا ۔
شاید پانی سے افاقہ ہو
یہ سوچ کر وہ کچن کی طرف بڑھی مگر راستے میں ہی سر چکرایا اور آڑھی تڑچھی زمین بوس ہو گئی ۔
مکمل طور پر بے ہوشی میں ڈوبنے سے پہلے اسنے دھندلے سے دو جوگرز دیکھے تھے ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
سلار جیسے ہی فارم ہاوس داخل ہوا اسنے پریشال کو بے دم ہوکر گرتے دیکھا ۔
ایک پل کو وہ ساکت رہ گیا پھر تیزی سے اس تک پہنچا ۔
سلار فورا نیچے بیٹھا اور پریشال کا کاندھا ہلانے لگا ۔
وہ مکمل بے سدھ تھی
اسکے ہونٹ بھی سوکھ رہے تھے جن پر پپڑیاں جم رہیں تھیں ۔
سلار نے کچھ سوچا اور پھر پریشال کو گود میں اٹھا کر کمرے میں لے آیا ۔
اسے بیڈ پر لٹایا ۔
پھر ساتھ بیٹھ کر اسکا منہ تھپتھپانے لگے
اسے اچانک کیا ہو گیا تھا اسکا چہرہ زرد پڑ رہا تھا
اور پریشال کی یہ حالت دیکھ کر سلار کی سانس بھی پھول رہی تھی ۔
وہ کچن میں گیا اور پانی کی بوتل اٹھا کر لایا اور اسکے چھینٹے پریشال کے منہ پر مارنے لگا ۔
کوئی فائدہ نا ہوا ۔
وہ بے ہوش ہی رہی ۔
سلار کی بے چینی مزید بڑھنے لگی
اسے کچھ ہو گیا تو
اور مزید وہ کچھ سوچ نا سکا
سلار نے واضح طور پر اپنا دل اس ادھورے خیال پر لرزتا محسوس کیا تھا ۔
وہ اسکے پاس سے اٹھ کر پھر باہر آیا اور تیزی سے کال ملائی۔
ڈاکٹر کو کال کرکے وہ واپس کمرے میں آیا اور دروازے میں ہی کھڑے ہو کر بیڈ پر بے ہوش لیٹی پریشال کو دیکھتا رہا ۔
اسکے چہرے پر تکلیف واضح تھی ۔
کیا یہ ویسی ہی تکلیف نہیں تھی جس کی ہمیشہ اسے خواہش ہوتی تھی ۔
سلار نے آنکھیں موندھ لیں اور سر دروازے سے تکا لیا ۔
کچھ دیر گزری ہو گی جب سلار کا موبائل دوبارہ بجا ۔
وہ تیزی سے باہر نکلا
اسکی واپسی ڈاکٹر کے ساتھ ہوئی ۔
سلار اسے کمرے میں لے آیا اور پریشال کی طرف اشارہ کیا ۔
ڈاکٹر اسکا چیکپ کرنے لگا ۔
” یہ کون ہے ؟ ” کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے پوچھا
” اپنے کام سے مطلب رکھو ” سلار نے گھور کر تلخ لہجے میں کہا تو ڈاکٹر نے کاندھے اچکا دیے
” زیادہ مسئلہ نہیں ہے ۔ لڑکی کو ڈیہائڈریشن ہوئی ہے ۔ میں نے انجیکشن لگا دیا ہے ۔ میڈیسن بھی لکھ دی ہے ” ڈاکٹر نے اپنے مخصوص پیشہ ورانہ لہجے میں کہا اور باہر نکل گیا ۔
سلار بھی اسکے پیچھے گیا
اور کچھ دیر بعد واپس آیا ۔
وہ دوبارہ کمرے میں نہیں گیا بلکہ لانج میں ہی صوفے پر بیٹھ گیا ۔
اسکا سر درد کرنے لگا تھا
سلار نے اپنا سر کنپٹیوں سے مسلا ۔
دفعتا اسکے اندر ہتک سے اٹھی ۔
اسکو کسی شے کی طلب ہو رہی تھی جیسے ۔
وہ اٹھا اور دوسرے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
اس کمرے میں پریشال کا داخلہ منع تھا
وہ تیزی سے اندر آیا اور ہڑبڑی میں درازیں کھنگالنے لگا
پھر وہ اسے مل ہی گیا ۔
سفید رنگ کے سفوف کا پیکٹ
وہ ڈرگز تھیں ۔
سلار اسے لیکر باہر آیا اور لانج ٹیبل پر پیکٹ کھول کر سفوف ڈال دیا ۔
تقریبا چٹکی بھر سفوف ہوگا ۔
وہ جیسے ہی اسے ناک میں کھینچنے کے لیے آگے کو جھکا اسے چھینک آئی اور سارا سفوف اڑ کر نیچے گر گیا ۔
سب ضایع ہو گیا
سلار نے کوفت میں آکر اپنا ہاتھ زور سے میز پر مار دیا ۔
شیشے کی میز پر ڈراڑ پڑی اور اسکے ہاتھ میں خون کی لکیر پڑی مگر اسنے دیھان نا دیا ۔
اسے کوفت اور بے چینی کی ملی جلی کیفیت میں اٹھ کر وہ پریشال والے کمرے کے دروازے تک آیا ۔
بیڈ پر لیٹی پریشال کو کھانسی آئی ۔
اسے ہوش آرہا تھا ۔
سلار فورا اسکے آیا ۔
” پپ۔۔ پانی ” پریشال کے منہ سے بے جان سی آواز نکلی
سلار کچن میں گیا اور گلاس میں پانی لیکر آیا ۔
سہارا دے کر پریشال کو اٹھایا اور گلاس لبو سے لگایا ۔
پریشال نے دو گھونٹ چڑھائے اور پھر سے ڈھے گئی ۔
سلار نے اسے واپس سیدھا لٹایا ۔
وہ اٹھنے لگا تھا جب رک گیا ۔
پیچے مڑ کر دیکھا تو اسکا ہاتھ پریشال کے ہاتھ میں تھا ۔
پریشال کی گرفت اسکے ہاتھ پر سخت تھی ۔
سلار نے کھینچنا چاہا مگر اسکا ہاتھ آزاد نا ہوا ۔
ایک گہرا سانس لیکر وہ وہیں بیٹھ گیا ۔
بہت دیر تک وہ اپنا ہاتھ دیکھتا رہا جو پریشال کے ہاتھ میں تھا
اسنے آج تک بہت سے لڑکیوں کے ہاتھ پکڑے تھے
بہت سی لڑکیوں نے اسکے ہاتھ پکڑے تھے مگر آج تک ایسی کیفیت محسوس نہیں کی تھی ۔
دل میں گدگدی بھی ہو رہی تھی
اور ڈھرکنوں میں بے ترتیبی تھی ۔
وہ کہتا تھا پریشال کوئی ساحرہ ہے اور وہ لڑکی اس پر واقعی کوئی جادو کرتی جا رہی تھی ۔
وہ لڑکی ہی ساحرہ تھی یا اسکی موجودگی میں کوئی سحر تھا جو سلار خود میں بدلاو محسوس کر رہا تھا ۔
سلار نے یاد کیا جس دن اسنے پریشال کو چھونے والے آدمی کا ہاتھ کاٹا تھا اسکی شراب کی بوتل خراب ہو گئی تھی ۔
ان دو آدمیوں سے وہ ہمیشہ ڈرگز لیتا تھا مگر اس دن کے بعد سے ان کا لین دین ختم ہو گیا تھا
سلار نے ایک دو مرتبہ مزید شراب اور ڈرگز لینے کی کوشش کی مگر ایک بار ہاتھ لگنے سے شراب کی بوتل زمین بوس ہو گئی جبکہ دوسری مرتبہ وہ پھر سے ایکسپائر نکل آئی ۔
آج اسنے ڈرگز لینے کی کوشش کی تو وہ بھی ضایع ہو گئی
کیا یہ اتفاق تھا کہ جب سے پریشال اسکی زندگی میں آئی تھی نشہ آور چیزیں کسی نا کسی بہانے سے اس سے دور ہی رہیں تھیں ۔
تین ہفتوں میں اسنے کسی دوسری لڑکی کے بارے سوچا تک بھی نہیں تھا ورنہ ہر ہفتے کوٹھے کی ایک آدھ لڑکی اسکے بستر کی زینت بنتی تھی ۔
اور پھر اسنے بہت سالوں بعد اس روز فجر کی نماز بھی تو پڑھی تھی ۔
کیا یہ اس ساحرہ کا ہی اثر تھا وہ گناہ سے باز رہ رہا تھا اور اچھائی کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
سلار کی سوچیں اسی نہج پر تھیں جب اسکی آنکھیں بند ہونے لگی
وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر بیٹھے بیٹھے ہی آنکھیں موندھ گیا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
رات کا ناجانے کونسا پہر تھا جب پریشال کی آنکھ کھلی ۔
وہ کہاں تھی اسنے زہن پر زور دیا ۔
وہ کچن کی طرف بڑھ رہی تھی مگر بے ہوش ہو گئی تھی ۔
اب وہ بیڈ پر تھی
وہ یہاں کیسے آئی اور اگلے ہی لمحے پریشال کو یہ بات سمجھ آ گئی ۔
اسکی دائیں جانب بیڈ کراون سے ٹیک لگائے نیم دراز سلار بیٹھا سویا ہوا تھا ۔
پریشال کے حلق میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی ۔
زہن میں خدشہ لہرایا ۔
اسکی بے ہوشی میں کہیں سلار نے اسکے ساتھ کچھ غلط کرنے کی کوشش تو نہیں کی ۔
یہ سوچ کر جیسے ہی وہ اٹھنے لگی تو دیکھا اسکا ہاتھ سلار کے ہاتھ میں تھا ۔
نہیں بلکہ سلار کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھا ۔
پریشال کو بلکل سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ہوا تھا ۔۔
اسنے اپنا ہاتھ کھینچا تو سلار ہڑبڑا کر اٹھا ۔
سلار کی آنکھیں نیند کے خمار کے باعث سرخ ہو رہی تھیں ۔
وہ بہت زیادہ گہری نیند سویا ہوا تھا ۔
” تم ۔۔ تم میرے قریب کیا کر رہے ہو ۔ دور ہٹو ” وہ اسے آگے دھکیلتے ہوئے بولی ۔
سلار نے منہ پر ہاتھ رکھ کر جماہی لی ۔
آنکھیں جھپخ کر نیند اتاری اور مسکرا کر پریشال کو دیکھا ۔
” میں تمہیں قریب نہیں آیا تھا ۔ تم نے خود میرا ہاتھ پکڑا تھا ” سلار نے اطمینان سے جواب دیا ۔
” ہر گز نہیں ۔ ایسا نہیں ہو سکتا ” پریشال نے سر جھٹکا ۔
” کیا ابھی تم نے خود نہیں دیکھا میرا ہاتھ تمھارے ہاتھ میں تھا ۔ ” سلار نے جتاتے ہوئے کہا ۔
” میں خود تمھارا ہاتھ نہیں پکڑ سکتی ۔ میں نے بے ہوشی میں پکڑ لیا ہوگا ۔ یو نو وٹ تمھارے جیسے شرابی زانی اور بے نمازی کا ہاتھ پکڑنے سے پہلے میں چاہوں گی میرا ہاتھ یا جل جائے یا کٹ جائے ۔
پہلے مجھے علم نہیں تھا مگر اب ترجمہ سے قرآن پڑھنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ بے نمازی سے بڑا کوئی کافر نہیں ۔
یہ نماز ہی تو ہے جو مومنوں میں اور مشرقوں میں فرق کرتی تھی ۔
آج جب میں نے یہ آیت پڑھی
’’اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے مت ہو جاؤ۔‘‘الروم، 30 : 31 “
تو میرا دل لرز کر رہ گیا ۔
مجھے وہ وقت یاد آئے جب مصروفیت کے باعث یا سستی کی وجہ سے کبھی نماز چھوڑ دی میں نے ۔ اللہ کیسا ظلم کیا میں نے اپنے ساتھ ۔ ” تیز تیز جزباتی ہو کر بولتی وہ زور زور سے رونے لگی تھی ۔
” کتنی بڑی بد قسمتی ہے کہ انسان مسلمان پیدا ہو لیکن نماز ترک کر کے خود کو کافروں میں شامل کر لے ۔ کتنی بری زلت ہو گی یہ کہ قیامت کے دن اس پر اللہ کی رحمت نہیں ہوگی ۔ یہ کتنا برا سودا ہوگا کہ انسان دنیاوی مصروفیت کے باعث اپنے لیے جہنم خرید لے ۔” دونوں ہاتھ منہ پر رکھے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی ۔
” مجھے لگا میرا ساتھ برا ہوا ہے مگر اس قید میں مجھے اندازہ ہوا کہ برا تو میں خود اپنے ساتھ کر رہی تھی ۔ ” بھیگتے ہوئے لہجے میں اسنے جیسے خود سے نفرت کا اظہار کیا تھا ۔
” اور تم ۔۔ ! مجھ سے دور رہو ۔ بے نمازی کی نحوست نا اسکے آس پاس والوں کو بھی گمراہ کردیتی ہے ۔ تم ایک جہنمی ہو ۔ میرا یہ سوچ کر ہی دل لرزتا ہے میں یہاں تمھارے جیسے انسان کے ساتھ موجود ہوں ۔ تمھاری موجودگی مجھے خود سے نفرت کرنے پر فورس کر رہی ہے ۔ یہ سوچ کر ہی گھن آ رہی ہے کہ میں کیسے تمھارے جیسے بے نمازی کے بارے میں دل میں ہمدردی رکھ سکتی ہوں ۔ میں کیسے تمھارے لیے دل میں جزبات رکھ سکتی ہوں ۔ خدارا مجھے موت آ جائے مگر میرے ساتھ یہ ظلم مت کرنا ” ابکے وہ سلار سے نفرت کا اظہار کر کے اپنا منہ مکمل ہاتھوں میں چھپا گئی تھی ۔
اسکی ہچکیاں سلار آسانی سے سن سکتا تھا ۔
” کیا صرف نماز نا پڑھنا ہی گناہ ہے ۔ تھیک مگر یہ جو تم نیک پرسا بننے کی کوشش کرتی ہو تب کیا تمہیں بولڈ فوٹو شوٹ کرواتے جہنم یاد نہیں آتی ۔ آدھی رات کو سڑکوں پر اکیلے گھومتے تمہیں موت یاد نہیں آتی ۔ کیا اسلام نے تمہیں یہ سیکھایا ہے کہ خود اپنی غلطی کا اعتراف کر لو مگر دوسرے کو جہنمی قرار دے دو ۔ کیا گارنٹی ہے تمھارے پاس اس بات کی کہ میں ہی جہنم میں جاوں گا تم نے ۔ کیا گارنٹی ہے اس بات کی تمھاری نمازیں قبول ہو رہی ہیں ۔ کیا گارنٹی ہے اس بات کی تمھاری ہی معافی قبول ہو گی ۔
مت بھولوں میری ہی وجہ سے تم یہ سب باتیں جان پائی ہو اور اب مجھے ہی نفرت دیکھا رہی ہو ۔ ہاں ہوں میں شرابی ۔ ہاں ہوں میں زانی ہاں میں بے نمازی رہا ہوں مگر یہ میرے اور میرے اللہ کا معاملہ ہے ۔ تم یا تمھارے جیسا کوئی سو کالڈ مسلمان یہ تہہ نہیں کر سکتا کہ مجھے کیا سزا ملے گی کیا نہیں ۔ ” طنزیہ انداز میں بات کا اغاز کرتے وہ آخر میں انگلی اٹھا کر تنبیہ لہجے میں کہتا دروازہ ڈھار سے مار کر باہر نکل گیا ۔
اسے پریشال کی باتیں بہت ناگوار گزری تھیں ۔
وہ ہوتی کون تھی آخر یہ فیصلہ کرنے والی کہ سلار کو کیا سزا ملے گی کیا نہیں ۔ وہ منحوس ہے یا نہیں ۔
وہ ہی پاگل تھا
بے کار ہی اس لڑکی کو سر چڑھا لیا ۔
وہ سلار شاہ تھا اور اپنے بارے میں کسی کی رائے پسند نہیں کرتا تھا
یہ لڑکی اسکی قید میں تھی ۔
سلار کو ایک لمحہ نہیں لگنا تھا اسکی جان لینے میں یا اسکے ساتھ کچھ برا کرنے میں مگر وہ تھی کہ اپنی اکڑ کم نہیں کر رہی تھی ۔
سلار کو اس بات کو احساس ہونے لگا تھا کہ پریشال کو یوں قید کر کے اسنے غلط کیا ہے ۔
اپنے سوال کا جواب لینے کا یہ کوئی طریقہ نہیں تھا ۔
وہ سوچ کر آیا تھا کہ آج اسے آزاد کردے گا ۔
اگر پریشال کو جواب ملا تو وہ اسے ضرور بتائے گی مگر آج کی گفتگو کے بعد اس کا ارادہ بدل گیا تھا ۔
” تم اسی قید کے لائق ہو ۔ پڑی رہو یہاں ایسے ہی “
نخوت سے دروازے پر ایک غصیل نظر ڈال کر وہ باہر نکل گیا ۔
جبکہ کمرے کے اندر بیڈ پر بیٹھی پریشال دم بخود ہو کر رہ گئی۔
سلار کی باتیں سر پر ہٹھوڑے کی طرح برس رہیں تھیں ۔
پریشال کا سر پھٹنے لگا تھا ۔
اسنے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا ۔
کیا غلط تھا
کیا صحیح تھا
دماغ بس ماوف ہو کر رہ گیا تھا ۔
پورے چاند کی رات کچھ ہی لمحوں بعد روشن صبح میں تبدیل ہونے والی تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے