Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

نماز عشا کی ادائیگی کے بعد فرح بہار جان کے پاس ان کے کمرے میں آگئی تھی ۔
بہار جان اور وہ دونوں کاوچ پر بیٹھیں اور بہار جان اسے بہار پیلس کے تمام لڑکوں کے بچپن کے بارے میں بتا رہی تھیں ۔
شہوار سمجھدار اور دوسروں کا خیال رکھنے والا
حدید شرارتی اور رنگین مزاج
روعان کچھ شرمیلا کچھ حدید کے رنگ میں ڈھلا ہوا
اور سلار ۔
سلار کے بارے میں وہ کچھ نا کہہ سکی ۔
ایک وہ ہی تھا جسے وہ سمجھ نہیں پاتی تھیں
فرح انکی باتیں دلچسپی سے سن رہی تھی ۔
” جب سلار پیدا ہوئے تھے تب شہوار کو اس بات کی سب سے زیادہ خوشی تھے کہ وہ بڑے بھائی بن گئے ہیں ۔ سلار کچھ بڑے ہوئے تو شہوار انہیں بھائی جان کہنا سیکھانے لگے مگر سلار کے منہ سے بھاں نکلتا تھا اور شہوار اس میں ہی خوش ہو جاتے تھے ۔
سلار شہوار کو بھاں کہتے اور شہوار خوشی سے سرشار کبھی اسکا ہاتھ چومتے تو کبھی پیشانی ۔ سلار بولتے ہی بہت پیارا تھے ۔ بہت معصوم پیارے اور حساس تھے ۔ مگر ۔۔۔۔ ” بہار جان پرانے دن یاد کرتے ہوئے بتا رہی تھیں اور پھر ایک تکلیف دہ وقفہ لیا ۔
فرح نے انکا ہاتھ پکڑ لیا ۔
جیسے انکا درد بانٹا ہو
” مگر پھر میرے آشیانے کو کسی کی نظر لگ گئی ۔ اس روز لان میں چار میتیں رکھیں تھیں ۔ میرے دو بیٹے اور دو بیٹیاں جنہیں بری طرح قتل کر دیا گیا تھا ” بہار جان کی آنکھوں میں آنسو اترے اور لہجا روندھا ہوا تھا ۔
فرح کے دل کو کچھ ہوا ۔
وہ اپنے ہاتھ میں مسلسل بہار جان کے ہاتھ کی پشت مسل رہی تھی ۔
ماضی کا ایک منظر آنکھوں میں لہرایا۔
آٹھ سالا فرح پلنگ کے ساتھ ٹکی کھڑی تھی ۔
آنکھوں مین لبا لب آنسو بھرے تھے ۔
وہ پلنگ پر لیٹی اپنی ماں کو پکار رہی تھی ۔
مگر بے جان سی گل آرا اسکی کسی بھی پکار کا جواب دینے کے قابل نہیں تھی ۔
وہ اپنی آخری سانس کھینچ چکی تھی ۔
فرح نے دروازے میں کھڑی لیلہ بیگم کی طرف پریشانی سے دیکھا جو کہ گل آرا کے مردہ وجود کو تاسف سے دیکھ رہی تھی ۔
گل آرا واپس آئی تو لیلہ بیگم کو لگا کوٹھے کی پھر سے چاندی ہو گئی مگر ایسا نا ہو سکا
گل آرا کو جیسے ایک چپ سی لگ گئی تھی ۔
بیٹی کو گود میں لیے کئی کئی دیر کھوئی کھوئی سی بیٹھی رہتی تھی ۔
پھر وہ بیمار پڑھنا شروع ہوئی اور جب فرح پانچ سال کی تھی وہ بلکل بستر سے لگ گئی۔
وہ مریض عشق بن چکی تھی ۔
وہ اس آدمی کے پیچھے اپنا وجود مار چکی تھی جس کو اسکی پروا تک نہیں تھی ۔
بہار جان نے اسکا کاندھا ہلایا تو فرح ماضی سے ہوش میں آئی اور گڑبڑا کر انہیں دیکھا ۔
” کیا بات ہے بیٹا کیا سوچ رہی ہیں ” وہ اپنی باتیں چھوڑ کر فرح سے استفار کرنے لگیں ۔
” کک ۔۔ کچھ نہیں ۔ آپ بتائیں آپ کیا کہہ رہی تھیں بی جان” فرح نے فورا خود کو کمپوز کیا اور بہار جان کو بات جاری رکھنے کو کہا ۔شہوار کی طرح وہ بھی انہیں بی جان پکارتی تھی ۔
” اسلام علیکم ” اسی وقت کمرے میں شہوار داخل ہوا ۔
” وعلیکم اسلام ۔ ہمارے دلارے بیٹے ۔ آپکی عمر بہت لمبی ہو ۔ ابھی ہم فرح سے آپکے اور سلار کے بارے میں ہی بات کر رہے تھے ” بہار جان سے انس سے کہتے اسے بتایا ۔
شہوار قریب آیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بہار جان کے ہاتھ کی پشت کا بوسہ لیا ۔۔
ایک نظر فرح کو دیکھ کر سر کو خم دیا تو فرح بھی مدھم سا مسکرائی
تو شہوار کے ہونٹ میں بھی خم دار لکیر پڑی
اور ویسے بھی ایک اچھی عورت وہ ہوتی ہے جسے دیکھ کر شوہر خوش ہو ۔
” بی جان مجھے لمبی عمر کی دعا نا دیں ۔ مجھے یہ دعا دیں کہ اللہ نے میری جتنی عمر لکھی ہے وہ عمر باعزت اور صالح بن کر گزارنے کی توفیق دے ۔ ” شہوار نے جیسے انسے یہ دعا کرنے کے لیے خواہش کی تھی ۔
” انشاء اللہ ۔ ” بہار جان نے کہا ۔
پھر شہوار کے فون پر کال آئی تو وہ معزرت کرتا کمرے سے نکل گیا ۔
” آپ بھی جائیں شہوار کے پاس ۔ ہماری باتیں تو بعد میں بھی ہوتی رہیں گی ۔ ” بہار جان نے فرح کو ہدایت کی تو وہ بھی انکے ہاتھ کا بوسہ لیکر شب بخیر کہتی کمرے سے نکل گئی ۔
فرح نے یوں ہی اپنے ہاتھ پر دیکھا تو انگوٹھے والے نشان پر دیھان گیا ۔
سلار نے ولیمے والے دن بھی اسی نشان کو دیکھ کر اسکا ہاتھ پکڑا تھا
کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے فرح یہ ہی سوچ رہی تھی کہ سلار نے ایسا کیوں کیا تھا ۔
کیا سلار اس نشان سے واقف تھا مگر وہ اور سلار کبھی آمنے سامنے نہیں آئے تھے تو پھر سلار اس روز سے پہلے اسکے ہاتھ کا نشان کیسے دیکھ سکتا تھا ۔
الجھن تو یہ تھی کہ وہ باہر جاتے ہوئے ہمیشہ سیاہ رنگ کے دستانے پہن کر جاتی تھی تو سلار یا کسی اور کے بھی اسکے ہاتھ دیکھنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی تھی ۔
یہی سوچتے ہوئے فرح کمرے کے دروازے تک پہنچی جب اندر سے شہوار کی آواز کانوں میں پڑی ۔
” ظاہر ہے ہماری کپمنی کے ساتھ ڈیل کینسل کر کے خطاب عزیر نے ڈیل صیام بخاری کے ساتھ ہی کرنی تھی ۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں تھا ۔ ہمارا مسئلہ یہ نہیں ہے ۔ ہمارا مسئلہ کمپنی کے لیے مزید ٹینڈرز حاصل کرنے کا ہے اور اس بزنس ریویلری میں صیام بخاری جتنے بھی ہٹھکنڈے آزما لے وہ ہمارا زیادہ کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ ” شہوار اس بات سے بیگانہ کے فرح اسکی باتیں سن رہی ہے موبائل پر سنجیدگی سے کہہ رہا تھا
اور فرح کا زہن صرف ایک ہی لفظ پر اٹک گیا
صیام بخاری
فرح نے بے اختیار دل پر ہاتھ رکھا ۔
جس صیام بخاری کو وہ جانتی تھی اور جس کا زکر شہوار کر رہا تھا وہ دونوں ایک نا ہو ۔ فرح نے دل ہی دل میں دعا کی تھی
” باہر کیوں کھڑی ہو ” شہوار کال بند ہونے کے بعد اسکی طرف متوجہ ہوا جو دروازے میں پر سوچ کھڑی تھی ۔
فرح اندر بڑھ گئی ۔
” آج آپ لیٹ ہو گئے ۔ ” شہوار کے کچھ کہنے سے پہلے ہی فرح نے سوال کر لیا
” نئے آفس چلا گیا تھا فری ہو کر ۔ وہاں کام تھا ۔ میں فریش ہو کر آتا ہوں پھر باہر چلتے ہیں ۔ تم بھی تیار ہو جاو ” شہوار نے جوابا کہا ۔
پھر فریش ہونے باتھ روم کی طرف بڑھ گیا ۔
فرح بھی ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی ۔
جب شہوار باہر آیا تو فرح سیف الماری سے اسکے کپڑے نکال رہی تھی ۔
فرح نے اپنی پسند کے کپڑے نکال کر شہوار کق دیے
سکن جینز اور ہلکے نیلے رنگ کی شرٹ
” کیا میں تمھارے لیے کپڑے انتخاب کر سکتا ہوں ” شہوار اسکے پیچھے آکر کھڑا ہوا اور بہت جزب سے پوچھا ۔
” آپ ہر بار اجازت کیوں طلب کرتے ہیں ۔ آپ حق رکھتے ہیں مجھ پر ۔ میرے لیے اور خوشی کی کیا بات ہوگی اپنے شوہر کی پسند کا لباس پہنوں ” فرح اسکی طرف مڑی اور لہجے میں رشک کی رمق لیکر بولی ۔
شہوار نے اسکی الماری سے ایک سکن کلر کا سوٹ نکالا جس کی چادر نیلے رنگ کی تھی ۔
شہوار کا نکالا ہوا سوٹ انہیں رنگ کا تھا جو فرح نے اسکے لیے نکالا تھا ۔
” تو وہ آپ چاہتے ہیں لوگ دور سے ہی دیکھ کر پہنچان لیں میاں بیوی ہیں ” فرح اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے بولی ۔
” ہاں تو پتا لگ جانے دو ۔ شہوار شاہ نے فرح سے شادی کی ہے ۔ نکاح کیا ہے ۔ اسے اپنے دل کی زینت بنایا ہے ۔ ” شہوار بھی اسکی بات سے محفوظ ہوتا بھر پور فخر سے بولا تھا ۔
کچھ دیر بعد دونوں تیار ہو کر مین گیٹ سے باہر نکل رہے تھے جب شہوار کے موبائل پر میسج آیا
” سر ابھی کچھ دیر پہلے سلار صاحب کے ساتھ فارم ہاوس میں دو لوگ داخل ہوئے ہیں ۔ انہیں پہلے سلار صاحب کے ساتھ نہیں دیکھا ۔ “
شہوار نے گاڑی میں بیٹھتے میسج پڑھا ۔
” تھیک ہے مجھے انفارم کرتے رہنا ” اسنے جوابی میسج کیا اور موبائل سیٹ پر ڈال دیا ۔
” تو بتائیں عزیز جاں کہاں جانا پسند کریں گی ” شہوار فرح کی طرف متوجہ ہو کر پوچھنے لگا ۔
” جہاں متاع جاں لے چلیں ” فرح نے ادا سے جواب دیا ۔
وہ چہرے پر نقاب کیے ہوئے تھی ۔ صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں اور شہوار ان آنکھوں میں خود کے لیے بے پناہ محبت دیکھ رہا تھا
شہوار نے ڈرائیور کو چلنے کا کہا تو گاڑی آگے بڑھ گئی ۔
” یہ صیام بخاری کون ہے ” کچھ دیر بعد فرح نے ہمت کر کے پوچھا ۔
شہوار نے پہلے تو بد مزہ ہو کر اسے دیکھا
” میرا بزنس ریوائول ہے ۔ تم اسکا زکر کیوں کر رہی ہو “
شہوار نے سوالیہ اسے دیکھا پھر خود ہی چونکا
” اوہ ۔ تمھارے باپ کا نام بھی صیام بخاری ہے نا ۔ “
” ہوں ۔ ” فرح پھیکا سا بولی ۔
” تم نے بی جان کو بتایا تھا یتیم ہو ۔ ” شہوار نے اگلا سوال کیا ۔
فرح کی گود میں رکھے مسسل اپنی انگلیاں مسل رہے تھے ۔
” جب آٹھ سال کی تھی تو آخری بار اپنے باپ کو دیکھا تھا ۔ ” وہ تھوک نگلتے ہوئے بولی ۔
” پھر کبھی دیکھا نہیں تو مجھے لگا وہ مر چکے ہوں گے ” اور اسکا باپ تو اسکے لیے اس دن ہی مر گیا تھا جس روز اسکی ماں مری تھی ۔
” اگر وہ زندہ ہوئے تو ” شہوار نے آبرو اچا کر پوچھا ۔
فرح نے جواب نا دیا ۔
اور آخر وہ کیا جواب دیتی شہوار کو ۔
” کیا ممکن ہے کہ تمھارے فاڈر اور میرا بزنس ریوائیول ایک ہی ہوں ۔ ” شہوار نے سنجیدگی سے پوچھتے ہوئے کہا ۔
” میں نہیں جانتی ” فرح نے کاندھے اچکا دیے ۔
اس نے چند دن پہلے سنگل پر اپنے باپ کو دیکھا تھا ۔
وہ نک سک سے تیار تھا ۔
یقینا وہ ایک بڑا بزنس مین تھا اور اب فرح کو اس بات میں کوئی شک نہیں رہ گیا تھا کہ دونوں ایک ہی تھے ۔
” اگر دونوں انسان ایک ہی ہوں تو آپ کیا کریں گے ” فرح نے نارمل انداز میں سوال کیا مگر دل بہت زور سے ڈھڑک رہا تھا ۔
” میں تمہیں طلاق دے دوں گا ۔ ” شہوار نے بنا تاثر جواب دیا ۔
اور فرح کی آنکھیں حیرت اور خوف سے پھٹی
شہوار نے دیکھا اسکی آنکھیں آنسوو سے بھرنے لگی تھیں ۔
” کیا آپ واقعی ایسا کریں گے ” ٹھٹکتے ہوئے وہ بامشکل بول پائی ۔
شہوار نے جواب نہیں دیا ۔
” بتائیں نا ۔ آپ ایسا نہیں کریں گے نا ” فرح نے بے تاب ہو کر اسکا ہاتھ پکڑا
شہوار بس اسے دیکھا جا رہا تھا جیسے محظوط ہو رہا ہو ۔
اور فرح رکی سانس کے ساتھ اسے دیکھے جارہی تھی ۔
دفعتا شہوار نے قہقہہ لگایا
اور افسوس سے اسکی طرف دیکھا
” مزاق کر رہا ہوں بیگم ۔ میں بھلا کیوں تمہیں طلاق دینے لگا ۔ ” اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے شہوار نے ہنسی روکتے ہوئے کہا ۔
فرح کی اٹکی سانس بحال ہوئی ۔
” مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑھتا تمھارا باپ کون ہے ۔ تمھارا باپ اگر میرا کاروباری حریف ہی ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ۔ میں نے تم سے محبت کی ہے اور میری محبت اتنی نازک نہیں ہے ” شہوار نے اسکے ہاتھ کی پشت مسلتے مان بھرے لہجے میں کہا
اگلے ہی لمحے فرح نے اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچا ۔
” مزاق ! ایسا مزاق کوئی کرتا ہے ۔ ” وہ خفگی سے کہتی رخ باہر کی طرف پھیر گئی ۔
تو شہوار بے اختیار مسکرایا ۔
” جس طرح تم نے ڈرتے ہوئے پوچھا تھا میں کیا کروں گا لگ رہا تھا تم اسی جواب کی منتظر ہو گی ۔ میں بس تمھارا ردعمل دیکھنا چاہتا تھا ۔ مجھے نہیں معلوم تھا تم اس قدر ڈر جاو گی ” شہوار نے لہجے میں معزرت لیتے ہوئے فرح کو بازو سے پکڑ کر قریب کرنا چاہا مگر فرح نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔
” مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ۔ یہ بہت گھٹیا مذاق تھا ” وہ نالاں لہخے میں بولی اور باہر ہی دیکھتی رہی
شہوار کو اسکے انداز پر پیار آیا تھا ۔
گاڑی رک چکی تھی ۔
” آو چلیں ۔ یہ ڈنر میں نے تمھارے لیے ہی ارینج کروایا ہے ۔ ناراض بعد میں ہو لینا ” شہوار گاڑی سے اتر کر فرح والی طرف آیا اور دروازہ کھولا اور اپنا ہاتھ آگے کیا ۔
فرح نے ادائے بے نیازی سے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور گاڑی سے اتر گئی
اسکا انداز بتا رہا تھا وہ سخت ناراض ہے ۔
” کیا مجھے کان پکڑنے ہوں گے معافی پانے کے لیے ” شہوار نے کہتے ہوئے ایک کان کی لو پکڑی ۔
” نہیں ۔ قسم کھائیں آئندہ ایسا مزاق میں بھی نہیں کہیں گے ” وہ سینے پر بازو لپیٹی شرط رکھتے ہوئے بولی ۔
” میں قسم کھاتا ہوں ۔ ” شہوار نے فورا کہا ۔
” ایسے نہیں ۔ واپس جا کر قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیے گا ” فرح نے مزید فرمائش کی تو شہوار نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا ۔
” تھیک ہے مگر تم اتنا ڈر کیوں گئی تھی ؟”
” مم ۔ میں کیا ۔ کوئی اور لڑکی ہوتی وہ بھی ڈر جاتی ۔ ” فرح نے اپنی تیص ہوتی ڈھرکنیں سنبھالتے ہوئے کہا ۔
اور سچ تو یہ تھا وہ واقعی ڈر گئی تھی
بری طرح سے ڈر گئی
اس وقت اسے اپنی ماں یاد آئی تھی
گل آرا بھی تو طلاق لے کر ہی آئی تھی ۔
” آو چلیں باقی باتیں بیٹھ کر کرتے ہیں ” شہوار نے اسکا ہاتھ پکڑا اور آگے بڑھ گیا۔
وہ فرح کو لیکر ایک ریسٹورنٹ کے انزر آ گیا ۔
ریسٹورنٹ خالی تھا ۔
بس ایک ویٹر موجود تھا جس نے جھک کر خوش آمدید کہا تھا ۔
وسعت میں ایک ٹیبل تھی جسے خوبصورت انداز میں سجایا گیا تھا ۔
ٹیبل کے اوپر وسعت میں کینڈل ریک رکھا تھا ۔
شہوار نے ویٹر کو اشارہ کیا اور وہ باہر چلا گیا ۔
” آئیں بیگم تشریف لائیں ” پھر فرح کی طرف مخاطب ہوا ۔
فرح آگے بڑھ گئی
شہوار نے اسکے لیے کرسی کھینچی ۔
فرح بیٹھ گئی تو شہوار بھی سامنے بیٹھ گیا۔
فرح نے ایک نظر چاروں طرف ڈالی ۔
” یہاں کوئی دوسرا کیوں نہیں ہے ۔ “
” کیونکہ یہ جگہ اس وقت کے لیے میں نے بک کی ہے ۔ ” شہوار نے جوابا کہا ۔
” مگر کیوں ؟ “
” کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں اور میری بیوی ڈنر کر رہے ہوں ایک دوسرے کے ساتھ ٹائم سپینٹ کر رہے ہوں تو ارد گرد لوگوں کی آوازیں نا ہو ” شہوار نے بتایا تو فرح مسکرائی
وہ مسکرائی تھی یہ اسکی آنکھوں سے معلوم ہوا کیونکہ ویٹر کو دیکھ کر اسنے نقاب کر لیا تھا ۔
” کیا ایسا ہر بار کریں گے ” فرح نے اشتیاق سے پوچھا
” بلکل ۔ ” شہوار نے پر اعتمادی سے جواب دیا
اسی دوران دو ویٹر آئے اور ٹیبل پر ڈنر سرو کر کے چلے گئے ۔
” نقاب اتار لو ۔ اب یہاں کوئی نہیں آئے گا ۔ اس ریسٹورنٹ میں یوں ٹیبل ریزرو کروانے کی ایک وجہ تمھارے پردے کا خیال بھی تھا۔ کراوڈ میں تم غیر آرام دہ ہوتی اور تھیک سے کھایا بھی نہیں جانا تھا ۔ نقاب اتار لو اور آرام دہ ہو جاو ” شہوار کہہ رہا تھا اور فرح کا دل بھرتا جا رہا تھا ۔
فرح کو اپنے سامنے بیٹھے شخص سے اس لمحے شدت سے محبت ہوئی تھی ۔
وہ کڑوروں بار بھی شکر ادا کرتی یا تمام عمر سجدے میں پڑی رہتی تب بھی اللہ کا شکر ادا نا کر پاتی جس نے اسے شہوار جیسا ہمسفر عطا کیا تھا ۔
فرح نے نقاب ہٹا لیا ۔
شہوار نے اسکا خوبصورت چہرا آنکھوں میں بھرا
پھر شہوار نے اسے کھانا شروع کرنے کا کہا ۔
کچھ دیر بعد فرح نے خیال آنے پر پوچھا ۔
” مجھے آپ سے ایک اجازت چدہیے تھی “
” بیگم آپ حکم کیا کریں ” شہوار نے جزب سے کہا تو فرح نے اس انداز میں دیکھا جیسے کہہ رہی ہو ۔۔ کیا واقعی ۔۔
” میں دوبارہ سکول جوائن کرنا چاہتی ہوں ۔ ” اپنی خواہش شہوار کے
سامنے رکھی ۔
تو شہوار نے نا سمجھی سے دیکھا ۔
” مگر اسکی کیق ضرورت ہے ۔ پہلے تو اس لیے ٹیچنگ کر رہی تھی کہ ایکپینس پورے کر سکو ۔ اب کیا فائدہ “
” میں اپنے فائدے یا نقصان کی وجہ سے بچوں کا حرج نہیں کرنا چاہتی ۔ ہاں ایک وجہ ایکپینس پورے کرنا تھا مگر مجھے اس کام سے دلی لگاو بھی ہے ۔ کوئی اور صورت ہوتی تو شاید میں شوقیہ یہ کام کرتی ۔ ٹیچنگ انبیاء کا پروفیشن ہے اور میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں اگر میری وجہ سے کوئی ایک لفظ بھی سیکھے ۔ مجھ سے یہ خوش قسمتی نا چھینیے ” فرح نے جواز پیش کیا تو شہوار نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے کہا ۔
” تھیک ہے تم چلی جانا ۔ “
فرح کے لبوں پر تشکر کی مسکراہٹ آئی ۔
وہ اپنی کلاس کو بہت مس کر رہی تھی ۔
کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو دونوں باہر آگئے ۔
باہر کھڑے ویٹر نے ایک بار پھر جھک کر ” ٹھینکس فار کامنگ سر ” کہا ۔ شہوار نے اسکے کندھے پر ہلکی سی تھپکی لگائی ۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی گاڑی زن سے آگے بڑھ گئی ۔
انکے جاتے ہی ویٹر نے اپنا موبائل سامنے کیا جس میں فرح کا چہرا نمایاں تھا
تصویر چھپ کر لی گئی تھی ۔
ویٹر نے وہ تصویر ایک نمبر پر سینڈ کر دی ۔۔۔۔۔
اپنے کمرے کی قد آور شیشے کی کھڑکی کے پاس کھڑے صیام بخاری نے سگریٹ کا مزید ایک کش کھینچا جب موبائل پر وٹس ایپ آنے کی آواز آئی ۔
صیام بخاری نے اسے کھولا ۔
تصویر کے ساتھ کیپشن تھا ۔
شہوار شاہ کی بیوی ۔
صیام نے دلچسپی سے تصویر کو دیکھا ۔
تو یہ ہے شہوار شاہ کی پردے دار اور نیک بیوی ۔
صیام نے دل میں طنزیہ سوچا ۔
اس وقت وہ فرح کو شہوار شاہ کی بیوی کی حیثیت سے دیکھ رہا تھا
اس بات سے انجان کہ فرح ہی وہ چاندی تھی جسے وہ دن رات تلاش کرنے کی تگو دو میں لگا ہوا تھا
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے